Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 33

سورة النحل

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ یَاۡتِیَ اَمۡرُ رَبِّکَ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۳۳﴾

Do the disbelievers await [anything] except that the angels should come to them or there comes the command of your Lord? Thus did those do before them. And Allah wronged them not, but they had been wronging themselves.

کیا یہ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تیرے رب کا حکم آجائے؟ ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے تھے ان پر اللہ تعالٰی نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelievers' Refrain from Faith means that They were simply awaiting Punishment Allah says: هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَليِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ ... Are they but waiting for the angels to come to them, or there comes the command of your Lord! Threatening the idolators for their persistence in falsehood and their conceited delusions about this world, Allah says: Are these people waiting only for the angels to come and take their souls! Qatadah said: أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ (Or there comes the command of your Lord), "means the Day of Resurrection and the terror that they will go through." ... كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ... Thus did those before them. means, thus did their predecessors and those who were like them among the idolators persist in their Shirk, until they tasted the wrath of Allah and experienced the punishment and torment that they suffered. ... وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّهُ ... And Allah did not wrong them. because by sending His Messengers and revealing His Books He gave them enough warning and clearly demonstrated His proofs to them. ... وَلـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ but they were wronging themselves. meaning, by opposing the Messengers and denying what they brought.

فرشتوں کا انتظار اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا ۔ ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آ پڑے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے ، ان کے عذر ختم کر کے ، کتابیں اتار کر ، و بال میں گھر گئے ۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا ۔ اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 یعنی کیا یہ بھی اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے یا رب کا حکم (یعنی عذاب یا قیامت) آجائے۔ 33۔ 2 یعنی اس طرح سرکشی اور معصیت، ان سے پہلے لوگوں نے اختیار کئے رکھی، جس پر وہ غضب الٰہی کے مستحق بنے۔ 33۔ 3 اس لئے اللہ نے تو ان کے لئے کوئی عذر ہی باقی نہیں چھوڑا۔ رسولوں کو بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان پر حجت تمام کردی۔ 33۔ 4 یعنی رسولوں کی مخالفت اور ان کی تکذیب کر کے خود ہی انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] فرشتوں کی آمد کا مطالبہ :۔ یہ بھی منکرین حق کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو وہ کہتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے جو اس بات کی تصدیق کریں کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ فرشتے ان کے پاس بھی آتے ہیں۔ لیکن اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک ان کی روح قبض کرنے کے لیے اور دوسرے ان پر قہر الٰہی نازل کرنے کے لیے اور یہ اعتراض صرف یہی کفار مکہ ہی نہیں کر رہے تھے۔ اس سے پہلے بھی منکرین حق اپنے اپنے دور میں انبیاء کو ایسی ہی باتیں کہتے چلے آئے ہیں۔ اور ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ بالآخر انھیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں فرشتوں سے دو چار ہونا ہی پڑا جو ان پر اللہ کا عذاب لے کر آئے تھے۔ اور اب ان لوگوں کو بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا اور اللہ سے وہ جس بات کا مطالبہ کرتے ہیں اللہ اسے ضرور پورا کر دے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ۔۔ : یہاں استفہام انکار کے لیے ہے اور ” يَنْظُرُوْنَ “ بمعنی ” یَنْتَظِرُوْنَ “ ہے۔ اس میں پھر کفار کا حال بیان کیا ہے کہ ہر قسم کی دلیل واضح ہونے کے بعد ان کے ایمان نہ لانے کا مقصد اس کے سوا کیا ہے کہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آجائیں، یا تیرے رب کا حکم، یعنی عذاب، یا قیامت آجائے، تب وہ ایمان لا کر اپنی حالت درست کریں گے، حالانکہ اس وقت توبہ کرنا یا ایمان لانا انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ اس سے مراد ان کی ہٹ دھرمی بیان کرنا ہے، یہ نہیں کہ واقعی وہ انتظار کر رہے ہیں۔ ” تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ “ میں ” اَوْ “ مانعۃ الخلو ہے، یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں چیزیں نہ آئیں، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ایک آجائے اور یہ بھی کہ دونوں اکٹھی آجائیں۔ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی پہلے لوگوں نے بھی کفر کی روش اختیار کی اور نبیوں کو جھٹلایا۔ (شوکانی) وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ ۔۔ : یعنی وہ خود ایسے برے عمل کرتے تھے جن کی سزا جہنم تھی اور یہ احمقانہ ظلم ہے، کیونکہ وہ اپنے فائدے کے لیے کسی دوسرے پر ظلم کرتے تو شاید انھیں کچھ فائدہ ہوتا، خواہ عارضی ہی سہی، مگر اپنے آپ پر ظلم تو حماقت کی انتہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ 33؀ الانْتِظَارُ النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : فَهَلْ يَنْتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ [يونس/ 102] ( ن ظ ر ) الانتظار کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور زمتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔ فَهَلْ يَنْتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ [يونس/ 102] سو جیسے برے دن ان سے پہلے لوگوں پ رگذرچکے ہیں اسیی طرح کے دنوں کے یہ منتظر ہیں ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣) اور مکہ والے جو ایمان نہیں لا رہے ہیں یہ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کی ارواح کے قبض کے لیے فرشتے آجائیں یا ان کی ہلاکت کے لیے آپ کے پروردگار کا عذاب آجائے جیسا کہ آپ کی قوم آپ کے معاملہ کرتی ہے کہ آپ کی تکذیب کرتی اور آپ کو برا کہتی ہے اسی طرح آپ کی قوم سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے بھی اپنے انبیاء کرام کے ساتھ یہی معاملہ کیا کہ ان کو جھٹلایا اور ان کو برا بھلا کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کرکے ان پر ذرا ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی شرک اور انبیاء کرام کی تکذیب کرکے اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ ) گزشتہ بارہ برس سے رسول اللہ قریش مکہ کو دعوت دے رہے ہیں ‘ دو تہائی کے قریب قرآن بھی اب تک نازل ہوچکا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کو اب مزید کس چیز کا انتظار ہے ؟ اب تو بس یہی مرحلہ باقی رہ گیا ہے کہ فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر پہنچ جائیں اور وہ نقشہ سامنے آجائے جس کی جھلک سورة الفجر میں اس طرح دکھائی گئی ہے : (وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی) ” اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بہ صف۔ اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن ہوش آئے گا انسان کو مگر کیا فائدہ ہوگا تب اسے اس ہوش کا ! “ (كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ) جن گزشتہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بارے میں تفصیلات قرآن میں بتائی جا رہی ہیں انہیں ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قطعاً ظلم نہیں ہوا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29. This is to admonish the unbelievers to this effect: Why are they still hesitating to accept the message which is very simple and clear? We have tried every method to present each aspect of the truth clearly with arguments and brought witnesses thereof from the whole system of the universe, and have left no room for any man of understanding to stick to shirk. Now what are they waiting for is nothing more than this that the angel of death should come before them and then they will accept the message at the last moment of their lives. Or, do they wait for the scourge of God to overtake them and make them accept the Message?

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :29 یہ چند کلمے بطور نصیحت اور تنبیہ کے فرمائے جا رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک سمجھانے کا تعلق تھا ، تم نے ایک ایک حقیقت پوری طرح کھول کر سمجھا دی ۔ دلائل سے اس کا ثبوت دے دیا ۔ کائنات کے پورے نظام سے اس کی شہادتیں پیش کر دیں ۔ کسی ذی فہم آدمی کے لیے شرک پر جمے رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی ۔ اب یہ لوگ ایک صاف سیدھی بات کو مان لینے میں کیوں تامل کر رہے ہیں؟ کیا اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ موت کا فرشتہ سامنے آکھڑا ہو تو زندگی کے آخری لمحے میں مانیں گے؟ یا خدا کا عذاب سر پر آجائے تو اس کی پہلی چوٹ کھا لینے کے بعد مانیں گے؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٣۔ ٣٤۔ یہ جواب منکرین نبوت کے دوسرے اعتراض کا فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ چاہتے ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے آکر ان کی نبوت کی تصدیق کرے تو یہ لوگ ایمان لائیں۔ حالانکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اور ایک مطلب یہ ہے کہ جب کفار نے قرآن کی نسبت یہ کہا کہ یہ تو پہلوں کی نقل ہے کوئی نئی بات نہیں ہے تو اللہ پاک نے انہیں ڈرایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں کہ وہ آن کر ان کی ارواح قبض کریں یا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا کا عذاب ان پر آجائے۔ پھر فرمایا کہ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور خدا نے انہیں ہلاک کیا اور ان کا ہلاک کردینا کوئی خدا کی طرف سے ظلم نہیں ہوا۔ بلکہ ان لوگوں نے آپ اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ انبیاء اور کلام الٰہی کو جھٹلایا۔ پھر فرمایا کہ ان پہلے لوگوں پر جس طرح عذاب آچکا ہے وہی انجام ان کا ہونے والا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام کرلیا ہے ١ ؎۔ یہ حدیث و ما ظلمھم اللہ کی گویا تفسیر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎۔ یہ حدیث وما ظلمھم کی گویا تفسیر ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے ظالم نافرمان لوگوں کو جب تک چاہتا ہے مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑ لیتا ہے تو بالکل انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلی امتوں کی طرح اگر یہ مشرکین مکہ بھی مہلت کے زمانہ میں اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو پہلی امتوں کی طرح ان پر بھی کوئی آفت آجاوے گی اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ تھوڑے دنوں کے بعد بدر کی شکست کی آفت جو ان پر آئی صحیح روایتوں کے حوالہ سے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٣١٩ ج ٢ باب تحریم الظلم۔ ٢ ؎ جلد ہذا ص ٣٢٢ وغیرہ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:33) ھل ینظرون۔ ھل نفی کے معنوں میں ما کے مرادف آیا ہے۔ نہیں انتظار کر رہے (یہ منکرین) مگر (اس بات کا) کہ ۔۔ یعنی یہ منکرین تو بس اسی امر کا انتظار کر رہے ہیں کہ۔۔ الملئکۃ۔ سے ملائکہ موت یا ملائکہ عذاب مراد ہیں۔ اور امر ربک سے وقوع حشر یا نزول ِ عذاب مراد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 تب وہ ایمان لا کر اپنی حالت درست کریں گے حالانکہ اس وقت ایمان لانا یا توبہ کرنا انہیں کچھ فائدہ نے دے گا۔ 3 کفر کی روش اختیار کی اور انبیاء کو جھٹلایا۔ شوکانی 4 وہ خود ایسے برے عمل کرتے تھے جن کی سزا عذات تھی۔ (کذافی وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ اوپر ذکر مومنین سے پہلے کفار کے ضلال واضلال کا ذکر تھا، مومنی کا ذکر بمناسبت مقابلہ تتمیم مضمون کے لئے درمیان میں آگیا، اب کفار کے اصرار وعناد پر وعید ہے۔ 1۔ یعنی کیا موت کے وقت یا قیامت میں ایمان لاویں گے جبکہ ایمان مقبول نہ ہوگا، گو اس وقت تمام کفار بوجہ انکشاف حقیقت کے توبہ کریں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : متقی حضرات کو خوشخبری سنانے کے بعد خطاب کا رخ مشرکین کی طرف کیا گیا ہے۔ مشرکین اور خدا کے منکر جب حق کے مقابلے میں لا جواب ہوجاتے تو اس بات کا مطالبہ کرتے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ اس نبی کے پاس فرشتے بھیجتا ہے اور ملائکہ ہمارے پاس کیوں نہیں بھیجتا ؟ بسا اوقات وہ اس بات کو یوں بھی کہتے کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک فرشتے آکر ہمارے سامنے اس کی تائید نہ کریں۔ بار بار سمجھانے کے باوجودیہ لوگ سمجھنے کے لیے تیار۔ ان کے ایک اعتراض کا مدلل جواب دیا جاتا ہے تو دوسرا اعتراض جوڑ دیتے۔ جب اس کے بارے میں تشفی کردی جاتی ہے تو تیسرا اعتراض کیے دیتے ہیں ان کا مقصد حق سمجھنا اور قبول کرنا نہیں تھا بلکہ یہ لوگ اپنے ساتھیوں کو ورغلانے اور حق والوں کو پریشان کرنے کے سوا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ لہٰذا اب تو یہ عملاََ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے آئیں جو ان کا قلع قمع کردیں یا پھر اللہ کا عذاب آئے جو انہیں تہس نہس کر دے۔ یہی رویہ ان سے پہلے لوگوں نے اختیار کیا تھا۔ جس وجہ سے وہ ہلاک کردیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ وہ خود ہی اپنے آپ پر زیادتی کرنے والے تھے۔ اسی وجہ سے ان کو اپنے اعمال کا انجام دیکھنا پڑا اور جس عذاب کو وہ استہزاء کا نشانہ بناتے تھے اس نے انہیں اچانک دبوچ لیا۔ ظلم کی حرمت : (عَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا ....)[ رواہ البخاری : باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوذر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث قدسی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندو ! میں نے اپنے آپ پر ظلم حرام قرار دیا ہے اور تم پر بھی، پس تم آپس میں ظلم نہ کرو .....۔ “ ایک دوسرے پر ظلم کرنا حرام ہے مسائل ١۔ کفار منتظر تھے کہ فرشتے آئیں یا اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے۔ ٢۔ مشرکین مکہ سے پہلے بھی کفار کا یہی وطیرہ رہا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ ٤۔ لوگ اپنے آپ پر خود ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ اور اس کے رسول کا مذاق اڑانے والوں کا انجام : ١۔ انہیں اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ تمسخر اڑاتے تھے۔ (النحل : ٣٤) ٢۔ اللہ تعالیٰ مذاق کرنے والوں کے لیے کافی ہے۔ (الحجر : ٩٥) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو مذاق کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ (یٰس : ٣٥) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے مذاق کرنے والوں کو ڈھیل دی پھر انہیں عذاب میں مبتلا کردیا۔ (الرعد : ٣٢) ٥۔ اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کی سزا جہنم ہے۔ (الکہف : ١٠٦) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ (التوبۃ : ٧٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣٣ تا ٣٤ لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔ وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (١٦ : ٣٣) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ”۔ اللہ نے تو ان کو تدبر ، تفکر اور اختیار تمیزی کی آزادی دی تھی ، ان پر انبیاء کے ذریعہ آفاقی دلائل اور ان کے نفوس کے اندر پائے جانے والے شواہد دکھائے تھے ، ان کو برے انجام سے ڈرایا تھا ، ان کو عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا کہ اللہ کی سنت کے مطابق جو چاہیں روش اختیار کریں۔ چناچہ ان پر ظلم و زیادتی ان کے برے اعمال نے کی کیونکہ جن نتائج سے وہ دو چار ہوئے وہ ان کے اعمال کے طبیعی نتائج تھے۔ فاصابھم سیات ۔۔۔۔۔ بہ یستھزؤن ( ١٦ : ٣٤) “ پس ان کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار ان کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیز ان پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اعمال سے باہر کوئی سزا نہ ہوگی۔ سزا ان کے اعمال کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اور ان کے ذاتی اعمال کے نتائج ہیں جو یہ بھگت رہے ہیں۔ وہ جو اعمال کر رہے ہیں ان کے مطابق وہ انسانیت کے نچلے درجے تک گر جاتے ہیں لہٰذا وہ توہین آمیز درجے کے عذاب ہی کے مستحق ہوں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منکرین اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں اہل کفر دعوت حق کو قبول نہ کرتے تھے اور انہیں برابر کفر پر اصرار تھا، واضح دلائل سامنے آنے پر بھی ہدایت سے اعراض کرتے تھے، ان کے بارے میں فرمایا کہ جب دلائل واضحہ ظاہرہ کو نہیں مانتے تو کس بات کا انتظار ہے، ان کا طریقہ کار تو یہ بتاتا ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم یعنی موت آجائے لیکن اس وقت ایمان قبول نہ ہوگا، جیسا کہ انہیں اپنے کفر پر اصرار ہے ان سے پہلے لوگ بھی ایسا ہی کرتے رہے پھر ان پر عذاب آگیا، عذاب کی باتیں سامنے آتی تھی تو وہ مذاق بناتے تھے پھر جب عذاب نے گھیر لیا تو بچاؤ کا کوئی بھی راستہ نہ پاسکے، ان پر جو عذاب آیا وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھا، جیسا کیا ویسا بھرا اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا یہ مضمون سورة بقرہ کی آیت (ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ ) اور سورة انعام کی آیت (ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَلآءِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ) میں بھی گزر چکا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ تخویف دنیوی ہے۔ مسئلہ توحید کو ایسے ٹھوس عقلی دلائل سے واضح اور ثابت کردیا گیا ہے مگر اس کے باوجود یہ معاندین اسے نہیں مانتے بلکہ عذاب مانگتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے بیشک وہ عذاب لے آ۔ ” کَذٰلِکَ فَعَلَ الخ “ گذشتہ سرکش اور معاند قوموں نے بھی ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب نازل کر کے ہلاک کردیا اور یہ ان کے اپنے ہی اعمال کی سزا تھی۔ ” فَاَصَابَھُمْ الخ “ وہ انبیاء (علیہم السلام) کا انکار کرتے، دعوت توحید کو ٹھکراتے اور بطور استہزاء و تمسخر ان سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب مسلط کر کے ان کو ان کے مشرکانہ اعمال اور استہزاء و تمسخر کا دنیا ہی میں مزہ چکھا دیا۔ مشرکین مکہ بھی اگر یہی کچھ چاہتے ہیں تو جلدی نہ کریں اگر وہ اپنی موجودہ روش پر قائم رہے تو ہمارا عذاب آیا سمجھیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

33 ۔ یہ دین حق کے منکر اور مخالف و معاند کیا صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس موت کے فرشتے آجائیں یا آپ کے پروردگار کا حکم عذاب آجائے جس طرح یہ کفار مکہ شرک پر اصرار کر رہے ہیں اسی طرح وہ دین حق کے منکر بھی کفر و شرک پر اصرار کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور ان گزشتہ منکروں پر اللہ تعالیٰ نے ذرا ظلم نہیں کیا لیکن وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔ یعنی یہ کفارم کہ جب دلائل وبراہین سے قائل نہیں ہوتے اور اپنے انکار پر قائم ہیں تو یہ صرف اس بات کا انتظارکر رہے ہیں کہ یا تو ملک الموت اور ان کے ہمراہی فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم عذاب آجائے۔ یہ کفار مکہ بھی اپنے سے پہلے کفار کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان کا بھی وہی انجام ہونے والا ہے جو ان سے پہلوں کا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا مگر وہ خود ہی ظالم تھے۔