Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 35

سورة النحل

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا عَبَدۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ نَّحۡنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمۡنَا مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ فَہَلۡ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۳۵﴾

And those who associate others with Allah say, "If Allah had willed, we would not have worshipped anything other than Him, neither we nor our fathers, nor would we have forbidden anything through other than Him." Thus did those do before them. So is there upon the messengers except [the duty of] clear notification?

مشرک لوگوں نے کہا اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے ، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے ۔ یہی فعل ان سے پہلے کے لوگوں کا رہا ۔ تو رسولوں پر تو صرف کھلم کھلا پیغام پہنچا دینا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Idolators Argument that their Shirk was Divinely decreed, and the Refutation of this Claim Allah tells: وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ ... And those who worshipped others with Allah said: Allah tells us about the idolators delusion over their Shirk, and the excuse they claimed for it based on the idea that it is ordained by divine decree. He says: ... لَوْ شَاء اللّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ نَّحْنُ وَلا ابَاوُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ ... (They say:) "If Allah had so willed, neither we nor our fathers would have worshipped any but Him, nor would we have forbidden anything without (a command from) Him." They had superstitious customs dealing with certain animals, e.g. the Bahirah the Sa'ibah and the Wasilah and other things that they had invented and innovated by themselves, with no revealed authority. The essence of what they said was: "If Allah hated what we did, He would have stopped by punishing us, and He would not have enabled us to do it." ... كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ... Those before them did the same. Rejecting their confusing ideas, Allah says: ... فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلغُ الْمُبِينُ Are the Messengers charged with anything but to clearly convey the Message! meaning, the matter is not as you claim. It is not the case that Allah did not rebuke your behavior; rather, He did rebuke you, and in the strongest possible terms, and He emphatically forbade you from such behavior. To every nation - that is, to every generation, to every community of people - He sent a Messenger. All of the Messengers called their people to worship Allah (Alone) as well as forbidding them from worshipping anything or anybody except for Him.

الٹی سوچ مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں ، شرک پر اڑیں ، حلال کو حرام کریں ، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی ۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں ، ہمیں تمہارے یہ کام سخت نا پسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کر چکے ۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے ، ہر بستی ، ہر جماعت ، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے ، سب نے اپنا فرض ادا کیا ۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی ۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو ، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین کو اپنا نبی بنایا ، جن و انس کے لئے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی جیسے فرمان ہے آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) 21 ۔ الانبیآء:25 ) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے ، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو ۔ ایک اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لئے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے ، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں ؟ یہاں بھی فرمایا ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بےزاری ہی رہی ۔ پس مشرکین کو اپنے شرک پر ، اللہ کی چاہت ، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتدا ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے ۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا ۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں ۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں ۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں ۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے پھر فرماتا ہے کہ رسولوں کے آ گاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں ۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی ، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے ۔ تم رسولوں کے مخالفین کا ، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الہٰی نے مشرکوں کو غارت کیا ۔ اس وقت کے کافروں کے لئے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے ۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا ؟ پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بےفائدہ ہے ۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا ) 5 ۔ المائدہ:41 ) جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا اگر اللہ کا ارادہ تمہں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لئے محض بےسود ہے ۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ بہکاوے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں ۔ فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) 10 ۔ یونس:96 ) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا ۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں ۔ پس اللہ یعنی اس کی شان ، کا امر ۔ اس لئے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا ۔ پس فرماتا ہے کہ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا ۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لئے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الہٰی سے بچا سکے ۔ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے ، اس کی ذات با برکت ہے ، وہی سچا معبود ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ایک وہم اور مغالطے کا ازالہ فرمایا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں یا اس کے حکم کے بغیر ہی کچھ چیزوں کو حرام کرلیتے ہیں، اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے ہمیں ان چیزوں سے روک کیوں نہیں دیتا، وہ اگر چاہے تو ہم ان کاموں کو کر ہی نہیں سکتے۔ اگر وہ نہیں روکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، اس کی مشیت کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا ازالہ ' رسولوں کا کام صرف پہنچا دینا ہے ' کہہ کر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے روکا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو تمہیں ان مشرکانہ امور سے بڑی سختی سے روکا ہے۔ اسی لئے وہ ہر قوم میں رسول بھیجتا اور کتابیں نازل کرتا رہا ہے اور ہر نبی نے آ کر سب سے پہلے اپنی قوم کو شرک ہی سے بچانے کی کوشش کی ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگز یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ شرک کریں کیونکہ اگر اسے یہ پسند ہوتا کہ تکذیب کر کے شرک کا راستہ اختیار کیا اور اللہ نے اپنی مشیت تکوینیہ کے تحت قہراً و جبراً تمہیں اس سے نہیں روکا، تو یہ اس کی حکمت و مصلحت کا ایک حصہ ہے، جس کے تحت اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کی آزمائش ممکن ہی نہ تھی۔ ہمارے رسول ہمارا پیغام تم تک پہنچا کر یہی سمجھاتے رہے کہ اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرو بلکہ اللہ کی رضا کے مطابق اسے استعمال کرو۔ ہمارے رسول یہی کچھ کرسکتے تھے، جو انہوں نے کیا اور تم نے شرک کے آزادی کا غلط استعمال کیا جس کی سزا دائمی عذاب ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٣] اہل کتاب کا اپنے احبارو رہبان کو رب بنا لینے کا مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو حرام اور حرام کو حلال بنا لینا بھی واضح شرک ہے جیسا کہ سیدنا عدی صبن حاتم نے ( اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31؀) 9 ۔ التوبہ :31) کی تفسیر رسول اللہ سے پوچھی تھی۔ سیدنا عدی بن حاتم پہلے عیسائی تھے پھر اسلام لائے تھے۔ جب سورة توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی تو کہنے لگے : یارسول اللہ ہم اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں سمجھتے تھے && آپ نے فرمایا کہ && جس چیز کو وہ حلال یا حرام کہہ دیتے تم اسے جوں کا توں تسلیم نہیں کرلیتے تھے ؟ && سیدنا عدی کہنے لگے && یہ بات تو تھی && آپ نے فرمایا && یہی رب بنانا ہوتا ہے && (ترمذی، ابو اب التفسیر، تفسیر آیت مذکورہ) مشرکین مکہ نے بھی کئی حلال چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال بنا لیا تھا جن کا ذکر سائبہ، بحیرہ، وصیلہ اور حام (٥: ١٠٣) کے حواشی میں گزر چکا ہے۔ مشرکوں کا یہ جواب دراصل && عذر گناہ بدتر از گناہ && کے مصداق ہوتا ہے۔ تاکہ اس طرح پیغمبروں کو لاجواب کردیں اور کج بحث قسم کے مجرم اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے اکثر مشیئت الٰہی کا ہی بہانہ پیش کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا میں بڑا فرق ہوتا ہے اور اس فرق کو پہلے سورة انعام آیت نمبر ١٤٤ کے حاشیہ میں تفصیل سے ذکر کیا جا چکا ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ [ ٣٤] جب مشرکوں کو پیغمبر اسلام اور قرآن کی تعلیم کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ یہی جواب دیتے تھے کہ اس تعلیم میں رکھا کیا ہے۔ بس پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں کوئی نئی بات تو ہے نہیں۔ گویا انھیں نبی پر اعتراض یہ تھا کہ یہ پرانے لوگوں کی ہی باتیں پیش کرتا ہے ان کے جواب میں انھیں بتایا جارہا ہے کہ تم جو اپنے مشرکانہ کاموں کے جواز میں دلیل پیش کر رہے ہو، یہ بھی کوئی دلیل نہیں۔ وہی پرانی بات ہے جو گمراہ لوگ ہمیشہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو ہم ایسے کام کیوں کرتے ؟ حالانکہ مشرکوں کی اس دلیل میں بھی اس کا رد موجود ہے۔ جو یہ ہے کہ اگر اللہ کو مشرکوں کا یہ شرک گوارا یا منظور ہوتا تو چاہئے تھا کہ اللہ مشرکوں کے اس کام پر سکوت اختیار فرماتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان افعال کی پرزور تردید اور مذمت کی ہے۔ پھر وہ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یہ کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہیں۔ [ ٣٥] مشرکوں کا یہ جواب اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ ہمارے رسولوں نے انھیں بروقت مطلع کردیا تھا کہ جو مشرکانہ کام تم کر رہے ہو اللہ ان سے ہرگز راضی نہیں بلکہ وہ اس قدر ناراض ہے کہ تمہارے ان کاموں کی پاداش میں تم پر اپنا عذاب بھیج سکتا ہے۔ اور انہوں نے اپنی اس ذمہ داری میں کبھی کوتاہی نہیں کی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۔۔ : کفار اپنے شرک اور کفریہ اعمال، مثلاً بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کو حرام قرار دینے کے جواز کے لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا لیتے اور اس بہانے سے رسالت پر طعن کرتے اور کہتے کہ اگر یہ شرک اور تحریمات اللہ کی رضا کے خلاف ہوتے تو ہم نہ کرتے اور ہمیں روک دیا جاتا، جب اللہ نے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہم اس کی مشیت کے تحت کر رہے ہیں، مگر اولاً تو بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک اور برے اعمال پر راضی ہوتا تو ان کاموں سے منع کرنے کے لیے نہ پیغمبر بھیجتا اور نہ کتابیں نازل کرتا، جب مسلسل پیغمبروں کے ذریعے سے ان باتوں سے منع کیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں اس کی رضا کے خلاف ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر گرفت نہ ہونے کو سند جواز نہیں بنا سکتے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (١٤٨) ۔ 3 تفسیر ثنائی میں ہے : ” غرض ان کی دلیل سے یہ ہے کہ اللہ ہمارے افعال پر خوش ہے تو ہم کرتے ہیں، بھلا اگر وہ ناراض ہوتا تو کیا ہم کرسکتے تھے، پھر تو کیوں ہم کو ہمارے ان کاموں پر وعید سناتا ہے، مگر حقیقت میں ان کو سمجھ نہیں، وہ اللہ کی مشیت (چاہنے) میں اور رضا (خوش ہونے) میں فرق نہیں جانتے، بیشک جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مشیت سے ہو رہا ہے، مجال نہیں کہ اس کی مشیت کے سوا کوئی ہو سکے، کیونکہ مشیت اس کے قانون کا نام ہے، جب تک کسی کام کو حسب قانون فطرت نہ کرو گے کبھی کامیاب نہ ہو گے۔ جب تک گرمی حاصل کرنے کے لیے آگ نہ جلاؤ گے پانی سے وہ کام نہیں نکل سکے گا، جو کام فطرت نے پانی سے متعلق کیا ہے وہ آگ سے نہیں ہوگا۔ یہی تلوار جس کا کام سر اتار دینا ہے، جہاں اس کو چلاؤ گے اپنا اثر دکھا دے گی، خواہ کسی مظلوم پر ہو یا ظالم پر، چناچہ ہر روز دنیا میں ناحق خون بھی ہوتے ہیں، لیکن ان سب کاموں پر رضائے الٰہی لازمی نہیں ہے، بلکہ رضا اس صورت میں ہوگی کہ ان سب اشیاء کو شریعت کی ہدایت کے مطابق استعمال کرو گے۔ پس یہ بےسمجھی نہیں تو اور کیا ہے کہ مشیت اور رضا میں فرق نہیں کرتے۔ “ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی پہلے لوگوں نے بھی اللہ کی تقدیر اور مشیت کو اپنے کفر و شرک کا بہانا بنایا۔ اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ یہ لوگ جو قرآن کو ” اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ “ (پہلوں کی کہانیاں) کہہ رہے ہیں تو اللہ کی مشیت اور تقدیر کو بہانا بنانا کون سی نئی بات ہے جو انھوں نے کی ہے، یہ بھی تو وہی گھسی پٹی پرانی بات ہے جو پہلے کفار کرتے آئے ہیں۔ فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : ” اَلْبَلٰغُ “ اسم مصدر ہے، بمعنی ”إِبْلَاغٌ“ یعنی پہنچا دینا، یعنی رسولوں کے ذمے صاف واضح پیغام پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں، لہٰذا اگر کافر کج بحثی یا ہٹ دھرمی کرتے رہیں اور ایمان نہ لائیں تو پیغمبروں سے اس پر باز پرس نہ ہوگی۔ ہدایت و گمراہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں :” یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا، آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں، پھر وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں جواب مجمل فرمایا کہ رسول تو برے کاموں سے منع کرتے آئے ہیں مگر جس کی قسمت تھی اسی نے ہدایت پائی اور جس کو خراب ہونا تھا خراب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہی ہوا ہے۔ “ (موضح) 3 علامہ قاسمی (رض) نے یہاں ” منہاج السنہ “ کی دوسری جلد کے شروع سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رض) کی ایک عبارت نقل کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے : ” اپنے ذمے واجب حقوق ادا نہ کرنے اور حرام کاموں کے ارتکاب کے جواز کے لیے اکثر لوگ تقدیر کو دلیل بناتے ہیں، حالانکہ یہ دلیل بالکل غلط اور بےکار ہے، اس کے باطل ہونے پر دنیا کے تمام عقلاء کا اتفاق ہے، خواہ وہ کسی دین سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو شخص یہ دلیل پیش کرتا ہے اگر کوئی دوسرا شخص اس کے مقابلے میں یہی دلیل پیش کرے جس نے اس کا کوئی حق ادا نہ کیا ہو یا اس کا کوئی عزیز قتل کیا ہو، یا اس کا مال چھین لیا ہو، اس کی بیوی کی عزت لوٹی ہو تو وہ اس کی یہ دلیل کبھی قبول نہیں کرے گا، بلکہ اپنا حق لینے کی اور زیادتی کا بدلہ لینے کی پوری کوشش کرے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کوئی بھی شخص زیادتی کرنے والے کی یہ دلیل نہیں مانے گا۔ دراصل یہ ان سو فسطائیوں کی باتوں جیسی بات ہے، جو کہتے ہیں کہ معلوم نہیں ہم موجود بھی ہیں یا نہیں۔ اس کا نتیجہ جھوٹ، ظلم، زیادتی اور ہر غلط کام کا جواز ہوگا۔ کوئی شخص اپنے دل سے پوچھے تو وہ بھی اسے ایک باطل بات قرار دے گا۔ اس لیے تحقیق کے وقت کسی عدالت میں یہ دلیل قبول نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ سراسر جہالت ہے، علم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے جب مشرکوں نے کہا : (لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ) (اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے، نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا ۭاِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ ) [ الأنعام : ١٤٨ ] (کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جو ہمارے سامنے پیش کرسکو، تم تو محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہو اور صرف اٹکل بازی کر رہے ہو) پھر فرمایا : (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ ) [ الأنعام : ١٤٩ ] ” کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے، سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔ “ معلوم ہوا یہ علم نہیں محض اٹکل پچو ہے، اس کے ہوتے ہوئے عادل و ظالم، صادق و کاذب، عالم و جاہل، نیک وبد کا کوئی فرق ہی نہیں رہتا، یہ لوگ جو رسولوں کی مخالفت کرنے اور کفر و شرک پر ڈٹے رہنے کی دلیل تقدیر کو بنا رہے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے حقوق مار جانے اور اپنے خلاف چلنے پر کبھی یہ دلیل نہیں مانتے، بلکہ یہی مشرک ایک دوسرے کی مذمت کرتے، دشمنی رکھتے اور لڑائی کرتے ہیں۔ ” قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ“ (کہہ دے پس کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے) میں اللہ تعالیٰ نے شرعی حجت کا ذکر فرمایا اور ” فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ “ (اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر والی مشیت کا ذکر فرمایا اور یہ دونوں حق ہیں۔ 3 اس بات کا ایک اور مطلب بھی بیان کیا جاتا ہے۔ علامہ قاشانی نے فرمایا کہ ان مشرکین نے یہ بات انتہائی جہل کی وجہ سے اور موحدین کو چپ کروانے کے لیے صرف ضد اور عناد سے کہی ہے، کیونکہ اگر وہ علم و یقین سے یہ بات کہتے تو وہ موحد بن جاتے، مشرک رہ ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ جس کو یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کچھ ہو ہی نہیں سکتا، وہ یقیناً یہ بھی جان لے گا کہ دنیا کے سب لوگ بھی کوئی کام کرنا چاہیں، جو اللہ تعالیٰ نہ چاہتا ہو، تو وہ کام ہونا کبھی ممکن ہی نہیں، تو جب اس نے اعتراف کرلیا کہ اللہ کے سوا نہ کسی کے ارادے کی کچھ حیثیت ہے اور نہ کسی کے پاس کوئی قدرت ہے، تو یہ بندہ تو مشرک رہا ہی نہیں، حالانکہ وہ لوگ تو اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے تھے اور رسولوں کو جھٹلا رہے تھے۔ معلوم ہوا اپنی اس دلیل کو وہ خود بھی نہیں مانتے تھے۔ (تفسیر قاسمی) 3 مفتی محمد عبدہ نے فرمایا : ” ترک عمل پر تقدیر کو بطور دلیل پیش کرنا ملحدین کا عقیدہ ہے، قرآن کریم نے ان کے اس عقیدے کی مذمت فرمائی اور اسے معیوب قرار دیا ہے اور ہمارے لیے ان مشرکوں کا یہ قول بطور مذمت نقل فرمایا، اس لیے ہم میں سے کسی شخص کو، جبکہ وہ قرآن پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو، کسی صورت جائز نہیں کہ وہ یہ دلیل پیش کرے جو مشرکین پیش کیا کرتے تھے۔ “ (قاسمی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The first doubt expressed by these disbelievers was: If Allah does not like our Kufr and Shirk and other unlawful deeds, why would He not stop us from doing so by force? The absurdity of this doubt was all too evident. Therefore, instead of answering it, just saying words of comfort for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was considered sufficient, so that he does not feel sad about such senseless questions. The reason why their doubt was absurd is also obvious. Allah Ta` ala has set up the system of this world on the basic arrangement that human beings have not been kept under compulsion totally. A kind of power to choose was given to them. If they use this choice in obedience to Allah, they have their reward for it; and if they use it to disobey Him, then, there stands His promise of punishment. That there will be a day of Judgment when the dead shall be resurrected and called to account for their deeds are the consequential outcome of this early warning. If Allah Ta’ ala had decided that He would force everyone to obey Him, who then would have dared to remain outside the fold of obedience to Him? But, His wisdom so required that such compulsion was not appropriate. Therefore, choice was given to human beings. Now, if the disbelievers were to say - had Allah disliked our ways, why would He not stop us by force? - It is an absurd and hostile question.

خلاصہ تفسیر : اور مشرک لوگ یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو (بطور رضا کے یہ امر) منظور ہوتا (کہ ہم غیر اللہ کی عبادت نہ کریں جو ہمارے طریقہ کے اصول میں سے ہے اور بعض اشیاء کی تحریم نہ کریں جو ہمارے طریقہ کے فروغ میں سے ہے مطلب یہ کہ اگر اللہ ہمارے موجودہ اصول و فروع کو ناپسند کرتے) تو خدا کے سوا کسی چیز کی نہ ہم عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے بدون (حکم کے) کسی چیز کو حرام کہہ سکتے (اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارا طریقہ پسند ہے ورنہ ہم کو کیوں کرنے دیتے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے مغموم نہ ہوں کیونکہ یہ بیہودہ مجادلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) جو (کافر) ان سے پہلے ہوئے ہیں ایسی ہی حرکت انہوں نے بھی کی تھی (یعنی بیہودہ مجادلات اپنے پیغمبروں سے کئے تھے) سو پیغمبروں (کا اس سے کیا بگڑا اور وہ جس طریق کی طرف بلاتے ہیں اس کو کیا ضرر پہنچا ان) کے ذمہ تو (احکام کا) صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے (صاف صاف یہ کہ دعوی واضح ہو اور دلیل صحیح اس پر قائم ہو اسی طرح آپ کے ذمہ بھی یہی کام تھا جو آپ کر رہے ہیں پھر اگر براہ عناد دعوی اور دلیل میں غور نہ کریں تو آپ کی بلا سے) اور (جس طرح ان کا معاملہ آپ کے ساتھ یعنی مجادلہ کوئی نئی بات نہیں اسی طرح آپ کا معاملہ ان کے ساتھ یعنی توحید ودین حق کی طرف بلانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی تعلیم بھی قدیم سے چلی آئی ہے چنانچہ) ہم ہر امت میں (امم سابقہ سے) کوئی نہ کوئی پیغمبر (اس بات کی تعلیم کے لئے) بھیجتے رہے ہیں کہ تم (خاص) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان (کے رستہ) سے (کہ وہ شرک و کفر ہے) بچتے رہو (اس میں اشیاء کی وہ تحریم بھی آگئی جو مشرکین اپنی رائے سے کیا کرتے تھے کیونکہ وہ شعبہ شرک و کفر کا تھا) سو ان میں بعضے وہ ہوئے جن کو اللہ نے ہدایت دی (کہ انہوں نے حق کو قبول کرلیا) اور بعضے ان میں وہ ہوئے جن پر گمراہی کا ثبوت ہوگیا۔ (مطلب یہ کہ کفار اور انبیاء (علیہم السلام) میں یہ معاملہ اسی طرح چلا آ رہا ہے اور ہدایت واضلال کے متعلق اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی ہمیشہ سے یوں ہی جاری ہے کہ مجادلہ کفار کا بھی قدیم اور تعلیم انبیاء (علیہم السلام) کی بھی قدیم اور سب کا ہدایت نہ پانا بھی قدیم پھر آپ کو غم کیوں ہو ؟ یہاں تک تسلی فرمائی گئی جس میں اخیر کے مضمون میں ان کے شبہ کا اجمالی جواب بھی ہوگیا کہ ایسی باتیں کرنا گمراہی ہے جس کے گمراہی ہونے کی آگے تائید اور جواب کی زیادہ توضیح ہے یعنی اگر مجادلہ مع الرسل کا گمراہی ہونا تم کو معلوم نہ ہو) تو (اچھا) زمین میں چلو پھرو پھر (آثار سے) دیکھو کہ (پیغمبروں کے) جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا (پس اگر وہ گمراہ نہ تھے تو ان پر عذاب کیوں نازل ہوا اور واقعات اتفاقیہ ان کو اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ خلاف عادت ہوئی اور انبیاء (علیہم السلام) کی پیشین گوئی کے بعد ہوئے اور مؤمنین اس سے بچے رہے پھر اس کے عذاب ہونے میں کیا شک ہے اور چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امت کے کسی فرد کی گمراہی سے بھی سخت صدمہ پہنچتا تھا اس لئے آگے پھر آپ کو خطاب ہے کہ جیسے پہلے بعضے لوگ ہوئے ہیں جن پر گمراہی قائم ہوچکی تھی اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں سو) ان کے راہ راست پر آنے کی اگر آپ کو تمنا ہو تو (کچھ نتیجہ نہیں کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت نہیں کیا کرتا جس کو (اس شخص کے عناد کو چھوڑیں گے نہیں اس لئے ان کو ہدایت بھی نہ ہوگی) اور (ضلالت و عذاب کے بارے میں اگر ان کا یہ گمان ہو کہ ہمارے معبود اس حالت میں بھی عذاب سے بچالیں گے تو وہ سمجھ رکھیں کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں) ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا (یہاں تک ان کے پہلے شبہ کے جواب کی تقریر تھی آگے دوسرے شبہ کے متعلق کلام ہے) اور یہ لوگ بڑے زور لگا لگا کر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا (اور قیامت نہ آئے گی آگے جواب ہے) کیوں نہیں زندہ کرے گا (یعنی ضرور زندہ کرے گا) اس وعدہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لازم کر رکھا ہے لیکن اکثر لوگ (باوجود قیام و لیل صحیح کے اس پر) یقین نہیں لاتے (اور یہ دوبارہ زندہ کرنا اس لئے ہوگا) تاکہ (دین کے متعلق) جس چیز میں یہ لوگ (دنیا میں) اختلاف کیا کرتے تھے (اور انبیاء (علیہم السلام) کے فیصلہ سے راستہ پر نہ آتے تھے) ان کے روبرو اس (کی حقیقت) کا (بطور معائنہ کے) اظہار کردے اور تاکہ (اس اظہار حقیقت کے وقت) کافر لوگ (پورا) یقین کرلیں کہ واقعی وہی جھوٹے تھے (اور انبیاء (علیہم السلام) مؤمنین سچے تھے پس قیامت کا آنا یقینی اور عذاب سے فیصلہ ہونا ضروری ہے یہ جواب ہوگیا لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ کا اور چونکہ وہ لوگ قیامت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ مر کر زندہ ہونا ان کے خیال میں کسی کے بس میں نہ تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کے اثبات سے ان کے اس شبہ کو دفع فرماتے ہیں کہ ہماری قدرت ایسی عظیم ہے کہ) ہم جس چیز کو (پیدا کرنا) چاہتے ہیں (ہمیں اس میں کچھ محنت مشقت کرنا نہیں پڑتی) بس اس سے ہمارا اتنا ہی کہنا (کافی ہوتا ہے کہ تو (پیدا) ہوجا بس وہ (موجود) ہوجاتی ہے ( تو اتنی بڑی قدرت کاملہ کے روبرو بےجان چیزوں میں دوبارہ جان کا پڑجانا کونسا دشوار ہے جیسے پہلی بار ان میں جان ڈال چکے ہیں اب دونوں شبہوں کا پورا جواب ہوچکا وللہ الحمد) معارف و مسائل : ان کفار کا پہلا شبہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اگر ہمارا کفر و شرک اور ناجائز کام پسند نہیں تو وہ ہمیں زبردستی اس سے روک کیوں نہیں دیتے۔ اس شبہ کی بہیودگی واضح تھی اس لئے اس کا جواب دینے کے بجائے صرف رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی پر اکتفاء کیا گیا کہ ایسے بیہودہ سوالات سے آپ غمگین نہ ہو اور شبہ کی بہیودگی کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ نے اس عالم دنیا کا نظام ہی اس بنیاد پر قائم فرمایا ہے کہ انسان کو بالکل مجبور نہیں رکھا گیا ایک قسم کا اختیار اس کو دیا گیا اسی اختیار کو وہ اللہ کی اطاعت میں استعمال کرے تو ثواب اور نافرمانی میں استعمال کرے تو عذاب کے وعدے اور وعید فرمائے اسی کے نتیجہ میں قیامت اور حشر ونشر کے سارے ہنگامے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتے کہ سب کو مجبور کر کے اپنی اطاعت کرائیں تو کس کی مجال تھی کہ اطاعت سے باہر جاتا مگر بتقاضائے حکمت مجبور کردینا درست نہ تھا اس لئے انسان کو اختیار دیا گیا تو اب کافروں کا یہ کہنا کہ اگر اللہ کو ہمارا طریقہ پسند نہ ہوتا تو ہمیں مجبور کیوں نہ کردیتے ایک احمقانہ اور معاندانہ سوال ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ حرم الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] ، فهذا من جهة القهر بالمنع، وکذلک قوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] ، والمُحرَّم بالشرع : کتحریم بيع الطعام بالطعام متفاضلا، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] ، فهذا کان محرّما عليهم بحکم شرعهم، ونحو قوله تعالی: قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] ، وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] ، وسوط مُحَرَّم : لم يدبغ جلده، كأنه لم يحلّ بالدباغ الذي اقتضاه قول النبي صلّى اللہ عليه وسلم : «أيّما إهاب دبغ فقد طهر» «1» . وقیل : بل المحرّم الذي لم يليّن، ( ح ر م ) الحرام وہ ہے جس سے روک دیا گیا ہو خواہ یہ ممانعت تسخیری یا جبری ، یا عقل کی رو س ہو اور یا پھر شرع کی جانب سے ہو اور یا اس شخص کی جانب سے ہو جو حکم شرع کو بجالاتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر ( دوائیوں کے ) دودھ حرام کردیتے تھے ۔ میں حرمت تسخیری مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] اور جس بستی ( والوں ) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ ( وہ دنیا کی طرف رجوع کریں ۔ کو بھی اسی معنی پر حمل کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک آیت کریمہ ؛فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ۔ میں بھی تحریم تسخیری مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ منع جبری پر محمول ہے اور آیت کریمہ :۔ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] جو شخص خدا کے ساتھ شرگ کریگا ۔ خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا ۔ میں بھی حرمت جبری مراد ہے اسی طرح آیت :۔ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کا فروں پر حرام کردیا ہے ۔ میں تحریم بواسطہ منع جبری ہے اور حرمت شرعی جیسے (77) آنحضرت نے طعام کی طعام کے ساتھ بیع میں تفاضل کو حرام قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہوکر آئیں تو بدلادے کر ان کو چھڑی ابھی لیتے ہو حالانکہ ان کے نکال دینا ہی تم پر حرام تھا ۔ میں بھی تحریم شرعی مراد ہے کیونکہ ان کی شریعت میں یہ چیزیں ان پر حرام کردی گئی ۔ تھیں ۔ نیز تحریم شرعی کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] الآیۃ کہو کہ ج و احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان کو کوئی چیز جسے کھانے والا حرام نہیں پاتا ۔ وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے ۔ سوط محرم بےدباغت چمڑے کا گوڑا ۔ گویا دباغت سے وہ حلال نہیں ہوا جو کہ حدیث کل اھاب دبغ فقد طھر کا مقتضی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ محرم اس کوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو نرم نہ کیا گیا ہو ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ بلغ البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15] ( ب ل غ ) البلوغ والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو ۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہاتک پہنچے کے معنی میں فرمایا : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15] یہاں تک کہ جب خوب جو ان ہوتا ہے اور چالس برس کو پہنچ جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اہل مکہ جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم اور نہ ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بتوں کی عبادت کرتے اور نہ ہم بغیر حکم الہی کے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام میں سے کسی کو حرام کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام کیا اور اسی نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے، جیسا کہ آپکی قوم کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف کھیتی اور جانوروں کی حرمت کی افتراء پردازی کرتی ہے، اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی افتراء پردازی کی تھی، سو پیغمبروں کی ذمہ داری تو صرف احکام خداوندی کا واضح ایسی زبان میں پہنچا دینا ہے جس زبان کو ان کی قوم سمجھتی ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ (وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا) ان کی دلیل یہ تھی کہ اس دنیا میں تو جو اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم کوئی دوسرے معبود نہ بنائیں اور ان کی پرستش نہ کریں ‘ تو کیسے ممکن تھا کہ ہم ایسا کر پاتے ؟ چناچہ اگر اللہ نے ہمیں اس سے روکا نہیں ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کی مرضی شامل ہے اور اس کی طرف سے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ (فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ) ہمارے رسول اس قسم کی کٹ حجتی اور کج بحثی میں نہیں الجھتے۔ ان کی ذمہ داری ہمارا پیغام واضح طور پر پہنچا دینے کی حد تک ہے اور یہ ذمہ داری ہمارے رسول ہمیشہ سے پوری کرتے آئے ہیں۔ پیغام پہنچ جانے کے بعد اسے تسلیم کرنا یا نہ کرنا متعلقہ قوم کا کام ہے ‘ جس کے لیے ان کا ایک ایک فرد ہمارے سامنے جوابدہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30. In order to understand the significance of this argument the reader should keep in view (Ayats 148-150 and E.N.s 124-126 of Surah Al-Anaam), for this has been cited and answered there. 31. That is, your argument is not a new one but the same old one which had always been offered by erroneous people who went before you. Today you are, like them, excusing yourselves for your deviation and evil conduct, saying that it is the will of God. You know that this is a lame excuse that has been invented to delude yourselves, and to escape from admonition. This answer also contains a subtle retort to the objection of the disbelievers that the Quran consisted merely of old stories of the ancients (Ayat 24). They meant to imply that the Prophet (peace be upon him) had nothing new to offer. So he was repeating the same old stories that had been repeated over and over again since the time of Prophet Noah (peace be upon him). The retort is this: If the Prophet (peace be upon him) was not presenting anything new but was reciting the old stories of the ancients, you yourselves are not putting forward any new excuse in defense of your evil deeds, but the same old excuse that was put forward by the people who went before you.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :30 مشرکین کی اس حجت کو سورہ انعام آیات نمبر ۱٤۸ – ۱٤۹ میں بھی نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ وہ مقام اور اس کے حواشی اگر نگاہ میں رہیں تو سمجھنے میں زیادہ سہولت ہو گی ۔ ( ملاحظہ وہ سورہ انعام ، حواشی نمبر ۱۲٤ تا نمبر ۱۲٦ ) ۔ سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :31 یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ آج تم لوگ اللہ کی مشیت کو اپنی گمراہی اور بد اعمالی کے لیے حجت بنا رہے ہو ۔ یہ تو بڑی پرانی دلیل ہے جسے ہمیشہ سے بگڑے ہوئے لوگ اپنے ضمیر کو دھوکا دینے اور ناصحوں کا منہ بند کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں ۔ یہ مشرکین کی حجت کا پہلا جواب ہے ۔ اس جواب کا پورا لطف اٹھانے کے لیے یہ بات ذہن میں رہنی ضروری ہے کہ ابھی چند سطریں پہلے مشرکین کے اس پروپیگنڈا کا ذکر کر چکا ہے جو وہ قرآن کے خلا ف یہ کہہ کہہ کر کیا کرتے تھے کہ ”اجی! وہ تو پرانے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں“ ۔ گویا ان کو نبی پر اعتراض یہ تھا کہ یہ صاحب نئی بات کونسی لائے ہیں ، وہی پرانی باتیں دہرا رہے ہیں جو طوفان نوح کے وقت سے لے کر آج تک ہزاروں مرتبہ کہی جا چکی ہیں ۔ اس کے جواب میں ان کی دلیل ( جسے وہ بڑے زور کی دلیل سمجھتے ہوئے پیش کرتے تھے ) کا ذکر کرنے کے بعد یہ لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرات ، آپ ہی کونسے ماڈرن ہیں ، یہ مایہ ناز دلیل جو آپ لائے ہیں اس میں قطعی کوئی اُپچ موجود نہیں ہے ، وہی دقیانوسی بات ہے جو ہزاروں برس سے لوگ کہتے چلے آرہے ہیں ، آپ نے بھی اسی کو دہرا دیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: اُن کا یہ کہنا کہ اﷲ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے سراسر ہٹ دھرمی پر مبنی تھا، کیونکہ اس طرح ہر مجرم یہ کہہ سکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ چاہتا تو میں یہ جرم نہ کرتا۔ ایسی باتیں قابل جواب نہیں ہوتیں۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ نے اُس کا جواب دینے کے بجائے صرف یہ فرمادیا ہے کہ رسولوں کی ذمہ داری پیغام پہنچانے کی حد تک محدود ہے۔ اُن کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ ایسے ضدی لوگ راہ راست پر آہی جائیں۔ اور اُنہوں نے جو یہ کہا ہے کہ ’’ہم کوئی چیز حرام قرار نہ دیتے‘‘، اِس سے اُن جانوروں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے بتوں کے نام پر حرام کر رکھے تھے۔ اس کی تفصیل سورۂ انعام (۶:۱۳۹-۱۴۵) میں گذر چکی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٥۔ ٣٧۔ یہ کلام مشرکین مکہ کا مسخراپن کے طور پر تھا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے کہ آپ جو بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک بات خدا کی جانب سے ہوا کرتی ہے تو پھر آپ کی رسالت کی کیا ضرورت ہے۔ آپ آتے یا نہ آتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم اس کے سوا کسی بت وغیرہ کی عبادت نہ کرتے اور جس چیز کو اللہ نے ہم پر حلال کیا ہے اپنے اوپر اس کو ہم حرام نہ ٹھہراتے حاصل اس کا یہ ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بالکل ٹھیک کر رہے ہیں ہم گمراہ نہیں ہیں بتوں کی پرستش جو ہم کر رہے ہیں یہ سب خدا کی مشیت سے ہے اگر وہ نہ چاہتا تو ہرگز ہرگز یہ کام ہم نہیں کرسکتے۔ پھر اللہ پاک نے کفار مکہ کا یہ کلام نقل کر کے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی کہ آپ اپنے دل میں ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کریں ان سے جو لوگ پہلے گزرے ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے آپ پر فرض یہی ہے کہ آپ اپنے دل میں ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کریں ان سے جو لوگ پہلے گزرے ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے آپ پر فرض یہی ہے کہ اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں کہ سوائے خدا کے اور کسی کی بندگی نہ کرو باقی رہی ہدایت وہ خدا کے ہاتھ ہے جسے اس کی مشیت مقتضی ہوتی ہے اس کو وہ راہ راست پر لاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اللہ جل شانہ نے ان کفار کو یہ بات جتلائی کہ اللہ نے ہر امت اور ہر گروہ میں اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی ہدایت کریں اور یہ بات کہہ دیں کہ تم خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے باز رہو اس پر بہتیرے بندے خدا کے ایسے تھے جو ایمان لائے اور اللہ نے انہیں ہدایت کی اور اکثر لوگ گمراہی میں پڑے رہے۔ رسول کی ایک نہ سنی پھر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا میں چل پھر کر رسولوں کے جھٹلانے والوں کی حقیقت دریافت کی کہ کیا نتیجہ ان کا ہوا کس طرح خدا نے انہیں ہلاک کیا اور کیسے کیسے عذاب ان پر نازل کئے۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک رسولوں کے جھٹلانے والوں کی ایک ہی گرفت ہوئی۔ شرک اللہ کو ناپسند تھا اس لئے ان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان پر طرح طرح کے عذاب کیوں آئے۔ پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب راہ راست پر آجائیں بات یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق یہ لوگ پرلے سرے کے گمراہ ہیں جانتے ہیں کہ اللہ پاک خالق کل کائنات کا ہے اس میں ہر طرح کی قدرت ہے جسے چاہے ایک گھڑی میں ہلاک کر دے پھر جان بوجھ کر یہ لوگ اپنے باپ دادا کے قدم بقدم ہیں اس لئے پرانی رسم کے چھوڑنے کو گوارا نہیں کرتے سبب اس کا یہ ہے کہ علم الٰہی میں دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بہت سے لوگ دوزخ میں جانے کے قابل کام کریں گے اور شیطان کے بہکانے سے وہی کام ان کو اچھے نظر آویں گے اس واسطے ایسے لوگوں کی راہ راست پر آجانے کی حرص بےفائدہ ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ١ ؎۔ کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسول یہ چاہتے تھے کہ قوم کے سب لوگ راہ راست پر آجاویں لیکن بعد اس کے آپ نے فرمایا کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم ازلی کے موافق جنتی اور دوزخی کی تفصیل قرار پا چکی ہے اس لئے جو لوگ علم ازلی میں دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ راہ راست پر نہیں آسکتے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انجانی کے عذر کا رفع کردینا اللہ کو بہت پسند ہے اس لئے اس نے ہر زمانہ میں رسول بھیجے یہ حدیث ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا اور حضرت علی (رض) کی حدیث فنمنھم من ھدی اللہ ومنھم من حقت علیہ الضلالۃ کی گویا تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کی پوجا کی جاوے اس کو طاغوت کہتے ہیں۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٧٣٨ ج ٢ تفسیر سورة واللیل۔ ٢ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ٢٣٠ و جلد ہذا ص۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:35) ولا حرمنا۔ نہ ہم حرام ٹھہراتے (کسی چیز کو) من دونہ بغیر اس کے حکم کے۔ حرم یحرم تحریم (تفعیل) سے حرام ٹھہرانا۔ ھل ۔ بمعنی ما نافیہ آیا ہے (پیغمبروں کے ذمہ صرف صاف صاف اور واضح طور پر پیغام کا پہنچا دینا ہی ہے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 کفار اپنے شرک اور اعمال کفر مثلاً بحیرہ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کی حرمت کے جواز کے لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا لیتے اور اس بہانے سے رسالت پر طعین کرتے اور کہتے کہ اگر یہ شرک اور تحریکات اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتے تو ہم نہ کرتے اور ہمیں روک دیا جاتا۔ جب اللہ نے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہم اس کی مشیت کے تحت کر رہے ہیں مگر اولاً تو یہ بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے اس شرک اور اعمال پر راضی ہوتا تو ان سے منع کرنے کے لئے نہ پیغمبر بھیجتا اور نہ کتابیں نازل کرتا۔ جب مسلسل پیغمبروں کے ذریعہ ان باتوں سے منع کیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں اس کی مرضی کے خلاف ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر گرفت نہ ہونے کو سند جواز نہیں بنا سکتے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ہے مزید دیکھئے سورة انعام آیت 47

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٥) اسرارومعارف ذرا مشرکین کی دلیل دیکھئے کہ اگر ہم اللہ جل جلالہ کی منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی پوجا کی جائے تو ہمیں روک کیوں نہیں دیا جاتا ہم تو اگر وہ روک دے تو نہ کسی اور کی پوجا کرسکیں نہ ہم یا ہمارے باپ دادا بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی رسم ایجاد کرسکیں کہ کسی شے کو حلال قرار دے دیں یا کسی کو حرام گویا ان تمام امور میں اس کی رضا شامل ہے فرمایا یہی نہیں ان سے پہلے گذرنے والے اور تباہ ہونے والے کفار بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے مگر یہ اس قدر بودی بات ہے کہ جواب کے لائق ہی نہیں اور انبیاء کا کام تو اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دینا ہے جس میں کوئی غلط فہمی نہیں چھوڑتے اور کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں جیسے آپ بھی کر رہے ہیں یہاں مشرکین کی اس بات کو قابل جواب ہی نہیں مانا گیا کہ یہی تو فلسفہ تخلیق آدم ہے کہ اسے اللہ کی رضا اور ناراضگی کا بتا دیا جائے پھر عمل کی مہلت دی جائے اور جو راہ وہ اپنے لیے اختیار کرے اسی کے انجام کو پائے ہاں کمی یہ تھی کہ انسان کو بتایا نہ جاتا تو اس پہلو کو کبھی تشنہ نہ چھوڑا گیا ۔ (ہر قوم اور ہر ملک میں نبی مبعوث ہوئے یا ان کے نمائندے پہنچے) بلکہ ہم نے ہر قوم میں رسول اور نبی مبعوث فرمائے گویا ہر ملک اور قوم میں نبی بھیجے گئے وہ ہند ہو یا یورپ مغرب بعید ہو یا بلاد مشرق ہوں ہر ہر قوم میں نبی مبعوث ہوئے یا انبیاء کے نمائندے ان کی تعلیمات لے کر پہنچے اور یہ بات سمجھائی کہ عبادت صرف اللہ جل جلالہ کا حق ہے اور اس کے سوا کسی کی عبادت کرنا شیطان کی پیروی ہے جس سے ہر حال بچو پھر ان میں بعض کو ہدایت بھی نصیب ہوئی جن میں کچھ قبولیت کی استعداد باقی تھی انہیں اللہ جل جلالہ نے ہدایت دی اور باقی جن کے قلوب مردہ ہوچکے تھے اور گناہوں کی دلدل میں دھنس کر ہدایت کی حیات آفرینی سے بہت دور جا چکے تھے وہ گمراہ ہی رہے مگر روئے زمین ایسے گمراہوں اور کفار کے برے انجام کی شہادتوں سے بھر ہوا ہے ذرا پھر کر دیکھو تو ، کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوا ۔ (اگر دل اس قدر تباہ ہوجائے کہ ہدایت کی توفیق ہی کھو دے تو پھر نبی کی محنت سے بھی ھدایت نصیب نہیں ہوتی) اب آپ اگر شدید خواہش کے تحت ان سے بہت محنت بھی کریں تو یہ ہدایت نہ پا سکیں گے کہ انہوں نے گناہ کر کے اپنا تعلق ذات باری سے ایسا توڑ لیا ہے کہ اب اللہ انہیں ہدایت نہ دے گا اور نہ اس امر میں کوئی ہستی ان کی کوئی بھی مدد کرسکتی ہے یہ تو ایسے بدنصیب تھے کہ اللہ جل جلالہ ہی کی بڑی بڑی قسمیں کھا کر دوسروں کو بھی گمراہ کرتے اور کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہ کبھی مردوں کو زندہ کرے گا بھلا کیوں نہیں ضرور زندہ کرے گا کہ اس نے خود وعدہ کر رکھا ہے جسے پورا کرنا ہی حق ہے مگر یہ حقیقت اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی یہی زندہ کرنا ہی تو یہ بتانے کے لیے ہوگا کہ ان کے اختلافات کی حیثیت کیا تھی اور حق کیا تھا اور یہ تو اس لیے بھی ہوگا کہ کفار کو جھوٹا ثابت کیا جائے اور اللہ کریم کی بات سچی ثابت ہو اور یہ سب کچھ اللہ جل جلالہ کے لیے کچھ مشکل نہ ہوگا اسے کونسے کاریگر لگانے ہیں اس کی ذات کا تو حکم ہی چلتا ہے جب کسی شے کو کرنا چاہا ایس کو فرما دیا کہ ہوجا تو وہ فورا ہوجاتی ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37 ماعبدنا ہم نے عبادت و بندگی نہیں کیا۔ لاحرمنا ہم حرام نہ کرتے۔ البلاغ پہنچا دینا ہے۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اجتنبوا بچتے رہو۔ الطاغوت شیطان، سرکش۔ حقت ثابت ہوگیا۔ سیروا چلو پھرو۔ عاقبۃ انجام۔ ان تحرص اگر آپ کی شدید خواہش ہے۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 37 بے جا ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی ایک ایسی بری عادت ہے جو انسان کو ہر خیر اور بھلائی سے اس طرح محروم کردیتی ہے کہ اس کو سامنے کی حقیقت بھی نظر نہیں آتی مثلاً جب کفار و مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے کفر، شرک اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کرلیں تو وہ یہ کہتے تھے کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے تو ہم کیا کریں اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتے نہ ہم اور ہمارے باپ دادے شرک اور کفر کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام کہتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس جاہلانہ بات کا جواب یدنے کے بجائے یہ ارشاد فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کی احمقانہ باتوں کی پرواہ نہ کیجیے اسی طرح ان سے پہلی قوموں نے بھی ایسی ہی باتیں کی تھیں اور پھر وہ اپنے بد اعمالیوں کے سمندر میں غرق ہوچکی ہیں۔ فرمایا کہ اللہ کے رسول کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کی سچائی کو پورے خلوص اور محنت سے ان تک پہنچا دے جو کفر کی وادیوں میں اپنے سر ٹکراتے پھر رہے ہیں اگر یہ مانتے ہیں تو ان کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں مل جائیں گی اور اگر انہوں نے گزشتہ امتوں کے جیسے طریقے اختیار کئے تو وہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح اپنے برے انجام سے نہیں بچ سکتے۔ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو ذرا بھی عقل ہوتی تو یہ ان کھنڈرات کو جا کر دیکھتے جن میں ان ہی جیسے انسان رہتے تھے لیکن اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے وہ اور ان کے گھر بار نشان عبرت بن چکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے جس نے ایک ہی پیغام دیا ہے کہ اے لوگو ! تم سب اللہ ہی کی عبادت و بندگی کرو اور شیطان اور کفر و شرک کے کاموں سے بچو۔ جنہوں نے اس پیغام ہدایت کو سن کر اور اس کے رسول کی اطاعت اختیار کرلی وہ تو کامیاب ہوگئے لیکن جنہوں نے کفر و شرک کر کے اپنے اوپر ذلالت و گمرایہ کی مہریں لگوا لی ہیں وہ سخت ناکام ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ ان قوموں کے گھر بار اور ان کے تہذیب و تمدن کے کھنڈرات پر کیوں غور نہیں کرتے کہ ان کا کتنا بھیانک انجام ہوا۔ آخر میں فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم جاتنے ہیں کہ آپ کی یہ تمنا ہے کہ دنیا بھر کے تمام لوگ ہدیات پر آجائیں اور گم راہی سے توبہ کرلیں لیکن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو نہ تو ہدایت دیتا ہے اور نہ کوئی مدد کرتا ہے جنہوں نے کفر و شرک کرتے اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنا لیا ہے۔ اب ان کا انجام تو یہی ہے کہ ان پر بھی وہی عذاب مسلط کردیا جائے جو ان سے پہلی امتوں پر نازل کیا گیا تھا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حق کا انکار کرنے کے لیے مشرکوں کا دوسرابہانہ اور انداز۔ مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ ہم اور ہمارے آباؤاجداد اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہی اس کے حکم کے سوا کسی چیز کو حرام ٹھہرائیں تو کیا مجال تھی کہ ہم اور ہمارے باپ دادا ایسا کرسکتے ؟ در اصل ہم وہی کچھ کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ یہاں اس کے دو جواب دیے گئے ہیں ایک یہ کہ ایسی بیہودہ باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہمارے رسولوں کے ذمے کسی کو منوانا نہیں ان کا کام حق پہچانا ہے۔ سو یہ کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ سے پہلے انبیاء نے پورے اخلاص اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ پورا کیا ہے۔ آٹھویں پارے میں اسی بات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ عنقریب مشرک کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک کے مرتکب نہ ہوتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہرا تے۔ ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح انبیاء کو جھٹلایا تھا۔ یہاں تک کہ انہیں ہمارا عذاب آپہنچا۔ انہیں فرمائیں کیا تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل ہے ؟ تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔ درحقیقت یہ لوگ اپنے خیالات کی پیروی کرتے ہیں جو سراسر من گھڑت ہیں۔ لہٰذا انہیں فرمائیں اللہ کی دلیل پہنچ چکی جو ہر اعتبار سے غالب ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت پر اکٹھا کرسکتا تھا۔ (الانعام : ١٤٨۔ ١٤٩) مشرکین کے بہانوں میں سے یہ ایک بہانہ ہے جسے وہ ہمیشہ سے پیش کرتے آرہے ہیں۔ جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا الزام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر اپنے ساتھ شرک اور اپنی حرام کردہ چیزوں کو لوگوں کے لیے جائز رکھتا تو اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب پیغمبر مبعوث کرتا۔ خاکم بدہن کیا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے ساتھ ڈرامہ کیا ہے کہ ایک طرف تو وہ شرک اور حرام خوری کو پسند کرتا ہے اور دوسری طرف لوگوں کو روکنے کے لیے انبیاء بھیجتا رہا۔ جنہوں نے اس مشن کی خاطر بڑے بڑے دکھ برداشت کیے اور مال و جان کی عظیم قربانیاں پیش کیں۔ کفار کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارا شرک اور حرام خوری پسند ہے یہ اس کی شان میں بہت بڑی گستاخی اور سنگین جرم ہے جس بنا پر انہیں دنیا میں تہس نہس کردیا گیا۔ مسائل ١۔ مشرکین اپنے شرک کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ٢۔ رسولوں کے ذمہ دین پہنچانا تھا منوانا نہیں۔ تفسیر بالقرآن حق کے مقابلہ میں کفار اور مشرکین کے بہانے : ١۔ مشرکین نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے۔ (النحل : ٣٥) ٢۔ عنقریب مشرکین کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ (الانعام : ١٤٨) ٣۔ کفار نے کہا ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے کوئی چشمہ جاری نہ کر دے۔ (بنی اسرائیل : ٩١) ٤۔ مشرکین نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ پر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ (ھود : ١٢) ٥۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرۃ : ٥٥) ٦۔ کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ (الفرقان : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔ آیت نمبر ٣٥ تا ٣٦ ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟ دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے یہ نہیں چاہتے کہ وہ شرک کریں ، نہ اللہ کی یہ رضا ہے کہ اللہ کی حلال کردہ طیبات کو ناحق حرام کردیا جائے۔ اللہ کی رضا تو تمام قوانین شریعت اور تمام نبیوں کی ہدایات میں ثبت شدہ ہے۔ تمام رسولوں نے اس کی تبلیغ کی ہے ، اس کے لئے جدوجہد کی ہے اور انہوں نے پوری طرح فریضہ دعوت دین ادا کیا ہے۔ ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ الطاغوت (١٦ : ٣٦) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبر دار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ پس یہ ہے اللہ کا حکم اور یہ ہے اس کا ارادہ اپنی مخلوق کے بارے میں۔ اللہ بہرحال لوگوں کو ایسے کاموں سے نہیں روکتا جن کے بارے میں وہ ازروئے تخلیق رکنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ نہ اللہ نے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخالفت کریں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب لوگ اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں تو اللہ ان کو پکڑتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (١٦ : ٣٦) ” پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا “۔ اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ وہ انسان کو ہدایت و ضلالت کی استعداد کے ساتھ پیدا کرے اور انسان کو یہ اختیار ہو کہ وہ آزادانہ طور پر جو راہ چاہے اختیار کرے۔ پھر اللہ نے انسان کو عقل عطا کی تا کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ان دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اپنے لئے منتخب کرے ، خصوصاً عقل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ایسے دلائل و شواہد بھی رکھے ہیں جو انسان کی آنکھ ، کان اور عقل و شعور اور دل و دماغ کو دعوت غوروفکر دے رہے ہیں ، اور وہ ان دلائل و شواہد کو رات دن دیکھ رہا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر اکتفاء نہ کیا کہ انسان صرف عقل و شعور کے بل بوتے پر ہی اپنے لیے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔ اللہ نے ہر دور اور ہر امت کے لئے ایک رسول بھی بھیجا تا کہ اگر انسان کی عقل کے لئے کسی مشکل معاملے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو رسول ایک شریعت کی صورت میں ایک معیار ، نیک و بد بھی مفصل طور پر انسانوں کے سامنے پیش کردے تا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اسے گمراہ نہ کرسکیں۔ پھر اللہ نے ان رسولوں کو قہارو جبار نہیں بنایا کہ لوگوں کی گردنیں موڑ کر ان کو راہ ایمان پر ڈال دیں۔ ان کو بھی صرف مبلغ بنایا کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف تبلیغ و تلقین کے ذریعے موڑیں ، وہ ان کو بتائیں کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ نہ بتوں ، نہ اپنی ہوا وہوس کی اور نہ کسی بادشاہ کی۔ ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ واجتنبوا الطاغوت (١٦ : ٣٦) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ چناچہ ایک فریق نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔ فمنھم من ھدی اللہ (١٦ : ٣٦) ” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی “۔ اور بعض نے گمراہی اختیار کی راہ لی۔ ومنھم من حقت علیہ الضللۃ (١٦ : ٣٦) ” اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی “۔ یہ دونوں فریق اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی رہے۔ ان میں سے کسی فریق کو بھی اللہ نے ہدایت یا ضلالت پر مجبور نہیں کیا ، اللہ نے ان کے لئے یہ راستہ وضع کیا کہ ان میں سے ہر فریق اپنے آزادانہ ارادے اور آزادانہ طرز عمل سے جو راہ چاہے اختیار کرے جبکہ اللہ نے ان کے لئے نشانات راہ اور علامات حق اس کائنات میں بھی اور ان کے نفوس میں بھی ودیعت کر دئیے۔ اس طرح قرآن کریم اس تفصیل سے اس وہم کا قلع قمع کردیتا ہے جس کی طرف مشرکین نے اپنے استدلال میں اشارہ کیا تھا۔ آج ہمارے دور میں بھی بہت سے نافرماں اور سرکش ایسا ہی استدلال کرتے ہیں حالانکہ اس سلسلے میں اسلامی عقائد و نظریات بالکل واضح ہیں۔ یوں کہ اللہ اپنے بندوں کو بھلائی کا حکم دیتا ہے ، برائی سے منع کرتا ہے ، برائی کرنے والوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے اور یہ سزا ایسی واضح ہوتی ہے جس سے اللہ کا غضب بالکل عیاں ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد یہ استدلال کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ کوئی یہ کہے کہ اللہ کا ارادہ ہمیں برائیوں پر مجبور کرتا ہے ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو واضح اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی راستہ اختیار کریں اور یہ اختیار دینا ہی اللہ کا ارادہ ہے۔ اس معنی میں ان سے جو اچھائی یا بھلائی یا شر اور معصیت صادر ہوتی ہے ، وہ اس مفہوم میں اللہ کی مشیت اور ارادے کے مطابق ہوتی ہے ، جیسا کہ ہم نے واضح کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الٰہیہ بتائی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کی کٹ حجتی، اور ہر امت کے لیے رسول کی بعثت کا تذکرہ مشرکین شرک تو کرتے ہی تھے اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا انہیں حرام قرار دیتے تھے، جب توحید کی دعوت دی جاتی تھی تو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو یوں جواب دیتے تھے کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو ہمیں اس بات کا جواب دو کہ ہم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں بقول تمہارے اللہ تعالیٰ ہمارے اس عمل سے ناراض ہے اگر وہ ناراض ہے تو ہمیں ایسا کیوں کرنے دیتا ہے، جب وہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی کام اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا تو ظاہر ہے کہ ہمارے باپ دادوں نے جو یہ کام کیے اور ہم بھی کر رہے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہیں، اس کی مشیت نہ ہوتی تو نہ باپ دادے ایسا کرتے نہ ہم کرتے، ہم ایسا کرتے ہیں اور اس کے علم میں ہے اور اس کی مشیت سے کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ ان کاموں سے راضی ہے، مشرکین کا یہ قول سورة انعام کے رکوع نمبر ١٨ میں بھی گزرا ہے وہاں فرمایا (کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ حَتّٰی ذَاقُوْا بَاْسَنَا) (اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ ) سورة انعام میں مزید فرمایا (قُلْ ھَلْ عِنْدَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا) (آپ فرما دیجیے کہ تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے تم ہمارے لیے ظاہر کرو۔ ) (اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ ) (تم صرف گمان کے پیچھے چلتے ہو اور تم صرف اٹکل پچو باتیں بناتے ہو) سورة انعام کی آیت میں ان لوگوں کی بات کی تردید فرما دی کہ تم صرف جاہلانہ باتیں کرتے ہو اور اٹکل پچو حجت بازی کرتے ہو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق بھی ہے اور اس کی مشیت کے بغیر کچھ ہو بھی نہیں سکتا لیکن کسی کام کو ہونے دینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام سے راضی بھی ہیں، مشیت کی وجہ سے کسی کام کا وجود میں آجانا اور بات ہے اور کسی کام سے راضی ہونا یہ دوسری بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں کو ابتلاء اور امتحان کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اور موت اور حیات کو آزمائش کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ کما قال تعالیٰ (لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور ان کو سمجھ دے دی اور عقل عطا فرما دی اور اعمال کا اختیار دے دیا بندے خیر کے کام بھی کرسکتے ہیں اور شر کے کام بھی، ایمان بھی قبول کرسکتے ہیں اور کفر بھی (کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَھَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) (ایسے ہی ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے تھے سو رسولوں کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے خیر اور شر کو سمجھایا ایمان کے منافع بتائے اور موت کے بعد جو اس کا فائدہ ہوگا یعنی نجات اور جنت کی نعمتیں ان سے باخبر فرمایا ان کے ذمہ اتنا ہی تھا کہ خوب کھول کر واضح طریقے پر بیان فرما دیں، انہوں نے بیان فرمایا لیکن جسے نہ ماننا تھا اس نے نہ مانا، اپنے اختیار سے لوگ کفر اختیار کرتے ہیں اور شرک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی حلال فرمودہ چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں پھر کٹ حجتی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے یہ اعمال منظور نہیں ہیں تو ہمیں کیوں کرنے دیتا ہے، درحقیقت یہ جاہلانہ باتیں ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیار نہ دیا جاتا اور جبراً ایمان پر اور اعمال صالحہ پر لگا دئیے جاتے تو ابتلاء اور امتحان کا کوئی موقع ہی نہ رہتا، امتحان تو اسی صورت میں ہے جب کہ خیر و شر دونوں جانب کا اختیار دے دیا گیا یعنی یہ قدرت دے دی ہے کہ اگر چاہیں تو خیر پر چلیں اور اگر چاہیں تو شر پر چلیں، مشرکین نے اس بات کو سامنے نہ رکھا کہ دارالامتحان میں خیر اور شر دونوں کی قدرت و استطاعت ہونا ہی ذریعہ امتحان ہوسکتا ہے جبراً جو کام لیا جائے وہ تو ذریعہ امتحان بن ہی نہیں سکتا، لہٰذا معلوم ہوا کہ بہ مشیت خداوندی کسی چیز کا وجود میں آجانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی بھی ہے کٹ حجتی کرنے والے کفر و شرک نہیں چھوڑتے اور محض اٹکل اور گمان سے غلط اور الٹے الٹے جواب دیتے ہیں، بررسولاں بلاغ باشدوبس رسولوں نے بتادیا اور سمجھا دیا اب جو عذاب میں جائے گا اپنے اختیار سے جائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ ” وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا “ تا ” اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ “ شکوہ ہے۔ یعنی ہم نے اس قدر دلائل سے ثابت کردیا کہ غیر اللہ کی عبادت نہ کرو اور حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب غیر اللہ کو مت پکارو مگر یہ احمق ان دلائل قاطعہ کے مقابلہ میں کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ ہمیں غیر اللہ کی عبادت اور غیر اللہ کے لیے تحریمات نہ کرنے دیتا۔ اس سے پہلے نفی شرک فی التصرف پر دلائل ذکر کیے گئے اب یہاں سے اس کے ساتھ نفی شرک فعلی کا ذکر بھی کیا گیا۔ ” کَذٰلِکَ فَعَلَ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی یہ کوئی بات نہیں۔ ان سے پہلے مشرکین بھی بطور استہزاء یوں ہی کہا کرتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 ۔ اور جن لوگوں نے شرک کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظورہوتا تو نہ ہم اسکے سوا کسی کی پرستش کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کسی اور چیز کی عبادت کرسکتے اور نہ ہم بدون اس کے حکم کے کسی چیز کو حرام ٹھہراتے جس قسم کے افغان شنیعہ یہ کر رہے ہیں اسی طرح کے افعال وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں سو پیغمبروں کے ذمے سوائے اس کے کہ احکام الٰہی کو صاف صاف پہنچا دیں اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ آٹھویں پارے میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ مشرکوں کا مطلب یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے شرک کو ناپسند کرتا ہے اور حرام کو حلال کرنا اور حلال کو حرام کرلینا اس کو پسند نہیں ہے تو وہ ہم کو ایسا کرنے ہی کیوں دیتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے افعال سے راضی اور خوشی ہے ورنہ اگر وہ ناراض ہوتا تو ہم کو ایسا کرنے نہ دیتا ۔ اس کے بعد اپنے پیغمبر سے تسلی کے طور پر فرمایا کہ آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں اس قسم کی باتیں ان سے پہلے بھی لوگ کہتے رہے ہیں تو بس رسولوں کے ذمے تو صاف اور کھلے طور پر بیان کردینا ہے اس کے علاوہ ان پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ یعنی یہ لوگ نہ خلق اور کسب کا فرق سمجھتے ہیں اور نہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کفر پر راضی ہوتا تو پیغمبر کیوں بھیجتا اور کتابیں کفر کے رد میں کیوں نازل کرتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ نادانوں کے کلام ہیں کہ اللہ کو یہ کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں پھر وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں جواب مجمل فرمایا کہ ہمیشہ رسول منع کرتے آئے ہیں اسی سے جس کی قسمت میں ہدایت تھی اسی نے پائی جو خراب ہونا تھا خراب ہوا اللہ کو یہی منظو رہے۔ 12