Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 43

سورة النحل

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾

And We sent not before you except men to whom We revealed [Our message]. So ask the people of the message if you do not know.

آپ سے پہلے بھی ہم مردوں کو ہی بھیجتے رہے ، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Only Human Messengers have been Sent Ad-Dahhak said, reporting from Ibn Abbas: "When Allah sent Muhammad as a Messenger, the Arabs, or some of them, denied him and said, `Allah is too great to send a human being as a Messenger.' Then Allah revealed: أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَأ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ Is it a wonder to people that We have sent Our Inspiration to a man from among themselves (saying): "Warn mankind..." (10:2) and He said, وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ And We sent not (as Our Messengers) before you (O Muhammad) any but men, whom We sent Revelation. So ask Ahl Adh-Dhikr, if you know not. meaning, (ask) the people of the previous Books, were the Messengers that were sent to them humans or angels If they were angels, then you have the right to find this strange, but if they were human, then you have no grounds to deny that Muhammad is a Messenger. Allah says: وَمَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى And We sent not before you (as Messengers) any but men to whom We revealed, from among the people of townships. (12:109) and not from among the people of heaven as you say." It was reported by Mujahid from Ibn Abbas that; what is meant by Ahl Adh-Dhikr is the People of the Book. This is as Allah says: أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِى السَّمَأءِ وَلَن نُّوْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَءُهُ قُلْ سُبْحَـنَ رَبِّى هَلْ كُنتُ إَلاَّ بَشَرًا رَّسُولاً وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُوْمِنُواْ إِذْ جَأءَهُمُ الْهُدَى إِلاَّ أَن قَالُواْ أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولاً Say: "Glorified be my Lord! Am I anything but a man, sent as a Messenger!" And nothing prevented men from believing when the guidance came to them, except that they said: "Has Allah sent a man as (His) Messenger!" (17:93-94) وَمَأ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ And We never sent before you (O Muhammad) any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets. (25:20) وَمَا جَعَلْنَـهُمْ جَسَداً لاَّ يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَـلِدِينَ And We did not create them (the Messengers, with) bodies that did not eat food, nor were they immortals. (21:8) قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ Say (O Muhammad): "I am not a new thing among the Messengers." (46:9) قُلْ إِنَّمَأ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ Say (O Muhammad): "I am only a man like you. It has been revealed to me." (18:110) Then Allah informs those who doubt that a Messenger can be a human to ask those who have knowledge of the previous Scriptures about the Prophets who came before: were their Prophets humans or angels! Then Allah mentions that He has sent them,

انسان اور منصب رسالت پر اختلا ف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے ۔ فرماتا ہے آیت ( اکان للناس عجبا ) الخ ، کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے ۔ اور فرمایا ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی ۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے ؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے ۔ اور آیت میں من اھل القری کا لفظ بھی فرمایا یعنی وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے ، آ سمان کی مخلوق نہ تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں ۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور اعمش رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے جیسے آیت ( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Ḍ۝ ) 15- الحجر:9 ) میں ہے یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے ۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہو سکتی تھی ؟ اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم اہل ذکر ہیں یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے ۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں ۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں ۔ جیسے علی ابن عباس ، حسن ، حسین ، محمد بن حنفیہ ، علی بن حیسن زین العابدین ، علی بن اللہ بن عباس ابو جعفر باقر ، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر اور ان جیسے اور بزرگ حضرات ۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو ۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے ، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں ۔ یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں ۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ آپ بھی انسان ہیں اور آپ سے پہلے بھی انبیاء بنی آ دم میں سے ہوتے رہے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93؀ۧ ) 17- الإسراء:93 ) کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں ۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے ۔ اور آیت میں ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے ۔ اور آیت میں ہے ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت ( قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ) 46- الأحقاف:9 ) میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں ؟ ایک اور آیت میں ہے میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے الخ پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہو تے تھے یا غیر انسان ؟ پھر یہاں فرماتا ہے کہ رسول کو وہ دلیلیل دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے ۔ زبر سے مراد کتابیں ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے آیت ( وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52 ) 54- القمر:52 ) جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے ۔ اور آیت میں ہے ( لقد کتبنا فی الزبور ) ہم نے زبور میں لکھ دیا الخ پھر فرماتا ہے ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا یعنی قرآن اس لئے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے ۔ حقیقتاً اے نبی آپ ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں ۔ اس لئے کہ آپ افضل الخلائق ہیں ۔ اولاد آدم کے سردار ہیں ۔ جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ کے ذمے ہے ، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوجیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

43۔ 1 اَ ھْلُ الذِّکْر سے مراد اہل کتاب ہیں جو پچھلے انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، وہ انسان ہی تھے اس لئے محمد رسول اللہ بھی اگر انسان ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ تم ان کی بشریت کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کردو۔ اگر تمہیں شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء بشر تھے یا ملائکہ ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو پھر بیشک انکار کردینا، اگر وہ بھی انسان ہی تھے تو پھر محمد رسول اللہ کی رسالت کا محض بشریت کی وجہ سے انکار کیوں ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] رسول اللہ کا بشر ہونا & تاریخی پہلو :۔ یہ بھی مشرکوں کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو پہلے بھی کئی بار مذکور ہوچکا ہے کہ یہ نبی تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ ہماری طرح کھاتا، پیتا، چلتا، پھرتا اور عائلی زندگی گزارتا ہے آخر اس میں وہ کون سی امتیازی صفت ہے کہ ہم اسے اللہ کا رسول تسلیم کرلیں۔ اس اعتراض کے مختلف مقامات پر مختلف پہلوؤں سے جواب دیئے گئے ہیں۔ یہاں صرف تاریخی پہلو کے لحاظ سے جواب دیا جارہا ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب انسان اور مرد ہی ہوا کرتے تھے۔ سیدنا آدم، نوح (علیہ السلام) ، ابراہیم (جن کی اتباع کا مشرکین مکہ دعویٰ کرتے تھے) اسحاق (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، یعقوب علیہ السلام، یوسف (علیہ السلام) ، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ وغیرہم سب کے سب انسان ہی تھے اور یہ بات تم جانتے بھی ہو اور اگر کچھ شک ہو تو اہل علم حضرات سے پوچھ لو جو سابقہ انبیاء سے اور ان کے حالات سے باخبر ہیں اور یہاں اہل علم سے مراد علمائے یہود و نصاریٰ ہیں۔ کہ آیا وہ بشر یا انسان ہی تھے یا کوئی اور قسم کی مخلوق تھے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (١٠٩) ۔ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ” اَهْلَ الذِّكْرِ “ سے مراد اہل کتاب یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی یہ بات اگر تمہیں معلوم نہیں کہ پہلے تمام رسول مرد (انسان) ہی تھے تو یہودو نصاریٰ سے پوچھ لو جو انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں اور تم ان پر اعتماد بھی مسلمانوں کی نسبت زیادہ کرتے ہو کہ موسیٰ ، عیسیٰ ، داؤد اور سلیمان وغیرہم فرشتے تھے یا بشر ؟ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ اعتراض کیوں کہ یہ نبی انسان کیوں ہے، فرشتہ کیوں نہیں ؟ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ” اگر تم نہیں جانتے “ یہ دراصل تعریض ہے کہ ” جانتے تم بھی ہو “ کیا اپنے باپ ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کو تم نہیں جانتے کہ وہ فرشتہ رسول تھے یا بشر ؟ یقیناً تم جانتے ہو، خیر اگر نہیں جانتے تو یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور یوسف اور سارے بنی اسرائیل کے انبیاء بشر تھے یا فرشتے ؟ تم پر حقیقت واضح ہوجائے گی۔ 3 بعض لوگ اس آیت سے تقلید کے وجوب یا جواز پر استدلال کرتے ہیں، حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں اور ” اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ “ سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے، اس کا تقلیدِ ائمہ سے کیا تعلق ؟ 3 اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو غیر عالم مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے کسی بھی موجود عالم سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کرلیں، کیونکہ فوت شدہ شخص سے پوچھا ہی نہیں جاسکتا۔ ظاہر ہے چاروں امام بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی فوت ہوچکے ہیں، ان سے سوال تو ممکن ہی نہیں۔ ہاں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کتاب و سنت میں محفوظ ہیں اور اماموں کے اقوال ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب کوئی شخص دونوں میں سے جو بھی پوچھے گا کسی زندہ عالم ہی سے پوچھے گا، وہ عالم مکمل طور پر محفوظ کتاب و سنت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم بھی بتاسکتا ہے اور کسی معتبر یا غیر معتبر کتاب سے امام کا قول بھی۔ اس لیے سائل کا فرض یہ ہے کہ وہ کسی بھی عالم سے یہ پوچھے کہ اس مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا حکم ہے، کیونکہ دین صرف کتاب و سنت کا نام ہے۔ جب بڑے سے بڑے امتی کا قول بھی دین نہیں تو پھر سائل عالم سے کسی امام کا قول کیوں پوچھے ؟ کیا وہ امام نبی تھا، یا اللہ تعالیٰ نے اس کی اطاعت کا حکم دیا ہے، یا وحی کے ذریعے سے اس کی خطا کی اصلاح کردی جاتی تھی۔ اس سے بڑھ کر بدقسمتی کیا ہوگی کہ مسلمانوں نے علماء سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم پوچھنے کے بجائے اپنے اپنے فرقے کے بنائے ہوئے امام کے اقوال پوچھنا اور ان پر عمل کرنا شروع کردیا۔ نتیجہ اس کا ظاہر ہے کہ مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ اس کا علاج اب بھی سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت پر متحد ہونا ہے۔ خصوصاً آگے صاف لفظ بھی آ رہے ہیں کہ ” بِالْبَیِّنٰتِ والزُّبُر “ یعنی اہل ذکر سے سوال کرو کہ وہ بینات (دلائل) اور آسمانی کتابوں کے ساتھ جواب دیں، نہ کہ اپنے یا کسی امتی کے قیاس یا عقل سے نکالی ہوئی کسی بات کے ساتھ۔ گویا اس آیت کو اگر تقلید کے متعلق مان بھی لیا جائے تو یہ تقلید کو جڑ سے اکھیڑنے والی اور کتاب و سنت کا پابند بنانے والی ہے۔ ” اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ “ سے معلوم ہوا کہ اہل ذکر سے پوچھنے کی ضرورت اسے ہے جو لاعلم ہو۔ کیا بڑے بڑے مدارس میں دس، دس سال پڑھنے کے بعد اور چالیس پچاس سال پڑھانے کے بعد بھی مقلد حضرات ” لاتعلمون “ ہی رہتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن و سنت پر عمل سے بچنے اور اپنے امام کی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اتنے علمی و عقلی دلائل جمع کرتے اور پیش کرتے ہیں جو شاید ان کے امام کے خواب و خیال میں بھی نہ آئے ہوں۔ میں اپنے ان بھائیوں سے نہایت درد مندی سے عرض کرتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن کسی دھڑے یا فرقے میں کھڑے ہونے کے بجائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چلنے والی قطار میں شامل ہوجائیں۔ نجات کا بس یہی ایک راستہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary According to Ruh al-Ma’ ani, it was after the revelation of the first verse cited above that the Mushrikin of Makkah sent their emissaries to the Jews of Madinah to find out if it was true that all earlier prophets had always been from the genus of men. Though, included under the Qur&anic expression: أَهْلَ الذِّكْرِ‌ (Ah¬ludh-Dhikr) were the people of the Book and believers all together, but it was obvious that the Mushrikin (disbelievers) were to be satisfied only by the statement of non-Muslims - because they themselves were not satisfied with what the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was telling them. So, how could they accept the statement of other Muslims? The word: ذِکر (dhikr) in the combination of: أَهْلَ الذِّكْرِ‌ [ Ahludh-Dhikr : translated here as &the people (having the knowledge) of the Message&] is used to carry more than one meaning. One of these is or knowledge. It is in this sense that the Holy Qur’ an has identified the Torah too as Dhikr: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ &And verily We have written in the Zabur (Scripture, Psalms), after the Dhikr (the Message, Torah) & - 21:105. Similar to this is the statement which follows next: أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ We sent down the Message (The Qur&an) to you - 16:44]. Here, the word: الذِّكْرِ‌ (Adh-Dhikr) means the Qur&an. Therefore, &ahludh-dhikr& literally means &the people of knowledge& (as refined in the cited translation). And who are those referred to as Ahlul-` Ilm or &the people of knowledge& at this place? As apparent in this case, they refer to the scholars among the people of the Book, the Jews and Christians. This is the view of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، Hasan and As-Suddiyy and others. Then, there are scholars who have taken &Adh-Dhikr& at this place as well in the sense of AI-Qur&an, and thus explained &Ahludh-Dhikr& in the sense of Ah¬lul-Qur&an. However, the clearest position taken in this matter is that of Rummani, Zajjaj and Azhari. They say: المراد باھل الذکر علماء اخبار الامم السالفۃ کَایٔنا من کان فالذکر بمعنی الحفظ کانّہ قیل اسألوا المطلعین الخبارا لام یعلموکم بذلک &Ahludh-Dhikr& means authentic historians of past peoples based on this investigative position, this definition includes therein the people of the Book, the Jews and Christians, and the people of the Qur’ an, the Muslims as well. The word: الْبَيِّنَاتِ (al-bayyinat) in verse 44 means clear signs and mira¬cles, the later being more aptly applicable here. The word: زُّبُر‌ (zubur) is the plural form of: زُّبُرہ‌ (zubarah) which means large pieces of iron as in: آتُونِي زُبَرَ‌ الْحَدِيدِ (give me pieces of the iron - 18:96). Because of the relevance of putting pieces together, writing is called: زَبَر (zabar), and a written book is known as: الزِّبر (az-zibr) with its plural as: الزَّبُورِ‌ (az-zabur). In short, at this point, it means the Book of Allah which includes Torah, Injil, Zabur and Qur’ an. Non-Mujtahids must follow Mujtahid Imams: The Essence of Taqlid Though, the sentence: [ So, ask the people (having the knowledge) of the Message, if you do not know - 43] has ap¬peared at this place in relation with a particular subject, but its words are general and are inclusive of all other matters of concern. Therefore, given the way Qur’ an has with words, this is really an important rule of procedure based on reason and revelation both, that is, those who do not know injunctions revealed for them ask those who do, and act according¬ly. It is as simple as that. So, it is the duty of those who do not know that they should act in accordance with what they are told by those who do. This is what Taqlid (to follow in trust) is. Not only that it is an explic¬it command of the Qur’ an, there is just no other way the mass practice of religion can be achieved, even if it was to be argued rationally. This rule has been in practice throughout the Muslim community right from the age of the noble Sahabah to this day without any division or difference. Even those who disavow Taqlid do not reject the kind of Taqlid under which those who are not ` Alim (knowledgable in religion) should take Fatwa from the ` Ulama& and act accordingly. And it is obvious that, even if the ` Ulama& were to give proof of their view from the Qur&an and Sun-nah to masses of people who are unaware, they would still accept these arguments and proofs on the authority of, and trust and confidence in the same ` Ulama&. They themselves do not have the ability to understand and assess arguments and proofs presented. And Taqlid is nothing but that one who does not know places his trust and confidence in some-one who knows and accepts the injunction in question as the injunction of the Shari’ ah, and acts accordingly. This is one Taqlid the justification of which - in fact, the necessity of which, leaves no room for any difference. However, as for ` Ulama& who themselves have the ability to under-stand Qur&an and Hadith and know the places where consensus (Ijma`) exists, they are free to act, in the case of such injunctions as have been clearly and explicitly mentioned in Qur&an and Hadith - and in which there exists no difference among the learned Sahabah and Tabi` in as well - in these they can act directly according to Qur&an, Hadith and Ij¬ma`. In these matters, ` Ulama& need not follow (Taqlid) any Mujtahid. But, there are particular injunctions and rulings which have not been ex¬plicitly spelt out in Qur&an and Sunnah, or wherein there appears to be some contradiction in the &ayat (verses) of the Qur&an and the riwayat (narrations) of Hadith, or in which there has come up some difference among the Sahabah and Tabi&in in determining the meaning of Qur’ an and Sunnah - such rulings and injunctions are the object of Ijtihad. In the terminology of Islamic Fiqh (jurisprudence), these are called issues and problems in which Ijtihad is possible. The rule which governs this is that an ` Alien who does not possess the class and rank of Ijtihad, he too must follow one of the Mujtahid Imams in these issues. Just relying on personal opinion, preferring one verse or narration and going by it while dismissing another verse or narration as less weightier is something not permissible for him. Similarly, there are particular injunctions not mentioned explicitly in the Qur’ an and Sunnah. To deduce these out employing the principles provided by the Qur&an and Sunnah, and to arrive at and determine their precise Islamic legal operative order (al-hukm ash-shari, is the functional prerogative of only those Mujtahids of the Muslim Ummah who occupy the highest station of expertise in the Arabic language, its lexicography, idioms and modalities (turuq) of usage, and who possess an additional mastery over all fields of knowledge related to Qur&an and Sunnah, and above all, who are credited with a conduct of life marked by exemplary piety and god-fearingness. Such people are no less than the great Imam Abu Hanifah, Shafi` i, Malik, Ahmad ibn Hanbal, or Awza` i, jurist Abu Al-Laith رحمۃ اللہ علیہم and others like them. These were people Allah Ta’ ala had specially blessed. They lived closer to the age of prophethood, and that of the Sahabah and the Tabi&in. Under the canopy of this barakah, Allah Ta’ ala had bestowed upon them a very special taste of understand¬ing the principles and objectives of the Shari’ ah and an equally special expertise of extracting textually non-prescribed (ghayr mansus) laws from the laws already prescribed in the sacred texts (mansus) by using the methodology of analogical deduction (qiyas). Now, in such issues and problem where Ijtihad efforts have been exhausted at the highest con-ceivable level, it is necessary even for the ` Ulama& at large that they must follow one of the Mujtahid Imams. Going by any new opinion contrary to that of the Mujtahid Imams is error. This is why great men of learning, ` Ulama&, Muhaddithin and Fuqaha& like Imam al-Ghazali, Razi, Tirmidhi, Tahawi, Ma&zini, Ibn Hu¬mam, Ibn Qudamah and hundreds and thousands of early and later men of learning of the same standard, despite their high expertise in fields of Arabicism and Islamic Religious Law, have always remained voluntarily restricted to following Mujtahid Imams invariably. They never consi¬dered it permissible to give a Fatwa following their own opinion, contrary to all Mujtahid Imams. Nonetheless, these blessed souls did have that standard ranking in learning and piety that they assessed the sayings of the Mujtahid Imams on the anvil of proofs from the Qur’ an and Sunnah, after which they would go by the saying of the Imam which they found, out of the sayings of the Mujtahid Imams, closest to the Qur&an and Sunnah. But, they never thought it to be permissible either to depart from the approach taken by Mujtahid Imams or to hold some opinion contrary to all of them. The essential reality of Taqlid is no more than what has been stated here. After that, came a gradual decline in the standards of knowledge and what was originally based on Taqwa and godliness came to be contami¬nated with personal interests and preferences. Under such conditions, given the kind of liberty that people could go by the saying of any one Imam in a religious problem of their choice and opt for the saying of some other Imam in some other problem they choose, the inevitable outcome would be that people would start following their worldly desires in the name of following the Shari&ah by opting for the saying of an Imam which is more conducive to the fulfillment of their worldly desire. This is, as obvious, no following of a religion or Shari&ah. In fact, this would be the following of one&s own interests and desires - which is Haram by the consensus of the entire Muslim Ummah. In Muwafqat, Allamah Shatibi has dealt with this subject in great details. And Ibn Taymiyyah too, de-spite his opposition to Taqlid at large, has rated this type of following in his Fatawa as being Haram by the consensus of the Muslim Ummah. Therefore, later day jurists of Islam considered it necessary that all those who act according to the precepts of the Shari&ah should be made to follow only one of the Mujtahid Imams. From here began what was to be known as &personal following& (Taqlid Shakhsi) which, in reality, is a functional operative order to keep the system of religion in tact so that people do not succumb to following their own desires under the cover of religion. This is precisely what Sayyidna ` Uthman al-Ghani (رض) did with the total agreement of the noble Sahabah when he restricted the seven versions (سبعَہ احرف) of the Quran to only one version - though all seven versions were reading of the Quran and were revealed through angel Ji¬bra&il as wished by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . But, when the Holy Qur&an spread all over non-Arab countries, the danger that it might be altered or interpolated because of its seven readings became acute. So, it was by a total agreement of the Sahabah that Muslims were instructed to write and recite the Qur&an in one version only. Sayyidna ` Uthman al-Ghani (رض) arranged to have all copies of the Quran written according to this one version which he dispatched to various parts of the world. The entire Muslim Ummah follows this Quran even to this day. This never means that other versions were not true or authentic. The fact is that this one version was taken to in the interest of a better management of religious affairs and so that the Quran stays protected against any pos¬sible alterations or interpolations.1 Similarly, all Mujtahid Imams are true. When one of them is chosen to be followed, it never means that other Imams are not worthy of being followed. Far from it, it is only a functional arrangement. One decides for himself in terms of his conveni-ence he has in following a particular Imam. But, while doing so, he also considers other Imams as worthy of the same respect. 1. All this discussion is based on the theory of Allamah Ibn Jarir (رح) about the |"Seven Versions|" (سَبعَۃ احراف). For a detailed treatment of the subject, please see my introduction at the beginning of volume I. (Muhammad Taqi Usmani) This is totally similar to a situation where it is considered necessary that only one of the many physicians present in town be chosen and assigned particularly for the treatment of a sick person. The reason is that it is not advisable for the patient that he goes about following his personal opinion in using the prescription of one physician at some time and that of another physician at some other time. Such a method of seeking solutions to one&s medical problem is patently fatal. It should be understood that the choice of a specific physician made by the patient for his treatment never means that other physicians are no experts, or lack the capability of proper treatment. The reality of the different juristic schools Hanafi, Shafi’ i, Maliki and Hanbali that emerged in the Muslim Ummah was no more than what has been stated. As for giving it the touch of sectarianism and fac¬tionalism or increasing the heat of mutual confrontation and dissention is concerned, it is no valid mission of the revealed religion, nor have the discerning and far-sighted ` Ulama& ever considered it good. That which happened was that scholarly debate and research by some ` Ulama& became coloured with polemics which later reached the level of blames and satirical remarks. Then came ignorance-based confrontation which brought people to the outer limit where this state of affairs became the very indicator of being religious! فالی اللہ المشتکی ولا حول ولا قوۃ اللہ باللہ العلی العظیم So, before Allah is the complaint and there is no strength and there is no power except with Allah, the High, the Great. Note of Caution What has been written here on the religious question of Taqlid and Ij¬tihad is only a very brief summary of the subject, which is sufficient for Muslims at large. As for scholarly research and details of the subject, they are present in books of Usul al-Fiqh. Worth mentioning are: (1) Kitab al-Muwafqat by Allamah Shatibi, v. IV, Bab Al-Ijtihad; (2) Kitab Ihkam al-Ahkam by Allamah Saifuddin al-&Amidi, v. III, al-Qa` idah ath-thalitha fi al-mujtahidin; (3) Hujjatullahil-Balighah and ` Iqd al-Jid by Hadrat Shah Waliyyullah Ad-Dihlawi; and (4) Kitab al-Iqtisad fi at-Taqlid wa al-Ijtihad by Hadrat Maulana Ashraf All Thanavi. Inter¬ested scholars may wish to refer back to them.

خلاصہ تفسیر : اور (یہ منکر لوگ جو آپ کی رسالت ونبوت کا اس بناء پر انکار کر رہے ہیں کہ آپ بشر اور انسان ہیں اور نبی و رسول ان کے نزدیک کوئی انسان و بشر نہ ہونا چاہئے یہ ان کا جاہلانہ خیال ہے کیونکہ) ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف آدمی ہی رسول بنا کر معجزات اور کتابیں دے کر بھیجے ہیں کہ ان پر وحی بھیجا کرتے تھے (تو اے مکہ والو منکرین) اگر تم کو علم نہیں تو دوسرے اہل علم سے پوچھ دیکھو (جن کو انبیاء سابقین کے حالات کا علم ہو اور وہ تمہارے خیال میں بھی مسلمانون کی طرفداری نہ کریں اور اسی طرح آپ کو بھی رسول بنا کر) آپ پر بھی یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جو ہدایات آپ کے واسطے سے) لوگوں کے پاس بھیجی گئی ہیں وہ ہدایات آپ ان کو واضح کر کے سمجھا دیں اور تاکہ وہ ان میں غور وفکر کیا کریں۔ معارف و مسائل : روح المعانی میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مشرکین مکہ نے اپنے قاصد مدینہ طیبہ کے یہود کے پاس دریافت حال کے لئے بھیجے کہ کیا یہ بات واقعی ہے کہ پہلے بھی سب انبیاء (علیہم السلام) جنس بشر و انسان سے ہوتے آئے ہیں۔ اگرچہ لفظ اہل الذکر میں اہل کتاب اور مؤمنین سب داخل تھے مگر یہ ظاہر ہے کہ مشرکین کا اطمینان غیر مسلموں ہی کے بیان سے ہوسکتا تھا کیونکہ وہ خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر مطمئن نہیں تھے تو دوسرے مسلمانوں کی بات کیسے مان سکتے تھے۔ اَهْلَ الذِّكْر لفظ ذکر چند معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے ان میں سے ایک معنی علم کے بھی ہیں اسی مناسبت سے قرآن کریم میں تورات کو بھی ذکر فرمایا ہے وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اور قرآن کریم کو بھی ذکر کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت میں اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ میں قرآن مراد ہے اس لئے اہل الذکر کے لفظی معنی اہل علم کے ہوئے اور یہاں اہل علم سے کون لوگ مراد ہیں اس میں ظاہر یہ ہے کہ علمائے اہل کتاب یہود و نصاری مراد ہیں یہ قول ابن عباس حسن السدی وغیرہ کا ہے اور بعض حضرات نے اس جگہ بھی ذکر سے قرآن مراد لے کر اہل الذکر کی تفسیر اہل قرآن سے کی ہے اس میں زیادہ واضح بات رمانی، زجاج، ازہری کی ہے وہ کہتے ہیں المراد باہل الذکر علماء اخبار الامم السالفتہ کائنا من کان فالذکر بمعنی الحفظ کانہ قیل اسالوا المطلعین علی اخبار الامم یعلموکم بذلک اس تحقیق کی بناء پر اس میں اہل کتاب بھی داخل ہیں اور اہل قرآن بھی۔ بینات کے معنی معروف ہیں اور مراد اس سے یہاں معجزات ہیں، زبر دراصل زبرہ کی جمع ہے جو لوہے کے بڑے ٹکڑوں کے لئے بولا جاتا ہے اٰتُوْنِيْ زُبَرَ الْحَدِيْدِ ٹکڑوں کو جوڑنے کی مناست سے لکھنے کو زبر کہا جاتا ہے اور لکھی ہوئی کتاب کو زبر اور زبور بولتے ہیں یہاں مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں تورات انجیل زبور قرآن سب داخل ہیں ، ائمہ مجتہدین کی تقلید غیر مجتہد پر واجب ہے : آیت مذکورہ کا یہ جملہ (آیت) فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ اس جگہ اگرچہ ایک خاص مضمون کے بارے میں آیا ہے مگر الفاظ عام ہیں جو تمام معاملات کو شامل ہیں اس لئے قرآنی اسلوب کے اعتبار سے درحقیقت یہ اہم ضابطہ ہے جو عقلی بھی ہے نقلی بھی کہ جو لوگ احکام کو نہیں جانتے وہ جاننے والوں سے پوچھ کر عمل کریں اور نہ جاننے والوں پر فرض ہے کہ جاننے والوں کے بتلانے پر عمل کریں اسی کا نام تقلید ہے یہ قرآن کا واضح حکم بھی ہے اور عقلا بھی اس کے سوا عمل کو عام کرنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی امت میں عہد صحابہ سے لے کر آج تک بلا اختلاف اسی ضابطہ پر عمل ہوتا آیا ہے جو تقلید کے منکر ہیں وہ بھی اس تقلید کا انکار نہیں کرتے کہ جو لوگ عالم نہیں وہ علماء سے فتوی لے کر عمل کریں اور یہ ظاہر ہے کہ ناواقف عوام کو علماء اگر قرآن و حدیث کے دلائل بتلا بھی دیں تو وہ ان دلائل کو بھی انہی علماء کے اعتماد پر قبول کریں گے ان میں خود دلائل کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت تو ہے نہیں اور تقلید اسی کا نام ہے کہ نہ جاننے والا کسی جاننے والے کے اعتماد پر کسی حکم کو شریعت کا حکم قرار دے کر عمل کرے یہ تقلید وہ ہے جس کے جواز بلکہ وجوب میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں البتہ وہ علماء جو خود قرآن و حدیث کو اور مواقع اجماع کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو ایسے احکام میں جو قرآن و حدیث میں صریح اور واضح طور پر مذکور ہیں اور علماء صحابہ وتابعین کے درمیان ان مسائل میں کوئی اختلاف بھی نہیں ان احکام میں وہ علماء براہ راست قرآن و حدیث اور اجماع پر عمل کریں ان میں علماء کو کسی مجتہد کی تقلید کی ضرورت نہیں لیکن وہ احکام و مسائل جو قرآن وسنت میں صراحۃ مذکور نہیں یا جن میں آیات قرآن اور روایات حدیث میں بظاہر کوئی تعارض نظر آتا ہے یا جن میں صحابہ وتابعین کے درمیان قرآن وسنت کے معنی متعین کرنے میں اختلاف پیش آیا ہے یہ مسائل و احکام محل اجتہاد ہوتے ہیں ان کو اصطلاح میں مجتہد فیہ مسائل کہا جاتا ہے ان کا حکم یہ ہے کہ جس عالم کو درجہ اجتہاد حاصل نہیں اس کو بھی ان مسائل میں کسی امام مجتہد کی تقلید ضروری ہے محض اپنی ذاتی رائے کے بھروسہ پر ایک آیت یا روایت کو ترجیح دے کر اختیار کرنا اور دوسری آیت یا روایت کو مرجوع قرار دے کر چھوڑ دینا اس کے لئے جائز نہیں۔ اسی طرح جو احکام قرآن وسنت میں صراحۃ مذکور نہیں ان کو قرآن وسنت کے بیان کردہ اصول سے نکالنا اور ان کا حکم شرعی متعین کرنا یہ بھی انہی مجتہدین امت کا کام ہے جن کو عربی زبان عربی لغت اور محاورات اور طریق استعمال کا نیز قرآن وسنت سے متعلقہ تمام علوم کا معیاری علم اور ورع وتقوی کا اونچا مقام حاصل ہو جیسے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) شافعی، مالک احمد بن حنبل یا اوزاعی فقیہ ابواللیث وغیرہ جن میں اللہ تعالیٰ نے قرب زمانہ نبوت اور صحبت صحابہ وتابعین کی برکت سے شریعت کے اصول و مقاصد سمجھنے کا خاص ذوق اور منصوص احکام سے غیر منصوص کو قیاس کر کے حکم نکالنے کا خاص سلیقہ عطا فرمایا تھا ایسے مجتہد فیہ مسائل میں عام علماء کو بھی ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید لازم ہے ائمہ مجتہدین کے خلاف کوئی نئی رائے اختیار کرنا خطاء ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے اکابر علماء محدثین وفقہا امام غزالی، رازی، ترمذی، طحاوی مزنی ابن ہمام ابن قدامہ اور اسی معیار کے لاکھوں علماء سلف وخلف باوجود علوم عربیت وعلوم شریعت کی اعلیٰ مہارت حاصل ہونے کے ایسے اجتہادی مسائل میں ہمیشہ ائمہ مجتہدین کی تقلید ہی کے پابند رہے ہیں سب مجتہدین کے خلاف اپنی رائے سے کوئی فتوی دینا جائز نہیں سمجھا البتہ ان حضرات کو علم وتقوی کا وہ معیاری درجہ حاصل تھا کہ مجتہدین کے اقوال وآراء کو قرآن وسنت کے دلائل سے جانچتے اور پرکھتے تھے پھر ائمہ مجتہدین میں جس امام کے قول کو وہ کتاب وسنت کے ساتھ اقرب پاتے اس کو اختیار کرلیتے تھے مگر ائمہ مجتہدین کے مسلک سے خروج اور ان سب کے خلاف کوئی رائے قائم کرنا ہرگز جائز نہ جانتے تھے تقلید کی اصل حقیقت اتنی ہی ہے۔ اس کے بعد روز بروز علم کا معیار گھٹتا گیا اور تقوی و خدا ترسی کے بجائے اغراض نفسانی غالب آنے لگیں ایسی حالت میں اگر یہ آزادی دی جائے کہ جس مسئلہ میں چاہیں کسی ایک امام کا قول اختیار کرلیں اور جس میں چاہیں کسی دوسرے کا قول لے لیں تو اس کا لازمی اثر یہ ہونا تھا کہ لوگ اتباع شریعت کا نام لے کر اتباع ہوی میں مبتلا ہوجائیں کہ جس امام کے قول میں اپنی غرض نفسانی پوری ہوتی نظر آئے اس کو اختیار کرلیں اور یہ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا کوئی دین و شریعت کا اتباع نہیں ہوگا بلکہ اپنی اغراض واہوا کا اتباع ہوگا جو باجماع امت حرام ہے علامہ شاطبی نے موافقات میں اس پر بڑی تفصیل سے کام کیا ہے اور ابن تیمیہ نے بھی عام تقلید کی مخالفت کے باوجود اس طرح کے اتباع کو اپنے فتاوی میں باجماع امت حرام کہا ہے اس لئے متاخرین فقہا نے یہ ضروری سمجھا کہ عمل کرنے والوں کو کسی ایک ہی امام مجتہد کی تقلید کا پابند کرنا چاہئے یہیں سے تقلید شخصی کا آغاز ہوا جو درحقیقت ایک انتظامی حکم ہے جس سے دین کا انتظام قائم رہے اور لوگ دین کی آڑ میں اتباع ہوی کے شکار نہ ہوجائیں اس کی مثال بعینہ وہ ہے جو حضرت عثمان غنی نے باجماع صحابہ قرآن کے سبعۃ احرف (یعنی سات لغات) میں سے صرف ایک لغت کو مخصوص کردینے میں کیا کہ اگرچہ ساتوں لغات قرآن ہی کے لغات تھے جبرئیل امین کے ذریعہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش کے مطابق نازل ہوئے مگر جب قرآن کریم عجم میں پھیلا اور مختلف لغات میں پڑھنے سے تحریف قرآن کا خطرہ محسوس کیا گیا تو باجماع صحابہ مسلمانوں پر لازم کردیا گیا کہ صرف ایک ہی لغت میں قرآن کریم لکھا اور پڑھا جائے حضرت عثمان غنی (رض) نے اسی ایک لغت کے مطابق تمام مصاحف لکھوا کر اطراف عالم میں بھجوائے اور آج تک پوری امت اسی کی پابند ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسرے لغات حق نہیں تھے بلکہ انتظام دین اور حفاظت قرآن از تحریف کی بناء پر صرف ایک لغت اختیار کرلیا گیا اسی طرح ائمہ مجتہدین سب حق ہیں ان میں سے کسی نے اختیار کی ہے اس کے نزدیک دوسرے ائمہ قابل تقلید نہیں بلکہ اپنی صواب دید اور اپنی سہولت جس امام کی تقلید میں دیکھی اس کو اختیار کرلیا اور دوسرے ائمہ کو بھی اسی طرح واجب الاحترام سمجھا۔ اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بیمار آدمی کو شہر کے حکیم اور ڈاکٹروں میں سے کسی ایک ہی کو اپنے علاج کے لئے متعین کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ بیمار اپنی رائے سے کبھی کسی ڈاکٹر سے پوچھ کر دوا استعمال کرے کبھی کسی دوسرے سے پوچھ کر یہ اس کی ہلاکت کا سبب ہوتا ہے وہ جب کسی ڈاکٹر کا انتخاب اپنے علاج کے لئے کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ دوسرے ڈاکٹر ماہر نہیں یا ان میں علاج کی صلاحیت نہیں ، حنفی، شافعی، مالکی حنبلی کی جو تقسیم امت میں قائم ہوئی اس کی حقیقت اس سے زائد کچھ نہ تھی اس میں فرقہ بندی اور گروی بندی کا رنگ اور باہمی جدال وشقاق کی گرم بازاری نہ کوئی دین کا کام ہے نہ کبھی اہل بصیرت علماء نے اسے اچھا سمجھا ہے بعض علماء کے کلام میں علمی بحث و تحقیق نے مناظرانہ رنگ اختیار کرلیا اور بعد میں طعن وطنز تک نوبت آگئی پھر جاہلانہ جنگ وجدال نے وہ نوبت پہنچا دی جو آج عموما دینداری اور مذہب پسندی کا نشان بن گیا فالی اللہ المشتکی ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم : تنبیہ : مسئلہ تقلید و اجتہاد پر کچھ یہاں لکھا گیا وہ اس مسئلہ کا بہت مختصر خلاصہ ہے جو عام مسلمانوں کے سمجھنے کے لئے کافی ہے عالمانہ تحقیقات وتفصیلات اصول فقہ کی کتابوں میں مفصل موجود ہیں خصوصا کتاب الموافقات علامہ شاطبی جلد رابع باب الاجتہاد اور علامہ سیف الدین آمدی کی کتاب احکام الاحکام جلد ثالث القاعدۃ الثالثۃ فی المجتہدین، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتابیں حجۃ اللہ البالغہ اور رسالہ عقد الجید اور آخر میں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب الاقتصاد فی التقلید والاجتہاد اس مسئلے میں خاص طور سے قابل دید ہیں اہل علم ان کی طرف مراجعت فرمائیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 43؀ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٣) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ سے پہلے ہی جیسے آدمیوں کو رسول بنا کر بھیجا، انہیں معجزات اور پہلے لوگوں کی خبریں دیں، اور ان پر اوامرو نواہی کے دلائل کی وحی کی، اور یہ بات تورات وانجیل میں بھی موجود ہے، اللہ تعالیٰ صرف انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٣ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ ) یعنی آپ پہلے نبی یا رسول نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں۔ وہ سب کے سب آدمی ہی تھے اور ان کی طرف ہم اسی طرح وحی بھیجتے تھے جس طرح آج آپ کی طرف وحی آتی ہے۔ (فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) یعنی اے اہل مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس بارے میں کچھ شک ہے تو تمہارے پڑوس مدینہ میں وہ لوگ آباد ہیں جو سلسلۂ وحی و رسالت سے خوب واقف ہیں ان سے پوچھ لو کہ اب تک جو انبیاء و رسل اس دنیا میں آئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے یا فرشتے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

38. This is the answer to the objection of the mushriks of Makkah (which has not been cited here) that they could not believe that Muhammad (peace be upon him) was a Prophet of God because he was a human being like them. They have been told that the same objection had been raised against all the Prophets who came before him. 39. “Those who possess knowledge” are the scholars of the people of the Books and others, who, though not scholars in the strict sense had sufficient knowledge of the teachings of the revealed Books and were acquainted with the stories of the former Prophets.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :38 یہاں مشرکین مکہ کے ایک اعتراض کو نقل کیے بغیر اسکا جواب دیا جا رہا ہے ۔ اعتراض وہی ہے جو پہلے بھی تمام انبیاء علیہم السلام پر ہو چکا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصرین نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بارہا کیا تھا کہ تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو ، پھر ہم کیسے مان لیں کہ خدا نے تم کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ۔ سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :39 یعنی علماء اہل کتاب ، اور وہ دوسرے لوگ جو چاہے سکہ بند علما نہ ہوں مگر بہر حال کتب آسمانی کی تعلیمات سے واقف اور انبیاء سابقین کی سرگزشت سے آگاہ ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٣۔ ٤٤۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب اللہ پاک نے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا تو اہل عرب نے آپ کی نبوت کا انکار کیا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کا رسول آدمی ہو فرشتے کو کیوں نہیں ہمارے پاس رسول بنا کر بھیجا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ١ ؎۔ اور فرمایا کہ یہ تو اللہ کی ہمیشہ سے عادت ہے کہ جتنے رسول اس نے بھیجے ہیں وہ سب آدمی تھے کوئی فرشتہ نہ تھا پھر اس کے بعد مشرکوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی تھے یا فرشتے اگر وہ کہیں کہ فرشتے تھے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسبت تمہارا اعتراض بجا ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ نہیں وہ رسول بھی بشر تھے تو تمہارا انکار آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے متعلق بالکل بےجا ہے اللہ پاک نے کفار کو خطاب کر کے اہل کتاب سے سوال کرنے کا حکم اس لئے فرمایا کہ مشرکین مکہ اہل کتاب کو صاحب علم جانتے تھے۔ پھر اللہ پاک نے پہلے رسولوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو ہم نے معجزے اور کتابیں دے کر بھیجا تھا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم تمہاری طرف بھی کتاب اتارتے ہیں تم اسے کھول کر انہیں سمجھاؤ شاید یہ لوگ کچھ فکر کریں اور گمراہی سے نکل کر راہ حق کی طرف آنے کی کوشش کریں۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے جس میں السبع المثانی والقرآن العظیم کی تفسیر سورت فاتحہ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے جس میں یوم تبدل الارض (١٥: ٤٨) کی تفسیر میں اللہ کے رسول نے فرمایا ہے کہ زمین جب بدلی جاوے گی تو اس وقت سب لوگ پل صراط پر ہوں گے ٢ ؎۔ یہ حدیثیں اور اس قسم کی اور صحیح حدیثیں لتبین للناس ما نزل الیھم کی گویا تفسیر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کے جو لفظ دوسرے لفظوں کے ذریعہ سے تفسیر کردینے کے قابل تھے حکم لتبین للناس ما نزل الیھم کی تعمیل میں اللہ کے رسول نے ان کی تفسیر بخوبی فرما دی اقیموا الصلوۃ واتو الزکوٰۃ (٢: ٤٣) اتموا الصیام (٢: ١٨٧) وللہ علی الناس حج البیت (٣: ٩٧) اور ایسے اور موقع میں سوا تفسیر لفظی کے جہاں عمل کر کے سمجھانے کی ضرورت تھی لتبین للناس ما نزل الیھم کی ویسی ہی تعمیل کردی مشرکین مکہ جب تک قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے بےرغبتی کرتے رہے وہ تو الگ بات ہے۔ ٦ ھ میں صلح حدییہ ہو کر جب مشرکین اور اہل اسلام کے مابین میں پہلے کا سا رکاؤ نہیں رہا تو لعلھم یتفکرون کی پیشین گوئی کا ظہور بھی خوب ہوا چناچہ صلح حدیبیہ پر اہل اسلام کی تعداد چودہ سو تھی اور پھر دو برس کے بعد مکہ کی فتح کے وقت دس ہزار تک پہنچ گئی۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٧٠ ج ٢۔ ٢ ؎ جلد ہذا ص ٢٧٦۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:43) اہل الذکر۔ ای اھل الکتاب۔ قبلک میں ضمیر واحد مذکر کا مرجع رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی وہ تمہیں بتائیں گے کہ دنیا میں جتنے پیغمبر آئے سب کے سب بشر تھے۔ فرشتے یا کسی دوسری مخلوق سے نہ تھے۔ (شوکانی) بعض مقلد حضرات اس آیت سے تقلید کے جائز ہونے پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں اور ” اہل الذکر “ سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو بھی عام مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے علما سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کریں نہ کہ کسی خاص و عام کے مسئلے دریافت کریں۔ (مختصراً از وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 50 نوحی ہم وحی کرتے ہیں۔ اسئلوا تم پوچھ لو۔ اھل الذکر یاد رکھنے والے، علم والے۔ البینت (البینۃ) کھلی نشانیاں۔ الزبر (زبور) لکھی ہوئی کتابیں، صحیفے۔ الذکر دھیان دینے کی چیز (قرآن کریم) نزل نازل کیا گیا۔ افامن کیا پھر وہ مطمئن ہوگئے۔ یخسف وہ دھنساتا ہے۔ تقلب چلنا، پھرنا، بھاگ دوڑ معجزین عاجز کرنے والے، بےبس کرنے والے۔ تخوف ڈرنا۔ یتقیوا (فی) ڈھلتے ہیں۔ ظلال (ضل) سائے ۔ الیمین داہنی جانب۔ الشمائل بائیں جانب۔ داخرون ذلیل ہونے والے، عاجزی کرنے والے۔ یسجد سجدہ کرتا ہے۔ دابۃ زمین پر رینگنے ، چلنے والے جان دار۔ لایستکبرون وہ بڑائی، تکبر نہیں کرتے ہیں۔ یخافون وہ خوف رکھتے ہیں۔ یفعلون وہ کرتے ہیں۔ یومرون حکم دیئے جاتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 انبیاء کرام کی بشریت کا انکار یہ ایک ایسا عام مرض ہے جس کو قرآن کریم نے بار بار بیان فرمایا ہے۔ یوں تو کفار ہر طرح کے اعتراضات کرتے تھے لیکن ان کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اللہ کا نبی وہ کیسے ہو سکتا ہے جو ہماری طرح سے زندگی گذارتا ہو۔ نبی تو ایسا ہونا چاہئے تھا کہ جس کو زندگی کے معاملات سے کوئی تعلق نہ ہو۔ فرشتے اس کے آگے پیچھے ہوں غیب کی خبریں بتاتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسا خزانہ ہو جس کو وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے لٹاتا ہوا آئے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں ایک ہی بات ارشاد فرمائی ہے کہ جتن بھی نبی اور رسول بھیجے گئے ہیں وہ انسان ہی ہوتے ہیں کوئی اور مخلوق نہیں ہوتے اور ان کے ساتھ بشریت کے تمام تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ اسی لئے تو ان کی زندگی دوسرے ان جیسے انسانوں کے لئے قابل عمل ہوتی ہے۔ اگر کسی فرشتے کو بھیج دیا جاتا تو اس کی زندگی میں بسنے والے انسانوں کے لئے کوئی مثالی زندگی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر وہ شخص واقف ہے جسے گزشتہ کتابوں کا علم دیا گیا ہے کفار سے فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات کو جاننا ہو تو ان اہل کتاب سے پوچھ لو جن پر تم بہت زیادہ اعتماد کرتے ہو جن کے انبیاء کرام کو معجزات اور کتابیں دی گئی تھیں۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جس کلام کو نازل کیا ہے آپ اس کو کھول کھول کر بیان کردیں تاکہ وہ غور و فکر کرسکیں۔ فرمایا کہ اگر اس وضاحت سے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف آجائیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے ان ہی کے لئے فائدہ مند ہے۔ اللہ کسی کی عبادت و بندگی کا محتاج نہیں کیونکہ زمین و آسمان میں جو بھی مخلوق ہے آسمان پر جتنے بھی فرشتے ہیں اور زمین پر ہر طرح کے جان دار ہیں وہ اللہ کے فرماں بردار ہیں اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں جس طرح ان کو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کے سائے کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف ڈھلتے جاتے ہیں وہ نہایت عاجزی اور اطاعت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں تو یہ ان کے لئے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن اگر انہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہی طریقہ اختیار کیا اور وہ لوگ جو اللہ و رسول کی اطاعت کرنے والے ہیں ان کو اسی طرح ستاتے رہے تو ان پر گذشتہ قوموں کی طرح کوئی بھی عذاب آسکتا ہے۔ زمین میں دھنسا دیا جائے۔ آسمان سے آگ برسا دی جائے، تیز آندھی یا طوفان سے ہلاک کردیا جائے چلتے پھرتے ان پر عذاب آجائے یا زندگی بےسکون اور ویران ہو کر رہ جائے۔ فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربان اور کرم کرنے والا ہے وہ کسی کو گناہ کرتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس کو مہلت دیتا چلا جاتا ہے تاکہ اس کو سنبھلنے کا پورا پورا موقع مل جائے۔ مہلت کے باوجود اگر کوئی بھی اپنی بری روش پر قائم رہتا ہے تو اس کو کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ ان آیات کی چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے تاکہ ان آیات کو سمجھنا آسان ہوجائے۔ 1) تمام انبیاء کرام بشر ہی ہیں لیکن ایسے بشر جن پر بشریت ناز کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو سب سے بڑی عظمت کا مقام عطا فرماتا ہے، ان کی طرف اللہ کے کلام کی وحی کی جاتی ہے اور وہ اللہ کے نمائندہ خصوصی ہوتے ہیں جن کا ہر فعل اور عمل قابل تقلید ہوتا ہے کیونکہ ان پر بشریت کے تمام تقاضے طاری کئے جاتے ہیں جس سے وہ دوسروں کے لئے قابل عمل مثال ہوتے ہیں۔ 2) دوسری بات یہ ہے کہ اس جگہ اگرچہ اہل کتاب کے لئے فرمایا گیا ہے کہ جس قوم کے لئے معجزات اور کتابیں نازل کی گئی ہیں کہ ان سے تم پوچھ سکتے ہو کہ انبیاء کرام بشر ہوتے ہیں یا نہیں ؟ ان کا جواب یہی ہوگا۔ کہ وہ بشر ہی ہوتے ہیں۔ اس آیت میں بہت سادہ سا اصول بتایا گیا ہے جو بہت اہمیت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک شخص جس بات کو نہیں جانتا وہ جاننے والوں سے جان لے کسی چیز کے جاننے میں کوئی عیب نہیں ہے۔ بعض لوگ زندگی بھر چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں اسی لئے الجھے رہتے ہیں کہ وہ کسی سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں قرآن کریم سے یہ اصول بھی مل گیا کہ جس بات کو آدمی نہیں جانتا اس کو جاننے والوں سے جان لینا چاہئے جس مسئلہ کا اس کو علم نہ ہو اس کو کسی عالم سے پوچھ لینا کوئی عیب نہیں ہے۔ 3) چونکہ انبیاء کرام بشر ہوتے ہیں اس لئے ان کی زندگی کے طریقوں کو اختیار کرنے میں نہ مشکل ہوتی ہے نہ دشواری کیونکہ ان پر زندگی کے معاملات کو جس طرح طاری کیا جاتا ہے اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں وہی ان کے امتیوں کے لئے مثال ہوتے ہیں۔ 4) اللہ کا کلام جس رسول پر بھی نازل کیا جاتا ہے وہ اپنے عمل اور کردار سے اس کی وضاحت کرتا ہے۔ اللہ کے رسول اور نبی کی یہ شان نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کا کلام کسی کتابی شکل میں دے کر چلا جاتا ہو کہ میں نے یہ کتاب تم تک پہنچا دی ہے تم جس طرح چاہو اس کی تشریح کرلو اور جس طرح چاہے عمل کرلو۔ ایسا نہیں ہوتا بلکہ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے اس کتاب کو نازل کیا ہے اب اس کی وضاحت کرنا اور اس پر عمل کر کے دکھانا یہ آپ کی ذمہ داری ہے تاکہ لوگ اس پر عمل کرسکیں۔ اس سے ان لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بس قرآن کریم پہنچا گئے ہیں اب ہم اس قرآن کو لغت کے ذریعہ خود سمجھ لیں گے ہمیں اس کی وضاحت کے لئے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ نعوذ باللہ ان احادیث کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یقین کیجیے جب کوئی میرے سامنے یہ کہتا ہے کہ ہمیں قرآن کافی ہے احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ضرورت نہیں ہے۔ تو میں اس تصور سے کانپ اٹھتا ہوں کہ یہ کیسے گستاخ اور بےہودہ لوگ ہیں جن کے نزدیک ایک شاعر یا جھوٹے افسانے لکھنے والوں کی بےسروپا باتوں میں تو اس کا ایک ایک جملہ بھی جو اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس کے بیان کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اللہ کے جس نبی نے سال دو سال نہیں بلکہ پورے تئیس سال تک رات دن پوری محنت سے اللہ کا دین پہنچایا ہو ایک ایک آیت کو سکھایا اور اس کے عمل کی وضاحت فرمائی ہو نعوذ باللہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میں تو یہ عرض کروں گا کہ اگر قرآن کریم کی وضاحت کو لوگوں نے اپنی مرضی پر ڈھال لیا تو یہ نہ صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عظیم جذبے، آپ کے بےمثال عمل اور کردار کی توہین ہے بلکہ توہین قرآن اور توہین رسالت بھی ہے ایسے لوگ اللہ کے عذاب سے کیسے بچے رہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ محض اللہ کا حلم، برداشت اور اس کی مہربانی ہے ورنہ ایسے لوگ کسی معافی کے مستحق نہیں ہیں۔ نعوذ باللہ ہم یہ نہیں کہتے کہ قرآن کریم نامکمل ہے اور حدیث رسول اس کو مکمل کرتی ہے۔ بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک کامل ترین کتاب ہے اس کو اور اس کے نور کو کوئی چیز مکمل نہیں کرتی۔ لیکن احادیث رسول قرآن کریم کے نور کو کھولنے والی اور اللہ کی مراد کی وضاحت کرنے والی ہیں۔ اگر احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نظر انداز کر کے کوئی تشریح کی جائے گی تو وہ اس تشریح کرنے والے کی اپنی ذاتی رائے ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ کی مراد اور منشا ہرگز نہیں ہو سکتی۔ جس طرح کسی آیت کی تشریح رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دی ہے وہی تشریح ایک سچائی ہے اس پر ہمارا ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 5) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑنے والے ہیں ان پر عذاب کی چار شکلیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ٭… اللہ ایسے لوگوں کو زمین میں دھنسا دے۔ زمین پھٹ جائے اور یہ اس میں سما جائیں۔ جس طرح قارون کو اس کی تمام دولت کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا گیا تھا اور زمین نے اس کو اور اس کے خزانوں کو نگل لیا تھا۔ ٭… اچانک کوئی عذاب یا آفت آجائے۔ آسمان سے آگ، پتھر یا اولے برسنے لگیں تیز آندھی یا شدید بارش سے سرکش ہلاک کردیئے جائیں۔ ٭… جب یہ لوگ اپنے کاروبار زندگی میں لگے ہوئے ہوں، بازاروں میں چل پھر رہے ہوں اور ان پر اچانک عذاب آجائے۔ ٭… یہ بھی عذاب ہے کہ مرنے سے پہلے ان پر ایسی بےچینی، بےسکونی اور ویرانی طاری ہوجائے، قحط سالی، وبا، بیماریاں اور دشمن کا غلبہ ہوجائے کہ اس سے وہ ہلاک ہوجائیں۔ بہرحال اللہ کا عذاب آنے کی کوئی ایک شکل نہیں ہے بلکہ وہ جب اور جہاں اور جیسے چاہے نافرمانوں پر عذاب نازل کرسکتا ہے۔ لیکن وہ رؤف و رحیم ہے اس لئے ان کو مہلت اور ڈھیل دیئے ہوئے ہے جس سے ان کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ 6) اللہ تعالیٰ کسی کی عبادت و بندگی کا محتاج نہیں ہے کیونکہ کائنات کی ہر چیز اس کی اطاعت میں اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ انسان اگر عبادت و بندگی کرتا ہے تو یہ اس کی سعادت کی بات ہے۔ وہ اللہ کسی کی نیکی اور عبادت کا محتاج نہیں ہے۔ اگر دنیا کے سارے انسان اللہ کی نافرمانی کرنے لگیں یا سب مل کر اس کی عبادت و بندگی کریں اللہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، تمام جاندار اور ہر چیز کے سائے اس کو ہر وقت سجدے کرتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ساری کائنات اس کے ایک اشارے کی منتظر ہے۔ جب وہ کن کہتا ہے تو وہ چیز ہوجاتی ہے۔ وہ نہ انسانوں کی کسی نیکی کا محتاج ہے اور نہ دنیاوی اسباب کا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عقیدۂ توحید اور آخرت کے انکار کے ساتھ اہل مکہ اس بات کے بھی منکر تھے کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا۔ قرآن مجید نے توحید اور عقیدہ آخرت کے دلائل دینے کے ساتھ اس بات کے شرعی، عقلی، نقلی اور تاریخی حوالہ جات کے ساتھ درجنوں دلائل دیے ہیں کہ رسول آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبد، بشر اور آدمی ہیں۔ آپ سے پہلے جتنے رسول مبعوث کیے گئے۔ وہ عبد، بشر اور آدمی تھے۔ یہاں مختصر جواب یہ دیا گیا ہے کہ دلائل اور حقائق دینے کے باوجود رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منکروں کو کھلی دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی تسلی کے لیے اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو رسول آئے وہ جنس کے اعتبار سے آدمی تھے یا کوئی اور ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انبیاء کو واضح دلائل اور کتابیں دے کر بھیجا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے آپ کی طرف قرآن مجید نازل کیا ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو کھول کھول کر بتلائیں تاکہ وہ اس پر غور و فکر کریں۔ یہاں الذکر کا لفظ دو دفعہ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پہلی دفعہ اہل الذکر سے مراد تورات اور انجیل کے اہل علم ہیں۔ دوسری مرتبہ الذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کو بھی کھول دیا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام صرف قرآن مجید لوگوں تک پہنچانا ہی نہیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق کھول کر بیان بھی کرنا ہے۔ ظاہر ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عمل اور فرمان کے ذریعے قرآن مجید کی تبیین یعنی تفسیر فرمائی ہے اسے حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا جاتا ہے۔ جس کی تین قسمیں ہیں۔ ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد۔ ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل۔ ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کسی صحابی نے دین سمجھ کر کوئی کام کیا ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھ کر خاموشی اختیار کی۔ اس بات کو محدثین تقریری حدیث کہتے ہیں۔ یہ حدیث اس لیے مستند ہوتی ہے کہ اللہ کے پیغمبر کی یہ شان نہیں کہ اس کے سامنے کوئی غلط کام ہو رہا ہو اور وہ اسے دیکھ کر خاموش رہیں۔ اس اعتبار سے حدیث کی تینوں صورتیں ہی محفوظ کرلی گئی ہیں۔ کیونکہ جس طرح قرآن مجید کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے اسی طرح رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتلائی ہوئی قرآن مجید کی تفسیر کا محفوظ رہنا بھی لازم تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رض) محدثین کی شکل میں ایک ایسی جماعت پیدا فرمائی جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک ایک فرمان اور عمل کو قیامت تک امت کے لیے جمع کردیا۔ اسی تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے حدیث کی پہلی ضخیم کتاب حضرت امام مالک (رض) نے مؤطا کے نام سے لکھی جس کو انہوں نے اپنے زمانے میں تابعین یعنی صحابہ کرام (رض) کے بیٹوں اور شاگردوں کے سامنے پیش کیا۔ جس کا ہر زاویہ سے علمی تجزیہ کرنے کے بعد اہل علم نے اسے صحیح قرار دیا۔ اس لیے اس کا نام موطا امام مالک (رح) رکھا گیا جس کا معنیٰ ہے روندی ہوئی گویا کہ علمی لحاظ سے شدید ترین تنقید سے گزری ہوئی کتاب “ امام مالک (رض) کے شاگرد، امام شافعی، امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل۔ نے ” مسند احمد “ کے نام سے ضخیم کتاب تحریر فرمائی۔ امام احمد بن حنبل (رح) کے شاگرد عظیم امام بخاری (رض) نے صحیح بخاری اور ان کے شاگرد امام مسلم (رض) نے صحیح مسلم اور ان کے شاگردوں نے صحاح ستہ میں شامل باقی چار کتابیں تحریر فرمائیں۔ اس طرح حدیث کی چھ کتابیں تیار ہوئیں جنھیں صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔ صحاح کا معنیٰ صحیح اور ستہ عربی میں چھ کے عدد کو کہتے ہیں۔ ان کتابوں میں دین کے 99% مسائل پائے جاتے ہیں۔ باقی مسائل حدیث کی دوسری کتب میں موجود ہیں۔ اس طرح تسلسل کے ساتھ حدیث کا عظیم الشان ذخیرۂ ہم تک پہنچا۔ حدیث کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ہے : دین اور اس کے بنیادی ارکان جن کے بارے میں قرآن مجید مختلف الفاظ اور انداز میں بار بار عمل پیرا ہونے کا حکم دیتا ہے۔ حدیث کے بغیر ان پر عمل کرنا ناممکن ہے ؟ اگر حدیث کی محض مخالفت مقصود نہ ہو تو ایک معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حدیث کے بغیر قرآن کے احکامات پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے اکثر مسائل کے بنیادی اصول ذکر کرنے کے بعد ان کی تفصیل رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چھوڑ دی ہے۔ تاکہ حدیث کی اہمیت اور ضرورت لوگوں کے سامنے واضح ہوجائے۔ قرآن کے دلائل ‘ حدیث کی ضرورت اور مستند تاریخی ریکارڈ کے سامنے لاجواب ہونے کے باوجود بعض لوگ اپنی کم علمی یا خبث باطن کی بنا پر محدثین کے خلاف یہ پراپیگنڈا کرتے ہوئے لوگوں کی نگاہوں میں حدیث کا مقام کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں محدث کے بقول اس نے اتنے لاکھ احادیث میں سے صرف چند ہزار حدیثیں اپنی کتاب میں نقل کی ہیں انہوں نے اتنی احادیث کو کیوں چھوڑا ؟ ایسی گفتگو اور اعتراضات اٹھانے والے در حقیقت فن حدیث اور محدثین کے حدیث جمع کرنے کے طریقہ کو نہیں سمجھتے۔ دنیا میں آج تک کوئی محدث ایسا نہیں ہوا جس نے جان بوجھ کر ایک بھی صحیح حدیث کو اپنی کتاب میں شامل کرنے سے انکار کیا ہو۔ مسائل ١۔ تمام رسول انسان تھے۔ ٢۔ جس چیز کا علم نہ ہو وہ اہل علم سے پوچھ لینی چاہیے۔ ٣۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ قرآن مجید کا پیغام پہنچانا اور اس کی تفسیر کرنا تھا۔ ٥۔ قرآن مجید کی تفسیر حدیث ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گی۔ تفسیر بالقرآن نبوت کے مرکزی مقاصد : ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں پر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف بھیجا گیا ہے۔ (النحل : ٤٤) ٢۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : ٥) ٣۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہٰذا میری عبادت کرو۔ (الانبیاء : ٢٥) ٤۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب : ٥٦) ٥۔ اللہ نے ان پڑھ لوگوں میں رسول مبعوث فرمایا۔ جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے، انہیں تعلیم دیتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔ (الجمعۃ : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٤٣ تا ٤٤ یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔ نوحی الیھم (١٦ : ٤٣) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔ فسئلوا اھل الذکر (١٦ : ٤٣) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔ ان کنتم لا تعلمون (١٦ : ٤٣) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں زیر کے معنی متفرق کتابوں کے ہوتے ہیں۔ وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (١٦ : ٤٤) ” اور ہم نے اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے “۔ نبی آخر الزمان کا بیان ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو پہلے اہل کتاب تھے ، جنہوں نے اپنی کتاب میں اختلاف کیا اور قرآن آیا اور ان کے اختلافات کا فیصلہ کردیا اور مسئلہ مختلفہ میں حق بات کہہ دی۔ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان کے سوا آپ کے معاصر تھے ، جن کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا تا کہ لوگ اللہ کی آیات اور قرآن کی آیات دونوں میں غورو فکر کریں۔ ولعلھم یتفکرون (١٦ : ٤٤) ” قرآن مجید میں ہر وقت انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور انسانی شعور کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ درس ، جس کا آغاز مستکبرین اور مکارین کی سمت ہوا تھا ، اس کے آخر میں قارئین کو چند وجدانی احساس دلائے جاتے ہیں۔ پہلا احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ انسان کو رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کے عذاب اور اللہ کی جوابی تدبیر سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا احساس یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا چاہئے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا چاہئے۔ یہ انسان ہی ہے جو تکبر کرتے ہوئے غافل اور منکر ہوجاتا ورنہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ ہم نے پہلے جن کو رسول بنا کر بھیجا وہ انسان ہی تھے مشرکین مکہ کو یہ بات مستبعد معلوم ہو رہی ہے کہ ان کے پاس جو رسول آیا وہ انسان ہے حالانکہ رسول اور بشر ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے بلکہ انسانوں کی طرف انسان ہی کا مبعوث ہونا حکمت اور مصلحت کے مطابق ہے پھر فرمایا (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) مفسرین نے فرمایا ہے کہ اہل الذکر سے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مراد ہیں مشرکین مکہ تجارت کے لیے سال میں دو مرتبہ شام جایا کرتے تھے اور مدینہ منورہ میں یہودیوں پر ان کا گزر ہوتا تھا اور راستے میں نصرانیوں کے راہبوں سے بھی ملاقات ہوتی تھی جو جنگلوں میں رہتے تھے اور شام میں نصرانیوں کی حکومت تھی وہاں نصرانی بہت تھے ان سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ مشرکین مکہ جانتے تھے کہ یہودی اور نصرانی دین سماوی کے مدعی ہیں اسی لیے انہوں نے مدینے کے یہودیوں سے معلوم کیا تھا کہ ہم صحیح راہ پر ہیں یا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی ہدایت پر ہیں، جس کا ذکر سورة نساء رکوع ٨ میں گزر چکا ہے، اہل مکہ انہیں صاحب علم سمجھتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم یہود و نصاریٰ سے معلوم کرلو سابقین انبیائے کرام (علیہ السلام) انسان تھے یا فرشتے تھے یا اور کسی جنس سے تھے ان سے پوچھو گے تو یہی بتائیں گے کہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو نبی اور رسول آتے تھے وہ سب بشر تھے اور آدمی ہی تھے، مشرکین اور یہود و نصاریٰ کا مذہب ایک نہیں تھا لیکن مشرکین چونکہ انہیں اہل علم سمجھتے تھے اس لیے ارشاد فرمایا کہ ان سے پوچھ لو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34:۔ یہ ایک شبہ یا سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا ہم دعوی توحید کو اس لیے نہیں مانتے کہ اس دعویٰ کو لانے والا انسان اور بشر ہے۔ نبوت و رسالت تو بہت بڑا اعزاز ہے جو بشر کو نہیں مل سکتا اس لیے اگر فرشتہ آتا تو ہم اس کی بات مان لیتے۔ فرمایا اس سے پہلے ہم نے جتنے بھی پیغمبر کتابیں اور صحیفے دے کر بھیجے ہیں وہ سب کے سب انسان اور بشر تھے۔ اہل کتاب کے علماء سے پوچھ کر تسلی کرلو وہ بھی تمہیں بتا دیں گے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بشر تھے۔ قال الزجاج فاسئلوا اھل الکتب الذین یعرفون معانی کتب اللہ تعالیٰ فانہم یعرفون ان الانبیاء (علیہم السلام) کلھم بشر (کبیر ج 5 ص 460) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

43 ۔ اور اے پیغمبر ہم نے کسی رسول کو آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہ مرد ہی ہوا کرتے تھے ہم ان رسولوں کی جانب وحی کیا کرتے تھے اور ان رسولوں کو دلائل واضحہ اور کتب سماوی اور صحف آسمانی کے ساتھ کے بھیجا تھا ، سو اگر تم لوگ نہیں جانتے تو یاد زرکھنے والوں سے دریافت کرلو۔ یعنی آپ سے پہلے جس قدر رسول ہم نے بھیجے ہیں وہ سب انسان اور مرد ہوا کرتے تھے جن پر ہم اپنی وحی بھیجا کرتے تھے خواہ فرشتوں کی معرفت یا براہ راست اور بھیجا بھی کرتے تھے تو دلائل واضحہ اور کتب سماوی ۔ اور اوراق آسمانی دیکر بھیجا کرتے تھے اگر تم اس بات سے واقف نہیں ہو تو اہل ذکر یعنی یاد رکھنے والوں سے پوچھ دیکھو خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا کوئی اور ہو جسکو امم سابقہ کا حال معلوم ہو اس سے پوچھ لو کہ وہ سب رسول آدمی ہوتے تھے فرشتے نہیں ہوا کرتے تھے ہم نے دوسری آیت کے دو جملوں کا ترجمہ محض عبارت کی غرض سے پہلی آیت کے ساتھ ملا دیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یاد رکھنے والے یعنی اہل کتاب کہ اگلے احوال جانتے تھے۔ 12