Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 5

سورة النحل

وَ الۡاَنۡعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمۡ فِیۡہَا دِفۡءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۪۵﴾

And the grazing livestock He has created for you; in them is warmth and [numerous] benefits, and from them you eat.

اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Cattle are part of the Creation of Allah and a Blessing from Him Allah says: وَالاَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ And the cattle, He has created them for you; in them there is warmth (warm clothing), and numerous benefits, and you eat from them. Allah reminds His servants of the blessing in His creation of An`am, this term includes camels, cows and sheep, as was explained in detail in Surah Al-An`am where the "eight pairs" are mentioned. The blessings include the benefits derived from their wool and hair, from which clothes and furnishings are made, from their milk which is drunk, and their young which are eaten. Their beauty is a kind of adornment, thus Allah says,

چوپائے اور انسان جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری ۔ جس کا مفصل بیان سورہ انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے ۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں ۔ شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں ، بھری ہوئی کو کھوں والے ، بھرے ہوئے تھنوں والے ، اونچی کوہانوں والے ، کتنے بھلے معلوم ہو تے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہو تے ہیں پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کر لے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے مشکل تھا ۔ حج و عمرہ کے ، جہاد کے ، تجارت کے اور ایسے ہی اور سفر انہیں پر ہوتے ہیں تمہیں لے جاتے ہیں تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں ۔ جیسے آیت ( وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ 66؀ ) 16- النحل:66 ) میں ہے کہ یہ چوپائے جانور بھی تمہاری عبرت کا باعث ہیں ان کے پیٹ ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور ان سے بہت سے فائدے پہنچاتے ہیں ان کا گوشت بھی تم کھاتے ہو ان پر سواریاں بھی کرتے ہو ۔ سمندر کی سواری کے لئے کشتیاں ہم نے بنا دی ہیں ۔ اور آیت میں ہے آیت ( اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ 79؀ۡ ) 40-غافر:79 ) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں کہ تم ان پر سواری کرو انہیں کھاؤ نفع اٹھاؤ دلی حاجتیں پوری کرو اور تمہیں کشتیوں پر بھی سوار کرایا اور بہت سی نشانیاں دکھائیں پس تم ہمارے کس کس نشان کا انکار کرو گے؟ یہاں بھی اپنی یہ نعمتیں جتا کر فرمایا کہ تمہارا وہ رب جس کا مطیع بنا دیا ہے وہ تم پر بہت ہی شفقت و رحمت والا ہے جیسے سورہ یاسین میں فرمایا کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کیلئے اپنے ہاتھوں چوپائے بنائے اور انہیں انکا مالک بنا دیا اور انیں انکا مطیع بنا دیا کہ بعض کو کھائیں بعض پر سوار ہوں اور آیت میں ( وَالَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12۝ۙ ) 43- الزخرف:12 ) اس اللہ نے تمہارے لئے کشتیاں بنا دیں اور چوپائے پیدا کر دیئے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے رب کا فضل و شکر کرو اور کہو وہ پاک ہے جس نے انہیں ہمارا ماتحت کر دیا حلانکہ ہم میں یہ طاقت نہ تھی ہم مانتے ہیں کہ ہم اسی کی جانب لوٹیں گے ۔ دف کے معنی کپڑا اور منافع سے مراد کھانا پینا ، نسل حاصل کرنا ، سواری کرنا ، گوشت کھانا ، دودھ پینا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 اسی احسان کے ساتھ دوسرے احسان کا ذکر فرمایا کہ چوپائے (اونٹ، گائے اور بکریاں) بھی اسی نے پیدا کئے، جن کے بالوں اور اون سے تم گرم کپڑے تیار کر کے گرمی حاصل کرتے ہو۔ اسی طرح ان سے دیگر منافع حاصل کرتے ہو، مثلاً ان سے دودھ حاصل کرتے ہو، ان پر سواری کرتے ہو اور سامان لادتے ہو، ان کے ذریعے ہل چلاتے اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو، وغیرہ وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ ۔۔ : ” الْاَنْعَامَ “ ” نَعَمٌ“ (ن اور ع کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں۔ ” دِفْءٌ“ گرمی، یہ سردی سے ٹھٹھرنے کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے، ” مَا یُدْفَأُ بِہٖ “ جس کے ساتھ گرمی حاصل کی جائے، جیسا کہ ” مِلْأٌ“ جس کے ساتھ کسی چیز کو بھرا جائے۔ چوپاؤں کا ایک خاص فائدہ ان کی اون اور بالوں سے گرمی مہیا کرنے والا لباس اس کی اہمیت کے پیش نظر پہلے ذکر فرما کر عام فوائد کا ذکر بعد میں فرمایا۔ ” مَنَافِع “ اور بہت سے فائدے ہیں، مثلاً سواری کرتے ہو، ہل چلاتے ہو، پانی کھینچتے ہو، ان کا گوبر جلاتے ہو، کھیتوں میں بطور کھاد ڈالتے ہو، انھیں بیچ کر ضرورت کا ہر سامان خریدتے ہو۔ ان منافع میں ” دِفْئٌ“ بھی شامل ہے اور یہ بھی کہ ان کی نسل بڑھنے سے تمہاری دولت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور آخر میں ان منافع میں سے پھر خاص طور پر ایک نفع ذکر فرمایا کہ انھی سے تم کھاتے ہو، یعنی دودھ، دہی، ان سے بننے والی بیشمار چیزیں اور گوشت، الغرض، ان میں تمہارے کھانے کا سامان بھی ہے۔ یہ آیت اسی سورت کی آیت (٦٦) اور (٨٠) کے مشابہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After human beings, mentioned there was the creation of things which were made specially for their benefit. Since the first addressees of the Qur&an were Arabs and their economic life depended on domestic cat¬tle like camels, cows and goats, therefore, these were taken up first: وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا (As for the cattle, He created them - 5). Then, out of the benefits received by human beings from the cattle, two were particularly mentioned. (1) لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ (having warmth for you), that is, they use wool from them to make clothings which keep them warm during winters. (2) The second benefit was mentioned in: وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ (and of them you eat), that is, they can slaughter these animals and eat from their meat; and, when alive, they procure milk from them which is fine food indeed. Included here are butter, yogurt, butter-oil and everything else which fall under dairy products. For the rest of benefits derived from them, only one word: مَنَافِعُ (manafi`: other benefits) was considered sufficient. It signifies that there are countless benefits tied to the meat, skin, bone and hair of animals. It is within the framework of this brevity, even ambiguity, that a hint has been given towards all modern innovations in the processing and use of food, dress, medicine and domestic articles, innovations which have been made to date, or will be made right through the Last Day. After that, identified there is yet another benefit of these cattle - though, in terms of the contemporary Arab taste of the time - when it was said that these cattle make things look good for them particularly when they return home from their grazing grounds in the evening, or when they are sent out to graze in the mornings. The reason is that these cattle at that time become silent spokesmen of the strength and pride of their owners. Finally, mention has been made of another important benefit which comes from these animals. They carry heavy loads to far out places, places which could not be reached &without putting yourselves into hardship.& Out of the animals, camels and oxen have been particularly har-nessed into this service of man at a large scale. Even during our day of trains, trucks and cargo planes, human beings cannot universally claim to have become free of their need. There are places in the world where none of our modern means of transportation can work. Consequently, one is compelled to borrow their services.

انسان کی بعد ان اشیاء کی تخیلق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں اور قرآن کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشت کا بڑا مدار پالتو چوپاؤں اونٹ گائے بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کو ذکر فرمایا والْاَنْعَامَ خَلَقَهَا پھر انعام سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے ایک۔ ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کے اون سے انسان اپنے کپڑے اور کھال سے پوستین اور ٹوپیاں وغیرہ تیار کرکے جاڑے کے موسم میں گرمائی حاصل کرتا ہے۔ دوسرا فائدہ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ یعنی انسان ان جانوروں کو ذبح کر کے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے اور جب تک زندہ ہے ان کے دودھ سے اپنی بہترین غذا پیدا کرتا ہے دودھ دہی مکھن گھی اور ان سے بننے والی تمام اشیاء اس میں داخل ہیں۔ اور باقی عام فوائد کے لئے فرما دیا وَمَنَافِعُ یعنی بیشمار منافع اور فوائد انسان کے جانوروں کے گوشت چمڑے، ہڈی اور بالوں سے وابستہ ہیں اس ابہام و اجمال میں ان سب نئی سے نئی ایجادات کی طرف بھی اشارہ ہے جو حیوانی اجزاء سے انسان کی غذاء لباس دواء استعمالی اشیاء کے لئے اب تک ایجاد ہوچکی ہیں یا آئندہ قیامت تک ہوں گی اس کے بعد ان چوپایہ جانوروں کا ایک اور فائدہ عرب کے مذاق کے مطابق یہ بیان کیا گیا کہ وہ تمہارے لئے جمال اور رونق کا ذریعہ ہیں خصوصا جب وہ شام کو چراگاہوں سے تمہارے مویشی خانوں کی طرف آتے ہیں یا صبح کو گھروں سے چراگاہوں کی طرف جاتے ہیں کیونکہ اس وقت مویشی سے ان کے مالکان کی خاص شان و شوکت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ آخر میں ان جانوروں کا ایک اور اہم فائدہ یہ بیان کیا کہ یہ جانور تمہارے بوجھل سامان دور دراز شہروں تک پہنچا دیتے ہیں جہاں تمہاری اور تمہارے سامان کی رسائی جان جوکھوں میں ڈالے بغیر ممکن نہ تھی اونٹ اور بیل خاص طور سے انسان کی یہ خدمت بڑے پیمانے پر انجام دیتے ہیں آج ریل گاڑیوں ٹرکوں ہوائی جہازوں کے زمانے میں بھی انسان ان جانوروں سے مستغنی نہیں کتنے مقامات دنیا میں ایسے ہیں جہاں یہ تمام نو ایجاد سواریاں بار برداری کا کام نہیں دے سکتیں وہاں پھر انہی کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ وَالْاَنْعَام یعنی اونٹ اور بیل وغیرہ کی بار برداری کا ذکر آیا تو اس کے بعد ان چوپایہ جانوروں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوا جن کی تخلیق ہی سواری اور بار برداری کے لئے ہے ان کے دودھ یا گوشت سے انسان کا فائدہ متعلق نہیں کیونکہ از روئے شرع وہ اخلاقی بیماریوں کا سبب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ ۝۠ دفیء الدِّفْء : خلاف البرد، قال تعالی: لَكُمْ فِيها دِفْءٌ وَمَنافِعُ [ النحل/ 5] ، وهو لما يدفئ، ورجل دفآن، وامرأة دفأى، وبیت دفیء . ( د ف ء ) الدف ۔ گرمی حرارت یہ برد سردی کی ضد ہے اور آیت کریمہ : لَكُمْ فِيها دِفْءٌ وَمَنافِعُ [ النحل/ 5] ان میں تمہارے لئے جزا دل اور بہت سے فائدے ہیں ۔ میں دف سے جاڑے سے بچنے کا سامان مراد ہے ۔ رجل دفان ( مونث دفاءی ) گری حاصل کر نیوالا ۔ بیت دفیئ گرم مکان ۔ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( ن ف ع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

مویشیوں کے فوائد قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق نہیں) ہشام الدستوانی نے یحییٰ بن کثیر سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا گوشت مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قول باری (والانعام خلقھا لکم) میں جن جانوروں کا ذکر ہے وہ کھانے کے لئے ہیں اور زیر بحث آیت میں جن تین جانوروں کا ذکر ہے وہ سواری کے لئے ہیں۔ امام ابوحنیفہ نے ہیثم سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ گھوڑوں کا گوشت مکروہ سمجھتے تھے اور قول باری (والخیل والبغال والحمیر الترکوھا وزینۃ) کے یہی معنی لیتے تھے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ گھوڑوں کے گوشت کی ممانعت کی یہ ایک واضح دلیل ہے وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کا ذکر کیا اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بیان کیا کہ ان کا گوشت تم کھاتے ہو۔ چناچہ ارشاد ہوا (والانعام خلقھا لکم فیھا رف و منافع و منھا تاکلون) اس کے بعد گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا ذکر کیا اور ان کے فوائد یہ بیان کئے کہ یہ سواری کے کام آتے ہیں اور یہ تمہاری زندگی کی رونق ہیں۔ اگر ان کا گوشت بھی ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں داخل ہوتا تو اللہ تعالیٰ مویشیوں کے فوائد میں گوشت کے ذکر کی طرح یہاں بھی اس کا ضرور ذکر کرتا خاص طور پر گوشت کا استعمال جانور سے حاصل ہونے والے فوائد میں سب سے بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ ان تینوں جانوروں کے گوشت کی اباحت اور ممانعت کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متضاد روایتیں منقول ہیں۔ عکرمہ بن عمار نے یحییٰ بن کثیر سے، انہوں نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقعہ پر لوگوں کو فاقہ اور بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کر لئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پالتو گدھے، خچر، گھوڑے، کچلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے حرام قرار دیئے۔ اسی طرح آپ نے سکی کی کوئی چیز اچک لینے نیز لوٹ مار کو بھی حرام قرار دیا۔ سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) بن عبد اللہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں۔ ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھوڑوں کا گوشت کھلایا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں گدھوں کے گوشت کی ممانعت کردی تھی۔ عمر بن دینار نے حضرت جابر (رض) سے اس حدیث کا سماع نہیں کیا تھا اس لئے کہ ابن جریح نے اس حدیث کی عمرو بن دینار سے، انہوں نے ایک شخص سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے۔ حضرت جابر (رض) غزوۂ خیبر کے موقع پر موجود نہیں تھے اس لئے محمد بن اسحاق نے سلام بن کر کرہ سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے جبکہ حضرت جابر (رض) خیبر کے موقعہ پر موجود نہیں تھے۔ نیز یہ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گدھوں کے گوشت کی ممانعت کردی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دے دی تھی۔ اس طرح حضرت جابر (رض) سے اس سلسلے میں مروی روایات کا آپس میں تعارض ہے۔ اس صورت میں ان روایات کے متعلق دو باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب ایک چیز کے متعلق دو روایتیں منقول ہوں، ایک میں اس کی ممانعت کا حکم ہو اور دوسری میں اباحت کا تو اس صورت میں ممانعت کی روایت اولیٰ ہوگی اس لئے کہ ممکن ہے شارع (علیہ السلام) نے کسی وقت اس چیز کی اباحت کردی ہو اور پھر اس کی ممانعت کا حکم صادر کردیا ہو۔ یہ اس لئے ہے کہ ہر چیز کے اندر اصل کے اعتبار سے اباحت ہوتی ہے اور ممانعت اس پر بعد میں لامحالہ طاری ہوتی ہے جبکہ ہمیں کسی ایسی اباحت کا علم نہیں ہے جو ممانعت کے بعد آئی ہو۔ اس لئے لامحالہ ممانعت کا حکم ثابت ہوگا کیونکہ ممانعت کے بعد اباحت کا کوئی ثبوت نہیں ہے سلف کی ایک جماعت سے یہی مفہوم مروی ہے۔ ابن وہب نے لیث بن سعد سے روایت کی ہے ایک دفعہ عصر کے بعد سورج گرہن شروع ہوگیا۔ ہم اس وقت مکہ مکرمہ میں تھے۔ یہ ١٣ ھ کا واقعہ ہے۔ اس وقت مکہ مکرمہ میں بہت سے اہل علم موجود تھے جن میں ابن شہاب زہری، ابوبکر بن حزم، قتادہ اور عمرو بن شعیب شامل تھے۔ لیث کہتے ہیں کہ ہم عصر کے بعد کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے۔ میں نے ایوب بن موسیٰ القرشی سے پوچھا کہ لوگ اس موقعہ پر صلوٰۃ الخوف کیوں نہیں پڑھتے جبکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے موقعہ پر یہ نماز ادا کی ہے۔ یہ سن کر ایوب نے فرمایا : عصر کی نماز کے بعد نماز کی ممانعت آئی ہے اسی لئے لوگ نماز نہیں پڑھ رہے ہیں۔ ممانعت ایک چیز کے لئے قاطع ہوتی ہے۔ حضرت جابر (رض) سے مروی روایت کی یک توجیہ تو یہ ہوئی۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ حضرت جابر (رض) سے مروی دونوں روایتیں متعارض ہیں اس لئے دونوں ساقط ہوگئیں گویا کہ ان کی روایت ہی نہیں ہوئی۔ اسرائیل بن یونس نے عبد الکریم الجزری سے، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم گھوڑوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔ “ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے جابر (رض) سے خچروں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ گھوڑے کا گوشت حلال ہے یا حرام ؟ ہشام بن عروہ نے فاطمہ بنت المنذر سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے روایت کی ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کر کے اس کا گوشت کھالیا تھا “۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس روایت میں فریق مخالف کیلئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے اس لئے کہ روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کا علم ہوگیا تھا اور آپ نے اس کی توثیق فرما دی تھی۔ اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق علم اور توثیق مل بھی جائے تو اسے اس زمانے پر محمول کیا جائے گا جب ابھی اس کی ممانعت نہیں ہوئی تھی۔ بقیۃ بن الولید نے ثور بن یزید سے، انہوں نے صالح بن یحییٰ بن المقدام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے صالح کے دادا سے اور انہوں نے حضرت خالد (رض) بن الولید سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی تھی۔ زہری کا قول ہے کہ ہمیں اس بات کا کوئی علم نہیں کہ محاصرے کی صورت کے علاوہ گھوڑوں کا گوشت کبھی کھایا گیا تھا۔ امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی کا قول ہے کہ گھوڑوں کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی قسم کی اسود بن یزید، حسن بصری اور شریح سے بھی روایت ہے۔ امام ابوحنیفہ گھوڑوں کے گوشت میں علی الاطلاق تحریم کے قائل نہیں ہیں۔ اور ان کے نزدیک اس گوشت کا حکم پالتو گدھوں کے گوشت کے حکم جیسا نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ نے اس گوشت کو اباحت اور ممانعت کی متعارض روایات کی بنا پر مکروہ قرار دیا ہے نظر اور قیاس کی جہت سے امام ابوحنیفہ کے مسلک کے حق میں یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ گھوڑا کھروں والا ایک پالتو جانور ہے اس لئے وہ گدھوں اور خچروں کے مشابہ ہوگیا، ایک اور جہت سے دیکھئے۔ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ خچر کا گوشت نہیں کھایا جائے گا جبکہ خچر کی پیدائش گھوڑے کے نطفے سے ہوتی ہے۔ اگر خچر کی ماں یعنی گدھی حلال ہوتی تو خچر کا حکم بھی اس کی ماں کے حکم جیسا ہوتا اس لئے کہ بچے کا حکم ماں کے حکم کی طرح ہوتا ہے کیونکہ بچہ ماں کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی پالتو گدھی کسی جنگلی گدھے سے جفتی کی بنا پر بچہ پیدا کر دے تو اس بچے کا گوشت نہیں کھایا جائے گا لیکن اگر کوئی جنگلی گدھی کسی پالتو گدھے سے جفتی کے نتیجے میں بچہ پیدا کر دے تو اس بچے کا گوشت کھایا جائے گا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ بچہ ماں کے تابع ہوتا ہے باپ کے تابع نہیں ہوتا۔ جب خچر کا گوشت کھایا نہیں جاتا خواہ اس کی ماں گھوڑی کیوں نہ ہو تو یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ گھوڑوں کا گوشت نہیں کھایا جائے گا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥۔ ٦۔ ٧) اور اسی نے چوپایوں یعنی اونٹوں کو بنایا کہ اس کی کھال کا پوستین اور بالوں کا کمبل بنتا ہے سواری اور دودھ وغیرہ کے علاوہ اور بھی منافع ہیں اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے، جب کہ ان کو چرا کر شام کے وقت لاتے ہو اور جب کہ صبح کو ان کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے سامان اور توشوں کو لاد کر مکہ تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان کو محنت میں ڈالے بغیر خود بھی نہیں پہنچ سکتے تھے، واقعی تمہارا پروردگار ایمان والوں پر بڑا شفیق اور تم سے عذاب کے موخر کرنے میں رحیم ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ ) بعض جانوروں کی اون سے تم لوگ لباس بنتے ہو جو سردی کے موسم میں تمہیں گرمی پہنچاتا ہے بعض جانوروں کے بالوں سے بہت سی دوسری چیزیں بناتے ہو۔ اسی طرح یہ جانور اور بھی بہت سی صورتوں میں تمہارے لیے مفید اور مددگار ہوتے ہیں حتیٰ کہ تمہاری خوراک کی بیشتر ضروریات بھی انہی سے پوری ہوتی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یعنی ان کی کھالوں سے ایسے لباس بنائے جاتے ہیں جو انسان کو سردی سے محفوظ رکھ سکیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥۔ ٧۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا حال پہلے بیان کر کے اب چوپائیوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے بکریاں جس کی تفسیر سورت انعام میں گزر چکی ہے یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوشین بنتا ہے بعض جانوروں کے روئیں بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے سردی سے لوگ بچتے ہیں بعض جانوروں کے دودھ لوگ پیتے ہیں ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو وہ کھا کر شکم سیر کرتے ہیں ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو اور صبح کر چرانے لے جاتے ہو اور وہ الگ الگ ہو کر چرنے لگتے ہیں اور ایک کی آواز ایک سن کر بولنے لگتا ہے تو کیسا خوشنما سا سما نظر آتا ہے اور تجارت وغیرہ کے لئے جب کوئی بوجھ کہیں لے جانا چاہتے ہو تو جانوروں کی پیٹھ پر رکھ کرلے جاتے ہو اگر تم خود لے جاتے تو ممکن نہ تھا اگر ممکن بھی تھا تو بڑی مشقت کا کام تھا غرض ذرا سمجھو اللہ پاک بندوں پر کیسا مہربان اور رحیم ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کے رفع کرنے کا اس نے سامان پیدا کیا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ١ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ ان بت پرستوں کے بتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرنا بڑی خرابی کی بات ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ١٦ باب الکبائر و تفسیر ابن کثیر ص ٤٩٤ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:5) الانعام۔ مویشی ۔ بھیڑ ۔ بکری۔ گائے۔ اونٹ ۔ مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ اس میں اونٹ شامل نہ ہو۔ یہ نعم کی جمع ہے۔ الانعام۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے کہ اس کا فعل محذوف ہے یا بوجہ الانسان (آیت 4 مذکورہ) پر عطف ہونے کے۔ ای خلق الانسان والانعام۔ دف۔ جاڑے کی پوشاک ۔ گرمی کا اسباب، جڑا ول۔ ادقاء جمع۔ دف کے اصل معنی گرمی یا حرارت کے ہیں اور یہ برد (سردی) کی ضد ہے۔ یہاں دف بمعنی جاڑے کا سامان ہے۔ جاڑے کی سردی سے بچائو کے لئے گرم سامان ۔ سرمائی پوشش (غلاف البرد) از قسم دوشالہ۔ شال، پوستین۔ کمبل دھسّے وغیرہم۔ آیت ہذا میں خلقھا کے بعد ج کا وقف ہے جو کہ وقف جائز ہے۔ یعنی یہاں ٹھہرنا بہتر ہے اور نہ ٹھہرنا جائز ہے۔ اگر خلقھا الگ ہوگا اور لکم فیھا دف و منافع الگ نیا جملہ ہوگا۔ اور ترجمہ ہوگا : اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا۔ ان سے تم کو گرم لباس اور دیگر فوائد حاصل ہیں۔ اور اگر وقف نہ کیا جائے تو لام اجلیّہ ہوگا۔ (یعنی سبب تخلیق) اور والانعام خلقھا لکم ایک جملہ مکمل ہو کر فیھا دفء و منافع۔ الگ جملہ مستانفہ ہوگا۔ اور ترجمہ ہوگا۔ اور اس نے چوپایوں کو تمہارے لئے پیدا کیا ان سے (حاصل ہوتے ہیں) گرم لباس و دیگر فوائد۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 کہ سردی سے بچنے کے لئے ان کی اون اور بالوں سے خیمے اور مختلف قسم کے لباس تیار کرلیتے ہو۔ (روح) 9 کسی کا دودھ پیتے ہو اور کسی پر سواری کرتے ہو اور کسی سے ہل چلاتے اور پانی کھینچتے ہو غیرہ

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9 الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام تشریح : آیت نمبر 5 تا 9 توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح کا سامان مہیا کیا ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خیر اور شر میں سے کسی ایک راستے کو اختیار کرلے اور اس اللہ نے انسانی فائدوں کے لئے جو طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حقیقی آخرت کی منزل پر نگاہ رکھے تاکہ اس کو صحیح راستہ نصیب ہو سکے۔ فرمایا کہ اس اللہ نے جہاں اپنی قدرت کاملہ سے چاند، سورج، ستارے، فضا میں ہوا میں، شجر و حجر کو پیدا کیا ہے وہیں ہر طرح کے جانور بھی پیدا فرمائے ہیں۔ چوپائے، مویشی، گائے، بیل، اونٹ، بکرا اور دنبہ جیسے جانور بنائے جن کے جسموں پر ایسی اون پیدا کی ہے جس سے انسان موسم کی نرمی و سختی سے بچ کر بہترین لباس تیار کرتا ہے اور راحت و سکون حاصل کرتا ہے۔ خود فائدہ حاصل کرتا ہے اور تجارت کے ذریعہ بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے اللہ نے ان کی کھال بھی ایسی بنائی ہے جس سے بہترین لباس اور بیشمار چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ ان جانوروں کو تازہ گوشت کی فیکٹریاں بنا دیا، انسان جب چاہتا ہے ان کو ذبح کر کے تازہ تازہ گوشت حاصل کرتا ہے۔ ان جانوروں کو پال کر ان کے ریوڑ بناتا ہے جب وہ صبح کو اپنا رزق حاصل کرنے کی طرف جاتے ہیں یا شام کو وہ پیٹ بھر کر جھومتے، اٹھلاتے اپنی مستی میں واپس آتے ہیں تو آدمی کا سیروں خون بڑھ جاتا ہے۔ ان کی تعداد اور خوبصورتی دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور بڑیب ڑے نفع کی امید سے اس کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انسان اونچی نیچی پہاڑویں اور ان دشوار گزار راستوں پر بھاری سامان لاد کرلے جاتا ہے جہاں اس کو آساین سے پہنچنا دشوار ہوتا ہے۔ فرمایا کہ نجانے قیامت تک اور اللہ کیسی کیسی سواریاں پیدا کرے گا جن پر سوار ہو کر وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سفر کرسکے گا۔ فرمایا کہ یہ توہ وہ اسباب ہیں جو اس رؤف اور رحیم نے اپنے فضل و کرم سے انسان کی دنیا سنوارنے کے لئے بنائے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس آخرت تک پہنچنے کے لئے اور صراط مستقیم پر چل کر حقیقی منزل تک پہنچنے کے لئے بہت سے ذریعے بنائے ہیں۔ اس اللہ نے خیر اور شر کو پیدا کیا اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک راستے کو اپنا لے انجام دونوں کا بتا دیا گیا۔ انبیاء کرام یہی بتانے اور سمجھانے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ وہ پوری وضاحت سے اس بات کو بتا دیتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے دنیا کے انسانوں کو ایک ہی راستے پر لگا دیتا۔ کوئی دنیا میں کفر و شرک بدعات و خرافات میں مبتلا نہ ہوتا لیکن یہ اس اللہ کی مشیت اور مرضی ہے کہ اس نے انسان کے امتحان کے لئے خیر و شر کو پیدا کر کے یہ دیکھا ہے کہ کون ان میں سے خیر کا راستہ اختیار کرتا ہے اور کون شر اور شیطان کے بنائے ہوئے راستے پر چل کر اپنے لئے ابدی جہنم خریدتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت کا راستہ تو دکھاتا ہے لیکن جبر نہیں کرتا۔ اس کی قدرت تو یہ تھی کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں کو خیر پر چلنے والا بنا دیتا لیکن پھر اس انسان کا امتحان تو نہ ہوتا کیونکہ خیر کی پہچان تو شر سے ہوتی ہے۔ اگر دن ہی دن ہوتا اور کبھی رات نہ ہوتی تو دن کی پہچان اور قدر کیسے ہوتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رات اور دن کے آنے جانے کو بھی ایک نشانی اور اپنی رحمت قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی تخلیق کے، چوپاؤں کی تخلیق کا بیان یعنی اللہ کے خالق ہونے کے مزید دلائل۔ انسان کو اس کی تخلیق کا احساس دلانے کے بعد ان چیزوں کی تخلیق کا حوالہ دیا جا رہا ہے کہ جن کے بغیر انسان کا جینا، رہنا سہنا اور اس کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانا انتہائی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و کرم فرماتے ہوئے نہ صرف انسان کو یہ نعمتیں عنایت فرمائیں بلکہ ان کو کلی طور پر انسان کے تابع فرمان کردیا۔ ان میں حلال قسم کے چوپائے ہیں۔ جن کے جسم کے بالوں اور اون سے آدمی سردیوں سے بچنے کے لیے گرم لباس بناتا اور استعمال کرتا ہے۔ بالخصوص عرب کا بیشتر علاقہ خانہ بدوش لوگوں پر مشتمل تھا۔ اس سے سفر کے دوران لباس اور جانوروں کی کھالوں، بالوں اور اون کے خیمے بناتے تھے۔ جاڑے کے موسم میں کھلے صحراؤں میں انہیں مکان کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس طرح ہر دور میں انسان اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اپنی زیب وزینت اور ضرورت کے لیے استعمال کرتا آرہا ہے اور کرتا رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو آمدنی کے حصول کا ذریعہ بنانے کے ساتھ ان کے لیے سہارا اور شان و شوکت کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ بالخصوص دیہاتی زندگی میں بھیڑ بکریاں ہوں یا اونٹ، بیل اور بھینسیں ہوں جب شام کے وقت چراگاہوں اور کھیتوں سے چروا کر ان کے مالک کے واپس پاس آتے ہیں تو مالک کی طبیعت میں خوشی کی عجب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے چوپایوں کے صبح کے وقت نکلنے کا منظر بیان کرنے کے بجائے شام کے وقت پیٹ بھر کر واپس آنے کا منظر ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ صبح کے وقت چوپائے خالی پیٹ نکلتے ہیں تو ان کے مالک کو یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ نہ معلوم چرنے کے لیے کہاں سے گھاس وغیرہ اور پینے کے لیے پانی میسر آتا ہے ؟ بالخصوص جن مالکوں کی چراگاہیں اپنی نہیں ہوتیں ان کی کیفیت صبح کے وقت ایسی ہی ہوتی ہے۔ لیکن جب سیر ہو کر شام کو خیرو سلامتی کے ساتھ جانور واپس آتے ہیں تو مالک کے چہرے سے اطمینان عیاں ہوتا ہے۔ چوپایوں کے مزید فوائد : (وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ مِمَّا فِیْ بُطُونِہٖ مِنْم بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَآءِغًا لِّلشَّارِبِیْنَ )[ النحل : ٦٦] ” اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے کہ ہم تمہیں ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان میں سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے۔ “ (اللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْأَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَأْکُلُونَ ۔ وَلَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْہَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْہَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ )[ المومن : ٧٩۔ ٨٠] ” اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہاری سواری اور کھانے کے لیے چوپایوں کو پیدا کیا اور تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں۔ جو ضرورت تمہارے جی میں آئے۔ اس کے لیے ان پر اور کشتیوں پر سوار ہو کر وہاں پہنچ جاتے ہو۔ “ مسائل ١۔ ہر قسم کے چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو انسانی فوائد کے لیے پیدا کیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو انسان کے لیے زیب وزینت کا سامان بنایا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے چوپائے انسان کے فائدے کے لیے پیدا فرمائے : ١۔ اللہ نے چوپایوں کو انسانی ضروریات اور زیب زیبائش کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ (النحل : ٥۔ ٦) ٢۔ قربانی کے ایام میں ان پر اللہ کا نام لیں جو چوپائے اللہ نے تمہیں عطا کیے ہیں پس تم بھی اس میں سے کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔ (الحج : ٢٨) ٣۔ تمہارے لیے چوپایوں میں بہت زیادہ فائدہ ہے اور اسی سے تم کھاتے ہو۔ (المومنون : ٢١) ٤۔ چوپایوں میں تمہارے لیے نفع ہے ان پر تم سواری کرتے ہو۔ (المومنون : ٨٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٥ تا ٨ جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں کیونکہ صحیح احادیث میں گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم نے یہاں ان جانوروں کو بطور نعمت پیش کیا ہے ، اس لیے کہ ان میں بعض کے ساتھ انسان کی مادی ضروریات وابستہ ہیں اور بعض انسان کے لئے زینت ہیں۔ نیز ان کی جلد سے انسان اپنے لیے لباس بناتا ہے ، ان کی اون اور بالوں سے مختلف مصنوعات تیار ہوتی ہیں ، ان کا دودھ ، گوشت وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ گھی اور چربی اور ہڈیاں تک کام میں آتی ہیں۔ یہ جانور بار برداری کا کام کرتے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک انسان خود بھی سامان پہنچا سکتا ہے مگر بہت بڑی مشقت کے ساتھ۔ نیز صبح جب تم مویشی نکالتے ہو چرنے کے لئے اور شام کو واپس لاتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے ایک جمال ہے۔ تم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔ جب وہ خوبصورت اور موٹے تازے تمہاری نگاہوں کے سامنے آتے ہیں ، شام کے وقت جب خوب پھلے پھولے واپس آتے ہیں ۔ دیہاتی لوگ ان آیات کا مفہوم ، شہریوں کی نسبت زیادہ گہرائی تک سمجھتے ہیں۔ گھوڑے ، خچر اور گدھے زیادہ تر بار برداری کے کام آتے ہیں ۔ ان کو سواری کے طور پر بہت خوبصورت بھی بنایا جاتا ہے۔ لترکبوھا وزینۃ (١٦ : ٨) “ تا کہ ان پر سوار ہو اور تمہاری زندگی کی رونق بنیں ”۔ لفظ زینہ یہاں زیادہ توجہ کے قابل ہے۔ اس سے زندگی کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر سامنے آتا ہے۔ اسلامی زاویہ سے جمال اور حسن زندگی کا اصلی جزو ہے۔ نعمت کا مفہوم ضروریات زندگی ، کھانے پینے اور سواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انسانی شوق اور تفریح بھی ضروریات زندگی میں سے ہے ۔ حسن و جمال کی حس ، تفریح اور مسرت کا شعور اور اعلیٰ انسانی ذوق ، محض حیوانی ضروریات و حاجات سے ، اسلام کی نظر میں زیادہ اہم ہے۔ ان ربکم لرؤف رحیم (١٦ : ٧) “ تمہارا رب بڑا شفیق و مہربان ہے ”۔ یہ تعقیب اس حقیقت پر ہے کہ باربرداری کا کام اگر خود انسان کو کرنا پڑے تو یہ بہت ہی مشقت کا کام ہے۔ لہٰذا اللہ نے باربرداری کے لئے جو جانور پیدا کئے ہیں وہ اللہ کی رحمت بےپایاں اور نعمت عظیم ہے۔ ویخلق ما لا تعلمون (١٦ : ٨) “ اور وہ بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ”۔ یہ تعقیب ہے اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جانور پیدا کئے جنہیں تم کھاتے بھی ہو۔ باربرداری کا کام بھی ان سے لیتے ہو اور وہ تمہارے لیے زینت اور خوشی اور مسرت کا سامان بھی ہیں۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ایسی چیزوں کی تخلیق بھی کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ لہٰذا ان مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انسانی سوچ کو کھلا رکھا گیا ہے کیونکہ دور جدید میں حمل ونقل کے نئے نئے ذرائع بھی تخلیقات الہٰیہ میں آتے ہیں ، نیز زیب وزینت اور تفریح و مسرت کے نئے نئے ذرائع بھی تم پیدا کرسکتے ہو۔ لہٰذا اس تصور کو ابتدائی معاشرہ جس میں قرآن مجید نازل ہوا ، اسی تک محدود نہیں کردیا گیا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات زمان و مکان میں مقید نہیں۔ ہر دور اور ہر زمان و مکان کے آگے مزید دور اور مزید زمان ومکان آتے ہیں اور ان میں ضرورت و مسرت کے جدید ذرائع ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو یہ امید دی جاتی ہے کہ وہ مزید تخلیقات الٰہیہ کی توقع رکھیں۔ اگر توفیق الٰہی سے انسان کوئی جدید سہولت اور زینت ایجاد کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ اور جدید انکشافات و ایجادات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور یہ نہ کہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد تو مذکورہ بالا جانوروں ہی سے ضرورت پوری کرتے تھے۔ گھوڑے ، خچر اور گدھوں ہی سے باربرداری کا کام لیتے تھے لہٰذا ہم جدید ذرائع حمل ونقل کو کام میں نہیں لاتے اور نہ ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں اور یہ کہ چونکہ قرآن نے صرف مذکورہ بالا اقسام کی تصریح کردی ہے لہٰذا ان کے سوا سہولیات ، خوراک اور زیبائش حرام ہے اسی لیے کہا گیا کہ تخلیقات کا دائرہ وسیع ہے۔ اسلام ایک ایسا نظریہ ہے جو کھلا اور لچکدار ہے۔ وہ زندہ کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرتا ہے اس لیے قرآن کریم مسلمانوں کے ذہن کو آنے والے ادوار کی قوتوں اور علوم کی فراہم کردہ سہولیات سے استفادے کے لئے تیار کرتا ہے۔ ایک مسلمان کا ذہن اس قدر کھلا ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کے تمام انکشافات کو دینی ذہن کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اسے از عجائبات الٰہی اور عجائبات علوم میں سے سمجھتا ہے اور زندگی کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دور جدید میں حمل ، نقل اور سواری کے نئے نئے وسائل ایجاد ہوگئے ہیں۔ سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ وسائل زیب وزینت کے بھی اعلیٰ ذرائع ہیں۔ نزول قرآن کے دور کے لوگ ان کے بارے میں تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ نیز آئندہ ایسے وسائل بھی ایجاد ہوں گے جن کے بارے میں ہمارے دور کے لوگ سوچ نہیں سکتے۔ ایسے ہی حالات کے لیے قرآن کریم لوگوں کو فکری زاویہ سے تیار کرتا ہے کہ ان کا ذہن منجمد نہ ہو۔ یہی ہے مفہوم ویخلق ما لا تعلمون (١٦ : ٨) کا۔ یہاں بحث یہ تھی کہ اللہ نے انسان کے لئے ذرائع نقل و حمل پیدا کئے۔ ان ذرائع کو استعمال کر کے انسان بڑے بڑے فاصلے طے کرتا ہے۔ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے ، موضوع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ روحانی راستے اور روحانی سفر اور ان کے ذرائع نقل و حمل کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف جانے کے بھی راستے ہیں۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ بالکل سیدھا راستہ ہے۔ دنیا میں اللہ تک پہنچانے کے لئے بعض ٹیڑھے راستے بھی ہیں ، جو در حقیقت اللہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ خود اللہ ہی بتا تا ہے۔ اس راستے کو معلوم کرنے کے لئے اللہ نے اس کائنات میں نشانات رکھے ہوئے ہیں ان پر تدبر کیا جانا چاہئے اسی لئے خود انسانوں میں سے بعض افراد کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ بھی اس راستے کی نشاندہی کردیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چوپائے اللہ تعالیٰ کے انعام ہیں ان سے متعدد قسم کے منافع متعلق ہیں اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے بےانتہا انعام ہیں، طرح طرح کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں جن سے انسان منتفع اور متمتع ہوتے ہیں، ان چیزوں میں حیوانات یعنی چوپائے بھی ہیں ان چوپایوں سے کئی طرح کے منافع حاصل ہوتے ہیں، آیات بالا میں جن منافع کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ان میں سے ایک تو سردی کا انتظام ہے یعنی ان کے جسم سے بال اور اون کاٹتے ہیں پھر ان سے کپڑے بناتے ہیں، کمبل وغیرہ تیار کرتے ہیں، کھالوں کے بھی کپڑے بنالیتے ہیں اور ان سے بستر بھی تیار کرتے ہیں نیز کھالوں سے خیمے بھی تیار ہوتے ہیں جس کا اسی سورت کے گیارہویں رکوع میں تذکرہ فرمایا ہے، چوپاؤں کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ چوپایوں کا دوسرا فائدہ یہ بتایا کہ اس میں تمہارے لیے رونق ہے جبکہ تم انہیں شام کو چراگاہوں سے واپس لاتے ہو اور صبح کو چراگاہوں کی طرف لے جانے کے لیے چھوڑتے ہو یہ رونق جو جانوروں سے حاصل ہوتی ہے اس کو جانور والے ہی جانتے ہیں۔ جس کسی کے پاس بہت سے مویشی ہوں جب وہ صبح شام اپنے جانوروں کو آتا جاتا دیکھتا ہے تو خوشی میں پھولا نہیں سماتا۔ گاؤں کا چودھری چارپائی پر بیٹھے ہوئے جب اپنے جانوروں پر نظر ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ احاطہ جانوروں سے بھرا ہوا ہے اور جانور بول رہے ہیں ان کے بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس وقت جو اس کی کیفیت ہوتی ہے اس کا پوچھنا ہی کیا ہے، جب شام کو جانور پیٹ بھرے ہوئے واپس آتے ہیں جن کے تھن بھی دودھ سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر نوکر چاکر دودھ دوہنے لگتے ہیں اور اس وقت جو چودھری صاحبان کی کیفیت ہوتی ہے اور خوشی میں مست و مگن ہوتے ہیں اسے دیکھنے والے ہی جانتے اور سمجھتے ہیں۔ چوپایوں کا تیسرا فائدہ یہ بتایا کہ وہ تمہارے بوجھ والے سامان کو اٹھاتے ہیں دور شہروں میں پہنچاتے ہیں اگر یہ جانور نہ ہوتے تو تمہیں یہ بوجھ خود اٹھانے اور لے جانے پڑتے اور اس وقت تم مصیبت میں پڑجاتے، بڑی محنت اور تکلیف کے ساتھ سامان پہنچاتے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جانور پیدا فرما دئیے جو تمہارے بوجھ اٹھانے کی خدمت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ بڑی مشقت والا اور بڑی رحمت والا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ یہ چوپائے بھی اللہ ہی نے پیدا فرمائے جن کے بالوں سے تم گرم ملبوسات تیار کرتے ہو ان کے چمڑے اور دودھ سے فائدہ اٹھاتے ہو اور ان کا گوشت کھاتے ہو۔ چوپایوں کی پیدائش ایک طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے استحقاق عبادت میں وحدہ لا شریک ہونے پر روشن برہان ہے۔ جب متصرف و قادر بھی وہی ہے اور منعم و محسن بھی وہی ہے تو شکر بھی اسی کا لازم ہے لہذا ہر قسم کی عبادت کا مستحق بھی وہی ہے اور کارساز بھی وہی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 ۔ اور اسی اللہ تعالیٰ نے چو پایوں کو پیدا کیا ان چوپایوں میں تمہارے لئے جڑاول اور سردی سے بچنے کا سامان بھی ہے اور ان میں سے اور بھی بہت سے منافع اور فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو ۔ یعنی کھال کے پوستین اور موزے وغیرہ بنا کر جاڑے کا بچائو کرتے ہو اس کے علاوہ چوپایوں میں دودھ گھی مکھن وغیرہ کے فوائد بھی ہیں اور بعض جانور حلال ہیں ان کا گوشت بھی کھاتے ہو ۔ منھا تاکلون کا ترجمہ بعض حضرات نے یوں کیا ہے کہ ان چوپایوں کی بعض چیزیں جیسے گوشت اور چربی وغیرہ کھاتے بھی ہو۔