Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 51

سورة النحل

وَ قَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثۡنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾

And Allah has said, "Do not take for yourselves two deities. He is but one God, so fear only Me."

اللہ تعالٰی ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے پس تم صرف سب میرا ہی ڈر خوف رکھو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah Alone is Deserving of Worship Allah tells: وَقَالَ اللّهُ لاَ تَتَّخِذُواْ إِلـهَيْنِ اثْنَيْنِ إِنَّمَا هُوَ إِلهٌ وَاحِدٌ فَإيَّايَ فَارْهَبُونِ وَلَهُ مَا فِي الْسَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا أَفَغَيْرَ اللّهِ تَتَّقُونَ

ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، وہ لا شریک ہے ، وہ ہر چیز کا خالق ہے ، مالک ہے ، پالنہار ہے ۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے ۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں ۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے ۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے ، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو ۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو ۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے ۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے ، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں ، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے ، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں ۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں ۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو ۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں ، دیوتاؤں ، بتوں ، فقیروں ، ولیوں ، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے ۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پر دے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالا نکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا ، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں ۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو ، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

51۔ 1 کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔ اگر آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو نظام عالم قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا یہ فساد اور خرابی کا شکار ہوچکا ہوتا۔ جب کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی بلا شرکت غیر تمام کائنات کا نظم و نسق چلا رہا ہے تو معبود بھی صرف وہی ہے جو اکیلا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ نہیں ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٠] دو خداؤں کا عقیدہ رکھنے والے مجوسی مذہب کا تعارف :۔ عہد نبوی میں ایران میں مجوسی مذہب رائج تھا یہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔ اپنے آپ کو سیدنا نوح کا پیرو کار بتاتے اور باقی سب نبیوں کے دشمن تھے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک خیر اور نور کا خدا جسے وہ یزدان کہتے تھے، دوسرا بدی اور تاریکی کا خدا جسے وہ اہرمن کہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام زند اور اوستا بتاتے تھے اور اہل عرب ان سے متعارف تھے۔ انھیں لوگوں کے عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو الٰہ بنانا چھوڑ دو کیونکہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے اور دو خدا آپس میں برابر کی چوٹ ہوتے تو یقیناً ان میں کائنات میں تصرف کے سلسلہ میں جھگڑا ہوجاتا۔ پھر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ اس طرح یہ نظام کائنات کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ جب تمہیں تجربہ سے معلوم ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ نہ ہی کسی مملکت کے دو حکمران ہوسکتے ہیں۔ پھر اس کائنات میں دو خداؤں کی خدائی کا تصور کیسے درست سمجھا جاسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَال اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ ۔۔ : اوپر بتایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز اور اس کی مطیع و فرماں بردار ہیں، اس مناسبت کے ساتھ اب انسانوں کو اس مالک الملک کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانے سے منع فرمایا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ ” اِلٰـهَيْنِ “ کا معنی ہی دو معبود ہے، پھر ” اثْـنَيْنِ “ کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کی قباحت میں زور پیدا کرنے کے لیے بات تاکید کے ساتھ کی جاتی ہے، یہاں ” اثْـنَيْنِ “ کا مقصد یہی ہے۔ تو جب دو معبود نہیں بن سکتے تو زیادہ کس طرح بن سکتے ہیں ؟ صرف اللہ ہے جو اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ قرآن میں یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی، چناچہ فرمایا : (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) [ الأنبیاء : ٢٢ ] ” اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ “ اور دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٣٩) ۔ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ : ” رَھْبَۃٌ“ اس خوف کو کہتے ہیں جس میں ساتھ بچا بھی جائے، باب ” عَلِمَ “ سے ہے۔ ” فَاِيَّايَ “ پہلے لانے میں اور پھر ” فَارْهَبُوْنِ “ (جو اصل میں فارْھَبُوْنِیْ تھا) میں دوبارہ یاء لانے میں تاکید پر تاکید ہے کہ صرف میری عبادت کرو۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر غائب کے ساتھ تھا، اب متکلم کے ساتھ ہوگیا، اس التفات کے لیے پہلی فاء آئی ہے۔ اور ” فَاِيَّايَ “ اور ” فَارْهَبُوْن “ دونوں پر فاء آئی ہے، پہلی عطف کے لیے ہے اور دوسری محذوف شرط کی جزا کے لیے ہے، گویا عبارت یوں ہے کہ صرف اللہ ہے جو اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے (اور وہ میں ہوں) پس صرف مجھ سے (اگر کسی سے ڈرنا ہے) تو مجھ سے ڈرو، کسی دوسرے سے نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ 51؀ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ رهب الرَّهْبَةُ والرُّهْبُ : مخافة مع تحرّز و اضطراب، قال : لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] ، وقال : جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] ، وقرئ : مِنَ الرَّهْبِ ، أي : الفزع . قال مقاتل : خرجت ألتمس تفسیر الرّهب، فلقیت أعرابيّة وأنا آكل، فقالت : يا عبد الله، تصدّق عليّ ، فملأت كفّي لأدفع إليها، فقالت : هاهنا في رَهْبِي «5» ، أي : كمّي . والأوّل أصحّ. قال تعالی: وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ، وقال : تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] ، أي : حملوهم علی أن يَرْهَبُوا، وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] ، أي : فخافون، والتَّرَهُّبُ : التّعبّد، وهو استعمال الرّهبة، والرَّهْبَانِيّةُ : غلوّ في تحمّل التّعبّد، من فرط الرّهبة . قال : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] ، والرُّهْبَانُ يكون واحدا، وجمعا، فمن جعله واحدا جمعه علی رَهَابِينَ ، ورَهَابِنَةٌ بالجمع أليق . والْإِرْهَابُ : فزع الإبل، وإنما هو من : أَرْهَبْتُ. ومنه : الرَّهْبُ «1» من الإبل، وقالت العرب : رَهَبُوتٌ خير من رحموت «2» . ( ر ھ ب ) الرھب والرھبۃ ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں احتیاط اور اضطراب بھی شامل ہو قرآن میں : ۔ لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] تمہاری ہیبت تو ( ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے بڑھکر ہے جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] اور دفع ) خوف کے لئے اپنے بازو سکیڑ لو ) ۔ اس میں ایک قرآت رھب بضمہ الراء بھی ہے ۔ جس کے معنی فزع یعنی گھبراہٹ کے ہیں متقاتل کہتے ہیں کہ رھب کی تفسیر معلوم کرنے کی غرض سے نکلا دریں اثنا کہ میں کھانا کھا رہا تھا ایک اعرابی عورت آئی ۔ اور اس نے کہا اسے اللہ کے بندے مجھے کچھ خیرات دیجئے جب میں لپ بھر کر اسے دینے لگا تو کہنے لگے یہاں میری آستین میں ڈال دیجئے ( تو میں سمجھ گیا کہ آیت میں بھی ( ھب بمعنی آستین ہے ) لیکن پہلے معنی یعنی گھبراہٹ کے زیادہ صحیح ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ہمارے فضل کی توقع اور ہمارے عذاب کے خوف سے ہمیں پکارتے رہتے ہیں ) تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] اس سے تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھائے رکھو گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] اور ان کو دہشت میں ڈال دیا ۔ میں استر ھاب کے معنی دہشت زدہ کرنے کے ہیں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] اور مجھ سے ہی ڈرو ۔ اور ترھب ( تفعیل کے معنی تعبد یعنی راہب بننے اور عبادت ہیں خوف سے کام لینے کے ہیں اور فرط خوف سے عبادت گذاری میں غلو کرنے رھبانیۃ کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] اور رہبانیت ( لذت دنیا کا چوڑ بیٹھنا جو انہوں نے از خود ایجاد کی تھی ۔ اور رھبان ( صومعہ لوگ واحد بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی جو اس کو واحد دیتے ہیں ان کے نزدیک اس کی جمع رھا بین آتی ہے لیکن اس کی جمع رھا بتۃ بنانا زیادہ مناسب ہے الا رھاب ( افعال ) کے اصل معنی اونٹوں کو خوف زدہ کرنے کے ہیں یہ ارھبت ( فعال کا مصدر ہے اور اسی سے زھب ہے جس کے معنی لاغر اونٹنی ( یا شتر نر قوی کلاں جثہ ) کے میں مشہور محاورہ ہے : ۔ کہ رحم سے خوف بہتر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١) اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو یا زیادہ معبودوں کی پوجا مت کرو، بس ایک ہی معبود وہی وحدہ لاشریک ہے تو ان بتوں کی پوجا کرنی میں مجھ سے خوف کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

43. Negation of two gods by itself negates the existence of more than two gods.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :43 دو خداؤں کی نفی میں دو سے زیادہ خداؤں کی نفی آپ سے آپ شامل ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥١۔ ٥٥۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کی پرچھائیاں بےاختیار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اس ذکر کے بعد خود مشرکوں کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لا شریک کو زیبا ہے اور پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے اور کسی سے نہ ڈرو یہ بات اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نقصان پہنچا سکیں البتہ اللہ کے قہر و غضب سے ڈرو کیوں کہ اس کی وہ پکڑ ہے جس کی کوئی پناہ نہیں ہے آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے اسی لئے خالص اسی کی عبادت سزا وار ہے اور ہمیشہ اسی کی اطاعت و فرمانبرداری زیبا ہے کسی غیر سے کیوں ڈرتے ہو کسی کا خوف کیوں کرتے ہو کیوں کہ عظمت اور قدرت تو صرف خداوند جلالہ کو ہے اور کل اشیاء اس کی محتاج ہیں اور فنا ہونے والی ہیں کوئی ذات اگر ہمیشہ باقی رہے گی تو وہ خدا ہی کی ذات ہے پھر اس کے بعد اپنی نعمتوں پر شکر کرنے کا ارشاد کیا ہے۔ جتنی نعمتیں تمہیں دنیا میں حاصل ہیں وہ سب خدا کی عنایت ہے۔ مال و دولت آل و اولاد رزق کی فراہمی سب اس کی دی ہوئی چیزیں ہیں اس لئے بندوں پر واجب ہے کہ اس کا شکر ادا کریں۔ کیوں کہ جب کسی کو کسی سے کچھ فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی شکر گزاری بھی ضرور کرنی ہوتی ہے پھر اس کے بعد انسان کی غفلت کو بیان فرمایا کہ جس وقت انسان کو خوشحالی اور فارغ البالی ہوتی ہے اس وقت اللہ کو بھولا رہتا ہے مگر جب کوئی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے بیماری یا کوئی اور سختی درپیش ہوتی ہے تو خدا سے چلا چلا کر فریاد کرنے لگتا ہے پھر جب خدا اس کی فریاد کو سن لیتا ہے اور اس کی مصیبت دور کردیتا ہے تو جو لوگ گمراہ ہیں اس خدائے برتر کا غیروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں اور اللہ کو بالکل بھول جاتے ہیں گویا کوئی وقت سختی کا ان پر آیا ہی نہ تھا پھر یہ فرمایا کہ یہ شرک کرنا ان کا اس لئے ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے ان کو دیا ہے اس کو بالکل بھول جائیں پھر فرمایا خیر تم دنیا میں جس طرح چاہو کفران نعمت کرو جیسے چاہو خدا کی نعمتوں کا انکار کرو آگے معلوم کرو گے کہ تمہارا کیا حال ہوگا اور کیا وقت تمہیں پیش آوے گا اور کیا انجام ہوگا دنیا میں تم پر کیا بلا آنے والی ہے اور آخرت میں کیا گت تمہاری ہوگی مشرکین مکہ اپنے مطلب کے وقت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوجاتے تھے اور جب مطلب نکل جاتا تھا تو پھر شرک کرنے لگتے تھے چناچہ سورت العنکبوت میں آوے گا کہ جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے اور ناموافق ہوا سے ڈرتے تو اکیلے اللہ کو پکارتے اور جب خشکی میں آن کر وہ ڈر جاتا رہتا تو پھر مشرک ہوجاتے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کا دین ہمیشہ وحدانیت کا ہے ان لوگوں کو چاہیے کہ مطلب اور بےمطلب کے وقت اسی کو اپنا معبود جانیں اور دو معبود ٹھہرانے چھوڑ دیں۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے ١ ؎ کہ قوم نوح سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کو بہت تھا شیطان نے موقع پا کر ان لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کی مورتیں بنا کر آنکھوں کے سامنے رکھ لی جاویں تو ان مورتوں کے ہر وقت دیکھ لینے سے ان کے آنکھوں کے سامنے اٹھ جانے کا رنج کسی قدر کم ہوجاوے گا۔ اس وسوسہ کے موافق ان لوگوں نے وہ مورتیں بنائیں اور کچھ عرصہ کے بعد ان مورتوں کی پوجا ہونے لگی جو آج تک چلی آتی ہے۔ اس لئے وہ نیک لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو اپنا گواہ قرار دے کر اس معاملہ سے اپنی بیخبر ی ظاہر کریں گے چناچہ اس کا ذکر سورت یونس میں گزر چکا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مورتیں تو بالکل پتھر ہیں اور مورتوں والے پوجا سے بیخبر اسی واسطے ان بتوں سے ڈرنے کو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکر گزاری میں ان بتوں کو شریک ٹھہرانے کو ان آیتوں میں لا حاصل قرار دیا گیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎ کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں بڑے بڑے سرکش مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پایا ان آیتوں میں فتمتعوا فسوف تعلمون کا جو وعدہ تھا اس کے ظھور کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ ١ ؎ جلد ہذا ص ٣١٥۔ ٢ ؎ مثلاً ص ٤٠٢(٢٠٨ وغیرہ)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:51) لا تتخذوا الھین اثنین۔ دو معبود مت اختیار کرو یہ تعدد کی نفی ہے دو کثرت و تعداد کا ادنیٰ درجہ ہے جب دو کی نفی ہوئی تو اس سے زیادہ کی نفی خود بخود ہوگئی ۔ فارھبون۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ۔ تم مجھ سے ڈرو۔ (باب سمع) رھبۃ سے۔ بےتابی اور بےچینی کے ساتھ ڈرنا۔ انما ھو الہ واحد فایای فارھبون۔ صیغہ غائب کے معاً بعد صیغہ متکلم کی طرف انتقال صفت ِ التفات کہلاتا ہے۔ اور عربی اسلوب بلاغت میں یہ ایک اعلیٰ صفت ہے اس کی کئی مثالیں ہیں۔ مثلاً اسی سورت کی آیت نمبر 75 ملاحظہ ہو۔ غائب سے متکلم کی طرف التفات اپنی کبریائی اور عنایات کی طرف توجہ دلانا۔ یا ترہیب میں شدت پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اور یہ بتایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ اب اس کے بعد شرک سے منع فرمایا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٧) اسرارومعارف اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف اللہ کریم ہی کی درست ہوگی یہ درست نہیں کہ نام تو اللہ جل جلالہ کا لیا جائے اور دوسروں سے ڈر کر اطاعت ان کی جائے ، کسی سے ڈرنے کی بھلا بات کیا ہے جبکہ ہر وہ نعمت جو تمہیں نصیب ہے اللہ جل جلالہ ہی کی عطا کردہ ہے اس پر خود تمہارا عمل بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ جب کوئی نعمت ضائع ہوتی ہے یا مصیب ٹوٹتی ہے تو پھر اسی کے حضور چلا چلا کر دعائیں مانگتے ہو مگر انسانی مزاج بھی عجیب ہے کہ جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر دوسروں کا احسان اور عطا مان کر انہیں اللہ کریم کا شریک بنانے لگتا ہے اس کا یہ فعل ہماری عطا وکرم سے صریح کفر ہے لیکن خیر دنیا کی چند روزہ زندگی میں موج اڑالے عنقریب سب پتہ چل جائے گا کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے ۔ ایسی ہستیوں کو جن سے واقف بھی نہیں جن کے وجود بھی محض مفروضے اور سنی سنائی بات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ان کو ہماری عطا کردہ نعمتوں میں شریک کرتے ہیں یعنی ان کی نذریں مانتے ہیں اللہ جل جلالہ کی عظمت کی قسم تم سے ایسی بہتان تراشی کی بڑی سخت پرسش ہوگی ، ذرا انہیں دیکھو یہ کہتے ہیں فرشتے اللہ جل جلالہ کی بیٹیاں ہیں وہ تو ان باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے مگر یہ اپنے لیے بیٹی پسند نہیں کرتے بلکہ اولاد بھی نرینہ یعنی اپنی پسند کی چاہتے ہیں اگر کسی مشرک کو پتہ چلے کہ اس کے گھر بیٹی ہوئی ہے تو اس کا منہ لٹک جاتا ہے رنگ سیاہ ہوجاتا ہے اور اندر ہی اندر دکھ سے بھر جاتا ہے بہت زیادہ افسوس محسوس کرتا ہے حتی کہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا ہے کہ یہ خبر تو بہت بدنامی کی بات ہے پھر سوچتا ہے کہ اسے زندہ رہنے دے اور بیٹی کا باپ ہونے کی ذلت قبول کرے یا اسے زمین میں گاڑ دے ان کا یہ فیصلہ بہت ہی برا ہے کہ تخلیق باری پر اعتراض ہے جیسے آجکل بھی اگر کسی کو اولاد نہ ملے تو دیوانہ ہوا پھرتا ہے یا صرف بیٹیاں ہوں تو بھی خود کو بڑی مصیبت میں مبتلا جانتا ہے حالانکہ خود بھی تو کسی کی بیٹی ہی سے پیدا ہوا یہ تو اللہ جل جلالہ کا قانون جیسے چاہے تخلیق فرمائے ہاں بیٹے کی خواہش کرنا تو عیب نہیں مگر خواہش کی حد تک اور بیٹی کو برا جاننا یا مصیبت سمجھنا تو بہت بڑا گناہ بلکہ ان کی پرورش تو جنت کی ضمانت ہے یہ کردار تو ایسے لوگوں کا ہے جنہیں آخرت پر یقین ہی نہیں اور ایسے لوگوں کا حال تو بہت ہی ناگفتہ بہ ہے جب کہ سب بڑائی اور عظمت اللہ کے لیے ہے جو زبردست اور غالب بھی ہے اور حکمت کا مالک بھی ، کہ قادر ہے بیٹے بیٹیاں جو چاہے پیدا کرے یا کسی کو اولاد نہ ہی دے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں جہاں جو پیدا فرماتا ہے وہی اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 56 لاتتخذوا تم نہ بناؤ۔ الھین (الہ) دو معبود۔ اثنین دو ۔ واحد ایک۔ ایای مجھ سے ہی۔ رھبوا تم ڈرو۔ واصباً ہمیشہ رہنے والا۔ مابکم جو کچھ تمہارے پاس ہے۔ تجئرون تم فریاد رتے ہو تم چلاتے ہو۔ کشف کھل گیا، دور گیا۔ فریق ایک جماعت ۔ یشرکون وہ شرک کرتے ہیں، شریک کرتے ہیں۔ تمتعوا تم فائدہ حاصل کرو۔ نصیب حصہ۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ تسئلن تم پوچھے جاؤ گے۔ تفترون تم گھیرتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 56 قرآن کریم میں سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ اللہ کو ایک ماننا اور ان تمام غیر اللہ کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا جن کو کچھ نادانوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ۔ کفار و مشرکین کا یہ حال تھا کہ انہوں نے اپنے بہت سے دیوی دیوتا بنا رکھے تھے جن کے متعلق مختلف بتوں کی طرف مختلف طاقتوں کو منسوب کر رکھا تھا کسی بت کے متعلق ان کا یہ گمان تھا کہ یہ اولاد دیتا ہے، کوئی رزق دیتا اور کوئی بارش برساتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ انسانی ہاتھوں کے بنائے ہوئے بت درحقیقت خود اپنے وجود کیلئے دوسروں کے ہاتھوں کے محتاج ہیں یہ انسان کو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ کسی طرح کا نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ خود اپنے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ فرمایا کہ انسان کی فطرت بھی اسی بات کو سچا مانتی اور جانتی ہے کہ مشکل کے وقت اس کو اپنے بت یاد نہیں آتے بلکہ وہ اللہ کو یاد کرتا ہے، روتا ہے، چلاتا ہے اور اسی کو پکار کر اپنی مصیبت کو دور کرنے کے لئے فریاد کرتا ہے لیکن جب اس کو اس مصیبت سے نجات مل جاتی ہے تو شکر کرنے کے بجائے وہ پھر سے شرک کرنے لگتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم توحید خاص پر زور دیتے ہوئے کفر اور شرک سے نفرت سکھاتا ہے وجہ یہ ہے کہ انسان کے اعمال، اقوال اور اخلاق اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک وہ اللہ کی وحدانیت اور فکر آخرت پر نہ آجائے۔ اسی بات کو ان آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سے معبود نہ بناؤ اور ان سے ڈرنے کے بجائے صرف مجھ سے ڈرو کیونکہ اس کائنات میں زمین و آمان اور ہر چیز اس کی ملکیت ہے وہ بغیر کسی شریک کے ان سب چیزوں کا مالک ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے سامنے عبادت و بندگی میں جھکا ہوا ہے۔ اب انسان کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرنے والا بن جائے۔ کیونکہ وہی ایک اللہ ہے جس نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو ایک نعمت کے طور پر انسان کا خادم بنا دیا ہے وہی نعمت دینے والا ہے اور وہی ہر آفت سے بچانے والا ہے۔ انسان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارے اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی میں لگا رہے۔ اور ان بتوں کے نام پر اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں کچھ حصہ مقرر کر دے جن کو وہ جانتا تک نہیں کہ انہوں نے جن کو اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ کون ہیں۔ یہ صرف بچوں کو بہلانے والے قصے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ فرمایا کہ پتھر کے بتوں کو انسانی شکل میں تراش لیا ہے اور ان کو اپنا معبود سمجھتے ہی۔ یہ اپنے گمان کی پیروی ہے اپنے معبود کی نہیں کیونکہ جو تصویریں ان کے سامنے ہیں نہ ان کو کسی نے دیکھا اور نہ ان کا کوئی ثبوت موجود ہے۔ فرمایا کہ ہمارا دیا ہو رزق ہے کسی کو اس کا اختیار کیسے مل گیا کہ وہ اس رزق کو غیر اللہ کے لئے وقف کر دے۔ فرمایا کہ اللہ کے ہاں اس کا سوال ضرور کیا جائے گا جس کا یقینا انسان جواب نہ دے سکے گا اللہ تعالیٰ ہمیں وحدانیت کو مانتے ہوئے اس کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ کیونکہ جب الوہیت میرے ساتھ خاص ہے تو جو اس کے لوازم ہیں کمال قدرت وغیرہ وہ بھی میرے ہی ساتھ خاص ہوں گے تو انتقام وغیرہ کا خوف مجھ ہی سے چاہیے اور شرک انتقام کو مستدعی ہے پس شرک نہ کرنا چاہیے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمان کی ہر چیز صرف ایک ہی خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود اور اس کے حکم کے تابع ہے تو مشرک کو بھی کسی دوسرے الٰہ کا تصور اور اس کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے لوگو ! دو الٰہ نہ بناؤ۔ ایرانیوں نے دو خدا بنا رکھے تھے حالانکہ اس حقیقت میں رائی کے دانے کے برابر بھی شبہ نہیں کہ کائنات کا خالق ومالک ایک ہی اِلٰہ ہے۔ اس کا حکم ہے کہ صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔ اللہ ہی ان کا مالک اور خالق حقیقی ہے۔ اس کے باوجود کسی اور کی تم عبادت کرتے اور اس سے ڈرتے ہو۔ حالانکہ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اسی کی عبادت اور اطاعت کر رہی ہے۔ لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ وہ بھی کسی اور کی عبادت کرنے کی بجائے صرف ایک رب کی عبادت کرے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب انسان اپنے نفع و نقصان اور ہر چیز کا مالک ایک اللہ کو سمجھے۔ لیکن مشرک کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے بھی نفع و نقصان پہنچانے میں کچھ اختیارات رکھتے ہیں۔ اسی لیے کوئی مزاروں کے سامنے جھکتا ہے اور کوئی بتوں، جنات اور دوسری چیزوں سے ڈرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو حالانکہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز اللہ تعالیٰ کی نہ صرف ملک ہے بلکہ اس کی اطاعت اور بندگی میں مصروف عمل ہے۔ لیکن مشرک کا یہ حال ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت حاصل ہوتی ہے تو پھر اس کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے غیروں کے سامنے جھکتا ہے اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر چیخ و پکار اور آہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے۔ لیکن جونہی اس کی تکلیف دور ہوتی ہے تو پھر اپنے رب کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ جب کہ مواحد ہر حال میں اپنے رب سے مانگتا اور اس کے سامنے جھکتا ہے۔ مشرک کے عمل کو کفر قراردیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے یہ شرک کا ارتکاب کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس کی ناشکری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنے اعمال کا نتیجہ بہت جلد معلوم ہوجائے گا۔ تفسیر بالقرآن مشرک صرف تکلیف کے وقت خالصتاً اللہ کو پکارتا ہے : ١۔ جب وہ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : ٦٥) ٢۔ جب انھیں مصیبت پہنچتی ہے تو تم اسی کی طرف آہ وزاری کرتے ہو۔ (النحل : ٥٣) ٣۔ جب ہر طرف سے موجیں انھیں گھیر لیتی ہیں تو وہ خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ (یونس : ٢٢) ٤۔ جب تمہیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہو۔ (بنی اسرائیل : ٦٧) ٥۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے۔ (حٰم السجدۃ : ٥١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٢١ ایک نظر میں مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی ! اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔ واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (١٦ : ٥٧) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔ اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔ احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔ آیت نمبر ٥١ تا ٥٥ اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔ ولہ ما فی السموت والارض (١٦ : ٥٦) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔ ولہ الدین واصباً (١٦ : ٥٢) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔ وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (١٦ : ٥٣) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔ ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (١٦ : ٥٣) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ فتمتعوا فسوف تعلمون (١٦ : ٥٥) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔ ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (١٦ : ٥٤) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔ بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ یہ دعوی توحید کا دوسری بار اعادہ اور دلائل ماقبل کا حاصل وثمرہ ہے یعنی جب تکوینی طور پر ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز و بےبس اور اس کے زیر تصرف و اختیار ہے تو پھر اللہ کے سوا کسی اور کو الہ مت بناؤ۔ الٰہ یعنی کارساز اور مالک و مختار وہی ایک اللہ ہے۔ اسی سے ڈرو اور مصائب و آفات میں صرف اسی کو پکارو ” اِلٰھَیْنِ “ کے بعد ” اِثْنَیْنِ “ اس لیے فرمایا کیونکہ جنس الٰہ کی نفی مقصود نہیں بلکہ تعداد آلہہ کی نفی مقصود ہے۔ ” وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ الخ “ یہ چوتھی دلیل سے متلعق ہے اور اسی کا حصہ ہے۔ ” وَاصِباً اي دائما “ (قرطبی) ۔ ربیع بن انس سے منقول ہے واصبا اي خالصا (روح) اور ” اَلدِّیْن “ کے معنی عبادت کے ہیں۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں الدین سے شہادت توحید اور تمام شرعی حدود و فرائض کی اقامت مراد ہے قال ابن جبیر العبادۃ وقال عکرمۃ شھادۃ ان لا الٰہ الا اللہ و اقامۃ الحدود والفرائض (بحر ج 5 ص 501) ۔ یعنی اللہ کے ساتھ کسی اور کو الوہیت میں مت شریک کرو اس کے سوا کوئی الوہیت کے لائق نہیں کیونکہ ساری کائنات کا مالک وہی ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے اور ہمیشہ سے وہی عبادت اور پکار کا مستحق ہے لہذا خالص اسی کی عبادت کرو، مشکلات میں صرف اسی کو پکارو اور اس کے تمام حدود و فرائض کی پورے خلوص کیساتھ پابندی کرو ” اَ فَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ “ یہ زجر ہے۔ فرمایا تمہیں ڈرنا تو اللہ سے چاہئے جو سارے جہان کا مالک اور سب کا کارساز ہے مگر تم گیر اللہ سے ڈرتے ہو اور تم نے غیروں کو کارساز اور حاجت روا بنا رکھا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

51 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بواسطہ یہ حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ دو معبود دو یا زیادہ تجویز نہ کرو بس معبود حقیقی تو صرف وہی ایک ہے پس تم مجھ ہی سے ڈرا کرو ۔ دو معبودوں کی ممانعت مستلزم ہے اور زیادہ کی ممانعت کر اور جب معبود برحق ایک ہی ہے اور وہی تمام اختیارات رکھتا ہے تو اس سے ہی ڈرو۔