Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 6

سورة النحل

وَ لَکُمۡ فِیۡہَا جَمَالٌ حِیۡنَ تُرِیۡحُوۡنَ وَ حِیۡنَ تَسۡرَحُوۡنَ ﴿۪۶﴾

And for you in them is [the enjoyment of] beauty when you bring them in [for the evening] and when you send them out [to pasture].

اوران میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر لاؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ ... And there is beauty in them for you, when you bring them home in the evening. which is when they are brought back from the pasture in the evening. This is a reference to how their flanks become fat, their udders fill with milk and their humps become bigger. ... وَحِينَ تَسْرَحُونَ and as you lead them forth to pasture (in the morning). meaning when you send them out to the pasture in the morning.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 تریحون جب شام کو چرا کر گھر لاؤ، جب صبح چرانے کے لئے لے جاؤ، ان دونوں وقتوں میں یہ لوگوں کی نظروں میں آتے ہیں، جس سے تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان دونوں اوقات کے علاوہ وہ نظروں سے اوجھل رہتے یا باڑوں میں بند رہتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦۔ الف ] مویشیوں سے شان وشوکت کا اظہار :۔ اہل عرب کا اکثر پیشہ ریوڑ پالنا ہوتا تھا اور یہ ریوڑ عموماً بھیڑ بکریوں اور اونٹوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ خچر، گدھے اور گھوڑے بھی ہوتے تھے مگر نسبتاً کم ہوتے تھے۔ قریش مکہ تو تاجر پیشہ لوگ تھے اور ان کا مال و دولت نقدی درہم و دینار کی صورت میں ہوتا تھا۔ جبکہ عام قبائل عرب کے مالدار ہونے کی علامت یہی جانور تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ جانور ہوتے اتنا ہی وہ مالدار سمجھا جاتا تھا اور یہی جانور اسکی چلتی پھرتی دولت سمجھے جاتے تھے اسی میں اس کی شان و شوکت ہوتی تھی۔ شام کے وقت ایسے گلوں اور ریوڑوں کے مالک ان کی انتظار میں اپنی آبادیوں یا گاؤں سے باہر نکل کر بیٹھتے۔ یہ مویشی جب چر چگ کر اور سیر ہو کر شام کو گھر واپس آتے تو اس کے مالک انھیں دیکھ کر پھولے نہ سماتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کے واپس آنے کا پہلے ذکر فرمایا اور صبح جانوروں کی روانگی کے وقت بھی عجب گہما گہمی اور مسرت کی کیفیت ہوتی تھی۔ اسی مسرت اور ٹھاٹھ کی کیفیت کو اللہ نے ذکر فرمایا۔ جو دوسرے فوائد سے زائد تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ ۔۔ : ” جَمَالٌ“ خوبصورتی، یہ ” کَرُمَ “ سے مصدر ہے۔ ” رَجُلٌ جَمِیْلٌ“ ” خوبصورت آدمی “۔ ” تُرِيْحُوْنَ “ یہ ” اِرَاحَۃٌ“ (افعال) سے مضارع ہے، شام کو لانا۔ ” تَسْرَحُوْنَ “ (ف) صبح چرانے کے لیے لے جاتے ہو۔ تُرِيْحُوْنَ : شام کو گھر لانے کا منظر زیادہ خوبصورت ہوتا ہے، کیونکہ جانوروں کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں اور وہ تروتازہ اپنے مالک کی خوشی کا باعث ہوتے ہیں، اس لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ ایک جمال یہ بھی ہے کہ ان کی کثرت سے ان کے مالک کی دولت مندی کا اظہار ہوتا ہے اور دنیا میں دولت خود ایک جمال ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ ۝۠ جمیل الجَمَال : الحسن الکثير، وذلک ضربان : أحدهما : جمال يخصّ الإنسان في نفسه أو بدنه أو فعله . والثاني : ما يوصل منه إلى غيره . وعلی هذا الوجه ما روي عنه صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ اللہ جمیل يحبّ الجمال» «2» تنبيها أنّه منه تفیض الخیرات الکثيرة، فيحبّ من يختص بذلک . وقال تعالی: وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ [ النحل/ 6] ، ويقال : جَمِيلٌ وجَمَال علی التکثير . قال اللہ تعالی: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ [يوسف/ 83] ( ج م ل ) الجمال کے معنی حسن کثیر کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) وہ خوبی جو خاص طور پر بدن یا نفس یا عمل میں پائی جاتی ہے ۔ (2) وہ خوبی جو دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے اسی معنی میں مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا (66) ان اللہ جمیل يحب الجمال ۔ کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو محبوب رکھتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے خیرات کثیرہ کا فیضان ہوتا ہے لہذا جو اس صفت کے ساتھ متصف ہوگا ۔ وہی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا ۔ اور قرآن میں ہے :۔ وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ [ النحل/ 6] اور جب شام کو انہیں جنگل سے لاتے ہو ۔۔ تو ان سے تمہاری عزت و شان ہے ۔ اور جمیل و جمال وجمال مبالغہ کے صیغے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ [يوسف/ 83] اچھا صلہ ( کہ وہی ) خوب ( ہے ) حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔ راوح والمُرَاوَحَةُ في العمل : أن يعمل هذا مرّة، وذلک مرّة، واستعیر الرَّوَاحُ للوقت الذي يراح الإنسان فيه من نصف النّهار، ومنه قيل : أَرَحْنَا إبلَنا، وأَرَحْتُ إليه حقّه مستعار من : أرحت الإبل، والْمُرَاحُ : حيث تُرَاحُ الإبل، وتَرَوَّحَ الشجر ورَاحَ يَراحُ : تفطّر . وتصوّر من الرّوح السّعة، فقیل : قصعة رَوْحَاءُ ، وقوله : لا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ [يوسف/ 87] ، أي : من فرجه ورحمته، وذلک بعض الرّوح . المراوحتہ کے معنی ہیں دو کاموں کو باری باری کرنا ۔ اور استعارہ کے طور پر رواح سے دوپہر کو آرام کا وقت مراد لیا جاتا ہے اور اسی سے کہا جاتا ہے ۔ ارحنا ابلنا کہ ہم نے اونٹوں کو آرام دیا ( یعنی بازہ میں لے آئے ) اور پھر ارحت الابل سے بطور استعارہ کہا جاتا ہے ۔ کہ میں نے اس کا حق واپس لوٹا دیا اور مراح باڑے کو کہا جاتا ہے اور تروح الشجرہ وراح یراح کے معنی درخت کے شکوفہ دار ہونے اور نئے پتے نکالنے کے ہیں اور کبھی روح سے وسعت اور فراخی کے معنی بھی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ کہا جاتا ہے ۔ قصعتہ روحاء فراخ پیالہ اور آیت کریمہ : لا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ [يوسف/ 87] اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ ۔ میں بھی وسعت رحمت مراد ہے جو لفظ روح سے مفہوم ہوتی ہے ۔ سرح السَّرْحُ : شجر له ثمر، الواحدة : سَرْحَةٌ ، وسَرَّحْتُ الإبل، أصله : أن ترعيه السَّرْحَ ، ثمّ جعل لكلّ إرسال في الرّعي، قال تعالی: وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ [ النحل/ 6] ، والسَّارِحُ : الرّاعي، والسَّرْحُ جمع کا لشّرب «2» ، والتَّسْرِيحُ في الطّلاق، نحو قوله تعالی: أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقوله : وَسَرِّحُوهُنَّ سَراحاً جَمِيلًا [ الأحزاب/ 49] ، مستعار من تَسْرِيحِ الإبل، کالطّلاق في كونه مستعارا من إطلاق الإبل، واعتبر من السّرح المضيّ ، فقیل : ناقة سَرْحٌ: تسرح في سيرها، ومضی سرحا سهلا . والْمُنْسَرِحُ : ضرب من الشّعر استعیر لفظه من ذلك . ( س ر ح) السرح ایک قسم کا پھلدار درخت ہے اس کا واحد سرحۃ ہے اور سرحت الابل کے اصل معنی تو اونٹ کو سرح ، ، درخت چرانے کے ہیں بعدہ چراگاہ میں چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دینے پر اس کا استعمال ہونے لگا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ [ النحل/ 6] اور جب شام کو انہیں ( جنگل سے ) لاتے ہو اور جب صبح کو ( جنگل ) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے ۔ اور چروا ہے کو ، ، سارح کہاجاتا ہے اس کی جمع سرح ہے جیسے شارب کی جمع شرب ( اور راکب کی جمع رکب ) آتی ہے اور تسریح کا لفظ طلاق دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا : أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔ اور اسی طرح آیت : وَسَرِّحُوهُنَّ سَراحاً جَمِيلًا[ الأحزاب/ 49] اور ان کو کچھ فائدہ ( یعنی خرچ ) دے کر اچھی طرح سرے رخصت کردو ۔ میں بھی سرحوھن کے معنی طلاق دینے کے ہیں اور یہ تسریح سے مستعار ہے جس کے معنی جانوروں کو چرنے کے لئے چھوڑ دینا کے ہیں ۔ جیسا کہ خود طلاق کا لفظ اطلاق الابل ( اونٹ کا پائے بند کھولنا) کے محاورہ سے مستعا رہے ۔ اور کبھی سرح ، ، میں تیز روی کے معنی کا اعتبار کر کے تیز رو اور سہل رفتار اونٹنی کو ناقۃ سرح کہاجاتا ہے اور اسی سے بطور ستعارہ شعر کے ایک بحر کا نام منسرح رکھا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ (وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ ) دیہاتی ماحول میں مویشیوں کی حیثیت بہت قیمتی سرمائے کی سی ہوتی ہے اسی لیے انہیں مال مویشی کہا جاتا ہے۔ یہ جانور جب صبح چرنے کے لیے جاتے ہیں یا شام کے وقت جنگل سے چر کر واپس آ رہے ہوتے ہیں تو ان کے مالکوں کے لیے یہ بڑا خوش کن منظر ہوتا ہے۔ جانوروں کا غلہ یا ریوڑ جتنا بڑا ہوگا اس کے مالک کی حیثیت اور شان و شوکت اسی قدر زیادہ سمجھی جائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:6) جمال ۔ رونق۔ جمال۔ زیب و زینت۔ وجاہت۔ تریحون۔ روح (مادہ) سے مشتق ہے۔ یہ مادہ کثیر المشتقات ہے۔ تریحون المراوحۃ سے ہے جس کے معنی دو کاموں کو باری باری کرنے کے ہیں۔ استعارہ کے طور پر رواح سے شام کو آرام کرنے کا وقت مراد لیا جاتا ہے۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے۔ ارحنا ابلنا۔ ہم نے اونٹوں کو آرام دیا (یعنی باڑے میں لے آئے۔ مراح باڑہ) اراح یریح اراحۃ (افعال) اونٹوں کو بوقت شام باڑہ میں لانا۔ تریحون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم شام کو چوپایوں کو باڑے میں واپس لے آتے ہو۔ تسرحون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم صبح کے وقت چرانے لے جاتے ہو۔ سرح سے السرح ایک قسم کا پھل دار درخت ہے اس کا واحد سرحۃ ہے درحت الامل کے اصل معنی تو اونٹ کو (سرح) درخت چرانے کے ہیں بعد میں چراگاہ میں چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دینے پر اس کا استعمال ہونے لگا۔ حین تسرحون۔ جب تم صبح کو جنگل میں (چوپایوں کو) چرانے کے لئے لے جاتے ہو۔ سارح اونٹوں کو چرانے والا چرواہا۔ آیت ہذا میں چوپایوں کو شام کے وقت واپس لانے کو پہلے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت وہ سیر شکم ہونے کے باعث زیادہ بارونق دکھائی دیتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یہ دو وقت خوب رونق اور چہل پہل کے ہوتے ہیں اس لئے ان کو خاص طور پر ذکر فرمایا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ چوپائے تمہاری زینت اور شوکت و عزت کا نشان ہیں۔ جب اونٹوں کے گلے بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ اور گائے بھینسوں کے انبوہ صبح کو چرنے کے لیے باہر میدان کی طرف نکلتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں تو اس سے تمہاری دنیوی شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے۔ ” حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ “ اور جب چرانے لے جاتے ہو۔ ” وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ “ ان چوپایوں میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ان سے تم باربرداری کا کام لیتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے یہ تمام چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں۔ ” وَ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ الخ “ گھوڑے، خچر اور گدھے تمہاری سواری اور زینت و آرائش کے لیے پیدا کیے۔ ” وَ زِیْنةً “ یہ مفعول لہ ہے اور ” لِتَرْکَبُوْھَا “ کے محل پر معطوف ہے (مدارک) یا یہ فعل مقدر کا مفعول بہ ہے ای و جعلھا زینۃ۔ یا فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے ای و لتتزینوا بھا زینۃ (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

6 ۔ اور مذکورہ باتوں کے علاوہ ان چوپایوں میں تمہاری رونق اور زینت بھی ہے جب شام کو چرا کر واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرانے کے لئے جنگل لے جاتے ہو ۔ یعنی جب چراگاہ میں جاتے اور شام کو واپس آتے ہیں تو رونق اور چہل پہل ہوتی ہے اور دوسرے لوگوں میں عزت و آبرو بھی ہوتی ہے۔