Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 61

سورة النحل

وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾

And if Allah were to impose blame on the people for their wrongdoing, He would not have left upon the earth any creature, but He defers them for a specified term. And when their term has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].

اگر لوگوں کے گناہ پر اللہ تعالٰی ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا لیکن وہ تو انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے جب ان کا وہ وقت آجاتا ہے تو وہ ایک ساعت نہ پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah does not immediately punish for Disobedience Allah tells: وَلَوْ يُوَاخِذُ اللّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَابَّةٍ وَلَكِن يُوَخِّرُهُمْ إلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَإِذَا جَاء أَجَلُهُمْ لاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَ And if Allah were to punish (all) mankind for their wrongdoing, He would not leave on it (the earth) a single moving creature, but He defers them to an appointed term; and when their term comes, they can neither delay nor advance it an hour (or a moment). Allah tells us about His patience with His creatures, even though they do wrong. If He were to punish them for what they have done, there would be no living creature left on the face of the earth, i.e., He would have destroyed every animal on earth after destroying the sons of Adam. But the Lord - magnificent is His glory - is forbearing and He covers people's faults. He waits until the appointed time, i.e., He does not rush to punish them. If He did, then there would be no one left. Ibn Jarir reported that Abu Salamah said: "Abu Hurayrah heard a man saying, `The wrongdoer harms no one but himself.' He turned to him and said, `That is not true, by Allah! Even the buzzard dies in its nest because of the sins of the wrongdoer."' They attribute to Allah what They Themselves dislike Allah tells

وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے ۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہو جائیں ۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے ۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آ جائیں ۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے ، در گزر فرما رہا ہے ، معافی دے رہا ہے ۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے ، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے ۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں ۔ ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں ، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے ۔ اپنے لئے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں ، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لئے یہ سب روا رکھیں ۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لئے ہے ۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں ۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لئے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے ، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا ۔ سورہ کہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کر تے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہو نے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دو بارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا ۔ کام برے کریں آ زو نیکی کی رکھیں ۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں ۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لئے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا ، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا ، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا ۔ پس انکی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی ۔ اللہ فرماتا ہے دراصل ان کے لئے آتش دوزخ تیار ہے ۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہو جائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں ، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے ، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

61۔ 1 یہ اس کی نرم دلی ہے اور اس کی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی نافرمانیاں دیکھتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی نعمتیں سلب کرتا ہے نہ فوری مواخذہ ہی کرتا ہے حالانکہ اگر ارتکاب معصیت کے ساتھ ہی وہ مواخذہ کرنا شروع کر دے تو ظلم اور معصیت اور کفر اور شرک اتنا عام ہے کہ روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہے کیونکہ جب برائی عام ہوجائے تو پھر عذاب عام میں نیک لوگ بھی ہلاک کردیئے جاتے ہیں تاہم آخرت میں وہ عند اللہ سرخرو رہیں گے جیسا کہ حدیث میں وضاحت آتی ہے (ملاحظۃ ہو صحیح بخاری۔ نمبر 2118۔ 61۔ 2 یہ اس کی حکمت کا بیان ہے جس کے تحت وہ ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ ایک تو ان کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دوسرے، ان کی اولاد میں سے کچھ ایماندار نکل آئیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٨] ظالموں اور مشرکوں کو نیست ونابود کرنا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے :۔ عذاب کی جو بھی صورت ہو وہ بالآخر تمام مخلوق کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ ایک معمولی سی مثال یہ لیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ بارش برسانا بند کردے۔ تو انسان کو پانی پینے کو ملے نہ حیوانات کو، نہ سبزی اور گھاس وغیرہ اگیں اور نہ پھلدار درخت اور چند ہی دنوں میں تمام مخلوق بھوک سے مرجائے اور دنیا ویران اور سنسان بن جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جتنے مشرک اور ظالم قسم کے انسان ہیں صرف انہی پر اللہ کا قہر نازل ہو اور باقی صرف نیک لوگ رہ جائیں۔ زمین میں ایسی آبادی بھی اللہ کی مشیئت نہیں اور ایسی مخلوق جو نیک ہی ہوں وہ تو پہلے سے ہی فرشتوں کی صورت میں موجود تھی اللہ نے تو اس دنیا کو امتحان گاہ بنانا اور اسے آباد رکھنا ہے اور اس کی واحد صورت یہی ہے کہ اس دنیا میں نیک و بد دونوں قسم کے لوگ موجود رہیں۔ معرکہ حق و باطل ہوتا رہے اور ان کی آزمائش کا عمل جاری رہے۔ لہذا مجرموں کو فوری طور پر سزا دے کر ہلاک کردینا اللہ کے دستور اور حکمت کے خلاف ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ ۔۔ : ” يُؤَاخِذُ “ یہاں ” یَأْخُذُ “ کے معنی میں ہے، باب مفاعلہ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں پوچھ گچھ کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے۔ ظلم سے مراد کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھنا ہے، سب سے بڑا ظلم شرک ہے، پھر اللہ کی کسی حد سے تجاوز کرنا اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنا ظلم کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہی بات سورة فاطر کی آخری آیت میں بیان فرمائی ہے۔ ” النَّاسَ “ سے مراد یا تو کافر و مشرک ہیں، یا سارے ہی انسان مراد ہیں، خواہ کتنے نیک ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اس کے احکام کی پوری ادائیگی کوئی بھی نہ کرسکا ہے نہ کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭكَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ) [ عبس : ٢٣ ] ” ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔ “ یہ اللہ کا کرم ہے کہ دنیا میں نیک و بد سب کو ایک وقت تک مہلت ملی ہوئی ہے۔ لیکن اگر کبھی دنیا میں اللہ کی گرفت آجائے تو سب نیک و بد، حتیٰ کہ چرند پرند وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے، پھر قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے اپنے ایمان اور نیت و عمل کے مطابق معاملہ ہوگا۔ اس مفہوم کی حدیث کے لیے دیکھیے صحیح بخاری کی ” کِتَابُ الْبُیُوْعِ ، بَابُ مَا ذُکِرَ فِی الْأَسْوَاقِ (٢١١٨) “ میں اس لشکر کا ذکر جو کعبہ پر حملہ کے لیے آئے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر : اور اگر اللہ تعالیٰ (ظالم) لوگوں پر ان کے ظلم (یعنی شرک وکفر) کے سبب (فی الفور دنیا میں پوری) دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حس) و حرکت کرنے والا نہ چھوڑتے (بلکہ سب کو ہلاک کردیتے لیکن (فی الفور داروگیر نہیں فرماتے بلکہ) ایک میعاد معین تک مہلت دے رہے ہیں (تاکہ اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو گنجائش ہو) پھر جب ان کا (وہ) وقت معین (نزدیک) آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فورا سزا ہو جائیگی) اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں (جیسا اوپر آیا ہے (آیت) وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ ) اور (پھر) اس پر اپنی زبان سے جھوٹے دعوے کرتے جاتے ہیں کہ ان کے (یعنی ہمارے) لئے (برتقدیر وقوع قیامت) ہر طرح کی بھلائی ہے (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بھلائی کہاں سے آئی تھی بلکہ) لازمی بات ہے کہ ان کے لئے (قیامت کے دن) دوزخ ہے اور بیشک وہ لوگ (دوزخ میں) سب سے پہلے بھیجے جائیں گے (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کے کفر و جہالت پر کچھ غم نہ کیجئے کیونکہ) بخدا آپ (کے زمانہ) سے پہلے جو امتیں ہو گذری ہیں ان کے پاس بھی ہم نے رسولوں کو بھیجا تھا (جیسا کہ آپ کو ان کے پاس بھیجا ہے) سو (جس طرح یہ لوگ اپنی کفریات کو پسند کرتے ہیں اور اس پر قائم ہیں اسی طرح) ان کو شیطان نے ان کے اعمال (کفریہ) مستحسن کر کے دکھلائے پس وہ (شیطان) آج (یعنی دنیا میں) ان کا رفیق ہے (یعنی رفیق تھا کہ ان کو بہکاتا سکھاتا تھا پس دنیا میں تو ان کو یہ خسارہ ہوا) اور (پھر قیامت میں) ان کے واسطے دردناک سزا (مقرر) ہے (غرض یہ لاحقین بھی ان سابقین کی طرح کفر کر رہے ہیں اور انہی کی طرح ان کو سزا بھی ہوگی آپ کیوں غم میں پڑے) اور ہم نے آپ پر یہ کتاب (جس کا نام قرآن ہے اس واسطے نازل نہیں کی کہ سب کا ہدایت پر لانا آپ کے ذمہ ہوتا کہ بعض کے ہدایت پر نہ آنے سے آپ مغموم ہوں بلکہ) صرف اس واسطے نازل کی ہے کہ جن امور (دین) میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں (مثل توحید ومعاد و احکام حلال و حرام) آپ (عام) لوگوں پر اس کو ظاہر فرما دیں (یہ فائدہ تو قرآن کا عام ہے) اور ایمان والوں کی ہدایت (خاصہ) اور رحمت کی غرض سے (نازل فرمایا ہے سو یہ امور بفضلہ تعالیٰ حاصل ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا (یعنی اس کی قوت نامیہ کو بعد اس کے خشک ہوجانے سے کمزور ہوگئی تھی تقویت دی) اس (امر مذکور) میں ایسے لوگوں کے لئے (توحید کی اور منعم ہونے کی) بڑی دلیل ہے جو (جی سے ان باتوں کو) سنتے ہیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ 61؀ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ دأب الدَّأْب : إدامة السّير، دَأَبَ في السّير دَأْباً. قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] ، والدّأب : العادة المستمرّة دائما علی حالة، قال تعالی: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ، أي : کعادتهم التي يستمرّون عليها . ( د ء ب ) الداب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ داب السیر دابا ۔ وہ مسلسل چلا ۔ قرآن میں ہے وَسَخّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں ( دن رات ) ایک دستور پر چل رہے ہیں ۔ نیز داب کا لفظ عادۃ مستمرہ پر بھی بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ان کا حال بھی فرعونیوں کا سا ہے یعنی انکی اسی عادت جس پر وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں ۔ أخر ( تاخیر) والتأخير مقابل للتقدیم، قال تعالی: بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ [ القیامة/ 13] ، ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَما تَأَخَّرَ [ الفتح/ 2] ، إِنَّما يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصارُ [إبراهيم/ 42] ، رَبَّنا أَخِّرْنا إِلى أَجَلٍ قَرِيبٍ [إبراهيم/ 44] ( اخ ر ) اخر التاخیر یہ تقدیم کی ضد ہے ( یعنی پیچھے کرنا چھوڑنا ۔ چناچہ فرمایا :۔ { بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ } ( سورة القیامة 13) جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ۔ { مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ } ( سورة الفتح 2) تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ { إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ } ( سورة إِبراهيم 42) وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ دہشت کے سبب آنکھیں کھلی کی کھلی ۔ رہ جائیں گی ۔ { رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ } ( سورة إِبراهيم 44) اسے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مہلت عطا کر أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦١) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے کفر پر پکڑ کریں تو سطح زمین پر جن وانس میں سے کسی کو نہ چھوڑیں، لیکن ان کو ان کی متعین زندگیوں تک مہلت دے رہے ہیں، پھر جب ان کی ہلاکت کا وقت معین آپہنچے گا، اس وقت ایک گھڑی نہ اس سے پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے کہ وقت سے پہلے ہلاک ہوجائیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦١ (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ لوگوں کے ظلم و معصیت کی پاداش میں فوری طور پر ان کی گرفت نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دے کر انہیں اصلاح کا پورا پورا موقع دیتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦١۔ ٦٢۔ اللہ پاک اس آیت میں اپنے درگزر کا حال بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک لوگ جیسے جیسے فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں اگر خدا کو اس فتنہ و فساد کا مواخذہ منظور ہو تو ان کے ساتھ ان کی بدبختی کی وجہ سے ساری دنیا کو ہلاک کر دے اور کوئی جاندار روئے زمین پر باقی نہ چھوڑے ١ ؎۔ صحیح مسلم میں ابن عمر (رض) سے ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی پر عذاب کا ارادہ کرتا ہے تو اس عذاب میں اس قوم کے سارے آدمیوں کو شریک کرتا ہے پھر یہ لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسی جس کی نیت اور جیسے جس کے اعتقاد ہوں گے۔ ویسا ہی اس کا حشر ہوگا چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایسا ہوچکا ہے کہ سوائے اہل کشتی کے سارا جہان اس طوفان میں ہلاک ہوگیا کوئی ملک کوئی گاؤں کوئی قریہ باقی نہیں رہا۔ پھر اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ایک وعدہ مقررہ تک ان کا ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ جب وہ وقت آجاوے گا تو پھر گھڑی بھر کی بھی مہلت نہیں ملے گی اور اس میں بھی خدا کی بہت بڑی مصلحت ہے کہ ان کو ایک زمانہ تک زندہ باقی رکھا ہے اور عذاب بھیج کر ہلاک نہیں کیا کیونکہ خداوند جل شانہ عالم الغیب ہے ان سے انہیں اس بات کا موقع دیا کہ شاید یہ عذر کریں اور اپنے کفر اور سرکشی سے شرمسار ہو کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور ان کی نسل جو اولاد پیدا ہو وہ اہل ایمان ہو پھر اللہ پاک نے اس بات کا ذکر کیا کہ جن باتوں سے کفار کو عار ہے اور جو بات یہ لوگ اپنے واسطے پسند نہیں کرتے مثلاً لڑکیوں کا ہونا وہ خداوند جل جلالہ کے حق میں یوں کہتے ہیں کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ خود ان کو یہ گوارا نہیں ہے کہ کوئی شخص ان کی ملکیت میں قبضہ کرے اور ان کے مال میں تصرف کرے پھر خدائے غالب وقہار کے ساتھ اس کے صفات میں کیوں کر کسی کو شریک سمجھتے ہیں۔ آسمان زمین کے انتظام میں کوئی اس کا شریک نہیں اور باوجود ان باتوں کے پھر وہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں آخرت میں فلاحیت ہوگی یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دنیا میں تو تم ایسے ایسے ظلم و فساد کرو رسولوں کو جھٹلاؤ کفر کرو خدا کے شریک ٹھہراؤ خدا کی ذات میں عیب لگاؤ کہ اس کی بیٹیاں ہیں اور پھر آخرت میں بھلائی کی امید رکھو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہے وہاں تو ان لوگوں کے واسطے دوزخ ہے اور پہلے پہل یہی دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور جس طرح دنیا میں یہ لوگ خدا کو بھولے ہوئے بیٹھے تھے اسی طرح یہ لوگ وہاں اللہ کی رحمت سے ایسے بھلائے جائیں گے پھر ان کی کوئی خبر بھی نہیں لے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک وقت مقررہ تک اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور جب یہ لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے تو پھر ان کو برباد کردیتا ہے ٣ ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ وقت مقررہ تک مہلت دی لیکن مہلت کے زمانہ میں جب یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو ان کی بربادی شروع ہوئی پہلے مکہ میں سخت قحط پڑا جس میں یہ لوگ مردار جانوروں کی کھالیں تک کھا گئے۔ پھر بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے بڑے سرکش مارے گئے اور پھر فتح مکہ کے بعد ان میں کوئی سرکش دنیا پر باقی نہ رہا چناچہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول نے ان کے بتوں کو لکڑیاں مار مار کر زمین پر گرا دیا اور کوئی شخص ان کی حمایت کو کھڑا نہیں ہوا۔ سورت احقاف میں فرمایا وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیرا ما سبقونا الیہ (٤٦: ١١) مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں مالدار لوگ غریب مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنی مہربانی سے دنیا میں ہم کو خوشحال کر رکھا ہے جس کے سبب سے ہم ان غریب مسلمانوں سے ہر حال میں بہتر ہیں اگر حشر کا قائم ہونا سچ ہوتا اور اسلام حشر کی بہبودی کا سبب ہوتا تو دنیا کی بہبودی کے قیاس سے ہم ان غریب مسلمانوں سے پہلے دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے سورت احقاف کی یہ آیت و تصف السنتھم الکذب ان لھم الحسنی کی تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی قدرت میں بتوں کو شریک قرار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شان میں صاحب اولاد ہونے کا بٹہ لگاتے ہیں اور بٹہ بھی ایسا کہ خود تو لڑکیوں سے گھبراتے ہیں اور انہیں لڑکیوں کو اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں لڑکوں کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور پھر دنیا کی چند روزہ خوشحالی کے قیاس پر عقبیٰ کی خوشحالی کی توقع رکھتے ہیں ان لوگوں کا اللہ پر یہ جھوٹ باندھنا ہے۔ نمرود، فرعون اور قارون دنیا میں ان لوگوں سے زیادہ خوشحال تھے لیکن ان کی بد افعالی نے جو نتیجہ انہیں دکھایا وہ ان لوگوں نے سنا ہوگا اس لئے ان کو ہوشیار کردیا جاوے کہ ایسے حد سے بڑھ جانے والے سرکش لوگوں کو عقبیٰ کی بہبودی کا میسر آنا تو درکنار بلکہ ایسے لوگوں کا انجام دوزخ ہے کیوں کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے انصاف کے بالکل برخلاف ہے کہ وہ نیک و بد کا عقبے میں ایک انجام کر دیوے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس (رض) کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے ٤ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کر لیوے اور نادان وہ شخص ہے جو عمر بھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں لگا رہے اور عقبیٰ کی بہبود کی توقع رکھے اس حدیث کو بھی آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ طرح طرح کی نافرمانیوں میں گرفتار رہ کر دونوں جہان کی بہبود کی توقع جو اللہ تعالیٰ سے رکھتے تھے یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی اور ایک شیطانی وسوسہ تھا مفرطون کو بعضے سلف نے افراط سے لیا ہے جس کے معنے حد سے بڑھ جانے کے ہیں شاہ صاحب نے ترجمہ میں یہی قول لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ شیطانی نے ان لوگوں کو نافرمانی میں حد سے بڑھا دیا ہے اس لئے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ قتادہ نے مفرطون کو فرط سے لیا ہے جس کے معنے پیشرو کے ہیں مطلب یہ ہے کہ ایسے سرکش لوگ پیشرو کی طرح عام دوزخیوں سے پہلے دوزخ میں جاویں گے لیکن حافظ ابن جریر نے اس معنے کو محاورہ عرب کے خلاف قرار دیا ہے۔ ١ ؎ صفحہ ٣٨٧ ج ٢ باب الامر بحسن الظن باللہ و تفسیر فتح البیان ص ٧٠٩ ج ٢۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٦٧٨ ج ٢ وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری۔ ٣ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٢٣٣۔ ٤ ؎ جلد ہذا ص ٣١٥، ٣٣٧ صحیح مسلم ص ٣٧٦ ج ٢ باب فخریش الشیطان الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:61) دآبۃ۔ جاندار۔ جانور۔ چلنے والا۔ رینگنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 اللہ تعالیٰ حلم اور پردہ پوشی سے کام لیتا ہے۔ یہاں ” داب 1“ سے مراد یا تو کافر اور گنہگار لوگ ہیں اور یا یہ ہر جاندار چیز کو شامل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بنی آدم کے گناہوں کی نحوست کا اثر دوسرے جانوروں پر بھی پڑتا ہو جیسا کہ بعض آثار سے ثابت ہے اور یا دوسرے جانوروں پر ہلاکت انسان کے بالتبیع ہو (کذافی ابن کثیر) 9 یعنی جب تک ان کے لئے اس دنیا میں رہنا مقصدر ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٨) اسرارومعارف یہ لوگ اس قدر ظالم ہیں کہ اگر ان کے مشرکانہ عقاید وافعال پر اللہ جل جلالہ فورا گرفت فرمانے لگے تو ان میں سے کوئی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے اور ان کی گرفت ہوگی بچ نہ سکیں گے صرف انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی جاتی ہے اور جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ گھڑی بھر بھی اسے آگے پیچھے کرسکے ، ذرا گستاخی کی حد تو دیکھو کہ جو چیز خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے یعنی بیٹیاں وہ اللہ جل جلالہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ اس پر انہیں انعامات نصیب ہوں گے مگر بلاشک ایسے لوگ کے لیے تو آگ ہی ہے جس میں وہ بدستور اضافہ کر رہے ہیں کہ ہر مشرکانہ فعل و عقیدہ اس میں مزید ایندھن جھونکنے والی بات ہے ۔ اللہ جل جلالہ کی قسم یعنی اس کی عظیم ذات گواہ ہے کہ آپ سے پہلی امتوں میں بھی جب رسول بھیجے گئے تو ان کی مخالفت کے عمل کو شیطان نے انہیں بڑا مزین کر کے دکھایا اور انہیں یوں بتایا گویا یہ بڑی بہادری کا کام کر رہے ہیں مگر آج یعنی انجام کار یہ اسی کے ساتھ ہیں اور اسی انجام کو پہنچے جو شیطان کا تھا ان سب کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے ۔ (حدیث شریف کا مرتبہ) اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پر کتاب نازل فرمانے سے غرض یہ ہے کہ آپ لوگوں کو کھول کر حق بتا دیں جن عقائد و اعمال میں نظریات وخیالات میں یہ بھٹک رہے ہیں ان میں راہ ہدایت واضح ہوجائے اور ایمان لانے والوں کو اللہ جل جلالہ کی رحمت نصیب ہو گویا پھر سے ارشاد ہے کہ کتاب اللہ کا بیان کرنا اسکے معنی متعین کرنا منصب رسالت ہے اور اسی کا نام حدیث ہے لہذا اس کا انکار ہدایت سے انکار اور رحمت سے محرومی ہے ۔ اللہ جل جلالہ کی قدرت کاملہ تو سامنے ہے کہ وہی بارش برسا کر مردہ زمین کو حیات نو عطا کرتا ہے اور جہاں خاک اڑتی ہو وہ سبزہ زار بن جاتے ہیں صرف بہاروں کی آمد میں ان لوگوں کے لیے جو سنیں یعنی توجہ کریں اور دھیان دیں بہت دلیلیں موجود ہیں ، اور قدرت کاملہ کی عظمت ظاہر ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 یواخذ وہ پکڑتا ہے۔ ماترک اس نے نہ چھوڑا (وہ نہ چھوڑے گا) یوخر وہ مہلت دیتا ہے، تاخیر کرتا ہے۔ اجل مدت، موت۔ لایستاخرون نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ لایستقدمون نہ وہ آگے بڑھیں گے۔ یکرھون وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تصف ملوث ہوتے ہیں، کہتے ہیں۔ السنۃ (لسان) زبانیں۔ مفرطون آگے بڑھا رہے ہیں۔ زین خوبصورت بنا دیا۔ احیا اس نے زندگی دی۔ یستمعون وہ سنتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 61 تا 65 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین اللہ کی شان میں گستاخی کر گزرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ ہر عیب سے پاک ہے وہ بیٹا، بیٹی کا محتاج نہیں یہ خود ان کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور ستم تو یہ ہے کہ اپنے لئے تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان کے ہاں لڑکے پیدا ہوں، لڑکیوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن دیویوں سے لے کر فرشتوں تک اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرتے ہیں یعنی لڑکے ان کفار کے لئے اور لڑکیاں اللہ کے لئے ۔ اس بات کو گزشتہ آیات میں تفصیل سے فرما دیا گیا ۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کی شان میں اتنی بڑی گستاخی کی سزا تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ اللہ فوراً ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا لیکن یہ اللہ کا لطف و کرم اور حلم و برداشت ہے کہ وہ ان کو اسی وقت اسی وقت سزا نہیں دے رہا ہے کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ کفار و مشرکین اور گناہگاروں کو ایک خاص مدت تک مہلت اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ توبہ کر کے اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح کرلیں۔ لیکن اگر وہ اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تب اللہ کا وہ فیصلہ آجاتا ہے جس کے آنے اور واقع ہونے میں گھڑی بھر نہ دیر ہوتی ہے نہ جلدی ۔ فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی سخت غلطی اور ناانصافی ہے کہ وہ ہر اچھی بات کو اپنے لئے خاص کرتے ہیں اور ہر بری چیز کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کو اس ذہنی گستاخانہ روش سے باز آجانا چاہئے۔ ورنہ اللہ کے فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگی گی۔ جس طرح وہ اللہ کی شان میں گستاخی کرتے تھے اسی طرح وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں بھی کسی گستاخی کے کرنے سے پیچھے نہیں رہتے تھے۔ کبھی آپ کا مذاق اڑاتے۔ دین کی سربلندی اور کوششوں میں رکاوٹ بنتے اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کو طرح طرح سے ستاتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان حالات سے سخت رنجیدہ ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کیؤ نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول اور نبی آئے ہیں ان کو اسی طرح ستایا گیا ہے۔ شیطان نے ان کا ساتھی بن کر ان کے برے عمل کو ان کی نگاہوں میں بہت خوبصورت بنا کر پیش کیا تھا جس سے ان کو یقین ہوجاتا تھا کہ وہ سیدھی راہ پر ہیں۔ یہی صورتحال آپ کے ساتھ بھی ہے کہ شیطان نے اپنے جال پھیلا رکھے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر کے ان کو گمراہ کرتا رہتا ہے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اللہ کے دین کو ان تک پہنچاتے رہئے۔ ہر اصول کی وضاحت پیش کرتے رہئے کیونکہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے گا ان کے لئے یہ قرآن ہدایت و رحمت بن جائے گا۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کا دین ان تک پہنچاتے رہئے، شیطان کی ہر چال ناکام ہو کر رہے گی اور جس طرح بارش کے پانی سے مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے اسی طرح یہ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے ہدایت و رحمت بن کر ان کو ایک نئی زندگی اور اس کی بہاریں عطا فرمائے گا جو ان کی دنیا اور آخرت کو سنوار دے گا۔ فرمایا کہ جو لوگ اس قرآن کریم اور آپ کے ارشادات کو سن کر عمل کریں گے ان کے لئے یہ بڑی نشانی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا اور فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دینا بدترین ظلم ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق ظالموں کی فی الفور گرفت نہیں کرتا۔ کفار، مشرک اور مجرم پیشہ لوگوں کو جب ان کے کفرو شرک اور ان کے مظالم کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ اپنے آپ کو سچاثابت کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دیتے ہیں۔ کہ اگر اللہ کو ہمارے عقائد اور اعمال اتنے ہی ناپسند ہیں تو پھر وہ ہماری گرفت کیوں نہیں کرتا ؟ بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ آخر کوئی سبب تو ہے جس کی بنا پر کفر و شرک اور جرائم کے مرتکب لوگوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ایسا نہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور گرفت سے باہر ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور مقرر کردہ مدت کی وجہ سے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے۔ اگر لوگوں کے جرائم اور ان کی عجلت بازی کی و جہ سے اللہ تعالیٰ پکڑنا چاہے تو مجرم تو درکنار کوئی جاندار چیز بھی زمین پر باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مقرر کردہ مدت کے مطابق انہیں ڈھیل دیے ہوئے ہے۔ جب اس کی گرفت کا وقت آپہنچے گا تو وہ ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکے گا۔ (عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ (رض) قَالَ مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِجَنَازَۃٍ قَالَ مُسْتَرِیْحٌ وَّمُسْتَرَاحُ مِنْہُ قَالُوْا یَا رَسُول اللّٰہِ ! مَا الْمُسْتَرِیْحُ والْمُسْتَرَاحُ مِنْہُ قَالَ الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْیَا وَأَذَاہَآ إِلٰی رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْہُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَّابُّ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت ابی قتادہ بن ربعی بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ نے فرمایا آرام پا گیا اور اس سے آرام پا گئے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! آرام پا گیا اور آرام پا گئے، سے کیا مراد ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن دنیا کے مصائب اور تکلیفوں سے نجات پا کر اللہ کی رحمت کا حق دار بن گیا اور فاسق و فاجر سے لوگ، شہر، درخت اور چوپائے آرام پا گئے۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٦١ اللہ ہی ہے جس نے اس تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے ، خصوصاً انسانوں کو۔ پھر ان پر وسیع انعامات کئے ، لیکن انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے کہ وہ ظلم بھی کرتا ہے اور فساد فی الارض کی مرتکب بھی ہوتا ہے اور اس کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ عقیدۂ توحید سے انحراف کر کے شرک کرتا ہے۔ پھر دوسرا ظلم یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے پر بھی ظلم کرتے ہیں۔ پھر وہ دوسری مخلوقات کو بھی اذیت دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام مظالم کے باوجود اللہ تعالیٰ صبر کرتا ہے ، ان پر رحم کرتا ہے اور ان کو مہلت دیتا ہے۔ لیکن آخرکار ان کو یونہی چھوڑ نہ دیا جائے گا بلکہ ان سے اس مہلت کے اختتام پر اس سے حساب لیا جائے گا۔ اللہ کی قوت حکیمانہ ہے اور اس کی رحمت عادلانہ ہے لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب مہلت ملتی ہے تو وہ غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کی رحمت اور حکمت کو صحیح طرح نہیں سمجھتے۔ یہاں تک کہ اللہ کی قوت اور اس کی صفت عدل ان کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ اور یہ کام اس وقت ہوتا ہے جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ نے یہ مہلت کیوں دی ؟ اس لیے کہ وہ رحیم ہے۔ فاذا جاء ۔۔۔۔ یستقدمون (١٦ : ٦١) “ پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر اس سے ایک گھڑی بھر بھی کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا ”۔ لیکن ان لوگوں کی سوچ و طرز عمل کا تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف وہ بات منسوب کرتے ہیں جسے وہ خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے۔ اور پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے اور ان کے ساتھ اچھا اور بھلائی کا سلوک ہوگا اور یہ اچھا سلوک ان کی اس کج فکری اور کج روی پر ہوگا۔ لیکن قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں بتا دیتا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یقیناً اس سے مختلف ہوگا جو یہ لوگ سوچتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

لوگوں کے ظلم کی وجہ سے اللہ گرفت فرماتا تو زمین پر چلنے والوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑتا مشرک اور کافر اپنے عقائد اور اعمال کی وجہ سے جو سراپا ظلم ہے عذاب کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ اگر چاہتا تو فوراً عذاب دیتا اور ہلاک فرما دیتا لیکن اس کی عادت اس طرح نہیں ہے بلکہ وہ مہلت عطا فرماتا ہے اور جس قوم کی ہلاکت ہوتی ہے وہ میعاد مقرر تک پہنچ جاتی ہے جب میعاد معین آجاتی ہے یعنی آنے کے قریب ہوتی ہے تو اس وقت نہ آگے بڑھ سکتے ہیں نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ لوگوں کے مظالم کی وجہ سے فوری مواخذہ نہیں فرماتا، اگر وہ فوری مواخذہ فرماتا تو زمین پر کسی بھی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ مذکورہ بالا مضمون بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے لیے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ (یعنی بیٹیاں جنہیں اپنے لیے گوارہ نہیں کرتے، بیچ میں جملہ معترضہ تھا آگے مضمون سابق کا تکملہ ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مشرکین کفر و افتراء میں انتہاء کو پہنچ چکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پکڑنے میں عجلت سے کام نہیں لیتا اگر وہ لوگوں کو ان کے گناہوں پر فورًا پکڑ لیتا تو اب تک زمین پر کوئی جاندار زندہ باقی نہ رہتا اور سب ہلاک ہوچکے ہوتے اور زمین زندگی سے خالی ہوچکی ہوتی، کیونکہ معصوم تو صرف انبیاء (علیہم السلام) ہیں باقی سب لوگ (مومن و کافر) کسی نہ کسی درجہ میں ظالم و خطا کار ہیں، جب تمام بدکار اور خطاکار لوگ ہلاک کردئیے گئے تو اب انبیاء معصومین کو زمین پر بھیجنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی جب زمین تمام نیک و بد انسانوں سے خالی ہوگئی تو پھر دیگر حیوانات کو زمین پر رکھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ووجہ الملازمۃ انہ تعالیٰ لواخذھم بما کسبوا من کفر او معصیۃ لعجل ھلاکھم و حینئذ لا یبقی لھم نسل ومن المعلوم ان لا احد الاوفی اٰبائہ من یستحق العقاب واذا ھلکوا جمیعا و بطل نسلھم لا یبقی احد من الناس و حینئذ یھلک الدواب لانھا مخلوقۃ لمنافع العباد و مصالحم الخ (روح ج 14 ص 171) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں ” ما ترک علی ظھرھا من دابۃ “ یہ کنایہ ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑنے لگے تو کوئی اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا اور نہ کہیں بھاگ کر جاسکتا ہے یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی جانور کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گا۔ 46:۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو پکڑنے میں جلدی نہیں فرماتا بلکہ اجل مسمی (مقررہ وقت) تک انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ انہیں اصلاح حال کا موقع مل جائے۔ لیکن جب عذاب کا وقت معین آ پہنچتا ہے تو انہیں عذاب سے ہلاک کردیا جاتا ہے۔ عذاب نہ اجل معین سے پہلے آسکتا ہے نہ اس میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ” فاذا “ کی جزا محذوف ہے ای فاذا جاء اجلھم یعذبون اور ” لایستاخرون الخ “ جملہ مستقلہ ہے جو ماقبل کی تفسیر کرتا ہے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ اس کی تفصیل پہلے گذر ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر سورة یونس حاشیہ نمبر 67 ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

61 ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم اور ناانصافی کی وجہ سے پکڑنے لگے تو روئے زمین پر کسی چلنے والے اور حرکت کرنیوالے کو نہ چھوڑے لیکن وہ ایک وقت مقررہ اور وقت موعود تک لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا وہ وقت آجائے گا تو وہ اس وقت مقررہ سے نہ گھڑی بھر پیچھے رہ سکیں گے اور نہ گھڑ ی بھر اس وقت مقررہ سے آگے بڑھ سکیں گے۔ یعنی جب عذاب آئے تو سب ہی ہلاک ہوں مگر جو وقت گرفت کا مقرر ہے اس سے پہلے در گزر فرماتے رہتے ہیں جس زمانے میں جیسے گناہ بڑھتے ہیں اسی طرح کا عذاب بھی شدید ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لوگوں کو سزا دے تو مینہ بند کرے اس میں جانور بھی مریں۔