Allah does not immediately punish for Disobedience
Allah tells:
وَلَوْ يُوَاخِذُ اللّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَابَّةٍ وَلَكِن يُوَخِّرُهُمْ إلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَإِذَا جَاء أَجَلُهُمْ لاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَ
And if Allah were to punish (all) mankind for their wrongdoing, He would not leave on it (the earth) a single moving creature, but He defers them to an appointed term; and when their term comes, they can neither delay nor advance it an hour (or a moment).
Allah tells us about His patience with His creatures, even though they do wrong. If He were to punish them for what they have done, there would be no living creature left on the face of the earth, i.e., He would have destroyed every animal on earth after destroying the sons of Adam. But the Lord - magnificent is His glory - is forbearing and He covers people's faults. He waits until the appointed time, i.e., He does not rush to punish them. If He did, then there would be no one left.
Ibn Jarir reported that Abu Salamah said:
"Abu Hurayrah heard a man saying, `The wrongdoer harms no one but himself.'
He turned to him and said,
`That is not true, by Allah! Even the buzzard dies in its nest because of the sins of the wrongdoer."'
They attribute to Allah what They Themselves dislike
Allah tells
وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے
اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے ۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہو جائیں ۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے ۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آ جائیں ۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے ، در گزر فرما رہا ہے ، معافی دے رہا ہے ۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے ، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے ۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں ۔ ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں ، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے ۔
اپنے لئے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں ، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لئے یہ سب روا رکھیں ۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لئے ہے ۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں ۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لئے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے ، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا ۔ سورہ کہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کر تے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہو نے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دو بارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا ۔ کام برے کریں آ زو نیکی کی رکھیں ۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں ۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لئے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا ، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا ، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا ۔ پس انکی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی ۔ اللہ فرماتا ہے دراصل ان کے لئے آتش دوزخ تیار ہے ۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہو جائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں ، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے ، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں ۔