Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 67

سورة النحل

وَ مِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَ الۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡہُ سَکَرًا وَّ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾

And from the fruits of the palm trees and grapevines you take intoxicant and good provision. Indeed in that is a sign for a people who reason.

اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے ہو اور عمدہ روزی بھی ۔ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لئے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالاَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا ... And from the fruits of date palms and grapes, you derive strong drink, This indicates that it was permissible to drink it before it was forbidden. It also indicates that strong drink (i.e., intoxicating drink) derived from dates is the same as strong drink derived from grapes. Also forbidden are strong drinks derived from wheat, barley, corn and honey, as is explained in detail in the Sunnah. ... سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ... strong drink and a goodly provision. Ibn Abbas said: "Strong drink is the product of these two fruits that is forbidden, and the good provision is what is permitted of them." According to another report: "Strong drink is its unlawful, and the goodly provision is its lawful," referring to the fruits when they are dried, like dates and raisins, or products derived from them such as molasses, vinegar and wine (of grapes, dates) which are permissible to drink before they become strong (becomes alcoholic), as was stated in the Sunnah. ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لايَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ There is indeed a sign in this for those of reason. It is appropriate to mention reason here, because it is the noblest feature of man. Hence Allah forbade this Ummah from drinking intoxicants, in order to protect their ability to reason. Allah says: وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُواْ مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَ يَشْكُرُونَ سُبْحَـنَ الَّذِى خَلَق الاٌّزْوَجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الاٌّرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُونَ And We placed gardens of date palms and grapes in it, and We caused springs of water to gush forth in it. So that they may eat of its fruit - while their hands did not make it. Will they not then give thanks Glory be to Him Who created all the pairs of that which the earth produces, as well as their own (human) kind (male and female), and of that which they know not. (36:34-36)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

67۔ 1 یہ آیت اس وقت اتری تھی جب شراب حرام نہیں تھی، اس لئے حلال چیزوں کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس میں سَکَرً ا کے بعد رِزْقًا حَسَنًا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ نیز یہ سورت مکی ہے۔ جس میں شراب کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ پھر مدنی سورتوں میں بتدریج اس کی حرمت نازل ہوگئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] مکی دور میں شراب کی ناپسندیدگی پر اشارہ :۔ چار قسم کے مشروب ہیں جو اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں اور یہ مشروب انسان کو اللہ نے اس دنیا میں عطا فرمائے ہیں اور اہل جنت کو جنت میں بھی بافراط عطا فرمائے گا۔ ایک پانی، دوسرے دودھ، تیسرے شراب چوتھے شہد (٤٧: ١٥) ان میں سے دو کا ذکر پہلی دو آیات میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں شراب کا ذکر اور اس سے بعد کی آیت میں شہد کا۔ اس آیت میں کھجور اور انگور کا ذکر اس لیے ہوا کہ یہی پھل عرب میں زیادہ تر پائے جاتے تھے ورنہ اور بھی کئی قسم کے پھلوں اور غلوں سے شراب کشید کی جاتی ہے اور جن چیزوں سے یہ شراب تیار کی جاتی ہے خواہ پھل ہوں یا غلے ہوں۔ سب پاکیزہ قسم کا رزق ہے اور عمدہ رزق سے مراد پھلوں کا رس یا جوس یا شکر یا شیرہ یا نبیذ یا ملک شیک و سرکہ، کشمش، منقہ، اور چھوہارے جن سے شراب بنتی ہے اور یہ سب چیزیں انسان کی تربیت اور صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں علاوہ ازیں خوشگوار اور مزیدار بھی ہیں۔ مگر جب اسی رس میں سڑانڈ پیدا ہوجاتی ہے اور وہ الکوحل کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے جس کے پینے سے انسان بدمست ہوجاتا ہے۔ لہذا یہ عمدہ رزق نہ رہا۔ یہ بات ملحوظ رکھنا چاہیے کہ یہ سورت مکی ہے اور شراب مدنی دور میں حرام ہوئی تھی۔ مکی دور میں اگرچہ شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ تاہم اسے عمدہ رزق سے خارج کردیا گیا۔ جس میں یہ اشارہ پایا جاتا تھا کہ یہ کسی وقت حرام قرار دے دی جائے گی۔ اور اہل جنت کو جو شراب مہیا کی جائے گی اس میں سے اس کے مضر پہلو کو ختم کردیا جائے گا یعنی جنتی لوگ شراب پئیں گے تو نہ ان کا سر چکرائے گا، نہ مستی پیدا ہوگی نہ کوئی لغو باتیں کریں گے اور نہ ان کی عقل مستور ہوگی اور یہی وہ نقصانات ہیں جن کی وجہ سے شراب کو اس دنیا میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور ان چیزوں میں نشانی یہ ہے کہ ایک ہی چیز میں وہ مادہ بھی موجود ہے جو انسان کے لیے حیات بخش غذا بن سکتا ہے اور وہ مادہ بھی موجود ہے جو سڑ کر نشہ آور شراب یا الکوحل میں تبدیل ہوجاتا ہے اب یہ انسان کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ ان سرچشموں سے پاک رزق حاصل کرتا ہے یا عقل کو زائل کردینے والی شراب کا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ ۔۔ : ” النَّخِيْلِ “ اور ” اَلنَّخْلُ “ اسم جنس ہیں، کھجور کا درخت۔ اگر ایک درخت واضح کرنا ہو تو ” تاء “ لگا دیتے ہیں، ” نَخِیْلَۃٌ“ اور ” نَخْلَۃٌ“۔ ” نَخَلَ یَنْخُلُ “ کا معنی ہے چھان کر عمدہ حصہ الگ کرنا، چھاننا۔ اس لیے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ چونکہ کھجور پھلوں میں منتخب ترین پھل ہے، اس لیے اسے ” نَخِیْلٌ“ کہتے ہیں۔ اس کے پھل کے مختلف وقتوں کے لحاظ سے الگ الگ نام ہیں، ” اَلْبَلَحُ “ پھر ” اَلْبُسْرُ “ پھر ” اَلرُّطَبُ “ پھر ” اَلتَّمْرُ “۔ اس لیے اس کے درخت کا نام لیا اور انگور کے پھل کا نام جمع کے ساتھ ” وَالْاَعْنَابِ “ لیا، کیونکہ انگور کی بیشمار قسمیں ہیں، البتہ اس کی بیل کو عربی میں ” اَلْکَرْمُ “ کہتے ہیں۔ ” سَكَرًا “ نشہ آور چیز، یہ ” سَکَرٌ“ اور ” سُکْرٌ“ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے، جیسے ” رَشَدٌ“ اور ” رُشْدٌ“ دودھ والے جانوروں کے بعد پھلوں کی نعمت ذکر فرمائی۔ عرب میں یہ دو پھل زیادہ تھے، پھر یہ تازہ بھی کھائے جاتے ہیں اور ذخیرہ بھی ہوسکتے ہیں۔ ان سے بیشمار مصنوعات بھی بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بنائی ہوئی چیزوں کو دو قسمیں قرار دیا، ایک نشہ آور اور ایک رزق حسن۔ اس سے اشارہ فرمایا کہ نشہ بھی اگرچہ فائدے سے خالی نہیں مگر وہ اچھا رزق نہیں۔ یہ آئندہ شراب کی حرمت کی تمہید ہے اور بطور نعمت اس لیے ذکر کیا کہ مکہ میں شراب حلال تھی اور یہ سورت مکی ہے۔ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ : رزق حسن میں لذت و قوت تو ہے، مگر سکر کی طرح عقل سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا نقصان نہیں، یہ بات عقل والے ہی سمجھتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Described in the previous verses were blessings of Allah Ta’ ala which manifest the stunning marvel of Divine power and creativity. Of these, the first to be mentioned was milk which nature has gifted human be¬ings with after having made it go through its own processing in the bel¬lies of animals separating it from feces and blood and delivering it as a finished product, pure and pleasant, food and drink in one. No subse¬quent human effort or artifice is needed here. Therefore, the word used in the text is: n نُسقِیکُم (nusqikum: We provided you with milk to drink).& The stress is self-explanatory. After that it was said that human beings do make things from some fruits of the date-palms and grape-vines as well, which serve them as food, and other benefits. The hint ingrained here is that there is some intervening role played by human ingenuity, innovation and artifice in making the fruits from date-palms and grape-vines yield what they eat or benefit from in other ways. As a result of the factor of intervention, two kinds of things were made. The first is what intoxicates, the com¬mon form of which is liquor. The second is: Rizq Hasan, that is, good provision, like dates and grapes which everyone is welcome to use as fresh food, or dry it and store it for later use. The purpose is that Allah Ta’ ala, in His perfect power, has given to human beings fruits like dates and grapes, and along with it, He also gave human beings the choice to make things they eat and drink out of them. Now the option is theirs. Let them make what they would: Make what intoxicates and knocks their re¬ason out, or make food out of them and get strength and energy! According to this tafsir, this verse cannot be used to prove the lawfulness of that which intoxicates, that is, liquor.` This is because the purpose here is to state the nature of Divine blessings and the different forms they could take when used. It goes without saying that these remain the Divine blessings they are under all conditions. Take the example of foods, drinks and many things of benefit. People use them. Some also use them in ways which are not permissible. But, the incidence of someone using things wrongfully would not stop a blessing from remaining the blessing it is. Therefore, this is no place to go into details as to which of the uses is lawful and which is otherwise and unlawful. Nevertheless, not to be missed here is the delicate hint given by setting up |"rizq Hasan|" (good provision) in contrast with |"sakar|" (intoxicant) which tells us that |"sakar|" is not a good provision. According to the majority* of commentators, |"sakar|" means what intoxicates. (Ruh al-Ma ani, Qurlubi, Jassas) These verses are Makki by consensus. As for the unlawfulness of liqu¬or, it came after that in Madinah. Though liquor was lawful at the time of the revelation of this verse and Muslims used to drink openly, yet, even at that time, a hint was given in this verse towards the fact that drinking of liquor was not good. After that, came the specific injunctions of the Qur’ an which made liquor Haram (unlawful) clearly, emphatically and categorically. (Condensed from Al-Jassas and Al-Qurtubi)

خلاصہ تفسیر : اور (نیز) کھجور اور انگوروں (کی حالت میں غور کرنا چاہئے کہ ان) کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز اور عمدہ کھانے کی چیزیں (جیسے خرمائے خشک وکشمش اور شربت اور سرکہ) بناتے ہو بیشک اس میں (بھی توحید اور منعم ہونے کی) ان لوگوں کے لئے بڑی دلیل ہے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔ معارف و مسائل : پچھلی آیتوں میں حق تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر تھا جو انسانی غذائیں پیدا کرنے میں عجیب و غریب صنعت وقدرت کا مظہر ہیں اس میں پہلے دودھ کا ذکر کیا جس کو قدرت نے حیوان کے پیٹ میں خون اور فضلہ کی آلائشوں سے الگ کر کے صاف ستہری غذاء انسان کے لئے عطاء کردی جس میں انسان کو کسی مزید صنعت کی ضرورت نہیں اسی لئے یہاں لفظ نُسْقِيْكُمْ استعمال فرمایا کہ ہم نے پلایا دودھ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کھجور اور انگور کے کچھ پھلوں میں سے بھی انسان اپنی غذا اور نفع کی چیزیں بناتا ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے اپنی غذاء اور منفعت کی چیزیں بنائی گئیں ایک نشہ آور چیز جس کو خمر یا شراب کہا جاتا ہے دوسری رزق حسن یعنی عمدہ رزق کہ کھجور اور انگور کو تروتازہ کھانے میں استعمال کریں یا خشک کر کے ذخیرہ کرلیں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کھجور اور انگور کے پھل انسان کو دیدئیے اور اس سے اپنی غذا وغیرہ بنانے کا اختیار بھی دے دیا اب یہ اس کا انتخاب ہے کہ اس سے کیا بنائے نشہ آور چیز بنا کر عقل کو خراب کرے یا غذا بنا کر قوت حاصل کرے۔ اس تفسیر کے مطابق اس آیت سے نشہ آور چیز یعنی شراب کے حلال ہونے پر کوئی استدلال نہیں ہوسکتا کیونکہ یہاں مقصود قدرت کے عطیات اور ان کے استعمال کی مختلف صورتوں کا بیان ہے جو ہر حال میں نعمت خداوندی ہے جیسے تمام غذائیں اور انسانی منفعت کی چیزیں کہ ان کو بہت سے لوگ ناجائز طریقوں پر بھی استعمال کرتے ہیں مگر کسی کے غلط استعمال سے اصل نعمت تو نعمت ہونے سے نہیں نکل جاتی اس لئے یہاں یہ تفصیل بتلانے کی ضرورت نہیں کہ ان میں کون سا استعمال حلال ہے کون سا حرام تاہم ایک لطیف اشارہ اس میں بھی اس طرف کردیا گیا کہ سکر کے مقابل رزق حسن رکھا جس سے معلوم ہوا کہ سکر اچھا رزق نہیں ہے سکر کے معنی جمہور مفسرین کے نزدیک نشہ آور چیز کے ہیں (روح المعانی قرطبی جصاص) یہ آیات باتفاق امت مکی ہیں اور شراب کی حرمت اس کے بعد مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی نزول آیت کے وقت اگرچہ شراب حلال تھی اور مسلمان عام طور پر پیتے تھے مگر اس وقت بھی اس آیت میں اشارہ اس طرف کردیا گیا کہ اس کا پینا اچھا نہیں بعد میں صراحۃ شراب کو شدت کے ساتھ حرام کرنے کے لئے قرآنی احکام نازل ہوگئے (ہذا ملخص مافی الجصاص والقرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 67؀ ثمر الثَّمَرُ اسم لكلّ ما يتطعم من أحمال الشجر، الواحدة ثَمَرَة، والجمع : ثِمَار وثَمَرَات، کقوله تعالی: أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] ( ث م ر ) الثمر اصل میں درخت کے ان اجزاء کو کہتے ہیں جن کو کھایا جاسکے اس کا واحد ثمرۃ اور جمع ثمار وثمرات آتی ہے قرآن میں ہے :۔ أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] اور آسمان سے مبینہ پرسا کر تمہارے کھانے کے لئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کیے ۔ نخل النَّخْلُ معروف، وقد يُستعمَل في الواحد والجمع . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] وقال : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] ، وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] ، وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] وجمعه : نَخِيلٌ ، قال : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] والنَّخْلُ نَخْل الدّقيق بِالْمُنْخُل، وانْتَخَلْتُ الشیءَ : انتقیتُه فأخذْتُ خِيارَهُ. ( ن خ ل ) النخل ۔ کھجور کا درخت ۔ یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ۔ كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔ وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گا بھاتہ بہ تہ ہوتا ہے اس کی جمع نخیل آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] اور کھجور کے میووں سے بھی ۔ النخل ( مصدر کے معنی چھلنی سے آٹا چھاننے کے ہیں اور انتخلت الشئی کے معنی عمدہ چیز منتخب کرلینے کے ؛ عنب العِنَبُ يقال لثمرة الکرم، وللکرم نفسه، الواحدة : عِنَبَةٌ ، وجمعه : أَعْنَابٌ. قال تعالی: وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنابِ [ النحل/ 67] ، وقال تعالی: جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ [ الإسراء/ 91] ، وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنابٍ [ الرعد/ 4] ، ( عن ن ب ) العنب ( انگور ) یہ انگور کے پھل اور نفس کے لئے بھی بولا جات ا ہے اس کا واحد عنبۃ ہے اور جمع اعناب قرآن میں ہے : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنابِ [ النحل/ 67] اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی ۔ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ [ الإسراء/ 91] کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو ۔ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنابٍ [ الرعد/ 4] اور انگوروں کے باغ ۔ سكر السُّكْرُ : حالة تعرض بيت المرء وعقله، وأكثر ما يستعمل ذلک في الشّراب، وقد يعتري من الغضب والعشق، ولذلک قال الشاعر : 237- سکران : سکر هوى، وسکر مدامة «2» ومنه : سَكَرَاتُ الموت، قال تعالی: وَجاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ [ ق/ 19] ، والسَّكَرُ : اسم لما يكون منه السّكر . قال تعالی: تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَراً وَرِزْقاً حَسَناً [ النحل/ 67] ، والسَّكْرُ : حبس الماء، وذلک باعتبار ما يعرض من السّدّ بين المرء وعقله، والسِّكْرُ : الموضع المسدود، وقوله تعالی: إِنَّما سُكِّرَتْ أَبْصارُنا [ الحجر/ 15] ، قيل : هو من السَّكْرِ ، وقیل : هو من السُّكْرِ ( س ک ر ) الکرس ۔ اصل میں اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان اور اس کی عقل کے درمیان حائل ہوجاتی ہے اس کا عام استعمال شراب کی مستی پر ہوتا ہے اور کبھی شدت غضب یا غلبہ یا غلبہ عشق کی کیفیت کو سکر سے تعبیر کرلیا جاتا ہے اسی لئے شاعر نے کہا ہے ( 231 ) سکران ھوی وسکر مدامۃ نشے دو ہیں ایک نشہ محبت اور دوسرا نشہ شراب اور اسی سے سکرت الموت ( موت کی بیہوشی ) ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَجاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ [ ق/ 19] اور موت کی بےہوشی کھولنے کو طاری ہوگئی ۔ السکرۃ ( بفتح السین والکاف ) نشہ آور چیز ۔ قرآن میں ہے : ۔ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَراً وَرِزْقاً حَسَناً [ النحل/ 67] کہ ان سے شراب بناتے ہو اور عمدہ رزق رکھا تے ہو ) اور شراب سے انسان اور اس کی عقل کے درمیان بھی چونکہ دیوار کی طرح کوئی چیز حائل ہوجاتی ہے اس اعتبار سے سکر کے معنی پانی کو بند لگانے اور روکنے کے آجاتے ہیں اور اس بند کو جو بانی روکنے کے لئے لگایا جائے سکر کہا جاتا ہے ( یہ فعل بمعنی مفعول ہے ) اور آیت : ۔ إِنَّما سُكِّرَتْ أَبْصارُنا[ الحجر/ 15] کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں ۔ میں سکرت بعض کے نزدیک سک سے ہے اور بعض نے سکرا سے لیا ہے اور پھر سکر سے سکون کے معنی لے کر پر سکون رات کو لیلۃ ساکرۃ کہا جاتا ہے ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

سکر یعنی نشہ آور مشروب قول باری ہے (ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکراو رزقا حسنا) ۔ اسی طرح کھجور کے درختوں اور انگور کے بیلوں سے بھی جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی) آیت میں وارد لفظ سکر کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حسن اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ دونوں نے فرمایا کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں میں سے حاصل ہونے والا رس اور شیرہ اگر حرام ہے تو وہ سکر کہلائے گا اور اگر حلال ہے تو وہ رزق حسن ہوگا۔ ابراہیم نخعی، شعبی اور ابو رزین سے مروی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں۔ جریر نے مغیرہ سے انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں۔ ابن شرمہ نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت کی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں لیکن یہ شراب کھجور کی ہوتی ہے۔ ان حضرات کا قول ہے کہ شراب کی تحریم کی بنا پر اس کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد الوسطی نے روایت بیان کی۔ انہوں نے جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابو عبیدہ نے۔ انہیں عبد الرحمن نے سفیان سے، انہوں نے اسود بن قیس سے، انہوں نے عمرو بن سفیان سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ آپ نے فرمایا اس سے مراد ان دونوں درختوں کے پھلوں کی وہ صورت ہے جو حرام کردی گئی ہے اور پھلوں کی وہ صورت جو حلال ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ قول بھی پہلے حضرات کے قول کی طرح ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبیہ نے، انہیں حجاج نے ابن جریح اور عثمان بن عطاء خراسانی سے اور ان دونوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ آپ نے قول باری (تتخذون منہ سکرا) کی تفسیر میں فرمایا۔ ” سکر نبیذ کو کہتے ہیں اور رزق حسن زبیب یعنی متقی کو “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب سلف نے سکر کی تفسیر شراب، نبی د اور حرام مشروب سے کی تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سکر کا اسم ان تمام پر واقع ہوتا ہے۔ پھر سلف کا یہ کہنا کہ تحریم خمر کے حکم کی بنا پر اس کا حکم منسوخ ہوچکا ہے اس پر دلالت کرتا ہے آیت سکر کی اباحت کی مقتضی ہے جس میں شراب اور نبیذ دونوں داخل ہیں۔ البتہ ان دونوں میں سے شراب کی حرمت ثابت ہوگئی ہے لیکن نبیذ کی تحریم ثابت نہیں ہے۔ اس لئے ظاہر آیت کی بنا پر نبیذ کی حلت واجب ہے۔ اس لئے کہ اس حکم کا نسخ ثابت نہیں ہے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تحریم خمر کے حکم کی بنا پر نبیذ کی حلت کا حکم بھی منسوخ ہوچکا ہے اس کا یہ دعویٰ دلالت شرعیہ کے بغیر درست نہیں ہوسکتا اس لئے کہ خمرہ اسم نبیذ کو شامل نہیں ہوتا۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ” سکر عجمیوں کی شرابوں کا نام ہے اور رزق حسن اس مشروب کا نام ہے جسے لوگ نبیذ کی صورت میں بناتے ہیں نیز سرکے کا نام ہے جسے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ آیت نازل ہوئی اور شراب حرام نہیں ہوئی۔ شراب کی حرمت کا حکم تو سورة مائدہ میں آیا ہے۔ “ امام ابو یوسف نے روایت بیان کی ہے۔ انہیں ایوب بن جابر الحنفی نے اشعث بن سلیمان سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل (رض) سے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ لوگوں کو نشہ آور مشروب یعنی سکر سے روکیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس حرام سکر سے نقیع تم مراد ہے یعنی خشک کھجور کی شراب جو پانی میں بھگو کر بنائی جاتی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧) اور کھجور اور انگوروں کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز (اب یہ منسوخ ہے) اور عمدہ پاکیزہ کھانے کی چیز بناتے ہو جیسا کہ سرکہ، خرمائے خشک، کشمش وغیرہ ان مذکورہ باتوں میں ان کے لیے توحید کی بڑی دلیل ہے جو کہ تصدیق کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

55. Incidentally it implies that the juice of the fruits of date palms and vines contains two things. One is that which is pure and wholesome food for man and the other is that which turns into alcohol after it becomes rotten. But it has been left to the choice of man to obtain pure healthy food from this providence or to drink it as intoxicant wine to excite him and make him lose his self control. This also contains a hint as to the prohibition of wine.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :55 اس میں ایک ضمنی اشارہ اس مضمون کی طرف بھی کہ پھلوں کے اس عرق میں وہ مادہ بھی موجود ہے جو انسان کے لیے حیات بخش غذا بن سکتا ہے ، اور وہ مادہ بھی موجود ہے جو سڑ کر الکوہل میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ اب یہ انسان کی اپنی قوت انتخاب پر منحصر ہے کہ وہ اس سرچشمے سے پاک رزق حاصل کرتا ہے یا عقل و خرد زائل کر دینے والی شراب ۔ ایک اور ضمنی اشارہ شراب کی حرمت کی طرف بھی ہے کہ وہ پاک رزق نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

27: یہ سورت مکی ہے۔ جب یہ نازل ہوئی تو اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی، لیکن اسی آیت میں شراب کو پاکیزہ رزق کے مقابلے میں ذکر فرمایا کر ایک لطیف اشارہ اس طرف کردیا گیا تھا کہ شراب پاکیزہ رزق نہیں ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٧۔ اوپر دودھ کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ دوسرا احسان اپنے بندوں پر جتلایا کہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم اپنے واسطے نشہ کی چیز تیار کرتے ہو اور اس سے دوسری حلال روزی بناتے ہو جیسے سرکہ وغیرہ۔ اگرچہ مفسروں کا قول یہ ہے کہ آیت شراب کے حرام ہونے کے حکم انما الخمر والمیسر سے منسوخ ہے۔ لیکن اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ناسخ منسوخ امر و نہی کی آیتوں میں ہوتا ہے خبر کی آیتوں میں نہیں ہوتا کیونکہ ایک کام کے کرنے یا نہ کرنے کو کہا جا کر پھر اس کو ملتوی کیا جاسکتا ہے برخلاف خبر کے کہ اس میں ایک خبر کے بعد پھر دوسری خبر دی جاوے تو پہلی خبر جھوٹی ٹھہرتی ہے اسی واسطے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا کی تفسیر انگوروں کو میوے کی طرح کھاتے اور انگوری سرکہ بنانے کی ہے ١ ؎ اور سکرا کے معنے شراب کے لے کر سورت مائدہ کی آیت انما الخمر سے اس آیت کو منسوخ نہیں قرار دیا شاہ صاحب نے ترجمہ میں انہی مفسروں کا قول لیا ہے جو سکرا کے معنے شراب کے لیتے ہیں لیکن اس قول پر وہی اعتراض باقی رہتا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ آخر آیت میں فرمایا کہ کھجور اور انگور سے طرح طرح سے نفع اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کو وہی لوگ پہچانتے ہیں جن کو کچھ عقل ہے ورنہ نادان لوگ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کام میں لاتے ہیں اور اس کی تعظیم اور عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس (رض) کی روایت اوپر گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان کر لیوے اور نادان عقل سے عاجز وہ شخص ہے جو عمر بھر اس سامان سے غافل رہے۔ اور موت کے بعد اللہ تعالیٰ سے بہبودی کی توقع رکھے یہ حدیث ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں پر دھیان کر کے عقبیٰ کی بہبودی کے خیال سے احکام الٰہی کے پابند وہی لوگ ہوتے ہیں جن کو کچھ عقل ہے اور نادان وہ لوگ ہیں جو اس کے برخلاف ہیں۔ ١ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١٣٨ ج ١٤۔ ٢ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٢٢٣ و جلد ہذا ص ٣٤٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:67) ومن ثمرات النخیل محذوف سے متعلق ہے تقدیر کلام ہے ونسقیکم من ثمرات النخیل۔۔ یا تتخذون سے متعلق ہے اس صورت میں منہ کا تکرار تاکید کے لئے ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا (ہم پلاتے ہیں تمہیں) کھجور اور انگور کے پھلوں سے۔ تم بناتے ہو اس سے میٹھا رس۔ دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور تم کھجور اور انگور کے پھلوں سے میٹھا رس بناتے ہو۔ ای تتخذون من ثمرات النخیل والاعناب سکرا۔۔ سکرا۔ لغت میں شراب کو کہتے ہیں جس چیز سے نشہ ہو۔ نبیذ۔ لیکن بعض علماء کے نزدیک سکر سے مراد کھجور اور انگور کا میٹھا رس ہے۔ السکر العصیر الحلو۔ سکر بمعنی میٹھا رس۔ الاتقان جلد اول (نوع 38) میں آیا ہے : ابن مردویہ نے عوفی کے طریق پر ابن عباس سے روایت کی ہے کہ سکر حبشہ کی زبان میں سرکہ کو کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی انکے پھلوں سے تم نشہ آور شراب بھی کشید کرتے ہو اور کھانے پینے کی دوسری عمدہ چیزیں بھی جیسے شربت سرکہ اور شکر وغیرہ واضح رہے کہ یہ آیت مکی ہے اور شراب مکہ میں حرام نہ ہوئی تھی بلکہ ہجرت کے بعد مدینہ میں حرام ہوئی تھی نزول آیت کے وقت لوگ اسے بلاتامل استعمال کرتے تھے۔ تاہم دوسری عمدہ چیزوں سے اس کا الگ ذکر کر کے اور اس کے لئے لفظ سکر استعمال کر کے متنبہ فرما دیا ہے کہ اس کا استعمال اچھا نہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ نشہ کی چیز اس میں دو قول ہیں اول یہ کہ نزول آیت کے وقت مسکرات حرام نہ تھے کیونکہ آیت مکی ہے اس لیے امتنان فرمایا لیکن چونکہ حرام ہونے والے تھے اس لیے اس کو حسن وغیرہ کے ساتھ موصوف نہ کیا جیسا رزق کو کیا ہے دوسرا قول یہ کہ گونزول آیت کے وقت مسکرات حرام بھی ہوگئے ہوں اس احتمال پر کہ شاید یہ آیت مدنی ہو لیکن یہاں امتنان حسی مقصود نہیں تاکہ حلت پر موقوف ہو بلکہ امتنان معنوی یونی استدلال علی التوحید ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی قدرت کے مزید دلائل بشرطیکہ لوگ عقل و فکر سے کام لیں۔ معزز قاری کی سہولت کے لیے انگور کے بارے میں فہم القرآن جلد دوم کی معلومات درج کی جاتی ہیں۔ انگور : قرآنی نام : عِنَبٌ، اَعْنَابٌ (جمع) دیگر نام : Grape (انگریزی) ، فرشک، انگور (فارسی) ، عنب (عربی ) ، انگور (اردو، فارسی) قرآن مجید میں انگور کا تذکرہ : ١۔ البقرۃ، آیت : ٢٦٦ ٢۔ الانعام، آیت : ١٠٠ ٣۔ الرعد، آیت : ٤ ٤۔ النحل، آیت : ١١ ٥۔ النحل، آیت : ٦٧ ٦۔ بنی اسرائیل، آیت : ٩١ ٧۔ الکہف، آیت : ٣٢ ٨۔ المؤمنون، آیت : ١٩ ٩۔ یٰس ٓ، آیت : ٣٤ ١٠۔ النباء، آیت : ٣١۔ ٣٢ ١١۔ عبس، آیت : ٢٧۔ ٢٨ انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اس کا ذکر عنب اور اعناب (جمع) کے نام سے مندرجہ بالا گیارہ آیات میں کیا گیا ہے۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیے فہم القرآن جلد۔ ٢ صفحہ۔ ٤٠٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٦٧ یہ پھل جو اس تروتازگی اور نباتاتی حیات سے پیدا ہوتے ہیں جو آسمانوں سے پانی برسنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، ان سے تم شراب بناتے ہو (اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی ) اور رزق حسن بناتے ہو۔ اس آیت میں بہرحال اشارہ کردیا گیا ہے کہ رزق حسن شراب سے کوئی الگ چیز ہے اور یہ کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ یہ دراصل تمہید تھی اس حکم کے لئے جو بعد میں تحریم شراب کے بارے میں نازل ہوا۔ اس آیت میں صرف واقعاتی تجربہ ہے کہ کھجوروں اور انگور اللہ نے پیدا کئے اور تم اس سے یہ یہ مصنوعات تیار کرتے ہو ، یہاں کسی چیز کی حلت اور حرمت سے بہرحال بحث نہیں ہے اگرچہ یہ حرمت کے لئے تمہید ضرور ہے ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون (١٦ : ٦٧) “ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لئے ”۔ لہٰذا عقل مند لوگ جب سمجھ لیتے ہیں تو وہ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ بندگی کا سزاوار وہی خالق ہے جو یہ چیزیں پیدا کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دودھ کا تذکرہ فرمانے کے بعد نخیل اور اعناب کے پھلوں کا تذکرہ فرمایا یعنی ہم نے تمہیں کھجور اور انگور کے پھل عطا کیے جن سے تم سکر اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو، کھجوروں اور انگوروں کی مٹھاس اور غذائیت کو لوگ عام طور سے جانتے ہیں ان دونوں سے عمدہ چیزیں بناتے ہیں اچھا رزق تیار کرکے کھاتے ہیں، اس میں جو لفظ ” سکر “ وارد ہوا ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ نشہ والی چیز کیا ہے اور یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشہ تو حرام ہے جو چیز حرام ہے اور اس کا استعمال کرنا ممنوع ہے اس کو مقام امتنان میں یعنی احسان کرنے کے بیان میں کیسے ذکر فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورة نحل مکی ہے اس وقت تک نشہ والی چیزیں حرام نہ ہوئی تھیں لوگ شراب سے منتفع ہوتے تھے لہٰذا اس کا تذکرہ فرما دیا، لیکن چونکہ بعد میں حرام ہونے والی تھیں اس لیے خوبی پر دلالت کرنے والا کوئی کلمہ ذکر نہیں فرمایا اور اس کے علاوہ انگور سے جو دوسری عمدہ چیزیں تیار کرلیتے ہیں انہیں رزق حسن سے تعبیر فرمایا، اور حضرت ابن عباس (رض) سے ایک قول یوں مروی ہے کہ اہل حبشہ کی لغت میں سرکہ کو سکر کہتے ہیں (گویا لفظ سکر یہاں اسی معنی میں مستعمل ہوا ہے) اور صاحب معالم التنزیل نے ابوعبیدہ کا قول نقل کیا ہے کہ سکر سے طعم مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ایسی کھانے کی چیزیں دیں جن میں مزہ اور لذت ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (بلاشہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

51:۔ کھجور اور انگور سے تم شراب کشید کرتے ہو جو تمہارا بہت ہی مرغوب اور دلپسند مشروب ہے اور اس کے علاوہ ان میووں سے تم کھانے پینے کی عمدہ اور اچھی چیزیں بھی تیار کرتے ہو مثلاً شربت، نبیذ اور سرکہ وغیرہ۔ یہ سورت مکی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی مدینہ منورہ میں جب شراب کی حرمت کا اعلان ہوگیا تو پھر کسی مسلمان نے شراب کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ ” سکرًا “ کے بعد ” رزقًا حسنًا “ کا علیحدہ ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ شراب رزق حسن نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ مشروب نہیں۔ الایۃ سابقۃ علی تحریم الخمر تکون منسوخۃ (مدارک ج 2 س 224) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

67 ۔ اور کھجور اور انگور کے پھلوں کی کیفیت اور حالت میں بھی غور کرنا چاہئے جن سے نشہ کی چیزیں بناتے اور عمدہ ورزی حاصل کرتے ہو ۔ بلا شبہ اس بات میں ان لوگوں کے لئے توحید اور انعامات خداوندی کی بڑی دلیل ہے جو صحیح عقل رکھتے ہیں ۔ یعنی کھجور اور انگور کے پھل بھی قابل عبرت اور لائق غور ہیں انگور سے شراب بناتے ہو اور پھلوں سے رزق کا کام لینا تو ظاہر ہی ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے منعم حقیقی ہونے پر اہل عقل کے لئے دلیل ہے۔ یہ آیت مکی ہے اس وقت تک شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی پھر بھی رزق کے ساتھ حسن کی قید لگائی تا کہ معلوم ہو کہ پھلوں سے مقصود روزی کا حاصل کرنا ہے اور وہ ایک عمدہ روزی ہے۔