Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 86

سورة النحل

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ ۚ فَاَلۡقَوۡا اِلَیۡہِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّکُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿ۚ۸۶﴾ الثلٰثۃ

And when those who associated others with Allah see their "partners," they will say," Our Lord, these are our partners [to You] whom we used to invoke besides You." But they will throw at them the statement, "Indeed, you are liars."

جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی ہمارے وہ شریک ہیں جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ، پس وہ انہیں جواب دیں گے کہ تم بالکل ہی جھوٹے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا رَأى الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَاءهُمْ ... And when those who associated partners with Allah see their partners, meaning, those whom they used to worship in this world. ... قَالُواْ رَبَّنَا هَـوُلاء شُرَكَأوُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْ مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ they will say: "Our Lord! These are our partners whom we used to call upon besides you." But they will throw their statements back at them (saying): "You are indeed liars!" i.e., those gods will say to them, `you are lying. We never commanded you to worship us.' Allah says: وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَأيِهِمْ غَـفِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ And who is more astray than one who calls upon others besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are (even) unaware of their invocations to them And when the people are gathered (on the Day of Resurrection), they (false deities) will become their enemies and will deny their worship, (46:5-6) وَاتَّخَذُواْ مِن دُونِ اللَّهِ ءالِهَةً لِّيَكُونُواْ لَهُمْ عِزّاً كَلَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدّاً And they have taken gods besides Allah, that they might give them honor, power and glory. Nay, but they will deny their worship, and become their adversaries (on the Day of Resurrection). (19:81-82) Al-Khalil (Ibrahim) said: ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ but on the Day of Resurrection, you will disown each other. (29:25) And Allah says: وَقِيلَ ادْعُواْ شُرَكَأءَكُمْ And it will be said (to them): "Call upon your partners." (28:64) And there are many other similar Ayat. Everything will surrender to Allah on the Day of Resurrection Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

86۔ 1 معبودان باطلہ کی پوجا کرنے والے اپنے اس دعوے میں جھوٹے تو نہیں ہوں گیں۔ لیکن شرکا جن کو یہ اللہ کا شریک گردانتے تھے، کہیں گے یہ جھوٹے ہیں۔ یہ یا تو شرکت کی نفی ہے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہرانے میں یہ جھوٹے ہیں، بھلا اللہ کا شریک کوئی ہوسکتا ہے ؟ یا اسلئے جھوٹا قرار دیں گے کہ وہ ان کی عبادت سے بالکل بیخبر تھے، جس طرح قرآن کریم نے متعدد جگہ اس بات کو بیان فرمایا ہے۔ ' ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے کہ ہم اس بات سے بیخبر تھے کہ تم ہماری عبادت کرتے تھے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ ۝ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ ۝) 46 ۔ الاحقاف :6-5) ۔ (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا 81؀ۙ كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا 82؀ ) 19 ۔ مریم :82-81) ۔ (وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا ۙ مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ) 29 ۔ العنکبوت :25) ۔ (وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا) 18 ۔ الکہف :52) ۔ وغیرھا من الایات ایک یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کرنے کے لیے کبھی نہیں کہا تھا اس لیے تم ہی جھوٹے ہو۔ یہ شرکا اگر حجر وشجر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں قوت گویائی عطا فرمائے گا۔ جنات و شیاطین ہوں گے تو کوئی اشکال ہی نہیں ہے اور اگر اللہ کے نیک بندے ہوں گے جس طرح کہ متعدد صلحا واتقیا اور اولیاء اللہ کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں ان کے نام کی نذر نیاز دیتے ہیں اور ان کی قبروں پر جا کر ان کی اسی طرح تعظیم کرتے ہیں جس طرح کسی معبود کی خوف ورجا کے جذبات کے ساتھ کی جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو میدان محشر میں ہی بری فرما دے گا اور ان کی عبادت کرنے والوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا سوال اور ان کا جواب سورة مائدہ کے آخر میں مذکور ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٧] یعنی جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا یا فریاد رس یا دستگیر وغیرہ سمجھ کر پکارا جاتا رہا۔ وہ مشرکوں یا اپنے پکارنے والوں کو اس لحاظ سے جھوٹا نہیں کہیں گے کہ وہ انھیں پکارا نہیں کرتے تھے بلکہ اس لحاظ سے کہیں گے کہ ہم تو خود اللہ کے فرمانبردار بندے بن کر زندگی گزارتے رہے۔ ہم نے کبھی ایسا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ ہم لوگوں کی حاجت روائیاں کرسکتے ہیں۔ اور اگر تم لوگ ایسا کرتے بھی رہے ہو تو ہمیں اس کی خبر تک نہ تھی۔ پھر آخر تم نے ایسی غلط اور جھوٹی من گھڑت باتیں ہماری طرف کیوں منسوب کر رکھی تھیں۔ تمہارے ایسے عقیدے سراسر جھوٹ اور باطل پر مبنی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۔۔ : کفار جب اپنے ان شریکوں کو دیکھیں گے جنھیں وہ مدد کے لیے پکارتے رہے اور اللہ کا شریک بناتے رہے، یا جن کے بتوں یا قبروں کو پوجتے اور سجدہ و طواف کرتے رہے، جیسا کہ صحیح بخاری (٤٢٨٨) میں ذکر ہے کہ مشرکین مکہ نے کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ قیامت کے دن مشرکین ان بزرگوں کو دیکھیں گے تو اپنے جرم کو ہلکا کرنے اور اپنے بنائے ہوئے داتاؤں و دستگیروں کو اس جرم میں ساتھی بنانے کے لیے کہیں گے، پروردگار ! یہ لوگ ہیں جنھیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ وہ سب کے سب فوراً سختی سے کہیں گے، بلاشک و شبہ یقیناً تم جھوٹے ہو۔ فوراً کا مفہوم ” فَاَلْقَوْا “ کی فاء سے ظاہر ہو رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرک انھیں پکارتے تو رہے ہیں، پھر وہ انھیں جھوٹا کیوں کہیں گے ؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے سوا کسی کو پکارتا ہے اسے یعنی اس کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر کو معلوم ہی نہیں کہ کوئی اسے پکار رہا ہے، نہ انھیں ان کا پکارنا سنائی دیتا ہے، تو وہ انھیں جھوٹا نہ کہیں تو کیا کہیں ؟ دیکھیے سورة فاطر (١٣، ١٤) اور سورة احقاف (٥، ٦) دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شریک کہیں موجود ہی نہیں، ہر مشرک خواہ بت پرست ہو یا قبر پرست، ولی پرست ہو یا نبی پرست، وہ محض اپنے خیالی بنائے ہوئے حاجت رواؤں، مشکل کشاؤں کو پکارتا ہے، حقیقت میں ان کا کہیں کوئی وجود نہیں، اس لیے وہ انبیاء و اولیاء اور ان کے بنائے ہوئے داتا و دستگیر انھیں صاف جھوٹا کہیں گے کہ تم ہمیں نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان اور خیال کو پکارتے اور پوجتے رہے ہو۔ دیکھیے سورة یونس (٦٦) اور سورة نجم (٢٣) رہا شیطان تو اس نے واقعی انھیں شرک کی دعوت دی تھی، مگر وہ نہایت بےحیائی کے ساتھ ان سے صاف بےتعلق ہوجائے گا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (٢٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَاۗءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ شُرَكَاۗؤُنَا الَّذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ ۚ فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ 86؀ۚ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٦) اور جب یہ مشرک اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہمارے معبود یہی ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر ہم ان کی پوجا کیا کرتے تھے اور انہوں نے ہمیں اپنی پوجا کرنے کا حکم دیا تھا وہ بت فورا ان کو جواب دیں گے کہ تم جھوٹے ہو، ہم نے تمہیں اس چیز کا حکم نہیں دیا اور ہمیں تمہاری پوجا کی بھی خبر نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) شرک کا ارتکاب کرنے والے یہ لوگ محشر میں جب ان مقدس ہستیوں کو دیکھیں گے جن کے نام کی وہ دنیا میں دہائی دیا کرتے تھے تو پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ ! یہ ہیں وہ ہستیاں جنہیں ہم پکارا کرتے تھے آپ کو چھوڑ کر۔ مثلاً حضرت عبدالقادر جیلانی کے نام کی دہائی دینے والے جب وہاں آپ کو بلند مراتب پر فائز دیکھیں گے تو آپ کو پہچان کر ایسے کہیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے جب آپ کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم جنہیں ہم اللہ کا چہیتا بیٹا سمجھتے تھے اور ہمارا عقیدہ تھا کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرچکے ہیں۔ یہ تمام مقدس ہستیاں وہاں مشرکین کے مشرکانہ عقائد سے اظہارِ برأت کریں گی کہ ہمارا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ تم لوگ دنیا میں ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور اللہ کے سوا ہمیں پکارا کرتے تھے۔ قبل ازیں یہ مضمون سورة یونس کی آیت ٢٨ اور ٢٩ میں بھی گزر چکا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

83. It does not mean that they would deny the fact that the mushriks used to invoke their help. They will call them liars in the sense that they had made them deities without their knowledge, information and permission, as if to say: We never told you to leave Allah aside and pray to us for help. As a matter of fact, we never approved of this. Nay, we were utterly unaware of this that you were invoking us. It was an utter lie that you considered us to be able to hear your prayers, answer them and help you out of your difficulties. As you yourselves were responsible for this shirk, why are you involving us in its consequences?

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :83 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بجائے خود اس واقعہ کا انکار کریں گے کہ مشرکین انہیں حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے پکارا کرتے تھے ، بلکہ دراصل وہ اس واقعہ کے متعلق اپنے علم و اطلاع اور اس پر اپنی رضامندی و ذمہ داری کا انکار کریں گے ۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو ، نہ ہم تمہاری اس حرکت پر راضی تھے ، بلکہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہمیں پکار رہے ہو ۔ تم نے اگر ہمیں سمیع الدُّعا اور مجیب الدعوات ، اور دستگیر و فریاد رس قرار دیا تھا تو یہ قطعی ایک جھوٹی بات تھی جو تم نے گھڑ لی تھی اور اس کے ذمہ دار تم خود تھے ۔ اب ہمیں اس کی ذمہ داری میں لپیٹنے کی کوشش کیوں کرتے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: اس موقع پر ان بتوں کو بھی سامنے لایا جائے گا جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے، تاکہ ان کی بیچارگی سب کے سامنے واضح ہو، اور ان شیاطین کو بھی جن کی پیروی کر کے گویا ان کو خدا کا شریک بنا لیا تھا۔ 38: عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے، اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بے جان ہونے کی بنا پر انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبان حال سے یہ بات کہیں اور شیاطین یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بے تعلقی کا اظہار کریں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:86) شرکاء ہم۔ اور شرکاء نا میں شریکوں سے مراد وہی دیوی دیوتا اور معبودانِ باطل ہیں جنہیں وہ شریک خدائی سمجھتے تھے۔ کنا ندعوا۔ ماضی استمراری جمع متکلم ” ہم پکارا کرتے تھے ہم عبادت کیا کرتے تھے۔ القوا۔ ماضی جمع مذکر غائب القائ۔ (باب افعال) سے۔ انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا۔ القاء کے معنی ہیں کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ جیسے قالوا یموسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملقین قال القوا فلما القوا سحروا اعین الناس۔ (7:115 ۔ 116) جادوگروں نے کہا اے موسیٰ یا تو تم (پہلے) ڈالو۔ ورنہ ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہوجاتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تم ہی ڈالو ! پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ القی قولاً الی ۔۔ کسی سے کلام کرنا۔ والقی مودۃ الی۔ کسی سے دوستی یا محبت بڑھانا جیسے تلقون الیہم بالمودۃ (60:1) تم ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ والقی سلما الی۔۔ عاجزی پیش کرنا۔ جیسے والقوا الی اللہ یومئذن السلم۔ (16:87) اور وہ اس دن خدا کے حضور عاجزی پیش کردیں گے۔ اس کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اس کے سامنے صلح و اطاعت کی طرح ڈال دیں گے۔ القوا میں ضمیر فاعل معبودانِ باطل کی طرف راجع ہے۔ اور الیہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الذین اشرکوا ہے۔ فالقوا الیہم القول انکم لکذبون۔ معبودانِ باطل مشرکین سے کہیں گے۔ یقینا تم جھوٹ بول رہے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے وہ ان کی تکذیب کریں گے کہ ہم نے کب کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو۔ تم اگر ہمیں پکارتے رہے ہو تو غلط پکارتے رہے ہو اس کی سزا خود بھگتو ہم پر اس کی ذمہ داری کیوں تھوپتے ہو کہتے ہیں کہ مشرکین کو روسا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ بتوں کو گویائی عطا فرمائے گا۔ ( شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں۔ ایک شیطان اپنا ہی نام رکھ کر آپ کو بجھواتا ہے اس لئے ان کو کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عذاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد مجرمین کا اپنے معبودان باطل کے بارے میں اقرار۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بھی کئی بار بیان کی ہے کہ محشر کے میدان میں مختلف مراحل پر مشرکین کا اپنے معبودوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوگا۔ مشرک جن لوگوں کو دنیا میں مشکل کشا سمجھ کر نذرانے پیش کرتے اور ان کو سجدے کیا کرتے تھے ان کو پہچانتے ہوئے فریاد کے انداز میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے معبود۔ جن کو ہم تیرے سوا حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے تھے دوسرے مقام پر قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے معبودان باطل کو دیکھ کر رب ذوالجلال سے فریاد کریں گے کہ ان لوگوں کی وجہ سے ہم اس انجام تک پہنچے اے ہمارے رب انہیں دوگنا عذاب دیاجائے۔ (الاعراف : ٣٨) یہ سنتے ہی معبودان باطل اس بات کو اپنے مریدوں پر لوٹائیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ جب مجرم لوگ ہر طرف سے مایوس ہوجائیں گے تو سب کچھ بھول کر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی فرمانبرداری پیش کریں گے لیکن اس وقت گناہوں کا اعتراف کرنے اور فرمانبردار ہونے کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ (١) یہاں جھوٹے عابدوں اور معبودوں کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ معبود اپنی عبادت کرنے والوں کو یہ کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ١۔ انکار کرنے والوں سے مراد اللہ کے وہ بندے ہوں گے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچار کرنے کے ساتھ ہر قسم کے شرک کی مذمت کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کے فوت ہوجانے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے انھیں مشکل کشا بنا لیا اور ان کی قبروں پر شرکیہ اعمال کرنے لگے۔ اور ان سے دعائیں مانگنے لگے، وہ قیامت کے دن ان کے اس شرک کا صاف انکار کردیں گے۔ (فاطر : ١٣۔ ١٤) ٢۔ ان سے مراد یقیناً وہ لوگ ہیں جو مریدوں سے اپنے آپ کو سجدہ سجود کروایا کرتے اور جھوٹی امیدیں دلوایا کرتے تھے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھیں گے تو اپنے مریدوں کو یہ کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو ہم تو کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں کرسکتے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب پیر عذاب دیکھیں گے تو اپنے مریدوں سے بیزاری کا اعلان کریں گے اس طرح ان کے درمیان تمام واسطے اور امیدیں منقطع ہوجائیں گی۔ مرید کہیں گے کاش ! ہمیں دنیا میں واپس جانے کا موقع ملے تو ہم ان پیروں سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے ہم سے یہ بیزار ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسرت بڑھانے کے لیے ایسا کریں گے اور وہ کبھی جہنم سے نہیں نکل پائیں گے۔ (البقرہ : ١٦٦۔ ١٦٧) مسائل ١۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودوں کو پہچان لیں گے۔ ٣۔ قیامت کے دن مشرک کا کوئی بہانہ قبول نہ کیا جائے گا۔ ٢۔ معبودان باطل اپنی عبادت کا انکار کریں گے اور مریدوں کو جھوٹا قرار دیں گے۔ تفسیر بالقرآن عہد اور قسم کی پاسداری کا حکم : ١۔ جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور پختہ قسموں کی حفاظت کرو۔ (النحل : ٩١) ٢۔ اللہ کے عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (الاحزاب : ١٥) ٣۔ جو شخص اللہ کے عہد کی پاسداری کرتا ہے اسے بشارت دے دیں۔ (التوبۃ : ١١١) ٤۔ اللہ کا فرمان ہے تم میرے وعدے کو پورا کرو میں تمہارے وعدے کو پورا کروں گا۔ (البقرۃ : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ربنا ھولاء شرکادنا الذین کنا ندعوا من دونک (٦١ : ٦٨) ” اے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اب تو وہ اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “۔ آج وہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے شرکاء ہیں بلکہ کہتے ہیں ” یہ ہمارے شرکاء ہیں “۔ لیکن وہ تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس عظیم تمہت اور الزام کو سن کو فوراً بول اٹھیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، تم بڑے جھوٹے ہو۔ فالقوا الیھم القول انکم الکذبون (٦١ : ٦٨) ” وہ دور ہی سے ان کی طرف جواب پھینکیں گے ، بیشک تم تو بہت بڑے جھوٹے ہو “۔ اور یہ شرکاء اور صلحاء اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے نہایت ہی بندگی کی حالت میں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

69:۔ قیامت کے دن جب مشرکین ان خاصانِ خدا کو دیکھیں گے تو فوراً بول اتھیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ ہیں ہمارے حمایتی اور سفارشی جن کو ہم دنیا میں تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں۔ ” جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں۔ ایک شیطان اپنا وہی نام رکھ کر پجواتا ہے اس سے ان کو کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو “” فالقوا الخ “ یعنی وہ بزرگ مشرکین سے کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو جو ہمیں خدا شریک بتا رہے ہو نہ ہم نے کبھی تم سے کہا کہ ہماری عبادت کیا کرنا اور اگر تم نے اپنی بد بختی سے ایسا کیا بھی ہے تو خدا گواہ ہے ہمیں تمہاری عبادت اور پکار کی خبر بھی نہیں ” فکفی باللہ شہیدا بیننا و بینکم ان کنا عن عبادتکم الخ “ (یونس ) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

86 ۔ اور جب وہ لوگ جو مشرک ہیں اور جن کا شیوہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ہے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے جن کو اپنے زعم میں شریک خدائی سمجھتے تھے وہ نظر پڑیں گے تو یہ مشرک ان کو دیکھ کر کہیں گے اے ہمارے پروردگار جن کو ہم تیرے سوا اور تجھ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے اور جن کی پوجا کیا کرتے تھے وہ ہمارے خود ساختہ شریک یہ ہیں یہ سن کر وہ شرکاء بات کو ان مشرکوں ہی کی طرف لوٹا دیں گے اور کہیں گے تم بالکل سرا سر جھوٹے ہو ۔ یعنی وہ ان مشرکوں سے یہ کہیں گے کہ تمہارا ہمارا کوئی تعلق نہیں تم ہم کو نہیں پوجتے تھے بلکہ محض اپنی خواہشات فاسدہ اور خیالات باطلہ کی پرستش کیا کرتے تھے یا ہم کو تمہاری عبادت کی خبر ہی نہیں جیسے بت اور درخت وغیرہ ۔ ان کنا عن عبادتکم لغافلین اگر یہ کہنے والے صلحاء واتقیاء و ملائکہ وغیرہ ہوں تو ان کا کہنا سچ ہوگا اور اگر جواب دینے والے شیاطین اور جن وغیرہ ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہاں بھی جھوٹ بولیں ایسا کہنا قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہے۔ بہر حال سب کا منشاتبری اور برأت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں ایک شیطان اپنا وہی نام رکھ کر پجواتا ہے اسی سے ان کو کہیں گے تم جھوٹ ہو ۔ 12