Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 11

سورة بنی اسراءیل

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾

And man supplicates for evil as he supplicates for good, and man is ever hasty.

اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح انسان ہے ہی بڑا جلد باز ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Man's Haste and Prayers against Himself Allah tells; وَيَدْعُ الاِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءهُ بِالْخَيْرِ ... And man invokes (Allah) for evil as he invokes (Allah) for good and man is ever hasty. Allah tells us about man's haste and how he sometimes prays against himself or his children or his wealth, praying for something bad to happen for them, or for them to die or be destroyed, invoking curses, etc. If Allah were to answer his prayer, he would be destroyed because of it, as Allah says: وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ And were Allah to hasten for mankind the evil... (10:11) This is how it was interpreted by Ibn Abbas, Mujahid and Qatadah. We have already discussed the Hadith: لاَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَلاَا عَلَى أَمْوَالِكُمْ أَنْ تُوَافِقُوا مِنَ اللهِ سَاعَةَ إِجَابَةٍ يَسْتَجِيبُ فِيهَا Do not pray against yourselves or your wealth, for that might coincide with a time when Allah answers prayers. What makes the son of Adam do that is his anxiety and haste. Allah says: ... وَكَانَ الاِنسَانُ عَجُولاً And man is ever hasty. Salman Al-Farisi and Ibn Abbas mentioned the story of Adam, when he wanted to get up before his soul reached his feet. When his soul was breathed into him, it entered his body from his head downwards. When it reached his brain he sneezed, and said, "Al-Hamdu Lillah" (praise be to Allah), and Allah said, "May your Lord have mercy on you, O Adam." When it reached his eyes, he opened them, and when it reached his body and limbs he started to stare at them in wonder. He wanted to get up before it reached his feet, but he could not. He said, "O Lord, make it happen before night comes."

بد دعا اور انسان یعنی انسان کبھی کبھی گیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لئے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے ۔ کبھی اپنے مال واولاد کے لئے بد دعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی ، کبھی ہلاکت کی ، کبھی بردباری اور لعنت کی ۔ لیکن اس کا اللہ اس پر خود اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ادھر وہ دعا کرے ادھر وہ قبول فرما لے تو ابھی ہلاک ہو جائے ۔ حدیث میں بھی ہے کہ اپنی جان و مال کے لئے دعا نہ کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت میں کوئی ایسا بد کلمہ زبان سے نکل جائے ۔ اس کی وجہ صرف انسان کی اضطرابی حالت اور اس کی جلد بازی ہے ۔ یہ ہے ہی جلد باز ۔ حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقعہ پر حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ ابھی پیروں تلے روح نہیں پہنچتی تھی کہ آپ نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا روح سر کی طرف سے آ رہی تھی ناک تک پہنچی تو چھینک آئی آپ نے کہا الحمد للہ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یرحمک ربک یا ادم اے آدم تجھ پر تیرا رب رحم کرے جب آنکھوں تک پہنچی تو آنکھیں کھول کر دیکھنے لگے ۔ جب اور نیچے کے اعضا میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے ۔ جب اور نیچے کے اعضا میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے ابھی پیروں تک نہیں پہنچی تو چلنے کا ارادہ کیا لیکن نہ چل سکے تو دعا کرنے لگے کہ اے اللہ رات سے پہلے روح آ جائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 انسان چونکہ جلد باز اور بےحوصلہ ہے اس لیے جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنی ہلاکت کے لیے اسی طرح بد دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کے لیے اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے یہ تو رب کا فضل و کرم ہے کہ وہ اس کی بد دعاؤں کو قبول نہیں کرتا یہی مضمون (وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ للنَّاس الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُھُمْ ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ) 10 ۔ یونس :11) میں گزر چکا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٠ ١] انسان کی جلد باز طبیعت اور اس کا نقصان :۔ اس آیت میں انسان کی اس فطرت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب اسے کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو فوراً بد دعا دینا شروع کردیتا ہے خواہ وہ بددعا اس کے دشمنوں کے حق میں ہو یا اس کے اپنے حق میں ہو یا اپنی اولاد وغیرہ کے حق میں ہو۔ پھر وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی یہ بددعا جلد قبول ہوجائے۔ حالانکہ بعد میں خود اسے احساس ہوجاتا ہے کہ اگر اس کی بددعا قبول ہوجاتی تو اس کا اسے کتنا زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا جیسا کہ ابو جہل نے اپنے حق میں بددعا کی تھی کہ اے اللہ ! اگر یہ نبی اور یہ قرآن برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ اسی طرح مسلمان بھی کفار مکہ سے سختیاں برداشت کرنے پر بعض دفعہ بددعا کیا کرتے تھے۔ حالانکہ انھیں لوگوں میں سے اکثر بعد میں ایمان لے آئے تھے۔ اسی طرح بعض دفعہ انسان تنگ آکر اپنی اولاد کے حق میں بددعا کر بیٹھتا ہے حالانکہ اگر اس کی دعا قبول ہوجاتی تو اسے اس وقت سے بہت زیادہ صدمہ پہنچتا جس وقت اس نے یہ بددعا مانگی تھی۔ گویا انسان کی جلد باز طبیعت اکثر اوقات نقصان دہ ہی ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اللہ کے کاموں میں تدریج اور امہال کا قانون جاری وساری ہے جس میں طرح طرح کی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ : ” يَدْعُ “ اصل میں ” یَدْعُوْ “ تھا، مگر مصحف عثمانی کے خط میں اسے پڑھنے کے مطابق لکھ دیا گیا، کیونکہ یہ واؤ پڑھنے میں نہیں آتی، جیسا کہ : (سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ) [ العلق : ١٨ ] میں بھی واؤ نہیں لکھی گئی، اسی لیے مسلمانوں نے اسی مصحف کے خط کی حفاظت کرتے ہوئے واؤ نہیں لکھی۔ فراء نے فرمایا کہ اگر یہ واؤ کے ساتھ لکھا جائے تو بھی درست ہوگا۔ (ابن عاشور) دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ یہ ” کَدُعَاءِہِ بالْخَیْرِ “ تھا، کاف حذف کرنے سے منصوب ہوگیا۔ مفعول مطلق کا بھی یہی معنی ہے، یعنی انسان بعض اوقات غصے میں یا اکتا کر اپنے لیے یا اپنے اہل و عیال کے لیے اللہ تعالیٰ سے بد دعائیں کرتا ہے، مثلاً اللہ کرے میں مرجاؤں، اللہ کرے تمہارا بیڑہ غرق ہوجائے، تمہارا خانہ خراب ہوجائے وغیرہ۔ انسان اسی طرح اصرار سے بددعا کرتا ہے جس طرح حالت اعتدال میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے، مثلاً یا اللہ ! ہمیں بخش دے، یا اللہ ! ہماری حفاظت فرما وغیرہ۔ اسی طرح وہ کفار کے ایمان نہ لانے پر ان کے لیے تباہی و بربادی کی فوراً بددعا کرنے لگتا ہے، حالانکہ اسے کیا خبر کہ ان میں سے کئی لوگوں نے آگے چل کر ایمان لے آنا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں شروع سے بہت جلد بازی پائی جاتی ہے۔ ” کَانَ “ جلد بازی کے استمرار اور تمکن کو ظاہر کر رہا ہے اور ترجمہ بھی اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ ” عَجُوْلًا “ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت جلد باز۔ اپنے حق میں بددعا کی ایک بدترین مثال ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی وہ دعا ہے جس میں انھوں نے اپنے آپ پر پتھر برسانے یا عذاب الیم لانے کی بددعا کی تھی۔ دیکھیے سورة انفال (٣٢، ٣٣) ۔ 3 مگر اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ بددعاؤں کو فوراً قبول نہیں فرماتا اور اگر وہ قبول کرے تو انسان تباہ و برباد ہوجائے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس کی آیت (١١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Perhaps, it is based on this congruity that it was said in verse 11 that man would, on occasions, pray for something in a haste, something that spells out destruction for him. If Allah Ta` ala were to answer such a prayer, he would be ruined. But, Allah Ta’ ala does not answer such pray¬ers instantly until man himself comes to realize that his prayer was made in error and that it was fatal for him. Then, in the last sentence of this very verse, a natural weakness of man has been mentioned in the form of a standing rule - that man is, by nature, haste-prone. He keeps his sight trained on passing profit and loss and falls short on foresight and hindsight. He loves to go for the immediate gain and comfort, even if it happens to be only a little. He would not bat an eye to prefer it to the greater and more lasting gain and comfort. In short, this verse points out to a natural weakness of human beings in general. And some authorities in Tafsir have taken this verse to be related to a particular event. The event they refer to concerns Nadr ibn Harith who had made a prayer in the heat of his hostility to Islam saying: اللھُمَّ اِن کَانَ ھٰذَا ھوُالحَقَّ مِن عندِکَ فَاَمطِر عَلَینَا حِجارَۃً مَّنَ السَّمَآِء اَوأتنا بِعَذَاب اَلِیم O Allah, if this [ Islam ] is the truth from You, then, rain down on us rocks from the skies or send upon us some other painful punishment. In that case, &al-insan& of the text would be referring to those mentioned above, or those like them.

شاید اسی مناسبت سے مذکورہ آیات میں سے آخری آیت میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ انسان تو بعض اوقات جلد بازی میں اپنے لئے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو اس کے لئے تباہی و بربادی کا سبب ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کی ایسی دعا کو قبول فرما لیں تو یہ برباد ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ اکثر ایسی دعاؤں کو فورا قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ خود انسان سمجھ لیتا ہے کہ میری یہ درخواست غلط اور میرے لئے سخت مضر تھی اور آیت کے آخری جملہ میں انسان کی ایک طبعی کمزوری کو بطور ضابطہ کے بھی ذکر فرمایا کہ انسان اپنی طبیعت سے ہی جلد باز واقع ہوا ہے سرسری نفع نقصان پر نظر رکھتا ہے انجام بینی اور عاقبت اندیشی میں کوتاہی کرتا ہے فوری راحت چاہے تھوڑی ہو اس کو بڑی اور دائمی راحت پر ترجیح دینے لگتا ہے اس تقریر کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں عام انسانوں کی ایک طبعی کمزوری کا بیان ہے۔ اور بعض ائمہ تفسیر نے اس آیت کو ایک خاص واقعہ کے متعلق قرار دیا ہے وہ یہ کہ نضر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں ایک مرتبہ یہ دعا کر ڈالی (آیت) اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ یعنی یا اللہ اگر آپ کے نزدیک یہ اسلام ہی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا کوئی اور درد ناک عذاب بھیج دے اس صورت میں انسان سے یہ خاص انسان یا جو اس کے ہم طبع ہوں مراد ہوں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بِالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا 11؀ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے ہیں خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤ نگا لہذا اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١) اور نضر بن حارث کافر اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے برائی اور تکالیف کی ایسی درخواست کرتا ہے جیسا کہ عافیت اور رحمت کی درخواست کی جاتی ہے اور یہ نضر عذاب کا بہت ہی جلدی مطالبہ کررہا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١ (وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ ) یعنی انسان اللہ سے دعا کر رہا ہوتا ہے کہ اے اللہ ! میرے لیے یوں کر دے یوں کر دے۔ حالانکہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ اپنے لیے مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے مفید ہے یا مضر۔ اس طرح انسان اپنے لیے اکثر وہ کچھ مانگ لیتا ہے جو اس کے لیے الٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : (عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) ” ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے شر ہو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے “۔ چناچہ بہتر لائحہ عمل یہ ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے انسان اپنے معاملات اس کے حوالے کر دے کہ اے اللہ ! میرے معاملات تیرے سپرد ہیں کیونکہ میرے نفع و نقصان کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے : سپردم بتو مایۂ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را ! دعائے استخارہ میں بھی ہمیں تفویض امر کا یہی انداز سکھایا گیا ہے : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ‘ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (١) ” اے اللہ ! میں تیرے علم کی بدولت تجھ سے خیر چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی برکت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے فضل عظیم کا ‘ بیشک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں جانتا اور تو ہر قسم کے غیب کو جاننے والا ہے۔ “ بہرحال انسان کا عمومی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے کے بجائے اپنی عقل اور سوچ پر انحصار کرتا ہے اور اس طرح اپنے لیے خیر کی جگہ شر کی دعائیں کرتا رہتا ہے۔ (وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا) اپنی اس جلد بازی اور کوتاہ نظری کی وجہ سے وہ شر کو خیر اور خیر کو شر سمجھ بیٹھتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12. This is in answer to the foolish demands of the disbelievers of Makkah who repeatedly demanded from the Prophet (peace be upon him) to bring about that torment with which he threatened them. It is closely connected with the preceding verse, as if to say: O foolish people instead of asking goodness you demand the torment. Can’t you realize the sufferings of the community which was visited by God’s torment? It also contains a subtle warning to those Muslims who prayed for punishment for those disbelievers who persecuted them and rejected the message obdurately; there were still among those disbelievers many such people who afterwards embraced Islam and became its standard bearers in the world. That is why Allah says: Man does so because he is very hasty and impatient. He prays to Allah for all such things as are the immediate need of the time, though often subsequent experience shows that if Allah had granted his prayer, it would have been very harmful to him.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :12 یہ جواب ہے کفار مکہ کی ان احمقانہ باتوں کا جو وہ بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ بس آؤ وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرایا کرتے ہو ۔ اوپر کے بیان کے بعد معا یہ فقرہ ارشاد فرمانے کے غرض اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ بیوقوفو! خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگتے ہو؟ تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے خدا کا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو اس کی کیا گت بنتی ہے؟ اس کے ساتھ اس فقرے میں ایک لطیف تنبیہ مسلمانوں کے لیے بھی تھی جو کفار کے ظلم و ستم اور ان کی ہٹ دھرمیوں سے تنگ آکر کبھی کبھی ان کے حق میں نزول عذاب کی دعا کرنے لگتے تھے ، حالانکہ ابھی انہی کفار میں بہت سے وہ لوگ موجود تھے جو آگے چل کر ایمان لانے والے اور دنیا بھر میں اسلام کا جھنڈا بلند کرنے والے تھے ۔ اس پر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ انسان بڑا بے صبر واقع ہوا ہے ۔ ، ہر وہ چیز مانگ بیٹھتا ہے جس کی بروقت ضرورت محسوس ہوتی ہے ، حالانکہ بعد میں اسے خود تجربہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر اس وقت اس کی دعا قبول کرلی جاتی تو وہ اس کے حق میں خیر نہ ہوتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: کافر لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کہا کرتے تھے کہ اگر ہمیں ہمارے کفر پر عذاب ہونا ہے تو ابھی فوراً کیوں نہیں ہوجاتا؟ یہ ان کی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ جلد بازی میں عذاب کی برائی کو اس طرح مانگ رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے انسان کی جلدی وشتابی کرنے کا بیان فرمایا کہ اکثر لوگ تنگ ہو کر جس طرح اپنے لیے اچھی دعائیں خدا سے مانگا کرتے ہیں اسی طرح اپنی جان ومال اور اولاد کے لیے بددعا بھی کرنے لگتے ہیں اور خداوند جل وعلا سے اس بات کے خواستگار ہوتے ہیں کہ وہ اس بددعا کو جلدی قبول کرلے مگر اللہ پاک کے فضل کو دیکھئے کہ وہ بددعا انسان کے حق میں قبول نہیں کرتا شاذونادر کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ انسان جیسی فال بد اپنے لیے منہ سے نکالتا ہے ویسا طہور میں آجاتا ہے مگر ہر وقت انسان کی بددعا قبول کی جائے تو کہیں ان کا پتہ بھی نہ لگے اور لطف یہ ہے کہ اس بددعا کرنے کے بعد پھر یہ بھی کہنے لگتے ہیں کہ خدا نے ہماری بددعا قبول کرنے میں دیر لگائی اسی کو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ انسان بہت ہی جلد باز ہے۔ صحیح مسلم میں جابر (رض) بن عبداللہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو غصہ کی حالت میں تم اپنی جان اور ملک پر بددعا نہ کرو شاید ایسا ہو کہ جس وقت تم بددعا کر رہے ہو وہ وقت قبولیت دعا کا ہو اور وہ تمہاری بددعا قبول ہوجاوے ١ ؎۔ اس حدیث کو آیت کو تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان شخص کو غصہ کی حالت میں ہر طرح کی بددعا سے بچنا چاہیے۔ ١ ؎ الترغیب ص /٣٠ ج الترہیب من دعاء الانسان علیٰ نفسہ الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:11) یدع۔ مضارع واحد مذکر غائب دعاء سے باب نصر وہ دعا مانگتا ہے وہ دعا کرتا ہے۔ دعاء ہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا دعا کرنا۔ اس کا دعا مانگنا ای کد عائہ بالخیر۔ اپنی بھلائی کی دعا کی طرح۔ یعنی جس طرح اس کو اپنی بھلائی کی دعا کرنی چاہیے بلا تامل اسی طرح وہ اپنی برائی کے لئے بھی دعا کردیتا ہے (نتائج سے لاپرواہی کرتے ہوئے) آیت 10 ۔ میں بالوضاحت ارشاد فرمایا گیا کہ مؤمنین صالحین کے لئے اجرکبیر (یعنی جنت ) ہے اور منکرین وکافرین کے لئے عذاب الیم (دوزخ) ہے۔ لیکن بعض لوگ یعنی کافر سزا و عذاب کے لئے بھی یوں بار بار دعائیں کرتے ہیں جیسے وہ جزایا رحمت کے لئے کر رہے ہوں۔ مثلاً کفار مکہ کہ وہ اپنے اس احمقانہ پن میں بار بار کہتے تھے۔ اللہم ان کان ھذا (ای القران) ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔ (8:32) اے اللہ اگر یہ قرآن تیری طرف سے سچ ہے (تو ہمارے اس انکار پر) تو ہم آسمان سے پتھر برسا دے یا لے آہم پر دردناک عذاب۔ یا مثلاً ان سے قبل قوم ہود (علیہ السلام) نے کہا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین (7:70) اگر تم سچے ہو تو لے آئو ہم پر وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ یا حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا وقالوا یصالح ائتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین (7:77) اور انہوں نے کہا کہ اے صالح لے آئو ہم پر اس عذاب کو جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم (سچ مچ) اللہ کے فرستادگان میں سے ہو۔ یا مثلاً حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا کہنا قالوا ینوح قد جاد لتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصادقین۔ (11:32) اے نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑے کو بہت طول دیا۔ (اس مباحثہ کو رہنے دو ) اگر تم سچے ہو تو لے آئو ہم پر وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں : یہ جواب ہے کفار مکہ کی ان احمقانہ باتوں کا جو وہ بار بار حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے کہ بس لے آئو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرایا کرتے ہو۔ اوپر کے بیان کے بعد معاً یہ فقرہ ارشاد فرمانے کی غرض اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ بےوقوفو ! خیر مانگنے کی بجائے عذاب مانگتے ہو تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ خدا کا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو اس کی کیا گت بنتی ہے ! اور اگر اس آیت سے یہ مطلب لیا جاوے کہ یہ خطاب سب انسانوں کے لئے ہے تو اس بارہ تفسیر ابن کثیر میں ہے :۔ انسان کبھی کبھی دلگیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لئے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے کبھی اپنے مال واولاد کے لئے بددعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی کبھی ہلاکت کی کبھی بربادی کی دعا کرتا ہے لیکن اس کا خدا خود اس سے بھی زیادہ اس پر مہربان ہے ادھر یہ دعا کرے ادھر وہ قبول فرمائے تو ابھی ہلاک ہوجائے۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ اپنی جان ومال کے لئے بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت میں ایسا کوئی کلمہ ٔ بد زبان سے نکل جائے (اور وہ بددعا اپنے خلاف ہی قبول ہوجائے) اس کی وجہ سے صرف انسان کی اضطرابی حالت اور اس کی جلد بازی ہے۔ یہ ہے ہی جلد باز۔ عجولا۔ عجل سے مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ بہت جلد باز ۔ بوجہ خبر کان منصوب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی اپنے لئے یا اپنی اولاد اور گھر والوں کیلئے 4 اس لئے جو منہ میں آتا ہے اپنے رب سے مانگن یلگتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا اس پر بڑا فضل و کرم ہے جو اس کی بد دعا کو فوراً قبول نہیں کرتا اور اگر کہیں قبول کرے تو تو وہ تباہ و برباد ہوجائے۔ (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٢) اسرارومعارف تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔ (جلد بازی کے فیصلے) انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار کھائی ، خندق سے ناکام لوٹے اور بالآخر مکہ مکرمہ فتح ہو کر وہاں سے کفار ومشرکین کا نام مٹ گیا ، (قابل غور تو شب وروز ہی کافی ہیں) اگر انسان جلد بازی نہ کرے اور اللہ کریم کی دی ہوئی عقل کو استعمال کرے تو کیا یہ شب وروز اللہ جل جلالہ کی عظمت کے گواہ نہیں ؟ یقینا ہیں کہ رات کی تاریکی اپنے دامن میں انسانی کردار کے کتنے بدنما داغ چھپا کر ہر جاندار کو نیند اور آرام کی گھڑیاں مہیا کرتی ہے اور حیوانی ابدان دن بھر میں جو قوت کار خرچ کرتے ہیں شب بھر میں وہ پھر سے بحال ہوجاتی ہے ۔ پھر دن روشنی بکھیرتا ہوا نمودار ہوتا ہے اور جدوجہد حیات کا نئے سرے سے آغاز ہوجاتا ہے ، ایک چیونٹی اور ایک مکھی سے لے کر انسان تک حصول رزق اور بقائے حیات کے لیے سرگرم عمل نظر آتے ہیں اور انسان اپنے پروردگار کی پیدا کردہ نعمتوں کے حصول میں کوشاں ہوتا ہے ، نیز یہ شب وروز دونوں ، مہینوں اور سالوں وغیرہ کی گنتی اور حساب کا کام بھی تو دیتے ہیں۔ (شمسی حساب بھی درست ہے) اگر ایک سا عالم رہتا تو شمار کرنا محال ہوتا تو گویا شمسی حساب رکھنا اور تاریخیں شمار کرنا درست ہے ، اگرچہ عبادات مثلا حج رمضان وغیرہ قمری حساب سے مقرر فرمائے گئے ہیں تو کیا یہ رات دن کے لانے اور تبدیل کرنے میں جتنی بڑی صنعت اور کتنا بڑا نظام بغیر کسی خرابی سے اور بغیر کسی رکاوٹ وتاخیر کے روز اول سے بدستور چل رہا ہے ، یہ اپنے چلانے والے کی عظمت ، حکمت اور قدرت پہ کم گواہ ہے ؟ ہم نے تو ہدایت کے لیے اور انسانی عقل و شعور کی راہ نمائی کے لیے ہر شب بہت تفصیل سے بیان کی ہے ، اب انسانی فکر پہ مدار ہے کہ وہ کیا سوچتا ہے ، مگر یہ جان لو کہ ہم نے ہر انسان کے کردار کو اس کے گلے کا ہار بنا دیا ہے اور وہ جہاں جاتا ہے اپنی بداعمالی کے اثرات ساتھ ساتھ لیے پھرتا ہے ، دنیا کے معاملات میں دیکھ لیں ، افراد سے لے کر اقوام تک کے حالات پہ نظر کریں یا دار آخرت ہو تو وہاں تو اعمالنامہ کھول کر ہر انسان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا ، اور حکم دیا جائے گا کہ اپنا اعمالنامہ پڑھ لو اور یہ جان لو کہ تم خود ہی اپنے لیے بہترین منصف ہو ، یعنی ہر عمل کو دیکھتے جاؤ کہ دنیا میں جب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں تھا تو تم نے کتنے امور میں اللہ کی اطاعت کی آج تمہارا ہی فیصلہ لاگو ہوگا اور اجر پاؤ گے یا پھر تم نے کس قدر نافرمانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا آج اسی فیصلے کے مطابق سزا پاؤ گے ۔ اگر کوئی سیدھی راہ اپناتا ہے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا فیصلہ کرتا ہے اور اس پر عمل کرنے میں کوشاں ہوتا ہے تو یہ کسی پہ احسان نہیں بلکہ وہ اپنے بھلے کو کرتا ہے کہ کل اجر پائے گا اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے ، اس کی سزا بھی وہ کود ہی بھگتے گا کہ کسی دوسرے انسان پر کسی کا بوجھ نہ ڈالا جائیگا ، (کفار کی نابالغ اولاد) صاحب تفسیر مظہری اور دوسرے مفسرین نے یہاں سے اخذ کیا ہے کہ کفار کی نابالغ اولاد محض والدین کے کفر کے باعث دوزخ میں نہ جائے گی ، نیز جب تک ہم کسی کو اسباب ہدایت میسر نہیں کرتے اس کی گرفت بھی نہیں کی جاتی اور اسے عذاب نہیں کیا جاتا یہاں نبعث رسولا کی مراد اسباب ہدایت اس لیے کی ہے کہ مفسرین کرام کے نزدیک اللہ کریم نبی بھیج دے یا محض عقل عطا کر دے تو بھی اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس کے لاشریک اور بےمثل ہونے کا اقرار تو ضروری ہے اور جہاں نبی کی تعلیم نہ پہنچے وہاں یہ اقرار ہی باعث نجات بھی ہے ۔ (عیاش اور بدکار حکمران تباہی کی طرف لے جاتے ہیں) اور جب کسی بھی قوم کی نافرمانی اس حد کو پہنچتی ہے کہ اسے ہلاک کردینے سے پھر وہ لوگ اللہ جل جلالہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں خواہ بوساطت نبوت پہنچے یا کم از کم عقلی اور شعوری دلائل سے تو عظمت الہی کے ثبوت سامنے ہوتے ہیں مگر دولت مند لوگ عیاشی میں مبتلا ہو کر عوام کو بھی اپنی راہ پر لگا لیتے ہیں ، کہ انسانی مزاج ہی ایسا ہے کہ لوگ امرا کے پیچھے چلنے لگتے ہیں اور انجام کار سب تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں ، چناچہ نوح (علیہ السلام) کے بعد بھی جب لوگ دنیا میں آباد ہوئے بڑھے پھلے تو کتنی بہت سی اقوام تباہ وبرباد ہوئیں ، جن کے حالات انسانی عبرت کے لیے کافی ہیں ، اور آپ رب انسانوں کے کردار کو بہت بہتر جانتا ہے اور لوگوں کی نافرمانی پہ وہ خود ہی بہت بڑا نگران ہے ، چناچہ جو کوئی جیسا کرتا ہے بھرتا ہے ۔ (نیت اور ارادہ) اگر کوئی عمل ہی بنیادی طور پر دنیا کے حصول کی خاطر کرتا ہے یعنی اسے آخرت پہ یقین حاصل نہیں ، اور صرف دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے خواہ وہ صورت بظاہر بھلائی ہی ہو تو اسے دنیا اس کی خواہش کے مطابق نہیں ملتی بلکہ اللہ جل جلالہ جتنی چاہتا ہے دیتا ہے ہاں اس کی نیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ذلیل ورسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوتا ہے اور آخرت میں اسے کچھ نہیں ملتا اور اگر کوئی نیت حصول آخرت کی کرتا ہے اور پھر صحیح محنت اور درست اقدامات کرتا ہے یعنی عمل سنت کے مطابق کرتا ہے نیز عقیدہ کھرا رکھتا ہے ۔ (حصول آخرت کے لیے بنیادی باتیں) گویا حصول آخرت کے لیے چار چیزیں ضروری ہیں ، اول نیت و ارادہ کہ عقلی دلائل کا مشاہدہ ومطالعہ کرکے یا دعوت الی اللہ پا کر آخرت کے حصول کا ارادہ کرے ، دوسرے صرف ارادہ پہ نہ بیٹھ رہے عمل کرے اور تیسرے عمل اپنی پسند سے نہ کرے کہ یہ رواجات ، رسومات اور بدعات جتنی بھی دلکش ہوں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ عمل کی بنیاد سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہ ضروری ہے اور چوتھی اور آخری بات عقیدہ کی صحت ہے ، اگر عقیدہ ہی درست نہ ہو تو پھر کوئی عمل بھی مقبول نہیں ہوتا مگر جن میں یہ شرائط پائی جائیں ایسے لوگوں کی محنت ٹھکانے لگتی ہے جو حقیقی کامیابی ہے وہ انہیں نصیب ہوتی ہے ۔ (دولت دنیا مقبولیت کا معیار نہیں) جہاں تک تیسرے پروردگار کی ربوبیت کا تعلق ہے تو وہ عام ہے ، نیک وبد مومن وکافر دولت دنیا اور صحت واولاد وغیرہ نعمتیں پا رہے ہیں ، دونوں طرف سب لوگ ایک سے نہیں اور نہ ہی اس کی شان ربوبیت کو کوئی شے روک سکتی ہے ، دنیا کا رزق ہر ایک کو دیتا ہے اور اپنی حکمت بالغہ سے ان میں درجہ بندی کردی ، امیر غریب اور حاکم وماتحت بنا دیئے مگر یہ حال تو گذر جائے گا اصل نعمت تو آخرت کی ہے جسے کفار یا نافرمان نہیں پاسکیں گے بلکہ اطاعت شعاروں کا حصہ ہے اور وہ بہت بڑی نعمت ہے درجات کے اعتبار سے بھی عظیم اور فضیلت کی رو سے بھی بہت بڑی ۔ لہذا اے مخاطب کبھی بھی اور کسی بھی طرح اللہ جل جلالہ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہ کر اور معبود برحق کی توحید کو خالص اور کھرا رکھ ورنہ سب کچھ لٹا پٹا کر بیٹھ رہے گا نہ عمل باقی بچے گا اور نہ کوئی محنت : ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت 11 تا 15 یدع دعا کرتا ہے۔ پکارتا ہے۔ عجولاً بہت جلد باز۔ محونا ہم نے مٹا دیا۔ مبصرۃ روشن ، دکھانے والی السنین (سن) سال، کئی سال۔ الزمنا ہم نے لٹکا دیا۔ ہم چمٹا دیا۔ طائرۃ پرندہ، اس کی قسمت، شگون۔ عنق گردن۔ منشور کھلا ہوا۔ حسیب حساب دینے والا ۔ وازرۃ بوجھ۔ معذبین عذاب دینے والے۔ حتی نبعت جب تک ہم بھیج نہ دیں۔ رسول پیغام بر، بھیجا ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 15 اللہ جو اس کائنات کا خلاق ومالک ہے اس نے اپنی قدرت سے اس کے نظام کو اس طرح ترتیب دے رکھا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ نہایت احسن طریقے پر چل رہی ہے۔ یہ نظام نہ تو کسی جلد بازی کا نتیجہ ہے نہ اس میں کوئی فیصلہ عجلت اور جلد بازی میں کیا جاتا ہے بلکہ ہر چیز کے ہونے اور مکمل ہونے کا ایک وقت مقرر ہے جو آہستگی سے رواں دواں ہے۔ ہر روز سورج اپنے مقرر وقت پر نکلتا ہے۔ اپنی چمک دمک سے دن کو روشن کرتا چلا جاتا ہے۔ رات کی تاریکی میں چاند اپنی ٹھنڈی کرنوں کو بکھیر تا رہتا ہے۔ ستارے چمک کر رات کی تاریکی میں بھٹنکنے والوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ رات اور دن کے آنے جانے سے ماہ و سال بنتے چلے جاتے ہیں۔ دنیا میں طرح طرح کے انقلاب سے کوئی بن رہا ہے کوئی بگڑ رہا ہے، کوئی سنور رہا ہے کوئی مٹ رہا ہے لیکن کائنات کے نظام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ دنیا اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی قدرت جب چاہے گی اس کو مٹا کر ایک نیا جہاں بنا دے گی۔ جب تک یہ دنیا اور اس کا نظام قائم ہے انسان اس سے فائدے حاصل کرتا رہے گا۔ کیونکہ اللہ نے اس دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے تاکہ وہ ایک وقت تک اس کو استعمال کرلے اور انے لئے کسی خیر یا شر کے راستے کو اختیار کرلے۔ لیکن انسان اس کائنات کے چند معمولی فائدے کو حاصل کر کے اپنے خلاق ومالک کو بھول جاتا ہے اور وہ غیر اللہ کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ ظلم و زیادتی، گناہ اور خطاؤں کی دلدل میں اس طرح دھنس جاتا ہے کہ اس چکر سے نکلنا اس کے لئے مشکل بن جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود قدرت اس کو سنبھلنے، سنورنے اور سدھرنے کے مواقع اور مہلتیں دیتی چلی جاتی ہے تاکہ یہ راستے سے بھٹکا ہوا انسان راہ ہدایت پر آجائے اور اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہو کر توبہ کرلے اس کے لئے و اپنے ایسے پاکیزہ نفس انسانوں کو بھیجتا ہے جو ان کی وراہ ہدایت دکھاتے ہیں تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلیں لیکن اگر دنیا کی بدمستی میں وہ انبیاء کرام کو جھٹلاتے ہیں اور ان کی اطاعت نہیں کرتے تب ان پر اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے اور وہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ اگر اللہ کی ہر صفت پر اس کی صفت رحم و کرم، عفو و درگزر اور حلم و برداشت غالب نہ ہوتی تو وہ ہر گناہ پر انسان کو فوراً ہی پکڑ لیا کرتا لیکن وہ انسان کو سنبھلنے کی مہلت دیتا رہتا ہے ۔ اس کے برخلاف انسان اس قدر جلد باز ہے کہ وہ ہر چیز کے نتیجے کو فوری طور پر اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہے خواہ وہ اس کے حق میں بہتر ہو یا نہ ہو۔ انسان کی اس جلد بازی کی عادت کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ انسان کس قدر جلد باز ہے کہ وہ خیر مانگنے کے بجائے برائی (عذاب الٰہی) کی جلدی مچاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ اگر تو نے کسی عذاب کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے فیصلہ کر دے اور عذاب نازل کر دے تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے برائی اور عذاب الٰہی کا مطالبہ کرنا یہ انسان کی جلد بازی کا مزاج ہے جس پر وہ غور کئے بغیر نتیجہ سے بےپرواہ ایک غلط چیز کا مطالبہ کرتا ہے۔ حالانکہ وہ خیر اور بھلائی کا راستہ اختیار کر کے اپنی دنیا اور آخرت کی بہتری کا سامان بھی کرسکتا تھا۔ فرمایا کہ انسان اگر رات اور دن کے آنے جانے اور ماہ و سال کے نظام پر غور کرلے تو اس کو اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ اللہ اس نظام کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق چلا رہا ہے وہ اس نظام کو چلانے میں جلد بازی نہیں کرتا اور وہ انسانوں کے ہر گناہ پر فوراً گرفت نہیں کرتا فرمایا کہ یہ سب اللہ کا فضل و کرم ہے کہ وہ لوگ کی نافرمانیوں اور گناہوں پر فوری طور پر سزا دینے کے بجائے ان کو مہلت پر مہلت دے رہا ہے۔ دنیاوی زندگی کی ہر سہولت دے را ہے تاکہ وہ شکر گذاروں کا راستہ اختیار کرسکیں لیکن اگر انہوں نے یہی روش قائم رکھی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب ان کو اپنے کئے ہوئے اعمال پر نہ صرف شرمندہ ہوناپڑے گا بلکہ کڑی سے کڑی سزا بھی بھگتنا پڑے گی۔ اور کسی طرف سے ان کی مدد نہ کی جاسکے گی۔ فرمایا کہ انسان کو ناشکری کا راستہ چھوڑ کر فکر آخرت اختیار کرنا چنا ہے کیونکہ اس دنیا کی زندگی تو نہایت مختصر وقت کے لئے ہے مگر آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جس نے آخرت کی فکر اختیار کرلی وہی کامیاب و بامراد ہے وہی ہدایت پر ہے لیکن جس نے آخرت کی فکر نہ کی اور گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا تو اس کا نقصان خود اسی کو بھگتنا پڑے گا اور وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا بلکہ ہر انسان کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انسان کے لیے قرآن مجید ہدایت اور خوشخبری ہے۔ مگر ہدایت کے لیے کچھ محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن انسان اس محنت سے جی چراتے ہوئے دنیا کے عارضی فائدے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انسان اپنی جلد باز طبیعت کی وجہ سے اکثر اوقات یہ نہیں سوچتا کہ دنیا کے جس فائدے کی خاطر آخرت کی دائمی خیر کو فراموش کر رہا ہوں۔ وہ اس کے لیے کس قدر نقصان کا سودا ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے۔ اس لیے انسان خیر کے لیے محنت کرنے کی بجائے شر کی طرف جلد راغب ہوتا ہے۔ جس بنا پر اچھے نتیجے اور خیر کا انتظار کرنے کی بجائے وہ شر کا متلاشی بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کی معمولی تکلیف سے پریشان ہو کر اپنے لیے شر کی دعا کرنے سے بھی نہیں جھجکتا۔ اس کی لوگوں کی زندگی میں کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ بیماری سے نجات کی بجائے موت کی دعا کرنا، اولاد کی خیر مانگنے کی بجائے ان کو بربادی کی بدعا دینا، مشکلات پر قابو پانے کی بجائے خود کشی کے گھاٹ اتر جانا وغیرہ۔ یہ حرکات انسان کی جلد بازی کا نتیجہ ہیں۔ حالانکہ انسان ذرا غور و فکر کرے تو اسے اس بات کا ادراک ہوجائے گا کہ اس کی زندگی جس لیل و نہار سے عبارت ہے۔ ان میں نشیب و فراز کا پایا جانا قدرتی اور فطری معاملہ ہے۔ اس لیے یہاں رات اور دن کو دو نشانیاں قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے : ” ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کو اندھیری اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو۔ رات اور دن بنانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے تاکہ تم دن رات کے ذریعے مہینوں اور سالوں کا حساب کرو۔ ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ “ ہر چیز کی تفصیل کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں اور باتیں انسان کی ہدایت اور اس کی آخرت کے فوائد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیا ہے۔ اگر کہیں ایک بات کو اشارہ کی زبان میں ذکر کیا ہے۔ تو وہ اشارہ بھی عقل مندوں کے لیے کھلی تفصیل کا عنوان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے نکتہ سنج دا نشوروں اور کائنات پر غور کرنے والے سائنس دانوں نے قدرت کے بھید پانے کے لیے قرآن مجید کے دیے ہوئے اشاروں سے روشن شاہرائیں پائیں اور اپنی اپنی ایجادات سے ایک دنیا کو مستفید فرمایا۔ جہاں تک رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کا معاملہ ہے اس میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اے انسان ! جس طرح رات کا تاریک ہونا لازم ہے۔ اس طرح پریشانیاں اور مشکلات تیری زندگی کا حصہ ہیں۔ یہاں دن کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ذکر کیا کہ دن کو اس لیے روشن بنایا تاکہ تم دن کے اجالوں میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ فضل تلاش کرنے سے مراد رزق حلال کے لیے محنت کرنے کے ساتھ دنیا کی ترقی کے اسباب کا حصول ہے۔ جس میں یہ کھلا اشارہ پایا جاتا ہے کہ مشکلات میں پریشان ہونے اور کسی شر کے بارے میں جلد بازی کرنے کی بجائے انسان کو یہ عقیدہ رکھتے ہوئے مشکلات پر قابو پانے کی جدوجہد کرنی چاہیے کہ جس طرح رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے۔ اسی طرح مشکلات کے بعد آسانیوں کا حاصل ہونا یقینی ہے۔ قرآن مجید نے اس اصول کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ تفسیر بالقرآن رات اور دن قدرت کی نشانیاں ہیں : ١۔ رات اور دن کو اللہ نے نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : ١٢) ٢۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : ٣٧) ٣۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، دن اور رات کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : ١٩٠) ٤۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ اللہ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ اس لئے کہ وہ معاملات کے انجام سے بالکل بیخبر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور درحقیقت وہ شر ہوتا ہے اور اس کے کے گزرنے میں وہ بہت جلدی کرتا ہے ، بعض اوقات وہ کسی کام کو شر سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ خیر ہوتا ہے۔ غرض انسان کسی بھی کام کے عواقب و نتائج کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جبکہ قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے وہ نہایت ہی سیدھی ، نہایت ہی دھیمی اور پروقار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی رہنمائی والی راہ جدا ہے اور انسان کی خود طے کردہ راہ جدا ہے۔ اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہے۔ سابقہ آیات میں چند معجزانہ اشارات تھے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واقعہ معراج اور اس کے اندر پائے جانے والے معجزات ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا معجزانہ طور پر طوفان سے بچنا اور ان لوگوں کی طرف اشارہ جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے۔ تاریخ بنی اسرائیل کے مدوجزر اور اور ان میں اللہ کے معجزانہ فیصلے اور اقوام کے عروج وزوال کے اصول کے طرف اشارہ ” اور انسانی زندگی میں مکافات عمل اور قرآن کریم کی کتاب ہدایت اور منہاج عمل ہونے کی طرف اشارہ۔ ان تمام معجزانہ امور کے بعد اب روئے سخن معجزات کائنات کی طرف پھرجاتا ہے ، ان سابقہ معجزات کا صدور تو پیغمبروں کے ذریعہ ہوا۔ لیکن یہ معجزات ایسے ہیں کہ ہر کسی کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ ان کائناتی معجزات کے ساتھ انسانی زندگی کی جدوجہد اور انسانی اعمال بھی وابستہ ہیں۔ انسانی اعمال اور جدوجہد کا نتیجہ ان قوانین قدرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چناچہ جس طرح انسانی عمل اور مکافات عمل کا اصول کائنات میں رواں دواں ہے ۔ اسی طرح نوامیس فطرت کے اصول بھی انسانی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں ، جس طرح انسانی ، عمران کچھ قواعد پر مبنی ہے ، اسی طرح یہ کائنات بھی بعض قواعد پر مبنی ہے۔ اور اس کے اندر کوئی تخلف نہیں ہوتا۔ رات و دن کا یہ نظام جس طرح نہایت ہی اٹل قواعد پر مبنی ہے اسی طرح سنت الہیہ بھی اس کائنات میں جاری وساری ہے اور اس کے اصول بھی اٹل ہیں ۔ او وہ بھی اسی ژات باری کے ارادے سے چل رہے ہیں جس کے ارادے سے رات و دن چل رہے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انسان اپنے لیے برائی کی بددعا کرتا ہے، اس کے مزاج میں جلد بازی ہے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان اپنے لیے برائی کی دعا کی ہے اور جس طرح خیر کی دعا کرتا ہے اسی انداز میں شر کی دعا کر بیٹھتا ہے۔ تفسیر درمنثور (ص ١٦٦ ج ٤) میں حضرت حسن سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ جب انسان کو غصہ آتا ہے تو اپنی جان کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے مال کو اور اپنی اولاد کو برے الفاظ میں یاد کرتا ہے پھر اگر اس کی بددعا کے مطابق اللہ تعالیٰ اس پر تکلیف بھیج دے تو ناگوار معلوم ہوتا ہے پھر خیر کی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خیر عطا فرما دیتا ہے، حضرت مجاہد سے بھی یہی بات نقل کی ہے، حقیقت میں انسان ذرا سی ناگواری کی وجہ سے بددعا کر بیٹھتا ہے حالانکہ دعا ہمیشہ خیر ہی کی مانگنی چاہیے اور عافیت ہی کا سوال کرنا چاہیے حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جانوں اور اپنی اولاد اور اپنے مالوں کے لیے بددعا نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی مقبولیت کی گھڑی میں اللہ جل شانہ سے سوال کر بیٹھو اور وہ تمہاری بد دعا قبول فرمالے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩٤ از مسلم) اس کے بعد انسان کا مزاج بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ کَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا) (اور انسان جلد باز ہے) دوسری آیت میں فرمایا ہے (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) (انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے) انسان کا یہ مزاج ہے کہ اس کے اعمال اور اشغال میں عجلت ظاہر ہوتی رہتی ہے اور یہ عجلت بہت سی مصیبتوں کا سبب بن جاتی ہے بہت سے ایکسیڈنٹ جلد بازی کی وجہ سے ہوتے ہیں اور بہت سے فیصلہ کرنے میں جلدی کرتے ہیں طلاق دے بیٹھتے ہیں اور ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں پچھتاتے ہیں اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ الاناۃ من اللّٰہ والعجلۃ من الشیطان کہ بردباری اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٢٩ از ترمذی) ہر کام سوچ سمجھ کر اطمینان سے ہونا چاہیے البتہ آخرت کے کاموں میں جلدی کرے یعنی ان کی طرف آگے بڑھنے میں دیر نہ لگائے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ جلد بازی میں آخرت کا کام خراب کرلے، آخرت کے کام میں دیر نہ لگائے جیسے ہی موقع لگے انجام دیدے اور مشغول ہوجائے اسی کو (سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) میں فرمایا ہے۔ آخرت کے اعمال میں جلدی کا یہ مطلب نہیں کہ ناقص اعمال ادا کرے، عمل تو پورا ہو لیکن اس کی طرف متوجہ ہونے میں جلدی کرے جب شروع کرے تو اچھی طرح انجام دے، بہت سے لوگ نماز شروع کرتے ہیں تو کھٹاکھٹ تو چل میں آیا کے مطابق رکوع سجدہ ادا کرتے چلے جاتے ہیں ہر چیز ناقص ادا ہوتی ہے، جو شخص امام کے ساتھ نیت باندھے اور پھر امام سے پہلے سر اٹھائے اس کی جلد بازی کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے، چونکہ گدھا بےوقوفی میں مشہور ہے اس لیے یہ بات فرمائی جب امام کے سلام کے ساتھ ہی نماز سے نکلنا ہے تو اس سے پہلے رکوع اور سجدہ کرنا بےوقوفی نہیں ہے تو کیا ہے ؟

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ شکوی ہے، معجزہ اسراء دکھایا گیا تاکہ مشرکین مسئلہ توحید مان لیں ورنہ اللہ کا عذاب آئے گا مگر وہ کیسے احمق اور عجلت پسند ہیں کہ مسئلہ ماننے کے بجائے الٹا کہتے ہیں لاؤ ناں وہ عذاب۔ اس میں دیر کیوں ہو رہی ہے۔ دعاءہ منصوب بنزع الخافض ای کدعاء ہ۔ انسان سے کافر انسان مراد ہے کہ وہ نادانی سے اللہ کا عذاب اس طرح مانگتا ہے جس طرح اللہ کی رحمت مانگنی چاہیے جیسا کہ نضر بن حارث کے بارے میں ابن عباس (رض) سے منقول ہے اس نے کیا تھا کہ اے اللہ اگر یہ قرآن، مسئلہ توحید اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں تو ہم پر عذاب نازل کر کے ہلاک کردے۔ عن ابن عباس (رض) ھو النضر بن الحارث قال اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عند الایۃ فاجیب فضربت عنقہ ؟ ؟ (مدارک ج 2 ص 638) ۔ انسان کیسا جلد باز ہے کہ جلدی عذاب آنے کا مطالبہ کرتا ہے حالانکہ عذاب تو ضرور آئے گا مگر اپنے مقررہ وقت پر۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 1 اور انسان شر کی اور برائی کی دعا بھی اسی طرح کرتا ہے جس طرح خیر کی اور بھلائی کی دعا کرتا ہے اور انسان بہت جلد باز واقع ہے۔ یعنی بھلائی کی دعا میں جس طرح قبولیت دعا کا تقاضا کرتا ہے اسی طرح شر کی دعا کو بھی چاہتا ہے جلد قبول ہوجائے اگر تاخیر ہوجائے تو بگڑتا اور بدگمانی کرتا ہے۔ شر کی دعا کا مطلب یہ ہے جیسے کفار کا عذاب مانگنا یا جیسے حوادثات سے تنگ آ کر موت مانگنا یا نادانستہ طور پر کسی دعا پر اصرار کرنا اور اس کی قبولیت کا تقاضا کرنا مگر حضرت حق کے علم میں اس دعا کی قبولیت میں جو نقصان اور خرابیاں پیدا ہونیوالی ہیں وہ موجود ہیں اور وہ ان برائیوں کو جانتا ہے لیکن جاہل انسان مانگے جاتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ میری دعا قبول فرما۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گھبراتا ہے کہ میری دعا شتاب کیوں قبول نہیں ہوتی اور اس کی دعا بعض اس کے حق میں بری ہے اگر قبول ہو تو انسان خراب ہو سو ہر طرح اللہ بہتر دانا ہے چاہے کہ اس کی رضا پر شاکر رہے۔