Moderation in Spending
Allah enjoins moderation in living. He condemns miserliness and forbids extravagance.
وَلاَ تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ
...
And let not your hand be tied (like a miser) to your neck,
this means, do not be miserly and stingy, never giving anything to anyone, as the Jews - may the curses of Allah be upon them - said,
"Allah's Hand is tied up (i.e., He does not give and spend of His bounty)."
They attributed miserliness to Him, Exalted and Sanctified be the Most Generous Bestower!
...
وَلاَ تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ
...
nor overextend it (like a spendthrift),
means, nor be extravagant in spending and giving more than you can afford, or paying more than you earn, lest you become blameworthy and find yourself in severe poverty.
...
فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا
so that you become blameworthy and in severe poverty.
If you are a miser, people will blame you and condemn you, and no longer rely on you. When you spend more than you can afford, you will find yourself without anything to spend, so you will be worn out, like an animal that cannot walk, so it becomes weak and incapable.
It is described as worn out, which is similar in meaning to exhausted.
As Allah says:
الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـوَتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِى خَلْقِ الرَّحْمَـنِ مِن تَفَـوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ
ثُمَّ اْرجِعِ البَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ البَصَرُ خَاسِيًا وَهُوَ حَسِيرٌ
Then look again: "Can you see any rifts" Then look again and yet again, your sight will return to you in a state of humiliation and worn out. (67:3-4)
meaning, unable to see any faults.
Similarly, Ibn Abbas, Al-Hasan, Qatadah, Ibn Jurayj, Ibn Zayd and others understood this Ayah as miserliness and extravagance.
It was reported in the Two Sahihs from the Hadith of Abu Az-Zinad from Al-A`raj that Abu Hurayrah heard the Messenger of Allah say:
مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا
فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَأ يُنْفِقُ إِلاَّ سَبَغَتْ أَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ
وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلَأ يُرِيدُ أَنْ يُنْفِقَ شَيْيًا إِلاَّ لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَأ تَتَّسِع
The parable of the miser and the almsgiver is that of two persons wearing iron cloaks from their chests to their collar-bones.
When the almsgiver gives in charity, the cloak becomes spacious until it covers his whole body to such an extent that it hides his fingertips and covers his tracks (obliterates his tracks - or, his sins will be forgiven).
And when the miser wants to spend, it (the iron cloak) sticks and (its) every ring gets stuck to its place, and he tries to widen it, but it does not become wide.
This version was recorded by Al-Bukhari in the Book of Zakah.
In the Two Sahihs it is recorded that Mu`awiyah bin Abi Muzarrid narrated from Sa`id bin Yasar that Abu Hurayrah said:
"The Messenger of Allah said:
مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلاَّ وَمَلَكَانِ يَنْزِلاَانِ مِنَ السَّمَاءِ
يَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا
وَيَقُولُ الاْخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا
There is no day when a person wakes up but two angels come down from heaven.
One of them says, `O Allah, compensate the one who gives (in charity),' and
the other one says, `O Allah, destroy the one who withholds."'
Muslim recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said:
مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا أَنْفَقَ إِلاَّ عِزًّا وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله
Wealth never decreases because of Sadaqah (charity). Allah never increases a servant who gives in charity except in honor, and whoever is humble for the sake of Allah, Allah will raise him in status.
According to a Hadith narrated by Abu Kathir from Abdullah bin `Amr, who attributed it to the Prophet:
إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ
أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا
وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا
وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا
Beware of stinginess for it destroyed the people who came before you.
It commanded them to be miserly, so they were miserly;
and it commanded them to cut the ties of kinship, so they cut them;
and it commanded them to commit immoral actions, so they did so.
میانہ روی کی تعلیم
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف ۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو ۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ ان پر اللہ کی لعنتیں نازل ہوں کہ یہ اللہ کو بخیلی کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ جس سے اللہ تعالیٰ کریم و وھاب پاک اور بہت دور ہے ۔ پس بخل سے منع کر کے پھر اسراف سے روکتا ہے کہ اتنا کھل نہ کھیلو کہ اپنی طاقت سے زیادہ دے ڈالو ۔ پھر ان دونوں حکموں کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بخیلی سے تو ملامتی بن جاؤ گے ہر ایک کی انگلی اٹھے گی کہ یہ بڑا بخیل ہے ہر ایک دور ہو جائے گا کہ یہ محض بےفیض آدمی ہے ۔ جیسے زہیر نے اپنے معلقہ میں کہا ہے ومن کان ذا مال ویبخل بمالہ ، علی قومہ یستغن عنہ و یذمم یعنی جو مالدار ہو کر بخیلی کرے لوگ اس سے بےنیاز ہو کر اس کی برائی کرتے ہیں ۔ پس بخیلی کی وجہ سے انسان برا بن جاتا ہے اور لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے ہر ایک اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور جو حد سے زیادہ خرچ کر گزرتا ہے وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا ۔ ضعیف اور عاجز ہو جاتا ہے جیسے کوئی جانور جو چلتے چلتے تھک جائے اور راستے میں اڑ جائے ۔ لفظ حسیر سورہ تبارک میں بھی آیا ہے ۔ پس یہ بطور لف و نشر کے ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے بخیل اور سخی کی مثال ان دو شخصوں جیسی ہے جن پر دو لوہے کے جبے ہوں ، سینے سے گلے تک ، سخی تو جوں جوں خرچ کرتا ہے اس کی کڑیاں ڈھیلی ہوتی جاتی ہیں اور اس کے ہاتھ کھلتے جاتے ہیں اور وہ جبہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی پوریوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے اثر کو مٹاتا ہے اور بخیل جب کبھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبے کی کڑیاں اور سمٹ جاتی ہیں وہ ہر چند اسے وسیع کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں گنجائش نہیں نکلتی ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ نے حضرت اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ کی راہ میں خرچ کرتی رہ جمع نہ رکھا کر ، ورنہ اللہ بھی روک لے گا بند بھی روک لے گا بند باندھ کر روک نہ لیا کر ورنہ پھر اللہ بھی رزق کا منہ بند کر لے گا ۔ ایک اور روایت میں ہے شمار کر ورنہ اللہ بھی روک لے گا بند باندھ کر روک نہ لیا کر ورنہ پھر اللہ بھی رزق کا منہ بند کر لے گا ایک اور روایت میں ہے شمار کر کے نہ رکھا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گنتی نہ کر کے لے گا ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تو اللہ کی راہ میں خرچ کیا کر ، اللہ تعالیٰ تجھے دیتا رہے گا ۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر صبح دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ سخی کو بدلہ دے اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ بخیل کا مال تلف کر ۔ مسلم شریف میں ہے صدقے خیرات سے کسی کا مال نہیں گھٹتا اور ہر سخاوت کرنے والے کو اللہ ذی عزت کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم کی وجہ سے دوسروں سے عاجزانہ برتاؤ کرے اللہ اسے بلند درجے کا کر دیتا ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے طمع سے بچو اسی نے تم سے اگلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ۔ طمع کا پہلا حکم یہ ہوتا ہے کہ بخیلی کرو انہوں نے بخیلی کی پھر اس نے انہیں صلہ رحمی توڑنے کو کہا انہوں نے یہ بھی کیا پھر فسق و فجور کا حکم دیا یہ اس پر بھی کار بند ہوئے ۔ بیہقی میں ہے جب انسان خیرات کرتا ہے ستر شیطانوں کے جبڑے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ مسند کی حدیث میں ہے درمیانہ خرچ رکھنے والا کبھی فقیر نہیں ہوتا ۔ پھر فرماتا ہے کہ رزق دینے والا ، کشادگی کرنے والا ، تنگی میں ڈالنے والا ، اپنی مخلوق میں اپنی حسب منشا ہیر پھیر کرنے والا ، جسے چاہے غنی اور جسے چاہے فقیر کرنے والا اللہ ہی ہے ۔ ہر بات میں اس کی حکمت ہے ، وہی اپنی حکمتوں کا علیم ہے ، وہ خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مستحق امارت کون ہے اور مستحق فقیری کون ہے ؟
حدیث قدسی میں ہے میرے بعض بندے وہ ہیں کہ فقیری ہی کے قابل ہیں اگر میں انہیں امیر بنا دوں تو ان کا دین تباہ ہو جائے اور میرے بعض بندے ایسے بھی ہیں جو امیری کے لائق ہیں اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو ان کا دین بگڑ جائے ۔ ہاں یہ یاد رہے کہ بعض لوگوں کے حق میں امیری اللہ کی طرف سے ڈھیل کے طور پر ہوتی ہے اور بعض کے لئے فقیری بطور عذاب ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں سے بچائے ۔