Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 29

سورة بنی اسراءیل

وَ لَا تَجۡعَلۡ یَدَکَ مَغۡلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبۡسُطۡہَا کُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا ﴿۲۹﴾

And do not make your hand [as] chained to your neck or extend it completely and [thereby] become blamed and insolvent.

اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ پھر ملامت کیا ہوا درماندہ بیٹھ جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Moderation in Spending Allah enjoins moderation in living. He condemns miserliness and forbids extravagance. وَلاَ تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ ... And let not your hand be tied (like a miser) to your neck, this means, do not be miserly and stingy, never giving anything to anyone, as the Jews - may the curses of Allah be upon them - said, "Allah's Hand is tied up (i.e., He does not give and spend of His bounty)." They attributed miserliness to Him, Exalted and Sanctified be the Most Generous Bestower! ... وَلاَ تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ ... nor overextend it (like a spendthrift), means, nor be extravagant in spending and giving more than you can afford, or paying more than you earn, lest you become blameworthy and find yourself in severe poverty. ... فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا so that you become blameworthy and in severe poverty. If you are a miser, people will blame you and condemn you, and no longer rely on you. When you spend more than you can afford, you will find yourself without anything to spend, so you will be worn out, like an animal that cannot walk, so it becomes weak and incapable. It is described as worn out, which is similar in meaning to exhausted. As Allah says: الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـوَتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِى خَلْقِ الرَّحْمَـنِ مِن تَفَـوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ ثُمَّ اْرجِعِ البَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ البَصَرُ خَاسِيًا وَهُوَ حَسِيرٌ Then look again: "Can you see any rifts" Then look again and yet again, your sight will return to you in a state of humiliation and worn out. (67:3-4) meaning, unable to see any faults. Similarly, Ibn Abbas, Al-Hasan, Qatadah, Ibn Jurayj, Ibn Zayd and others understood this Ayah as miserliness and extravagance. It was reported in the Two Sahihs from the Hadith of Abu Az-Zinad from Al-A`raj that Abu Hurayrah heard the Messenger of Allah say: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَأ يُنْفِقُ إِلاَّ سَبَغَتْ أَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلَأ يُرِيدُ أَنْ يُنْفِقَ شَيْيًا إِلاَّ لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَأ تَتَّسِع The parable of the miser and the almsgiver is that of two persons wearing iron cloaks from their chests to their collar-bones. When the almsgiver gives in charity, the cloak becomes spacious until it covers his whole body to such an extent that it hides his fingertips and covers his tracks (obliterates his tracks - or, his sins will be forgiven). And when the miser wants to spend, it (the iron cloak) sticks and (its) every ring gets stuck to its place, and he tries to widen it, but it does not become wide. This version was recorded by Al-Bukhari in the Book of Zakah. In the Two Sahihs it is recorded that Mu`awiyah bin Abi Muzarrid narrated from Sa`id bin Yasar that Abu Hurayrah said: "The Messenger of Allah said: مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلاَّ وَمَلَكَانِ يَنْزِلاَانِ مِنَ السَّمَاءِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الاْخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا There is no day when a person wakes up but two angels come down from heaven. One of them says, `O Allah, compensate the one who gives (in charity),' and the other one says, `O Allah, destroy the one who withholds."' Muslim recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said: مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا أَنْفَقَ إِلاَّ عِزًّا وَمَنْ تَوَاضَعَ للهِ رَفَعَهُ الله Wealth never decreases because of Sadaqah (charity). Allah never increases a servant who gives in charity except in honor, and whoever is humble for the sake of Allah, Allah will raise him in status. According to a Hadith narrated by Abu Kathir from Abdullah bin `Amr, who attributed it to the Prophet: إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا Beware of stinginess for it destroyed the people who came before you. It commanded them to be miserly, so they were miserly; and it commanded them to cut the ties of kinship, so they cut them; and it commanded them to commit immoral actions, so they did so.

میانہ روی کی تعلیم حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف ۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو ۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ ان پر اللہ کی لعنتیں نازل ہوں کہ یہ اللہ کو بخیلی کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ جس سے اللہ تعالیٰ کریم و وھاب پاک اور بہت دور ہے ۔ پس بخل سے منع کر کے پھر اسراف سے روکتا ہے کہ اتنا کھل نہ کھیلو کہ اپنی طاقت سے زیادہ دے ڈالو ۔ پھر ان دونوں حکموں کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بخیلی سے تو ملامتی بن جاؤ گے ہر ایک کی انگلی اٹھے گی کہ یہ بڑا بخیل ہے ہر ایک دور ہو جائے گا کہ یہ محض بےفیض آدمی ہے ۔ جیسے زہیر نے اپنے معلقہ میں کہا ہے ومن کان ذا مال ویبخل بمالہ ، علی قومہ یستغن عنہ و یذمم یعنی جو مالدار ہو کر بخیلی کرے لوگ اس سے بےنیاز ہو کر اس کی برائی کرتے ہیں ۔ پس بخیلی کی وجہ سے انسان برا بن جاتا ہے اور لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے ہر ایک اسے ملامت کرنے لگتا ہے اور جو حد سے زیادہ خرچ کر گزرتا ہے وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا ۔ ضعیف اور عاجز ہو جاتا ہے جیسے کوئی جانور جو چلتے چلتے تھک جائے اور راستے میں اڑ جائے ۔ لفظ حسیر سورہ تبارک میں بھی آیا ہے ۔ پس یہ بطور لف و نشر کے ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے بخیل اور سخی کی مثال ان دو شخصوں جیسی ہے جن پر دو لوہے کے جبے ہوں ، سینے سے گلے تک ، سخی تو جوں جوں خرچ کرتا ہے اس کی کڑیاں ڈھیلی ہوتی جاتی ہیں اور اس کے ہاتھ کھلتے جاتے ہیں اور وہ جبہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی پوریوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے اثر کو مٹاتا ہے اور بخیل جب کبھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبے کی کڑیاں اور سمٹ جاتی ہیں وہ ہر چند اسے وسیع کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں گنجائش نہیں نکلتی ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ نے حضرت اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ کی راہ میں خرچ کرتی رہ جمع نہ رکھا کر ، ورنہ اللہ بھی روک لے گا بند بھی روک لے گا بند باندھ کر روک نہ لیا کر ورنہ پھر اللہ بھی رزق کا منہ بند کر لے گا ۔ ایک اور روایت میں ہے شمار کر ورنہ اللہ بھی روک لے گا بند باندھ کر روک نہ لیا کر ورنہ پھر اللہ بھی رزق کا منہ بند کر لے گا ایک اور روایت میں ہے شمار کر کے نہ رکھا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی گنتی نہ کر کے لے گا ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تو اللہ کی راہ میں خرچ کیا کر ، اللہ تعالیٰ تجھے دیتا رہے گا ۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر صبح دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ سخی کو بدلہ دے اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ بخیل کا مال تلف کر ۔ مسلم شریف میں ہے صدقے خیرات سے کسی کا مال نہیں گھٹتا اور ہر سخاوت کرنے والے کو اللہ ذی عزت کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم کی وجہ سے دوسروں سے عاجزانہ برتاؤ کرے اللہ اسے بلند درجے کا کر دیتا ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے طمع سے بچو اسی نے تم سے اگلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ۔ طمع کا پہلا حکم یہ ہوتا ہے کہ بخیلی کرو انہوں نے بخیلی کی پھر اس نے انہیں صلہ رحمی توڑنے کو کہا انہوں نے یہ بھی کیا پھر فسق و فجور کا حکم دیا یہ اس پر بھی کار بند ہوئے ۔ بیہقی میں ہے جب انسان خیرات کرتا ہے ستر شیطانوں کے جبڑے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ مسند کی حدیث میں ہے درمیانہ خرچ رکھنے والا کبھی فقیر نہیں ہوتا ۔ پھر فرماتا ہے کہ رزق دینے والا ، کشادگی کرنے والا ، تنگی میں ڈالنے والا ، اپنی مخلوق میں اپنی حسب منشا ہیر پھیر کرنے والا ، جسے چاہے غنی اور جسے چاہے فقیر کرنے والا اللہ ہی ہے ۔ ہر بات میں اس کی حکمت ہے ، وہی اپنی حکمتوں کا علیم ہے ، وہ خوب جانتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مستحق امارت کون ہے اور مستحق فقیری کون ہے ؟ حدیث قدسی میں ہے میرے بعض بندے وہ ہیں کہ فقیری ہی کے قابل ہیں اگر میں انہیں امیر بنا دوں تو ان کا دین تباہ ہو جائے اور میرے بعض بندے ایسے بھی ہیں جو امیری کے لائق ہیں اگر میں انہیں فقیر بنا دوں تو ان کا دین بگڑ جائے ۔ ہاں یہ یاد رہے کہ بعض لوگوں کے حق میں امیری اللہ کی طرف سے ڈھیل کے طور پر ہوتی ہے اور بعض کے لئے فقیری بطور عذاب ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں سے بچائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 گزشتہ آیت میں انکار کرنے کا ادب بیان فرمایا اب انفاق کا ادب بیان کیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان بخل کرے کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پر بھی خرچ نہ کرے اور نہ فضول خرچی ہی کرے کہ اپنی وسعت اور گنجائش دیکھے بغیر ہی بےدریغ خرچ کرتا رہے۔ بخل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان، قابل ملامت و ندمت قرار پائے گا اور فضول خرچی کے نتیجے میں محسور (تھکا ہارا اور پچھتانے والا) محسور اس جانور کو کہتے ہیں جو چل چل کر تھک چکا اور چلنے سے عاجز ہوچکا ہو۔ فضول خرچی کرنے والا بھی بالآخر خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ، یہ کنایہ ہے بخل سے اور ' نہ اسے بالکل ہی کھول دے ' یہ کنایہ ہے فضول خرچی سے۔ ملوما محسورا لف نشر مرتب ہے، یعنی ملوم بخل کا اور محسور فضول خرچی کا نتیجہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤] خرچ کرنے میں اعتدال :۔ اپنا ہاتھ گردن سے باندھنا محاورہ ہے جس کا معنی ہے بخل کرنا۔ یعنی خرچ کرتے وقت نہ تو بخل سے کام لینا چاہیے اور نہ اتنا زیادہ خرچ کردینا چاہیے کہ اپنی ضرورت کے لیے بھی کچھ نہ رہے اور خود انسان تکلیف میں پڑجائے۔ خواہ یہ خرچ اپنی ضرورت کے سلسلہ میں ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کی صورت ہو۔ انفاق فی سبیل اللہ کی سب سے اونچی حد یہ ہے کہ && وہ سب کچھ خرچ کردیا جائے جو ضرورت سے زائد ہو && (٢: ٢١٩) یعنی اس فرمان الٰہی میں بھی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنے کے لیے کہا گیا ہے سارا نہیں۔ اور رسول اللہ سے پوچھا گیا کہ افضل صدقہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا : && الصدقۃ عن ظھر غنی && یعنی وہ صدقہ جس کے بعد آدمی خود محتاج یا صدقہ لینے کے قابل نہ ہوجائے۔ (بخاری) نیز حدیث میں ہے کہ جو میانہ روی اختیار کرے وہ محتاج نہیں ہوتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً ۔۔ : ” مَغْلُوْلَةً “ ” غُلٌّ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی گردن کا طوق ہے، جس کے ساتھ ہاتھ بھی باندھ دیے جائیں، جیسا کہ مجرموں اور قیدیوں سے کیا جاتا ہے، مراد بخل اور کنجوسی ہے اور ” الْبَسْطِ “ (کھولنا) سے مراد سخاوت ہے۔ ” مَّحْسُوْرًا “ جو تھک ہار کر چلنے سے رہ جائے۔ یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو خالق و مخلوق دونوں کے ہاں ملامت کیے ہوئے بن جاؤ گے اور پورا ہاتھ کھول دو گے اور سب کچھ دے کر خالی ہاتھ ہوجاؤ گے تو اہل و عیال کی ملامت کے ساتھ ساتھ زندگی کی دوڑ میں تھک ہار کر بیٹھ رہو گے، پھر ممکن ہے کہ بھیک مانگنے تک کی نوبت آجائے۔ سب سے بہتر میانہ روی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا ) [ الفرقان : ٦٧ ] ” اور وہ لوگ (عباد الرحمان ہیں) کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔ “ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ ) [ بخاری، الزکوٰۃ، باب لا صدقۃ إلا عن ظہر غنی : ١٤٢٦ ]” بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد غنا موجود رہے (انسان فقیر نہ ہوجائے) اور ابتدا ان سے کرو جن کی تم پرورش کر رہے ہو۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The instruction for moderation in spending In this verse, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the direct addressee while the entire Muslim ummah is being addressed through him. The purpose is to teach a just and moderate course in spending which does not prevent one from helping others nor does it end up in a lot of trouble for him. There is an event in the background of the revelation of this verse. Ibn Marduwayh has reported it on the authority of Sayyidna ` Abdullah ibn Mas’ ud (رض) and al-Baghawi, on the authority of Sayyidna Jabir. According to this report, a boy came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said, |"My mother asks of you a shirt.|" At that time, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had no shirt except the one that was on his blessed body. He told the boy, |"Come some other time when we have enough means to respond to what your mother is asking for.|" The boy went back home, and returned and said, |"My mother says that you kindly give her the very shirt you have on your blessed body.|" Hearing this, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took the shirt off and let him have it. His body was left bare. Came the time for Salah. Sayyidna Bilal (رض) called the Adhan. But, when he did not come out as usual, people were worried. When some of them went in, they saw that he was sitting bare-bodied without the shirt. Thereupon, this verse was revealed.

خلاصہ تفسیر : اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لو (کہ انتہائی بخل سے بالکل ہاتھ خرچ کرنے سے روک لو) اور نہ بالکل ہی کھول دینا چاہئے (کہ ضرورت سے زیادہ خرچ کر کے اسراف کیا جائے) ورنہ الزام خوردہ (اور) تہیدست ہو کر بیٹھ رہو گے (اور کسی کے فقر و احتیاج پر اتنا اثر لینا کہ اپنے کو پریشانی میں ڈال لو کوئی معقول بات نہیں کیونکہ) بلاشبہ تیرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی (جس پر چاہئے) تنگی کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں (کی حالت اور ان کی مصلحت) کو خوب جانتا ہے دیکھتا ہے (سارے عالم کی حاجات پورا کرنا تو رب العالمین ہی کا کام ہے تم اس فکر میں کیوں پڑے کہ اپنے سے ہو سکے یا نہ ہو سکے اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال کر سب کی حاجتیں پوری ہی کرو یہ صورت اس لئے بیکار ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی سب کی حاجتیں پوری کردینا تمہارے بس کی بات نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کسی کا غم نہ کرے اس کے لئے تدبیر نہ کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ سب کی حاجتیں پوری کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں خواہ وہ اپنے اوپر کتنی ہی مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار بھی ہو کہ یہ کام تو صرف مالک کائنات ہی کا ہے کہ سب کی حاجتوں کو جانتا بھی ہے اور سب کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے کہ کس وقت کس شخص کی کس حاجت کو کس مقدار میں پورا کرنا چاہئے اس لئے انسان کا کام تو صرف اتنا ہی ہے کہ میانہ روی سے کام لے نہ خرچ کرنے کے موقع میں بخل کرے اور نہ اتنا خرچ کرے کہ کل کو خود ہی فقیر ہوجائے اور اہل و عیال جن کے حقوق اس کے ذمہ ہیں ان کے حقوق ادا نہ ہو سکیں اور بعد میں پچھتانا پڑے) معارف و مسائل : خرچ کرنے میں اعتدال کی ہدایت : اس آیت میں بلاواسطہ مخاطب خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ کے واسطے سے پوری امت مخاطب ہے اور مقصود اقتصاد کی ایسی تعلیم ہے جو دوسروں کی امداد میں حائل بھی نہ ہو اور خود اپنے لئے بھی مصیبت نہ بنے اس آیت کے شان نزول میں ابن مردویہ نے بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود اور بغوی نے بروایت حضرت جابر (رض) ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک لڑکا حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ آپ سے ایک کرتے کا سوال کرتی ہیں اس وقت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی کرتا اس کے سوا نہیں تھا جو آپ کے بدن مبارک پر تھا آپ نے لڑکے کو کہا کہ پھر کسی وقت آؤ جبکہ ہمارے پاس اتنی وسعت ہو کہ تمہاری والدہ کا سوال پورا کرسکیں لڑکا گھر گیا اور واپس آیا اور کہا کہ میری والدہ کہتی ہیں کہ آپ کے بدن مبارک پر جو کرتا ہے وہی عنایت فرما دیں یہ سن کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بدن مبارک سے کرتہ اتار کر اس کے حوالے کردیا آپ ننگے بدن رہ گئے نماز کا وقت آیا حضرت بلال (رض) نے اذان دی مگر آپ حسب عادت باہر تشریف نہ لائے تو لوگوں کو فکر ہوئی بعض لوگ اندر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ کرتے کے بغیر ننگے بدن بیٹھے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا 29؀ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ غل الغَلَلُ أصله : تدرّع الشیء وتوسّطه، ومنه : الغَلَلُ للماء الجاري بين الشّجر، وقد يقال له : الغیل، وانْغَلَّ فيما بين الشّجر : دخل فيه، فَالْغُلُّ مختصّ بما يقيّد به فيجعل الأعضاء وسطه، وجمعه أَغْلَالٌ ، وغُلَّ فلان : قيّد به . قال تعالی: خُذُوهُ فَغُلُّوهُ [ الحاقة/ 30] ، وقال : إِذِ الْأَغْلالُ فِي أَعْناقِهِمْ [ غافر/ 71] ( غ ل ل ) الغلل کے اصل معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان میں چلے جانے کے ہیں اسی سے غلل اس پانی کو کہا جاتا ہے جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو اور کبھی ایسے پانی کو غیل بھی کہہ دیتے ہیں اور الغل کے معنی درختوں کے درمیان میں داخل ہونے کے ہیں لہذا غل ( طوق ) خاص کر اس چیز کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے کسی کے اعضار کو جکڑ کر اس کے دسط میں باندھ دیا جاتا ہے اس کی جمع اغلال اتی ہے اور غل فلان کے معنی ہیں اے طوق سے باندھ دیا گیا قرآن میں ہے : خُذُوهُ فَغُلُّوهُ [ الحاقة/ 30] اسے پکڑ لو اور طوق پہنادو ۔ إِذِ الْأَغْلالُ فِي أَعْناقِهِمْ [ غافر/ 71] جب کہ ان لی گردنوں میں طوق ہوں گے ۔ عنق العُنُقُ : الجارحة، وجمعه أَعْنَاقٌ. قال تعالی: وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ( ع ن ق ) العنق ۔ گردن جمع اعناق ۔ قرآن میں ہے : وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ [ الإسراء/اور ہم نے پر انسان کے اعمال کو ( یہ صورت کتاب ) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے ۔ بسط بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ، ( ب س ط ) بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے بسط لثوب ( اس نے کپڑا پھیلایا ) اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلائی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فراش بنایا ۔ اور بساط کے معنی وسیع زمین کے ہیں اور بسیط الارض کے معنی ہیں کھلی اور کشادہ زمین ۔ ایک گروہ کے نزدیک بسیط کا لفظ بطور استعارہ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جس میں ترکیب و تالیف اور نظم متصور نہ ہوسکے ۔ اور بسط کبھی بمقابلہ قبض آتا ہے ۔ جیسے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] خدا ہی روزی کو تنگ کرتا ہے اور ( وہی اسے ) کشادہ کرتا ہے ۔ قعد القُعُودُ يقابل به القیام، والْقَعْدَةُ للمرّة، والقِعْدَةُ للحال التي يكون عليها الْقَاعِدُ ، والقُعُودُ قد يكون جمع قاعد . قال : فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] ، والمَقْعَدُ : مكان القعود، وجمعه : مَقَاعِدُ. قال تعالی: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] أي في مکان هدوّ ، وقوله : مَقاعِدَ لِلْقِتالِ [ آل عمران/ 121] كناية عن المعرکة التي بها المستقرّ ، ويعبّر عن المتکاسل في الشیء بِالْقَاعدِ نحو قوله : لا يَسْتَوِي الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ [ النساء/ 95] ، ومنه : رجل قُعَدَةٌ وضجعة، وقوله : وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدِينَ عَلَى الْقاعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً [ النساء/ 95] وعن التّرصّد للشیء بالقعود له . نحو قوله : لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِراطَكَ الْمُسْتَقِيمَ [ الأعراف/ 16] ، وقوله : إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ [ المائدة/ 24] يعني متوقّفون . وقوله : عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ [ ق/ 17] أي : ملك يترصّده ويكتب له وعليه، ويقال ذلک للواحد والجمع، والقَعِيدُ من الوحش : خلاف النّطيح . وقَعِيدَكَ الله، وقِعْدَكَ الله، أي : أسأل اللہ الذي يلزمک حفظک، والقاعِدَةُ : لمن قعدت عن الحیض والتّزوّج، والقَوَاعِدُ جمعها . قال : وَالْقَواعِدُ مِنَ النِّساءِ [ النور/ 60] ، والْمُقْعَدُ : من قَعَدَ عن الدّيون، ولمن يعجز عن النّهوض لزمانة به، وبه شبّه الضّفدع فقیل له : مُقْعَدٌ «1» ، وجمعه : مُقْعَدَاتٌ ، وثدي مُقْعَدٌ للکاعب : ناتئ مصوّر بصورته، والْمُقْعَدُ كناية عن اللئيم الْمُتَقَاعِدِ عن المکارم، وقَوَاعدُ البِنَاءِ : أساسه . قال تعالی: وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْراهِيمُ الْقَواعِدَ مِنَ الْبَيْتِ [ البقرة/ 127] ، وقَوَاعِدُ الهودج : خشباته الجارية مجری قواعد البناء . ( ق ع د ) القعود یہ قیام ( کھڑا ہونا کی ضد ہے اس سے قعدۃ صیغہ مرۃ ہے یعنی ایک بار بیٹھنا اور قعدۃ ( بکسر ( قاف ) بیٹھنے کی حالت کو کہتے ہیں اور القعود قاعدۃ کی جمع بھی ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] تو کھڑے اور بیٹھے ہر حال میں خدا کو یاد کرو ۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] جو کھڑے اور بیٹھے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں ۔ المقعد کے معنی جائے قیام کے ہیں اس کی جمع مقاعد ہے قرآن میں ہے : ۔ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55]( یعنی ) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ یعنی نہایت پر سکون مقام میں ہوں گے اور آیت کریمہ : ۔ مَقاعِدَ لِلْقِتالِ [ آل عمران/ 121] لڑائی کیلئے مور چوں پر میں لڑائی کے مورچے مراد ہیں جہاں سپاہی جم کر لڑتے ہیں اور کبھی کسی کام میں سستی کرنے والے کو بھی قاعدۃ کہا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ لا يَسْتَوِي الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ [ النساء/ 95] جو مسلمان ( گھروں میں ) بیٹھ رہتے اور لڑنے سے جی چراتے ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے ۔ اسی سے عجل قدعۃ ضجعۃ کا محاورہ جس کے معنی بہت کاہل اور بیٹھنے رہنے والے آدمی کے ہیں نیز فرمایا : ۔ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدِينَ عَلَى الْقاعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً [ النساء/ 95] خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے ۔ اور کبھی قعدۃ لہ کے معیہ کیس چیز کے لئے گھات لگا کر بیٹھنے اور انتظار کرنے کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِراطَكَ الْمُسْتَقِيمَ [ الأعراف/ 16] میں بھی سیدھے رستے پر بیٹھوں گا ۔ نیز فرمایا : ۔ إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ [ المائدة/ 24] ہم یہیں بیٹھے رہینگے یعنی یہاں بیٹھ کر انتظار کرتے رہینگے اور آیت کر یمہ : ۔ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ [ ق/ 17] جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں ۔ میں قعید سے مراد وہ فرشتہ ہے جو ( ہر وقت اعمال کی نگرانی کرتا رہتا ہے اور انسان کے اچھے برے اعمال میں درج کرتا رہتا ہے یہ واحد وجمع دونوں پر بولا جاتا ہے اسے بھی قعید کہا جاتا ہے اور یہ نطیح کی جد ہے ۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے تیری حفاظت کا سوال کرتا ہوں ۔ القاعدۃ وہ عورت جو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے نکاح اور حیض کے وابل نہ رہی ہو اس کی جمع قواعد ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَالْقَواعِدُ مِنَ النِّساءِ [ النور/ 60] اور بڑی عمر کی عورتیں ۔ اور مقعدۃ اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جو ملازمت سے سبکدوش ہوچکا ہو اور اپاہج آدمی جو چل پھر نہ سکے اسے بھی مقعد کہہ دیتے ہیں اسی وجہ سے مجازا مینڈک کو بھی مقعد کہا جاتا ہے اس کی جمع مقعدات ہے اور ابھری ہوئی چھاتی پر بھی ثدی مقعد کا لفظ بولا جاتا ہے اور کنایہ کے طور پر کمینے اور خمیس اطوار آدمی پر بھی مقعدۃ کا طلاق ہوتا ہے قواعد لبنآء عمارت کی بنیادیں قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْراهِيمُ الْقَواعِدَ مِنَ الْبَيْتِ [ البقرة/ 127] اور جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادی اونچی کر رہے تھے قواعد الھودج ( چو کھٹا ) ہودے کی لکڑیاں جو اس کے لئے بمنزلہ بنیاد کے ہوتی ہیں ۔ لوم اللَّوْمُ : عذل الإنسان بنسبته إلى ما فيه لوم . يقال : لُمْتُهُ فهو مَلُومٌ. قال تعالی: فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ [إبراهيم/ 22] ، فَذلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ [يوسف/ 32] ( ل و م ) لمتہ ( ن ) لوما کے معنی کسی کو برے فعل کے ارتکاب پر برا بھلا کہنے اور ملامت کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ [إبراهيم/ 22] تو آج مجھے ملامت نہ کرو ا پنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ فَذلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ [يوسف/ 32] یہ وہی ہے جس گے بارے میں تم ۔ مجھے طعنے دیتی تھیں حسر الحسر : كشف الملبس عمّا عليه، يقال : حسرت عن الذراع، والحاسر : من لا درع عليه ولا مغفر، والمِحْسَرَة : المکنسة، وفلان کريم المَحْسَر، كناية عن المختبر، وناقة حَسِير : انحسر عنها اللحم والقوّة، ونوق حَسْرَى، والحاسر : المُعْيَا لانکشاف قواه، ويقال للمعیا حاسر ومحسور، أمّا الحاسر فتصوّرا أنّه قد حسر بنفسه قواه، وأما المحسور فتصوّرا أنّ التعب قد حسره، وقوله عزّ وجل : يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] ، يصحّ أن يكون بمعنی حاسر، وأن يكون بمعنی محسور، قال تعالی: فَتَقْعُدَ مَلُوماً مَحْسُوراً [ الإسراء/ 29] . والحَسْرةُ : الغمّ علی ما فاته والندم عليه، كأنه انحسر عنه الجهل الذي حمله علی ما ارتکبه، أو انحسر قواه من فرط غمّ ، أو أدركه إعياء من تدارک ما فرط منه، قال تعالی: لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] ، وقال تعالی: يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] ، وقال تعالی: كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] ، وقوله تعالی: يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] ، وقوله تعالی: في وصف الملائكة : لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] ، وذلک أبلغ من قولک : ( لا يحسرون) . ( ح س ر ) الحسر ( ن ض ) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور حسرت عن الذارع میں نے آستین چڑھائی الحاسر بغیر زرہ مابغیر خود کے ۔ المحسرۃ فلان کریم الحسر کنایہ یعنی ناقۃ حسیر تھکی ہوئی اور کمزور اونٹنی جسکا گوشت اور قوت زائل ہوگئی ہو اس کی جمع حسریٰ ہے الحاسر ۔ تھکا ہوا ۔ کیونکہ اس کے قویٰ ظاہر ہوجاتے ہیں عاجز اور درماندہ کو حاسربھی کہتے ہیں اور محسورۃ بھی حاسرۃ تو اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے خود اپنے قوٰی کو ننگا کردیا اور محسور اس تصور پر کہ درماندگی نے اس کے قویٰ کو ننگا دیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] تو نظر ( ہر بار ) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی ۔ میں حسیر بمعنی حاسرۃ بھی ہوسکتا ہے اور کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہوکر بیٹھ جاؤ ۔ الحسرۃ ۔ غم ۔ جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا گویا وہ جہالت اور غفلت جو اس کے ارتکاب کی باعث تھی وہ اس سے دیر ہوگئی یا فرط غم سے اس کے قوی ننگے ہوگئے یا اس کوتاہی کے تدارک سے اسے درماند گی نے پالیا قرآن میں ہے : ۔ لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کردے ۔ وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] نیز یہ کافروں کے لئے ( موجب ) حسرت ہے ۔ يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی ۔ كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گا ۔ يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] بندوں پر افسوس ہے اور فرشتوں کے متعلق فرمایا : ۔ لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] وہ اس کی عبادت سے نہ کنیا تے ہیں اور نہ در ماندہ ہوتے ہیں ۔ اس میں سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

اخراجات میں میانہ روی ہونی چاہیے قول باری ہے (ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتفعد ملوما محسوراً اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو) یعنی …… واللہ اعلم …… ان حقوق کی ادائیگی میں بخل سے کام نہ نوجوان کے لئے واجب ہیں۔ یہ بطور مجاز بیان ہوا ہے اور اس سے مراد تر ک انفاق ہے۔ جائز خرچ سے ایک شخص ہاتھ روک کر گویا اسے اپنی گردن سے باندھ لیتا ہے اور اس طرح اپنے مال میں سے کسی کو کچھ دے نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ نجیل انسان کو ہاتھ کی تنگی کے وصف سے موصوف کرتے تھے اور کہتے فلان جعد الکفین “ (فلاں شخص کے بازو بہت چھوٹے ہیں) اس کے بالمقابل سخی اور فیاض شخص کے لئے یہ فقرے کہے جاتے ” فلان رحب الذراع “ (فلاں شخص کے بازو بڑے کشادہ ہیں)” فلان طویل الیدین (فلاں شخص کے ہاتھ بڑے لمبے ہیں) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا (اسرعکن بی لحاقاً اطوالکن یداً تم میں سب سے پہلے میرے پاس پہنچنے والی وہ ہے جس کے بازو سب سے زیادہ دراز ہیں) اس سے آپ نے صدقہ و خیرات کی کثرت مراد لی تھی۔ وہ ام المومنین حضرت زینب بنت حجش (رض) نکلیں، وہی سب سے بڑھ کر صدقہ و خیرات کرنے والی تھیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امہات المومنین میں سب سے پہلے ان کی وفات ہوئی تھی۔ شاعر کا قول ہے۔ وما ان کان اکثر ھم سواما ولکن کان ارحیھم ذراعاً میرا ممدوح اگرچہ ہونے والے مویشیوں کا سب سے بڑھ کر مالک نہیں تھا لیکن اس کے بازو سب سے زیادہ کشادہ تھے۔ یعنی وہ سب سے بڑھ کر سخی اور فیاض تھا۔ قول باری ہے (ولا تیسطھا کل البسط اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو ) یعنی تمہارے ہاتھ میں جتنا مال ہے وہ سارے کا سارا خرچ نہ کر ڈالو کیونکہ تمہیں اور تمہارے اہل و عیال کو اس کی ضرورت رہے گی اگر ایسا کرو گے تو ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو گے یعنی جو مال تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا اس کی تمہیں حسرت رہے گی۔ یہ خطاب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا باقی ماندہ تمام لوگوں کو ہے۔ آپ آئندہ کے لئے کسی چیز کا ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔ آپ فاقہ کرتے یہاں تک کہ بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لئے پیٹ سے پتھر باندھ لیتے۔ اسی طرح بعض جلیل القدر صحابہ کرام بھی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے تھے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کچھ نہ کہتے اس کی وجہ تھی کہ اللہ کی ذات پر انہیں پورا یقین ہوتا اور وہ بڑے روشن ضمیر ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے انفاق میں افراط سے کام لینے اور سارا مال دے دینے سے صرف ان لوگوں کو روکا ہے جن کے بارے میں یہ خطرہ ہو کہ مال خرچ کرلینے کے بعد انہیں ہمیشہ اس کا افسوس اور مال کی حسرت لاحق ہوجائے گی لیکن جو لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھتے ہوں اور ثواب عظیم کے امیدوار ہوں وہ اس آیت میں مراد نہیں ہیں۔ روایت ہے کہ ایک شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا۔ اس کے پاس انڈے کے برابر سونے کا ٹکڑا تھا۔ کہنے لگا :” اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے یہ ٹکڑا ایک کان سے دستیاب ہوا ہے، بخدا میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے یہ لے لیجیے۔” حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہ بات سن کر اپنا رخ دوسری طرف پھیرلیا۔ اس شخص نے دوسری مرتبہ یہی بات عرض کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اپنا رخ بدل لیا۔ جب اس نے تیسری مرتبہ یہ کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ہاتھ سے سونے کا وہ ٹکڑا لے کر اتنے زور سے پھینکا کہ اگر اس شخص کو لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا، پھر فرمایا : تم میں سے ایک شخص اپنا سارا مال میرے حوالے کرنے کے لئے لے آتا ہے اور پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا رہتا ہے۔ “ ایک اور روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں آیا اس کے جسم پر پھٹے پرانے کپڑے تھے۔ اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے اس شخص کو کھڑے ہوجانے کا حکم دیا۔ وہ کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے صدقہ کے طور پر اس کے لئے کپڑوں کے جوڑے جمع کردیئے، آپ نے ان میں سے دو کپڑے لے کر اسے دے دیئے، اس کے بعد خطبہ دیتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی تلقین فرمائی جسے سن کر اس شخص نے اپنا ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا یہ دیکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگو ! اس شخص کو دیکھو، میں نے اسے کھڑا ہونے کے لئے کہا تھا تاکہ لوگوں کو اس کی بدحالی کا احساس ہوجائے اور اس طرح اس کی کچھ امداد ہوجائے۔ میں نے اسے دو کپڑے دیے تھے اور اب دیکھو اس نے ایک کپڑا صدقہ کے طور پر جمع کرا دیا ہے۔ یہ کہہ کر آپ نے اس شخص کو حکم دیا گیا کہ کپڑا واپس لے لو۔ آیت میں دراصل ایسے ہی لوگوں کو اپنا سب کچھ دے دینے سے روکا گیا ہے۔ لیکن جو حضرات صاحب بصیرت اور روشن ضمیر تھے۔ انہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے نہیں روکتے تھے۔ حضرت ابوبکر کے پاس کافی مال تھا آپ نے سارا مال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کردیا حتی کہ جسم پر صرف ایک چادر رہ گئی تھی جس میں آپ گزارہ کرتے تھے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مسئلے میں آپ کے ساتھ نہ کوئی سختی کی اور نہ ہی اس پر آپ کو ٹوکا۔ آیت میں خطاب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں ہے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا باقی ماندہ لوگ مخاطب ہیں اس کی دلیل یہ قول باری ہے (فتقعد ملوماً محسوراً ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس ایسی نہیں تھی کہ اللہ کی راہ میں سب کچھ خرچ کردینے کے بعد آپ کو افسوس ہوتا یا دل میں مال کی حسرت پیدا ہوجاتی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آیت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا دوسرے تمام لوگ مراد ہیں۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (لئن اشرکت لیحبطن عملک اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے سال اعمال حبط ہوجائیں گے) آیت میں اگرچہ خطاب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے لیکن مراد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا دوسرے تمام لوگ ہیں اسی طرح قول باری (فان کنت فی شک مما انزلنا الیک۔ اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے تم پر اتاری ہے) میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد نہیں ہیں اس لئے کہ آپ کو اللہ کی نازل کردہ کتاب کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ قول باری (وقضی ربک) سے لے کر آیت زیر بحث تک جتنی آیات درج ہیں وہ مندرجہ ذیل امور کی مقتضی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، ا ن کے سامنے نیاز مندی کے اظہار اور ان کی فرمانبرداری نیز رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق ادا کرنے کا امر فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بےجا طور پر مال خرچ کرنے اور اللہ کی نافرمانی میں مال لگانے سے روکا گیا ہے۔ یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ اخراجات میں میانہ روی اختیار کی جائے، فضول خرچی سے پرہیز کی جائے اور حقوق کی ادائیگی میں کتواہی نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ ہاتھ خالی ہونے کی صورت میں مسکین اور سائل کو کس طریقے سے ٹالا جائے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩) اور نہ تو خرچ اور عطیہ سے اس طرح جیسا کہ ہاتھ گردن میں باندھ لیا جائے ہاتھ روک لیا جائے اور نہ بالکل ہی خرچ اور عطیہ میں اسراف کرنا چاہیے یعنی کہ اپنا تمام مال ایک محتاج اور صرف ایک قرابت دار کو نہ دینا چاہیے کہ دوسروں کا بالکل ہی نظر انداز کردیا جائے ورنہ الزام خوردہ خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے کہ دوسروے فقراء اور قرابت دار الزام دیں گے اور تم سے علیحدہ ہوجائیں گے اور جو تمہارے پاس مال ہوگا وہ سب دوسرے تم سے لے جائیں گے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت ایک عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جس نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کرتہ مانگا تھا تو آپ نے کرتہ اتار کر اس کو دے دیا اور خود برہنہ ہو کر بیٹھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس چیز سے منع فرمایا کہ اپنا ہاتھ بالکل ہی نہیں کھول دینا چاہیے کہ اپنے بدن کا کرتہ تک اتار کر آپ دے دیں اور پھر آپ کرتہ بدن پر نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے باہر بھی نکل نہ سکیں۔ شان نزول : (آیت ) ”۔ ولا تجعل یدک مغلولۃ “۔ (الخ) سعید بن منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سیارابی الحکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کپڑے وغیرہ مال آیا اور آپ بہت ہی بخشش کرنے والے تھے چناچہ آپ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کردیا پھر دوسری قوم آپ کے پاس لینے کی امید سے آئی تو آپ کو دیکھا کہ آپ تقسیم کرچکے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ نہ اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لینا چاہیے اور نہ بالکل ہی کھول دینا چاہیے ورنہ الزام خوردہ اور خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے۔ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے ابن مسعود رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ ایک لڑکا رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ آپ سے یہ مانگ رہی ہے، آپ نے فرمایا آج کے دن تو ہمارے پاس کچھ نہیں، وہ لڑکا کہنے لگا تو میری ماں کہتی ہے کہ پھر آپ اپنا کرتہ مبارک ہی مجھے دے دیں، چناچہ آپ نے فورا اپنا کرتہ اتار کر اس کو دیا دے اور گھر میں بغیر کرتہ کے بیٹھ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، نیز ابوامامہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو کچھ میرے پاس مال ہے سب راہ اللہ میں خرچ کر دو ، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ اب کچھ باقی نہیں رہا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیا نازل فرمائی، اس حدیث کا ظاہر بتلا رہا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ ) یہ استعارہ ہے بخل اور کنجوسی کا۔ یعنی آپ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر کسی کو کچھ دینے سے خود کو معذور نہ کرلیں۔ (وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ ) بعض اوقات انسان کے اندر نیکی کا جذبہ اس قدر جوش کھاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دینا چاہتا ہے۔ (فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) ایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں تو جذبات میں آکر انسان سارا مال قربان کر دے مگر بعد میں پچھتائے کہ یہ میں نے کیا کردیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب میری اپنی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی ؟ چناچہ انسان کو ہر حال میں اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29. “And do not keep your hand fastened to your neck”, means: Do not be parsimonious. “Nor outspread it altogether widespread” means: Do not be extravagant. The Quran desires the people to follow the golden mean, i.e. they should neither be so parsimonious as to prevent the circulation of wealth nor so extravagant as to destroy their own economy. On the contrary, they should learn to behave in a balanced manner so that they should spend money wherever it should be spent and refrain from becoming spendthrifts so as to involve themselves into trouble. As a matter of fact, it is ingratitude towards Allah’s favor to spend money for the sake of show, luxury and sinful acts and similar things which are neither man’s real necessities nor useful. Therefore, those people who spend money lavishly on such things as these are the brethren of Satan. These clauses too, are not merely meant to be moral instructions for individuals. They are intended to safeguard the Islamic society against extravagance by moral instruction, collective pressure and legal restrictions. Accordingly, in the Islamic state of Al-Madinah, practical steps were taken to safeguard the community against extravagance. First, many forms of extravagance and luxury were forbidden by law. Secondly, legal measures were taken against it. Thirdly, social reforms were introduced to put an end to those customs which involved extravagance. The government was empowered to prevent people from the obvious forms of extravagance. Above all, Zakat and voluntary charity helped to break parsimony and the lust of hoarding money. Besides these measures, a public opinion was created that enabled the people to discriminate between generosity and extravagance and thrift and parsimony: so much so that parsimonious people were looked down upon as ignominious and the thrifty people were regarded as honorable. This moral and mental attitude became a part and parcel of the Muslim society, and even today the parsimonious people and hoarders are looked down upon in the Muslim society, while the generous people are respected everywhere.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :29 ہاتھ باندھنا ہی استعارہ ہے بخل کے لیے ، اور اسے کھلا چھوڑ دینے سے مراد ہے فضول خرچی ۔ دفعہ ٤ کے ساتھ دفعہ٦ کے اس فقرے کو ملا کر پڑھنے سے منشاء صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اتنا اعتدال ہونا چاہیے کہ وہ نہ بخیل بن کر دولت کی گردش کو روکیں اور نہ فضول خرچ بن کر اپنی معاشی طاقت کو ضائع کریں ۔ اس کے برعکس ان کے اندر توازن کی ایسی صحیح حس موجود ہونی چاہیے کہ وہ بجا خرچ سے باز بھی نہ رہیں اور بیجا خرچ کی خرابیوں میں مبتلا بھی نہ ہو ۔ فخر اور ریاء اور نمائش کے خرچ ، عیاشی اور فسق و فجور کے خرچ ، اور تمام ایسے خرچ جو انسان کی حقیقی ضروریات اور مفید کاموں میں صرف ہونے کے بجائے دولت کو غلط راستوں میں بہا دیں ، دراصل خدا کی نعمت کا کفران ہیں ۔ جو لوگ اس طرح اپنی دولت کو خرچ کرتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں ۔ یہ دفعات بھی محض اخلاقی تعلیم اور انفرادی ہدایات تک محدود نہیں ہیں بلکہ صاف اشارہ اس بات کی طرف کر رہی ہیں ۔ کہ ایک صالح معاشرے کو اخلاقی تربیت ، اجتماعی دباؤ اور قانونی پابندیوں کے ذریعہ سے بے جا صرف مال کی روک تھام کرنی چاہیے ۔ چنانچہ آگے چل کر مدینہ طیبہ کی ریاست میں ان دونوں دفعات کے منشاء کی صحیح ترجمانی مختلف عملی طریقوں سے کی گئی ۔ ایک طرف فضول خرچی اور عیاشی کی بہت سی صورتوں کو ازروئے قانون حرام کیا گیا ۔ دوسری طرف بالواسطہ قانونی تدابیر سے بے جا سرف مال کی روک تھام کی گئی ۔ تیسری طرف معاشرتی اصلاح کے ذریعہ سے ان بہت سی رسموں کا خاتمہ کیا گیا جن میں فضول خرچیاں کی جاتی تھیں ۔ پھر حکومت کو یہ اختیارات دیے گئے کہ اسراف کی نمایاں صورتوں کو اپنے انتظامی احکام کے ذریعہ سے روک دے ۔ اسی طرح زکوة و صدقات کے احکام سے بخل کا زور بھی توڑا گیا اور اس امر کے امکانات باقی نہ رہنے دیےگئے کہ لوگ زراندوزی کر کے دولت کی گردش کو روک دیں ۔ ان تدابیر کے علاوہ معاشرے میں ایک ایسی رائے عام نے بخیلوں کو ذلیل کیا ۔ اعتدال پسندوں کو معزز بنایا ۔ فضول خرچوں کو ملامت کی اور فیاض لوگوں کو پوری سوسائٹی کا گِل سرِ سَبَد قرار دیا ۔ اس وقت کی ذہنی و اخلاقی تربیت کا یہ اثر آج تک مسلم معاشرے میں موجود ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہیں کنجوسوں اور زر اندوزوں کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اور سخی انسان آج بھی ان کی نگاہ میں معزز و محترم ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:29) مغلولۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ منصوب، بالکل بندھا ہوا۔ مغلولۃ الی عنق گردن سے بندھا ہوا۔ ہاتھوں کا گردن سے بندھا ہونا کے معنی دینے کے لئے کھلنے سے قاصر ہونا۔ لہٰذا بخیل کو کہیں گے کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھ رہے ہیں۔ غل کے معنی ہیں باندھنا۔ جکڑنا۔ طوق۔ ہتھکڑی وغیرہ۔ ارشادہ ربانی ہے، خذوہ فغلوہ (29:30) پکڑو اس کو اور طوق پہنائو اس کو۔ ولا تبسطھا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اور نہ ہی اسے (اپنے ہاتھ کو) بالکل کھول دے۔ فتقعد۔ تو بیٹھ جائے گا۔ ملاحظہ ہو 17:22 ۔ ملوما۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ لوم مادہ۔ ملامت زدہ ۔ ملامت کیا ہوا۔ محسورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ حسرت زدہ۔ پر افسوس۔ درماندہ۔ حیران ۔ حسر یحسر (نصر) حسر یحسر (ضرب) لازم۔ نگاہ کا تھک جانا۔ برہنہ ہوجانا۔ پہلی مثال ینقلب الیک البصر خسئا وحسیر (67:4) نگاہ ذلیل اور تھکی ماندی تیری طرف لوٹ آئے گی۔ اور متعدی تھکادینا یا برہنہ کردینا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی انہیں نرمی اور خوش اسلوبی سے سمجھا دو کہ بھائی ذرا انتظار کرلو جونہی کچھ آگیا تمہیں ضرور دوں گا یہ نہیں کہ ان پر خفا ہونے لگو اور انہیں سخت جواب دو چناچہ آنحضرت کے پاس جب سائل آتا اور آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو فرماتے یرزقنا اللہ وایاکم من فضلہ (قرطبی)11 یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو سب الزام دیں گے کہ کنجوس مکھی چوس ہے اور جب سب کچھ اڑا دوں گے اور خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے تو ممکن ہے بھیک مانگنے تک نوبت پہنچ جائے۔ اس لئے ہمیشہ اعتدال کی راہ اختیار کرو جسے ہمیشہ نبھایا جاسکے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماعال من اقتصد وہ شخص فقیر نہ ہوا جس نے خرچ کرنے میں اعتدال کی راہ اختیار کی۔ (مسند احمد)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ کہ غایت بخل سے بالکل ہی ہاتھ روک لیا جاوے۔ 5۔ کہ اسراف کیا جاوے 6۔ اس سے یہ مقصود نہیں کہ کوئی کسی کا غم نہ کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے نفع کے لئے اپنے کو دینی ضرر پہنچانا یا ایسی دنیوی ضرر برداشت کرنا جس کا انجام دینی ضرر ہو یہ ممنوع ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اسلامی نظام زندگی میں توازن بنیادی اصول ہے ، تفریط کی طرح غلو بھی توازن میں خلل انداز ہوتا ہے۔ لیکن توازن کے بیان میں بھی تصویر کشی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ بخیل کی تصویریوں کھینچی گئی کہ وہ ایک شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ رکھے ہیں اور مسرف اور مبذر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جس نے اپنے دونوں ہاتھ اور بازو کھول رکھے ہیں۔ اور وہ کسی چیز کو اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اور بخیل اور مسرف دونوں کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ ایک شخس ہے جو ہر طرف سے مسترد شدہ ملامت کردہ ہے۔ اور عاجز و ناتواں اور لاچار ہے۔ محسور خیبر سے ہے اور خیبر اس سواری کو کہتے ہیں جو جعف و ناتوانی کی وجہ سے بیٹھ جائے اور اس میں چلنے کی سکت ہی نہ رہے۔ بخیل ملامت زدہ ہوتا ہے اور مبذر عاجز ہوجاتا ہے اور دونوں ملامت زدہ ہوتے ہیں۔ جبکہ شریعت کا حکم ہے۔ خیر الاموراوسطھا (میانہ روی بہترین طریق کار ہے) یہ حکم دینے کے بعد کہ میانہ روی اختیار کو جائے ، یہ بتایا جاتا ہے کہ حقیقی رزاق اللہ ہے ، وہی ہے جو کسی کو رزق فراواں دیتا ہے اور کسی پر رزق کے سلسلے میں تنگی کرتا ہے چونکہ رزاق دہی ہے اس لئے وہ میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) (اور تو اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کی طرف باندھا ہوا مت رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے ورنہ تو ملامت کیا ہوا خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے گا) اس آیت میں خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے مال خرچ کرتا رہے (لیکن گناہوں میں خرچ نہ کرے اور بالکل ہی ہاتھ روک کر نہ بیٹھ جائے کہ خرچ نہ کرے) اور جب خرچ کرنے لگے تو بالکل پوری طرح ہاتھ نہ کھول دے (کہ سارا مال ختم کردے) کیونکہ ایسا کرنے سے ملوم بھی ہوگا اور محسور بھی ہوگا، ملوم کا معنی ہے ملامت کیا ہوا اور محسور کا معنی ہے رکا ہوا یعنی عاجز بنایا ہوا، جب اپنے پاس کچھ بھی نہ رہے گا تو لوگ ملامت کریں گے جن لوگوں پر خرچ کیا ہے وہ بھی کہنے لگیں گے کہ ایسا بےتکا خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاہیے، مال حاجات پورا ہونے کا ذریعہ بھی ہے اور مال کمانے کا ذریعہ بھی جب کچھ نہ رہے گا تو حاجتیں بھی پوری نہ ہوسکیں گی اور آئندہ مال کمانے میں بھی بےبسی ہوگی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ ملوماً کا تعلق پہلی بات سے ہے جس کا معنی یہ ہے کہ خرچ کرنے سے ہاتھ روک کر بالکل ہی نہ بیٹھ جائے ورنہ لوگ ملامت کریں گے اور محسوراً کا تعلق دوسری بات ہے اور مطلب یہ ہے کہ خرچ کرنے میں اتنی زیادتی نہ کر کہ خود تنگدست ہو کر عاجز ہو کر رہ جائے، آیت کریمہ میں میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور میانہ روی ہمیشہ کام دیتی ہے حدیث شریف میں ہے الاقتصاد فی النفقۃ نصف المعیشۃ کہ خرچ میں میانہ روی آدھی معیشت ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٣٠) یعنی معیشت کی پریشانیوں کا آدھا حل یہ ہے کہ خرچہ میں میانہ روی اختیار کی جائے اور آدھا حل باقی دوسری تدبیروں میں ہے جو فرد یا جماعت اس سے غافل ہے وہ یا تو کنجوسی کی وجہ سے ہمیشہ مصیبت میں رہے گی یا ذرا سی مدت میں سارا مال خرچ کرکے عاجز ہو کر بیٹھ رہے گی، پھر قرضوں پر نظر جائے گی قرضے چڑھ جائیں گے تو ان کی ادائیگی کا کوئی راستہ نہ ہوگا، غیر قوموں کی طرف تکیں گے ان سے سودی قرضے لیں گے سود در سود چڑھتا چلا جائے گا جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ فائدہ : آیت بالا سے پورا مال خرچ کردینے کی ممانعت معلوم ہوئی یہ عام افراد کے لیے ہے جو خرچ کرکے پچھتانے لگیں اور پریشان ہوں اور پھر دوسروں سے مانگنے لگیں حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ اہل توکل جو خرچ کرکے نہ گھبرائیں نہ تلملائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کا پورا پورا بھروسہ ہو ایسے حضرات کو اجازت ہے کہ اپنا پورا مال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کردیں۔ حضرت صدیق اکبر (رض) کا واقعہ تو مشہور ہی ہے کہ ایک مرتبہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) سارا ہی مال لے آئے آپ نے سوال فرمایا کہ تم نے گھر والوں کے لیے کیا باقی رکھا تو حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے عرض کیا ابقیت اللّٰہ و رسولہ (کہ میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو باقی رکھا) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٥٦ از ترمذی و ابو داؤد) آپ نے ان کا سارا مال قبول فرما لیا، اور بھی اس طرح دیگر اکابر کے واقعات ہیں، علامہ قرطبی ج ١ ص ٢٥٠ فرماتے ہیں کہ وکان کثیر من الصحابۃ ینفقون فی سبیل اللّٰہ جمیع اموالھم، فلم یعنفھم النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ولم ینکر علیھم لصحۃ یقینھم وشدۃ بصائرھم، وانما نھی اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ عن الافراط فی الانفاق، واخراج ماحوتہ یداہ من المال من خیف علیہ الحسرۃ علی ماخرج من یدہ فاما من وثق بموعود اللّٰہ عزوجل وجزیل ثوابہ فیما انفقہ فغیر مراد بالایۃ واللّٰہ اعلم۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ خرچ کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسے کنجوس اور بخیل بھی نہ بنو کہ غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مند رشتہ داروں کی حالت پر تمہیں بالکل ہی رحم نہ آئے اور پھوٹی کوڑی بھی ان پر خرچ نہ کرو اور نہ اس قدر فراخی اور دریا دلی سے خرچ کرو کہ سب کچھ ہی دے ڈالو اور اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ بھی باقی نہ رہنے دو اور آخر خالی ہاتھ ندامت و حسرت سے کف افسوس ملتے رہو بالکل خیر الامور اوسطہا کے مطابق دونوں حدوں یعنی افراط وتفریط کے درمیان رہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

29 اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے بادنھ لے یعنی بالکل بخیل بن جائے اور نہ اس ہاتھ کو بالکل ہی کشادہ کر دے اور کھول دے کر پھر تو الزام خوردہ اور تنگ دست و تہیدست ہو کر بیٹھ رہے۔ یعنی دینے اور نہ دینے میں طریقہ متوسط تعلیم فرمایا کہ نہ تو بالکل ہی کنجوس ہو جائو کسی محتاج کو کچھ دو ہی نہیں نہ اس قدر خرچ کرو کہ بقول ابن کثیر آمدنی سے زیادہ خرچ کر ڈالو کہ محتاج ہو جائو اور ہر کوئی طعنہ دے کہ اندھے بن کر کیوں خرچ کیا تھا۔ اگر اس خرچ سے مراد وہ ہے جو غیر شرع مراسم میں خرچ کیا جائے تب ظاہر ہے کہ اوپر کی آیت میں فرمایا تھا اس کی تاکید ہوگی اور اس کے انجام کی طرف اشارہ ہوگا اور اگر خیرات کا خرچ مراد ہو تب بھی اعتدال کا تقاضا یہی ہے کہ درمیانی راہ اختیار کرے اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے فعل سے حجت نہ پکڑے کہ ہر شخص ابوبکر کہاں ؟ عام طریقہ خیرات یہی ہے کہ صدقات نافلہ میں آمد و خرچ کا خیال رکھے کہیں اپنی ضروریات کے لئے بھیک نہ مانگنی پڑے۔ فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعال من اقتصد یعنی جس نے توسط اور اعتدال کی راہ اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سب الزام دیں کہ اتنا کیوں دیا کہ آپ محتاج ہوگئے۔ 12