Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 35

سورة بنی اسراءیل

وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ اِذَا کِلۡتُمۡ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿۳۵﴾

And give full measure when you measure, and weigh with an even balance. That is the best [way] and best in result.

اور جب ناپنے لگو تو بھر پورے پیمانے سے ناپو اور سیدھی ترازو سے تولا کرو ۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ ... And give full measure when you measure. meaning, do not try to make it weigh less nor wrong people with their belongings. ... وَزِنُواْ بِالقِسْطَاسِ ... and weigh with a balance, meaning scales, ... الْمُسْتَقِيمِ ... that is straight. meaning that which is not distorted nor that which will cause confusion. ... ذَلِكَ خَيْرٌ ... that is good, for you, in your daily life and in your Hereafter. So Allah says: ... وَأَحْسَنُ تَأْوِيلً and better in the end. meaning, with regard to your ultimate end in the Hereafter. ... ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلً That is good (advantageous) and better in the end. Sa`id narrated that Qatadah said that this means "Better in reward and a better end." Ibn Abbas used to say: "O people, you are entrusted with two things for which the people who came before you were destroyed - these weights and measures."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 اجر وثواب کے لحاظ سے بہتر ہے، علاوہ ازیں لوگوں کے اندر اعتماد پیدا کرنے میں ناپ تول میں دیانت داری مفید ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] ماپ تول پورا کرنے سے انجام بہتر ہوگا :۔ ناپ اور تول میں کمی بیشی کرنا یعنی خود زیادہ لینا اور دوسرے کو کم دینا، ڈنڈی مار جانا اور کاروباری بددیانتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے جس کی وجہ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور جو شخص ایسے کام کرتا ہے اس کے رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔ [٤٥] ناپ اور تول پورا پورا دینے سے دنیا میں تو انجام اس لحاظ سے بہتر ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی ساکھ قائم ہوجاتی ہے۔ اور اس کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور اس کے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ اور ایسے شخص کا اخروی انجام بہتر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ ۔۔ : ” الْكَيْلَ “ سے مراد کسی برتن وغیرہ کو پیمانہ بنا کر غلہ وغیرہ کو ماپنا، مثلاً صاع (ٹوپا) اور مد (پڑوپی) وغیرہ۔ وزن کا معنی تولنا، مثلاً کلو وغیرہ۔ ” اَلْقِسْطَاسُ “ ترازو۔ مجاہد نے فرمایا، رومی میں قسطاس عدل کو کہتے ہیں۔ ” تَاوِیْلاً “ (انجام) یہ ” أَوْلٌ“ سے مشتق ہے جس کا معنی رجوع ہے، یعنی کوئی کام جس نتیجہ کی طرف پلٹتا ہے، تعبیر کو بھی تاویل کہتے ہیں اور کسی چیز کے اصل مفہوم و مطلب کو بھی۔ انجام کے لحاظ سے بہتر اس لیے کہ پورے ماپ اور تول کی وجہ سے سب لوگوں کا اس پر اعتماد قائم ہوجائے گا، اس کے کاروبار میں برکت اور ترقی ہوگی اور یہ شخص قیامت کے دن کی رسوائی اور لوگوں کے حقوق کے مطالبہ سے محفوظ رہے گا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مطففین کی ابتدائی آیات۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The prohibition of giving weights and measures short: Ruling Regarding the verse: أَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ (And give full measure when you measure - 35), Abu Hayyan says in Tafsir al-Bahr al-Muhit that the re¬sponsibility of giving full weight and measure in this verse has been placed on the seller (بَأِع : ba&i`) which tells us that it is the seller who is responsible for weighing, measuring and seeing that it is full as due. At the end of verse 35, it was said about the fulfillment of weight and measure: ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (That is good, and better in the end). As for making the weight and measure correct and even, two things have been said here: (1) Firstly, the rule is good. It means that it is intrinsically good. No normal and decent person is going to take weighing less and measuring short as something nice, neither religiously, nor rationally, nor naturally. (2) Secondly, it is better in the end. The end includes the consequent success of the Hereafter, reward of deeds and the blessing of Paradise as well as the happy outcome of the very life in this world. This is suggestive of the fact that no business can prosper until its goodwill stands recognized in the market - and that cannot happen without this commercial honesty.

ناپ تول میں کمی کی ممانعت : مسئلہ : (آیت) وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ تفسیر بحر محیط میں ابو حیان نے فرمایا کہ اس آیت میں ناپ تول پورا کرنے کی ذمہ داری بائع (بیچنے والے) پر ڈالی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ناپنے تولنے اور اس کو پورا کرنے کا ذمہ دار بائع ہے۔ آخر آیت میں ناپ تول پورا کرنے کے متعلق فرمایا (آیت) ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا اس میں ناپ تول صحیح اور برابر کرنے کے متعلق دو باتیں فرمائیں ایک اس کا خیر (بہتر) ہونا اس کا حاصل یہ ہے کہ ایسا کرنا اپنی ذات میں اچھا اور بہتر ہے شرعی کے علاوہ عقلی اور طبعی طور پر بھی کوئی شریف انسان ناپ تول کی کمی کو اچھا نہیں سمجھ سکتا دوسری بات یہ فرمائی کہ مآل اور انجام اس کا بہتر ہے جس میں آخرت کا انجام اور حصول ثواب و جنت تو داخل ہے ہی اس کے ساتھ دنیا کے انجام کی بہتری کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کسی تجارت کو اس وقت تک فروغ نہیں ہوسکتا جب تک بازار میں اس کی ساکھ اور اعتبار قائم نہ ہو اور وہ اس تجارتی دیانت کے بغیر نہیں ہو سکتا

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 35؀ كَيْلُ : كيل الطعام . يقال : كِلْتُ له الطعام :إذا تولّيت ذلک له، وكِلْتُهُ الطّعام : إذا أعطیته كَيْلًا، واكْتَلْتُ عليه : أخذت منه كيلا . قال اللہ تعالی: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذا کالُوهُمْ [ المطففین/ 1- 3] ( ک ی ل ) الکیل ( ض ) کے معنی غلہ نا پنے کے ہیں اور کلت لہ الطعا م ( صلہ لام ) کے معی ہیں ۔ میں نے اس کے لئے غلہ ناپنے کی ذمہ داری سنھالی اور کلت الطعام ( بدوں لام ) کے معیْ ہیں میں نے اسے غلہ ناپ کردیا اور اکتلت علیہ کے معید ہیں ۔ میں نے اس سے ناپ کرلیا قرآن میں ہے : ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذا کالُوهُمْ [ المطففین/ 1- 3] ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لئے خرابی ہے ۔ جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں اور جب ان کو ناپ یا تول کردیں تو کم دیں ۔ وزن الوَزْنُ : معرفة قدر الشیء . يقال : وَزَنْتُهُ وَزْناً وزِنَةً ، والمتّعارف في الوَزْنِ عند العامّة : ما يقدّر بالقسط والقبّان . وقوله : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الشعراء/ 182] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] إشارة إلى مراعاة المعدلة في جمیع ما يتحرّاه الإنسان من الأفعال والأقوال . وقوله تعالی: فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَزْناً [ الكهف/ 105] وقوله : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ [ الحجر/ 19] فقد قيل : هو المعادن کالفضّة والذّهب، وقیل : بل ذلک إشارة إلى كلّ ما أوجده اللہ تعالی، وأنه خلقه باعتدال کما قال : إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ [ القمر/ 49] ( و زن ) الوزن ) تولنا ) کے معنی کسی چیز کی مقدار معلوم کرنے کے ہیں اور یہ وزنتہ ( ض ) وزنا وزنۃ کا مصدر ہے اور عرف عام میں وزن اس مقدار خاص کو کہتے جو ترا زو یا قبان کے ذریعہ معین کی جاتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الشعراء/ 182] ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ اور نیز آیت کریمہ : ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تو لو ۔ میں اس بات کا حکم دیا ہے کہ اپنے تمام اقوال وافعال میں عدل و انصاف کو مد نظر رکھو اور آیت : ۔ وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ [ الحجر/ 19] اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز چیز اگائی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کہ شی موزون سے سونا چاندی وغیرہ معد نیات مراد ہیں اور بعض نے ہر قسم کی مو جو دات مراد ہیں اور بعض نے ہر قسم کی موجادت مراد لی ہیں اور آیت کے معنی یہ کے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو اعتدال اور تناسب کے ساتھ پید ا کیا ہے جس طرح کہ آیت : ۔ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ [ القمر/ 49] ہم نے ہر چیز اندازہ مقرر ہ کے ساتھ پیدا کی ہے ۔ سے مفہوم ہوتا ہے قِسْطَاسُ : المیزان، ويعبّر به عن العدالة كما يعبّر عنها بالمیزان، قال : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] . چناچہ القسطاس تراز دکو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل ونصاف کے معنی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] اور جب تول کر دو تو ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق المحقّ. نحو : اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] واسْتِقَامَةُ الإنسان : لزومه المنهج المستقیم . نحو قوله :إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] الاستقامۃ ( استفعال ) کے معنی راستہ خط مستقیم کی طرح سیدھا ہونے کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر راہ حق کو بھی صراط مستقیم کہا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ [ الفاتحة/ 6] ہم کو سہدھے راستے پر چلا ۔ اور کسی انسان کی استقامت کے معنی سیدھی راہ پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا[ فصلت/ 30] جس لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا پے پھر وہ اس پر قائم رہے خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

ناپ تول کے احکام قول باری ہے (واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اور جب پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو) آیت میں یہ دلالت ہے کہ جو شخص کوئی چیز ناپ کر یا تول کر خریدے تو اس پر یہ امر واجب ہے کہ ناپ کر خریدی ہوئی چیز کو ناپ کرے اور تول کر خریدی ہوئی چیز کو تول کرے، نیز اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ کیل یا وزن کے ذریعے دی جانے والی چیز کو یونہی انداز سے لے لے اس مں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ مبیع اور ثمن میں جبکہ وہ ہم جنس ہوں تفاضل کی تحریم کا اعتبار کیل اور وزن کے اندر کیا جائے گا یعنی تمام مکیلات اور موزو نالت میں خواہ وہ ماکولات ہوں یا غیر ماکولات ہم جنس ہونے کی صورت میں تفاضل حرام ہوگا۔ اس لئے کہ آیت نے مکیل میں ایجاب کیل کو اور موزوں میں ایجاب وزن کو صرف ماکولات یعنی اشیائے خوردنی کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اس حکم میں تمام مکیلات اور تمام موزونات داخل ہیں۔ اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ جب کوئی شخص مکیلا ت اور موزونات کے تحت آنے والی اشیاء کی خریداری کرے اور مبیع اور ثمن ہم جنس ہوں تو کیل کے بدلے کیل اور وزن کے بدلے وزن کی صورت میں خریداری کرے۔ اٹکل اور اندازے سے خریداری کی صورت جائز نہیں ہوگی۔ مکیلات کے تحت آنے والی اشیاء کا تعلق خواہ کو لات یعنی اشیائے خوردنی کے ساتھ ہو یا غیر ماکولات کے ساتھ مثلاً گچ، چونہ، چونے کا پتھر وغیرہ اسی طرح موزونات کے تحت آنے والی اشیاء مثلاً ، لوہا ، سیبہ اور دیگر تمام موزونات۔ ناپ تول کی طرح اجتہاد بھی ظن غالب ہے آیت میں اجتہاد کے جواز پر نیز اس پر کہ ہر مجتہد درست رد ہوتا ہے دلالت پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ کرنا صرف اجتہاد اور ظن غالب کی بنا پر وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جب ایک شخص کسی دوسرے کو کوئی چیز ناپ کر یا تول کر دے رہا ہو تو اس کے لئے یہ دعویٰ کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ اس نے ناپ یا تول میں ایک حبہ برابر نہ کمی کی ہے نہ بیشی۔ بلکہ خریدار کو اس کا پورا پورا حق دینے کے لئے وہ اپنے اس غلبہ ظن سے کام لے گا کہ اس نے پورا بھر کرنا چاہے یا درست ترازو سے وزن کیا ہے۔ جب ایک کیل کرنے والا یا وزن کرنے والا صرف اپنے غلبہ ظن کی بنا پر مذکورہ بالا صورت میں کیل یا وزن کر کے اللہ کے حکم کو پورا کرسکتا ہے اور اسے حقیقی مقدار کے حصول کا مکلف نہیں بنایا جاسکتا جس کا علم صرف اللہ کو ہے تو پھر اجتہادی مسائل میں مجتہد کو بھی اپنے اجتہاد اور غلبہ ظن سے کام لینے کی بنا پر مصیبت یعنی درست قرار دیا جائے گا۔ قسطاط کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ میزان اور ترازو کا نام ہے خواہ یہ چھوٹا ہو یا بڑا حسن قول ہے کہ قسطاس قبان یعنی بھاری اشیاء کو تولنے کے آلے کا نام ہے۔ ہم نے مکیل اور موزون کا جو مفہوم بیان کیا ہے اس کے پیش نظر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی پر مکیل اور موزون کے تحت آنے والی اشیاء میں سے کوئی شے قرض ہو تو قرض خواہ کے لئے وہ چیز یونہی اٹکل اور اندازے سے وصول کرنا جائز نہیں ہوگا خواہ اس پر طرفین کی رضا مندی کیوں نہ حاصل ہوجائے ۔ آیت میں کیل اور وزن کا ظاہری امر اس بات کا موجب ہے کہ طرفین باہمی رضا مندی کے ذریعے بھی کیل اور وزن کو ترک نہیں کرسکتے اسی طرح دو شریکوں کے درمیان ایسی اشیاء کی اندازاً تقسیم بھی اس علت کی بنا پر جائز نہیں ہوگی جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ اگر اشیاء کا تعلق تکیلات اور موزونات سے نہ ہو بلکہ کپڑوں اور سامان کی صورت ہو تو پھر باہمی رضا مندی سے اٹکل اور اندازے کے ذریعے ان کی خریداری بھی درست ہوگی اور شریکین کے درمیان تقسیم بھی اس لئے کہ دریں صورت ہم پر کیل اور وزن کو پورا کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ قول باری ہے (ذلک خیرو احسن تاویلاً یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی بہتر ہے۔ ) مفہوم یہ ہے کہ یہ طریقہ اچھا ہے اور دنیا و آخرت میں انجام کے لحاظ سے بھی تمہارے لئے بہتر ہے۔ تاویل اس مفہوم کا نام ہ جو ایک چیز کا مرجع اور اس کی تفسیر ہو۔ جب کوئی شخص لوٹ کر آئے تو عرب کہتے ہیں ۔ ” ال یئول، اولاً ۔ “

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اور جب ماپنے کی چیز ماپ کر دو تو پورا ماپوا اور تولنے کی چیز کو صحیح ترازو سے تول کر دو ، یہ ماپ وتول اور وعدوں کو پورا کرنا یہ بدعہد اور چیزوں کو کم دینے سے بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا) اگر تم ناپ تول پورا کرتے ہو اور لین دین کے تمام معاملات دیانتداری سے سر انجام دیتے ہو تو حضرت شعیب کے فرمان کے مطابق : (بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) (ھود : ٨٦) ” اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو “۔ دیانتداری سے کمایا ہوا منافع تھوڑا بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا کرے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40. This instruction was not confined to individuals only but it has been made a part of the duties of an Islamic government to supervise transactions in the markets and streets to see that exact measures and weights are being observed, and prevent their breach and violation by the force of law. Afterwards it was made one of the duties of the government to eradicate dishonesty in all commercial dealings and economic transactions. 41. That is, its end will be best in this world and it will be best in the Hereafter. It is best in this world because it produces mutual trust between sellers and buyers. As a result of this, commerce prospers and there is a general prosperity. As regards the Hereafter, there the end depends entirely on honesty, piety and fear of God.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :40 یہ ہدایت بھی صرف افراد کے باہمی معاملات تک محدود نہ رہی ، بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد یہ حکومت کے فرائض میں داخل کی گئی کہ وہ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کرے اور تطفیف کو بزور بند کر دے ۔ پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ تجارت اور معاشی لین دین میں ہر قسم کی بے ایمانیوں اور حق تلفیوں کا سد باب کرنا حکومت کے فرائض میں سے ہے ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :41 یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ دنیا میں اس کا انجام اس لیے بہتر ہے کہ اس سے باہمی اعتماد قائم ہوتا ہے ، بائع اور خریدار دونوں ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں ، اور یہ چیز انجام کار تجارت کے فروغ اور عام خوشحالی کی موجب ثابت ہوتی ہے ۔ رہی آخرت ، تو وہاں انجام کی بھلائی کا سارا دارومدار ہی ایمان اور خدا ترسی پر ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:35) اوفوا۔ تم پورا کرو۔ تم ایفا کرو۔ ایفاء (افعال) مصدر۔ امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ الکیل۔ مصدر۔ پیمانے سے غلہ وغیرہ کا ماپنا۔ اوفوا الکیل۔ جب ماپو تو پورا پورا ماپ دو ۔ مراد غلہ ہے۔ کلتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ کیل مصدر اصل میں کیلتم تھا۔ باب ضرب اذا کلتم جب تم پیمانہ بھر کردو۔ یا کوئی چیز غلہ وغیرہ پیمانہ سے ماپ کردو۔ اوفوا۔ تو پورا پورا دو ۔ القسطاس۔ ترازو، یہ لفظ رومی ہے۔ قسطاس المستقیم۔ انصاف کی ترازو۔ صحیح ترازو۔ تاویلا۔ انجام کار۔ مصدر ہے اول سے جس کے معنی اصل کی طرف لوٹنے کے ہیں اسی لئے جائے بازگشت کو موئل کہت ہیں۔ تاویل کے معنی کسی چیز کو اس کی غایت کی طرف لوٹانے کے ہیں جو اس سے بلحاظ علم یا عمل کے مقصود ہوتی ہے۔ چناچہ غایت علمی کے متعلق فرمایا وما یعلم تاویلہ الا اللہ (3:6) حالانکہ اس کی مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ غایت عملی کے متعلق فرمایا ھل ینظرون الا تاویلہ یوم یاتی تاویلہ (7:53) اب وہ صرف اس کی تاویل یعنی وعدۂ عذاب کے انجام کار کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اس وعدۂ عذاب کے نتائج سامنے آئیں گے۔ یعنی اس دن سے جو غایت مقصود ہے وہ عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یتیم کے مال کے بارے میں حکم دینے کے بعد سب لوگوں کے مال کے تحفظ کا حکم دیا گیا ہے۔ کاروبار میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ دکاندار گاہک کو وہی چیز اور اسی کو الٹی کا مال دے جس کا گاہک کے ساتھ سودا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بڑی اہم ہے کہ جس چیز کا سودا ہوا ہے۔ وہ ماپ تول میں پوری ہونی چاہیے وزن یا پیمائش میں کمی کرنے سے ناصرف خریدار کو نقصان ہوتا ہے بلکہ اس کے دل میں شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ جس سے معاشرہ میں منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری طرف دکاندار کے رزق سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ ان نقصانات کے پیش نظر ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! جب ماپ کرو تو پورا پورا کیا کرو۔ ایسا کرنا کاروبار کی ترقی اور دیانت و امانت کے حوالے سے انتہائی بہتر ہے۔ اس سے نہ صرف خریدار اور دکاندار کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے بلکہ اس سے کاروبار بھی ترقی کرتا ہے۔ جس معاشرے میں ماپ تول میں کمی بیشی کرنے کا رواج عام ہوجائے اس قوم کی ساکھ اور تجارت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی قوم بالآخر قوم مدین کی طرح تباہی کے گھاٹ اتر جائے گی۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دکاندار کو یہ ہدایت فرمائی کہ تولتے وقت ترازو جھکا ہوا رکھو۔ ماپ تول میں کمی کرنے والے کے بارے میں قرآن نے شدید الفاظ میں انتباہ کیا ہے۔ (وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُوْا عَلٰی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ۔ وَإِذَا کَالُوْہُمْ أَوْ وَزَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَ ۔ أَلَا یَظُنُّ أُولَءِکَ أَنَّہُمْ مَبْعُوْثُوْنَ ۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ )[ المطففین : ١۔ ٦] ” ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے بربادی ہے جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم کردیں کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ انھیں ایک بڑے سخت دن میں اٹھایا جائے گا جس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِیْ النَّارِ )[ اخرجہ ابن حبان : ھذاحدیث حسن ] ” عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں، مکر کرنے اور دھوکہ دینے والا آگ میں جائے گا۔ “ (قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکْتَالُوا حَتَّی تَسْتَوْفُوا )[ رواہ البخاری : باب الکیل علی البائع والمعطی ] ” نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب ناپ تول کرو تو اسے پورا کرو۔ “ ماپ تول میں کمی کرنے کی سزا : (مَا طَفِفَ قَوْمُ الْمِیْزَانَ إلَّا أخَذَہُمُ اللّٰہُ بالسِّنِیْنَ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : ١٠٧] ” جو بھی قوم تولنے میں کمی کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر قحط سالی مسلط فرما دیتا ہے۔ “ (وَیَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَان بالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْیَاءَ ہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْأَرْضِ مُفْسِدِینَ )[ ھود : ٨٥] ” اے میری قوم ! انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ “ مسائل ١۔ ماپ پورا پورا ماپنا چاہیے۔ ٢۔ ماپ سیدھے ترازو سے تولنا چاہیے۔ ٣۔ ماپ تول کو پورا کرنا کاروبار اور آخرت کے لحاظ سے بہتر ہے۔ تفسیر بالقرآن ماپ تول میں کمی کرنے کا انجام : ١۔ ماپ کو پورا کرو اور سیدھے ترازو سے تولو۔ (بنی اسرائیل : ٣٥) ٢۔ ماپ تول انصاف سے پورا کرو۔ (الانعام : ١٥٢) ٣۔ ماپ تول پورا کرو اور لوگوں کو اشیاء کم نہ دو ۔ (الاعراف : ٨٥) ٤۔ تول کو پورا کرو اور کمی کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ (الشعراء : ١٨٢) ٥۔ اے میری قوم ماپ، تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ (ھود : ٨٥) ٦۔ ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ (ھود : ٨٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وفائے عہد اور ناپ اور تول پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک کرنے اور وفائے عہد کے درمیان لفظی اور معنوی مناسبت تو بالکل ظاہر ہے۔ لہذا وفائے عہد کے حکم کے بعد ناپ اور تول پورے کرنے کے احکام کی طرف آنا موضوع کی مناسبت سے درست ہے۔ ناپ اور تول پورا کرنا معاملات میں دیانت و امانت کا حصہ ہے۔ اس سے تاجر کو قلبی طہارت بھی حاصل ہوتی ہے او سوسائٹی کی نشوونما صحت مند بنیادوں پر ہوتی ہے۔ لوگوں کے درمیان معاملات میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور اس سے برکت پیدا ہوتی ہے۔ ذلک خیر واحسن تاویلا (٧١ : ٥٣) ” یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی بہتر ہے “۔ یعنی دنیا میں بھی بہتر ہے اور آخرت میں بھی بہتر ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” جو شخص بھی حرام پر قدرت رکھتا ہو اور پھر حرام سے اجتناب کرے اور یہ کام وہ محض رضاے الٰہی کے لئے کرے ، تو اللہ آخرت سے قبل کود اس دنیا میں اسے اس سے بہتر دیتا ہے “۔ جو لوگ ناپ اور تول میں کمی کرتے ہیں وہ دراصل نہایت ہی گندہ کا کرتے ہیں ، یہ نفسیاتی گراوٹ ہے اور معاملے میں دھوکہ اور خیانت ہے۔ اس سے مارکیٹ میں اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کساد بازاری بھی پیدا ہوتی ہے اور پوری سوسائٹی سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس سے تمام تر افراد جماعت کو نقصان ہوتا ہے حالانکہ وہ بظاہر سمجھتے ہیں کہ اس خیانت کے ذریعے وہ کما رہے ہیں ، لیکن وہ محض ظاہری اور وقتی کمائی ہوتی ہے لیکن مال کار میں نقصان ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب کساد بازاری آتی ہے تو نقصان اس خیانت کار کو بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ تجارتی دنیا میں دور کی نظر رکھتے ہیں انہوں نے اپنے ذاتی تجربے سے اس حقیقت کو پا لیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کسی اخلاقی یا دینی جز بے سے یہ کام نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے سائنٹیفک سٹڈی سے اس حقیقت تک رسائی حاصل کی۔ سوال یہ ہے کہ پھر دونوں میں فرق کیا ہے ؟ جو شخص محض تجارتی مقاصد کے لئے دیانت داری کرتا ہے اور جو شخص دینی جذبے سے دیانت داری کرتا ہے دونوں میں کیا فرق ہے ، جو شخص اخلاقی اور دینی عقیدے اور جذبے سے یہ کام کرتا ہے اس کا نقطہ نظر اور اس کی ذہنی سطح زیادہ اعلیٰ ، ارفع اور بلند ہے ، اور دل کی زیادہ تطہیر اس سے ہوتی ہے۔ اور اس کی زندگی میں زیادہ سکون و اطمینان ہوتا ہے۔ اس طرح اسلام عملی زندگی میں بھی ہمیشہ وسیع اور ارفع اور روشن مستقبل کی طرف بڑھتا ہے اور دور تک انسانوں کی مادری اور روحانی راہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کا یہ کمال ہے کہ وہ نظریہ ، عقیدہ اور تصورات میں بہت زیادہ صفائی ، وضاحت اور حقیقت پسندی کا قائل ہے ، اسلام کسی معاملے پر پیچیدگی ، وہم و شبہات کی اجازت نہیں دیتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چھٹاحکم یہ دیا کہ ناپ تول پوری کیا کرو اور ٹھیک ترازو سے تولا کرو۔ آخر میں فرمایا (ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا) کہ احکام پر عمل کرنا بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھی چیز ہے۔ آیات بالا میں جو احکام مذکور ہوئے سورة انعام کے رکوع نمبر ١٤ میں بھی ذکر فرمائے گئے ہیں وہاں بھی ملاحظہ فرما لیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ یہ پانچواں ظلم ہے۔ تجارتی لین دین کرتے وقت ناپ تول میں کمی بیشی کرکے لوگوں کا حق نہ مارو یہ بھی ظلم ہے بلکہ پورا پورا تولو اور صحیح صحیح ناپو یہ دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے بہتر ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمہاری روزی حرام کے شبہہ سے پاک ہوگی۔ تمہارے کارو بار میں برکت ہوگی اور دیانت و امانت کی وجہ سے لوگوں کا تم پر اعتماد قائم رہے گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پاؤ گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 اور جب ناپ کردو تو پیمانہ پورا بھر کردو اور تولو تو سیدھی اور صحیح ترازو سے تول کردو۔ پورا ناپنا اور پورا تولنا اچھی بات ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھی ہے۔ یعنی جو چیز پیمانہ سے دی جاتی ہے اس میں پیمانہ پورا بھر کردیا جائے اور جو تول کردی جاتی ہے اس میں صحیح ترازو اور سیدھی ڈنڈی سے تولا جائے یہ بات دنیا میں بھی اچھی ہے یعنی نیک نامی اور اعتبار قائم ہوتا ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی کا سبب ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سیدھی ترازو سے یعنی جھوک نہ مارو اچھا انجام یعنی دغا بازی اول چلتی ہے پھر لوگ خبردار ہو کر اس سے معاملہ نہیں کرتے اور پورا حق دینے والا سب کو خوش لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تجارت خوب چلاتا ہے۔ 12