Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 42

سورة بنی اسراءیل

قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾

Say, [O Muhammad], "If there had been with Him [other] gods, as they say, then they [each] would have sought to the Owner of the Throne a way."

کہہ دیجئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وہ اب تک مالک عرش کی جانب راہ ڈھونڈ نکالتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُ الِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لاَّبْتَغَوْاْ إِلَى ذِي الْعَرْشِ سَبِيلً Say: "If there had been other gods along with Him as they assert, then they would certainly have sought out a way to the Lord of the Throne. `Say, O Muhammad, to these idolators who claim that Allah has a partner among His creation, and who worship others besides Him that they may bring them nearer to Him: if the matter is as you say, and there is another god besides Him whom you worship in order to draw closer to Him and so that he will intercede for you with Him, then those whom you worship would themselves worship Him and seek means to draw closer to Him. So worship Him alone, just as those on whom you call besides Him worship Him. You have no need of a deity to be an intermediary between you and Him, for He does not like or accept that, rather He hates it and rejects it, and has forbidden that through all of His Messengers and Prophets.' Then He glorifies and sanctifies Himself far above all that, and says:

لوگو عقل کے ناخن لو جو مشرک اللہ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے ہیں اور انہیں شریک الہٰی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہی کی وجہ سے ہم قرب الہٰی حاصل کر سکتے ہیں ان سے کہو کہ اگر تمہارا یہ گمان فاسد کچھ بھی جان رکھتا ہوتا اور اللہ کے ساتھ واقعی کوئی ایسے معبود ہوتے کہ وہ جسے چاہیں قرب الہٰی دلوا دیں اور جس کی جو چاہیں سفارش کر دیں تو خود وہ معبود ہی اس کی عبادت کرتے اس کا قرب ڈھونڈتے پس تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے ، نہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت ، نہ دوسرے معبود کی کوئی ضرورت کہ اللہ میں اور تم میں وہ واسطہ بنے ۔ اللہ کو یہ واسطے سخت نا پسند اور مکروہ معلوم ہوتے ہیں اور ان سے وہ انکار کرتا ہے اپنے تمام نبیوں رسولوں کی زبان سے اس سے منع فرماتا ہے ۔ اس کی ذات ظالموں کے بیان کردہ اس وصف سے بالکل پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ان آلودگیوں سے ہمارا مولا پاک ہے ، وہ احمد اور صمد ہے ، وہ ماں باپ اور اولاد سے پاک ہے ، اس کی جنس کا کوئی نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر لشکر کشی کر کے غلبہ و قوت حاصل کرلیتا ہے، اسی طرح دوسرے معبود بھی اللہ پر غلبے کی کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔ اور اب تک ایسا نہیں ہوا، جب کہ ان معبودوں کو پوجتے ہوئے صدیاں گزر گئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہی نہیں، کوئی با اختیار ہی نہیں، دوسرے معنی ہیں کہ وہ اب تک اللہ کا قرب حاصل کرچکے ہوتے اور یہ مشرکین جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعے سے وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں، انھیں بھی وہ اللہ کے قریب کرچکے ہوتے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٢] زیادہ خداؤں کا لازمی نتیجہ :۔ اس آیت میں خطاب ان خاص قسم کے مشرکوں سے ہے جنہوں نے بیشمار دیوتا اور دیویاں تجویز کر رکھی ہیں اور انھیں کسی نہ کسی چیز کا مختار تسلیم کیا جاتا ہے مثلاً فلاں بارش کا دیوتا ہے، فلاں پھلوں کا دیوتا ہے۔ فلاں مال و دولت کی دیوی ہے اور فلاں محبت کی، فلاں موت کا دیوتا ہے اور فلاں زندگی کا۔ اس عقیدہ کی تردید کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اگر یہ دیوتا اپنے اپنے اختیارات استعمال کریں تو کائنات کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے مثلاً قحط کا دیوتا بارش روکنا چاہے اور بارش کا برسانا چاہے تو ان کی ضد بازی سے کائنات کا نظام اور اس میں ہم آہنگی برقرار ہی نہیں رہ سکتی۔ لیکن یہاں جس پہلو کو اجاگر کیا جارہا ہے وہ دوسرا پہلو ہے جو یہ ہے کہ ہر صاحب اختیار کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ اس کے اختیارات میں مزید وسعت پیدا ہوجائے بلکہ ہر صاحب اختیار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ پورا اختیار و اقتدار کسی طرح اسے ہی حاصل ہوجائے۔ اب ایسے چھوٹے صاحب اختیار بڑے اختیار والے کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں تاکہ اسے اقتدار سے محروم کردیں۔ جیسا کہ آج کل کے جمہوری نظام میں یہ تماشا سرسری نگاہوں سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ جو سیاسی پارٹی برسر اقتدار ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کی سب پارٹیاں مل کر صاحب اقتدار پارٹی کی ٹانگ کھینچنا اور اسے اقتدار سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور بسا اوقات وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجاتی ہیں یہی مثال اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہے کہ اگر فی الواقع اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی دیوتا یا دیویاں با اختیار موجود ہوتے تو وہ یقیناً بڑے اختیار والے اللہ یا مہادیو کو اقتدار و اختیار سے محروم کرنے کی ضرور کوشش کرتے اور چونکہ فی الواقع ایسا کبھی نہیں ہوا تو اس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن معبودوں کو تم نے صاحب اختیار سمجھ رکھا ہے وہ صاحب اختیار نہیں ہیں۔ اور ان کا وجود اس کائنات میں ہونا ناممکن ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ ۔۔ : یعنی اس سے لڑنے اور اس کا تخت الٹ دینے کے لیے جاتے، کیونکہ وہ بھی اپنے کو معبود سمجھتے ہوتے اور جب ایسا نہیں ہوا اور تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا نظام خالص اپنی مرضی سے چلا رہا ہے اور یہ نظام اپنی پوری ہم آہنگی اور تناسب سے چل رہا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے مقابلے میں تم نے جتنی زندہ یا مردہ ہستیوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، وہ سب باطل و بےحقیقت چیزیں ہیں۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مومنون (٩١، ٩٢) اور انبیاء (٢٢) ۔ 3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ عرش پر ہونا صرف رب تعالیٰ کی صفت ہے، کوئی بھی مخلوق عرش پر نہیں جاسکتی، جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرش پر گئے ان کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ آیت اس کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخصیت کے عرش پر جانے کی کوئی دلیل ثابت نہیں۔ رہی یہ بات کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں ؟ اس کی بحث سورة نجم کے شروع میں آئے گی۔ (ان شاء اللہ)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary According to the proof of Tauhid (the Oneness of Allah) given in the verse: إِذًا لَّابْتَغَوْا إِلَىٰ ذِي الْعَرْ‌شِ سَبِيلًا (then they would have found out a way to the Lord of the Throne - 42), Allah alone is the creator, owner and master of the entire universe. The argument is if it was not so and He had other partners in this godhead, differences would have necessarily emerged among them. And, in the eventuality of a difference, the whole universal system would have gone to ruins - because, ever abiding peace among them is habitually impossible. Though, this argument has been enunciat¬ed here in a prohibitive manner, but there are books of Scholastic Theolo¬gy (` Ilm al-Kalam) where the logical rationale behind this argument has also been described in great details. The learned may consult these at their discretion.

معارف و مسائل : توحید کی جو دلیل آیت اِذًا لَّابْتَغَوْا میں بیان فرمائی ہے کہ اگر تمام کائنات عالم کا خالق مالک اور متصرف صرف ایک ذات اللہ کی نہ ہو بلکہ اس خدائی میں اور بھی شریک ہوں تو ضرور ہے کہ ان میں کبھی اختلاف بھی ہوگا اور اختلاف کی صورت میں سارا نظام عالم برباد ہوجائے گا کیونکہ ان سب میں دائمی صلح ہونا اور ہمیشہ باقی رہنا عادۃ ممتنع ہے یہ دلیل یہاں اگرچہ امتناعی انداز میں بیان کی گئی ہے مگر علم کلام کی کتابوں میں اس دلیل کا برہانی اور منطقی ہونا بھی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اہل علم وہاں دیکھ سکتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا 42؀ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ ابتغاء البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ ردی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ اور بغی کا استعمال کیت اور کیفیت یعنی قدر وو صف دونوں کے متعلق ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ۔ کسی چیز کے حاصل کرنے میں جائز حد سے تجاوز ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48 پہلے بھی طالب فسادر ہے ہیں ۔ الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ عرش العَرْشُ في الأصل : شيء مسقّف، وجمعه عُرُوشٌ. قال تعالی: وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] والعَرْشُ : شبهُ هودجٍ للمرأة شبيها في الهيئة بِعَرْشِ الکرمِ ، وعَرَّشْتُ البئرَ : جعلت له عَرِيشاً. وسمّي مجلس السّلطان عَرْشاً اعتبارا بعلوّه . قال : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] ( ع رش ) العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں اس کی جمع عروش ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] اور اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے ۔ العرش چھولدادی جس کی ہیت انگور کی ٹٹی سے ملتی جلتی ہے اسی سے عرشت لبئر ہے جس کے معنی کو یں کے اوپر چھولداری سی بنانا کے ہیں بادشاہ کے تخت کو بھی اس کی بلندی کی وجہ سے عرش کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢۔ ٤٣) اور اگر اس معبود برحق کے ساتھ مقابل ان لوگوں کے اور بھی معبود ہوتے تو انہوں نے ابھی تک عرش والے تک اپنی قدرومنزلت کو یا یہ کہ راستہ کو تلاش کرلیا ہوتا، اللہ تعالیٰ شانہ کی ذات بابرکت اولاد اور شریک سے پاک اور ان کی شرکیہ باتوں سے بہت زیادہ برتر اور ہر ایک چیز سے بلند ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ (قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا ) اگر واقعی اللہ کے ساتھ ساتھ دوسرے معبودوں کا بھی کوئی وجود ہوتا تو وہ ضرور سرکشی اور بغاوت کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں آنے کی کوشش کرتے۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے راجوں کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوشش کر کے مہاراجہ کی کرسی تک پہنچ جائیں اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ بغاوت تک کا خطرہ مول لے لیتے ہیں اسی طرح اگر اللہ کے بھی شریک ہوتے تو وہ بھی اللہ کے مقابلے میں ضرور مہم جوئی کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو اس کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

47. That is, they would have themselves tried their best to become masters of the Throne. This is because if there had been more than one partners in Godhead, it would produce one of the two results: (1) If they were all independent gods, it was not conceivable that they would agree and cooperate with one another in the management of the boundless universe and there could never have been unanimity, uniformity and balanced proportion in its functioning. There would have been conflict at every step and everyone would have tried to dominate others in order to become its sole master. or (2) if one of them had been the supreme god and the others his obedient servants whom he had delegated some of his powers, then, according to the maxim “power corrupts”, they would never have been content with remaining obedient servants of the supreme god and would have conspired to become the supreme god themselves. Whereas the fact is that in this universe not even a grain of wheat or a blade of grass can grow unless and until everything in the earth and the heavens cooperate with one another for its production. Therefore, only an utterly ignorant and block headed person can conceive that there are more than one independent or semi independent rulers, who carry on the management of this universe. Anyone who has tried to understand the nature and functioning of the universe will most surely arrive at the conclusion that there is One and only One Sovereign ruling over this universe, and there is absolutely no likelihood of anyone else to be a partner in this at any stage.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :47 یعنی وہ خود مالک عرش بننے کی کوشش کرتے ۔ اس لیے کہ چند ہستیوں کا خدائی میں شریک ہونا دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا ۔ یا تو وہ سب اپنی اپنی جگہ مستقل خدا ہوں ۔ یا ان میں سے ایک اصل خدا ہو ، اور باقی اس کے بندے ہوں جنہیں اس نے کچھ خدائی اختیارات دے رکھے ہوں ۔ پہلی صورت میں یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ یہ سب آزاد خود مختار خدا ہمیشہ ، ہر معاملے میں ، ایک دوسرے کے ارادے سے موافقت کر کے اس اتھاہ کائنات کے نظم کو اتنی مکمل ہم آہنگی ، یکسانیت اور تناسب و توازن کے ساتھ چلا سکتے ۔ ناگزیر تھا کہ ان کے منصوبوں اور ارادوں میں قدم قدم پر تصادم ہوتا اور ہر ایک اپنی خدائی دوسرے خداؤں کی موافقت کے بغیر چلتی نہ دیکھ کر یہ کوشش کرتا کہ وہ تنہا ساری کائنات کا مالک بن جائے ۔ رہی دوسری صورت ، تو بندے کا ظرف خدائی اختیارات تو درکنار خدائی کے ذرا سے وہم اور شائبے تک کا تحمل نہیں کر سکتا ۔ اگر کہیں کسی مخلوق کی طرف ذرا سی خدائی بھی منتقل کر دی جاتی تو وہ پھٹ پڑتا ، چند لمحوں کے لیے بھی بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوتا ، اور فورا ہی خداوند عالم بن جانے کی فکر شروع کر دیتا ۔ جس کائنات میں گیہوں کا ایک دانہ اور گھاس کا ایک تنکا بھی اس وقت تک پیدا نہ ہوتا ہو جب تک کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں مل کر اس کے لیے کام نہ کریں ، اس کے متعلق صرف ایک انتہاء درجے کا جاہل اور کند ذہن آدمی ہی یہ قصور کر سکتا ہے کہ اس کی فرمانروائی ایک سے زیادہ خود مختار یا نیم مختار خدا کر رہے ہونگے ۔ ورنہ جس نے کچھ بھی اس نظام کے مزاج اور طبیعت کو سمجھنے کی کوشش کی ہو وہ تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہاں خدائی بالکل ایک ہی کی ہے اور اس کے ساتھ کسی درجے میں بھی کسی اور کے شریک ہونے کا قطعی امکان نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

24: یہ توحید کے حق میں اور شرک کے خلاف ایک عام فہم دلیل ہے اور وہ یہ کہ خدا ایسی ذات ہی کو کہا جاسکتا ہے جو ہر کام پر قدرت رکھتی ہو، اور کسی کے حکم کے تابع نہ ہو۔ اب اگر اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی خدا ہوتے تو ان میں سے ہر ایک دوسرے سے آزاد ہوتا، اور سب کی قدرت کامل ہوتی۔ چنانچہ یہ دوسرے خدا مل کر عرش والے خدا پر چڑھائی بھی کرسکتے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ان کو خدا پر چڑھائی کرنے کی قدرت نہیں ہے، اور وہ خود اللہ تعالیٰ کے محکوم ہیں تو پھر وہ خدا ہی کیا ہوئے؟ ثابت ہوگیا کہ کائنات میں حقیقی خدا تو ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٢۔ ٤٣:۔ اس آیت میں مشرکوں کے جھٹلانے کے لیے فرمایا کہ اے رسول برحق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان مشرکوں سے کہہ دیں جیسا تم خیال کرتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود بھی ہیں جن کی اطاعت سے خدا کا تقرب حاصل ہوتا ہے اور جن کے پوجنے سے وہ معبود خدا کے روبرو اپنے پوجنے والوں کی شفاعت کریں گے۔ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے کیونکہ خدا کے سوا اور کوئی معبود ہوتا تو وہ ضرور کوئی راستہ ذوالعرش کی طرف نکالتا یعنی وہ معبود اللہ کے ساتھ مقابلہ کے لیے آمادہ ہوتا جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر چڑھائی کرتا ہے اور اس کے ملک اور مال پر قبضہ کرنے کو مستعد ہوتا ہے۔ یہ معنے اس آیت کے آیت لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا الخ کے موافق ہیں جس کا مطلب یہ ہے اگر آسمان و زمین میں خداوند برتر کے سوا اور کوئی معبود بھی ہوتا تو یہ دونوں آسمان و زمین خراب ہوجاتے اس کے نظم ونسق میں ایک دم ابتری پھیل جاتی۔ مسند امام احمد صحیح بخاری بیہقی وغیرہ کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود (رض) کی حدیث ایک جگہ گز رچ کی ہے ١ ؎ کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بددعا سے جب مکہ میں قحط پڑا تو مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی بہت کچھ التجا کی لیکن کچھ نہ ہوا آخر لاچار ہو کر جب ان لوگوں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مینہ برسنے کی دعا کا اصرار کیا تو آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ آسمان و زمین کا سب انتظام اکیلے اللہ کے اختیار میں ہے ان مشرکوں کے بتوں کو اللہ تعالیٰ کے کسی کار خانہ میں کچھ دخل نہیں ہے اسی واسطے آخر آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کی شرک کی باتوں سے پاک اور بہت دور ہے۔ ١ ؎ تفسیر بذاص ٧٠ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:42) لا تبتغوا۔ ماضی جمع مذکر غائب، ابتغی یبتغی ابتغاء (افتعال) لام برائے تاکید۔ انہوں نے ضرور تلاش کرلیا ہوتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی اس سے لڑنے اور اس کا تختا الٹ دینے کے لئے جاتے کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو خدا سمجھتے اور جب ایسا نہیں ہوا اور تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ اسی پوری کائنات کا نظام خالص اپنی مرضی سے چلا رہا ہے اور یہ نظام اپنی پوری ہم آہنگی اور تناسب سے چل رہا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے مقابلے میں تم نے جتنی زندہ یا مردہ ہستیوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ سب باطل و بےحقیقت چیزیں ہیں۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی خدائے حقیقی تک۔ 6۔ یعنی مخالفت اور مقابلہ واقع ہوتا، پھر عالم کا نظام موجود کیسے باقی رہتا، حالانکہ نظام عالم قائم ہے، معلوم ہوا کہ سبب فساد یعنی تعدد الہ منفی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جیسا کہ نحویوں نے کہا ہے کو حرف امتناع ہے اور یہ استعمال ہی قضیہ معنفہ پر ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ کے سوا الہوں کا وجود ہی ناممکن ہے۔ اور جن ہستیوں کو یہ الہہ بناتے ہیں وہ خود اللہ کی مخلوقات ہیں۔ چاہے وہ ستارے ہوں ، سیارے ہوں ، انسان ہوں یا حیوان ہوں ، نباتات ہوں یا جمادات ہوں۔ اور یہ تمام مخلوقات قانون قدرت کے مطابق سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں اور یہ سب مخلوقات ارادہ باری تعالیٰ کی مطیع فرمان ہیں۔ اور ہر چیز اللہ کی طرف رواں دواں ہے۔ اذا لا بتغوا الی ذی العرش سبیلا (٧١ : ٢٤) ” تو وہ مالک عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے “ یہاں عرش سے مراد مطلق بلندی اور ان مخلوقات پر برتری ہے جن کو یہ لوگ الہ سمجھتے ہیں۔ یہ تمام مخلوق اللہ کے عرش کے تحت ہیں اور اللہ کی حکمرانی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد مشرکین کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ تم جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود تجویز کرتے ہو اپنی اس احمقانہ بات کے بارے میں یوں سوچو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے تو وہ بھی زور دار ہوتے اور اپنے زور کو استعمال کرلیتے اور اللہ تعالیٰ شانہ جو عرش والا ہے اس تک پہنچنے کا انہوں نے کبھی کا راستہ ڈھونڈلیا ہوتا یعنی راستہ تلاش کرکے عرش والے تک پہنچ جاتے پھر آپس میں لڑائی ہوتی اور اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مخلوق کا نظام درہم برہم ہوجاتا سب دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں سال سے ایک خاص محکم نظام کے ساتھ سارے عالم کا نظام رواں اور دواں ہے اگر ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو یہ سب بگڑ کر رہ جاتا جب کوئی بھی معارض اور مقابل نہیں ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے اور وہ شرک سے بالاتر ہے وہ وحدہ لا شریک ہے لوگ جو شرکیہ بات کرتے ہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور اہل باطل جو بھی کچھ کہتے ہیں اس سے بلند وبالا ہے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ یہ ” ولا تجعل مع اللہ الھا اخر “ سے متعلق ہے اور مشرکین کا رد ہے۔ ھذا متصل بقولہ تعالیٰ ولا تجعل مع اللہ الھا اخر الخ (قرطبی) حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مشرکین کا خیال ہے کہ ان کے مزعومہ معبود الوہیت اور صفات کارسازی میں اللہ کے شریک ہیں۔ اور خدا کے یہاں ان کے سفارشی ہیں تو وہ خدا کے یہاں قرب حاصل کر کے سفارش سے پجاریوں کے کام کردیا کریں اور ان کے پجاری اپنی حاجات و مشکلات میں ان سے سفارش کرا کر خداوند تعالیٰ سے اپنے تمام کام حسب مرضی کرالیا کریں حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان کی تمام حاجتیں بر آئیں وقیل معناہ لطلبو الی ذی العرش سبیلا بالتقرب الیہ (معالم) عن مجاھد و قتادۃ ان المعنی اذا لطلبوالزفی الیہ تعالیٰ والتقرب الخ (روح ج 15 ص 77) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42 اے پیغمبر ! آپ فرمائے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے ہیں جیسا کہ یہ مشرک کہتے ہیں تو اس حالت میں انہوں نے صاحب عرش تک معاندانہ طور پر غلبہ حاصل کرنے کا راستہ تلاش کرلیا ہوتا۔ یعنی جیسا کہ عام طور سے کم اختیار لوگ آپس میں مل کر اقتدار سے اعلیٰ بغاوت کرتے ہیں اور جو اقتدار اعلیٰ کا مالک ہوتا ہے اس سے اقتدار چھین لیتے ہیں تو اسی طرح یہ چھوٹے چھوٹے معبود مل کر اس معبود حقیقی کے خلاف دور پڑتے اور صاحب عرش پر غلبہ پا کر اس کے اختیار اور اقتدار کو چھین لیتے ہیں اور اس کے محکوم نہ رہتے اور چونکہ ایسا نہیں ہوا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ تعدد الہ کا قول باطل اور شرک ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی پرایا محکوم رہنا کیوں قبول کرتے تخت کے مالک کو الٹ ڈالتے۔ 12 بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بھی ہوتے تو ان کو بجز اس کے اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بھی معبود برحق کی طرف تقرب و توسل کا طریقہ اختیار کرتے اور تلاش کرتے۔ واللہ اعلم بالصواب عافلیہ المر جع و آلماب