Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 47

سورة بنی اسراءیل

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَسۡتَمِعُوۡنَ بِہٖۤ اِذۡ یَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ اِذۡ ہُمۡ نَجۡوٰۤی اِذۡ یَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴿۴۷﴾

We are most knowing of how they listen to it when they listen to you and [of] when they are in private conversation, when the wrongdoers say, "You follow not but a man affected by magic."

جس غرض سے وہ لوگ اسے سنتے ہیں ان ( کی نیتوں ) سے ہم خوب آگاہ ہیں ، جب یہ آپ کی طرف کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی اور جب یہ مشورہ کرتے ہیں تب بھی جب کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم اس کی تابعداری میں لگے ہوئے ہو جن پر جادو کر دیا گیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Secret Counsel of Quraysh after hearing the Qur'an Allah says; نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَى إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلً مَّسْحُورًا We know best of what they listen to, when they listen to you. And when they take secret counsel, then the wrongdoers say: "You follow none but a bewitched man." Allah tells His Prophet about what the leaders of Quraysh discussed when they came and listened to him reciting Qur'an in secret, without their people knowing about it. They said that he was Mashur which according to the better-known view means someone affected by magic (Sihr); it may also mean a man who has a lung, i.e., a mere human being, as if they were saying that if you follow Muhammad, you will only be following a human being. This second suggestion does not sound correct, because what they meant here was that he was under the influence of Sihr (magic) which made him see dreams in which he learned these words that he recited. Some of them said he was a poet, or a soothsayer, or crazy, or a sorcerer. Allah says: انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُواْ لَكَ الاَمْثَالَ فَضَلُّواْ فَلَ يَسْتَطِيعْونَ سَبِيلً

سرداران کفر کا المیہ سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے ۔ گو یہ لفظ اسی معنی میں شعر میں بھی ہے اور امام ابن جریر نے اسی کو ٹھیک بھی بتلایا ہے لیکن یہ غور طلب ہے ۔ ان کا ارادہ اس موقع پر اس کہنے سے یہ تھا کہ خود یہ جادو میں مبتلا ہے کوئی ہے جو اسے اس موقع پر کچھ پڑھا جاتا ۔ کافر لوگ طرح طرح کے وہم آپ کی نسبت ظاہر کرتے تھے کوئی کہتا آپ شاعر ہیں ، کوئی کہتا کاہن ہیں ، کوئی مجنوں بتلاتا ، کوئی جادوگر وغیرہ ۔ اس لئے فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کیسے بہک رہے ہیں کہ حق کی جانب آ ہی نہیں سکتے ۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ابو سفیان بن حرب ، ابو جہل بن ہشام ، اخنس بن شریق رات کے وقت اپنے اپنے گھروں سے کلام اللہ شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سننے کے لئے نکلے آپ اپنے گھر میں رات کو نماز پڑھ رہے تھے ۔ یہ لوگ آ کر چپ چاپ چھپ کر ادھر ادھر بیٹھ گئے ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی ، رات کو سنتے رہے فجر ہوتے وقت یہاں سے چلے ، اتفاقا راستے میں سب کی آپس میں ملاقات ہو گئی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے اب سے یہ حرکت نہ کرنا ورنہ اور لوگ تو بالکل اسی کے ہو جائیں گے ۔ لیکن رات کو پھر یہ تینوں آ گئے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر قرآن سننے میں رات گزرای ۔ صبح واپس چلے راستے میں مل گئے ، پھر سے کل کی باتیں دہرائیں اور آج پختہ ارادہ کیا کہ اب سے ایسا کام ہرگز کوئی نہ کرے گا ۔ تیسری رات پھر یہی ہوا اب کے انہوں نے کہا آؤ عہد کرلیں کہ اب نہیں آئیں گے چنانچہ قول قرار کر کے جدا ہوئے صبح کو اخنس اپنی لاٹھی سنبھالے ابو سفیان کے گھر پہچا اور کہنے لگا ابو حنظلہ مجھے بتاؤ تمہاری اپنی رائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ جو آیتیں قرآن کی میں نے سنی ہیں ، ان میں سے بہت سی آیتوں کا تو مطلب میں جان گیا ، لیکن بہت سی آتیوں کی مراد مجھے معلوم نہیں ہوئی ۔ اخنس نے کہا واللہ میرا بھی یہی حال ہے ۔ یہاں سے ہو کر اخنس ابو جہل کے پاس پہنچا ۔ اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سنئے ۔ شرافت و سرداری کے بارے میں ہمارا بنو عبد مناف سے مدت کا جھگڑا چلا آتا ہے انہوں نے کھلایا تو ہم نے بھی کھلانا شروع کر دیا ، انہوں نے سواریاں دیں تو ہم نے بھی انہیں سواریوں کے جانور دئے ۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ سلوک کئے اور ان انعامات میں ہم نے بھی ان سے پیچھے رہنا پسند نہ کیا ۔ اب جب کہ تمام باتوں میں وہ اور ہم برابر رہے اس دوڑ میں جب وہ بازی لے جا نہ سکے تو جھٹ سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم میں نبوت ہے ، ہم میں ایک شخص ہے ، جس کے پاس آسمانی وحی آتی ہے ، اب بتاؤ اس کو ہم کیسے مان لیں ؟ واللہ نہ اس پر ہم ایمان لائیں گے نہ کبھی اسے سچا کہیں گے اسی وقت اخنس اسے چھوڑ کر چل دیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

47۔ 1 یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سحر زدہ سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے قرآن سنتے اور آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، اس لئے ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٧] کافروں کے قرآن کو غور سے سننے کی وجہ :۔ یعنی اگر وہ آپ کی باتیں غور سے سنتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ انھیں ہدایت نصیب ہو بلکہ اس لیے سنتے ہیں کہ کوئی ایسا نکتہ یا پوائنٹ ہاتھ آجائے جس کی بنا پر یا تو اس نبی کی تکذیب کرسکیں یا اس کا مضحکہ اڑا سکیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی باتوں کی تلاش ہو تو غور سے سننا ہی پڑتا ہے۔ [٥٨] قریش مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ ان کا کوئی شخص قرآن نہیں سنے گا لیکن اس کلام میں کچھ حلاوت اور دل نشینی اس قسم کی تھی کہ وہ اپنی عائد کردہ پابندی خود بھی نبھا نہ سکتے تھے اور چوری چھپے رات کے اندھیروں میں قرآن سن لیا کرتے پھر جب کسی ایک کو دوسرے پر یہ شک پڑجاتا ہے کہ اس نے قرآن سنا ہے۔ تو وہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ کس شخص کی بات کرتے ہو جو خود سحر زدہ ہے اور عجیب طرح کی باتیں کرتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ ۔۔ : اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہمیں خوب علم ہے جس نیت سے یہ اکیلے اکیلے کان لگا کر آپ کی باتیں سنتے ہیں کہ آپ پر اعتراض کریں یا مذاق اڑائیں، پھر جب وہ آپس کی مجلس میں ان پر تبصرے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے آپ کو جادو زدہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے علم کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا ہے کہ ہم ان کی حرکتوں سے بیخبر نہیں کہ یہ ہماری گرفت سے بچ جائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Can Magic affect a Prophet? A prophet being affected by magic is as possible as being affected by sickness. Therefore, blessed prophets are not devoid of or detached from human characteristics. For instance, they could be wounded, run temperature or feel pain. Similarly, they could also be affected by magic because, that too, is triggered by the influence of physical causes, such as those of the Jinn. And it also stands proved from Hadith that there was an occasion when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was affected by magic. As for the disbelievers calling him &bewitched& (&mashur& ) in verse 47 which the Qur&an has refuted for the reason that they really meant to call him &insane.& (Bayan al-Qur&an) Therefore, the Hadith of magic is not contradictory.1 1. Moreover, the magic or sorcery can affect a prophet only to cause a physical illness. It can never have an adverse effect on performing their functions as prophets. The disbelievers used to call the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) t &bewitched person& in this later sense which was totally impossible in his case, while the hadith refers to the physical illness suffered by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which was caused by an act of magic. (Muhammad Taqi Usmani) The subject taken up in the first two verses (45, 46) has a particular event as a background. According to al-Qurtubi reporting on the author¬ity of Sayyidna Said ibn Jubayr (رض) ، when Surah al-Masad/al-Lahab (iii) beginning with: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ was revealed in the Qur&an, it also condemned the wife of Abu Lahab. She went to the place where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to sit with his Companions. At that time, Sayyidna Abu Bakr (رض) was present there. Noticing her coming well ahead of her arri¬val, he said to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) |"if you move away from here, it will be better. This woman has a sharp tongue. She will say things which may cause you pain.|" He said, |"no, Allah Ta` ala will put a curtain between me and her.|" So, she reached there but when she could not see the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) anywhere around, she turned towards Sayyidna Abu Bakr (رض) and said, your companion has satirized us in poetry.|" Sayyidna Abu Bakr (رض) said, |"By Allah, he is no composer of poetry, much less that of the kind in which people are satirized (hajw).|" Thereupon, she left in a huff saying, |"you are no more than a verifier for him.|" After she was gone, Sayyidna Abu Bakr (رض) submitted, |"didn&t she see you?|" He said, |"as long as she was here, an angel kept obstructing the view between me and her.|" A Qur&anic formula of remaining hidden from enemy sight &On occasions when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) wished to remain hidden from the sight of the Mushriks,& says Sayyidna Ka` b (رض) ، &he would recite three verses of the Holy Qur’ an. Such was its effect that the disbelievers were unable to see him.& Those three verses are: 1. إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرً‌ا (Surely, We have put covers on their hearts, so that they do not understand it, and deafness in their ears - Surah al-Kahf, 18:57). 2. أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِ‌هِمْ (Those are the ones Allah has put a seal on whose hearts and hearing and vision - Surah an-Nahl, 16:108). 3. أَفَرَ‌أَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّـهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِ‌هِ غِشَاوَةً (Have you seen the one who has taken his own desire as god while Allah has let him go astray because of knowledge [ his or His ] and has set a seal upon his hearing and his heart and placed over his vision a veil - Surah al-Jathiyah, 45:23). Sayyidna Ka&b (رض) says that he related this thing about the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to a Syrian who had to go to adjoining Byzantium on a cer¬tain business. He went there and stayed for a long time until the local disbelievers started harassing him. When he escaped from there, they pursued him. At that time, he remembered that narrative and recited the three verses identified there. It so happened as if a screen was placed on their eyes why they could not see this person who was walking on the same pathway the enemies were passing by. Imam Tha` labi says that he related this narrative of Sayyidna Ka` b (رض) to a resident of the town of R&ay. It so happened that he was put under arrest by the disbelievers of Dailam. For some time he remained under detention with them. One day he got his chance to escape. They pursued him, but this person also recited those three verses. The effect was immediate. Allah Ta’ ala screened their eyes in a manner that they were unable to see him - though, they were walking side by side with their clothes touching his clothes. Imam al-Qurtubi (رح) says that the verses from Surah Ya Sin which were recited by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at the time of Hijrah may also be added to the three verses cited above. This was when the Mushsriks of Mak¬kah had besieged his house. He recited those verses and went right through them. In fact, he went by throwing dust on their heads and none of them knew anything about it. Those verses of Surah Ya Seen are: بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ يس ﴿١﴾ وَالْقُرْ‌آنِ الْحَكِيمِ ﴿٢﴾ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿٣﴾ عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٤﴾ تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّ‌حِيمِ ﴿٥﴾ لِتُنذِرَ‌ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ‌ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ ﴿٦﴾ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَىٰ أَكْثَرِ‌هِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٧﴾ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ ﴿٨﴾ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُ‌ونَ ﴿٩﴾ With the name of Allah, the Most-Merciful, the Very-Merciful Ya Seen. By the wise Qur&an, surely you [ 0 Muhammad ] are from among the messengers, on a straight path. [ This is ] a reve¬lation of the Mighty, the Very Merciful, that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are una¬ware. The word has already taken effect against most of them, so they do not believe. Surely, We have placed shackles on their necks reaching down to their chins, so they are with heads forced high up. And We have placed before them an ob¬struction and behind them an obstruction and covered them, so they do not see - Surah Ya Seen, 36: 1-9) Imam al-Qurtubi (رح) says that he himself went through an incident in the Manthur Castle of al-Qartubah in his own country of al-Andalus (Spain). I ran in front of the enemy and sat in a corner. The enemy sent two horsemen after me. I was on open grounds. There was nothing to ob¬struct the view between us. But, I was reciting these verses of Surah Ya Sin. Both these horsemen passed by me. Then they went back towards where they had come from, saying, &this person must be some devil,& because they could not see me. Allah Ta’ ala had turned them blind as far as I was concerned. (Qurtubi)

معارف و مسائل : پیغمبر پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے : کسی نبی اور پیغمبر پر جادو کا اثر ہوجانا ایسا ہی ممکن ہے جیسا بیماری کا اثر ہوجانا اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) بشری خواص سے الگ نہیں ہوتے جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے بخار اور درد ہوسکتا ہے ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی خاص اسباب طبیعہ جنات وغیرہ کے اثر سے ہوتا ہے اور حدیث میں ثابت بھی ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سحر کا اثر ہوگیا تھا آخری آیت میں جو کفار نے آپ کو مسحور کہا اور قرآن نے اس کی تردید کی اس کا حاصل وہ ہے جس کی طرف خلاصہ تفسیر میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ ان کی مراد درحقیقت مسحور کہنے سے مجنون کہنا تھا اسی کی تردید قرآن نے فرمائی ہے اس لئے حدیث سحر اس کے خلاف اور متعارض نہیں۔ آیات مذکورہ میں سے پہلی ودوسری آیت میں جو مضمون آیا ہے اس کا ایک خاص شان نزول ہے جو قرطبی نے سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ جب قرآن میں سورة تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی جس میں ابولہب کی بیوی کی بھی مذمت مذکور ہے تو اس کی بیوی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں گئی اس وقت صدیق اکبر مجلس میں موجود تھے اس کو دور سے دیکھ کر آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ آپ یہاں سے ہٹ جائیں تو بہتر ہے کیونکہ یہ عورت بڑی بدزبان ہے یہ ایسی باتیں کہے گی جس سے آپ کو تکلیف پہنچنے گی آپ نے فرمایا نہیں اس کے اور میرے درمیان اللہ تعالیٰ پردہ حائل کردیں گے چناچہ وہ مجلس میں پہنچی مگر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ دیکھ سکی تو صدیق اکبر سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ آپ کے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے صدیق اکبر نے فرمایا کہ واللہ وہ تو کوئی شعر ہی نہیں کہتے جس میں عادۃ ہجو کی جاتی ہے تو وہ یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ تم بھی ان کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو اس کے چلے جانے کے بعد صدیق اکبر نے عرض کیا کہ کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا آپ نے فرمایا کہ جب تک وہ یہاں رہی ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان پردہ کرتا رہا۔ دشمنوں کی نظر سے مستور رہنے کا ایک عمل : حضرت کعب فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مشرکین کی آنکھوں سے مستور ہونا چاہتے تو قرآن کی تین آیتیں پڑھ لیتے تھے اس کے اثر سے کفار آپ کو نہ دیکھ سکتے تھے وہ تین آیتیں یہ ہیں ایک آیت سورة کہف میں یعنی اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا (٥٧) دوسری آیت سورة نحل میں ہے اولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ (١٠٨) اور تسیری آیت سورة جاثیہ میں ہے اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَةً (٢٣) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ معاملہ میں نے ملک شام کے ایک شخص سے بیان کیا اس کو کسی ضرورت سے رومیوں کے ملک میں جانا تھا وہاں گیا اور ایک زمانہ تک مقیم رہا پھر رومی کفار نے اس کو ستایا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلا ان لوگوں نے اس کا تعاقب کیا اس شخص کو وہ روایت یاد آگئی اور مذکورہ تین آیتیں پڑھیں قدرت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا کہ جس راستہ پر یہ چل رہے تھے اسی راستہ پر دشمن گذر رہے تھے مگر وہ ان کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ امام ثعلبی کہتے ہیں کہ حضرت کعب سے جو روایت نقل کی گئی ہے میں رئے کے رہنے والے ایک شخص کو بتلائی اتفاق سے ویلم کے کفار نے اس کو گفتار کرلیا کچھ عرصہ ان کی قید میں رہا پھر ایک روز موقع پا کر بھاگ کھڑا ہوا یہ لوگ اس کے تعاقب میں نکلے مگر اس شخص نے بھی یہ تین آیتیں پڑھ لیں اس کا یہ اثر ہوا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ وہ اس کو نہ دیکھ سکے حالانکہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور ان کے کپڑے ان کے کپڑوں سے چھو جاتے تھے۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ ان تینوں کے ساتھ وہ آیات سورة یسین کی بھی ملالی جائیں جن کو آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے وقت پڑھا تھا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ کے مکان کا محاصرہ کر رکھا تھا آپ نے یہ آیات پڑھیں اور ان کے درمیان سے نکلتے ہوئے چلے گئے بلکہ ان کے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے گئے ان میں سے کیسی کو خبر نہیں ہوئی وہ آیات سورة یسین کی یہ ہیں يٰسۗ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤ ُ هُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ مجھے خود اپنے ملک اندلس میں قرطبہ کے قریب قلعہ منثور میں یہ واقعہ پیش آیا کہ میں دشمن کے سامنے بھاگا اور ایک گوشہ میں بیٹھ گیا دشمن نے دو گھوڑے سوار میرے تعاقب میں بھیجے اور میں بالکل کھلے میدان میں تھا کوئی چیز پردہ کرنے والی نہ تھی مگر میں سورة یسین کی یہ آیتیں پڑھ رہا تھا یہ دونوں سوار میری برابر سے گذرے پھر جہاں سے آئے تھے یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ یہ شخص کوئی شیطان ہے کیونکہ وہ مجھے دیکھ نہ سکے اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے اندھا کردیا تھا (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا 47؀ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا الِاسْتِمَاعُ : الِاسْتِمَاعُ : الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، ( س م ع ) الِاسْتِمَاعُ : اسماسع اس کے معنی غور سے سننے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس سے یہ سنتے ہیں ۔ ہم اسے خوب جانتے ہیں ۔ نجو) سرگوشي) والنَّجِيُّ : المُنَاجِي، ويقال للواحد والجمع . قال تعالی: وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ( ن ج و ) النجی کے معنی سر گوشی کرنے والے کے ہیں یہ بھی واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا[ مریم/ 52] اور باتیں کرنے کیلئے نزدیک بلایا ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ سحر والسِّحْرُ يقال علی معان : الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد، وما يفعله النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قوله تعالی: سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] والثاني : استجلاب معاونة الشّيطان بضرب من التّقرّب إليه، کقوله تعالی: هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ، والثالث : ما يذهب إليه الأغتام «1» ، وهو اسم لفعل يزعمون أنه من قوّته يغيّر الصّور والطّبائع، فيجعل الإنسان حمارا، ولا حقیقة لذلک عند المحصّلين . وقد تصوّر من السّحر تارة حسنه، فقیل : «إنّ من البیان لسحرا» «2» ، وتارة دقّة فعله حتی قالت الأطباء : الطّبيعية ساحرة، وسمّوا الغذاء سِحْراً من حيث إنه يدقّ ويلطف تأثيره، قال تعالی: بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15] ، ( س ح ر) السحر اور سحر کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اول دھوکا اور بےحقیقت تخیلات پر بولاجاتا ہے جیسا کہ شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی سے نظرون کو حقیقت سے پھیر دیتا ہے یانمام ملمع سازی کی باتین کرکے کانو کو صحیح بات سننے سے روک دیتا ہے چناچہ آیات :۔ سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] تو انہوں نے جادو کے زور سے لوگوں کی نظر بندی کردی اور ان سب کو دہشت میں ڈال دیا ۔ دوم شیطان سے کسی طرح کا تقرب حاصل کرکے اس سے مدد چاہنا جیسا کہ قرآن میں ہے : هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ( کہ ) کیا تمہیں بتاؤں گس پر شیطان اترا کرتے ہیں ( ہاں تو وہ اترا کرتے ہیں ہر جھوٹے بدکردار پر ۔ اور اس کے تیسرے معنی وہ ہیں جو عوام مراد لیتے ہیں یعنی سحر وہ علم ہے جس کی قوت سے صور اور طبائع کو بدلا جاسکتا ہے ( مثلا ) انسان کو گدھا بنا دیا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت شناس علماء کے نزدیک ایسے علم کی کچھ حقیقت نہیں ہے ۔ پھر کسی چیز کو سحر کہنے سے کبھی اس شے کی تعریف مقصود ہوتی ہے جیسے کہا گیا ہے (174) ان من البیان لسحرا ( کہ بعض بیان جادو اثر ہوتا ہے ) اور کبھی اس کے عمل کی لطافت مراد ہوتی ہے چناچہ اطباء طبیعت کو ، ، ساحرۃ کہتے ہیں اور غذا کو سحر سے موسوم کرتے ہیں کیونکہ اس کی تاثیر نہایت ہی لطیف ادرباریک ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15]( یا ) یہ تو نہیں کہ ہم پر کسی نے جادو کردیا ہے ۔ یعنی سحر کے ذریعہ ہمیں اس کی معرفت سے پھیر دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٧) اور جس وقت ابوجہل وغیرہ آپ کے قرآن کریم پڑھنے کی طرف کان لگاتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں کہ جس غرض سے یہ قرأت کو سنتے ہیں اور نیز جس وقت یہ لوگ آپ کے بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ بعض ان میں سے آپ کو ساحر اور بعض شاعر اور بعض کاہن اور بعض دیوانہ کہتے ہیں اور بعض دوسروں سے کہتے ہیں کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دے رہے ہو جو کہ مغلوب العقل ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٧ (نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ ) قریش مکہ کی اس چال کا ذکر پہلے بھی ہوچکا ہے۔ ان کے بعض بڑے سردار اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے رسول اللہ کی مجلس میں آتے اور بظاہر بڑے انہماک سے سب کچھ سنتے۔ پھر واپس جا کر کہتے کہ لو جی ہم تو بڑے خلوص اور اشتیاق کے ساتھ گئے تھے محمد کی محفل میں کہ وہ جو کلام پیش کرتے ہیں اس کو سنیں اور سمجھیں مگر افسوس کہ ہمیں تو وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس طرح وہ کوشش کرتے کہ ان کے عوام بھی ان کے ہم نوا بن جائیں اور ان میں بھی یہ سوچ عام ہوجائے کہ یہ بڑے بڑے سردار آخر سمجھدار ہیں بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں محمد کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے مخلص بھی ہیں اور اسی اخلاص میں وہ خصوصی طور پر آپ کی مجلس میں بھی جاتے ہیں۔ اگر اس نئے کلام میں کوئی خاص بات ہوتی تو وہ ضرور ان کی سمجھ میں آجاتی۔ اب جب یہ لوگ وہاں جا کر اور اس کلام کو سن کر کہہ رہے ہیں کہ اس میں کچھ بھی خاص بات نہیں ہے تو یقیناً یہ لوگ سچ ہی کہہ رہے ہیں۔ (وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا) ان میں سے کسی کے دل پر جب قرآن کی کوئی آیت اثر کرتی ہے اور وہ اس کا اظہار اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں بھئی محمد نے آج جو فلاں بات کی ہے اس میں بہت وزن ہے اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تو ایسی صورت میں وہ فوراً اس کا توڑ کرنے کے لیے اپنے اس ساتھی کو سمجھانا شروع کردیتے ہیں کہ جی چھوڑو ! تم کہاں ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے چل پڑے۔ ان کی باتوں پر کوئی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

53. This refers to those devices which they conspired against the message of the Prophet (peace be upon him). They would secretly listen to him, and then hold consultations in order to counteract this. Sometimes it so happened that they suspected that someone had been influenced by the Quran. Then they would sit together and try to dissuade him, saying: How is it that you have been influenced by a person who himself is bewitched by some enemy and talks like this?

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :53 یہ اشارہ ہے ان باتوں کی طرف جو کفار مکہ کے سردار آپس میں کیا کرتے تھے ۔ ان کا حال یہ تھا کہ چھپ چھپ کر قرآن سنتے اور پھر آپس میں مشورے کرتے تھے کہ اس کا توڑ کیا ہونا چاہییے ۔ بسا اوقات انہیں اپنے ہی آدمیوں میں سے کسی پر یہ شبہہ بھی ہو جاتا تھا کہ شاید یہ شخص قرآن سن کر کچھ متاثر ہو گیا ہے ۔ اس لیے وہ سب مل کر اس کو سمجھاتے تھے کہ اجی ، یہ کس کے پھیر میں آ رہے ہو ، یہ شخص تو سحرزدہ ہے ، یعنی کسی دشمن نے اس پر جادو کر دیا ہے اس لیے بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٧۔ ٥٢:۔ سیرۃ محمد بن اسحاق اور دلائل النبوہ بیہقی میں ناقابل اعتراض سند کی ابن شہاب زہری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابو سفیان اور ابوجہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں قرآن شریف اپنے گھر میں پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کرکے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کو خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیتیں نازل فرمائیں ١ ؎۔ حاصل معنے یہ ہیں کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے پر مناسب مؤاخذہ ان سے کیا جائے گا چناچہ اس وعدہ کے موافق اس گروہ میں کے چند شخص جنگ بدر میں ہلاک ہوگئے اور ابوسفیان وغیرہ فتح مکہ پر مسلمان ہوگئے اور حشر کا انکار ان لوگوں نے جو کیا تھا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے آخر مٹی ہی تھا جس اللہ نے مٹی کا پتلا پہلی دفعہ بنایا اور اس پتلا میں روح پھونکی پھر اس اللہ کو دوسری دفعہ وہ کام کرنا جو ایک دفعہ وہ کرچکا ہے کیا مشکل ہے بلکہ جو کوئی ایک دفعہ ایک کام کرچکے پھر اس کو وہ کام سہل ہوجاتا ہے اسی واسطے حشر کے خلاف عقل ہونے میں اوپر تفصیل سے بیان ہوچکا ہے کہ پہلی پیدائش سے حشر آسان ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی تنبیہ کے لیے فرمایا کہ مٹی کا پتلا تو کیا ہے اگر یہ مر کر لوہا یا پتھر یا کوئی سخت چیز بھی ہوجاویں تو اللہ کی قدرت تو وہ ہے کہ اللہ ضرور ان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ آگے فرمایا دوبارہ زندہ ہونے کی تاکید سن کر یہ لوگ تعجب سے پوچھیں گے کہ آخر ہم کو دوبارہ کون زندہ کرے گا تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ جس نے پہلے تم کو نیست سے ہست کیا وہی تم کو دوبارہ پیدا کرے گا پھر فرمایا اس جواب کو سن کر یہ لوگ مسخراپن سے گردنیں مٹکا کر یہ کہیں گے کہ آخر اس وعدہ کا ظہور کب ہوگا ان سے کہہ دیا جائے کہ گھبراؤ نہیں شاید اس کا ظہور بھی جلدی ہونے والا ہے پھر فرمایا اب تو یہ لوگ ایسے مسخراپن کی باتیں کرتے ہیں لیکن دوسرے صور سے پہلے جب ایک مینہ برس کر ان کے جسم تیار ہوجاویں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی اور ان کو میدان محشر میں حاضر ہونے کا حکم ہوگا تو اللہ کی قدرت کو دیکھ کر بےساختہ اللہ کی تعریف ان کی زبان پر آجاوے گی اور حساب و کتاب کے بعد جس بیشمار مدت کے لیے ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائیگا تو اس بیشمار مدت کے مقابلہ میں دنیا میں رہنے کی مدت ان کو بالکل کم نظر آئے گی۔ دوسرے صور سے پہلے جو میں برسے گا صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ (رض) کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ اس تفسیر میں کردیا گیا ہے۔ سورة القمر میں آئے گا کہ دوسرے صور کی آواز صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎ کہ نیک آدمی کے مردے کو قبر میں رکھتے ہی جنت کا ٹھکانہ اور بدشخص کے مردہ کو دوزخ کا ٹھکانہ فرشتے دکھلا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے کے لیے قیامت کے دن تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اسی طرح ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے براء بن عازب (رض) کی صحیح حدیث بھی گزر چکی ہے ٣ ؎۔ کہ بدلوگ دوزخ کے ٹھکانے سے ڈر کر عذاب قبر کو غنیمت جانیں گے اور قیامت کے نہ قائم ہونے کی ہر وقت دعا کرتے رہیں گے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ دوسرے صور کی آواز سے ان منکرین قیامت کا ٹڈیوں کی طرح حساب و کتاب کے لیے میدان محشر کی طرف دوڑنا اور حساب و کتاب کے بعد بیشمار مدت کا دوزخ میں جھونکے جانے کا حکم سن کر اس کے مقابلہ میں دنیا میں رہنے کی مدت کو بالکل چند روزہ مدت خیال کرنا یہ تو اپنے وقت پر ہوگا لیکن ان میں سے ہر ایک شخص کو اس کا ٹھکانا زیست کے تھوڑے سے دن گزر جانے کے بعد مرنے کے ساتھ ہی دکھلا دیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اب تو یہ لوگ مسخراپن سے قیامت کے آنے کی جلدی کرتے ہیں مگر دوزخ کے اپنے ٹھکانے کو دیکھ کر ہر وقت قیامت کے نہ قائم ہونے کی دعائیں مانگیں گے۔ ١ ؎ تفسیر الدر المنثورص ١٨٧ ج ٤۔ ٢ ؎ تفسیر ہذاج ٣ ص ٣٣٤۔ ٣ ؎ تفسیر ہذاج ٢ ص ٣٣٤۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:47) بما یستمعون بہ۔ کس غرض کے لئے سنتے ہیں۔ بہ بمعنی لاجلہ۔ بسببہ کے مترادف ہے۔ یعنی ان کے قرآن سننے کا سبب یا وجہ کیا ہے۔ کس مقصد کے لئے سنتے ہیں۔ یستمعون اور بہ کے درمیان القران محذوف ہے۔ اذ یستمعون الیک۔ جب وہ کان لگا کر آپ کو سنتے ہیں۔ نجوی۔ یہ مادہ ن ج و سے مشتق ہے اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں اسی سے محاورہ ہے۔ نجا فلان من فلان فلاں نے فلاں سے نجات پائی۔ باب افعال وتفعیل سے۔ نجات دینا کے معنی میں ہے مثلاً فانجینا الذین امنوا (27:53) اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے بچا لیا۔ نجینا الذین امنوا (41:18) اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے بچا لیا۔ باب تفاعل اور مفاعلہ سے بمعنی سرگوشی کرنا ہے۔ یا اپنے بھید کو دوسروں پر افشاء کرنے سے بچانا ہے۔ مثلاً یایھا الذین امنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان ومعصیۃ الرسول (58:9) اے مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا۔ اور واذا نا جیتم الرسول فقدموا بین یدی نجولکم صدقۃ (78:12) جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے صدقہ دیا کرو۔ لفظ نجوی کبھی بطور صفت کے بھی آتا ہے اور واحد اور جمع دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے واذہم نجوی (آیۃ ھذا) اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں۔ نجوی بمعنی سرگوشیاں کرنے والے۔ اذ ہم سے قبل ونحن اعلم محذوف ہے ای ونحن اعلم اذہم نجوی۔ اور ہم خوب جانتے ہیں جب یہ آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ اذ یقول بدل ہے اذہم کا۔ یعنی جب یہ آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت یہ (ظالم) کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ان تتبعون۔ میں ان نافیہ ہے تتبعون مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتباعمصدر۔ تم پیروی کرتے ہو تم پیروی کر رہے ہو۔ ان تتبعون تم پیروی نہیں کر رہے (مگر ایک سحر زدہ شخص کی) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 اس کی عقل میں فتور آگیا ہے اس لئے بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔ مروی ہے کہ عتبہ نے اشراف قریش کی دعوت کی یا حضرت علی نے آنحضرت کے اشارے سے دعوت کی اور آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا تو انہوں نے آحضرت کی شان میں یہ الفاظ استعمال کئے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ وہ غرض یہی اعتراض و طعن ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید سے نفرت کی بناء پر کفار قرآن مجید کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ اگر کہیں انہیں قرآن مجید سننا پڑجائے۔ تو وہ عیب جوئی کی نیت سے سنا کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن مجید کو کس نیت سے سنتے ہیں۔ کفار اور مشرکین کو قرآن مجید میں جس بات سے سب سے زیادہ چڑ تھی اور ہے۔ وہ توحید کا مضمون ہے۔ اس بناء پر کفار قرآن مجید سننے کے بعد آپس میں سرگوشیاں کرتے اور قرآن مجید سے متاثر ہونے والے حضرات کو کہتے کہ تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو ہوچکا ہے۔ اس پر رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ کہ اے پیغمبر ! دیکھیں یہ لوگ آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں ؟ یہ گمراہ ہوچکے ہیں، اب سیدھا راستہ نہیں پاسکتے۔ عقیدہ توحید سے انحراف اور قرآن مجید سے نفرت کی وجہ سے کفار اور مشرکین اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے تھے۔ ایک طرف وہ آپ کو جادو گر قرار دیتے اور پھر اسی زبان سے یہ الزام دیتے کہ آپ جادو زدہ ہیں۔ جب کوئی شخص گمراہ ہونے کے ساتھ حق کی مخالفت میں بوکھلاہٹ کا شکار ہوجائے۔ تو اس کا ہدایت پانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اسی بناء پر ارشاد ہوا کہ اے رسول ! یہ لوگ سیدھا راستہ نہیں پاسکتے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے کھول کھول کر ہدایت کے متعلقہ دلائل اور امثال بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان پر غور کریں۔ مگر لوگ ان پر غور کرنے کی بجائے عیب جوئی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ جادو اور جادو گر کی حالت : جادو کفر یہ ‘ شرکیہ ‘ اوٹ پٹانگ الفاظ اور جس طریقے سے کیا جائے وہ کفر ہے۔ ( وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْ ایُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ ) [ البقرۃ ١٠٢] ” سلیمان نے کفر کبھی نہیں کیا بلکہ کفر تو وہ شیطان کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : ( لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ) [ الترغیب و الترہیب ] ” جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے ‘ کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ایسے ہی کوئی خود جادوگر ہو یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے مقاصد اور نیتوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی سرگوشیوں کو بھی سنتا ہے۔ ٣۔ کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سحر زدہ قرار دیتے تھے۔ ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر الزام لگانے والے گمراہ لوگ ہیں یہ راہ راست نہیں پاسکتے۔ تفسیر بالقرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کفار کے الزامات : ١۔ ظالم کہتے ہیں تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٤٧) ٢۔ انہوں نے کہا جو رسول تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ مجنون ہے۔ (الشعراء : ٢٧) ٣۔ اور وہ کہتے ہیں آپ مجنون ہیں۔ (القلم : ٥١) ٤۔ وہ کہتے ہیں کیا شاعر اور مجنون کے لیے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (الصٰفٰت : ٣٦) ٥۔ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اسے جنون ہے۔ (سبا : ٨) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے فضل سے مجنون نہیں۔ (القلم : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اذ یقول الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا (٧١ : ٧٤) ” یہ ظالم آپس میں کہتے تھے کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے “۔ لیکن خود ان کے اس الزام کے اندر ان کی کمزوری ظاہر ہے ، اس الزام ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن سے بےحد متاثر تھے۔ کیونکہ وہ اندر اندر سے یہ اعتراف کرتے تھے کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا ، اس کے اندر غیر بشری رنگ ہے ، یہ نہایت ہی خفیہ انداز میں غیر محسوس طور پر اپنے شعور اور وجدان میں اس بات کو پاتے تھے کہ یہ کوئی فوق البشر کلام ہے ، اس لئے کبھی اسے جادوگری کہتے ، کبھی کچھ اور کہتے ، کیونکہ وہ خود سمجھتے تھے کہ یہ کوئی معمولی کلام نہیں ہے۔ اس کی ترتیب اور اس کی ساخت میں ایک فوقیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ بات وہ تسلیم کرتے تھے کہ یہ کلام خود حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نہیں ہے بلکہ کسی جادو کا کرشمہ ہے۔ انسانی قوت کا کرشمہ نہیں بلکہ جادوگری ہے ، لیکن ان کو حقیقت کے اعتراف کی توفیق نہ ہوتی ورنہ وہ کہتے کہ یہ کلام الٰہی ہے کیونکہ انسان ، کوئی بھی انسان ایسا کلام پیش نہیں کرسکتا ، نہ انسان کے علاوہ کوئی اور مخلوق ایسا کلام بنا سکتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِہٖ ) (الآیۃ) اور جب قرآن سننے لگتے تھے تو اس کو سمجھنے اور اس کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے اور قبول کرنے کے لیے نہیں سنتے تھے۔ بلکہ قرآن کی آواز کو دبانے کے لیے بیہودہ باتیں کرتے تھے اور قرآن اور صاحب قرآن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق بناتے تھے اور آپس میں چپکے چپکے تکذیب کرتے جاتے تھے یعنی قرآن کو جھٹلاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ تم تو بس ایسے آدمی کا اتباع کرتے ہو، جس پر جادو کیا ہوا ہے یعنی اگر تم نے ان کا اتباع کرلیا تو مسحور آدمی کا اتباع کرو گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

46:۔ مشرکین بعض دفعہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں غور سے سنتے تاکہ ان سے قابل اعتراض اور طعن وتشنیع کے پہلو نکال سکیں آپ کی باتیں سن کر پھر باہم مشورے کرتے کہ اس پر کیا اعتراض کریں اور کیا طعن دھریں۔ آخر فیصلہ کیا کہ یہ شخص مسحور ہے یعنی اس پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہا اور بہکی بہکی باتیں کرتا ہے (العیاذ باللہ) اللہ نے فرمایا میں سب کچھ جانتا ہوں مجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ جس نیت اور مقصد سے وہ پیغمبر (علیہ السلام) کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور مطاعن تراشنے کے لیے جو مشورے کرتے ہیں وہ سب مجھے معلوم ہیں اور ان تمام شرارتوں کی ان کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

47 جس وقت یہ کافر سننے کے لئے اے پیغمبر آپ کی جانب کان لگاتے ہیں تو جس غرض کے لئے یہ اس قرآن کریم کو کان لگا کر سنتے ہیں اس کو ہم خوب جانتے ہیں اور جس وقت یہ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں اس کو بھی ہم خوب جانتے ہیں جب یہ ظالم اپنی سرگوشیوں میں یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ پیروی نہیں کر رہے ہو مگر ایک ایسے شخص کی جو سحر زدہ ہے اور جس پر جادو کیا گیا۔ کفار کو جو کبھی پیغمبر کی مجلس میں رسول کی باتیں یر قرآن کریم کان لگا کر اور متوجہ ہو کر سنتے تھے اس کو فرمایا کہ جس غرض سے یہ سنتے ہیں اس کو ہم خوب جانتے ہیں یعنی اعتراض و طعن تشنیع کی غرض سے توجہ کے ساتھ سنتے ہیں پھر سننے کے بعد جو سرگوشیاں آپس میں بیٹھ کر کرتے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور سرگوشیوں میں یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم یعنی اہل عرب جو اس رسول کی پیروی کر رہے ہو وہ محض ایک سحر زدہ شخص ہے یعنی مجنون و پاگل کی پیروی کر رہے ہو۔