Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 75

سورة بنی اسراءیل

اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا ﴿۷۵﴾

Then [if you had], We would have made you taste double [punishment in] life and double [after] death. Then you would not find for yourself against Us a helper.

پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا پھر آپ تو اپنے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار بھی نہ پاتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the Prophet would have been punished if He had given in at all to the Disbelievers' Demands that He change some of the Revelation Allah tells us that; How He supported His Prophet and protected him and kept him safe from the evil plots of the wicked transgressors. Allah is the One Who took care of him and helped him, and would not leave him to any of His creation. He is the One Who is His Helper, Supporter and Protector, the One Who is to help him achieve victory and make His religion prevail over those who resist him and oppose him and fight him in the east and in the west. May Allah send peace and blessings upon him until the Day of Judgement.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

75۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ سزا قدرو منزلت کے مطابق ہوتی ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ڎاِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ ۔۔ : اس لیے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے، چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے متعلق فرمایا : (يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۭ ) [ الأحزاب : ٣٠ ] ” اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کھلی برائی کا ارتکاب کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that, it was said: إِذًا لَّأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ. It means: Suppos¬ing the impossible, if you would have come closer to tilting towards their wrong move, your punishment would have been double in life and double after death (in the grave or the Hereafter, because even an insignificant error made by those close to Allah is considered to be very grave). What has been said here is almost the same as was said about the blessed wives of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in Surah al-Ahzab: يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ (0 wives of the Prophet, whoever of you should com¬mit a clear act of immodesty, the punishment for her will be multiplied doubly - 33:30).

(آیت) اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَات یعنی اگر بفرض محال آپ ان کی غلط روش کی طرف میلان کے قریب ہوجاتے تو آپ کا عذاب دنیا میں بھی دوہرا ہوتا اور موت کے بعد قبر یا آخرت میں بھی دوہرا ہوتا کیونکہ مقربان بارگاہ کی معمولی سی غلطی بھی بہت بڑی سمجھی جاتی ہے اور یہ مضمون تقریبا وہی ہے جو ازواج مطہرات کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے (آیت) يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۭ یعنی اے نبی کی عورتوں اگر تم میں سے کسی نے کھلی بےحیائی کا کام کیا تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا 75؀ ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ ضعف ( دوگنا) ضِّعْفُ هو من الألفاظ المتضایفة التي يقتضي وجود أحدهما وجود الآخر، کالنّصف والزّوج، وهو تركّب قدرین متساويين، ويختصّ بالعدد، فإذا قيل : أَضْعَفْتُ الشیءَ ، وضَعَّفْتُهُ ، وضَاعَفْتُهُ : ضممت إليه مثله فصاعدا . قال بعضهم : ضَاعَفْتُ أبلغ من ضَعَّفْتُ «1» ، ولهذا قرأ أكثرهم : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ، وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] ، وقال : مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] ، والمُضَاعَفَةُ علی قضيّة هذا القول تقتضي أن يكون عشر أمثالها، وقیل : ضَعَفْتُهُ بالتّخفیف ضَعْفاً ، فهو مَضْعُوفٌ ، فَالضَّعْفُ مصدرٌ ، والضِّعْفُ اسمٌ ، کا لثَّنْيِ والثِّنْيِ ، فَضِعْفُ الشیءِ هو الّذي يُثَنِّيهِ ، ومتی أضيف إلى عدد اقتضی ذلک العدد ومثله، نحو أن يقال : ضِعْفُ العشرةِ ، وضِعْفُ المائةِ ، فذلک عشرون ومائتان بلا خلاف، وعلی هذا قول الشاعر : 293- جزیتک ضِعْفَ الوِدِّ لمّا اشتکيته ... وما إن جزاک الضِّعف من أحد قبلي «3» وإذا قيل : أعطه ضِعْفَيْ واحدٍ ، فإنّ ذلک اقتضی الواحد ومثليه، وذلک ثلاثة، لأن معناه الواحد واللّذان يزاوجانه وذلک ثلاثة، هذا إذا کان الضِّعْفُ مضافا، فأمّا إذا لم يكن مضافا فقلت : الضِّعْفَيْنِ فإنّ ذلك يجري مجری الزّوجین في أنّ كلّ واحد منهما يزاوج الآخر، فيقتضي ذلک اثنین، لأنّ كلّ واحد منهما يُضَاعِفُ الآخرَ ، فلا يخرجان عن الاثنین بخلاف ما إذا أضيف الضِّعْفَانِ إلى واحد فيثلّثهما، نحو : ضِعْفَيِ الواحدِ ، وقوله : فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ، وقوله : لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] ، فقد قيل : أتى باللّفظین علی التأكيد، وقیل : بل المُضَاعَفَةُ من الضَّعْفِ لا من الضِّعْفِ ، والمعنی: ما يعدّونه ضِعْفاً فهو ضَعْفٌ ، أي : نقص، کقوله : وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ [ الروم/ 39] ، وکقوله : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] ، وهذا المعنی أخذه الشاعر فقال : زيادة شيب وهي نقص زيادتي وقوله : فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] ، فإنهم سألوه أن يعذّبهم عذابا بضلالهم، وعذابا بإضلالهم كما أشار إليه بقوله : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] ، وقوله : لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] ، أي : لكلّ منهم ضِعْفُ ما لکم من العذاب، وقیل : أي : لكلّ منهم ومنکم ضِعْفُ ما يرى الآخر، فإنّ من العذاب ظاهرا و باطنا، وكلّ يدرک من الآخر الظاهر دون الباطن فيقدّر أن ليس له العذاب الباطن . ( ض ع ف ) الضعف الضعف ۔ یہ اسمائے متضایقہ سے ہے یعنی وہ الفاظ جو اپنے مفہوم ومعنی کے تحقیق میں ایک دوسرے پر موقوف ہوتے ہیں جیسے نصف وزوج اور ضعف ( دوگنا) کے معنی ہیں ایک چیز کے ساتھ اس کے مثل کامل جانا اور یہ اسم عدد کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور اضعفت الشئی وضعتہ وضاعفتہ کے معنی ہیں کسی چیز کو دو چند کردینا بعض نے کہا ہے کہ ضاعفت ( مفاعلۃ ) میں ضعفت ( تفعیل ) سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ان کو دگنی سزادی جائے گی ۔ اور آیت : ۔ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] اور اگر نیکی ( رکی ) ہوگی تو اس کو دو چند کر دیگا ۔ میں یضاعف ( مفاعلۃ پڑھا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نیکیوں کے دس گناہ ہونے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ آیت : ۔ مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] سے معلوم ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ضعفتہ ضعفا فھوا مضعوف ۔ تخفیف عین کے ساتھ آتا ہے اس صورت میں ضعف مصدر ہوگا اور ضعف اسم جیسا کہ شئی اور شئی ہے اس اعتبار سے ضعف الشئی کے معنی ہیں کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور جس سے وہ چیز دوگنی ہوجائے اور جب اس کی اضافت اسم عدد کی طرف ہو تو اس سے اتنا ہی اور عدد یعنی چند مراد ہوتا ہے لہذا ضعف العشرۃ اور ضعف المابۃ کے معنی بلا اختلاف بیس اور دو سو کے ہوں گے چناچہ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) جز نیتک ضعف الواد لما اشتیتہ وما ان جزاک الضعف من احد قبلی جب تونے محبت کے بارے میں شکایت کی تو میں نے تمہیں دوستی کا دو چند بدلہ دیا اور مجھ سے پہلے کسی نے تمہیں دو چند بد لہ نہیں دیا ۔ اور اعطہ ضعفی واحد کے معنی یہ ہیں کہ اسے سر چند دے دو کیونکہ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہا یک اور اس کے ساتھ دو اور دے دو اور یہ کل تین ہوجاتے ہیں مگر یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب ضعف کا لفظ مضاعف ہو ورنہ بدوں اضافت کے ضعفین کے معنی تو زوجین کی طرح دوگنا ہی ہوں گے ۔ لیکن جب واحد کی طرف مضاف ہوکر آئے تو تین گنا کے معنی ہوتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ایسے لوگوں کو دوگنا بدلہ ملے گا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] تو ان کی آتش جہنم کا دوگنا عذاب دے ۔ میں دوگنا عذاب مراد ہے یعنی دوزخی بار تعالٰ سے مطالیہ کریں گے کہ جن لوگوں نے ہمیں کمراہ کیا تھا انہیں ہم سے دو گناہ عذاب دیا جائے گا ایک تو انکے خود گمراہ ہونے کا اور دوسرے ، ہمیں گمراہ کرنے کا جیسا کہ آیت کریمہ : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] یہ قیامت کے ادن اپنے اعمال کے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے ۔ سے مفہوم ہوتا ہے ۔ پھر اس کے بعد لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] کہہ کر بتایا کہ ان میں سے ہر ایک کو تم سے دگنا عذاب دیا جائے گا ۔ بعض نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ تم اور ان میں سے ہر ایک کو اس سے دگنا عذاب ہور ہا ہے جتنا کہ دوسرے کو نظر آرہا ہے ۔ کیونکہ عذاب دو قسم پر ہے ظاہری اور باطنی ، ظاہری عذاب تو ایک دوسرے کو نظر آئے گا مگر باطنی عذاب کا ادراک نہیں کرسکیں گے اور سمجھیں گے کہ انہی اندرونی طور پر کچھ بھی عذاب نہیں ہورہا ہے ( حالانکہ وہ باطنی عذاب میں بھی مبتلا ہوں گے ۔ اور آیت ؛لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] بڑھ چڑھ کر سود در سود نہ کھاؤ ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اضعافا کے بعد مضاعفۃ کا لفظ بطور تاکید لایا گیا ہے مگر بعض نے کہا ہے کہ مضاعفۃ کا لفظ ضعف ( بفتح الضاد ) سے ہے جس کے معنی کمی کے ہیں پس آیت کے معنی یہ ہیں کہ سود جسے تم افزونی اور بیشی سمجھ رہے ہو یہ ، دراصل بڑھانا نہیں ہے بلکہ کم کرنا ہے جیسے فرمایا : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] کہ اللہ تعالیٰ سود کو کم کرتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی کے پیش نظر شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) (286) زیادۃ شیب وھی نقض زیادتی کہ بڑھاپے کی افرزونی دراصل عمر کی کمی ہے وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ، إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] ، وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ [ الأنبیاء/ 68] ، إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلا غالِبَ لَكُمْ [ آل عمران/ 160] ، وَانْصُرْنا عَلَى الْقَوْمِ الْكافِرِينَ [ البقرة/ 250] ، كانَ حَقًّا عَلَيْنا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ [ الروم/ 47] ، إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنا[ غافر/ 51] ، وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ، فَلَوْلا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ [ الأحقاف/ 28] إلى غير ذلک من الآیات، ونُصْرَةُ اللہ للعبد ظاهرة، ونُصْرَةُ العبد لله هو نصرته لعباده، والقیام بحفظ حدوده، ورعاية عهوده، واعتناق أحكامه، واجتناب نهيه . قال : وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ [ الحدید/ 25] ، إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ [ محمد/ 7] ، كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ [ الصف/ 14] وَالانْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ : طلب النُّصْرَة وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] ، وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] ، وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] ، فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] وإنما قال :«فَانْتَصِرْ» ولم يقل : انْصُرْ تنبيهاً أنّ ما يلحقني يلحقک من حيث إنّي جئتهم بأمرك، فإذا نَصَرْتَنِي فقد انْتَصَرْتَ لنفسک، وَالتَّنَاصُرُ : التَّعاوُن . قال تعالی: ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] ، وَالنَّصَارَى قيل : سُمُّوا بذلک لقوله : كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] ، وقیل : سُمُّوا بذلک انتسابا إلى قرية يقال لها : نَصْرَانَةُ ، فيقال : نَصْرَانِيٌّ ، وجمْعُه نَصَارَى، قال : وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاری الآية [ البقرة/ 113] ، ونُصِرَ أرضُ بني فلان . أي : مُطِرَ «1» ، وذلک أنَّ المطَرَ هو نصرةُ الأرضِ ، ونَصَرْتُ فلاناً : أعطیتُه، إمّا مُسْتعارٌ من نَصْرِ الأرض، أو من العَوْن . ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ [ الأنبیاء/ 68] اور اپنے معبودوں کی مدد کرو ۔ إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلا غالِبَ لَكُمْ [ آل عمران/ 160] اگر خدا تمہارا مدد گار ہے تو کوئی تم پر غالب نہیں آصکتا ۔ وَانْصُرْنا عَلَى الْقَوْمِ الْكافِرِينَ [ البقرة/ 250] اور ( لشکر ) کفار پر فتح یاب کر ۔ كانَ حَقًّا عَلَيْنا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ [ الروم/ 47] اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی ۔ إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنا[ غافر/ 51] ہم پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں ۔ وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مدد گار نہ ہوگا ۔ وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] اور خدا ہی کافی کار ساز اور کافی مدد گار ہے ۔ ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ۔ فَلَوْلا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ [ الأحقاف/ 28] تو جن کو ان لوگوں نے خدا کے سوا معبود بنایا تھا ۔ انہوں نے اس کی کو یں مدد نہ کی ۔ یہ اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں ( نصر ) کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی مدد کر نا کے معیآ تو ظاہر ہیں اور بندہ کے اللہ تعالیٰ کی مدد کرنے سے اس کے بندوں کی مدد حدو الہیٰ کی حفاظت اس کے عہود کی رعایت احکام شریعت کی بجا آوری اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : : ۔ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ [ الحدید/ 25] اور اس لئے کہ جو اس کی مدد کرتے ہیں خدا ن کو معلوم کرلے إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ [ محمد/ 7] ار تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا ۔ كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ [ الصف/ 14] خدا کے مدد گار بن جاؤ لا نتصار والانتنصار کے منعی طلب نصرت کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو مناسب طریقے سے بدلہ لیتے ہیں ۔ وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرتی لا زم ہے ۔ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] اور جس پر ظلم ہوا ہو وہ اگر اس کے بعد انتقام لے ۔ فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ ( بار الہ میں ان کے مقابلے میں کمزور ہوں ان سے ) بدلہ لے ۔ میں انصر کی بجائے انتصر کہنے سے بات پر متنبہ کیا ہے کہ جو تکلیف مجھے پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ذات باری تعالیٰ پہنچ رہی ہے وہ گویا تجھے ( ذات باری تعا لی پہنچ رہی ہے کیو ن کہ میں تیرے حکم سے ان کے پاس گیا تھا لہذا میری مدد فر مانا گو یا یا تیرا اپنی ذات کے لئے انتقام لینا ہے ۔ لتنا صر کے معنی باہم تعاون کرنے کے ہیں ۔ چنا نچہ قرآن میں ہے : ما لَكُمْ لا تَناصَرُونَ [ الصافات/ 25] تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ۔ اور بعض کے نزدیک عیسائیوں کو بھی نصاری اس لئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے نحن انصار اللہ کا نعرہ لگا دیا تھا ۔ چناچہ قران میں ہے : ۔ كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مر یم نے حواریوں سے کہا بھلا کون ہے جو خدا کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں تو حوراریوں نے کہا ہم خدا کے مددگار ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نصرانی کی جمع ہے جو نصران ( قریہ کا نام ) کی طرف منسوب ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاریالآية [ البقرة/ 113] یہود کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں ۔ نصر ارض بنی فلان کے معنی بارش بر سنے کے ہیں کیونکہ بارش سے بھی زمین کی مدد ہوتی ہے اور نصرت فلانا جس کے معنی کسی کو کچھ دینے کے ہیں یہ یا تو نصر الارض سے مشتق ہے اور یا نصر بمعنی عون سے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥) اور اگر آپ کو ان کے مطالبہ کے موافق ان کی طرف میلان اور رجحان ہوجاتا تو ہم آپ کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دوہرا عذاب چکھاتے، پھر آپ کوئی مددگار بھی نہ پاتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٥ (اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ) اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی ” رب تو آخر رب ہے جتنا بھی تنزل فرما لے اور بندہ بہر حال بندہ ہی ہے جس قدر بھی ترقی پالے ! “ (ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا) آیت کا مضمون بہت نازک ہے۔ بہر حال میں نے الفاظ کے مطابق ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن موقع محل اور سیاق وسباق کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اصل مفہوم کو دقت نظری سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ خطاب نبی اکرم سے ہے مگر سختی کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے آپ کے مقابلے میں ایسے حالات پیدا کر رکھے تھے۔ ان الفاظ میں ان لوگوں کو سنایا جا رہا ہے کہ بد بختو ! تم جو چاہو کرلو ہمارے نبی تمہارے اس دباؤ میں آکر تمہارے مطالبات ماننے والے نہیں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

88. This review implies two things: (1) If you had compromised with falsehood after recognizing the truth, you might have pleased your degenerate people but would have incurred the wrath of Allah and would have received double chastisement both in this world and in the Hereafter. (2) No man, not even a Messenger of Allah, can fight singlehanded against the deceitful methods of falsehood, unless he receives the succor of Allah. It was the fortitude which Allah had bestowed upon the Prophet (peace be upon him), which helped him to retrain steadfast on the right position he had taken, so that no persecution, howsoever great, could turn him away in the least from that position.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :88 اللہ تعالی اس ساری روداد پر تبصرہ کرتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرماتا ہے ۔ ایک یہ کہ اگر تم حق کو حق جان لینے کے بعد باطل سے کوئی سمجھوتہ کر لیتے تو یہ بگڑی ہوئی قوم تو ضرور تم سے خوش ہو جاتی ، مگر خدا کا غضب تم پر بھڑک اٹھتا اور تمہیں دنیا و آخرت ، دونوں میں دہری سزا دی جاتی ۔ دوسرے یہ کہ انسان خواہ وہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو ، خود اپنے بل بوتے پر باطل کے ان طوفانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق شامل حال نہ ہو ۔ یہ سراسر اللہ کا بخشا ہوا صبر ثبات تھا جس کی بدولت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حق و صداقت کے مؤقف پر پہاڑ کی طرح جمے رہے اور کوئی سیلاب بلا آپ کو بال برابر بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

41: آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے گناہوں سے معصوم بنایا تھا، جس کی بنا پر آپ ہر موقع پر ثابت قدم رہے، اگرچہ آپ سے کافروں کی بات ماننے کا دور دور احتمال نہیں تھا، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے بھی فرضی نافرمانی کی صورت میں سزا کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح فرمادی کہ کسی بھی شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب ہونے کا اصل مدار اس کے اعمال پر ہے، اور کوئی شخص کتنا ہی مقرب ہو اگر گناہ کا ارتکاب کرے گا تو سزا کا مستحق ہوگا ؛ بلکہ مقرب ہونے کی وجہ سے اسے دگنی سزا دی جائے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:75) اذا۔ تب ۔ اس وقت۔ اس صورت میں۔ لاذقنک۔ لام تاکید کے لئے ہے اذقنا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے چکھایا۔ ک ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تجھے ضرور چکھاتے۔ ضعف الحیوۃ وضعف الممات۔ اصل کلام یہ تھا۔ لا ذقنک عذابا ضعفا فی الحیوۃ الدنیا ضعفا فی المماۃ۔ پھر موصوف کو حذف کر کے اس کی جگہ صفت کو قائم رکھا۔ یعنی الضعف پھر موصوف کی اضافت صفت کو دی اور الحیوۃ کا مضاف ہو کر ضعف الحیوۃ بن گیا۔ اسی طرح ضعف المماۃ یعنی دوگنا عذاب دنیا ودوگنا عذاب بعد از موت۔ لک۔ تیرے اپنے لئے ۔ علینا ہمارے مقابلہ میں (پھر آپ اپنے لئے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اس لئے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے۔ چناچہ ازواج مطہرات کے متعلق سورة احزاب :30 میں ہے۔ یضاعف لھا العذاب فعفین یعنی کھلی برائی کا ارتکاب کرنے پر اسے دہری سزا دی جائے گی۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مگر چونکہ آپ کو معصوم اور ثابت قدم بنایا اس لئے کسی قدر میلان بھی نہیں ہوا اور ضعف الحیاة و ضعف المماة سے بھی بچ گئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

75 اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوجاتا کہ آپ کو ان کی خواہش پوا کرنے کا ادنیٰ سا میلان بھی ہوجاتا تو ہم آپ کو اس وقت حالت حیات میں بھی اور آپ کی وفات اور مرنے کے بعد بھی دوہرے عذاب کا اور سزا کا مزہ چکھاتے ۔ مزید برآں یہ کہ پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کسی کو اپنا مددگار بھی نہ پاتے۔ یعنی اس کی نوبت ہی نہ آتی چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا ہے اور ہر امتحان میں آپ کو ثابت قدم رکھا ہے۔ اس وجہ سے آپ کو میلان سے بھی بچایا اور میلان پر متفرع ہونے والی سزا سے بھی محفوظ رکھا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد بھی آپ کے شامل حال رہی دوگنی سزا یعنی آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے اس لئے بھی مرتبہ کے موافق دی جاتی۔ ” بعد الممات “ کا مطلب یہ کہ عالم برزخ میں یا قیامت میں یعنی ادنیٰ میلان تو کیسا وسوسہ کے درجہ میں بھی کوئی چیز متحقق نہیں ہوئی۔ الحمد اللہ علی احسانہ