Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 77

سورة بنی اسراءیل

سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ﴿۷۷﴾٪  8

[That is Our] established way for those We had sent before you of Our messengers; and you will not find in Our way any alteration.

ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردو بدل نہ پائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Sunnah with which We sentOur Messengers before you and you will not find any alteration in Our Sunnah. meaning this is what We usually do to those who reject Our Messengers and persecute them by driving the Messenger out from among themselves - the punishment comes to them. If it were not for the fact that the Prophet was the Messenger of Mercy, vengeance would have come upon them such as had never been seen before in this world. So Allah says: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ And Allah would not punish them while you are among them. (8:33)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

77۔ 1 یعنی یہ دستور پرانا چلا آرہا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں کے لئے بھی برتا جاتا رہا ہے کہ جب ان قوموں نے انھیں اپنے وطن سے نکال دیا یا انھیں نکلنے پر مجبور کردیا تو پھر وہ قومیں بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ رہیں۔ 77۔ 2 چناچہ اہل مکہ کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ رسول اللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد ہی میدان بدر میں وہ عبرت ناک ذلت و شکست سے دو چار ہوئے اور چھ سال بعد 8 ہجری میں مکہ ہی فتح ہوگیا اور اس ذلت و ہزیمیت کے بعد وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٥] عذاب کے متعلق اللہ کی سنت :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ جب تک کسی نافرمان قوم میں اللہ کا نبی موجود رہے اس وقت تک اس پر عذاب نہیں آتا۔ اور جب عذاب مقدر ہوجائے تو نبی کو وہاں سے نکال لیا جاتا ہے یا ہجرت کرنے کا حکم دے دیا جاتا ہے اور جب نبی نکل جاتا ہے تو پھر عذاب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اس قوم پر عذاب نازل کرکے اس قوم کو تباہ کردے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے ہاتھوں اس سرکش قوم کو پٹوا دے۔ جن کو ان مجرموں نے ہجرت پر مجبور کردیا تھا یا ان کے بجائے کسی دوسری قوم سے انھیں سزا دلوا دے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ ۔۔ : یعنی پہلے رسولوں کے زمانے میں بھی ہمارا یہ طریقہ رہا کہ جوں ہی ان کی قوم نے انھیں نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہوگئی، البتہ مکہ میں چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہجرت کرنے کے بعد بھی کئی مسلمان موجود تھے جو استغفار کرتے تھے اور بعض کفار اور ان کی آئندہ اولاد کے مسلمان ہونے کی امید تھی، اس لیے مکہ کو پہلی قوموں کی بستیوں کی طرح تباہ نہیں کیا گیا۔ دیکھیے سورة فتح (٢٥) اور انفال (٣٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The last verse (77): سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْ‌سَلْنَا (Such has been Our way with the mes¬sengers We sent ...) tells us that, according to the customary way and law of Allah Ta` ala, when a people expel their prophet from his home-land, or compel him to leave by scaring and harassing, then, those peo¬ple too are not left to continue living there. They are visited by the pun¬ishment of Allah Ta’ ala.

(آیت) سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا اس آیت میں بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عام سنت اور قاعدہ پہلے سے یہی چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی کو اس کے وطن سے نکالتی یا نکالنے پر مجبور کرتی ہے تو پھر وہ قوم بھی وہاں باقی نہیں رکھی جاتی اس پر خدا تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا 77؀ۧ سنن وتنحّ عن سَنَنِ الطّريق، وسُنَنِهِ وسِنَنِهِ ، فالسُّنَنُ : جمع سُنَّةٍ ، وسُنَّةُ الوجه : طریقته، وسُنَّةُ النّبيّ : طریقته التي کان يتحرّاها، وسُنَّةُ اللہ تعالی: قد تقال لطریقة حکمته، وطریقة طاعته، نحو : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23] ، وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] ، فتنبيه أنّ فروع الشّرائع۔ وإن اختلفت صورها۔ فالغرض المقصود منها لا يختلف ولا يتبدّل، وهو تطهير النّفس، وترشیحها للوصول إلى ثواب اللہ تعالیٰ وجواره، وقوله : مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] ، قيل : متغيّر، وقوله : لَمْ يَتَسَنَّهْ [ البقرة/ 259] ، معناه : لم يتغيّر، والهاء للاستراحة «1» . سنن تنح عن سنن الطریق ( بسین مثلثہ ) راستہ کے کھلے حصہ سے مٹ ج اور ۔ پس سنن کا لفظ سنۃ کی جمع ہے اور سنۃ الوجہ کے معنی دائرہ رد کے ہیں اور سنۃ النبی سے مراد آنحضرت کا وہ طریقہ ہے جسے آپ اختیار فرماتے تھے ۔ اور سنۃ اللہ سے مراد حق تعالیٰ کی حکمت اور اطاعت کا طریقہ مراد ہوتا ہے جیسے فرمایا : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23]( یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے ۔ تو آیت میں اس بات پر تنبیہ پائی جاتی ہے ۔ کہ شرائع کے فروغی احکام کی گو مختلف صورتیں چلی آئی ہیں ۔ لیکن ان سب سے مقصد ایک ہی ہے ۔ یعنی نفس کو پاکر کرنا اور اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب اور اس کا جوار حاصل کرنے کے لئے تیار کرنا اور یہ مقصد ایسا ہے کہ اس میں اختلاف یا تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ اور آیت : مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] سڑے ہوئے گارے سے ۔ رسل والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ حول أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] ( ح ول ) & الحوال ( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونا کے ہیں ۔ معنی تغییر کے اعتبار سے حال الشئی یحول حوولا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کی شے کے متغیر ہونیکے ہیں ۔ اور استحال کے معنی تغیر پذیر ہونے کے لئے مستعد ہونے کے اور معنی انفصال کے اعتبار سے حال بینی وبینک کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی ۔ اور آیت کریمہ :۔ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] اور جان رکھو کہ خدا آدمی اسکے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٧) جیسا کہ ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کی قوموں کو ہلاک کیا جب کہ اپنے رسولوں کو انہوں نے اپنے درمیان سے نکال دیا اور آپ ہمارے اس عذاب میں کوئی تبدیلی نہ پاتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٧ (سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا) یعنی آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان کے بارے میں ہمارا قاعدہ اور قانون یہی رہا ہے کہ رسول کی ہجرت کے بعد متعلقہ قوم پر سے اللہ کی امان اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے بعد وہ قوم بہت جلد عذاب کی گرفت میں آجاتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

90. That is, this is how Allah has always dealt with the people who killed or exiled His Messengers. They never survived in the land after this. They were either annihilated by the scourge of Allah or were brought under the sway of an enemy or were subdued by the followers of the Messenger.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :90 یعنی سارے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ جس قوم نے ان کو قتل یا جلا وطن کیا ، پھر وہ زیادہ دیر تک اپنی جگہ نہ ٹھیر سکی ۔ پھر یا تو خدا کے عذاب نے اسے ہلاک کیا ، یا کسی دشمن قوم کو اس پر مسلط کیا گیا ، یا خود اسی نبی کے پیروؤں سے اس کو مغلوب کرا دیا گیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:77) سنۃ۔ طریقہ جاریہ۔ راہ ۔ رسم۔ دستور۔ سنۃ بوجہ مصدر تاکیدی کے منصوب ہے یعنی سن اللہ ذلک سنۃ۔۔ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا۔ جن کو ہم نے تم سے قبل رسول بنا کر بھیجا۔ یہ جملہ سنۃ کا مضاف الیہ ہے سنۃ مضاف ہے اس کی اضافت رسل کی طرف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دستور الٰہی ان رسولوں کی کا طرہی تھا۔ ولا تجد لسنتنا تحویلا اور ہمارے دستور میں آپ کوئی ردوبدل نہیں پائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 جونہی ان کی قوم نے ان کو نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہوگئی (ابن کثیر (رح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ کہ جب ان کی قوم نے ان کو وطن سے نکالا تو خود ان کو بھی رہنا نصیب نہ ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا ولا تحد لسنتنا تحویلا (٧١ : ٧٧) ” یہ ہمارا مستقبل طریق کار ہے جو ان سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پائو گے “۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اٹل قانون بنایا ہے کہ جو قوم رسول کو ملک بدر کردیتی ہے اللہ اے نیست و نابود کردیتا ہے۔ کیونکہ رسولوں کا ملک بدر کرنا اس قدر بڑا جرم ہے کہ اسے سرزنش کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ اللہ کی اس کائنات کو اس کے اٹل قوانیں اور سنن چلا رہے ہیں اور لوگوں کے انفرادی اعمال کا اس میں کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ کائنات محض اتفاقات کے مطابق نہیں چل رہی ہے کہ کچھ واقعات ہوجائیں اور گزر جائیں اور یہ کائنات یونہی چل رہی ہو۔ بلکہ اس کائنات کو اللہ کے اٹل قوانین کنٹرول کرتے ہیں۔ چونکہ عالم بالا میں ، بعض حکمتوں کی بنا پر یہ طے تھا کہ قریش کو بلاک اور نیست و نابود نہیں کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو طبیعی خوارق عادت معجزات نہیں دیے اور نہ قریش کو ہمت دی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زبردستی یا حالات سے مجبور کر کے مکہ سے نکال دیں بلکہ بذریعہ وحی حکم دیا کہ آپ اس آبادی کو خود ہی چھوڑ دیں۔ یوں اللہ کی سنت جاری وساری رہی۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے لو لگائے رکھیں ، اللہ سے نصرت اور معاونت طلب کرتے رہے اور جس راہ کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنایا ہے اس پر چلتے رہیں۔ حق کا بول بالا ہوگا اور باطل مغلوب اور زائل ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(سُنَّۃ مَنْ اَرْسَلْنَا) یہ مصدریت کی بنا پر منصوب ہے یعنی سننا سنۃ من قد ارسلنا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آپ کو نکال دیتے تو ہم انہیں ہلاک کردیتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجے تھے ان کے بارے میں ہمارا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب ان کی امتوں نے نکال دیا تو پھر امتیں بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں تھوڑے سے وقفے کے بعد ہی ہلاک کردی گئیں۔ (وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا) (اور آپ ہمارے طریقہ میں تغیر نہ پائیں گے) اپنی مخلوق کے بارے میں جو طریقے ہم نے جاری کیے ہیں انہیں کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

69:۔ ” سنۃ “ منصوب ہے اور سَنَّ مقدر کا مفعول مطلق ہے یعن مشرکین مکہ سے اللہ تعالیٰ وہی سلوک کریگا جو اس نے پہلی امتوں سے کیا ہے۔ ای سن اللہ سنۃ والمعنی ان کل قوم اخرجوا رسولھم من بین اظھرھم فسنۃ اللہ ان یھلکھم بعد اخراجہ ویستاصلھم ولا یقیمون بعدہ الا قلیلا (بحر ج 6 ص 67) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

77 اسی جیسا دستور اور قاعدہ ان حضرات انبیاء کے بارے میں رہا ہے جن کو ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر بھیجا تھا اور آپ ہمارے اس دستور اور قاعدے میں کوئی تغیر اور تفاوت نہ پائیں گے۔ قاعدہ یہی کہ جب کس بستی کے لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا تو ان بستی والوں کو بھی تھوڑے دنوں سے زیادہ بستی میں رہنا نصیب نہ ہو۔