Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 80

سورة بنی اسراءیل

وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا ﴿۸۰﴾

And say, "My Lord, cause me to enter a sound entrance and to exit a sound exit and grant me from Yourself a supporting authority."

اور دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لئے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما دے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to emigrate Imam Ahmad recorded that Ibn Abbas said: The Prophet was in Makkah, then he was commanded to emigrate, and Allah revealed the words: وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا And say: "My Lord! Let my entry be good, and (likewise) my exit be good. And grant me from You a helping authority." At-Tirmidhi said, "This is Hasan Sahih." Al-Hasan Al-Basri commented on this Ayah, "When the disbelievers of Makkah conspired to kill the Messenger of Allah , or expel him or imprison him, Allah wanted him to fight the people of Makkah, and commanded him to go to Al-Madinah. What Allah said was: وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ ... And say: "My Lord! Let my entry be good, and (likewise) my exit be good..." وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ ... And say: "My Lord! Let my entry be good..." means, my entry to Al-Madinah. ... وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ ... and (likewise) my exit be good, means, my exit from Makkah. This was also the view of Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. ... وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا And grant me from You a helping authority. Al-Hasan Al-Basri explained this Ayah; "His Lord promised to take away the kingdom and glory of Persia and give it to him, and the kingdom and glory of Byzantium and give it to him." Qatadah said, "The Prophet of Allah knew that that he could not achieve this without authority or power, so he asked for authority to help him support the Book of Allah, the Laws of Allah, the obligations of Allah and to establish the religion of Allah. Authority is a mercy from Allah which He places among His servants, otherwise some of them would attack others, and the strong would consume the weak." Alongside the truth, he also needed power and authority in order to suppress those who opposed and resisted him, hence Allah said: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزْلْنَا الْحَدِيدَ Indeed We have sent Our Messengers with clear proofs, and revealed with them the Scripture and the Mizan that mankind may keep up justice. And We brought forth iron... (57:25) A Threat to the Disbelievers of the Quraysh

حکم ہجرت مسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری ۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ کو قتل کر دیں یا نکال دیں یا قید کرلیں پس اللہ کیا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے ۔ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے جانے کا حکم فرمایا ۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ھے ۔ قتادہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں مدینے میں داخل ہونا اور مکے سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے اور اقوال بھی ہیں لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے ۔ امام ابن جریر بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں پھر حکم ہوا کہ غلبے اور مدد کی دعا ہم سے کرو ۔ اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فارس اور روم کا ملک اور عزت دینے کا وعدہ فرما لیا اتنا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کر چکے تھے کہ بغیر غلبے کے دین کی اشاعت اور زور ناممکن ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے مدد و غلبہ طلب کیا تاکہ کتاب اللہ اور حدود اللہ ، فرائض شرع اور قیام دین آپ کر سکیں یہ غلب بھی اللہ کی ایک زبردست رحمت ہے ۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ایک دوسرے کو کھا جاتا ۔ ہر زور اور کمزور کا شکار کر لیتا ۔ سلطنا نصیرا سے مراد کھلی دلیل بھی ہے لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے اس لئے کہ حق کے ساتھ غلبہ اور طاقت بھی ضروری چیز ہے تاکہ مخالفین حق دبے رہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے لوہے کے اتارنے کے احسان کو قرآن میں خاص طور پر ذکر کیا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ سلطنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہت سی برائیوں کو روک دیتا ہے جو صرف قرآن سے نہیں رک سکتی تھیں ۔ یہ بالکل واقعہ ہے بہت سے لوگ ہیں کہ قرآن کی نصیحتیں اس کے وعدے وعید ان کو بدکاریوں سے نہیں ہٹا سکتے ۔ لیکن اسلامی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ برائیوں سے رک جاتے ہیں پھر کافروں کی گوشمالی کی جاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے حق آ چکا ۔ سچائی اتر آئی ، جس میں کوئی شک شبہ نہیں ، قرآن ایمان نفع دینے والا سچا علم منجانب اللہ آ گیا ، کفر برباد و غارت اور بےنام و نشان ہو گیا ، وہ حق کے مقابلہ میں بےدست و پاثابت ہوا ، حق نے باطل کا دماغ پاش پاش کر دیا اور نابود اور بےوجود ہو گیا ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں آئے بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے ، آپ اپنے ہاتھ کی لکڑی سے انہیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت پڑھتے تھے اور فرماتے جاتے تھے حق آ چکا باطل نہ دوبارہ آ سکتا ہے نہ لوٹ سکتا ہے ۔ ابو یعلی میں ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے میں آئے ، بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے ، جن کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی آپ نے فورا حکم دیا کا ان سب کو اوندھے منہ گرا دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

80۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی جب آپ کو مدینے میں داخل ہونے اور مکہ سے نکلنے کا مسئلہ درپیش تھا، بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں مجھے سچائی کے ساتھ موت دینا اور سچائی کے ساتھ قیامت والے دن اٹھانا۔ بعض کہتے ہیں کہ مجھے قبر میں سچا داخل کرنا اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھائے تو سچائی کے ساتھ قبر سے نکالنا وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ دعا ہے اس لئے اس کے عموم میں سب باتیں آجاتی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠١] اس آیت میں آپ کی ہجرت کی طرف واضح اشارہ ہے جو اس آیت کے نزول کے تقریباً ایک سال بعد واقع ہونے والی تھی اور جو دعا آپ کو سکھائی گئی وہ یہ تھی کہ یا اللہ ایسی صورت پیدا فرما کہ میں جہاں بھی جاؤں حق و صداقت کی خاطر جاؤں اور جہاں سے نکلوں (مثلاً مکہ سے) تو حق و صداقت ہی کی خاطر نکلوں یا یہ مطلب ہے کہ جہاں مجھے پہنچانا ہے نہایت آبرو اور خوش اسلوبی کے ساتھ مجھے وہاں لے جا کہ حق و صداقت کا بول بالا رہے اور جہاں سے مجھے نکالنا ہے تو اس وقت بھی آبرو اور خوش اسلوبی سے نکال کہ دشمن ذلیل و خوار اور دوست شاداں وفرحاں ہوں، سچائی کی فتح ہو اور باطل سرنگوں ہو۔ [١٠٢] دین کے نفاذ کے لئے اقتدار کی ضرورت :۔ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ مجھے خود ایسا اقتدار اور حکومت عطا فرما جس میں تیری مدد اور نصرت شامل حال ہو۔ دوسرا یہ کہ کسی اقتدار یا حکومت کے دل میں یہ بات ڈال دے کہ وہ میرے اس کام یعنی دین حق کی سربلندی کے لیے میرا مددگار ثابت ہو۔ اس آیت سے دو باتیں ضمناً معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ دین حق کے نفاذ کے لیے اقتدار اور غلبہ ضروری ہے محض پندو نصائح سے لاتوں کے بھوت کبھی نہ راہ راست پر آسکتے ہیں اور نہ اپنی معاندانہ سرگرمیاں چھوڑنے پر تیار ہوتے ہیں۔ اور ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ سمجھانے کے بعد ڈنڈے کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ لہذا اقامت دین کے لیے دعوت دین کے علاوہ غلبہ و اقتدار کے لیے کوشش کرنا بھی ویسا ہی ضروری ہے۔ طلب امارت کن صورتوں میں ناجائز ہے ؟ اور دوسری یہ کہ طلب امارت جسے شریعت نے مذموم قرار دیا ہے صرف اس صورت میں مذموم ہے جبکہ اس سے مقصود محض حصول مال و جاہ ہو۔ اور اگر اس سے مقصود اقامت دین ہو تو ایسے اقتدار کے حصول کی کوشش مذموم تو درکنار، فرض کفایہ ہے اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ کسی موزوں تر آدمی کو برسر اقتدار لانے کی کوشش کرے اور اگر وہ خود ہی موزوں تر ہو اور کوئی دوسرا آدمی اس غرض کے لیے مل نہ رہا ہو تو خود اپنے لیے بھی حصول اقتدار کی کوشش ضروری ہوتی ہے۔ (نیز دیکھئے سورة یوسف آیت نمبر ٥٥ کا حاشیہ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ہر امتی کو یہ دعا سکھائی کہ اے میرے رب ! تو مجھے دنیا و آخرت میں جس جگہ بھی داخل کرے باعزت اور آبرو مندانہ طریقے سے داخل کر اور جس جگہ سے بھی نکالے باعزت طریقے سے نکال اور میرے لیے دلیل وبرہان کے ساتھ قوت و سلطنت کا ایسا غلبہ عطا فرما جو میرا مددگار ہو۔ دلیل کے غلبے کے لیے دعوت اور سلطنت کے غلبے کے لیے جہاد ضروری ہے، جس کا پہلا قدم دار الکفر سے ہجرت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت کا حکم دیا گیا، چناچہ یہ دعا قبول ہوئی اور آپ آبرو مندانہ طور پر مدینہ وارد ہوئے، انصار سے اور مہاجرین سے دین کی مدد بھی ہوئی۔ ” سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا “ سے اس آیت میں مراد قوت و سلطنت کا غلبہ ہے، کیونکہ دلیل وبرہان میں تو آپ مکہ میں بھی ہر وقت غالب تھے۔ کوئی شخص سورة کوثر جیسی ایک سورت بھی نہ بنا سکا تھا، اب عناد اور ضد سے اکڑی ہوئی گردنوں کے لیے جہاد کی ضرورت تھی، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے ساتھ ساتھ لوہا بھی نازل فرمایا۔ دیکھیے سورة حدید (٢٥) کی تفسیر۔ اہل حق کے لیے حق سے دشمنی رکھنے والوں پر غلبہ حاصل کرنا فرض ہے، تب ہی وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرسکتے ہیں اور اپنی سلطنت ہی میں وہ پورے اسلام پر عمل کرسکتے ہیں جو اب صرف مسجد، نکاح اور جنازے وغیرہ تک رہ گیا ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا : ” إِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بالسُّلْطَانِ مَا لَا یَزَعُ بالْقُرْآنِ “ ” اللہ تعالیٰ سلطان کے ذریعے سے ان فواحش اور گناہوں سے روک دیتا ہے جن کے ارتکاب سے بہت سے لوگ قرآن سننے کے باوجود باز نہیں آتے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It has been reported in al-Jami` of Tirmidhi from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was in Makkah al-Mu` azzamah. Then, he was commanded to migrate to Madinah. Thereupon, this verse was revealed: وَقُل رَّ‌بِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِ‌جْنِي مُخْرَ‌جَ صِدْقٍ (And say, |"0 my Lord, make me enter a rightful entrance and make me exit a rightful exit - so). Here, the word: مُدخَل (mudkhal) and مُخرَج (mukhraj) meaning the place of entry and the place of exit are اِسمَ ظرف (ism-al-zarf: the noun of place and time). The addition of the attribute (na&t) of صِدق :sidq (translated as rightful) releases the sense of such entry and exit being totally true to the will and pleasure of Allah and in the best of attending circum¬stances, because the word: صِدق to (sidq) is also used in the Arabic language for every such act as is correct and better both outwardly and inwardly. The words: قَدَمَ صِدْقٍ (Yunus 10:2), لِسَانَ صِدْقٍ (ash-Shu` ara 26:84) and مَقْعَدِ صِدْقٍ (al-Qamar 54:55) have been used in the Holy Qur&an in that very sense. &Entrance& means &Madinah& and the place of exit denotes &Makkah.& The sense takes the form of a prayer: 0 Allah, may my entry into Madin¬ah turn out to be good and smooth, without having to face anything un¬pleasant and unwelcome on arrival there. And may my exit from Mak¬kah be good and smooth, without being entangled in love of country and home.& There are other exegetic statements too which explain this verse. But, this particular explanation has been reported from Hasan al-Basri (رح) and Qatadah. Ibn Kathir calls it &the most sound statement.& Ibn Jarir too has gone by it. As for the order, it required that the &exit& should have been mentioned first while the &entrance,& later. But, the precedence of &entrance& and the succession of &exit& is there, perhaps, to indicate that the exit from Makkah had no purpose of its own, in fact, parting from the Baytullah was extremely shocking. But, there was a purpose - to look for peace, for Islam and Muslims - something that could be hoped for through the entry in Madinah. Therefore, the objective to be achieved was made to come first. A prayer for important objectives At the time of his migration to Madinah, Allah Ta’ ala asked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to make this dua& which pleaded with Him that his exit from Makkah and then the arrival in Madinah should both be good and smooth in all possible ways. It was the outcome of this prayer that, though he was within the striking range of the pursuing disbelievers at the time of Hijrah, yet Allah Ta’ ala shielded him at every step and final¬ly made Madinah al-Tayyibah good and promising for him and for all Muslims, both outwardly and inwardly. Therefore, some ` Ulama& have said that every Muslim should remember to make this prayer at the beginning of all objectives they wish to pursue and that this prayer is bene¬ficial for all objectives and purposes. The sentence which complements this very prayer appears next: وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرً‌ا |"and grant me from Your Own a power favoured (by You).|" Qatadah, the great tabi` i says: the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) knew that fulfilling his functional duties as a prophet and working while besieged by enemies were challenges he could not handle personally. Therefore, He prayed to Allah Ta’ ala for help and the power to subdue. The prayer was answered and everyone saw its effects.

(آیت) وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ الآیہ سابقہ آیات میں اول کفار مکہ کی ایذاؤں اور ان تدبیروں کا ذکر تھا جو وہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہونچانے کے لئے کرتے تھے اس کے ساتھ یہ بھی مذکور ہوا کہ ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہوں گی اور ان کے مقابلہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اصل تدبیر کے درجہ میں تو صرف پنجگانہ نماز قائم کرنے اور تہجد گذاری کی تلقین فرمائی اس کے بعد آخرت میں آپ کو سب انبیاء سے اعلیٰ مقام یعنی مقام محمود عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا جو آخرت میں پورا ہوگا مذکورہ آیت وَقُلْ رَّبِّ میں حق تعالیٰ نے اسی دنیا میں اول آپ کو کفار کے مکائد اور ایذاؤں سے نجات دینے کی تدبیر بصورت ہجرت مدینہ ارشاد فرمائی اور اس کے بعد فتح مکہ کی بشارت وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ میں ارشاد فرمائی گئی۔ جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ معظمہ میں تھے پھر آپ کو ہجرت مدینہ کا حکم دیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ اس میں لفظ مُدْخَلَ اور مُخْــرَجَ داخل ہونے اور خاج ہونے کی جگہ میں اسم ظرف ہے اور ان کے ساتھ صفت صدق بڑھانے سے مراد یہ ہے کہ یہ نکلنا اور داخل ہونا سب اللہ کی مرضی کے مطابق خیر و خوبی کے ساتھ ہو کیونکہ لفظ صدق عربی زبان میں ہر ایسے فعل کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو ظاہرا اور باطنا درست اور بہتر ہو قرآن کریم میں قدم صدق اور لسان صدق اور مقعد صدق کے الفاظ اسی معنی میں استعمال ہوئے ہیں داخل ہونے کی جگہ سے مراد مدینہ اور خارج ہونے کی جگہ سے مراد مکہ ہے مطلب یہ ہے کہ یا اللہ مدینہ میں میرا داخلہ خیر و خوبی کے ساتھ ہوجائے وہاں کوئی خلاف طبع اور ناگوار صورت پیش نہ آئے اور مکہ مکرمہ سے میرا نکلنا خیر و خوبی کے ساتھ ہوجائے کہ وطن اور گھر بار کی محبت میں دل الجھا نہ رہے اس آیت کی تفسیر میں کچھ اور اقوال بھی آئے ہیں مگر یہ تفسیر حضرت حسن بصری اور قتادہ سے منقول ہے ابن کثیر نے اسی کو اصح الاقوال کہا ہے ابن جریر نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے ترتیب کا تقاضہ یہ تھا کہ پہلے مخرج پھر مدخل کا ذکر ہوتا مگر یہاں مدخل کو مقدم اور مخرج کو مؤ خر کرنے میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ مکہ مکرمہ سے نکلنا خود کوئی مقصد نہ تھا بلکہ بیت اللہ کو چھوڑنا انتہائی صدمہ کی چیز تھی البتہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے مامن تلاش کرنا مقصد تھا جو داخلہ مدینہ کی ذریعہ حاصل ہونے کی امید تھی اس لئے جو مقصد تھا اس کو مقدم رکھا گیا۔ فائدہ : مہم مقاصد کے لئے مقبول دعا : ہجرت مدینہ کے وقت حق تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس دعاء کی تلقین فرمائی کہ مکہ سے نکلنا اور پھر مدینہ پہنچنا دونوں خیر و خوبی اور عافیت کے ساتھ ہوں اسی دعاء کا ثمرہ تھا کہ ہجرت کے وقت تعاقب کرنے والے کفار کی زد سے اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر بچایا اور مدینہ طیبہ کو ظاہرا و باطنا آپ کے اور سب مسلمانوں کے لئے سازگار بنایا اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ یہ دعاء ہر مسلمان کو اپنے تمام مقاصد کے شروع میں یاد رکھنا چاہئے اور ہر مقصد کے لئے یہ دعاء مفید ہے اسی دعا کا تکملہ بعد کا جملہ ہے واجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ معلوم تھا کہ منصب رسالت کے فرائض کی ادائیگی اور دشمنوں کے نرغے میں کام کرنا اپنے بس کا نہیں اس لئے حق تعالیٰ سے غلبہ اور نصرت کی ادائیگی اور دشمنوں کے نرغے میں کام کرنا اپنے بس کا نہیں اس لئے حق تعالیٰ سے غلبہ اور نصرت کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور اس کے آثار سب کے سامنے آگئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا 80؀ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٠) اور آپ یوں دعا کیا کیجیے کہ اے میرے پروردگار مجھے مدینہ منورہ میں اچھے طریقے سے داخل کیجیے، اس وقت آپ مدینہ منورہ میں نہیں تھے اور جب میں مدینہ منورہ میں ہوں تو مجھے وہاں سے اچھے طریقے سے لے جائیے اور مکہ مکرمہ میں داخل کیجیے یا یہ کہ مجھے قبر میں خوبی اور راحت کے ساتھ پہنچائیے اور قیامت کے دن قبر سے خوبی و راحت کے ساتھ نکالیے اور مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ اور قوت عطا کیجیے، جس میں کسی قسم کی کوئی کمی اور نہ کسی کے قول کی تردید ہو۔ شان نزول : (آیت ) ”۔ وقل رب ادخلنی مدخل صدقہ “۔ (الخ) امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا، تب آپ پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، یعنی اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے رب مجھے اچھے طریقے سے پہنچائیے اور مجھے اچھے طریقے سے لے جائیے اور مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجیے جس کے ساتھ نصرت ہو یہ روایت اس چیز کے بیان کرنے میں صاف ہے کہ یہ آیت کریمہ مکی ہے اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے زیادہ واضح الفاظ کے ساتھ روایت نقل کی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ ) یہ ہجرت کی دعا ہے۔ جب ہجرت کا اذن آیا تو ساتھ ہی یہ دعا بھی تعلیم فرما دی گئی کہ اے اللہ ! تو مجھے جہاں بھی داخل فرمائے یعنی یثرب (مدینہ) میں عزت و تکریم کے ساتھ داخل فرما وہاں پر میرا داخلہ سچا داخلہ ہو اور یہاں مکہ سے مجھے نکالنا ہے تو باعزت طریقے سے نکال۔ یاد کیجیے کہ سورة یونس کی آیت ٩٣ میں بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا کیے جانے کا ذکر بھی ” مُبَوَّاَ صِدْقٍ “ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ (وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا) یعنی مدینہ میں جس نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اس میں اپنے دین کے غلبے کے اسباب پیدا فرما ‘ اور مجھے وہ طاقت قوت اور اقتدار عطا فرما جس سے دین کی عملی تنفیذ کا کام آسان ہوجائے۔ اس دعا میں رسول اللہ کو بالکل وہی کچھ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے جو عنقریب آپ کو ملنے والا تھا۔ چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ میں آپ کا استقبال ایک بادشاہ کی طرح ہوا۔ اوس اور خزرج کے قبائل نے آپ کو اپنا حاکم تسلیم کرلیا۔ یہودیوں کے تینوں قبائل ایک معاہدے کے ذریعے آپ کی مرضی کے تابع ہوگئے اور یوں آپ مدینہ میں داخل ہوتے ہی وہاں کے بےتاج بادشاہ بن گئے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

99. This prayer clearly shows that the time of Hijrah (Migration) had come near. That is why Allah has instructed the Prophet (peace be upon him) to this effect: You should follow the truth wherever and in whatever condition you be. If you migrate from a place, you should migrate for the sake of the truth, and wherever you go, you should go for the sake of the truth. 100. That is, either grant me power and authority or make some government my helper so that I may use its power to reform the corrupt world. This is because power is required to check indecency and sin and to enforce the law of justice. Hasan Basri and Qatadah have made the same interpretation of this verse, and the great commentators like Ibn Jarir and Ibn Kathir have adopted the same. This is supported by a tradition of the Prophet (peace be upon him): Allah eradicates by the power of government those evils, which are not eradicated by the teachings of the Quran. This is a clear proof that according to Islam, political power is also required to introduce reform, for admonition alone is not enough for this. Besides this, when Allah Himself has taught this prayer to His Prophet (peace be upon him) for the establishment of His way and enforcement of His law, it is not only lawful but desirable to acquire power and those, who consider this to be a worldly thing, are obviously in the wrong. What is really worldliness is that one should desire and acquire power for his own interest. On the contrary, the desire of power for the sake of Allah’s way is not the worship of the world but the worship of God.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :99 اس دعا کی تلقین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کا وقت اب بالکل قریب آ لگا تھا ۔ اس لیے فرمایا کہ تمہاری دعا یہ ہونی چاہیے کہ صداقت کا دامن کسی حال میں تم سے نہ چھوٹے ، جہاں سے بھی نکلو صداقت کی خاطر نکلو اور جہاں بھی جاؤ صداقت کے ساتھ جاؤ ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :100 یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر ، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے تاکہ اس کی حمایت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کر سکوں ، فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں ، اور تیرے قانون عدل کو جاری کر سکوں ۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری اور قتادہ رحمہما اللہ نے کی ہے ، اور اسی کو ابن جریر اور ابن کثیر رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے ، اور اسی کی تائید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کرتی ہے کہ اِنَّ اللہَ لَیَزَعُ بِالسُّلطَانِ مَا لَا یَزَعُ بِالقُرْاٰنِ ، یعنی اللہ تعالی حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کر دیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں کرتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے ۔ پھر جبکہ یہ دعا اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہو ا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو ۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے ۔ اگر جہاد کے لے تلوار کا طالب ہونا گناہ نہیں ہے تو اجرائے احکام شریعت کے لیے سیاسی اقتدار کا طالب ہونا آخر کیسے گناہ ہو جائے گا ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

47: یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کو اپنا مستقر قرار دینے کا حکم ہوا تھا، اس وقت آپ کو یہ دعا مانگنے کی تلقین فرمائی گئی تھی اور اس میں داخل کرنے سے مدینہ منورہ میں داخل کرنا اور نکالنے سے مکہ مکرمہ سے نکالنا مراد ہے، لیکن الفاظ عام ہیں اس لئے یہ دعا ہر اس موقع پر کی جاسکتی ہے جب کوئی کسی نئی جگہ جانے یا نیا کام شروع کرنے کا ارادہ کررہا ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٠۔ ٨١:۔ صحیح سند سے ترمذی اور مستدرک حاکم کی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت اوپر گزر چکی ہے ١ ؎ جس میں انہوں نے مکہ میں آنحضرت صلعم کے تنگ کرنے کا مشورہ کیا اور چاہا کہ ان کو مکہ سے نکال دیں یا قید کریں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم فرمایا کہ آپ یوں دعا کریں جس طرح دعا کا اس آیت میں ذکر ہے اور مکہ سے مدینہ کو چلے جائیں۔ قتاد کہتے ہیں کہ مدخل صدق سے مراد مدینہ ہے اور مخرج صدق مکہ ہے اور سلطانا نصیرا کی تفسیر حسن بصری یہ کہتے ہیں اللہ پاک نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ملک عرب اور فارس اور روم کافروں سے چھین کر تمہیں دیدویں گے یہ جو ارشاد کیا ہے کہ حق آیا اور باطل گیا اس میں کفار مکہ کے لیے یہ دھمکی ہے کہ ان کے پاس ایسا حق آیا ہے ‘ جس میں ذرا بھی شک وشبہ نہیں ہے۔ بخاری نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی آپ اس لکڑی سے ان بتوں کو مارتے جاتے تھے زبان سے یوں فرماتے جاتے تھے جاء الحق وزھن الباطل ٢ ؎۔ مسلم اور بخاری میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ ہجرت کے ارادہ سے جب میں اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے نکل کر غار ثور میں گئے تو مشرکین مکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش میں ثور پہاڑ پر چڑھے اور میں نے غار میں سے مشرکین کے قدم دیکھے تو مجھ کو بڑا اندیشہ ہوا اور جب میں نے اپنا یہ اندیشہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری تسکین کی اور فرمایا کچھ اندیشہ کی بات نہیں اللہ ہماری مدد کو موجود ہے ٣ ؎۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جو دعا اپنے رسول کو بتلائی تھی اس دعا کا اثر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ مکہ سے نکلتے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی آبرو کا یہ انتظام کیا کہ غار ثور تک پہنچ جانے پر بھی مشرکین کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈالا جس سے اللہ کے رسول ان دشمنوں کو نظر نہ آئے اور مدینہ پہنچ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی وہ آبرو بڑھائی کہ دس ہزار آدمیوں کے لشکر سے اللہ کے رسول نے مکہ پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہوگیا۔ حکومت اپنے رسول کو اللہ تعالیٰ نے وہ عطا کی کہ اللہ کے رسول نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کو زمین پر گرا دیا اور اللہ کے رسول کی حکومت کے آگے کوئی مشرک دم نہیں مار سکا۔ ان آیتوں میں حق کے معنے اسلام کے ہیں اور باطل کے معنے شرک کے کیونکہ جس تاریخ کو اللہ تعالیٰ کی رسول کی زبان پر یہ لفظ تھے اسی تاریخ سے مکہ میں اسلام پھیلا اور شرک مٹا۔ ١ ؎ تفسیر جلد ہذاص ٥٧۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٦١٤ ج ٢ باب این رکز النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرایۃ یوم الفتح۔ ٣ ؎ مشکوٰۃ باب المعنجرات۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:80) ادخلنی۔ تو مجھے داخل کر ادخال (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر نون وقایہ یضمیر واحد متکلم۔ مدخل۔ مخرج مصدر ہیں۔ مدخل داخل کرنا۔ مخرج نکالنا۔ منصوب بوجہ مضاف ہونے کے ہیں۔ صدق مضاف الیہ ہے جس کے معنی راستی اور سچائی کے ہیں۔ رب ادخلنی مدخل۔۔ مخرج صدق۔ اے میرے پروردگار تو جہاں کہیں مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا۔ اور جہاں کہیں سے بھی مجھے نکالے سچائی کے ساتھ نکال۔ یہ آیت کریمہ ہجرت کے وقت نازل ہوئی جس میں ایک دعا کی تلقین کی گئی ۔ کہ اے میرے رب کریم میرا مکہ سے ہجرت کرنا بھی سچائی کے ساتھ ہو اور مدینہ میں ورود بھی سچائی کے ساتھ ہو۔ یعنی دونوں کا انجام نیک ہو۔ اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب قبر میں داخل ہونا اور یوم حشر میں قبر سے نکلنا مراد ہے ۔ یا اس سے مراد مکہ سے نکلنا اور دوبارہ بوقت فتح مکہ میں داخل ہونا ہے۔ پیش گوئی کی اہمیت کے پیش نظر ادخلنی کو اخرجنی سے پہلے رکھا گیا ہے گویا جس وقتحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے جس وقت نکل رہے تھے اس وقت ان کو معلوم تھا کہ مکہ میں دوبارہ داخل ہوں گے۔ یا اس سے مراد غار میں داخل ہونا اور وہاں سے صحیح و سلامت نکلنا ہے۔ یا اس سے مراد نبوت کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا اور اس سے باحسن طریقہ عہدہ برآ ہونا ہے یا اس سے مراد کسی عظیم مہم میں ادخال اور اس کو کامیابی و کامرانی کے ساتھ سر کرنا ہے۔ من لدنک اپنی طرف سے۔ سلطنا۔ ای حجۃ بینۃ۔ برہان واضح ۔ سند ۔ حکومت ۔ زور، قوت۔ نصیرا۔ صیغہ صفت منصوب ، حفاظت کرنے والا۔ مدد کرنے والا۔ سلطنا۔ موصوف۔ یعنی ایسی قوت یا غلبہ جو ممدو معاون ہو مزید غلبہ حاصل کرنے میں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 معلوم ہوا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب آنحضرت کو ہجرت کا حکم دیا گیا چناچہ آپ آبرو مندانہ طور پر مدینہ وارد ہوئے۔ انصار سے دین کی مدد بھی ہوئی۔ (کذا فی الموضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعنی مکہ سے جانے کے بعد۔ 8۔ جس سے وہ غلبہ بڑہتا ہی جاوے، ورنہ خارجی غلبہ تو کفار کو بھی ہوجاتا ہے، مگر وہ منصور من اللہ نہیں ہوتے، اس لئے جلد زائل ہوجاتا ہے، اس میں تفویض کا حکم ہوگیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشکلات کا ذکر ہوا اور اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز اور تہجد کا حکم دیا۔ اب آپ کو ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور اس کی دعا سکھلائی گئی ہے۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں نبوت کے تیرہ سال بڑی مشکلات سے گزارے۔ سجدے کی حالت میں آپ کی گردن پر اونٹ کی گندی اوجڑی رکھی گئی۔ کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کا تین سال تک سوشل بائیکاٹ ہوا۔ ابو لہب کے بیٹوں نے آپ کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کی نسبت منقطع کی۔ آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ آپ کی ننھی منی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے چہرے پر ابوجہل نے تھپڑ مارا۔ آپ کے بیٹے کی وفات پر آپ کے پڑوسی اور حقیقی چچا ابو لہب نے خوشیاں منائیں۔ غرض یہ کہ دنیا کی کوئی پریشانی اور مشکل ایسی نہ تھی جس کا آپ نے ثابت قدمی کے ساتھ سا منا نہ کیا ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی، داماد اور ساتھیوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ آپ کے ساتھیوں کو سر بازار پیٹا گیا۔ حضرت بلال (رض) اور حضرت خباب (رض) کو آگ پر لٹایا گیا۔ حضرت یاسر (رض) کی بیوی کو کھلے بازار میں دواونٹوں سے باندھ کر دو ٹکڑے کیا گیا۔ ان مظالم کے باوجود آپ کے ساتھیوں کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش واقع نہ ہوئی۔ جب مظالم کا سلسلہ اپنی انتہا کو پہنچا اور مکہ والوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر کی مہر ثبت کردی گئی تو یہ دعا اور خوشخبری نازل ہوئی کہ اے پیغمبر ! رات کی تایکیوں میں اپنے رب کے حضور یہ دعا کیجیے کہ اے میرے رب ! مجھے جہاں اور جن حالات میں داخل فرماؤ اور جہاں سے مجھے نکالا جائے۔ سچائی کے ساتھ نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ہر حال میں مدد کا سامان مہیا فرما۔ اس دعا کے ساتھ ہی آپ کو خوشخبری دی گئی کہ آپ اعلان فرمائیں۔ حق پہنچ چکا اور باطل کا جانا ٹھہر چکا۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ باطل جایا ہی کرتا ہے۔ یہ خوشخبری اور اعلان اس وقت ہوا جب کوئی شخص آپ کی کامیابی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی جدوجہد اور دعا کے صلہ میں آپ کو وہ کامیابیاں عنایت فرمائیں کہ جو کسی نبی اور بادشاہ کے حصہ میں نہیں آئیں۔ ہجرت کے موقع پر کفار ہزار کوششوں کے باوجود آپ کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے میں ناکام ہوئے۔ بدر کے موقع پر قریش کے بڑے بڑے سردار جہنم رسید ہوئے۔ یہاں تک کہ مکہ فتح ہوا۔ آپ اس شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے کہ کسی کو سر اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔ آپ کی جان کے دشمن بیت اللہ کے صحن میں مجرم کی حیثیت سے کھڑے ہو کر رحم کی اپیل کررہے تھے۔ اس طرح آپ کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے غلبہ کا اعلان اپنی سچائی، سطوت اور جلالت کے ساتھ نصف النہار کی طرح دشمن کی آنکھیں چندھیارہا تھا۔ ہجرت اور مشکلات سے نکلنے کی دعا : (وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا )[ بنی اسرائیل : ٨٠] ” اور دعا کیجیے میرے رب ! داخل کر مجھے سچائی کے ساتھ داخل کرنا اور مجھے سچائی کے ساتھ نکالنا اور بنا میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ جو مددگار ہو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سے اچھائی طلب کرنی چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے سوا غلبہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ ٣۔ حق کے مقابلہ میں باطل کا ٹھہرنا محال ہے۔ ٤۔ حق والے حق پر قائم رہیں تو بالآخر باطل مٹ جایا کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار نہیں : ١۔ الٰہی اپنی طرف سے میرے لیے مددگار بنا۔ (بنی اسرائیل : ٨٠) ٢۔ اللہ کی طرف سے ہی مدد حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران : ١٢٦) ٣۔ اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے۔ (الروم : ٥) ٤۔ اللہ حق والوں کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ (الحج : ٣٩) ٥۔ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (آل عمران : ١٥٠) ٦۔ وہ ذات جس نے آپ کی اور مومنوں کی مدد فرمائی۔ (الانفال : ٦٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وقل رب ……نصیرا (٧١ : ٠٨) ۔ ” اور دعا کرو ، کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے “۔ یہ دعا ہے جو اللہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکھاتا ہے تاکہ وہ ان الفاظ میں اللہ کو پکارے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کی امت کو بھی معلوم ہو کہ وہ کس طرح اللہ کو پکارے اور کن معاملات میں اللہ کی طرف متوجہ ہو ، سچائی کے ساتھ دخول اور سچائی کے ساتھ خروج کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ میرا دل اور آخر ، اور اولیٰ اور آخری کے مابین تمام مراحل میں مجھے سچائی پر قائم رکھ۔ اور یہاں سچائی کی دعا کی اہمیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ جس مرحلے میں یہ آیات آئیں اس میں داخل کردیں اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ پر افتراء ہوتا۔ نیز سچائی کا اپنا پر تو اور رنگ ہوتا ہے ، مثلاً ثابت قدمی ، اطمینان ، پاکیزگی معاملات ، اخلاص وغیرہ سب کے سب سچائی کے رنگ ہیں۔ واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا (٧١ : ٠٨) ” اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے “۔ ایک قوت ، ہیبت مجھے حاصل ہوجائے ، جس کی وجہ میں زمین کے اقتدار پر قابض ہوجائوں اور مشرکین کی قوت کو مغلوب کرلوں۔ من لدنک (٧١ : ٠٨) یعنی (اپنی طرف سے) میں یہ رنگ ہے کہ اللہ کے ساتھ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گہرا قرب ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور صرف اس سے مدد کے طلبگار ہیں اور اللہ ہی حمایت و حفاظت میں اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی داعی صرف اللہ ہی سے اقتدار کا طالب ہوتا ہے اور ایک داعی سے لوگ صرف اس صورت میں خوف کھاتے ہیں کہ وہ الٰہی قوت سے مسلح ہو۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کوئی حاکم اور صاحب اقتدار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا کسی داعی کی حمایت پر کمربستہ ہوجائے بلکہ کسی دنیاوی قوت سے پہلے داعی کو الٰہی قوت سے لیس ہونا ضروری ہے۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی تحریک اور دعوت بعض اوقات اہل اقتدار اور صاحب قوت لوگوں کے دلوں کو فتح کرلیتی ہے ، اور وہ دعوت کے سپاہی بن جاتے ہیں اور دعوت کی خدمت کرتے ہیں اور فلاح پاتے ہیں۔ لیکن اگر دعوت اور تحریک کسی بادشاہ یا صاحب اقتدار کے تابع ہو اور اس کی سپاہ گری کا کام کرے اور کسی شخص کی خدمت گار ہو تو وہ دعوت کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ دعوت اسلامی تو امر الٰہی ہے ، اور اسے اعلیٰ وارفع ہونا چاہیے۔ اور اہل اقتدار اور ذی جائو لوگوں کو اس کا خادم ہونا چاہیے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے، ظالموں کے نقصان ہی میں اضافہ کرتا ہے یہ پانچ آیات ہیں جن کا اوپر ترجمہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت سفر ہجرت کے بارے میں ہے، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ معظمہ میں مقیم تھے، پھر جب آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اس وقت آیت کریمہ (وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ ) آخر تک نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں کہ مجھے بہترین داخل ہونے کی جگہ میں داخل فرمائیے اور میرا اپنے شہر سے نکلنا بھی میرے لیے اچھا بنا دیجیے (جس کا انجام مبارک ہو) اور میرے لیے اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجیے جس میں آپ کی مدد بھی ہو (رواہ الترمذی فی التفسیر) مدخل صدق سے جائے ہجرت اور مخرج صدق سے مکہ معظمہ مراد ہے مطلب یہ کہ مکہ معظمہ سے اطمینان کے ساتھ نکل جاؤں دشمن کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے اور دارالہجرہ میں بھی خوبی کے ساتھ داخلہ ہوجائے اور پھر یہ داخلہ مبارک ہو جس کے بعد آپ کی طرف سے غلبہ بھی ہو اور نصرت بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ دعا تلقین فرمائی پھر اس کو قبول فرمایا۔ پھر چند سال کے بعد آپ مکہ معظمہ میں فتح، غلبہ اور نصرت الٰہی کے ساتھ داخل ہوگئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

72:۔ یہ امر ثالث یعنی ” و ان کادوا لیستفزونک الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین آپ کو مکہ سے نکالتے ہیں تو آپ غم نہ کریں اور مکہ سے نکلتے وقت یہ دعاء پڑھیں۔ ” رب ادخلنی مدخل صدق الخ “ میں آپ کے مکہ سے نکلنے اور مدینہ میں داخل ہونے کو آپ کے لیے دین اسلام اور مسلمانوں کے لیے سراسر باعث برکت بنا دوں گا اور آپ کو غلبہ اور شان و شوکت کے ساتھ پھر مکہ میں واپس لاؤں گا۔ یوسف گم گشتہ باز آید بکنعان غم مخور کلبہ احزان شود روزے گلستان غم مخور

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

80 اور اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے پروردگار تو مجھ کو جہاں لے جائے خوبی اور راحت کے ساتھ لے جائیو اور جہاں سے مجھ کو نکالے اور لے جائے خوبی اور راحت کے ساتھ نکالیو اور لے جائیو اور مجھ کو اپنے پاس سے ایسا غلبہ اور زور عنایت کیجیو جس کو تیری مدد اور نصرت حاصل ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس شہر سے نکال آبرو سے اور کسی جگہ بیٹھا آبرو سے اللہ تعالیٰ نے مدینے میں بٹھایا اور وہاں کے لوگ حکم میں دیئے جن سے دین کو مدد ہوئی۔ 12 چونکہ کوئی غلبہ اور تسلط جب تک حق تعالیٰ کی نصرت اس کو حاصل نہ ہو اس کو پائیداری نہیں ہوتی۔ اس لئے ” واجعل لی من لدنک سلطاناً نصیراً “ سکھایا۔ دعا میں آگے اس دعا کی قبولیت کا ذکر ہے۔