Commentary According to Tafsir al-Bahr al-Muhit, in the first verse (102): أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ (Do, then, the disbelievers deem that they take My servants as patrons beside Me?), there is an elision (حذف hadhf) in the text at this place, that is: فیجد بھم وینتفعون بذلک الاتخاذ As such, it would mean: &Do these disbelieving people who have taken My servants - instead of Me - as the objects of their worship and the dis¬pensers of their matters and problems think that this make-shift ar¬rangement made by them would bring them some benefit and they would enjoy it?& This is a form of interrogative meant for negation or dis¬approval. In short, it means that such thinking is wrong, a mark of ignor¬ance. The word: عبادی (` ibadi: My servants) used here means angels, and the particular prophets whom the people of the world worshiped taking them as partners in the pristine divinity of Allah - as Sayyidna ` Uzair and Sayyidna Masih (علیہ السلام) . Those who worshiped angels were some Arabs. As for those who ascribed partners to Allah, the Jews and Chris¬tians both did it. The Jews did it in respect of Sayyidna ` Uzair (علیہ السلام) and the Christians, in respect of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . Therefore, meant here by: الَّذِينَ كَفَرُوا (al-ladhina kafaru: Those who disbelieved) in this verse are these very groups of disbelievers. Some commentators have taken عبادی (` ibadi: My servants) at this place to mean shaitans. In that case, الَّذِينَ كَفَرُوا (those who disbelieved) would mean disbelievers who worship the Jinn and shaitans. Some other commentators have taken is? عبادی (` ibadi: My ser¬vants) at this place in the general sense of something created, under mastery, which becomes inclusive of all false objects of worship, idols, fire and stars. Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) has referred to this aspect in the Summary of his Tafsir Bayan al-Qur’ an while explain¬ing servants as subjects. However, the first explanation given above has been rated as weightier in al-Bahr al-Muhit and other Tafsirs. Allah knows best. The word: أَوْلِيَاءَ (awliya& ) is the plural of وَلِی (waliyy). This word is used in the Arabic language to carry several meanings. At this place, it means one who gets things done, resolves matters, fulfills needs - which is the particular attribute of the true object of worship. The purpose thereby is to take them as objects of worship.
خلاصہ تفسیر : کیا پھر بھی ان کافروں کا خیال ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو (یعنی جو میرے مملوک و محکوم ہیں اختیاراً یا اضطراراً ان کو) اپنا کار ساز (یعنی معبود اور حاجت روا) قرار دیں (جو شرک اور کفر کھلا ہوا ہے) ہم نے کافروں کی دعوت کے لئے دوزخ کو تیار کر رکھا ہے (دعوت بطور تحقیر و تحکم کے فرمایا) اور اگر (ان کو اپنے ان اعمال پر ناز ہو جن کو وہ حسنہ اور نیکی سمجھتے ہوں اور اس کے سبب وہ اپنے آپ کو نجات یافتہ عذاب سے محفوظ سمجھتے ہوں تو) آپ (ان سے) کہئے کہ کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بالکل خسارے میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کری کرائی محنت (جو اعمال حسنہ میں کی تھی) سب گئی گذری ہوئی اور وہ (بوجہ جہالت کے) اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں (آگے ان لوگوں کا مصداق ایسے عنوان سے بتلاتے ہیں جس سے ان کی محنت ضائع ہونے کی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے اور پھر اس حبط اعمال کی تصریح بھی بطور تفریع کے فرماتے ہیں یعنی) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی آیتوں کا اور اس سے ملنے کا (یعنی قیامت کا) انکار کر رہے ہیں سو (اس لئے) ان کے سارے (نیک) کام غارت گئے تو قیامت کے روز ہم ان (کے نیک اعمال) کا ذرا بھی وزن قائم نہ کریں گے (بلکہ) ان کی سزاء وہی ہوگی ( جو اوپر مذکور ہوئی) یعنی دوزخ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا تھا اور (اس کفر کا ایک شعبہ یہ بھی تھا کہ) میری آیتوں اور پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا (آگے ان کے مقابلے میں اہل ایمان کا حال بیان فرماتے ہیں کہ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس (یعنی بہشت) کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (نہ ان کو کوئی نکالے گا) اور نہ وہ وہاں سے کہیں نکالے گا) اور نہ وہ وہاں سے کہیں اور جانا چاہیں گے۔ معارف و مسائل : (آیت) اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ تفسیر بحرمحیط میں ہے کہ اس جگہ عبارت میں حذف ہے یعنی فیجدیہم نفعا وینتفعون بذلک الاتخاذ۔ اور مطلب یہ ہے کہ کیا یہ کفر کرنے والے جنہوں نے میرے بجائے میرے بندوں کو اپنا معبود اور کار ساز بنالیا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو معبود کار ساز بنالینا ان کو کچھ نفع بخشے گا اور وہ اس سے کچھ فائدہ اٹھائیں گے اور یہ استفہام انکاری ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسا سمجھنا غلط اور جہالت ہے۔ عبادی سے مراد اس جگہ فرشتے اور وہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں جن کی دنیا میں لوگوں نے پرستش کی اور ان کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جیسے حضرت عزیر اور مسیح (علیہ السلام) فرشتوں کی عبادت کرنے والے بعض عرب تھے اور عزیر (علیہ السلام) کو یہود نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نصاری نے خدا کا شریک قرار دیا اس لئے |" الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا |" سے اس آیت میں کفار کے یہی فرقے مراد ہیں اور جن بعض مفسرین نے اس جگہ عبادی سے مراد شیاطین لئے تو الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا سے وہ کفار مراد ہوں گے جو جنات و شیاطین کی پرستش کرتے ہیں بعض نے اس جگہ لفظ عبادی کو مخلوق و مملوک کے معنی میں لے کر عام قرار دیا جس میں سب معبودات باطلہ بت آگ اور ستارے بھی داخل ہوگئے خلاصہ تفسیر میں لفظ محکوم و مملوک سے اسی کی طرف اشارہ ہے بحر محیط وغیرہ میں پہلی ہی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے واللہ اعلم۔ اَوْلِيَاۗءَ ولی کی جمع ہے یہ لفظ عربی زبان میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے اس جگہ اس سے مراد کار ساز حاجت روا ہے جو معبود برحق کی خاص صفت ہے۔ مقصود اس سے ان کو معبود قرار دینا ہے۔