Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 102

سورة الكهف

اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾

Then do those who disbelieve think that they can take My servants instead of Me as allies? Indeed, We have prepared Hell for the disbelievers as a lodging.

کیا کافر یہ خیال کئے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وہ میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنالیں گے؟ ( سنو ) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاء ... Do then those who disbelieved think that they can take My servants as Awliya' (protectors) besides Me! meaning, do they think that this is right for them and that it is going to benefit them! كَلَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدّاً Nay, but they will deny their worship of them, and become opponents to them. (19:82) ... إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلاً Verily, We have prepared Hell as an entertainment for the disbelievers. Allah says that He has prepared Hell as their abode on the Day of Resurrection.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

102۔ 1 حسب، بمعنی ظن ہے اور عبادی (میرے بندوں) سے مراد ملائکہ، مسیح (علیہ السلام) اور دیگر صالحین ہیں، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شیاطین و جنات ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے اور استفہام زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ یعنی غیر اللہ کے یہ پجاری کیا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر اور میرے بندوں کی عبادت کر کے ان کی حمایت سے میرے عذاب سے بچ جائیں گے ؟ یہ ناممکن ہے، ہم نے تو ان کافروں کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں جانے سے ان کو وہ بندے نہیں روک سکیں گے جن کی یہ عبادت کرتے اور ان کو اپنا حمایتی سمجھتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٤] یہاں کچھ عبارت مخذوف ہے جسے مخاطب کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے یعنی کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنالیں تو وہ انھیں اللہ کی گرفت سے بچا سکیں گے بات یوں نہیں بلکہ ہم ایسے کافروں کی جہنم کی آگ سے مہمانی کریں گے جو ان کے وہاں پہنچتے ہی انھیں مل جائے گی۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے اس آیت میں عبادی کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ایسے کارساز مراد ہیں جو ذوی العقول ہوں جیسے فرشتے، جن، نیک یا بد ارواح، فوت شدہ انسان، پیغمبر یا پیران طریقت اور اصطلاحی اولیاء اللہ وغیرہم۔ کیونکہ بےجان اشیاء مثلاً بتوں اور حجرو شجر وغیرہ پر لفظ عبد کا اطلاق نہیں ہوتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧاَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ۔۔ : سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بتانے والوں کو ڈرانے اور اصحاب کہف کے اعلان توحید کے ذکر سے ہوئی تھی، آخر میں پھر وہی بات دہرائی، یعنی کیا ان کفار نے میرے خاص بندوں، جیسے مسیح، عزیر، روح القدس اور فرشتوں وغیرہ کو اپنا معبود بنا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ انھیں میرے مقابلے میں لا کھڑا کریں گے اور اپنا حمایتی بنالیں گے۔ استفہام انکاری ہے، یعنی یہ گمان سراسر غلط ہے، بلکہ وہ سب ان کی عبادت سے بےزاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہوں گے۔ دیکھیے سورة مریم (٨٢) اور احقاف (٥، ٦) اگرچہ ” عِبَادِیْ “ سے نیک و بد سبھی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں (دیکھیے مریم : ٩٣) مگر پہلا معنی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ” میرے بندے “ کہہ کر اپنا بنا لینے میں جو عزت افزائی ہے وہ خاص بندوں ہی کا حصہ ہے ۔ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا : ” نُزُلًا “ کا معنی وہ چیزیں ہیں جو مہمان نوازی کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ جہنم بطور مہمانی کفار کو مذاق ہے۔ ” نُزُلًا “ کا ایک معنی منزل بھی ہے، یعنی ہم نے جہنم کو کافروں کی منزل کے طور پر تیار کر رکھا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary According to Tafsir al-Bahr al-Muhit, in the first verse (102): أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ (Do, then, the disbelievers deem that they take My servants as patrons beside Me?), there is an elision (حذف hadhf) in the text at this place, that is: فیجد بھم وینتفعون بذلک الاتخاذ As such, it would mean: &Do these disbelieving people who have taken My servants - instead of Me - as the objects of their worship and the dis¬pensers of their matters and problems think that this make-shift ar¬rangement made by them would bring them some benefit and they would enjoy it?& This is a form of interrogative meant for negation or dis¬approval. In short, it means that such thinking is wrong, a mark of ignor¬ance. The word: عبادی (` ibadi: My servants) used here means angels, and the particular prophets whom the people of the world worshiped taking them as partners in the pristine divinity of Allah - as Sayyidna ` Uzair and Sayyidna Masih (علیہ السلام) . Those who worshiped angels were some Arabs. As for those who ascribed partners to Allah, the Jews and Chris¬tians both did it. The Jews did it in respect of Sayyidna ` Uzair (علیہ السلام) and the Christians, in respect of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . Therefore, meant here by: الَّذِينَ كَفَرُ‌وا (al-ladhina kafaru: Those who disbelieved) in this verse are these very groups of disbelievers. Some commentators have taken عبادی (` ibadi: My servants) at this place to mean shaitans. In that case, الَّذِينَ كَفَرُ‌وا (those who disbelieved) would mean disbelievers who worship the Jinn and shaitans. Some other commentators have taken is? عبادی (` ibadi: My ser¬vants) at this place in the general sense of something created, under mastery, which becomes inclusive of all false objects of worship, idols, fire and stars. Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) has referred to this aspect in the Summary of his Tafsir Bayan al-Qur’ an while explain¬ing servants as subjects. However, the first explanation given above has been rated as weightier in al-Bahr al-Muhit and other Tafsirs. Allah knows best. The word: أَوْلِيَاءَ (awliya& ) is the plural of وَلِی (waliyy). This word is used in the Arabic language to carry several meanings. At this place, it means one who gets things done, resolves matters, fulfills needs - which is the particular attribute of the true object of worship. The purpose thereby is to take them as objects of worship.

خلاصہ تفسیر : کیا پھر بھی ان کافروں کا خیال ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو (یعنی جو میرے مملوک و محکوم ہیں اختیاراً یا اضطراراً ان کو) اپنا کار ساز (یعنی معبود اور حاجت روا) قرار دیں (جو شرک اور کفر کھلا ہوا ہے) ہم نے کافروں کی دعوت کے لئے دوزخ کو تیار کر رکھا ہے (دعوت بطور تحقیر و تحکم کے فرمایا) اور اگر (ان کو اپنے ان اعمال پر ناز ہو جن کو وہ حسنہ اور نیکی سمجھتے ہوں اور اس کے سبب وہ اپنے آپ کو نجات یافتہ عذاب سے محفوظ سمجھتے ہوں تو) آپ (ان سے) کہئے کہ کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بالکل خسارے میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کری کرائی محنت (جو اعمال حسنہ میں کی تھی) سب گئی گذری ہوئی اور وہ (بوجہ جہالت کے) اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں (آگے ان لوگوں کا مصداق ایسے عنوان سے بتلاتے ہیں جس سے ان کی محنت ضائع ہونے کی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے اور پھر اس حبط اعمال کی تصریح بھی بطور تفریع کے فرماتے ہیں یعنی) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی آیتوں کا اور اس سے ملنے کا (یعنی قیامت کا) انکار کر رہے ہیں سو (اس لئے) ان کے سارے (نیک) کام غارت گئے تو قیامت کے روز ہم ان (کے نیک اعمال) کا ذرا بھی وزن قائم نہ کریں گے (بلکہ) ان کی سزاء وہی ہوگی ( جو اوپر مذکور ہوئی) یعنی دوزخ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا تھا اور (اس کفر کا ایک شعبہ یہ بھی تھا کہ) میری آیتوں اور پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا (آگے ان کے مقابلے میں اہل ایمان کا حال بیان فرماتے ہیں کہ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس (یعنی بہشت) کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (نہ ان کو کوئی نکالے گا) اور نہ وہ وہاں سے کہیں نکالے گا) اور نہ وہ وہاں سے کہیں اور جانا چاہیں گے۔ معارف و مسائل : (آیت) اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ تفسیر بحرمحیط میں ہے کہ اس جگہ عبارت میں حذف ہے یعنی فیجدیہم نفعا وینتفعون بذلک الاتخاذ۔ اور مطلب یہ ہے کہ کیا یہ کفر کرنے والے جنہوں نے میرے بجائے میرے بندوں کو اپنا معبود اور کار ساز بنالیا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو معبود کار ساز بنالینا ان کو کچھ نفع بخشے گا اور وہ اس سے کچھ فائدہ اٹھائیں گے اور یہ استفہام انکاری ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسا سمجھنا غلط اور جہالت ہے۔ عبادی سے مراد اس جگہ فرشتے اور وہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں جن کی دنیا میں لوگوں نے پرستش کی اور ان کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جیسے حضرت عزیر اور مسیح (علیہ السلام) فرشتوں کی عبادت کرنے والے بعض عرب تھے اور عزیر (علیہ السلام) کو یہود نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نصاری نے خدا کا شریک قرار دیا اس لئے |" الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا |" سے اس آیت میں کفار کے یہی فرقے مراد ہیں اور جن بعض مفسرین نے اس جگہ عبادی سے مراد شیاطین لئے تو الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا سے وہ کفار مراد ہوں گے جو جنات و شیاطین کی پرستش کرتے ہیں بعض نے اس جگہ لفظ عبادی کو مخلوق و مملوک کے معنی میں لے کر عام قرار دیا جس میں سب معبودات باطلہ بت آگ اور ستارے بھی داخل ہوگئے خلاصہ تفسیر میں لفظ محکوم و مملوک سے اسی کی طرف اشارہ ہے بحر محیط وغیرہ میں پہلی ہی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے واللہ اعلم۔ اَوْلِيَاۗءَ ولی کی جمع ہے یہ لفظ عربی زبان میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے اس جگہ اس سے مراد کار ساز حاجت روا ہے جو معبود برحق کی خاص صفت ہے۔ مقصود اس سے ان کو معبود قرار دینا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ ۝ ٠ۭ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا۝ ١٠٢ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده «1» ، فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» «2» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم . ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ نزل ( ضيافت) النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. والنُّزُلُ : ما يُعَدُّ للنَّازل من الزَّاد، قال : فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا [ السجدة/ 19] وأَنْزَلْتُ فلانا : أَضَفْتُهُ. ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں النزل ( طعام مہمانی ) وہ کھان جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا[ السجدة/ 19] ان کے رہنے کے لئے باغ میں یہ مہاہنی ۔ انزلت فلانا کے معنی کسی کی مہمانی کرنے کے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٢) کیا پھر بھی ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کے منکر ہیں خیال ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کی عبادت کریں اور دنیوی واخروی نفع میں ان کا اپنا کارساز سمجھیں یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کو میری اطاعت وفرمانبرداری کے علاوہ میرے بندوں کی عبادت اور ان کو کار ساز سمجھنا کفایت کرجائے گا۔ ہم نے ان کی دعوت اور ٹھکانے کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اس آخری رکوع میں بہت واضح الفاظ میں بتادیا گیا ہے کہ اللہ کی نظر میں کون لوگ حقیقی گمراہی اور کفر و دجل میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ قرب قیامت کے زمانے میں ایک شخص معینّ ” دجال اکبر “ کا فتنہ اور اس کا ظہور اپنی جگہ ایک حقیقت ہے (یہ اس کی تفصیل کا موقع نہیں) مگر عمومی طور پر دجالیت کا فتنہ یہی ہے کہ انسان حصول دنیا میں مشغول ہو کر اس حد تک غافل ہوجائے کہ اسے نہ تو اپنے دار آخرت کی کوئی فکر رہے اور نہ ہی اپنے خالق ومالک کی مرضی و منشا کا کچھ ہوش رہے۔ وہ اس ” عروس ہزار داماد “ کی زلف گرہ گیر کا ایسا اسیر ہو کہ اس کی ظاہری دل فریبیوں اور چمک دمک ہی میں کھو کر رہ جائے۔ آیت ١٠٢ (اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ يَّــتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْٓ اَوْلِيَاۗءَ ) یہ لوگ جن انبیاء و رسل ملائکہ اور صلحاء کو میرے شریک ٹھہراتے ہیں اور اپنا کارساز سمجھتے ہیں وہ سب میرے بندے ہیں۔ کیا ان کا خیال ہے کہ میرے یہ بندے میرے مقابلے میں ان کی مدد اور حمایت کریں گے ؟ خواہ حضرت عیسیٰ ہوں یا عبدالقادر جیلانی میرے یہ بندے میرے مقابلے میں ان کے حامی و مددگار اور حاجت روا ثابت ہوں گے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

74. This is the conclusion of the whole Surah and is not connected with the story of Zul-Qarnain only but with the subject matter of this Surah as a whole. That theme was enunciated at the beginning of the (Surah Ayats 1-8): The Prophet (peace be upon him) invited his people. (1) To give up shirk and adopt the doctrine of Tauhid instead. (2) To give up the worship of the world and to believe in the life of the Hereafter. But the chiefs of his people, who were puffed up with their wealth and grandeur, not only rejected his invitation but also persecuted and insulted those righteous people who had accepted his invitation. The discourse deals with the same themes and utilizes in an excellent manner the three stories which were related in answer to the questions put by the opponents of Islam as a test of his Prophethood. 75. That is, do they still stick to their presumption even after hearing all this and believe that their attitude will be profitable for them?

سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :74 یہ پوری سورت کا خاتمۂ کلام ہے ، اس لیے اس کی مناسبت ذو القرنین کے قصے میں نہیں بلکہ سورۃ کے مجموعی مضمون میں تلاش کرنی چاہیے ۔ سورۃ کا مجموعی مضمون یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی قوم کو شرک چھوڑ کر توحید اختیار کرنے اور دنیا پرستی چھوڑ کر آخرت پر یقین لانے کی دعوت دے رہے تھے ۔ مگر قوم کے بڑے بڑے سردار اپنی دولت اور شوکت و حشمت کے زعم میں نہ صرف آپ کی اس دعوت کو رد کر رہے تھے ، بلکہ ان چند راستی پسند انسانوں کو بھی ، جنہوں نے یہ دعوت قبول کرلی تھی ، ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل کا نشانہ بنا رہے تھے ۔ اور پھر وہ ساری تقریر کی گئی جو شروع سورہ سے یہاں تک چلی آ رہی ہے ، اور اسی تقریر کے دوران میں یکے بعد دیگرے ان تین قصوں کو بھی ، جنہیں مخالفین نے امتحاناً دریافت کیا تھا ۔ ٹھیک موقع پر نگینوں کی طرح جڑ دیا گیا ۔ اب تقریر ختم کر تے ہوئے پھر کلام کا رخ اسی مدعا کی طرف پھیرا جارہا ہے جسے تقریر کے آغاز میں پیش کیا گیا تھا اور جس پر رکوع 4 سے 8 تک مسلسل گفتگو کی جا چکی ہے ۔ سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :75 یعنی یہ سب کچھ سننے کے بعد بھی ان کا خیال یہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ روشن ان کے لیے نافع ہوگی ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:102) نزلا۔ اسم۔ نزل سے مادہ۔ نزل ینزل (ضرب) نزول مصدر۔ اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنے کے ہیں۔ النزل وہ کھانا جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جاوے طعام مہمانی۔ طعام ضیافت۔ یہاں جہنم کو کافروں کے لئے مہمانی طنزا کہا گیا ہے اور جگہ قرآن میں ہے فلہم جنت الماوی نزلا (32:19) ان کے لئے باغ ہیں بطور مہمان کے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی میرے خاص بندوں جیسے مسیح عزیز روح قدس اور فرشتوں کو اپنا معبود بنا کر یہ چاہیں گے کہ انہیں میرے مقابلہ لا کھڑا کریں مگر وہ خود ان کی عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہونگے۔ (مریم :82)یعنی کوئی حمایت نہ ملے گا البتہ دوزخ کی آگ سے ان کی مہماندازی ضرور کی جائیگی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ١٣) اسرارومعارف یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔ (خلاف شریعت عمل خسارہ ہے) یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر خلاف شریعت ساری محنت اور زندگی بھر کا عمل نہ صرف ضائع گیا بلکہ الٹا باعث عذاب بن گیا لہذا ایسے لوگ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے رہے ۔ ان کے اعمال کے ضیاع کا باعث ان لوگوں کا کفر ہے کہ نہ انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کو تسلیم کیا اور نہ آخرت اور اللہ جل جلالہ کے حضور حاضری پہ ایمان لائے چناچہ اگر ان سے اتفاقا کوئی اچھا کام بھی ہوا تو اس کی بنیاد ایمان پر نہ تھی لہذا وہ انہوں نے آخرت کے لیے تو کیا ہی نہ تھا اس کا آخرت پہ کوئی اثر مرتب نہ ہوسکا اور یوں وہ اپنے کئے کی سزا میں جہنم رسید ہوئے یہ خود کو بہت بڑا دانشور شمار کرتے تھے اور انبیاء کا مذاق اڑاتے اور میرے احکام کو ناقابل عمل کہتے تھے ، اسی لمحے جب ان کے لیے دوزخ کا اعلان ہو رہا ہوگا میرے ایماندار اور اطاعت شعار بندوں کو انعامات سے نوازا جا رہا ہوگا اور ان کی مہمانداری کے لیے جنت کو سنوارا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ہر آن نئی لذتوں سے سرشار ہو کر کبھی سیر نہ ہوں گے کہ کہیں اور جانے کا خیال بھی دل میں لائیں ، اگر کسی کو یہ خیال گذرے کہ اتنی زیادہ لذتیں اور ذائقے کیسے بن سکتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر سمندروں کو بطور سیاہی استعمال کیا جاسکے تو اللہ جل جلالہ کی شان اس کے اوصاف و کمالات کا احاطہ نہیں ہو سکتا ، حتی کہ لکھتے لکھتے نہ صرف سمندر ختم ہوجائیں بلکہ اتنے اور سمندر بھی اس میں شامل کرلیے جائیں ، لہذا یہ ذائقے بنانا بھی اسی کا کام ہے فرما دیجئے کہ میں نے اپنی ذات کو معبود بنانے کا نہیں کہا میں تو خود تمہاری طرح انسان ہوں ، اولاد آدم میں سے ہوں ، ہاں حق یہ ہے کہ تم محض عام انسان ہو اور میں اللہ کا رسول ہوں کہ مجھ پر اللہ جل جلالہ کی طرف سے وحی آتی ہے ، احترام و عظمت رسالت بجا مگر میں ہوں آدمی ہی لہذا میری بھی پوجا نہ کرو ، بلکہ اپنے پروردگار سے ملنے کی تیاری کرو جس کا حسن دو باتوں میں ہے کہ اعمال صالح کرو یعنی اپنی دانشوری نہ جتاؤ ، اللہ جل جلالہ کے حکم اور نبی کی سنت کے مطابق کام کرو اور کبھی بھی اور کسی طرح بھی ذات یا صفات میں اللہ جل جلالہ کے ساتھ شرک مت کرو جو سب عبادات کو تباہ کردیتا ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 108 اولیاء دوست، کام بنانے والے۔ نزل مہمان داری۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ صنع کام۔ حبطت ضائع ہوگئی۔ لانقیم ہم قائم نہ کریں گے۔ ھزو مذاق۔ الفردوس جنت ، بہشت۔ لایبغون وہ نہ چاہیں گے۔ حول تبدیل کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 102 تا 108 اللہ تعالیٰ نے کہف میں اصحاب کہف، حضرت موسیٰ خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اتنا کچھ بتانے اور سنانے کے باوجود کیا اس بات کی ذرا بھی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا حمایتی، مددگار اور رب بنا لیا جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بنیادی طور پر غلط سوچ کا نتیجہ ہے کہ قیامت کے ہولناک دن یہ جھوٹے معبود ان کا سہارا بن سکیں گے یا ان کے کام آسکیں گے۔ فرمایا کہ ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ کیونکہ وہاں اللہ کی مدد اور حمایت کے بغیر کسی کا کام نہ چل سکے گا۔ طنز کے طور پر فرمایا کہ ایسے لوگوں کی مہمان نوازی بھڑکتی آگ اور جہنم کے شعلوں سے کی جائے گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو صاف صاف بتا دیجیے کہ جس طرح تمہارے جھوٹے معبود تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے اسی طرح دنیاوی مال و دولت اور عیش و عشرت میں پڑے ہوئے لوگوں کے ان کی دولت اور دنیاداری کام نہ آسکے گی۔ کیونکہ یہ دنیا بڑی بےوفا ہے۔ یہ اس دنیا میں اور اس کے بعد بھی وفا نہیں کرتی۔ ادھر آنکھ بند ہوئی اور ادھر تمام چیزوں سے تعلق ہوجاتا ہے۔ لیکن جو صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا ہوتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ بالکل صحیح اور درست راستے پر چل رہا ہے۔ اس کا یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہی صحیح راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حالانکہ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو دیکھ کر بھی اس کا انکار کیا ہے اور وہ اس سے قطعات بیخبر ہیں کہ بہت جلد آخرت میں ان کی ملاقات اس اللہ رب العالمین سے ہوگی جو ہر بات سے بخوبی واقف ہے۔ یہ وہ بدنصیب لوگ ہیں جنہوں نے سب کچھ کر کے بھی کئے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔ قیامت کے دن اس وقت ان کی حسرتوں کی انتہا ہو جائیگی جب ان کے اعمال بےوزن ہو کر رہ جائیں گے کیونکہ انہوں نے دنیا میں نہ صرف اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا تھا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو مذاق سمجھ رکھا تھا۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کی روش اختیار کی ان کے لئے جنت الفردوس کی ابدی راحتیں، اللہ کی طرف سے مہمان داری اور محبت سے استقبال ، یہ ان کا سرمایہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ جنت کی راحتوں میں رہیں گے وہ ایک ایسی عیش و عشرت ہوگی جس میں سے نہ کوئی نکلنا پسند کرے گا اور نہ اس کو نکال جائے گا۔ فرمایا کہ وہاں حالات کی یکسانیت بھی نہ ہوگی جس سے وہ اکتا جائیں بلکہ وہاں کا ہر دن ایک نئی خوشی، راحت اور آرام کا پیغام لے کر آئے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ دعوت بطور تہکم کے فرمایا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور اللہ تعالیٰ کو بھول جانے والوں کا انجام۔ جس طرح پہلے بھی عرض کیا ہے کہ یہ سورت اہل مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہوئی تھی۔ اہل مکہ کے سوالات کا جواب دینے کے بعد سورة کے اختتام میں انھیں براہ راست مخاطب کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے بندوں کو حاجت روا، اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جہنم کو مہمان نوازی کے طور پر تیار کر رکھا ہے۔ اس مختصر فرمان میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ١۔ شرک کرنے والوں کو کافر کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے۔ ٢۔ جن فوت شدگان کو یہ لوگ حاجت روا، اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن مجید میں کئی مرتبہ اولیاء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کے مشہور اور مستند معانی ہیں۔ نگران، مددگار، دوست اور محبوب آقا۔ ظاہر ہے کہ جن فوت شدگان کو پکارا جاتا ہے ان کے بارے میں مشرکین ایسا ہی عقیدہ رکھتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے جو قیامت کے دن اپنی عبادت کا صاف طور پر انکار کریں گے۔ یعنی ایسے بزرگ جو مواحد تھے اور اپنی زندگی میں شرک کی مذمت کرتے تھے لیکن ان کے بعد مشرک انہیں مشکل کشا، حاجت روا کہہ کر پکارتے رہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کو شرک کے ساتھ اس قدر نفرت ہے کہ اس نے مشرکین کے لیے جہنم کو میزبانی کے طور پر تیار کر رکھا ہے۔ ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے ہاں مشرکین کا کیا مقام ہے اس لیے اس کا فرمان ہے۔ (إِنَّ اللَّہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُشْرِکْ باللَّہِ فَقَدِ افْتَرَی إِثْمًا عَظِیمًا)[ النساء : ٤٨] ” یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کرنے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہتان باندھا اور بہت بڑا گناہ کیا۔ “ (إِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا باٰ یَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَاب السَّمَاءِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ ) [ الاعراف : ٤٠] ” بیشک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انہیں قبول کرنے سے تکبر کیا ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ “ (إِنَّہُُ مَنْ یُشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہ النَّارُ وَمَا للظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنْصَارٍ ) [ المائدۃ : ٧٢] ” بیشک جو بھی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا اس پر جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ “ (عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ ) [ راہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار ] ” حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کے ٹخنوں تک، بعض کے گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردن تک پہنچی ہوگی۔ “ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا مشرک جن کو پکارتے ہیں : ١۔ کیا کافر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا کار ساز بنا لیں گے۔ (الکہف : ١٠٢) ٢۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے ہی بندے ہیں۔ (الاعراف : ١٩٤) ٣۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (الاعراف : ١٩٧) ٤۔ سوال کیجیے کہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انھوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے ؟ (الاحقاف : ٤) ٥۔ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ (الحج : ٧٣) ٦۔ کیا تم بعل (بت) کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑتے ہو۔ (الصّٰفٰت : ١٢٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔ کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔ انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (٨١ : ٢٠١) ” ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لئے جھنم تیار کر رکھی ہے۔ “ اللہ بچائے ! کیا ہی خوفناک استقبال ہے۔ اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے نہ ان کو کوئی جدوجہد کرنی پڑے گی اور نہ کوئی انتظار کرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ ان کے لئے تیار ہے۔ صرف مہمانوں کے پہنچنے کی دیر ہے ؟ اب فکر و شعور کی تاروں پر آخری ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ تمام خطوط کو یہاں جمع کر کے اب ان پر آخری تبصرے کئے جاتے ہیں۔ پہلا تبصرہ اسلامی قدروں اور حسن و قبح کے پیمانوں کے بارے میں ہے۔ وہ اقدار اور پیمانے جو گمراہوں اور خسارے سے دوچار ہونے والوں کے ہاں مقبول عام ہیں اور یقینی نتائج کے حالم ہیں۔ اعمال و اشخاص سے متعلق ان کے افکار کی روشنی میں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافر سب سے بڑے خسارہ میں ہیں، ان کی سعی بیکار ہے، اعمال حبط ہیں اور بےوزن سورة کہف ختم ہونے کے قریب ہے آیات بالا میں اولاً کافروں کو ان کے کفریہ اعمال پر تنبیہ فرمائی اور آخرت میں ان کے عذاب سے باخبر کیا۔ پھر اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرمایا۔ کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں پہلے سے بتادیا گیا ہے کہ کفر کا انجام برا ہے، ان کے لیے دوزخ ہے پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں اور شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔ میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے اور اس کو اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ کفر اور شرک کو بہتر سمجھنا حماقت اور جہالت ہے۔ کافروں کے لیے ہم نے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔ اسی سے ان کی مہمانی ہوگی۔ کافروں کی کئی قسمیں ہیں ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کے قائل نہیں اور دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن شرک میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو دین بھیجا ہے اسے نہیں مانتے دوسرے دینوں کو اختیار کیے ہوئے ہیں ان میں بعض وہ بھی ہیں جو عبادت کے عنوان سے بڑی بڑی محنتیں اور ریاضتیں کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو دنیا ہی پر پلے بڑھے ہیں ان لوگوں کی دنیاوی محنتیں اور مذہبی ریاضتیں سب برباد ہیں یہ لوگ اعمال کے اعتبار سے بدترین خسارہ میں ہیں کیونکہ آخرت میں ان اعمال پر کچھ نہیں ملنا، نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف انعامات سے محروم ہوں گے بلکہ عذاب میں پڑیں گے اور سمجھ یوں رہے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

87:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ یہاں سے آخر تک مذکورہ بالا چاروں شبہات پر متفرع ہے۔ ” ان یتخزوا عبادی من دونی اولیاء “ یہ شبہہ اولیٰ کے جواب پر متفرع ہے۔ بالذات، اور شبہہ ثانیہ کے جواب پر بالتبع بطور لف و نشر مرتب یعنی اللہ کے نیک بندے اور اولیاء اللہ متصرف و کارساز نہیں ہیں، تو شیاطین میں بطریق اولی یہ صلاحیت نہیں ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

102 کیا اب بھی منکرین دین حق کا یہ خیال ہے کہ وہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کار ساز اور اپنا حمایتی بنائیں اور میرے سوا میرے بندوں کو اپنا معبود و حاجت روا مقرر کریں۔ بلاشبہ ! ہم نے ان منکروں کی مہمانی کو دوزختیار کر رکھی ہے۔ یعنی میرے بندے مثلاً مسیح (علیہ السلام) اور فرشتہ وغیرہ جو میرے مملوک اور محکوم ہیں میرے مقابلہ میں ان کو اپنا معبود اور حمایتی پکڑیں۔ اس توقع پر کہ یہ قیامت میں ہم کو عذاب سے بچائیں گے تو یہ بات بالکل غلط ہے وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں اور وہ اس جہنم سے بچانے والے نہیں جو بطور مہمانی ان منکروں کیلئے ہم نے تیار کر رکھی ہے۔