Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 106

سورة الكهف

ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوۡا وَ اتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَ رُسُلِیۡ ہُزُوًا ﴿۱۰۶﴾

That is their recompense - Hell - for what they denied and [because] they took My signs and My messengers in ridicule.

حال یہ ہے کہ ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو مذاق میں اڑا یا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ذَلِكَ جَزَاوُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا ... That shall be their recompense, Hell; because they disbelieved, means, `We will punish them with that because of their disbelief and because they took the signs and Messengers of Allah as a joke, mocking them and disbelieving them in the worst way.' ... وَاتَّخَذُوا ايَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا and took My Ayat and My Messengers for jest."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٦] آخرت کا انکار حقیقتاً اللہ کا انکار ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اللہ کی ہستی کا قائل بھی ہو مگر آخرت کا قائل نہ ہو تو اس کے مکمل کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ کیونکہ اگر اللہ کے حضور جواب دہی کا تصور ہی نہ ہو تو انسان کبھی راہ راست پر نہ آسکتا ہے اور نہ ہی آنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی چیز اس کا اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں سے مذاق کا مصداق بن جاتا ہے اور نہ ہی وہ اللہ کے ان احکام کی کوئی پروا کرتا ہے جو انسان کو راہ مستقیم پر رکھنے والے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذٰلِكَ جَزَاۗؤُہُمْ جَہَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَرُسُلِيْ ہُزُوًا۝ ١٠٦ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الھزء الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٦) ان کی سزا جہنم ہوگی اس وجہ سے انہوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا انکار کیا تھا اور میری کتاب اور میرے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑایا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٦ (ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَرُسُلِيْ هُزُوًا) اللہ کی آیات اور رسولوں کے فرمودات کے مطابق تو اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیوی زندگی کی کچھ اہمیت نہیں مگر ان طالبان دنیا نے سمجھ رکھا تھا کہ اصل کامیابی اسی دنیوی زندگی کی ہی کامیابی ہے۔ چناچہ اسی کامیابی کے حصول کے لیے انہوں نے محنت اور کوشش کی اور اسی زندگی کو سنوارنے کے لیے وہ خود کو ہلکان کرتے رہے۔ آخرت کو لائق اعتناء سمجھا اور نہ ہی اس کے لیے انہوں نے کوئی سنجیدہ تگ ودو کی۔ آخرت کا خیال کبھی آیا بھی تو یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ ہم نے فلاں فلاں بھلائی کے کام بھی تو کیے ہیں اور پھر ہم حضور کے امتی بھی تو ہیں۔ آپ ہماری شفاعت فرمائیں گے اور ہم کامیاب و کامران ہو کر جنت میں پہنچ جائیں گے۔ یہ عقیدہ یہودیوں کے عقیدے سے ملتا جلتا ہے۔ وہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹوں کی مانند ہیں اس کے لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ ان آیات کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی توجہ طلب ہے کہ یہاں کفار سے مراد اصطلاحی کفار نہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جو قانونی طور پر تو مسلمان ہی ہیں مگر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پس پشت ڈال کر سر تا پا دنیا کے طالب بنے بیٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذکورہ مفہوم میں جو شخص بھی آخرت کے مقابلے میں دنیا کا طالب ہے وہی ان آیات کا مصداق ہے بظاہر چاہے وہ مسلمان ہو مسلمانوں کا لیڈر ہو مذہبی پیشوا ہو یا کوئی بہت بڑا عالم ہو۔ اسی مضمون کو کسی بزرگ نے ” جو دم غافل سو دم کافر “ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ چناچہ آخرت کی نجات کے سلسلے میں یہ بات طے کرنا انتہائی ضروری ہے کہ بنیادی طور پر انسان طالب دنیا ہے یا طالب آخرت ! آخری رکوع کی ان آیات کا سورت کی ابتدائی آیات کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے اور دجالی فتنے سے حفاظت کے لیے ان کی خصوصی اہمیت ہے۔ چناچہ حدیث میں ان کو فتنہ دجال سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ابتدائی دس آیات اور ان آخری آیات کو حفظ کرلیا جائے اور کثرت سے ان کی تلاوت کی جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو جمعہ کے روز پوری سورة الکہف کی تلاوت کو بھی معمول بنایا جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:106) ذلک۔ یعنی ان کے کفرومعاصی کا انجام۔ ان کے اعمال کا اکارت جانا۔ جزاء ہم جہنم۔ میں جہنم عطف بیان ہے جزاء ہم کا۔ کیونکہ اپنے متبوع جزاء کی وضاحت کرتا ہے۔ بما۔ ب بدلہ، یا عوض کے لئے آیا ہے اور ما مصدریہ ہے یا ب سبب یتکا ہے اور ما مصدریہ۔ یعنی بوجہ اس بات کے کہ انہوں نے (کفر کیا اور میری آیات ورسل کو مذاق بنا لیا) ۔ ھزوا۔ وہ جس کا مذاق بنایا جائے ھزء یھزأ (فتح وسمع) کا مصدر ہے۔ ھزء ھزء وھزئسب مصدر ہیں مادہ ھزئ۔ یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول آیا ہے اور منصوب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لیکن منظر مکلم تب ہوتا ہے جب اس میں اہل ایمان کا انجام بھی سامنے لایا جائے۔ اس کے پیمانوں اور قاتدار کا انجام بھی بتا دیا جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(ذٰلِکَ جَزَآؤُھُمْ جَھَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْٓا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ ھُزُوًا) (یہ ان کی سزا ہے یعنی دوزخ جو ان کے کفر کی وجہ سے ہے) انہوں نے دین حق قبول نہیں کیا اور کفر میں مزید ترقی کرگئے (کہ انہوں نے اللہ کی آیات کا اور اس کے رسولوں کا مذاق بنایا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

106 ان لوگوں کا بدلہ وہی ہوگا جو اوپر مذکور ہوا یعنی جہنم بسبب اس کے کہ انہوں نے کفر کا ارتکاب کیا اور کافرانہ روش اختیار کی اور میری آیات کا اور میرا رسولوں کا مذاق اڑایا۔ یعنی ان کی جزا اور ان کا بدلہ جہنم ہے چونکہ یہ منکر رہے اور کفر پر قائم رہے اور میری قدرتوں کا اور میرے قرآن کریم کا اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے۔