Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 5

سورة الكهف

مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِہِمۡ ؕ کَبُرَتۡ کَلِمَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ؕ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا کَذِبًا ﴿۵﴾

They have no knowledge of it, nor had their fathers. Grave is the word that comes out of their mouths; they speak not except a lie.

در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو ۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَّا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ... No knowledge have they of such a thing, meaning, this thing that they have fabricated and made up. ... وَلاَ لاِبَايِهِمْ ... nor had their fathers. meaning, their predecessors. ... كَبُرَتْ كَلِمَةً ... Mighty is the word, This highlights the seriousness and enormity of the lie they have made up. Allah says: ... كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ... Mighty is the word that comes out of their mouths. meaning, it has no basis apart from what they say, and they have no evidence for it apart from their own lies and fabrications. Hence Allah says: ... إِن يَقُولُونَ إِلاَّ كَذِبًا They utter nothing but a lie. Reason why this Surah was revealed Muhammad bin Ishaq mentioned the reason why this Surah was revealed. He said that an old man from among the people of Egypt who came to them some forty-odd years ago told him, from Ikrimah that Ibn Abbas said: "The Quraysh sent An-Nadr bin Al-Harith and Uqbah bin Abi Mu`it to the Jewish rabbis in Al-Madinah, and told them: `Ask them (the rabbis) about Muhammad, and describe him to them, and tell them what he is saying. They are the people of the first Book, and they have more knowledge of the Prophets than we do.' So they set out and when they reached Al-Madinah, they asked the Jewish rabbis about the Messenger of Allah. They described him to them and told them some of what he had said. They said, `You are the people of the Tawrah and we have come to you so that you can tell us about this companion of ours.' They (the rabbis) said, `Ask him about three things which we will tell you to ask, and if he answers them then he is a Prophet who has been sent (by Allah); if he does not, then he is saying things that are not true, in which case how you will deal with him will be up to you. - Ask him about some young men in ancient times, what was their story For theirs is a strange and wondrous tale. - Ask him about a man who travelled a great deal and reached the east and the west of the earth. What was his story? - And ask him about the Ruh (soul or spirit) -- what is it? If he tells you about these things, then he is a Prophet, so follow him, but if he does not tell you, then he is a man who is making things up, so deal with him as you see fit.' So An-Nadr and Uqbah left and came back to the Quraysh, and said: `O people of Quraysh, we have come to you with a decisive solution which will put an end to the problem between you and Muhammad. The Jewish rabbis told us to ask him about some matters,' and they told the Quraysh what they were. Then they came to the Messenger of Allah and said, `O Muhammad, tell us,' and they asked him about the things they had been told to ask. The Messenger of Allah said, أُخْبِرُكُمْ غَدًا عَمَّا سَأَلْتُمْ عَنْه (I will tell you tomorrow about what you have asked me), but he did not say `If Allah wills.' So they went away, and the Messenger of Allah stayed for fifteen days without any revelation from Allah concerning that, and Jibril, peace be upon him, did not come to him either. The people of Makkah started to doubt him, and said, `Muhammad promised to tell us the next day, and now fifteen days have gone by and he has not told us anything in response to the questions we asked.' The Messenger of Allah felt sad because of the delay in revelation, and was grieved by what the people of Makkah were saying about him. Then Jibril came to him from Allah with the Surah about the companions of Al-Kahf, which also contained a rebuke for feeling sad about the idolators. The Surah also told him about the things they had asked him about, the young men and the traveler. The question about the Ruh was answered in the Ayah; وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ (And they ask you concerning the Ruh (the spirit); say: "The Ruh..."). (17:85)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 اس کلمہ تہمت سے مراد یہی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جو نرا جھوٹ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] کیونکہ اللہ کے لیے اولاد قرار دینا انتہائی گستاخی کی بات ہے اور یہ ایسی بات ہے جس کا الہامی کتابوں کی سچی تعلیم میں کہیں ڈھونڈے سے بھی سراغ نہیں مل سکتا اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ان لوگوں کے بزرگوں اور آباؤ اجداد میں سے کسی نے ایسی بات کہہ دی اور بلا تحقیق کہہ دی۔ بعد میں آنے والی نسلوں میں یہی بلاتحقیق & جھوٹی اور انہونی بات ان کے عقیدہ میں شامل ہوگئی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ ۔۔ : یعنی اللہ کی اولاد ہونے کی کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس، کیونکہ علم وہ ہے جس کی کوئی دلیل ہو۔ ان کے باپ دادا نے کسی علم کے بغیر محض جہل سے یہ بات نکالی اور انھوں نے محض جہالت کی بنا پر ان کی تقلید کی۔ ابن قیم (رض) نے تقلید کے بارے میں کیا خوب کہا ؂ اَلْعِلْمُ قَال اللّٰہُ قَالَ رَسُوْلُہُ مَا ذَاکَ وَالتَّقْلِیْدُ یَسْتَوِیَانِ اِذْ أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ مُقَلِّدًا لِلنَّاسِ وَالْأَعْمَی ھُمَا سَیَّانِ ” علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا اور اس کے رسول نے فرمایا۔ یہ اور تقلید برابر نہیں ہیں، کیونکہ علماء کا اتفاق ہے کہ لوگوں کی تقلید کرنے والا اور اندھا دونوں برابر ہیں۔ “ كَبُرَتْ كَلِمَةً ۔۔ : ” كَبُرَتْ “ مذمت کے لیے فعل ماضی ہے، گویا افعال مدح و ذم کے قبیل سے ہے۔ ” كَبُرَتْ “ فعل ذم ہے، اس کا فاعل ” ھِیَ “ محذوف ہے، ” كَلِمَةً “ تمیز ہے، یعنی یہ جو کچھ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، یہ بطور کلمہ (یعنی منہ سے بولنے کے لحاظ سے) ہی بہت بڑی بات ہے، کجا یہ کہ اس کا عقیدہ رکھا جائے۔ اس میں کچھ تعجب کا اظہار بھی ہے کہ کتنی بڑی بات انھوں نے اپنے منہ سے نکال دی۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88؀ۭلَقَدْ جِئْتُمْ شَـيْــــــًٔـا اِدًّا 89؀ۙتَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۝ ۙاَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا 91۝ۚوَمَا يَنْۢبَغِيْ للرَّحْمٰنِ اَنْ يَّـتَّخِذَ وَلَدًا 92۝ۭاِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا 93؀ۭلَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا 94؀ۭوَكُلُّهُمْ اٰتِيْهِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَرْدًا) [ مریم : ٨٨ تا ٩٥ ] ” اور انھوں نے کہا رحمٰن نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔ بلاشبہ یقیناً تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو۔ آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گرپڑیں کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا، حالانکہ رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔ بلاشبہ یقیناً اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕہِمْ۝ ٠ۭ كَبُرَتْ كَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ۝ ٠ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا۝ ٥ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ كبير وأكْبَرْتُ الشیء : رأيته كَبِيراً. قال تعالی: فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ [يوسف/ 31] . ( ک ب ر ) کبیر اکبرت الشئی کے معنی کسی چیز کو بڑا خیال کرنے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے ؛ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ [يوسف/ 31] جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب ان پر چھا گیا كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ فوه أَفْوَاهُ جمع فَمٍ ، وأصل فَمٍ فَوَهٌ ، وكلّ موضع علّق اللہ تعالیٰ حکم القول بِالْفَمِ فإشارة إلى الکذب، وتنبيه أنّ الاعتقاد لا يطابقه . نحو : ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] ، وقوله : كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5]. ( ف و ہ ) افواہ فم کی جمع ہے اور فم اصل میں فوہ ہے اور قرآن پاک میں جہاں کہیں بھی قول کی نسبت فم یعنی منہ کی طرف کی گئی ہے وہاں در وغ گوئی کی طرف اشارہ ہے اور اس پر تنبیہ ہے کہ وہ صرف زبان سے ایسا کہتے ہیں ان کے اندرون اس کے خلاف ہیں جیسے فرمایا ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں ۔ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] بات جوان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ صدق وکذب الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ الکذب یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) نہ تو ان کے اس دعوی کی کوئی دلیل وحجت ان کے پاس ہے اور نہ انکے باپ دادا کے پاس تھی اور یہ شرک کی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ ) انہوں نے یہ جو عقیدہ ایجاد کیا ہے اس کی نہ تو ان کے پاس کوئی علمی سند ہے اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کے پاس تھی۔ (كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ) یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اولاد منسوب کر کے اس کی شان میں بہت بڑی گستاخی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3. “Dreadful is the word” That one is the son of God, or Allah has adopted that one as a son. This has been declared to be dreadful because it was not based o any knowledge that Allah has a son or has adopted a son. They had merely exaggerated their love for someone and invented such a relationship. And they do not realize that it is a dreadful blasphemy, impudence and fabrication that they are uttering in regards to Allah, the Lord of the worlds.

سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :3 یعنی ان کا یہ قول کہ فلاں خدا کا بیٹا ہے ، یا فلاں کو خدا نے بیٹا بنا لیا ہے ، کچھ اس بنیاد پر نہیں ہے کہ ان کو خدا کے ہاں اولاد ہونے یا خدا کے کسی کو متبنیٰ بنانے کا علم ہے ، بلکہ محض اپنی عقیدت مندی کے غلو میں وہ ایک من مانا حکم لگا بیٹھے ہیں اور ان کو کچھ احساس نہیں ہے کہ وہ کیسی سخت گمراہی کی بات کہہ رہے ہیں اور کتنی بڑی گستاخی اور افترا پردازی ہے جو اللہ رب العالمین کی جناب میں ان سے سرزد ہو رہی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:5) کبرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس کا فاعلھی ضمیر مستتر ہے۔ اور کلمۃ اس کی تمیز ہے اور اس واسطے منصوب ہے۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم۔ کتنی بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے۔ یعنی ان کی زبانیں کیسے شدید گستاخانہ عقیدہ بیان کر رہی ہے (یہ اسلوب بیان اظہار تعجب کے لئے اختیار کیا گیا) ۔ ان یقولون میں ان نافیہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 محض جہالت کی بنا پر ان کے باپ دادا نے یہ بات نکالی اور محض جہالت کی بنا پر انہوں نے ان کی تقلید کی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

مالھم بہ من علم ولا لابئھم (٨١ : ٥) ” بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ، وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔ “ قرآن کریم نے ان کے کلام اور ان کے عقیدے کے لئے جو الفاظ چنے ہیں وہ تعبیر مفہوم اور الفاظ کی آواز دونوں کے اعتبار سے ان کے کلمہ اور ان کی بات کے قابل مذمت ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلا لفظ ہے (کبرت) تاکہ سننے والے کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ جو بات کرتے ہیں وہ غایت درجے کی قابل مذمت اور بہت بڑی بات ہے باعتبار نتائج۔ کلمۃ تو ضمیر جملہ سے تمیز کے طور پر لایا گیا۔ یعنی کبرت کے اندر موجود ضمیر ہے۔ یہ زیادہ متوجہ کرنے کے لئے کہ ان کے منہ سے یہ عظیم با بڑی لاپرواہی اور بےت کے انداز میں نکل رہی ہے اور بغیر کسی احتیاط اور جھجک کے بس نکلی چلی آرہی ہے۔ تخرج من افواھھم (٨١ : ٥) ” ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ “ افواھھم کا تلفظ بھی بڑا برا ہے اور مفہوم کے اعتبار سے بھی اس لفظ سے ان کی بات زیادہ قابل مذمت معلوم ہوتی ہے اور لفظی اعتبار سے بھی ایک شخص اس لفظ کو منہ کھول کر افوا ادا کرتا ہے اور اس کے بعد باہم متصل دوھاء کی ادائیگی سے اس کا منہ بھر جاتا ہے اور ہم تک پہنچتے پہنچتے اس کا منہ پھول جاتا ہے۔ لہٰذا مفہوم اور ترکیب اور تلفظ تینوں اعتبار سے اس بات اور کلمہ کی شناخت کا اظہار ہوتا ہے اور پھر اس کی بعد تاکید منفی بھی آجاتی ہے۔ یعنی : ان یقولون الا کذباً (٨١ : ٥) (نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ۔ “ پھر یہاں ما یقولون نہیں کہا ہے۔ ان یقولون کہا ہے کیونکہ لفظ ان میں نون سکان ہونے کی وجہ سے سختی اور فیصلہ کن انداز پایا جاتا ہے اور ما میں مد الف ہے جو نرم بات کو ظاہر کرتی ہے۔ اور یہ سب لفظی اور معنوی سختی محض تاکید کے لئے کہی گئی ہے کہ یہ کلمہ یا یہ بات جو یہ آگ کہتے ہیں ، نہایت ہی عظیم بات ہے اور اس کے نتائج ان کے لئے بہت ہی سنگین ہیں۔ “ ان کی اس بات پر گرفت شدید کے ساتھ ساتھ اس طرح کی ایک تنبیہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی کی جاتی ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات پر بہت ہی پریشان تھے کہ آپ کی قوم کی تکذیب کر رہی ہے اور ایسے طریقے اختیار کر رہی ہے جن کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ، تو حضور اکرم کو بھی ذرا سخت الفاظ میں کہا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ یہ ان کے قول باطل کا رد ہے ” بہ “ میں ضمیر مجرور ان کے قول مذکور کی طرف راجع ہے۔ یعنی ان کا قول سراسر جہالت سے ناشی ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے نہ ان کے باپ دادا کے پاس اس دعوی کی کوئی دلیل تھی۔ جن سے ان مشرکوں نے یہ غلط بات سیکھی اور جن کی تقلید میں وہ بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا ناپاک افترا کرنے لگے۔ و ذکر الاباء لان تلک المقالۃ قد اخذوھا عنھم وتلقوھا منہم (بحر ج 6 ص 97) ۔ ” ابآء “ (باپ دادا) سے مراد عام ہے خواہ جسمانی ہوں یا روحانی اس طرح یہ لفظ ان غلط کار عالموں اور پیروں کو بھی شامل ہوجائے گا۔ جنہوں نے انہیں اس گمراہی اور شرک کی راہ پر ڈالا۔ ولا لابائھم ای اسلافہم (قرطبی ج 10 ص 353، ابن کثیر ج 3 ص 70) ۔ 7:۔ ” کبرت کلمۃ الخ “ کلمۃ منصوب ہے۔ اور ” کبرت “ کی ضمیر سے تمییز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کے لیے ولد اور نائب متصرف تجویز کرنا بہت سنگین بات ہے اور کفر و افترا کے اعتبار سے بہت بڑی ہے۔ تعجب ہے کہ ایسی بری اور ناپاک بات ان کی زبان پر کس طرح آتی ہے۔ ” ان یقولون الا کذبا “ یہ جملہ ماقبل ہی کی تاکید اور قول مذکر کی مزید قباحت وشناعت بیان کرنے کے لیے لایا گیا ہے یعنی ان کا قول صریح جھوٹ اور خلاف واقعہ ہے اور اس میں سچائی اور واقعیت کا شائبہ تک نہیں۔ ای ما یقولون فی ذالک الشان الا قولا کذبا لا یکاد یدخل تحت امکان الصدق اصلا (روح ج 15 ص 204، ابو السعود ج 5 ص 676) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 حالانکہ اس لغو دعوے کی کوئی دلیل نہ تو ان کے پاس ہے اور نہ ان کے بڑوں اور ان کے باپ دادوں کے پاس کوئی دلیل تھی جو ان کے منہوں سے نکلتی ہے بڑی بھاری بات ہے جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ سراسر کذب اور جھوٹ ہے۔ یعنی اپنے خاص اور مقرب بندے پر اس کتاب کو نازل فرمایا اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں نہ لفظاً نہ معنی عبارت نہایت سلیس اور شستہ معنی میں کوئی تناقص نہیں قیم سیدھی افراط تفریط سے پاک یا دیگر کتب سماویہ کی صحت و تصدیق کرنے والی اور ان کی تعلیمات کو دنیا میں قائم رکھنے والی یا بندوں کی ضروریات اور ان کی مصالح کی کفالت کرنے والی اور ان کی دنیا اور دین کو سنوارنے والی وغیرہ۔ ہم نے سیدھی اور ٹھیک کے ساتھ ترجمہ کیا ہے، سخت عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہے کہ یہ کتاب اس سے ڈراتی اور خوف دلاتی ہے اور ایمان والوں کو آخرت کے اجر وثواب اور بیکراں انعامات کی خوشی سناتی ہے جن انعامات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ابدی راحت سے مستفید ہوں گے اور علاوہ دیگر منکرین کے ان لوگوں کو بھی یہ کتاب ڈرائے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد تجویز کرتے ہیں جیسے یہود و نصاریٰ اور عرب کے بعض مشرک یہ اولاد تجویز کرنا ایک ایسا نامعقول دعویٰ ہے جس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ ان کے بڑے بھی دلیل سے خالیا ور تہیدست تھے اور یہ اولاد کی بات جو ان کے منہوئوں سے نکلتی ہے بہت ہی بھاری اور خطرناک بات ہے اور چونکہ یہ عقلاً اور نقلاً ہر اعتبار سے غلط ہے اس لئے یہ کہنا ان کا سراسر کذب ہے اور یہ جو کہتے ہیں وہ بالکل جھوٹ ہے۔