Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 55

سورة الكهف

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰی وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا ﴿۵۵﴾

And nothing has prevented the people from believing when guidance came to them and from asking forgiveness of their Lord except that there [must] befall them the [accustomed] precedent of the former peoples or that the punishment should come [directly] before them.

لوگوں کے پاس ہدایت آچکنے کے بعد انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے صرف اسی چیز نے روکا کہ اگلے لوگوں کا سا معاملہ انہیں بھی پیش آئے یا ان کے سامنے کھلم کھلا عذاب آ موجود ہو جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Rebellion of the Disbelievers Allah tells: وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُوْمِنُوا إِذْ جَاءهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ ... And nothing prevents men from believing, while the guidance has come to them, and from asking forgiveness of their Lord, Allah tells us about the rebellion of the disbelievers in ancient times and in more recent times, and how they rejected the obvious truth even when they witnessed clear signs and proofs. Nothing stopped them from following the truth except their demand to witness with their own eyes the punishment which they were being warned about. As some of them said to their Prophet: فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَأءِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ So cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful! (26:187) Others said: ايْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ Bring Allah's torment upon us if you are one of the truthful. (29:29) The Quraysh said: اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَأءِ أَوِ ايْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring upon us a painful torment. (8:32) وَقَالُواْ يأَيُّهَا الَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ لَّوْ مَا تَأْتِينَا بِالْمَلَـيِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ And they say: "O you to whom the Reminder has been sent down! Verily, you are a mad man! Why do you not bring angels to us if you are of the truthful!" (15:6-7) There are other Ayat referring to the same thing. Then Allah says: ... إِلاَّ أَن تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الاَْوَّلِينَ ... except that the ways of the ancients be repeated with them, meaning, their overwhelming punishment, destroying every last one of them. ... أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلً or the torment be brought to them face to face. they see it with their own eyes, being directly confronted with it. Then Allah says:

عذاب الہٰی کے منتظر کفار اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اسکی تابعداری سے رکے رہتے ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں کو اپنے آنکھوں دیکھ لیں کسی نے تمنا کی کہ آسمان ہم پر گر پڑے کسی نے کہا کہ لا جو عذاب لا سکتا ہے لے آ ۔ قریش نے بھی کہا اے اللہ اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب ہمیں کر ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اے نبی ہم تو تجھے مجنوں جانتے ہیں اور اگر فی الواقع تو سچا نبی ہے تو ہمارے سامنے فرشتے کیوں نہیں لاتا ؟ وغیرہ وغیرہ پس عذاب الہٰی کے انتظار میں رہتے ہیں اور اس کے معائنہ کے درپے رہتے ہیں ۔ رسولوں کا کام تو صرف مومنوں کو بشارتیں دینا اور کافروں کو ڈرا دینا ہے ۔ کافر لوگ ناحق کی حجتیں کر کے حق کو اپنی جگہ سے پھسلا دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ چاہت کبھی پوری نہیں ہو گی حق ان کی باطل باتوں سے دبنے والا نہیں ۔ یہ میری آیتوں اور ڈراوے کی باتوں کو خالی مذاق سمجھ رہے ہیں اور اپنی بے ایمانی میں بڑھ رہے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

55۔ 1 یعنی تکذیب کی صورت میں ان پر بھی اسی طرح عذاب آئے، جیسے پہلے لوگوں پر آیا۔ 55۔ 2 یعنی اہل مکہ ایمان لانے کے لئے ان دو باتوں میں سے کسی ایک کے منتظر ہیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو یہ پتہ نہیں کہ اس کے بعد ایمان کی کوئی حیثیت ہی نہیں یا اس کے بعد ایمان لانے کا ان کو موقع ہی کب ملے گا ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٣] یعنی دلائل دینے کے لحاظ سے تو ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ایک طالب ہدایت کے لیے یہ دلائل بہت کافی ہے۔ مگر یہ لوگ محض دلائل سے راہ راست پر آنے والے نہیں ہیں۔ اب بس انھیں عذاب کا انتظار ہے۔ یہ لاتوں کے بھوت جوتے کھا کر ہی سیدھے ہوں گے۔ اس وقت انھیں حقیقت تو معلوم ہوجائے گی مگر اس وقت اس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا ۔۔ : اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں کی تائید میں آیات موجود ہیں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے واضح نشانیاں لانے کے باوجود لوگوں کو ایمان لانے اور استغفار سے روکا تو صرف اس بات نے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ان پر ہمارا عذاب اسی طریقے سے نہ آجائے جس طرح پہلے لوگوں، مثلاً قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ پر آیا، جس نے انھیں جڑ سے اکھیڑ دیا، یا قیامت کے دن کا عذاب ان کے سامنے نہ آجائے، یعنی ان کی تقدیر ہی میں ایمان لانا نہیں ہے۔ یہ قضیہ ” مَانِعَۃُ الْخَلْوِ “ ہے۔ یعنی ان دونوں چیزوں میں سے ایک ضرور ہوگی کہ اگر دنیا میں پہلے لوگوں جیسے عذاب سے بچے رہے تو قیامت کا عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے ضرور آئے گا اور دونوں جمع بھی ہوسکتے ہیں کہ دنیا میں پہلے لوگوں کی طرح عذاب بھی آئے گا اور آخرت میں بھی عذاب کو سامنے دیکھ لیں گے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک بھی نہ ہو۔ اس معنی کی تائید میں فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۝ ۙوَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ) [ یونس : ٩٦، ٩٧ ] ” بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ “ اس معنی کی مزید آیات کے لیے دیکھیے یونس (١٠١) اور مائدہ (٤١) ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے ایمان لانے اور استغفار کرنے سے روکا تو صرف ان کے اس مطالبے نے کہ ان پر پہلے لوگوں جیسا جڑ سے اکھاڑ دینے والا عذاب آجائے، یا قیامت کا عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے، یعنی وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے اسی مطالبے پر ڈٹے رہے، نہ ایمان لائے نہ اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ اس مفہوم کی آیات بہت ہیں، مثلاً شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے، اگر تو سچوں سے ہے۔ (شعراء : ١٨٧) اسی طرح قوم ہود کا مطالبہ (احقاف : ٢٢) ، ثمود کا مطالبہ (اعراف : ٧٧) ، قوم لوط (عنکبوت : ٢٩) ، قوم نوح (ہود : ٣٢) اور مشرکین مکہ کا مطالبہ (انفال : ٣٢) آیت میں دونوں معنی کی گنجائش ہے اور دونوں درست ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَہُمُ الْہُدٰى وَيَسْتَغْفِرُوْا رَبَّہُمْ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَہُمْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِيْنَ اَوْ يَاْتِيَہُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا۝ ٥٥ منع المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ تعالی: وَيَمْنَعُونَ الْماعُونَ [ الماعون/ 7] ، وقال : مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق/ 25] ، ويقال في الحماية، ومنه : مكان منیع، وقد منع وفلان ذو مَنَعَة . أي : عزیز ممتنع علی من يرومه . قال تعالی: أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] ، وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ [ البقرة/ 114] ، ما مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ [ الأعراف/ 12] أي : ما حملک ؟ وقیل : ما الذي صدّك وحملک علی ترک ذلک ؟ يقال : امرأة منیعة كناية عن العفیفة . وقیل : مَنَاعِ. أي : امنع، کقولهم : نَزَالِ. أي : انْزِلْ. ( م ن ع ) المنع ۔ یہ عطا کی ضد ہے ۔ رجل مانع امناع بخیل آدمی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيَمْنَعُونَالْماعُونَ [ الماعون/ 7] اور برتنے کی چیزیں عاریۃ نہیں دیتے ۔ مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق / 25] جو مال میں بخل کر نیوالا ہے اور منع کے معنی حمایت اور حفاظت کے بھی آتے ہیں اسی سے مکان منیع کا محاورہ ہے جس کے معیم محفوظ مکان کے ہیں اور منع کے معنی حفاظت کرنے کے فلان ومنعۃ وہ بلند مر تبہ اور محفوظ ہے کہ اس تک دشمنوں کی رسائی ناممکن ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانون کے ہاتھ سے بچایا نہیں ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ [ البقرة/ 114] اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا کی سجدوں سے منع کرے ۔ اور آیت : ۔ ما مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ [ الأعراف/ 12] میں مانععک کے معنی ہیں کہ کسی چیز نے تمہیں اکسایا اور بعض نے اس کا معنی مالذی سدک وحملک علٰی ترک سجود پر اکسایا او مراۃ منیعۃ عفیفہ عورت ۔ اور منا ع اسم بمعنی امنع ( امر ) جیسے نزل بمعنی انزل ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ سنن وتنحّ عن سَنَنِ الطّريق، وسُنَنِهِ وسِنَنِهِ ، فالسُّنَنُ : جمع سُنَّةٍ ، وسُنَّةُ الوجه : طریقته، وسُنَّةُ النّبيّ : طریقته التي کان يتحرّاها، وسُنَّةُ اللہ تعالی: قد تقال لطریقة حکمته، وطریقة طاعته، نحو : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23] ، وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] ، فتنبيه أنّ فروع الشّرائع۔ وإن اختلفت صورها۔ فالغرض المقصود منها لا يختلف ولا يتبدّل، وهو تطهير النّفس، وترشیحها للوصول إلى ثواب اللہ تعالیٰ وجواره، وقوله : مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] ، قيل : متغيّر، وقوله : لَمْ يَتَسَنَّهْ [ البقرة/ 259] ، معناه : لم يتغيّر، والهاء للاستراحة «1» . سنن تنح عن سنن الطریق ( بسین مثلثہ ) راستہ کے کھلے حصہ سے مٹ ج اور ۔ پس سنن کا لفظ سنۃ کی جمع ہے اور سنۃ الوجہ کے معنی دائرہ رد کے ہیں اور سنۃ النبی سے مراد آنحضرت کا وہ طریقہ ہے جسے آپ اختیار فرماتے تھے ۔ اور سنۃ اللہ سے مراد حق تعالیٰ کی حکمت اور اطاعت کا طریقہ مراد ہوتا ہے جیسے فرمایا : سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23]( یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے ۔ تو آیت میں اس بات پر تنبیہ پائی جاتی ہے ۔ کہ شرائع کے فروغی احکام کی گو مختلف صورتیں چلی آئی ہیں ۔ لیکن ان سب سے مقصد ایک ہی ہے ۔ یعنی نفس کو پاکر کرنا اور اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب اور اس کا جوار حاصل کرنے کے لئے تیار کرنا اور یہ مقصد ایسا ہے کہ اس میں اختلاف یا تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ اور آیت : مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] سڑے ہوئے گارے سے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٥) اور اہل مکہ کو جو کہ بدر کے دن مارے گئے بعد اس کے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس قرآن کریم لے کر پہنچ چکے ہیں آپ پر اور قرآن کریم پر ایمان لانے اور کفر وشر سے توبہ کرنے سے اور کوئی امر مانع نہیں رہا، سوائے اس کے کہ ان کو اس کا انتظار رہا کہ اگلوں کے ساتھ ہلاکت و بربادی کا جیسا معاملہ کیا گیا ہے وہی ان کے ساتھ بھی کیا جائے یا یہ کہ بدر کے دن صحابہ کرام کی تلواریں ان کے سامنے نکل پڑیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٥ (وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰى وَيَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ ) اس آیت کی مشابہت سورة بنی اسرائیل کی آیت ٩٤ کے ساتھ ہے۔ دونوں آیات کے پہلے حصوں کے الفاظ ہو بہو ایک جیسے ہیں۔ (اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ ) یہ لوگ جو ہدایت آجانے کے بعد بھی ایمان نہیں لا رہے اور اللہ کے حضور استغفار نہیں کر رہے ہیں تو اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ان کے لیے بھی پہلی قوموں کا سا انجام لکھا جا چکا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

52. This is to warn the people that the Quran has left no stone unturned in making the truth plain. It has employed all kinds of arguments, parables, similitude and used all the possible effective ways to appeal to the heart and the mind of man, and adopted the best possible style. If, in spite of this, they do not accept the truth, it is obvious that they are waiting for God’s scourge like the one that visited the former communities to make them realize their error.

سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :52 یعنی جہاں تک دلیل و حجت کا تعلق ہے ، قرآن نے حق واضح کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے ۔ دل اور دماغ کو اپیل کرنے کے جتنے مؤثر طریقے اختیار کرنے ممکن تھے ، وہ سب بہترین انداز میں یہاں اختیار کیے جا چکے ہیں ۔ اب وہ کیا چیز ہے جو انہیں قبول حق میں مانع ہو رہی ہے؟صرف یہ کہ انہیں عذاب کا انتظار ہے ۔ جوتے کھائے بغیر سیدھے نہیں ہونا چاہتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

32: یعنی ان لوگوں پر ساری حجتیں تو تمام ہوچکیں۔ اب ان کے پاس اپنے کفر پر اس کے سوا کوئی دلیل باقی نہیں رہی کہ یہ پیغمبر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسا عذاب پچھلی امتوں پر آیا تھا، اگر ہم باطل پر ہیں تو ویسا ہی عذاب ہم پر لا کر دکھاؤ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پیغمبروں کا کام اپنے اختیار سے عذاب نازل کرنا نہیں ہوتا۔ وہ تو لوگوں کو عذاب سے متنبہ کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانوں پر فوراً عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ اپنی رحمت کی وجہ سے انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ اس مہلت کے دوران جن کو ایمان لانا ہو، وہ ایمان لے آئیں، البتہ اس کی طرف سے نافرمانوں کو عذاب دینے کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آئے گا تو کوئی اس عذاب کو ٹلا نہیں سکے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٥۔ ٥٩۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں میں طرح طرح کی مثالیں دے کر ان مشرکین مکہ کو سمجھایا جاتا ہے مگر یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے باز نہیں آتے کبھی کہتے ہیں اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے کبھی کہتے ہیں اگر تم اللہ کے رسول ہو تو مکہ کے گردو نواح کے پہاڑ ہٹا کر ان کی جگہ کھیتی کی زمین نکال دو ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے قرآن کی نصیحت نہ ماننے اور شرک سے باز نہ آنے کا یہی سبب ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں سے کچھ لوگوں پر پچھلی امتوں کی طرح دنیا کا کچھ عذاب وقت مقررہ سے پہلے ان میں کے جو لوگ شرک کی حالت پر مرجائیں گے ان کے سر پر آخرت کا عذاب ناگہاں آن کھڑا ہوگا۔ پھر فرمایا اللہ نے رسول اس لیے بھیجے ہیں کہ وہ نافرمان لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراویں اور فرمانبردار لوگوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشی سنائیں۔ اللہ کے رسول اس واسطے نہیں بھیجے گئے کہ ان سے اصحاب کہف یا ذوالقرنین کے قصے پوچھے جائیں یا مکہ کے گردو نواح کے پہاڑوں کو ہٹا دینے یا صفاو مروہ کے سونا ہوجانے کی خواہش پیش کی جائے یا قرآن کے احکام کو ہنسی میں اڑا دیا جائے ایسی باتوں سے مطلب ان لوگوں کا یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے جھوٹے جھگڑوں سے قرآن کی نصیحت کا اثر اوروں کے دلوں پر بھی جمنا نہیں چاہتے لیکن ان کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا جو اللہ چاہے گا وہ ہوگا اور اللہ کے ارادہ کے موافق جو کچھ ہوگا وہ ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ سورة حشر میں آئے گا کہ مشرکین مکہ تو اپنے ان جھوٹے جھگڑوں سے یہ چاہتے ہی رہے کہ قرآن نصیحت کا اثر لوگوں کے دلوں پر جمنے نہ پائے مگر اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ اسلام سے پہلے کی رسم کے موافق مدینہ سے مکہ میں حج کو آئے اور قرآن کی آیتیں سن کر قرآن کی نصیحت کا اثر ان کے دل میں اچھی طرح جم گیا اور منیٰ کی پہاڑ کی گھاٹی میں انہوں نے اسلام کی بیعت کی جس بیعت میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارہ شخص نقیب اسلام پھیلانے والے اس قبیلہ میں سے مقرر کیے اور اس بیعت کے بعد اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں۔ صحیح بخاری وغیرہ میں عبادہ (رض) بن صامت سے جو روایتیں ہیں ان میں یہ بیعت کا قصہ تفصیل سے ہے اصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں قریش کے جھوٹے جھگڑوں کا اور ان جھگڑوں سے قرآن کی نصیحت کا اثر لوگوں کے دل پر نہ جمنے دینے کا ذکر مختصر طور پر ہے اس بیعت کے قصے سے اس کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ یہ اہل مکہ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے جو کچھ چاہتے ہیں وہ ہرگز نہ ہوگا بلکہ اللہ جو چاہے گا وہی ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق جو کچھ ہوگا وہ ان اہل مکہ کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا کہ قرآن کی نصیحت انصار کے دل پر ایسی جم جائے گی کہ ان انصار کی مدد سے آخر کو مکہ فتح ہوجائے گا اور مشرکین مکہ کی یہاں تک ذلت ہوگی کہ اللہ کے رسول ان مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے مار مار کر زمین پر گرادیں گے اور کسی مشرک کو اتنی جرأت نہ ہوگی کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کی کچھ حمایت کرسکے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود (رض) کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی وہ حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے ١ ؎۔ جس میں بتوں کو زمین پر گرا دینے کا قصہ ہے اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی وہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎ جس میں بدر کی لڑائی کے وقت ان مشرکین میں کے بڑے بڑے سرکش سرداروں کے نہایت ذلت سے مارے جانے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوجانے کا قصہ ہے ان آیتوں میں دنیا اور آخرت کے عذاب کا جو وعدہ ہے اس کا ظہور اوپر کی روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے پھر فرمایا قرآن کی نصیحت کا تو وہ اثر ہے کہ قبیلہ خزرج کے لوگ چند روز کے لیے مکہ میں آئے اور قرآن کی نصیحت کا اثر ان کے دل پر ہوگیا اس صورت میں ان مکہ کے مشرکوں سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم کرنے والا دنیا میں کون ہوسکتا ہے۔ تیرہ برس تک ان کو قرآن کی آیتوں سے طرح طرح کی نصیحت کی گئی مگر ان لوگوں نے اس نصیحت کی طرف کچھ رخ نہیں کیا اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے پھر فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں اس لیے قرآن کی نصیحت کے سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور اس کے سننے سے ان کے کان بہرے ہیں جس کے سبب سے اے رسول اللہ کے قرآن کی تیرہ برس کی نصیحت نے ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچایا اور نہ آگے ایسے لوگوں کو قرآن کی نصیحت سے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے پہلے ایسے لوگوں کو مہلت دیتا ہے عذاب کے بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا پھر جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی عذاب میں پکڑ لیتا ہے۔ چناچہ جس طرح پچھلی امتیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئی ہیں ان سب کے عذاب میں یہی عادت الٰہی جاری رہی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے ٣ ؎ کہ نافرمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ پہلے مہلت دیتا ہے اس مہلت کے زمانہ میں اگر وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو پھر کسی طرح کے عذاب سے ان کو بالکل ہلاک کردیتا ہے عادت الٰہی جو اوپر بیان کی گئی ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی حدیث بھی گزر چکی ہے ٤ ؎۔ کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب جس قابل جو شخص پیدا ہوا ہے ویسے کام اس کو اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں۔ آیتوں میں جن لوگوں کا یہ حال بیان کیا گیا کہ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے سے ان کے دل پر پردہ پڑا ہوا ہے اور اس کے سننے سے ان کے کان بہرے ہیں یہ حدیث ان کے حال کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے علم میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں اس لیے ان کے کام بھی ویسے ہی ہیں۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٦١٤ ج ٦ باب این رکز البنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ ٢ ؎ تفسیر ہذاص ٢٣ ج ٣۔ ٣ ؎ مثلا تفسیر ہذاص ٥٣ ج ٣ ٤ ؎ تفسیر ہذاص ٩٠ ج ٣

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:55) ما منع الناس۔ میں ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ بھی۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ان کو ہدایت پہنچ چکی تھی ایمان لانے سے اور اپنے پروردگار سے مغفرت مانگنے سے کوئی امر مانع نہیں رہا تھا مگر بجز اس کے (ان کو اس کا انتظار ہو کہ) انہیں بھی اگلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا یہ کہ عذاب در عذاب ان پر نازل ہو۔ (تفسیر ماجدی) ۔ دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور کس چیز نے روکا ہے لوگوں کو اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئیں جب آگئی ان کے پاس ہدایت (کی روشنی) اور مغفرت طلب کریں اپنے رب سے مگر یہ کہ (وہ منتظر ہیں) آئے ان کے اگلوں کا دستور یا آئے ان کے پاس طرح طرح کا عذاب (ضیاء القرآن) قبلا۔ قبیل کی جمع ہے جیسے سبل سبیل کی جمع ہے۔ اس کا معنی طرح طرح کا عذاب یا عذاب پر عذاب۔ قبلا منصوب بوجہ حال ہونے کے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 اس لئے خواہ مخواہ کی حیل و حجت کئے جاتا ہے اور حق بات کی طرف نہیں آتا۔10 یعنی انہیں سمجھانے کے لئے جتنے طریقے ممکن تھے وہ سب قرآن اور محمد نے اختیار کئے۔ اب سوائے اس کے کہ انہیں پہلے لوگوں کے سے حشر کا انتظار ہے اور یہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونا چاہیے ہیں اور یک اچیز ہے جو انہیں حق کی طرف آنے سے مانع ہے ؟ ان بدبختوں کی قسمت میں یہی لکھا ہے۔ سچ ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مطلب یہ کہ کیا اس لئے ایمان نہیں لاتے کہ ایسے امور کا وقوع ہو تب ایمانلاویں گے، جیسا کہ ان کے حال سے مترشح ہے اور کہہ بھی ڈالتے تھے کہ ایسے امور کیوں نہیں واقع ہوتے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حالانکہ ان لوگوں کے پاس اس قدر راہنمائی آچکی تھی جو اس کے لئے کافی تھی کہ وہ راہ ہدایت پر آجائیں۔ لیکن انہوں نے راہ ہدایت کو اس لئے قبول نہ کیا کہ وہ اس قسم کے عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جیسا کہ ان سے پہلے مکذبین پر آیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ وہ کیوں ایسا خوفناک مطالبہ کرتے تھے یا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ عذاب لے آئیں وہ دیکھ لیں اور اس وقت وہ ایمان لائیں گے۔ لیکن یہ دونوں کام رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل بنیں ہیں۔ کیونکہ مکذبین کے سامنے معجزے پیش کرنا ، پھر انکار کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنا بھی رسولوں کے اختیار میں نہیں ہے جیسا کہ سابقہ رسولوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ یا معجزات کے علاوہ عذاب کا آجانا یہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ رسولوں کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ وہ خوشخبری دیں اور ڈرائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

59:۔ یہ زجر مع تخویف اخروی ہے۔ ” الناس “ سے مشرکین قریش مراد ہیں۔ المراد بھم کفار قریش (روح ج 15 ص 300) ۔ ” ان یومنوا “ اس سے پہلے من مقدر ہے اور ان مصدریہ ہے ای من ایمانھم۔ ” اذ “ منع کے متعلق ہے اور ” الھدی “ سے قرآن مجید یا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں اور ھدی کا اطلاق دونوں پر بطور مبالغہ ہے یعنی وہ سراپا ہدایت ہیں۔ ” ویستغفروا ربھم “ یہ ” یومنوا “ پر معطوف ہے ” الا ان تاتیھم الخ “ اس سے پہلے مستثنی منہ، محذوف ای شیء۔ ” قبلا “ قبیل کی جمع ہے اور مراد عذاب کی مختلف انواع و اقسام ہیں یہ ” العذاب “ سے حال واقع ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے ہوگا کہ جب مشرکین کے پاس اللہ کی طرف سے ہدایت آگئی تو اللہ کی توحید پر ایمان لانے، شرک کو ترک کرنے اور اپنے گذشتہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگنے سے ان کو دو چیزوں کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا۔ وہ اس انتظار میں رہے کہ یا تو ان سے وہی سلوک ہو جو پہلے زمانے میں مشرکین اور منکرینِ انبیاء سے ہوا یعنی ان کو ہلاک کردیا جائے اور ان کا استیصال ہوجائے۔ ” سنۃ الاولین “ سے یہی مراد ہے۔ المراد بھا الاھلاک بعذاب الاستیصال (روح) یا یہ کہ انہیں سرے سے ہلاک تو نہ کیا جائے بلکہ زندگی میں عذاب خداوندی مختلف صورتوں میں ان پر نازل ہوتا رہے۔ والمعنی انھم لا یقدمون علی الایمان الا عند نزول عذاب الاستیصال فیھلکوا وان یتواصل انواع العذاب والبلاء حال بقائھم فی الحیوۃ الدنیا (کبیر ج 5 ص 731) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

55 اور لوگوں کے پاس جس وقت ہدایت آچکی تو ہدایت آجانے کے بعد ان کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے استغفار کرنے اور بخشش طلب کرنے سے کوئی امر مانع نہیں رہا سوائے اس انتظار کے کہ ان لوگوں کو بھی گزشتہ لوگوں کی طرح کا معاملہ پیش آئے یا یہ کہ عذاب آخرت ان کے روبرو آموجود ہو اور عذاب ان کے سامنے آجائے۔ یعنی ہدایت کا مقتضایہ تھا کہ ہدایت آنے کے بعد ایمان لے آتے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو پہلی قوموں کے ساتھ جو معاملہ ہلاکت وغیرہ کا ہو اور وہ ان کے ساتھ بھی ہو اس عذاب استیصال کا انتظار کر رہے ہیں یا شاید اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ عذاب الٰہی ان کے سامنے آکھڑا ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کچھ اور انتظار نہیں رہا مگر یہی کہ پہلوں کی طرح ہلاک ہو ویں یا قیامت کا عذاب آنکھوں سے دیکھیں۔ 12 خلاصہ یہ کہ ہدایت کے آجانے کے بعد ایمان لانے سے کوئی امر مانع تو رہا نہیں بجز اس کے کہ پہلی نافرمان قوموں کی طرح عذاب میں مبتلا کردیئے جائیں یا قیامت کے عذاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں جب شاید مانیں تو گویا ان دونوں باتوں میں سے کسی ایک بات کے وقوع کا انتظار ہے۔