TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat ul Kaahaf - سورة الكهف | Verse 82 Translations

Every available translation of Surat ul Kaahaf, verse 82, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.

وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾  1
And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience."
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا ۔
Bookmark
Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

Info
وَاَمَّا
اور رہی
الۡجِدَارُ
دیوار
فَکَانَ
پس وہ تھی
لِغُلٰمَیۡنِ
دو لڑکوں کی
یَتِیۡمَیۡنِ
جو دونوں یتیم تھے
فِی الۡمَدِیۡنَۃِ
شہر میں
وَکَانَ
اور تھا
تَحۡتَہٗ
اس کے نیچے
کَنۡزٌ
ایک خزانہ
لَّہُمَا
ان دونوں کا
وَکَانَ
اور تھا
اَبُوۡہُمَا
ان دونوں کا باپ
صَالِحًا
نیک
فَاَرَادَ
تو ارادہ کیا
رَبُّکَ
آپ کے رب نے
اَنۡ
کہ
یَّبۡلُغَاۤ
وہ دونوں پہنچیں
اَشُدَّہُمَا
اپنی جوانی کو
وَیَسۡتَخۡرِجَا
اور وہ دونوں نکالیں
کَنۡزَہُمَا
اپنے خزانے کو
رَحۡمَۃً
بطور رحمت
مِّنۡ رَّبِّکَ
آپ کے رب کی طرف سے
وَمَا
اور نہیں
فَعَلۡتُہٗ
کیا میں نے اسے
عَنۡ اَمۡرِیۡ
اپنی رائے سے
ذٰلِکَ
یہ ہے
تَاۡوِیۡلُ
حقیقت
مَا
اس کو جو
لَمۡ
نہیں
تَسۡطِعۡ
تم کر سکے
عَّلَیۡہِ
جس پر
صَبۡرًا
صبر
Word by Word by

Nighat Hashmi

Info
وَاَمَّا
اور رہی
الۡجِدَارُ
دیوار
فَکَانَ
تو وہ تھی
لِغُلٰمَیۡنِ
دو لڑکوں کی
یَتِیۡمَیۡنِ
یتیم
فِی الۡمَدِیۡنَۃِ
شہر میں
وَکَانَ
اور تھا
تَحۡتَہٗ
اس کے نیچے
کَنۡزٌ
خزانہ
لَّہُمَا
ان دونوں کے لیے
وَکَانَ
اور تھا
اَبُوۡہُمَا
ان دونوں کا باپ
صَالِحًا
ایک نیک آدمی
فَاَرَادَ
چنانچہ ارادہ کیا
رَبُّکَ
تمہارے رب نے
اَنۡ
یہ کہ
یَّبۡلُغَاۤ
دونوں پہنچیں
اَشُدَّہُمَا
اپنی جوانی کو
وَیَسۡتَخۡرِجَا
اور وہ دونوں نکالیں
کَنۡزَہُمَا
اپنا خزانہ
رَحۡمَۃً
رحمت تھی
مِّنۡ رَّبِّکَ
تمہارے رب کی طرف سے
وَمَا فَعَلۡتُہٗ
اور نہیں میں نے کیا ایسا
عَنۡ اَمۡرِیۡ
اپنی مرضی سے
ذٰلِکَ
یہ ہے
تَاۡوِیۡلُ
اصل حقیقت
مَا
جو
لَمۡ تَسۡطِعۡ
آپ نہیں کرسکے
عَّلَیۡہِ
جس پر
صَبۡرًا
صبر
Translated by

Juna Garhi

Info

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience."

دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

اور دیوار کی بات یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں رہتے تھے۔ اس دیوار کے نیچے ان کے لئے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔ لہذا آپ کے پروردگار نے چاہا کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ جو کچھ میں نے کیا، سب آپ کے پروردگار کی رحمت تھی۔ میں نے اپنے اختیار سے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info

اوررہی وہ دیوار،تووہ شہر کے دویتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اوران دونوں کاباپ ایک نیک آدمی تھاچنانچہ تمہارے رب نے ارادہ کیاکہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اوراپنا خزانہ نکالیں، تمہارے رب کی ان سے رحمت تھی اورمیں نے اپنی مرضی سے ایسا نہیں کیا۔ ان باتوں کی اصل حقیقت یہ ہے جس پرآپ صبرنہ کرسکے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Info

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city and there was beneath it a treasure for them, and their father was a pious man. So your Lord willed that they reach their maturity and dig out their treasure - a mercy from your Lord. And I did not do it on my own ac-cord. This is the reality of things about which you could not remain patient.|"

اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے مال گڑا تھا ان کا اور ان کا باپ تھا نیک پھر چاہا تیرے رب نے کہ وہ پہنچ جائیں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا مال گڑا ہوا مہربانی سے تیرے رب کی اور میں نے یہ نہیں کیا اپنے حکم سے یہ ہے پھیر ان چیزوں کا جن پر تو صبر نہ کرسکا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں ۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا ۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں ۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے ۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے ۔ 60 ؏ 10

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Info

رہی یہ دیوار ، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی ، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا ، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا ۔ اس لیے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہنچیں ، اور اپنا خزانہ نکال لیں ۔ یہ سب کچھ آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہوا ہے ، اور میں نے کوئی کام اپنی رائے سے نہیں کیا ۔ یہ تھا مقصد ان باتوں کا جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا ۔ ( ٤١ )

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

اب دیوار کا قصہ سنو) وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی (ان کا باپ مرگیا تھا) اور اس کے تلے ان کا خزانہ (گڑا ہوا) تھا اور ان کا باپ (یا دادا) نیک بخت شخص تھا۔ تو تیرے مالک نے یہ چاہا کہ وہ دونوں (یتیم) جوان ہوجائیں اور 6 اپنا خزانہ جو ان ہو کر نکال لیں۔ یہ تیرے مالک کی مہربانی تھی ان پر اور میں نے اپنے اختیار سے یہ نہیں کیا (بلکہ اس مالک حقیقی کے حکم سے کیا) یہ اصل حقیقت 1 ہے ان باتوں کی جن پر تو صبر نہ کرسکا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Info

اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ بہت نیک تھا۔ سو آپ کے پروردگار نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ آپ کے گروردگار کی مہربانی سے اور میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیے۔ یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جس پر آپ صبرنہ کرسکے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

دیوار کو (صحیح کرنے کا مسئلہ یہ ہے) کہ وہ شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے مال گڑا ہوا تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ تو تمہارے رب نے چاہا کہ وہ جوان ہوں اور وہ دونوں (یتیم بچے) آپ کے رب کی رحمت سے گڑا ہوا مال نکال لیں اور یہ سب کچھ میں نے اپنی مضری سے نہیں کیا (بلکہ اللہ کے حکم سے کیا) یہ ہے (ان واقعات کی) حقیقت جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

Info

اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

Info

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the town and underneath it was a treasure belonging to them and their father had been righteous. So thy Lord intended that the twain should attain their maturity and bring forth for themselves their treasure as a mercy from thy Lord. And I did it not of mine own command; that is the interpretation of that wherewith thou wast not able to have patience.

اور رہی وہ دیوار سو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس (دیوار) کے نیچے ان کا دفینہ تھا ۔ اور ان کا باپ ایک مرد صالح تھا ۔ سو آپ کے پروردگار نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی پختگی کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ نکال لیں ۔ (یہ سب) آپ کے پروردگار کی مہربانی سے ہوا اور یہ (کوئی کام) میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا ۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

Info

اور رہا دیوار کا معاملہ تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی ۔ اس کے نیچے ان کا دفینہ تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا ۔ تیرے رب نے یہ چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا دفینہ نکالیں ۔ یہ تیرے رب کی عنایت سے ہوا اور یہ جو کچھ مین نے کیا ، اپنی رائے سے نہیں کیا ۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی ، جن پر تم صبر نہ کرسکے ۔

Translated by

Mufti Naeem

Info

اور جہاں تک دیوار کا تعلق ہے تو وہ شہر میں ( رہنے والے ) یتیم بچوں کی تھی اور اس ( دیوار ) کے نیچے ان دونوں کا خزانہ ( مدفون ) تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا پس تمہارے رب نے چاہا کہ یہ ( دونوں بچے ) اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور ( پھر ) اپنا خزانہ نکال لیں ، یہ آپ کے رب کی مہربانی ( کی وجہ سے ) ہے اور یہ ( کام ) میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیے ، یہ ہے ان چیزوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہ کرسکے ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

Info

اور وہ جو دیوار تھی وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا تو تمہارے رب نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ لے لیں یہ تمہارے رب کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے۔ یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

Info

رہی وہ دیوار تو اس کا معاملہ بھی یہ تھا کہ وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے محض اپنی مہربانی سے چاہا کہ وہ دونوں جوان ہو کر اپنی قوتوں کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ خود نکال لیں اور یہ سب کچھ میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا، سو یہ ہے حقیقت ان سب باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا

Translated by

Noor ul Amin

Info

اور دیوارکی بات یہ ہے کہ وہ دویتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس دیوار کے نیچے ان کے لئے خزانہ تھااوران کاباپ ایک نیک آدمی تھالہٰذاآ پ کے رب نے چاہاکہ یہ دونوں یتیم اپنی جو انی کو پہنچ کراپناخزانہ نکال لیںجو کچھ میں نے کیا ، آپ کے رب کی رحمت تھی میں نے اپنے اختیارسے نہیں کیا ، یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر آپ صبرنہ کرسکے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

Info

رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی ( ف۱۷۳ ) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا ( ف۱۷٤ ) اور ان کا باپ نیک آدمی تھا ( ف۱۷۵ ) تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں ( ف۱۷٦ ) اور اپنا خزانہ نکالیں ، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا ( ف۱۷۷ ) یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا ( ف۱۷۸ )

Translated by

Tahir ul Qadri

Info

اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں ( رہنے والے ) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ ( مدفون ) تھا اور ان کا باپ صالح ( شخص ) تھا ، سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ ( خود ہی ) نکالیں ، اور میں نے ( جو کچھ بھی کیا ) وہ اَز خود نہیں کیا ، یہ ان ( واقعات ) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے

Translated by

Hussain Najfi

Info

باقی رہا دیوار کا معاملہ تو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان بچوں کا خزانہ ( دفن ) تھا ۔ اور ان کا باپ نیک آدمی تھا ۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور یہ سب کچھ پروردگار کی رحمت کی بناء پر ہوا ہے ۔ اور میں نے جو کچھ کیا ہے اپنی مرضی سے نہیں کیا ( بلکہ خدا کے حکم سے کیا ) یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Info

"As for the wall, it belonged to two youths, orphans, in the Town; there was, beneath it, a buried treasure, to which they were entitled: their father had been a righteous man: So thy Lord desired that they should attain their age of full strength and get out their treasure - a mercy (and favour) from thy Lord. I did it not of my own accord. Such is the interpretation of (those things) over which thou wast unable to hold patience."

Translated by

Muhammad Sarwar

Info

"The tumbling wall belonged to two orphans in the town whose father was a righteous person. Underneath the wall there was a treasure that belonged to them. Your Lord wanted the orphans to find the treasure through the mercy of your Lord when they mature. I did not repair the wall out of my own desire. These were the explanations of my deeds about which you could not remain patient."

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

Info

"And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the town; and there was under it a treasure belonging to them; and their father was a righteous man, and your Lord intended that they should attain their age of full strength and take out their treasure as a mercy from your Lord. And I did them not of my own accord. That is the interpretation of those (things) over which you could not be patient.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

Info

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure belonging to them, and their father was a righteous man; so your Lord desired that they should attain their maturity and take out their treasure, a mercy from your Lord, and I did not do it of my own accord. This is the significance of that with which you could not have patience.

Translated by

William Pickthall

Info

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure belonging to them, and their father had been righteous, and thy Lord intended that they should come to their full strength and should bring forth their treasure as a mercy from their Lord; and I did it not upon my own command. Such is the interpretation of that wherewith thou couldst not bear.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

Info

और रही यह दीवार तो यह दो अनाथ बालकों की है जो इस नगर में रहते हैं। और इस के नीचे उन का ख़जाना मौजूद है। और उन का बाप नेक था, इसलिए तुम्हारे रब ने चाहा कि वे अपनी युवावस्था को पहुँच जाएँ और अपना ख़जाना निकाल लें। यह तुम्हारे रब की दयालुता के कारण हुआ। मैंने तो अपने अधिकार से कुछ नहीं किया। यह है वास्तविकता उस की जिस पर तुम धैर्य न रख सके।"

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Info

اور رہی دیوار سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں (رہتے) ہیں اور اس دیوار کے نیچے ان کا کچھ مال مدفون تھا (جو ان کے ماں باپ سے میراث میں پہنچا ہے) اور ان کا باپ (جو مر گیا ہے وہ) ایک نیک آدمی تھا سو آپ کے رب نے اپنی مہربانی سے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی (کی عمر) کو پہنچ جاویں اور اپنا دفینہ نکال لیں اور (یہ سارے کام میں نے بالہام الہٰی کیے ہیں ان میں سے) کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا لیجیئے یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info

” اور اس دیوار کی صورت حال یہ ہے کہ یہ دو یتیم بچوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ دفن ہے ان کا باپ نیک آدمی تھا اس لیے آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بڑے ہو کر اپنا خزانہ نکال لیں۔ جو کچھ میں نے کیا سب آپ کے پروردگار کی رحمت کی وجہ سے کیا ہے۔ میں نے اپنے اختیار سے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔ “ (٨٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لئے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا ہے۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جس پر تم صبر نہ سکے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

اور رہی دیوار تو اس کی صورت حال یہ ہے کہ وہ اس شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا، سو تیرے رب نے ارادہ فرمایا کہ یہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنے خزانے کو نکال لیں یہ تیرے رب کی مہربانی کی وجہ سے ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیے، یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر تم صبر نہ کرسکے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info

اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے مال گڑا تھا ان کا اور ان کا باپ تھا نیک پھر چاہا تیرے رب نے کہ وہ پہنچ جائیں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا مال گڑا ہوا مہربانی سے تیرے رب کی اور میں نے یہ نہیں کیا اپنے حکم سے یہ ہے پھیر ان چیزوں کا جن پر تو صبر نہ کرسکا

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

اور رہی وہ دیوار سو وہ گائوں کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوار کے نیچے ان لڑکوں کا مال مدفون تھا اور ان لڑکوں کا مرحوم باپ ایک نیک آدمی تھا پس تیرے رب نے اپنی رحمت سے یہ چاہا کہ وہ دونوں یتیم اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ خود نکال لیں اور ان تمام کاموں میں سے کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تجھ سے صبر نہ ہوسکا ۔

Related Verses

13
Surat ul Aeyraaf
7:123
قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ۚ اِنَّ ہٰذَا لَمَکۡرٌ مَّکَرۡتُمُوۡہُ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡہَاۤ اَہۡلَہَا ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
Said Pharaoh, "You believed in him before I gave you permission. Indeed, this is a conspiracy which you conspired in the city to expel therefrom its people. But you are going to know.
فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بیشک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تاکہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے ۔
Surat ut Tauba
9:101
وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕ ۛ وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ ۟ ۛ ؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾ۚ
And among those around you of the bedouins are hypocrites, and [also] from the people of Madinah. They have become accustomed to hypocrisy. You, [O Muhammad], do not know them, [but] We know them. We will punish them twice [in this world]; then they will be returned to a great punishment.
اور کچھ تمہارے گردو پیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ، آپ ان کو نہیں جانتے ان کو ہم جانتے ہیں ہم ان کو دوہری سزا دیں گے پھر وہ بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے ۔
Surat ut Tauba
9:120
مَا کَانَ لِاَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ وَ مَنۡ حَوۡلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمۡ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ لَا یُصِیۡبُہُمۡ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخۡمَصَۃٌ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَطَئُوۡنَ مَوۡطِئًا یَّغِیۡظُ الۡکُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّیۡلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
It was not [proper] for the people of Madinah and those surrounding them of the bedouins that they remain behind after [the departure of] the Messenger of Allah or that they prefer themselves over his self. That is because they are not afflicted by thirst or fatigue or hunger in the cause of Allah , nor do they tread on any ground that enrages the disbelievers, nor do they inflict upon an enemy any infliction but that is registered for them as a righteous deed. Indeed, Allah does not allow to be lost the reward of the doers of good.
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردو پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہیں تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں ، یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو تھکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لئے موجب غیظ ہوا ہو اور دشمنوں کی جو خبر لی ان سب پر ان کے نام ( ایک ایک ) نیک کام لکھا گیا ۔ یقیناً اللہ تعالٰی مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔
Surat Yousuf
12:30
وَ قَالَ نِسۡوَۃٌ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ ۚ قَدۡ شَغَفَہَا حُبًّا ؕ اِنَّا لَنَرٰىہَا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۰﴾
And women in the city said, "The wife of al-'Azeez is seeking to seduce her slave boy; he has impassioned her with love. Indeed, we see her [to be] in clear error."
اور شہر کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا کہ عزیز کی بیوی اپنے ( جوان ) غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے ، ان کے دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے ، ہمارے خیال میں تو وہ صریح گمراہی میں ہے ۔
Surat ul Hijir
15:67
وَ جَآءَ اَہۡلُ الۡمَدِیۡنَۃِ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
And the people of the city came rejoicing.
اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے ۔
Surat ul Kaahaf
18:19
وَ کَذٰلِکَ بَعَثۡنٰہُمۡ لِیَتَسَآءَلُوۡا بَیۡنَہُمۡ ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالُوۡا رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَکُمۡ بِوَرِقِکُمۡ ہٰذِہٖۤ اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ فَلۡیَنۡظُرۡ اَیُّہَاۤ اَزۡکٰی طَعَامًا فَلۡیَاۡتِکُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡہُ وَ لۡـیَؔ‍‍‍تَلَطَّفۡ وَ لَا یُشۡعِرَنَّ بِکُمۡ اَحَدًا ﴿۱۹﴾
And similarly, We awakened them that they might question one another. Said a speaker from among them, "How long have you remained [here]?" They said, "We have remained a day or part of a day." They said, "Your Lord is most knowing of how long you remained. So send one of you with this silver coin of yours to the city and let him look to which is the best of food and bring you provision from it and let him be cautious. And let no one be aware of you.
اسی طرح ہم نے انہیں جگا کر اٹھا دیا کہ آپس میں پوچھ گچھ کرلیں ۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ کیوں بھئی تم کتنی دیر ٹھہرے رہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن یا ایک دن سے بھی کم کہنے لگے کہ تمہارے ٹھہرے رہنے کا بخوبی علم اللہ تعالٰی ہی کو ہے ۔ اب توتم اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ چاندی دے کر شہر بھیجو وہ خوب دیکھ بھال لے کہ شہر کا کونسا کھانا پاکیزہ تر ہے پھر اسی میں سے تمہارے کھانے کے لئے لے آئے ، اور وہ بہت احتیاط اور نرمی برتے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے ۔
Surat un Namal
27:48
وَ کَانَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ تِسۡعَۃُ رَہۡطٍ یُّفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا یُصۡلِحُوۡنَ ﴿۴۸﴾
And there were in the city nine family heads causing corruption in the land and not amending [its affairs].
اس شہر میں نو سردار تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے رہتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے ۔
Surat ul Qasass
28:15
وَ دَخَلَ الۡمَدِیۡنَۃَ عَلٰی حِیۡنِ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ اَہۡلِہَا فَوَجَدَ فِیۡہَا رَجُلَیۡنِ یَقۡتَتِلٰنِ ٭۫ ہٰذَا مِنۡ شِیۡعَتِہٖ وَ ہٰذَا مِنۡ عَدُوِّہٖ ۚ فَاسۡتَغَاثَہُ الَّذِیۡ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ عَلَی الَّذِیۡ مِنۡ عَدُوِّہٖ ۙ فَوَکَزَہٗ مُوۡسٰی فَقَضٰی عَلَیۡہِ ٭۫ قَالَ ہٰذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۵﴾
And he entered the city at a time of inattention by its people and found therein two men fighting: one from his faction and one from among his enemy. And the one from his faction called for help to him against the one from his enemy, so Moses struck him and [unintentionally] killed him. [Moses] said, "This is from the work of Satan. Indeed, he is a manifest, misleading enemy."
اور موسیٰ ( علیہ السلام ) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا ، یہ ایک تو اس کے رفیقوںمیں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے ، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی ، جس پر موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اس کے مکا مارا جس سے وہ مر گیا موسیٰ ( علیہ السلام ) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے ۔
Surat ul Qasass
28:18
فَاَصۡبَحَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسۡتَنۡصَرَہٗ بِالۡاَمۡسِ یَسۡتَصۡرِخُہٗ ؕ قَالَ لَہٗ مُوۡسٰۤی اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸﴾
And he became inside the city fearful and anticipating [exposure], when suddenly the one who sought his help the previous day cried out to him [once again]. Moses said to him, "Indeed, you are an evident, [persistent] deviator."
صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے ، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے ۔ موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راہ ہے ۔