Surat Marium

Surah: 19

Verse: 50

سورة مريم

وَ وَہَبۡنَا لَہُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِیًّا ﴿۵۰﴾٪  6

And We gave them of Our mercy, and we made for them a reputation of high honor.

اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And We gave them of Our mercy, and We granted Sidqin `Aliyyan on the tongues. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "Sidqin `Aliyyan means the good praise." As-Suddi and Malik bin Anas said the same thing. Ibn Jarir said, "Allah only said `Aliyyan (loftiness, exalted) because all of the religions commend them and mention them with praises, may Allah's peace and blessing be upon them all."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

50۔ 1 یعنی نبوت کے علاوہ بھی اور بہت سی رحمتیں ہم نے انھیں عطا کیں، مثلا مال مزید اولاد اور پھر اسی سلسلہ نسب میں عرصہ دراز تک نبوت کے سلسلے کو جاری رکھنا یہ سب سے بڑی رحمت تھی جو ان پر ہوئی اسی لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ابو الانبیا کہلاتے ہیں۔ 50۔ 2 لسان صدق سے مراد ثنائے حسن اور ذکر جمیل ہے لسان کی اضافت صدق کی طرف کی اور پھر اس کا وصف علو بیان کیا جس سے اس طرف اشارہ کردیا کہ بندوں کی زبانوں پر جو ان کا ذکر جمیل رہتا ہے، تو وہ واقعی اس کے مستحق ہیں۔ چناچہ دیکھ لیجئے کہ تمام دیگر مذاہب کو ماننے والے بلکہ مشرکین بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا تذکرہ بڑے اچھے الفاظ میں اور نہایت ادب و احترام سے کرتے ہیں۔ یہ نبوت واولاد کے بعد ایک اور انعام ہے جو ہجرت فی سبیل اللہ کی وجہ سے انھیں حاصل ہوا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] سیدنا ابراہیم کی تمام مذاہب میں یکساں مقبولیت :۔ تمام مذاہب و ملل ان کی تعظیم و توصیف کرتے ہیں اور انھیں سے اپنے اپنے مذہب کا رشتہ جوڑتے ہیں اور انھیں ذکر خیر سے یاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ امت محمدیہ بھی ہمیشہ اپنی نمازوں میں رسول اللہ اور آپ کی آل پر درود پڑھتے ہیں تو ساتھ ہی سیدنا ابراہیم اور ان کی آل پر بھی درود پڑھتے ہیں۔ فی الحقیقت یہ سیدنا ابراہیم کی دعا ( وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ 84؀ۙ ) 26 ۔ الشعراء :84) کی مقبولیت کا ثمرہ ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا : ” مِنْ “ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” حصہ “ کیا ہے۔ اس رحمت سے مراد نبوت اور دینی و دنیوی بیشمار برکتیں ہیں، مثلاً اموال و اولاد کی کثرت، ارض مقدس کی خلافت، نسل در نسل نبوت و امامت وغیرہ۔ وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا : ابن عباس (رض) نے اس کی تفسیر ” ثَنَاءٌ حَسَنٌ“ (اچھی شہرت) فرمائی۔ [ طبری بسند ثابت ] ” لِسَانَ “ بول کر وہ چیز مراد لی ہے جو زبان کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی شہرت و ناموری، جیسا کہ ” یَدٌ“ بول کر احسان مراد لیتے ہیں، کیونکہ وہ ہاتھ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ” لِسَانَ صِدْقٍ “ سچی ناموری کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعی اس ناموری اور شہرت کے حق دار تھے اور ان کا عمل اس شہرت کو سچا ثابت کرتا تھا، اس لیے ان کا ذکر خیر ہمیشہ کے لیے لوگوں کی زبان پر جاری کردیا۔ چناچہ یہودی، عیسائی اور مسلمان سب ان کی تعظیم کرتے ہیں اور نماز میں درود ابراہیمی بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی مقبولیت ہی کا ثمر ہے۔ دیکھیے سورة شعراء (٨٤) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَوَہَبْنَا لَہُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَہُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا۝ ٥٠ۧ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، لسن اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فاختلاف الْأَلْسِنَةِ إشارة إلى اختلاف اللّغات، وإلى اختلاف النّغمات، فإنّ لكلّ إنسان نغمة مخصوصة يميّزها السّمع، كما أنّ له صورة مخصوصة يميّزها البصر . ( ل س ن ) اللسان ۔ زبان اور قوت گویائی کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] اور میری زبان کی گرہ گھول دے ۔ یہاں لسان کے معنی قلت قوت گویائی کے ہیں کیونکہ وہ بندش ان کی زبان پر نہیں تھی بلکہ قوت گویائی سے عقدہ کشائی کا سوال تھا ۔ محاورہ ہے : یعنی ہر قوم را لغت دلہجہ جدا است ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58]( اے پیغمبر ) ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ۔ بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] فصیح عربی زبان میں ۔ اور آیت کریمہ : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور نگوں کا اختلاف ۔ میں السنہ سے اصوات اور لہجوں کا اختلاف مراد ہے ۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح دیکھنے میں ایک شخص کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی اسی طرح قوت سامعہ ایک لہجہ کو دوسرے سے الگ کرلیتی ہے ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ علا العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعُلْوِيُّ والسُّفْليُّ المنسوب إليهما، والعُلُوُّ : الارتفاعُ ، وقد عَلَا يَعْلُو عُلُوّاً وهو عَالٍ وعَلِيَ يَعْلَى عَلَاءً فهو عَلِيٌّ فَعَلَا بالفتح في الأمكنة والأجسام أكثر . قال تعالی: عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] . وقیل : إنّ ( عَلَا) يقال في المحمود والمذموم، و ( عَلِيَ ) لا يقال إلّا في المحمود، قال : إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4] ( ع ل و ) العلو کسی چیز کا بلند ترین حصہ یہ سفل کی ضد ہے ان کی طرف نسبت کے وقت علوی اسفلی کہا جاتا ہے اور العوا بلند ہونا عال صفت فاعلی بلند علی علی مگر علا ( فعل ) کا استعمال زیادہ تر کسی جگہ کے یا جسم کے بلند ہونے پر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] ان کے بدنوں پر دیبا کے کپڑے ہوں گے ۔ بعض نے علا اور علی میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ علان ( ن ) محمود اور مذموم دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے لیکن علی ( س ) صرف مستحن معنوں میں بولا جاتا ہے : ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4] فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٠) اور ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) ان میں سے ہر ایک کو نبوت واسلام کے ساتھ سرفرازی عطا فرمائی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے اپنی خاص نعمت و رحمت سے نیک اولاد اور رزق حلال عطا کیا اور ہم نے ان کو یہ سرفرازی عطا فرمائی کہ ہر ایک ان کا تعظیم اور تعریف کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٠ (وَوَہَبْنَا لَہُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَہُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا ) ” جیسے سورة الانشراح میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ) کی سند عطا فرمائی گئی اسی طرح یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر خیر کو بہت اعلیٰ سطح پر دنیا میں باقی رکھنے کا ذکر ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28. This is to give comfort to the migrants who had been forced to migrate from their homes. They were told that they would be honored and blessed with true renown just as Prophet Abraham (peace be upon him) had been blessed with true renown after his migration.

سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :28 یہ حرف تسلی ہے ان مہاجرین کے لئے جو گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے ۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام اپنے خاندان سے کٹ کر برباد نہ ہوئے بلکہ الٹے سر بلند سرفراز ہو کر رہے اسی طرح تم بھی برباد نہ ہو گے بلکہ وہ عزت پاؤ گے جس کا تصور بھی جاہلیت میں پڑے ہوئے کفار قریش نہیں کر سکتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

25: چنانچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہ صرف مسلمان، بلکہ یہودی اور عیسائی بھی اپنا مقتدا سمجھتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:50) لسان صدق علیا۔ لسان صدق مضاف مضاف الیہ۔ لسان منصوب بوجہ جعلناکے مفعول ہونے ہے۔ لسان سے مراد ذکر ہے صدق کے معنی سچائی۔ قوت۔ خیر۔ خلوص۔ شرف۔ سچی بات فضیلت کے ہیں۔ یہ صدق یصدق کا مصدر ہے۔ علیا لسان کی صفت ہے۔ لسان صدق علیاکا مطلب ہوا سچائی و صداقت کا وہ ذکر جو ارفع واعلیٰ ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26:84) اور میرا ذکر نیک پچھلے (آنے والے) لوگوں میں جاری رکھ۔ نیز ملاحظہ ہو (10:2) ۔ چناچہ آج تک ان ہر سہ پیغمبر ان کا نام یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں میں جس تقدیس و تحریم کے ساتھ لیا جاتا ہے کسی بیان کا محتاج نہیں۔ اس سے زیادہ اس کی تفسیر اور کیا ہوگی۔ کہ خطہ ارضی پر جہاں کہیں مسلمان موجود ہیں اپنی پنجگانہ نماز میں کما صلیت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم کا ذکر کرتے ہیں۔ مخلصا۔ اسم مفعول۔ منصوب بوجہ خبر کان۔ مخلص برگزیدہ، چنا ہوا۔ بےکھوٹ خالص۔ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نوازشات ونبوت کے لئے چن لیا۔ منتخب کرلیا تھا۔ یا جو کفر وشرک و دیگر فواحش سے پاک رکھا گیا ہو۔ رسولا نبیا۔ (اور وہ) رسول اور نبی تھے۔ رسول کا لغوی معنی فرستادہ یا پیغامبر ہے اور اصطلاحی لحاظ سے رسول وہ ہے جو صاحب شریعت ہو خواہ وہ شریعت اس رسول کے اعتبار سے جدید ہو یا سابقہ رسول کی شریعت جو دوسرا رسول کسی قوم کی طرف پہلی دفعہ لایا ہو۔ جیسے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) قوم جرہم کی طرف شریعت ابراہیمیہ لے کر آئے تھے۔ نبی۔ یا تو النبوۃ سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی۔ رفعت ہے۔ کیونکہ نبی اپنی شان اور رتبہ میں دوسرے لوگوں سے ارفع اور اعلیٰ ہوتا ہے۔ یا ۔ یہ نبأ سے مشتق ہے۔ نبأ کا معنی ہے خبر دینا۔ اور نبی دوسرے لوگوں کو خداوند تعالیٰ کے احکام کی خبر دیتا ہے خواہ وہ احکام اسے بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ سے موصول ہوں خواہ کسی دوسرے رسول کی شریعت کے احکام ہوں جن کے احیاء کے لئے خدا وند تعالیٰ نے اسے نبوت سے سرفراز فرمایا ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی ان کا ذکر خیر ہمیشہ کے لئے لوگوں کی زبان پر جاری کردیا۔ چناچہ یہودی، عیسائی اور مسلمان سب ان کی تعظیم کرتے ہیں اور نماز میں درود ابراہیمی بھی حضرت ابراہیم کی دعا کی مقبولیت کا ہی ثمرہ ہے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ووھبنا لھم من رحمتنا (٩١ : ٠٥) ” اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا “۔ یعنی حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب اور ان کی نسل کو۔ یہاں ان حضرات کے مقام اعلیٰ کو رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ اس پوری سورة پر رحمت کے سائے چھائے ہوئے ہیں اور رحمت وہ رفیق ہمدم ہے جو حضرت ابراہیم کو اپنی قوم اور علاقے کے چھوڑنے کے عوض دی گئی تاکہ ان کی تنہائیوں میں رحمت ان کے ساتھ رہے۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا (٩١ : ٠٥) ” اور ان کو ہم نے سچی ناموری عطا کی “۔ یعنی وہ اپنی دعوت میں سچے تھے ‘ لوگ ان کی بات کو سچا مانتے تھے ‘ عوام الناس میں ان کا احترام تھا اور لوگ ان کی اطاعت کرتے تھے۔ اب حضرت ابراہیم کی اولاد ہی کی بات ذرا آگے بڑھتی ہے۔ پہلے حضرت اسحاق کی اولاد حضرت موسیٰ اور ہارون ؐ کو لیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بعد کے آنے والوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا اچھائی اور سچائی کے ساتھ تذکرہ کیا جانا (وَوَھَبْنَا لَھُمْ مِنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَھُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا) (اور ہم نے ان کو اپنی رحمت کا حصہ دے دیا اور ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان کو بلند کردیا) بہت بڑی نعمت اور رحمت تو نبوت ہے نبوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور بھی بہت سی دینی دنیاوی علمی عملی نعمتیں عطا فرمائیں اور ان کے بعد آنے والوں میں خیر اور خوبی اور سچائی اور اچھائی کے ساتھ ان کا ذکر جاری رکھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ (وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ) (اور بعد آنے والوں میں میرا ذکر سچائی کے ساتھ جاری رکھیے) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کا اور ان کی آل و اولاد کا چرچا آنے والی امتوں میں خیر و خوبی کے ساتھ جاری فرمایا۔ آنے والی تمام انبیاء کی امتیں انھیں خیر سے یاد کرتی رہی رہیں امت محمدیہ میں آل ابراہیم کا برابر خیر کے ساتھ تذکرہ ہے اور اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ نماز میں کما صلیت علیٰ ابراہیم پڑھا جاتا ہے اور ہر نمازی پڑھتا ہے اور بار بار پڑھتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

50 اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت سے حصہ عطا فرمایا اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا اور ہم نے ان کے سچے بول کو بالا کیا۔ یعنی ہر ایک کو مختلف قسم کے کمالات سے نوازا۔ یہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے پھر ا ن کے اخلاق اور ان کے کردار اور ان کی سچی باتوں کا بول بالا کیا کہ تمام امتیں ان پر رحمت بھیجتی ہیں اور ان کے ذکر خیر کا احترام کرتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ لوگ ان کی تعریف کرتے رہے اور ان پر رحمت بھیجتے رہے۔ 12 جیسا کہ مسلمان درود پڑھنے میں ان کا نام لیتے ہیں اور ان پر رحمت بھیجتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ بلکہ مشرک بھی ان کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔