Surat Marium

Surah: 19

Verse: 51

سورة مريم

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مُوۡسٰۤی ۫ اِنَّہٗ کَانَ مُخۡلَصًا وَّ کَانَ رَسُوۡلًا نَّبِیًّا ﴿۵۱﴾

And mention in the Book, Moses. Indeed, he was chosen, and he was a messenger and a prophet.

اس قرآن میں موسیٰ ( علیہ السلام ) کا ذکر بھی کر جو چنا ہوا اور رسول اور نبی تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Mentioning Musa and Harun After Allah had mentioned Ibrahim, the Friend of Allah, and commended him, he next mentioned Al-Kalim (the one spoken to by Allah directly). Allah said, وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا ... And mention in the Book, Musa. Verily, he was Mukhlasan, Ath-Thawri reported from Abdul-Aziz bin Rafi`, from Abu Lubabah that he said, "The Disciples (of `Isa) said, `O Spirit of Allah, inform us about the one who is Mukhlis (purely devoted) to Allah.' He said, `That is one who does a deed solely for Allah and he does not like for the people to praise him."' Others recited the word as Mukhlas, which means that he was chosen. This is as Allah says, إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ Verily, I have chosen you above men. (7:144) Concerning Allah's statement, ... وَكَانَ رَسُولاً نَّبِيًّا and he was a Messenger, (and) a Prophet. Allah combined these two descriptions for him. For verily, he was one of the greatest Messengers and one of the five Messengers of Strong Will. They are; Nuh, Ibrahim, Musa, `Isa and Muhammad. May the blessings of Allah be upon them and all of the Prophets. Allah said,

خلوص ابراہیم علیہ السلام ۔ اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے ۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے ۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے ۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں ۔ دوسری قرأت میں مُخلَصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے ( اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ ١٤٤؁ ) 7- الاعراف:144 ) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین ۔ ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے ۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے ۔ سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے ۔ کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ اے موسیٰ جب کہ میں ترے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی ۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ۔ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی ۔ فرمایا تھا ( وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 34؀ ) 28- القصص:34 ) ، اور آیت میں ہے ( قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى 36؁ ) 20-طه:36 ) موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ۔ آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں ( فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 13؀ ) 26- الشعراء:13 ) ، ہارون کو بھی رسول بنا الخ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی ۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

51۔ 1 مخلص، مصطفیٰ ، مجتبیٰ اور مختار، چاروں الفاظ کا مفہوم ایک ہے یعنی رسالت وپیامبری کے لیے چنا ہوا پسندیدہ شخص رسول بمعنی مرسل ہے (بھیجا ہوا) اور نبی کے معنی اللہ کا پیغام لوگوں کو سنانے والا یا وحی الہٰی کی خبر دینے والا تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہے کہ اللہ جس بندے کو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے چن لیتا ہے اور اسے اپنی وحی سے نوازتا ہے، اسے رسول اور نبی کہا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے اہل علم میں ایک بحث یہ چلی آرہی ہے کہ آیا کہ ان دونوں میں فرق ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو وہ کیا ہے ؟ فرق کرنے والے بالعموم کہتے ہیں کہ صاحب شریعت یا صاحب کتاب کو رسول اور نبی کہا جاتا ہے اور جو پیغمبر اپنی سابقہ پیغمبر کی کتاب یا شریعت کے مطابق ہی لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا رہا، وہ صرف نبی ہے، رسول نہیں۔ تاہم قرآن کریم میں ان کا اطلاق ایک دوسرے پر بھی ہوا ہے اور بعض جگہ مقابلہ کرنے والے بھی آئے ہیں، مثلاً سورة الحج آیت 52 میں۔ ْْ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٧] نبی اور رسول کا فرق :۔ سیدنا اسحاق اور یعقوب کی اولاد میں سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر غالبا ً اس وجہ سے کیا جارہا ہے کہ آپ اولوالعزم پیغمبر، مشرع اعظم اور قدآور شخصیت ہیں اور آپ کو فرمایا جارہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے ان کا ذکر کیجئے۔ آپ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں انتہائی مخلص تھے۔ آپ نبی بھی تھے اور صاحب شریعت رسول بھی۔ نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ نبی عام ہے، اور رسول خاص۔ یعنی ہر رسول نبی تو ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ روایات کے مطابق رسولوں کی تعداد صرف ٣١٣ یا ٣١٥ تھی جبکہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ ( نبی اور رسول کے فرق کے لئے دیکھئے سورة مائدہ کی آیت نمبر ٦٧ کا حاشیہ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى ۡ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا : ” مُخْلَصًا “ کا معنی ہے ” خالص کیا ہوا، چنا ہوا۔ “ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ ) [ طٰہٰ : ٤١ ] (اور میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لیے بنایا ہے) ، طٰہٰ کی آیت (١٣) اور اعراف کی آیت (١٤٤) سے ہوتی ہے۔ وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا : ” رَسُوْلًا “ کا لفظی معنی بھیجا ہوا ہے اور ” نَّبِيًّا “ ، ” نَبَأٌ“ سے ” فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے جو فاعل اور مفعول دونوں معنوں میں آتا ہے۔ مفعول ہو تو وہ جسے اللہ کی طرف سے خبر دی جائے اور اگر فاعل ہو تو وہ جو اللہ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ ” نَبَأٌ“ عام خبر کو نہیں بلکہ اس خبر کو کہتے ہیں جو بڑی عجیب یا اہم ہو۔ قرآن مجید میں یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں، تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جن سے دونوں کے مرتبہ یا کام کی نوعیت کے اعتبار سے کافی فرق پایا جاتا ہے۔ دیکھیے سورة حج (٥٢) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” جس کو اللہ تعالیٰ کی وحی آئی وہ نبی، ان میں سے جو خاص ہیں اور امت رکھتے ہیں یا کتاب، وہ رسول ہیں۔ “ (موضح) یہاں ” رَسُوْلًا “ کے بعد ” نَّبِيًّا “ لانے کی ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پیغام پہنچانے کے لیے کوئی بھی بھیجا جائے اسے رسول کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھیجے تو اس کا رسول، کوئی اور بھیجے تو اس کا رسول۔ جیسا کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق سورة یس میں مذکور مرسلین کسی نبی کی طرف سے بھیجے ہوئے داعی تھے اور جیسا کہ یزید بن شیبان (رض) فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ وقوف کیے ہوئے تھے (ان کے شاگرد عمرو بن عبداللہ وہ جگہ امام کی جگہ سے دور بیان کرتے تھے) تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور انھوں نے کہا : ( إِنِّيْ رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْکُمْ ) [ أبوداوٗد، المناسک، باب موضع الوقوف بعرفۃ : ١٩١٩۔ ابن ماجہ : ٣٠١١ و صححہ الألباني ] ” میں تمہاری طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رسول یعنی پیغام لانے والا ہوں۔ “ اس آیت میں ” رسول “ کی تاکید ” نبیا “ کے ساتھ اس لیے فرمائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی کی طرف سے بھیجا ہوا محض ایک داعی نہ سمجھا جائے، بلکہ وہ نبی بھی تھے جو وحی الٰہی سے سرفراز تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary كَانَ مُخْلَصًا (Indeed he was a chosen one - 19:51) مُخْلَصً : means a person whom Allah Ta` ala has chosen for himself i.e. someone who will not devote himself to anyone but Allah, and whose only desire is to win Allah&s benevolence. This special position is enjoyed by the prophets only as mentioned in the Qur’ an at another place. إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَ‌ى الدَّارِ‌ |"We purified them with a quality most pure, the remembrance of the Abode.|" - 38:46. Those among the followers of prophets who attain perfection are also granted a place of distinction, which makes them immune to committing sins and evil deeds through Divine dispensation. They remain in Allah&s protection all the time.

خلاصہ تفسیر اور اس کتاب (یعنی قرآن) میں موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجئے (یعنی لوگوں کو سنائیے ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو فی الحقیقت اللہ تعالیٰ ہے) وہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے خاص کئے ہوئے (بندے) تھے اور وہ رسول بھی تھے، نبی بھی تھے اور ہم نے ان کو کوہ طور کی داہنی جانب سے آواز دی اور ہم نے ان کو راز کی باتیں کرنے کے لئے مقرب بنایا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت (اور عنایت) سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا (یعنی ان کی درخواست کے موافق ان کو نبی کیا کہ ان کی مدد کریں) اور اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجئے بلا شبہ وہ وعدے کے (بڑے) سچے تھے اور وہ رسول بھی تھے نبی بھی تھے اور پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھی اور ہم نے ان کو (کمالات میں) بلند رتبہ تک پہنچا دیا یہ (حضرات جن کا شروع سورت سے یہاں تک ذکر ہوا زکریا (علیہ السلام) سے ادریس (علیہ السلام) تک یہ) وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے (خاص) انعام فرمایا ہے (چنانچہ نبوت سے بڑھ کر کون سی نعمت ہوگی) منجملہ (دیگر) انبیاء (علیہم السلام) کے (یہ وصف سب مذکورین میں مشترک ہے اور یہ سب) آدم (علیہ السلام) کی نسل سے (تھے) اور بعض ان میں ان لوگوں کی نسل سے (تھے) جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا (چنانچہ بجز ادریس (علیہ السلام) کے کہ وہ اجداد نوح (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں باقی سب میں یہ وصف ہے) اور (بعضے ان میں) ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی نسل سے (تھے چناچہ حضرت زکریا و یحییٰ و عیسیٰ و موسیٰ (علیہم السلام) دونوں کی اولاد میں تھے اور اسحاق و اسماعیل و یعقوب (علیہم السلام) صرف حضرت ابراہیم کی اولاد میں تھے) اور (یہ سب حضرات) ان لوگوں میں سے (تھے) جن کو ہم نے ہدایت فرمائی اور ان کو مقبول بنایا (اور باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی کہ) جب ان کے سامنے (حضرت) رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو (غایت افتقار و انکسار وانقیاد کے اظہار کے لئے) سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے (زمین پر) گر جاتے تھے۔ معارف و مسائل كَانَ مُخْلَصًا، مخلص بفتح لام وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے خالص کرلیا ہو یعنی جس کو غیر اللہ کی طرف التفات نہ ہو، اس نے اپنے نفس اور تمام خواہشات کو اللہ کی مرضی کے لئے مخصوص کردیا ہو۔ یہ شان خصوصی طور پر انبیاء (علیہم السلام) کی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ ، یعنی ہم نے ان کو مخصوص کردیا ہے ایک خاص کام یعنی دار آخرت کی یاد کے لئے۔ امت میں جو حضرات کاملین انبیاء (علیہم السلام) کے نقش قدم پر ہوں ان کو بھی اس مقام کا ایک درجہ ملتا ہے اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ قدرتی طور پر گناہوں اور برائیوں سے بچا دئیے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی حفاظت ان کے ساتھ ہوتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى۝ ٠ۡاِنَّہٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا۝ ٥١ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو خلص الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه، وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] ( خ ل ص ) الخالص ( خالص ) خالص اور الصافی دونوں مترادف ہیں مگر الصافی کبھی ایسی چیز کو بھی کہہ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی سے آمیزش نہ ہو اور خالص اسے کہتے ہیں جس میں پہلے آمیزش ہو مگر اس سے صاف کرلیا گیا ہو ۔ آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے میں خلصوا کے معنی دوسروں سے الگ ہونا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [ البقرة/ 139] اور ہم خالص اس کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے، وہ کفر وشرک اور تمام بری باتوں سے پاک اور عبادت و توحید کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص کیے ہوئے بندے تھے، اور ان کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف نبی اور رسول بنا کر بھیجا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ (وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مُوْسٰٓیز اِنَّہٗ کَانَ مُخْلَصًا وَّکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا ) ” ہم نے انہیں خاص اپنا بنا لیا تھا۔ یہ مضمون سورة طٰہٰ (آیت ٤١) میں بھی آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29. The word used is mukhlasan, which means purified. In other words, Allah had specially chosen Prophet Moses (peace be upon him) for the mission of Prophethood. 30. Rasul literally means the one who is sent; therefore it is used for an ambassador, envoy, messenger and representative. The Quran has used this title for angels, who are sent by Allah on a special mission, or for the human beings who brought His Message to mankind. As regards the word Nabi, it literally means the one who brings news, or the one who is high in rank, or the one who shows the way. This title is used for the Prophets in all the three senses. Thus Moses was a Messenger Prophet because he was a Messenger of high rank who gave news from Allah and showed the right way to the people. The Quran does not necessarily differentiate between the use of the two titles, for sometimes it uses the title Rasul for one person at one place and the title Nabi for the same person at another place, and sometimes uses both the titles together for one and the same person. However, at some places each title has been used in a way as to show that there is some technical distinction between the two, though that has not been precisely marked out, except that every Rasul (Messenger) is a Nabi (Prophet) as well, but every Nabi may not be a Rasul, and that a Rasul has a special and more important mission to perform. This is supported by a tradition of the Prophet (peace be upon him), which has been reported by Imam Ahmad from Abu Umamah and by Hakim from Abu Zarr. When the Prophet (peace be upon him) was asked how many Messengers and Prophets had been sent to the world, he said that the number of the Messengers was 313 or 315 and of the Prophets 124,000

سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :29 اصل میں لفظ مخلص استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں خالص کیا ہوا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسی ایک ایسے شخص جن کو اللہ تعالی نے خالص اپنا کر لیا تھا ۔ سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :30 رسول کے معنی ہیں فرستادہ بھیجا ہوا اس معنی کے لحاظ سے عربی زبان میں قاصد پیغام بر ، ایلچی اور سفیر کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور قرآن میں یہ لفظ یا تو ان ملائک کے لئے استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے کسی کار خاص پر بھیجے جاتے ہیں یا پھر ان انسانوں کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالی نے خلق کی طرف اپنا پیغام پہنچانے کے لیے مامور فرمایا ۔ نبی کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض اس کو لفظ نبا سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی خبر کے ہیں ، اور اس اصل کے لحاظ سے نبی کے معنی خبر دینے والے کے ہیں ۔ بعض کے نزدیک اس کا مادہ نبو ہے ، یعنی رفعت اور بلندی اور اس معنی کے لحاظ سے نبی کا مطلب ہے بلند مرتبہ اور عالی مقام ۔ ازہری نے کسائی سے ایک تیسرا قول بھی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لفظ دراصل نبی ہے جس کے معنی طریق اور راستے کے ہیں ، اور انبیاء کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کی طرف جانے کا راستہ ہیں ۔ پس کسی شخص کو رسول نبی کہنے کا مطلب یا تو عالی مقام پیغمبر ہے ، اللہ تعالی کی طرف سے خبریں دینے والا پیغمبر یا پھر وہ پیغمبر جو اللہ کا راستہ بتانے والا ہے ۔ قرآن مجید میں یہ دونوں الفاظ بالعموم ہم معنی استعمال ہوئے ہیں ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخصیت کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے ۔ اور کہیں صرف نبی اور کہیں رسول اور نبی ایک ساتھ ۔ لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ اس طرح بھی استعمال ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں مرتبے یا کام کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی اصطلاحی فرق ہے ۔ مثلاً سورہ حج ، رکوع 7 میں فرمایا وما ارسلنا من قبلک من رسول و لا نبی الا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے تم سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نہ نبی مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ رسول اور نبی دو الگ اصطلاحیں ہیں جن کے درمیان کوئی معنوی فرق ضرور ہے ۔ اسی بنا پر اہل تفسیر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ اس فرق کی نوعیت کیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قطعی دلائل کے ساتھ رسول اور نبی کی الگ الگ حیثیتوں کا تعین نہیں کر سکا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ جو بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول کا لفظ ان جلیل القدر ہستیوں کے لئے بولا گیا ہے جن کو عام انبیاء کی بہ نسبت زیادہ اہم منصب سپرد کیا گیا تھا ۔ اسی کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد نے حضرت ابو امامہ سے اور حاکم نے حضرت ابوذر سے نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے 313 یا 315 بتائی اور انبیاء کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے ایک لاکھ 24 ۔ ہزار بتائی ۔ اگرچہ اس حدیث کی سندیں ضعیف ہیں ، مگر کئی سندوں سے ایک بات کا نقل ہونا اس کے ضعف کو بڑی حد تک دور کر دیتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

26: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا مفصل واقعہ اگلی سورت میں آرہا ہے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥١۔ ٥٣:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی پیدائش کا قصہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ نکلی اور سوا بنی اسرائیل کے محلہ کے تمام مصر کو اس آگ نے جلا دیا فرعون نے اپنا یہ خواب اس وقت کے نجومیوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ایک لڑکا بنی اسرائیل میں کا جس کا اصل وطن ملک شام بیت المقدس کی سر زمین ہے پیدا ہونے والا ہے اس کے ہاتھ سے مصر خواب اور برباد ہوگا۔ فرعون نے بنی اسرائیل میں جو لڑکے پیدا ہوتے تھے ان کے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل کیے گئے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کی ماں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ایک صندوق میں بند کر کے اور ایک رسی سے اس صندوق کو باندھ کر وہ صندوق دریا میں ڈال دیا۔ جب دودھ پلانا ہوتا وہ صندوق کی رسی کھینچ کر صندوق میں سے حضرت موسیٰ کو نکال کر دودھ پلا دیا کرتیں اور پھر وہ صندوق دریا میں ڈال دیا کرتیں ایک روز خدا کی قدرت کہ وہ رسی کھل گئی اور صندوق دریا میں بہہ گیا حضرت موسیٰ کی ماں نے گھبرا کر حضرت موسیٰ کی بہن مریم کو اس صندوق کی خبر کو بھیجا مریم نے آن کر خبر دی کہ دریائے نیل سے ایک نہر فرعون نے جو اپنے رہنے کے مکان تک کاٹ لی تھی اس کے راستہ سے بہہ کر وہ صندوق فرعون کے دروازے پر پہنچ گیا اور اتفاق سے وہ صندوق حضرت آسیہ فرعون کی بی بی کو نظر پڑا اور انہوں نے نکلوایا اور کھولا اور فرعون سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے پالنے کی اجازت بھی حاصل کرلی اور حضرت موسیٰ کسی انا کا دودھ نہیں پیتے اس واسطے ایسی انا کی تلاش ہو رہی ہے جس کا دودھ حضرت موسیٰ پئیں سورة طہ و سورة شعرا اور قصص میں یہ قصہ پورا آوے گا کہ خدا کی قدرت سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی ماں کے ہی دودھ سے اپنے دشمن فرعون کے گھر میں پرورش پائی اور پھر مدین گئے اور وہاں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی بیٹی سے نکاح ہوا اور دس ١٠ برس مدین رہے جب حضرت موسیٰ گھٹنوں چلنے لگے تو ایک دن آسیہ نے ان کو فرعون کی گود میں دیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کی داڑھی نوچ لی فرعون کو غصہ آگیا اس نے جلاد کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مار ڈالنے کے لیے بلوایا آسیہ نے کہا کہ ناسمجھ بچہ ہے اس کی بات پر تم کیا غصہ کرتے ہو ناحق لوگ ہنسیں گے میں ایک طرف آگ کا انگارا رکھتی ہوں اور ایک طرف یاقوت رکھتی ہوں اگر اس بچہ نے آگ کا انگارہ اٹھا لیا تو جان لینا ناسمجھ بچہ ہے اور اگر یاقوت اٹھایا تو جاننا سمجھ دار ہے پھر تم کو مار ڈالنے کا احتیار ہے یہ دونوں چیزیں آسیہ نے رکھیں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑ کر آگ میں ڈال دیا اور وہ آگ کا انگارہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں دے کر پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ہاتھ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے منہ میں دے دیا جس سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان جل کر توتلی ہوگئی پھر نبی بننے کے بعد جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو وہ توتلا پن گیا جس کا ذکر سورة طہ میں آئے گا ایک سو بیس برس کی عمر میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے وفات پائی۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ملک الموت جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی جان قبض کرنے کے لیے آئے تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ملک الموت کی آنکھ میں ایک گھونسا مار کر ملک الموت کی آنکھ پھوڑ ڈالی ملک الموت نے جاکر خدا تعالیٰ سے فریاد کی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ اچھی کردی اور فرمایا پھرجا کر موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہو کہ اگر ان کو دنیا کی زیست درکار ہے تو ایک بیل کی پیٹھ پر وہ ہاتھ رکھ دیں بیل کے جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے دبیں گے ہر ایک بال کو ایک سال قرار دیا جاکر ان کی عمر بڑھا دی جائے گی جب ملک الموت نے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو پہنچایا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا کہ اپنی عمر بڑھانے کے بعد پھر آخر انجام کیا ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا آخر موت ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تو ابھی سہی ١ ؎۔ بعضے لوگوں نے اس حدیث کے مطلب پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ملک الموت کو پہچان لیا تھا اور پھر آنکھ پھوڑی تو اللہ کے فرشتے کی توہین کی اور اگر نہیں پہچانا تو ایک اجنبی شخص کو جان کر گھونسا مارا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے قصاص لینا چاہیے تھا جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں دیا ہے کہ شریعت موسوی ( علیہ السلام) اور شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانوں پر ناقد اور جاری ہے یہ قصہ ایک اللہ کے رسول اور ایک فرشتہ کے فی مابین کا ہے اس قصہ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کردیا اب اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے بعد کسی انسان کی کیا بساط ہے جو اس فیصلہ پر اعتراض کرسکے حاصل یہ ہے کہ یہ اعتراض حد شریعت سے بڑھا ہوا ہے اس لیے علماء کی توجہ کے قابل نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دس ١٠ برس مدین میں رہنے کے بعد شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ماں اور بھائی ہارون سے ملنے کا قصد کیا اور مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی بی بی بھی تھیں جاڑے کا موسم اور رات کا سفر تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) رات کے اندھیرے کے سبب سے راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں ان کو دور سے آگ کی روشنی نظر آئی یہ آگ کی روشنی دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بی بی سے کہا تم یہیں ٹھہرو میں آگ میں سے ایک انگارہ لے آؤں اور آگ کے پاس کوئی آدمی مل گیا تو اس سے راستہ بھی پوچھ لوں گا علماء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جو پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ آگ کا بھی ہے وہی آگ موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی تھی۔ صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری (رض) سے جو روایت ہے اس میں بھی اس آگ کے پردہ کا ذکر ہے ٢ ؎۔ اس حدیث سے ان علماء کے قول کی تائید ہوتی ہے غرض اس روشنی میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی آواز آئی اور اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے نبی ٹھہرا کر موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سی باتیں کیں جن کا ذکر سورة طٰہٰ میں آئے گا۔ اسی وقت عصا اور یدبیضاء کا معجزہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خواہش پر ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی قرار دیا یہ سب ذکر بھی سورة طٰہٰ میں تفصیل سے آئے گا ان آیتوں میں بھی وہی ذکر مختصر طور پر فرمایا گیا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں معراج کے بیان میں جو روایتیں ہیں ان کے موافق خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہارون (علیہ السلام) کی ملاقات پانچویں آسمان پر ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی چھٹے آسمان ٣ ؎ پر ان روایتوں سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے مرتبہ میں فرق ہے مشرکین مکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو صاحب توریت نبی اور یہود کو اہل کتاب جانتے تھے اسی واسطے انہوں نے یہود کے مشورہ کے موافق روح اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا حال اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تھا لیکن اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ان کا یہ اعتراض تھا کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے اس اعتراض کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے یوں غلط ٹھہرایا کہ آخر موسیٰ (علیہ السلام) بھی انسان تھے وہ کیوں کر اللہ کے رسول قرار پائے۔ (١ ؎ صحیح مسلم ص ٦٢٣ ج ٢ باب من فضائل موسیٰ علیہ السلام۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم ص ٩٩ ج ١ باب معنی قول اللہ عزوجل ولقدراہ نزلہ اخری الخ ) (٣ ؎ مشکوٰۃ باب المعراج۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3” بھیجا ہوا “ رسول کے اور ” اللہ کا پیغام سنانے والا “ نبی کے لفظ معنی ہیں اور قرآن میں یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جن سے دونوں کے مرتبہ یا کام کی نوعیت کے اعتبار سے فرق معلوم ہوتا ہے اور دونوں میں تفایر پایا جاتا ہے (دیکھیے سورة حج 56) شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” جس کو اللہ کی وحی آئی وہ نبی، ان میں جو خاص ہیں امت رکھتے ہیں یا کناب وہ رسول ہیں “

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٤) اسرارومعارف آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔ (حفاظت الہیہ) یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں اللہ جل جلالہ کی حفاظت نصیب ہوتی ہے ، اگر بتقاضائے بشریت کوئی لغزش ہو بھی جائے تو فورا توبہ نصیب ہوتی ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے منتخب کردہ بندے اس کے رسول اور نبی تھے انبیاء کرام (علیہ السلام) میں نبوت تو سب میں قدر مشترک ہے مگر رسالت ان حضرات کو نصیب ہے ۔ (رسول اور نبی) جو نئی شریعت لے کر مبعوث ہوئے لیکن اگر غیر نبی کو رسول کہا جائے تو مراد پیغام لے جانے والا یا قاصد ہوگا اس کا نبی ہونا ثابت نہ ہوگا جیسے وحی لانے والے فرشتے کو ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ جل جلالہ کے وہ مقرب رسول تھے کہ انہیں ہم نے راز کی باتیں کہنے کے لیے طور پہاڑ پر طلب فرمایا یعنی لوگوں اور آبادی سے کٹ کر محض اپنے ساتھ باتیں کرنے کے لیے یہ عزت بخشی اور ان کی درخواست پر ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبوت عطا کر کے ان کا دست وبازو بنا دیا ، یہاں ثابت ہے کہ خلق سے کٹ کر اور تنہائی میں یا پھر پرسکون جگہ پر ذکر کرنا بہت مفید ہے ۔ (عزلت نشینی) آپ اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جن کے ساتھ مشرکین عرب بھی رشتہ جوڑتے ہیں اور پھر اللہ جل جلالہ پر جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ تو وعدے کے سچے اور کھرے تھے اور اللہ کے رسول اور نبی تھے یعنی مخلوق کو اللہ جل جلالہ کے ساتھ جوڑنے والے تھے جیسے تم اللہ جل جلالہ سے دور کر کے بتوں کی عبادت پر مجبور کرتے ہو اور وہ تو نہ صرف خود اللہ جل جلالہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ اپنے اہل و عیال کو اور اپنے گھر کے افراد کو بھی اللہ جل جلالہ کی عبادت کا حکم دیتے اور زکوۃ ادا کرنے کو کہتے تھے جبکہ مشرکین مکہ خود کو لوگوں کی طرح عبادات کا محتاج نہ جانتے تھے ، حج میں بھی دوسروں کی نسبت کم ارکان مقرر کر رکھے تھے اور وہ تو اپنے پروردگار کے بہت ہی پیارے اور پسندیدہ تھے آپ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمائیے جو صدیق تھے اور نبی بھی ، اور ہم نے انہیں بہت بلند مقام عطا فرمایا کہ مفسرین کے مطابق اپنے عہد کے بہت بڑے عبادت گذار بھی تھے اور اللہ جل جلالہ نے انہیں اس قدر عبادات کی توفیق بخشی تھی کہ اس دور کے سب مسلمانوں سے ان کی عبادت اور اعمال جو آسمان کو جاتے زیادہ ہوتے تھے بعض حضرات نے ان کا جسمانی طور پر اٹھایا جانا مراد لیا ہے کہ انہیں موت بھی آسمان چہارم پہ نصیب ہوئی جیسا کہ حدیث معراج میں ارشاد ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات ان سے چوتھے آسمان پر ہوئی ، یہ آدم (علیہ السلام) کے قریب تر تھے ، پھر نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سواری والوں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا یہ سب وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں جن کو اللہ جل جلالہ نے انعامات سے نوازا اور نبوت سے سرفراز فرمایا ، آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے یعنی کسی بنی نبی میں الوہیت کے اوصاف نہ تھے بلکہ سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سام بن نوح کی اولاد اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) ان کی اولاد اور اولاد یعقوب (علیہ السلام) میں جو نبی گزرے تا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب اللہ کے ہدایت یافتہ بندے تھے اور اللہ جل جلالہ کے چنے ہوئے اور محبوب تھے اور اللہ جل جلالہ کی آیات سن کر سربسجود ہوتے تھے اور رقت قلبی کے باعث ان کے اشک رواں ہوتے ۔ (عبادات وتلاوت میں گریہ) عبادات وتلاوت میں گریہ طاری ہونا رقت قلبی کی دلیل ہے جو عند اللہ بہت پسندیدہ شے ہے اور ان انعامات میں سے ہے جو انبیاء کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصی اطاعت سے نصیب ہوتے ہیں بخلاف اس کے کہ مشرکین سے لے کر یہود ونصاری تک نے انھی حضرات کے نام سے اپنی مشرکانہ رسومات وابستہ کر رکھی ہیں مگر یہ رسومات بعد کی ایجاد ہیں کہ انکے بعد ان کی جگہ ناخلف اور نااہل لوگ آئے جنھوں نے عبادات کو تو ضائع کردیا ۔ (رسومات کی ایجاد) حتی کہ عبادات کی فرضیت تک سے انکار کر کے کافر ہوئے اور نفس پرستی ، حصول دنیا اور حصول ہوس اقتدار میں اسیر ہو کر تباہ ہوئے اور عبادات کی جگہ رسومات ایجاد کر کے دوسروں کی گمراہی اور تباہی کا باعث بنے ، یہی حال بہت بڑے بڑے اہل اللہ کا ہوا کہ ان کے بعد نااہل لوگ ان کی جگہ پر قابض ہوگئے اور ہدایت کے کاموں سے ہٹ کر لوگوں کو رسومات میں مبتلا کردیا ، اور اس طرح خود خود دولت کماتے اور عیش کرتے رہے العیاذا باللہ مگر ایسے سب لوگ جہنم کے ایک بہت گہرے غار میں پھینکے جائیں گے جہاں ہر طرح کے عذاب جمع ہوں گے اور پھر عیاشی کا عذاب الگ سے موجود ہوگا نیز جس قدر بلندی کی ہوس تھی اس سے کئی گنا پستی میں دھکیل دیے جائیں گے سوائے ان لوگوں کے کہ جنہیں ان میں سے بھی توبہ نصیب ہوگئی اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے عقیدہ درست کرے اور اس عقیدے کے مطابق عمل اختیار کرے ۔ (توبہ کی حقیقت) اس لیے ارشاد ہوا کہ توبہ کیا ہے ، ایمان لائے اور نیک اعمال کرے ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور ان سے ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی کہ ایسی توبہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور بعض اوقات انہیں نیکیوں میں بدل دیتی ہے ۔ (اضاعت صلوۃ اور اتباع شہوات) صلوۃ کو ضائع کرنا یہ بھی ہے کہ ادا کرنے والا اس کے اوقات کا لحاظ نہ کرے یا وضو اور لباس میں کوتاہی کرے یا قیام اور رکوع سجود درست نہ ہو تو یہ سب ضائع کرنا ہوگا نیز عبادات سے بیخبر ہو کر ہوس زر میں مبتلا ہونا اور محض اچھا کھانے پہننے یا عالی شان مکان بنانے کا شوق اتباع شہوات ہے لیکن اگر عبادات نصیب ہوں حلال کمائے اور عزت سے رہے تو یہ اللہ جل جلالہ کا احسان ہے ۔ جنت کے ان باغوں میں رہیں گے جن کا اللہ جل جلالہ نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ، صحیح عقیدہ اور نیک عمل والے لوگ اسے یقینا پالیں گے جہاں کوئی فضول کلام تک نہ ہوگا سوائے سلامتی کی باتوں کے اور صبح وشام یعنی ہر آن بہترین رزق انہیں میسر ہوگا یہ نعمتیں اور یہ باغ میرے نیک اور پرہیز گار بندوں کو ان کی میراث کے طور پر ملیں گے اور کفار کو یہ بھی بتا دیجئے کہ فرشتہ ویسے ہی وحی نہیں لاتا بلکہ رب العلمین کے حکم سے نازل ہوتا ہے اور اس میں ذرہ برابر گھٹانے بڑھانے کا اختیار نہیں رکھتا اس کے چہار طرف ہر چیز کا اور خود اس کا مالک اللہ ہے جو کبھی بھولتا بھی نہیں ، اے مخاطب وہی تو پروردگار ہے آسمانوں زمینوں کا اور جو کچھ ان میں ہے اس کا بھی لہذا ہر آن اسی کی عبادت و اطاعت پر کمر بستہ رہ کر اس کی عبادت چھوڑنے والا کسی دوسرے کی اطاعت و عبادت کرنے والا ہے ۔ (عبادت قبولیت کی دلیل ہے) اور کبھی تو نے اس کے برابر کا کوئی نام سنا ہے یعنی کوئی اس جیسا نہیں لہذا عبادت چھوڑنے والا تباہی کی طرف جانے والا ہے اور جسے توفیق عبادت ہو یہی قبولیت کی دلیل ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58 مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 58 سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و انکساری سے اللہ کے سامنے سجدہ میں جھک جاتے ہیں ۔ ان انبیاء کا اور اس سے پہلے حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور خاص طور پر حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیھم السلام کا ذکر کر کے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حق و صداقت، ہدایت و رہنمائی اور رسالت و نبوت کے منصب پر فائز کیا تھا لیکن یہ سب اللہ کے فرماں بردار اور نیک بندے ہیں اور اعلیٰ ترین مقام پر ہونے کے باوجود وہ سب کے سب اللہ کی عبادت و بندگی میں کامل مقام رکھتے تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ جب وہ اللہ کا کلام سنتے تھے تو وہ کلام اللہ سن کر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدہ میں گر پڑتے تھے۔ ان آیات میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر اور حضرت یعقوب کی اولاد میں سے ہیں۔ وہ ایک منتخب نبی اور رسول ہیں۔ اللہ نے ان کو کوہ طور کی داہنی جانب سے پکارا، اپنی قربت عطا کی، آپ سے کلام فرمایا اور صاحب کتاب بنایا، توریت جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی۔ ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو خود بھی اللہ کی طرف سے نبی تھے ان کا معاون و مددگار بنایا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں اللہ کے حکم سے فرعون کے دربار میں پہنچے اور اس کی بڑائی کو چیلنج کیا کہ وہ اپنی سرکشی، تکبر اور غرور سے باز آجائے اور بنی اسرائیل پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو بند کر دے تاکہ نبی اسرائیل ملک مصر سے فلسطین عافیت کیس اتھ پہنچ جائیں۔ لیکن فرعون نے اپنے ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند نہیں کیا بلکہ اس میں ایسی شدت آگئی تھی جس سے اہل ایمان کا اس سر زمین پر رہنا مشکل ہوگیا تھا آخر کار اللہ نے فرعون اور اس کے اس کے تمام حمایتیوں کو پانی میں غرق کردیا اور بن یاسرائیل کو ایک بہت بڑے ظالم سے نجات دلا دی۔ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت اساعیل (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سب سے بڑے بیٹے ہیں جن کا لقب ذبیح اللہ ہے ان کے بعد حضرت ابراہیم کے گھر اٹھارہ سال بعد حضرت اسحاق پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق کے گھر حضرت یعقوب پیدا ہوئے جن کو اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد ان کو بارہ بیٹوں کی دولت سے مالا مال فرمایا گیا جن کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ حضرت اسماعیل کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ اس قدر عزم و ہمت اور حق و صاقت کا پیکر تھے جنہوں نے دین اسلام کی سربلندی کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھائیں۔ ان کے صبر و استقلال کا یہ عالم تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لگاتار تین روز تک ایک ہی خواب دیکھا کہ وہ حضرت اساعیل کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں۔ جب ان کو اس بات کا یقین کامل ہوگیا کہ خواب نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے حکم ہے تو انہوں نے نہایت ضبط و تحمل کے ساتھ اس بات کا ذکر حضرت اسماعیل سے کردیا۔ حضرت اسماعیل نے عرض کیا ابا جان ! آپ وہ کیجیے جس کے کرنے کا آپ کو اللہ نے حکم دیا ہے۔ آپ مجھے انتہائی صابر پائیں گے۔ اس طرح انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل کو منی کی طرف لے کر چلے۔ شیطان نے بہکانے کی کوششیں کیں مگر حضرت اسماعیل نے ہر مرتبہ شیطان کے جال میں پھنسنے کے بجائے اس پر کنکر برسائے اور لعنت بھیجی ۔ ادھر جب حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ نے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک مینڈھا بھیج کر فرمایا کہ اے ابراہیم ہم آپ کے بیٹے کو ذبح کرانا نہیں چاہتے تھے آپ کے عزم و ہمت کا امتحان لینا چاہتے تھے جس میں آپ کامیاب ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے باپ بیٹے کی قربانی کو قبول کرتے وہئے اس کو ایک یادگار بنا دیا اور اب قیامت تک ہر صاحب نصاب مسلمان پر دس ذی الحجہ سے بارہ ذی الحجہ کی عصر تک ایک جانور ذبح کرنے کی سنت کو جاری فرمایا تاکہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی یہ قربانی کا جذبہ قیامت تک یاد رکھا جاسکے۔ حضرت اسماعیل جن کی اولاد میں سے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت اسماعیل کی شان یہ بیان کی گئی ہے کہ (1) حضرت اسماعیل بہترین اخلاق کے مالک تھے (2) وہ جس سے جو وعدہ کرلیتے اس کو ہمیشہ پورا کیا کرتے تھے (3) ایسے عزم و ہمت کے پیکر تھے کہ اپنے والد حضرت ابراہیم کے کہنے سے اللہ کے حکم پر ذبح ہونے کے لئے تیار ہوگئے ۔ (4) آپ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نماز ڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے (5) آپ اللہ کے پسندیدہ نبی تھے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت اسماعیل کا ذکر کرنے کے بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا ہے ارشاد ہے کہ وہ ایک نیک اور سچے انسان تھے اور اللہ کی طرف سے نبوت کے منصب پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مخصوص علوم اور فنون میں ایک خاص مقام عطا فرمایا تھا۔ ان کا دنیا میں بھی رتبہ بلند ہے اور آخرت میں بھی ان کی ایک خاص شان ہوگی۔ کہتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیانی زمانہ میں تشریف لائے اور گمراہ انسانوں کو راہ ہدایت دکھانے میں ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کیں۔ قرآن کریم میں حضرت ادریس علیہ ال سلام کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے ایک تو زیر مطالعہ آیات میں اور دوسری مرتبہ سورة انبیاء میں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں علم و حکمت، علم حساب، علم کتابت یعنی قلم سے لکھنا، کپڑوں کو سینا، ماپ تول کے پیمانے اور بعض اسلحہ بنانے کے طریقے حضرت ادریس (علیہ السلام) نے سکھائے ہیں۔ بہرحال یہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام وہ تھے جو اپنی تمام تر عظمت اور شان کے اللہ کی عبادت و بندگی اور اللہ کے بندوں کی ہدایت کیلئے دن رات کوششیں کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دین اسلام کی خدمت کرنے اور عبادت و بندگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ جب ان کو اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم ہوتا تو وہ پورے ادب و احترام سے سجدے میں گر پڑتے تھے۔ سورة مریم کی اس آیت پر پہنچنے کے بعد ہر سننے والے پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ اگر اس وقت سجدہ نہ کرسکے تو جلد از جلد اس سجدے کو ادا کرے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعنی لوگوں کو سنایئے۔ ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو فی الحقیقة اللہ تعالیٰ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ جس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت مریم [ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ بیان کرنے کا حکم ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صاحب کتاب رسول تھے۔ جنھیں مخلص ہونے کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں اس وقت قبول ہوئیں۔ جب وہ بےبس اور ظاہری اسباب سے مایوس ہوچکے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا بھی اس وقت قبول ہوئی جب وہ غریب الوطن اور سفر کی صعوبتوں میں مبتلا تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کے ساتھ آٹھ یا دس سال کے عرصہ کے بعد مصر کی طرف انتہائی غم کے عالم میں واپس آرہے تھے۔ کیونکہ فرعون نے انھیں قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ جس بناء پر انھوں نے مصر چھوڑا تھا۔ واپس جب طور پہاڑ کے قریب آئے تو طور کی دائیں جانب سے ایک آواز آئی۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی آواز قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے کوہ طور کی دائیں جانب موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے قریب کیا اور اس سے سرگوشی کی۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی رحمت کے دامن میں جگہ دی اور اس کے بھائی کو بھی نبوت کے منصب پر فائز فرمایا۔ سفر کے دوران انھیں فرعون کی طرف جانے کا حکم ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دو عذر پیش کیے تھے۔ جن میں ایک یہ تھا کہ میرے رب ! خدشہ ہے کہ فرعون مجھے قتل نہ کر دے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بھائی ہارون کو میرا معاون بنایا جائے۔ کیونکہ وہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ صاحب زبان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے ان کے بھائی کو نبوت کا منصب عطا فرمایا۔ جس کا یہاں مختصر تذکرہ ہے۔ (الشعراء : ١٠ تا ١٤) یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک ایسے وصف کا ذکر کیا گیا ہے جس بناء پر وہ دوسرے انبیاء (علیہ السلام) سے منفرد اور ممتاز دکھائی دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سوائے موسیٰ (علیہ السلام) کے کسی پیغمبر کے ساتھ براہ راست گفتگو نہیں فرمائی۔ (النساء : ١٦٤) اسی بنیاد پر انھیں مُخْلَصًاکے لقب سے نوازا گیا ہے۔ جس کا اکثر اہل علم نے یہی معنٰی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ بات کرنے میں مخصوص فرمایا تھا۔ مخلص کا معنی ہے۔ خالص دوستی کرنا، نجات پانا، محفوظ رہنا، صاف ہونا۔ مسائل ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت بیان کرنے کا حکم ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ ہم کلامی کا شرف بخشا۔ ٣۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے صلہ میں ان کے بھائی ہارون کو بھی نبی بنایا گیا۔ تفسیر بالقرآن موسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا مختصر تذکرہ : ١۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ قرآن مجید میں ١٣٥ مرتبہ آیا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل سے نوازا۔ (النساء : ١٥٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) سے ہم کلام ہوئے۔ (النساء : ١٦٤) ٤۔ اے موسیٰ میں نے تجھے اپنی رسالت اور کلام کے لیے چن لیا ہے۔ (الاعراف : ١٤٤) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات اور واضح دلائل دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ (ھود : ٩٦) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو واضح نشانیاں دیں۔ (بنی اسرائیل : ١٠١) ٧۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نور ہدایت کی طرف بلاتے تھے۔ (ابراہیم : ٥) ٨۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) سے پردے میں بات کرتا تھا۔ ( الشورٰی : ٥١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔ یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شھداء یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت یوں دی جاتی ہے کہ طور ایمن کی جانب سے اللہ نے ان سے کلام کیا۔ ایمن یعنی دائیں جانب سے یہ حضرت موسیٰ کے موقف کے اعتبار سے دایاں کہا۔ حضرت موسیٰ ؐ اللہ کے اس قدر مقرب بندے تھے کہ انہوں نے قریب سے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور یہ کلام مناجات کی صورت میں تھا۔ ہمیں اس کلام کی کیفیت کا علم نہیں ہے ‘ نہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کلام کا ادراک حضرت موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیسے کیا۔ یہ کوئی آواز تھی جسے کان سن رہے تھے ‘ یا یہ کوئی ایسی چیز تھی جو پورے جسد موسیٰ ؐ میں ڈال دی جاتی تھی۔ یہ بھی ہم نہیں جانتے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت کو اس ازلی کلام کی وصولی کے لئے کس طرح تیار کیا گیا ۔ ہمارا ایمان فقط یہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اللہ کے لئے ہر چیز آسان ہے اور یہ بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کسی نہ کسی طرح ڈائریکٹ رابطہ کرے۔ انسان اپنی بشریت پر قائم ہو ‘ اور اللہ کا کلام علوی اپنی علویت پر قائم ہو اور رابطہ ہوجائے۔ آخر اس سے قبل بھی انسان اللہ کی جانب سے روح پھونکنے ہی سے انسان بنا۔ پھر اللہ حضرت موسیٰ پر اپنی اس رحمت کا بھی ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو ان کے مطالبے پر ایک معاون اور مدد گار کے طور پر ہارون دیا۔ واخی ہارون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکذبون (٨٢ : ٤٣) ” اے اللہ ‘ میرے بھائی ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے ‘ بھی میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج دے ‘ وہ میری تصدیق کرے گا ‘ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کردیں گے “۔ اور ہارون کو اللہ کی رحمت نے ان کا ساتھی بنا دیا۔ اس پوری سورة میں رحمت ہی رحمت ہے۔ اب اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ کو لیا جاتا ہے یعنی عربوں کے باپ اسماعیل کو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس کا تذکرہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا کہ وہ مخلص تھے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو چن لیا اور اپنا خاص اور خالص بندہ بنایا۔ (ھذا علی قراء ۃ الکوفیین بفتح اللام وقراء آخرون بکسرھا والمعنی انہ اخلص عبادتہ عن الشرک والریاء واسلم وجھہ للہ عزوجل واخلص عن سواہ کما قال صاحب الروح ص ١٠٣ ج ١٦) نبی اور رسول میں فرق اور یہ بھی فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) رسول تھے اور نبی تھے۔ رسول پہنچانے والا اور نبی خبر دینے والا یہ ان دونوں کا لفظی ترجمہ ہے شریعت کی اصطلاح میں رسول اور نبی اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کے لیے بولا جاتا ہے ان دونوں میں کیا فرق ہے مشہور قول یہ ہے کہ ہر رسول نبی بھی ہے اور رسول میں نبی سے ایک زائد معنی بھی ہے یعنی جسے کتاب دی گئی ہو اور نئی شریعت دے کر بھیجا گیا ہو وہ نبی بھی ہے اور رسول بھی ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) انبیاء سابقین کی شریعت کی دعوت دیتے ہیں اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں انھیں لغوی اعتبار سے رسول کہا جاتا ہے اور اصطلاحی اعتبار سے نہیں کہا جاتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ ہم نے انھیں طور کی داہنی جانب سے پکارا طور پہاڑ مدین اور مصر کے درمیان ہے اس پر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے داہنی جانب کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کے داہنی جانب مراد ہے یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) گزر رہے تھے یہ پہاڑ ان کی داہنی جانب پڑگیا تھا (اذا الجبل نفسہ لا میمنۃ لا ولا میسرۃ) صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایمن یمن سے مشق ہو جو مبارک ہونے کے معنی میں ہے اور اس صورت میں لفظ ایمن جانب کی بھی صفت بن سکتا ہے اور طور کی بھی یعنی موسیٰ کی مبارک جانب سے ہم نے آواز دی یا طور کی جانب سے آواز دی جو مبارک ہو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ تین انبیاء (علیہم السلام) کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد تین کا بالاختصار ذکر فرمایا۔ حضرت موسی، حضرت اسمعیل اور حضرت ادریس (علیہم السلام) یعنی یہ تمام ہمارے سامنے عاجزی کر رہے ہیں۔ لہذا جو خود عاجز اور محتاج ہوں وہ دوسروں کے کارساز اور متصرف کیونکر ہوسکتے ہیں۔ ہاں یہ ہمارے برگزیدہ اور مکرم بندے تھے لیکن متصرف نہیں تھے۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو، نصاری حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اور مشرکین حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو پکارتے تھے ان آیتوں میں اس کی نفی کی گئی کہ یہ برگزیدہ پیغمبر کارساز نہ تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 1 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کا چیدہ اور خاص بندہ تھا اور وہ رسول تھا نبی تھا رسول اور نبی کے سلسلہ میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ سے وحی آوے وہ نبی ہے اور ان میں جو خاص ہیں امت رکھتے ہیں یا کتاب و رسول ہیں۔ 12 بعض مقامات پر رسول کے فرستادوں کو بھی رسول فرمایا ہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص شاگرد جو انطاکیہ بھیجے گئے تھے اور بعض مقامات پر فرشتوں کو بھی رسول فرمایا ہے۔