Mentioning Musa and Harun
After Allah had mentioned Ibrahim, the Friend of Allah, and commended him, he next mentioned Al-Kalim (the one spoken to by Allah directly).
Allah said,
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا
...
And mention in the Book, Musa. Verily, he was Mukhlasan,
Ath-Thawri reported from Abdul-Aziz bin Rafi`, from Abu Lubabah that he said,
"The Disciples (of `Isa) said, `O Spirit of Allah, inform us about the one who is Mukhlis (purely devoted) to Allah.'
He said, `That is one who does a deed solely for Allah and he does not like for the people to praise him."'
Others recited the word as Mukhlas,
which means that he was chosen.
This is as Allah says,
إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ
Verily, I have chosen you above men. (7:144)
Concerning Allah's statement,
...
وَكَانَ رَسُولاً نَّبِيًّا
and he was a Messenger, (and) a Prophet.
Allah combined these two descriptions for him. For verily, he was one of the greatest Messengers and one of the five Messengers of Strong Will. They are;
Nuh,
Ibrahim,
Musa,
`Isa and
Muhammad.
May the blessings of Allah be upon them and all of the Prophets.
Allah said,
خلوص ابراہیم علیہ السلام ۔
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے ۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے ۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے ۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں ۔ دوسری قرأت میں مُخلَصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے ( اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ ١٤٤ ) 7- الاعراف:144 ) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین ۔ ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے ۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے ۔ سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے ۔ کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ اے موسیٰ جب کہ میں ترے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی ۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ۔ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی ۔
فرمایا تھا ( وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 34 ) 28- القصص:34 ) ، اور آیت میں ہے ( قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى 36 ) 20-طه:36 ) موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ۔ آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں ( فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 13 ) 26- الشعراء:13 ) ، ہارون کو بھی رسول بنا الخ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی ۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما ۔