Surat Marium

Surah: 19

Verse: 54

سورة مريم

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِسۡمٰعِیۡلَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَ کَانَ رَسُوۡلًا نَّبِیًّا ﴿ۚ۵۴﴾

And mention in the Book, Ishmael. Indeed, he was true to his promise, and he was a messenger and a prophet.

اس کتاب میں اسماعیل ( علیہ السلام ) کا واقعہ بھی بیان کر ، وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Mentioning Ismail وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ... And mention in the Book, Ismail. Verily, he was true to what he promised, Here Allah has commended Ismail, the son of Ibrahim, the Friend of Allah. He (Ismail) is the father of all of the Arabs of the Hijaz because he was true to what he promised. Ibn Jurayj said, "He did not make any promise to his Lord, except that he fulfilled it." He never obligated himself to do any act of worship with a vow, except that he fulfilled it and carried it out, giving it its full due. Some said, صَادِقَ الْوَعْدِ ((he was) true to what he promised), "This was said about him because he said to his father, سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (If Allah wills you will find me of the patient), (37:102). So he was truthful in that." Being true to one's promise is one of the praiseworthy characteristics, just as breaking one's promise is of the detested characteristics. Allah, the Exalted, says, يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لاأَ تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لاَ تَفْعَلُونَ O you who believe! Why do you say that which you do not do! Most hateful it is with Allah that you say that which you do not do. (61:2-3) The Messenger of Allah said, ايَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ايْتُمِنَ خَان The sign of the hypocrite is three things. When he speaks, he lies; when he promises, he breaks his promise; and when he is entrusted with something, he is disloyal to his trust. Thus, if these are the characteristics of the hypocrites, then behaving contrary to these is a characteristic of the true believer. For this reason, Allah commended His servant and Messenger Ismail, for he was true to his promise. Likewise, the Messenger of Allah was true to his promise. He did not promise anyone anything, except that he fulfilled his promise to that person. He also commended Abu Al-`As bin Ar-Rabi, the husband of his daughter Zaynab, by saying, حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي He spoke to me and he told me the truth, and he promised me and he fulfilled his promise to me. When the Prophet died, the Khalifah (his successor), Abu Bakr As-Siddiq said, "Whoever received any promise from the Messenger of Allah or was owed any debt by him, then let him come to me and I will fulfill it on his behalf." So Jabir bin Abdullah came and related that the Messenger of Allah said, لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَينِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا If the wealth of Bahrain comes (to me), then I would give you such and such and such. This meant that he would fill his hands with wealth. Therefore, when the wealth of Bahrain came (to them), Abu Bakr commanded Jabir to come and fill his hands from that wealth. Then, he commanded him to do so again, until he collected five hundred Dirhams. Then, Abu Bakr gave him its double along with it. (i.e. one thousand extra Dirhams). Concerning Allah's statement, ... وَكَانَ رَسُولاً نَّبِيًّا and he was a Messenger, (and) a Prophet. In this is a proof of Ismail's favored status over his brother, Ishaq. Ishaq was only described as being a Prophet, but Ismail was described with both Prophethood and Messengership. It is confirmed in Sahih Muslim that the Messenger of Allah said, إِنَّ اللهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل Verily, Allah chose Ismail from the sons of Ibrahim... Then, Imam Muslim mentions the rest of the Hadith in its entirety. However, this statement proves the correctness of what we have said. Allah said, وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا

ابو الحجاز علیہ السلام ۔ حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے آپ سارے حجاز کے باپ ہیں جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے پوری ہی کرتے تھے ۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے ۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آجانا ۔ حسب وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا ۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھیرے رہے یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا اب اس شخص کو یاد آیا اس نے آکر دیکھا کہ آپ وہیں انتظار میں ہیں پوچھا کہ کیا آپ کل سے یہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب وعدہ ہو چکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا ۔ سفیان ثوری رحمۃاللہ تو کہتے ہیں یہیں انتظار میں ہی آپ کو ایک سال کامل گزر چکا تھا ۔ ابن شوزب کہتے ہیں وہیں مکان کر لیا تھا ۔ عبداللہ بن الحما کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے میں نے آپ سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ یہیں ٹھہریے میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ وہیں تشریف فرما ہیں ۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ مشقت میں ڈال دیا میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا ۔ ( خرائطی ) یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ نے بوقت ذبح کیا تھا کہ اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے ۔ چنانچہ فی الواقع آپ نے وعدے کی وفا کی اور صبرو برداشت سے کام لیا ۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے ۔ قرآن کریم فرماتا ہے ایمان والو وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت ۔ ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں یہی وعدے کی سچائی حضرت اسماعیل علیہ السلام میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی تھی ۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ نے نہیں کیا ۔ آپ نے ایک مرتبہ ابو العاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا پورا کیا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کر دیا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدہ کیا ہو میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کا قرض ہو میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں ۔ چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوا کر فرمایا لو لپ بھر لو ۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو ۔ پھر حضرت اسماعیل کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا ۔ حالانکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے ۔ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے اللہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا ، الخ ۔ پھر آپ کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ آپ اللہ کی اطاعت پرصابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے ۔ یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے ( وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۭ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى ١٣٢؁ ) 20-طه:132 ) ، اپنی اہل وعیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ ۔ اور آیت میں ہے ( يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ Č۝ ) 66- التحريم:6 ) ، اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنیے اہل وعیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی زور آور اور بڑے سخت ہیں ۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں ۔ پس مسلمانوں کو حکم الہٰی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں گناہوں سے روکتے رہیں یونہی بےتعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اٹھتی ہے ۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے ( ابو داؤد ، ابن ماجہ ) آپ کا فرمان ہے کہ جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کرلیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لئے جاتے ہیں ( ابوداؤد ، نسائی ابن ماجہ )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] سیدنا اسماعیل کے اوصاف وخصائل :۔ سیدنا ابراہیم کے دوسرے اور بڑے بیٹے سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ تھے۔ یہ نبی تھے اور رسول بھی جبکہ سیدنا اسحاق نبی تھے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ سیدنا اسماعیل عرب حجاز کے مورث اعلیٰ ہیں (تفصیل کے لئے سورة ابراہیم کی آیت نمبر ٣٧ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے) آپ کو ابراہیمی شریعت دے کر بنی جرہم کی طرف مبعوث کیا گیا۔ رسول اللہ انہی کی اولاد سے ہیں آپ کا صادق الوعد ہونا مشہور تھا۔ اللہ سے یا بندوں سے جو وعدہ کیا اسے ضرور پورا کرتے تھے۔ خواہ اس وعدہ وفائی میں جان تک قربان کرنی پڑے۔ باپ سیدنا ابراہیم نے اللہ کی راہ میں جان کی قربانی کے لئے کہا تو فورا ً تیار ہوگئے اور وعدہ کیا کہ میں اس معاملہ میں بھی انشاء اللہ صبر کروں گا۔ چناچہ آپ نے کمال اطاعت کا مظاہرہ کرکے یہ وعدہ بھی پورا کیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ۔۔ : یہ پانچواں قصہ اسماعیل (علیہ السلام) کا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور تمام حجاز کے باپ۔ (ابن کثیر) گو تمام انبیاء وعدے کے سچے ہوتے ہیں مگر اسماعیل (علیہ السلام) میں یہ صفت خاص طور پر پائی جاتی تھی۔ سب سے پہلے تو ان میں یہ وصف تھا کہ وہ وعدے کے ساتھ ” ان شاء اللہ “ کہہ لیا کرتے تھے، جیسا کہ انھوں نے والد سے وعدہ کرتے وقت کہا تھا : (سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ) [ الصافات : ١٠٢ ] ” اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔ “ پھر یہ وعدے کی سچائی ہی تھی کہ انھوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا کہ ذبح ہوتے وقت صبر کروں گا، پھر بےدھڑک چھری کے نیچے لیٹ گئے اور اف تک نہ کیا۔ اس سے بڑھ کر وعدہ وفائی کیا ہوگی ؟ وعدہ پورا کرنا ایمان ہے اور وعدہ خلافی نفاق۔ ابوسفیان نے ہرقل کے پاس اقرار کیا تھا : ( یَأْمُرُنَا بالصَّلَاۃِ وَالصَّدَقَۃِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاء بالْعَھْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَۃِ ) [ بخاري، الجھاد، والیسر، باب دعاء النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إلی الإسلام۔۔ : ٢٩٤١ ] کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں نماز، سچ، پاک دامنی، وعدہ پورا کرنے اور امانت ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدہ خلافی کو منافق کی تین نشانیوں میں سے ایک قرار دیا۔ [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق : ٣٣، عن أبي ہریرہ (رض) ] 3 یہاں طبری اور ابن کثیر نے سہل بن عقیل سے نقل کیا ہے کہ اسماعیل (علیہ السلام) نے ایک آدمی سے اس کے آنے تک ایک جگہ میں رہنے کا وعدہ کیا، وہ بھول گیا تو ایک دن رات اس کے آنے تک وہیں ٹھہرے رہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۡ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ) اور سفیان ثوری سے نقل کیا ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ایک سال وہیں ٹھہرے رہے۔ مگر یہ دونوں روایات بعض علماء کے اقوال ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرگز بیان نہیں فرمائیں۔ ظاہر ہے ان دونوں بزرگوں نے یہ روایات بنی اسرائیل سے لی ہیں اور ہم اہل کتاب کی کسی بات کو سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ 3 سنن ابی داؤد وغیرہ میں اسی طرح کا واقعہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بھی مروی ہے کہ نبوت سے پہلے ایک آدمی کے آنے تک ٹھہرنے کے وعدے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن رات وہیں ٹھہرے رہے، مگر شیخ البانی (رض) نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا : اللہ تعالیٰ نے اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کو صرف نبی (مریم : ٤٩) اور اسماعیل (علیہ السلام) کو ” وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا “ فرمایا، اس سے ان کے بلند مرتبے کا اظہار ہوتا ہے۔ اسماعیل (علیہ السلام) بنو جرہم کی طرف رسول تھے، جن کے وہ داماد بھی تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاھِیْمَ إِسْمَاعِیْلَ ) [ ترمذي، المناقب عن رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، باب ما جاء في فضل النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٣٦٠٥ ]” اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اسماعیل (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَاذْكُرْ‌ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ |"And mention in the Book (the story of) Isma` il.|" - 19:54. The reference here is clearly to Sayyidna Ismail (علیہ السلام) the son of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، who has not been mentioned earlier along with his father Ibrahim (علیہ السلام) and brother Ishaq (علیہ السلام) but mention has been made of him after a brief interlude in which an account of Sayyidna Musa (علیہ السلام) is given. It is possible that by making a reference to Sayyidna Ismail (علیہ السلام) apart from others, instead of treating him along with them, the intention was to give him prominent status. In this verse the prophets have not been mentioned in the order in which they were granted missions of prophethood, because Idris (علیہ السلام) who has been mentioned last was, in fact, the earliest of them all. كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ |"He was indeed true to his promise.|" - 19:54. Fulfillment of promise .is regarded as an important part of the moral code by all decent men, just as a breach of it is considered worthy of contempt. A saying of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has described the breaking of promise as a sign of hypocrisy. Thus, none of the prophets and messengers of Allah have been accused of bad faith / a breach of promise. Here certain attributes have been assigned to some of the prophets, but this does not mean that the other prophets did not possess them. It only suggests that these special attributes distinguish them from all the other prophets, just as Sayyidna Musa (علیہ السلام) has been described as مُخلَص . All the other prophets possessed this quality, but it has been specifically applied to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Hence a special mention of him with the attribute. Sayyidna Ismail (علیہ السلام) occupies a place of honour where keeping a promise is concerned and he stood by his promise whether made to Allah or to humans. He fulfilled his promise to Allah that he would offer himself for sacrifice and will not be found wanting in courage. When the time came he stood by his promise. Once, he promised to meet a man at an appointed place and time. The man did not turn up at the appointed time, but Sayyidna Ismail علیہ السلام waited for him at the place for three days, and according to another tradition for full one year. (Mazhari) A similar incident is reported about The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) by Tirmidhi on the authority of Abdullah Ibn Ari Al-Khamsa that he waited for three days for someone who had promised to meet him at a particular place. (Qurtubi) Importance of keeping one&s promise. Fulfillment of promise is a distinctive trait of the character of the prophets and the pious, and a normal code of conduct with all decent persons. Breaking of a promise, on the other hand, is a habit of the wicked, mean and liars. A saying of The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is اَلعدۃ دَین |"A promise is like a debt.|" i.e. it is as obligatory to honour a promise as it is to repay a debt. There is another saying of The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which says وای المؤمن واجب . It means that |"promise is an obligation for a believer.|" Jurists are all agreed that a promise is a debt and its fulfillment obligatory, but only in the sense that its violation without a religious (شرعِی) excuse is a sin though no remedy can be sought for its breach in a court of law. In the language of the Jurists a debt is an obligation which is enforceable, while a promise is not.

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ، ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت اسماعیل بن ابراہیم (علیہ السلام) ہیں مگر ان کا ذکر ان کے والد اور بھائی ابراہیم و اسحٰق کے ذکر کے ساتھ نہیں فرمایا بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر درمیان میں آنے کے بعد ان کا ذکر فرمایا۔ شاید اس سے مقصود ان کے ذکر کا خاص اہتمام ہو کہ ضمنی لانے کے بجائے مستقلاً ذکر کیا گیا اور یہاں جتنے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ان کے زمانہ بعثت کی ترتیب نہیں رکھی گئی کیونکہ ادریس (علیہ السلام) جن کا ذکر ان سب کے بعد آرہا ہے وہ زمانے کے لحاظ سے ان سب سے مقدم ہیں۔ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ، ایفاء وعدہ ایک ایسا خلق حسن ہے کہ ہر شریف آدمی اس کو ضروری سمجھتا ہے اور اس کے خلاف کرنے کو ایک رذیل حرکت قرار دیا جاتا ہے حدیث میں وعدہ خلافی کو نفاق کی علامت بتلایا ہے، اسی لئے اللہ کا کوئی نبی و رسول ایسا نہیں جو صادق الوعد نہ ہو مگر اس سلسلہ کلام میں خاص خاص انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر کے ساتھ کوئی خاص وصف بھی ذکر کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ وصف دوسروں میں نہیں بلکہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان میں یہ خاص صفت ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے جیسے ابھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کے ساتھ ان کا مخلص ہونا ذکر فرمایا ہے حالانکہ یہ صفت بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عام ہے مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس میں ایک خاص امتیاز تھا اس لئے ان کے ذکر میں اس کا ذکر فرمایا گیا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا صدق وعدہ میں امتیاز اس بناء پر ہے کہ انہوں نے جس چیز کا وعدہ اللہ سے یا کسی بندہ سے کیا اس کو بڑی مضبوطی اور اہتمام سے پورا کیا، انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اپنے آپ کو ذبح کرنے کے لئے پیش کردیں گے اور اس پر صبر کریں گے اس میں پورے اترے۔ ایک شخص سے ایک جگہ ملنے کا وعدہ کیا وہ وقت پر نہ آیا تو اس کے انتظار میں تین دن اور بعض روایات میں ایک سال اس کا انتظار کرتے رہے (مظہری) اور ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ترمذی میں بروایت عبداللہ بن ابی الحمساء ایسا ہی واقعہ وعدہ کرکے تین دن تک اسی جگہ انتظار کرنے کا منقول ہے۔ (قرطبی) ایفائے وعدہ کی اہمیت اور اس کا درجہ : ایفائے وعدہ انبیاء و صلحاء کا وصف خاص اور تمام شریف انسانوں کی عادت ہے اس کے خلاف کرنا فساق فجار رذیل لوگوں کی خصلت ہے۔ حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے العدة دین، وعدہ ایک قرض ہے یعنی جس طرح قرض کی ادائیگی انسان پر لازم ہے اسی طرح وعدہ پورا کرنے کا اہتمام بھی لازم ہے۔ دوسری ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں وای المومن واجب یعنی وعدہ مومن کا واجب ہے۔ حضرات فقہاء نے باتفاق یہ فرمایا ہے کہ وعدہ کا قرض ہونا اور ایفاء وعدہ کا واجب ہونا اس معنی میں ہے کہ بلا عذر شرعی اس کو پورا نہ کرنا گناہ ہے لیکن وہ ایسا قرض نہیں جس کی چارہ جوئی عدالت سے کی جاسکے اور زبردستی وصول کیا جاسکے جس کو فقہاء کی اصطلاح میں یوں تعبیر کیا جاتا ہے کہ دیانةً واجب ہے قضاء واجب نہیں۔ (قرطبی وغیرہ)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ۝ ٠ۡاِنَّہٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا۝ ٥٤ۚ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٤) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے، یقینا وہ وعدے کے بڑے سچے تھے اور اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے رسول بھی تھے اور احکام خداوندی سنانے والے بھی تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٤ (وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَز اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ) ” یہ خصوصی طور پر اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو آپ ( علیہ السلام) نے اپنے والد ماجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ان الفاظ میں کیا تھا : (یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُز سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ) (الصّٰفٰت) ” ابا جان آپ کر گزرئیے جو آپ ( علیہ السلام) کو حکم ہوا ہے ‘ مجھے آپ ان شاء اللہ صابرین میں سے پائیں گے “۔ یوں آپ ( علیہ السلام) نے ذبح ہونے کے لیے اپنی گردن پیش کردی اور اس سلسلے میں صبر کرنے کا جو وعدہ کیا تھا آخر وقت تک اسے نبھایا۔ (وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا ) ” جیسا کہ ” رسول نبی “ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے قبل ازیں وضاحت کی جا چکی ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مزاج کے اعتبار سے بہت متحرک اور فعال تھے اس لیے آپ ( علیہ السلام) کو رَسُولاً نَبِیًّا کا لقب عطا ہوا ہے۔ اس ضمن میں اس سے قبل حضرت حمزہ (رض) کے مزاج کی بھی مثال دی گئی ہے۔ حضرت حمزہ (رض) حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی نسل میں سے بھی تھے اور آپ (رض) کی شخصیت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شخصیت سے بہت مشابہت بھی رکھتی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

27: پیچھے آیت نمبر 49 میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ ان کی اہمیت کے پیش نظر ان کا تذکرہ علیحدہ کرنا مقصود تھا جو اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یوں تو سارے انبیاء علیہم السلام ہی وعدے کے سچے ہوتے ہیں، لیکن حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لیے خاص طور پر یہ صفت اس لیے بیان فرمائی گئی ہے کہ جب انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا کہ ذبح کے وقت وہ انہیں صبر کرنے والا پائیں گے (جس کا ذکر سورۃ صافات میں آئے گا)۔ موت کو سامنے دیکھ کر بھی انہیں اپنا یہ وعدہ یاد رہا، اور انہوں نے مثالی صبر و ضبط کا مظاہرہ فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی وعدے کی پابندی کے معاملے میں ان کے کئی واقعات مفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٤۔ ٥٥:۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں معتبر سند سے ابن شہاب زہری کا قول ہے کہ اسمعیل (علیہ السلام) نے ایک شخص سے کچھ وعدہ کیا تھا پھر وہ شخص وعدہ پر نہیں آیا تو اسماعیل (علیہ السلام) ایک برس تک اس کا انتظار کرتے رہے ١ ؎ ان آیتوں میں اسماعیل (علیہ السلام) کو وعدہ کا سچا جو فرمایا اس کی تفسیر اس قصہ سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے یہ محمد بن مسلم ابن شہاب سبا میں آئے گا کہ پانی کا بند ٹوٹ جانے کی آفت سے جب قوم سبا کے یمنی عرب تباہ ہوگئے تو ان میں کے کچھ قبیلے یمن سے اٹھ کر مدینہ منورہ میں آن بسے یہ وہی لوگ ہیں جن کا لقب خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں انصار قرار پایا۔ صحیح بخاری میں سلمۃ بن الاکوع سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو بنی اسماعیل (علیہ السلام) کے ذکر سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا ہے کہ تمام عرب کے باپ اسماعیل (علیہ السلام) کو تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ نماز کے وقت یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے اور زکوٰۃ کو جرمانہ جانتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اولاد اسماعیل کہتے ہیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کے حکم کے موافق اپنی بی بی کو طلاق دے دی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت سے صحیح بخاری میں ہے ٢ ؎۔ کعبہ کے بنانے کے وقت پتھر ڈھو ڈھو کر لائے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بری مدد دی یہ ذکر بھی صحیح بخاری کی اسی روایت میں ہے میں آئے گا اسی واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کی عادتیں اللہ کو پسند تھیں۔ ١ ؎ فتح الباری ص ٥٧٣ ج ٢ باب من امربانجاز الوعد الخ۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٤٧٥ ج ١ کتاب الانبیاء۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یہ پانچواں قصہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم کے لڑکے تھے اور تمام عرب حجاز کے باپ (ابن کثیر) گو تمام انبیاء ہی وعدہ کے سچے ہوتے ہیں۔ مگر حضرت اسمعیل کے وعدہ کی سچائی تھی اور ان میں یہ صفت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی، یہاں کے وعدے کی سچائی ہی تو تھی کہ انہوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا کہ ذبح ہوتے وقت صبر کروں گا پھر بےدھڑک چھری کے نیچے لیٹ گئے اور چوں تک نہ کی، اور جس عبادت کا بھی التزام کیا اور منت مانی اسے پوری طرح ادا کیا ابن کثیر)8 اس سے حضرت اسحقٰ پر حضرت اسمعیل کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کہ کیونکہ حضرت اسحاق کو صرف نبی اور حضرت اسمعیل کو رسول نبی فرمایا گیا ہے۔ نیز صحیح مسلم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :” اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی اولاد میں سے اسمعیل کو منتخب فرما لیا۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ رسول وہ ہے جو مخاطبین کو شریعت جدیدہ پہنچا دے اور نبی وہ ہے جو صاحب وحی ہو، خواہ شریعت جدیدہ کی تبلیغ یا شریعت قدیمہ کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے صادق الوعد کی صفت لائی گئی ہے۔ ہر نبی اور صالح شخص کو صادق الوعد ہونا چاہیے اور ہوتا ہے۔ لیکن حضرت اسماعیل میں یہ صفت بہت ہی نمایاں تھی اس لئے انکی خصوصی صفات میں سے یہاں اس صفت کو بیان کردیا گیا۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ” رسول نبی “ تھے ‘ لہٰذا ان کی مخصوص دعوت ہوگئی۔ عرب میں حضور کے زمانے تک بعض موحدیں پائے جاتے تھے۔ یہ انہی کی دعوت کے آثار باقیہ تھے۔ ان کے دین اور دعوت کے ارکان بھی یہاں گنوائے گئے ہیں ‘ زکوۃ اور صلوۃ اور تظہیراہل خانہان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اللہ کی بار گاہ میں وہ پسندیدہ انسان تھے۔ رضائے خداوندی بھی اس سورة کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ رحمت و رضا مندی قریب قریب کی صفات ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ذکر ادریس (علیہ السلام) پر ہوتا ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ اِسْمَاعِیْلَ ) (اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کیجیے) (اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ) (بلاشبہ وہ وعدہ کے سچے تھے) (وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا) (اور وہ رسول تھے نبی تھے) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے اوصاف عالیہ ان آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی چند صفات بیان فرمائیں اول یہ کہ وہ (صَادِقَ الْوَعْدِ ) یعنی وعدہ کے سچے تھے یہ صفت تمام انبیاء (علیہ السلام) میں ہے اور بہت سے مومنین میں بھی ہوتی ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ ان کی اس صفت کا تذکرہ فرمایا کیونکہ انھوں نے بہت بڑی سچائی کا ثبوت دیا تھا جب ان کے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں ذبح کرتا ہوں بولو تم اپنی رائے بتاؤ اس پر انھوں نے کہا (یٰاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصَّابْرِیْنَ ) (کہ اے ابا جان ! جس چیز کا آپ کو حکم ہوا ہے وہ کر گزریئے۔ مجھے آپ انشاء اللہ صابروں میں سے پائیں گے) پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذبح کرنے کے لیے لٹایا تو بخوشی لیٹ گئے اور ذبح ہونے کے لیے تیار ہوگئے صبر کا جو عدہ کیا تھا پورا کر دکھایا۔ دوسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبْیًّا) (اور وہ رسول تھے نبی تھے) چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پر کتاب نازل ہونے اور شریعت جدیدہ دیئے جانے کی کہیں کوئی تصریح نہیں ہے اور بظاہر وہ شریعت ابراہیمی کے مبلغ اور داعی تھے اس لیے یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان پر رسول کا اطلاق لغوی معنی کے اعتبار سے ہے اور حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے بیان القرآن میں اس کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ گو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شریعت شریعت ابراہیمی ہی تھی لیکن قوم جرہم کو اس کا علم چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہی کے ذریعہ حاصل ہوا اس لیے ان کے لیے لفظ رسول کا اطلاق کیا گیا۔ تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرماتے تھے معلوم ہوا کہ گھر والوں کی تعلیم و تربیت میں نماز اور زکوٰۃ کا خصوصی دھیان رکھنا چاہیے نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے۔ نفس کو ان دونوں کا پابند کیا جائے اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس کا پابند کرایا جائے تو دین کے باقی احکام پر بھی چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال واطوار پسند تھے وہ ان بندوں میں سے تھے جن سے اللہ راضی ہوا (واضح رہے کہ کسی ایک شخصیت کے لیے کسی صفت سے متصف کرنے کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ اس کے علاوہ دیگر افراد اس سے متصف نہیں ہیں یا اس میں دیگر صفات نہیں ہیں خوب سمجھ لیا جائے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) وعدے کے سچے اور اللہ کے رسول تھے۔ ” وَ کَانَ یَامُرُ الخ “ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قدر فرمانبردار تھے کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں بجا لانے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ جو خود اس حد تک اللہ کا فرمانبردار ہو۔ وہ کس طرح متصرف ہوسکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

54 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے وہ وعدے کا بڑا سچا تھا اور رسول تھا نبی تھا۔ یعنی اسمعیل کا جو ذکر ہم کر رہے ہیں اے پیغمبروہ ان لوگوں کو پڑھ کر سنائیے وعدے کا سچا فرمایا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یعنی اور اوصاف حمیدہ اور اخلاق عالیہ کے یہ وصف بہت نمایاں تھا کہ جو وعدہ فرماتے اس کو پورا کرتے رسول تھا یعنی ملت ابراہیمی کی تبلیغ کرتا تھا نبی تھا کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کا مہبط تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک تو آوے میں اسی جگہ رہوں گا وہ ایک برس نہ آیا یہ وہاں ہی رہے۔ 12