Surat Marium

Surah: 19

Verse: 75

سورة مريم

قُلۡ مَنۡ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ لَہُ الرَّحۡمٰنُ مَدًّا ۬ ۚ حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ اِمَّا الۡعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَۃَ ؕ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضۡعَفُ جُنۡدًا ﴿۷۵﴾

Say, "Whoever is in error - let the Most Merciful extend for him an extension [in wealth and time] until, when they see that which they were promised - either punishment [in this world] or the Hour [of resurrection] - they will come to know who is worst in position and weaker in soldiers."

کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتو اللہ رحمٰن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو دیکھ لیں جن کا وعدہ کیے جاتے ہیں یعنی عذاب یا قیامت کو اس وقت ان کو صحیح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کون برے مرتبے والا اور کس کا جتھا کمزور ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Rebellious Person is given Respite but He is not forgotten Allah, the Exalted, says, قُلْ ... Say: This means, "O Muhammad, say to these people who are associating partners with their Lord, while claiming to follow the truth, that they are really following falsehood." ... مَن كَانَ فِي الضَّلَلَةِ ... whoever is in error, This means, `be they from us or from you.' ... فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا ... the Most Gracious will extend (circumstances) for him. This means that the Most Beneficent will give him respite in that which he is in, until he meets his Lord and his appointed time will have arrived. ... حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ ... until, when they see that which they were promised, either the torment, (that will strike him), ... وَإِمَّا السَّاعَةَ ... or the Hour, (that will come suddenly), ... فَسَيَعْلَمُونَ ... they will come to know, (at that time), ... مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضْعَفُ جُندًا who is worst in position, and who is weaker in forces. This is in refutation of their argument about their nice dwellings and splendid places of gathering. This is a challenge against the idolators who claim that they were following guidance in what they were doing. This is similar to the challenge that Allah mentions about the Jews when He says, يأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُواْ إِن زَعمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَأءُ لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ O you Jews! If you pretend that you are friends of Allah, to the exclusion of (all) other people, then long for death if you are truthful. (62:6) Meaning, `Supplicate for death to come to those who are following falsehood among us if you truly claim to be upon the truth. If you are true, then this supplication will not harm you.' But they refused to do so. An extensive discussion of this has already preceded in Surah Al-Baqarah, and to Allah is the praise. Likewise, Allah mentioned the challenge that was given to the Christians in Surah Al Imran, when they were persistent in their disbelief and continued in their transgression. They refused to give up their exaggerating claim that `Isa was the son of Allah. Therefore, Allah mentioned His arguments and proofs against the worship of `Isa, and that he was merely a creature like Adam. After this, Allah said, فَمَنْ حَأجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَأءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَأءَنَا وَأَبْنَأءَكُمْ وَنِسَأءَنَا وَنِسَأءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ Then whoever disputes with you about him after (all this) knowledge that has come to you, say: "Come, let us call our sons and your sons, our women and your women, ourselves and yourselves - then we pray and invoke (sincerely) the curse of Allah upon those who lie." (3:61) However, they (the Christians) also retreated from this challenge.

مشرکوں سے مباہلہ ۔ ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطیمنان کئے بیٹھے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ گمراہوں کی رسی دراز ہوتی ہے انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی ہے جب تک کہ قیامت نہ آجائے یا ان کی موت نہ آجائے ۔ اس وقت انہیں پورا پتہ چل جائے گا کہ فی الواقع برا شخص کون تھا اور کس کے ساتھی کمزور تھے دنیا تو ڈھلتی چڑھتی چھاؤں ہے نہ خود اس کا عتبار نہ اس کے سامان اسباب کا ۔ یہ تو اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی رہیں گے ۔ گویا اس آیت میں مشرکوں سے مباہلہ ہے جیسے یہودیوں سے سورہ جمعہ میں مباہلہ کی آیت ہے کہ آؤ ہمارے مقابلہ میں موت کی تمنا کرو ۔ اسی طرح سورہ آل عمران میں مباہلے کا ذکر ہے کہ جب تم اپنے خلاف دلیلیں سن کر بھی عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کے مدعی ہو تو آؤ بال بچوں سمیت میدان میں جاکر جھوٹے پر اللہ کی لعنت پڑنے کی دعا کریں ۔ پس نہ تو مشرکین مقابلے پر آئے نہ یہود کی ہمت پڑتی نہ نصرانی مرد میدان بنے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

75۔ 1 علاوہ ازیں یہ چیزیں گمراہوں اور کافروں کو مہلت کے طور پر بھی ملتی ہیں، اس لئے یہ کوئی معیار نہیں۔ اصل اچھے برے کا پتہ تو اس وقت چلے گا، جب مہلت عمل ختم ہوجائے گی اور اللہ کا عذاب انھیں آ گھیرے گا یا قیامت برپا ہوجائے گی۔ لیکن اس وقت کا علم، کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ وہاں ازالے اور تدارک کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٧] انعامات کی فراوانی سے آزمائش :۔ اسکے بجائے اصل صورت حال یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ دنیا کے سازوسامان میں دل لگا کر اس کی دلفریبیوں پر ریجھ گئے ہوں اللہ تعالیٰ ان پر مزید انعامات کی بارش کئے جاتے ہیں اور اس انداز سے ان کی آزمائش کرتے ہیں۔ پھر اس کی بھی ایک حد مقرر ہوتی ہے۔ اگر اس عرصہ میں وہ اللہ کی طرف رجوع کرلیں اور دین حق کی طرف لوٹ آئیں تو فبہا ورنہ انھیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ایسا عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے جیسا کہ سابقہ اقوام پر آچکا ہے اور اگر دنیا میں بچ جائیں تو قیامت کو تو ضرور انھیں اس سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ اس وقت انھیں قدر عافیت معلوم ہوجائے گی اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ حقیقتا ً خوشحالی کس فریق کا مقدر ہے اور سوسائٹی کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔ ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ ۔۔ : اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار سے کیا کہیں ؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو، آؤ ! مباہلہ کرلیں اور ہم تم دونوں مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم دونوں میں سے جو فریق گمراہی پر ہے اسے اللہ تعالیٰ ایک مدت تک مہلت دے اور اسے اس کی اسی حالت میں رکھے، تاکہ کفار جب اس استدراج اور مہلت کی وجہ سے کفر کی حالت میں فوت ہوں تو انھیں پتا چل جائے کہ کس کے رہنے کی جگہ بد ترین اور کس کا لشکر اور جتھا کمزور ترین ہے۔ اس تفسیر میں ” فَلْيَمْدُدْ “ کو اصل معنی ” امر “ پر رکھا گیا ہے۔ ابن کثیر اور ابن جریر نے صرف یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال سورة آل عمران کی آیت (٦١) اور سورة بقرہ کی آیت (٩٤) ہے۔ (شنقیطی) 3 دوسری تفسیر اس آیت کی یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار کی اس دلیل کا کیا جواب دیں ؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ جو لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ انھیں کچھ نہ کچھ مہلت دے، تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے۔ یہ نہ کہیں کہ ہمیں سوچنے کا وقت نہیں ملا۔ پھر جب دنیا ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوں گے، یا موت کے وقت اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے، تو خود ہی اچھی طرح جائزہ لے لیں گے کہ کس کی رہنے کی جگہ زیادہ بری اور کس کا جتھا اور لشکر زیادہ کمزور ہے۔ آیت میں لفظ ” الرَّحْمٰنُ “ کی حکمت یہ ہے کہ گمراہوں کو مہلت دینا اللہ تعالیٰ کی بےانتہا رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کفر سے توبہ کرلیں۔ قرآن مجید میں کئی آیات میں یہ بات مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (١٧٨) ، انعام (٤٤) ، سبا (١٧) اور قلم (٤٤، ٤٥) اس تفسیر کی صورت میں ” فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ “ میں امر بمعنی خبر ہے۔ یہ معنی زیادہ قوی ہے، کیونکہ اس کے بعد والی آیت : (وَيَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى ) میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کی گمراہی میں مہلت دیتا ہے، اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَۃِ فَلْيَمْدُدْ لَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا۝ ٠ۥۚ حَتّٰٓي اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ۝ ٠ۭ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَشَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا۝ ٧٥ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء الإمْدَادُ في المحبوب والمدُّ في المکروه نحو : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] ، وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] ، يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] ، أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] ، وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] ، وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] ، وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] فمن قولهم : مَدَّهُ نهرٌ آخرُ ، ولیس هو مما ذکرناه من الإمدادِ والمدِّ المحبوبِ والمکروهِ ، وإنما هو من قولهم : مَدَدْتُ الدّواةَ أَمُدُّهَا «1» ، وقوله : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] والمُدُّ من المکاييل معروف . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں اور مدۃ الجرح کے معنی زخم کا گندہ مواد کے ہیں ۔ مد النھر در کا چڑھاؤ ۔ مدہ نھر اخر ۔ دوسرا دریا اس کا معاون بن گیا ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرک پھیلا دیتا ہے ۔ مددت عینی الی کذا کسی کیطرف حریصانہ ۔۔ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] تم ۔۔ للچائی نظروں سے نہ دیکھنا ۔ مددتہ فی غیہ ۔ گمراہی پر مہلت دینا اور فورا گرفت نہ کرنا ۔ مددت الابل اونٹ کو مدید پلایا ۔ اور مدید اس بیج اور آٹے کو کہتے ہیں جو پانی میں بھگو کر باہم ملا دیا گیا ہو امددت الجیش بمدد کا مددینا ۔ کمک بھیجنا۔ امددت الانسان بطعام کسی کی طعام ( غلہ ) سے مددکرنا قرآن پاک میں عموما امد ( افعال) اچھی چیز کے لئے اور مد ( ثلاثی مجرد ) بری چیز کے لئے ) استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے ۔ أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] کیا یہ لوگ خیا کرتے ہیں ک ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں ۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا ۔ يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا ۔ أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو ۔ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] اور اس کے لئے آراستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں ۔ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت اور سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] اور ان ( کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں لیکن آیت کریمہ : وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] اور سمندر ( کا تمام پانی ) روشنائی ہو اور مہار ت سمندر اور ( روشنائی ہوجائیں ) میں یمددہ کا صیغہ مدہ نھرا اخر کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ امداد یا مد سے نہیں ہے جو کسی محبوب یا مکروہ وہ چیز کے متعلق استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہ مددت الداواۃ امد ھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوات میں روشنائی ڈالنا کے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] اگرچہ ہم دیسا اور سمندر اس کی مددکو لائیں ۔ میں مداد یعنی روشنائی کے معنی مراد ہیں ۔ المد۔ غلہ ناپنے کا ایک مشہور پیمانہ ۔ ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے ہیں ضعف والضَّعْفُ قد يكون في النّفس، وفي البدن، وفي الحال، وقیل : الضَّعْفُ والضُّعْفُ لغتان . قال تعالی: وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] ( ض ع ف ) الضعف اور الضعف رائے کی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے اور بدن اور حالت کی کمزوری پر بھی اور اس میں ضعف اور ضعف ( ولغت ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کس قدر کمزور ی ہے ۔ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرما دیجئے کہ جو کفر وشرک میں مبتلا ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کے مال واولاد میں اضافہ کرتا رہتا ہے آپ ان کی حالت کو کہ جب یہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے کہ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ غزوہ بدر میں تلواروں کو یا قیامت کے دن دوزخ کے عذاب کو، تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں برا اور دنیا میں تنگ مکان کس کا ہے اور کمزور و مددگار کس کے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٥ (قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلْیَمْدُدْ لَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا ج) ” یہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ اور قانون ہے کہ جو شخص فہم و شعور کے باوجود گمراہی میں پڑنا پسند کرلیتا ہے تو وہ اس کی رسّی دراز کرتا ہے اور اسے دنیوی نعمتوں سے نوازتا چلا جاتا ہے۔ (فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدًا ) ” دُنیوی زندگی تو ایک سراب کی مانند ہے۔ یا اس کی مثال ایک سٹیج ڈرامے کی سی ہے جس میں مختلف کرداروں کے مختلف بہروپ نظر آتے ہیں۔ مگر جب آخرت میں حقیقت کھل کر سامنے آئے گی تب انہیں پتا چلے گا کہ اصل میں مقام و مرتبہ اور طاقت و قوت کے لحاظ سے کون بڑھ کر تھا ؟ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا ابو جہل ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٥:۔ منکرین حشر اپنی دنیا کی خوشحالی کو اپنے حق میں بہتر جو سمجھتے تھے اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ دنیا کی خوشحالی ان لوگوں کے حق میں کچھ بھلائی کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ان کی حق میں ایک وبال کی چیز ہے کیونکہ اس خوشحالی کی حالت میں جس قدر ان کی عمر بڑھے گی اپنی خوشحالی کے نشہ میں اسی قدر یہ لوگ گمراہی کے کام زیادہ کریں گے جس کے وبال میں یا تو دنیا کا کوئی عذاب ان پر آجائے گا یا اگر ایسے حال میں یہ لوگ مرگئے تو قیامت کے دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ جن تنگ دست ایمانداروں سے اپنے آپ کو یہ لوگ اچھا جانتے تھے ان کا کیا انجام ہوا صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ١ ؎ کہ قیامت کے دن بڑے بڑے مالدار منکر شریعت لوگوں کو جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس خوشحالی کے نشہ میں تم اس عذاب کو جھٹلاتے تھے اس عذاب کے آگے وہ خوشحالی کچھ تم کو یاد ہے تو وہ لوگ قسمیں کھا کر جواب دیں گے کہ اس عذاب کے آگے ہم کو وہ دنیا کی خوشحالی کچھ بھی یاد نہیں اسی طرح بڑے بڑے تنگ دست جنتیوں سے پوچھیں گے کہ جنت کی ان نعمتوں کے آگے تم کو دنیا کی تنگدستی کچھ یاد ہے جس پر تم نے صبر کیا اور اس صبر کے اجر میں تم کو جنت کی یہ نعمتیں ملیں تو یہ بھی قسمیں کھا کر جواب دیں گے کہ نہیں۔ اس حدیث سے مالدار نافرمانوں اور تنگ دست ایمانداروں کا عقبیٰ کے انجام کا حال اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے مشرکین مکہ کے بڑے بڑے مالدار نافرمانوں پر دنیا اور آخرت میں جو عذاب بدر کی لڑائی کے وقت آیا انس بن مالک کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت سے اس کا حال کئی جگہ گزر چکا ہے ٢ ؎۔ ١ ؎ دیکھئے ص ١٩٣ ج ٢۔ ٢ ؎ مثلا ص ٢٣ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:75) من۔ یہاں شرطیہ ہے۔ جیسے من یعمل سوءا یجز بہ۔ (4:132) اگر کوئی برائی کرے گا اس کو اس کی سزا ملے گی۔ من کان فی الضللۃ اگر کوئی گمراہی میں پڑا رہتا ہے۔ اور جواب شرط میں فرمایا فلیمدد لہ الرحمن مدا الخ ۔ فلیمدد۔ جواب من۔ لیمدد۔ فعل امر واحد مذکر غائب۔ چاہیے کہ وہ ڈھیل دے لیکن یہاں امر بمعنی مضارع یعنی انشا بمعنی خبر آیا ہے۔ اور ترجملہ ہوگا۔ وہ اس کو ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ ای من کفر مدلہ الرحمن یعنی امھلہ واملی لہ فی العمر۔ اگر کوئی کفر کرتا ہے تو رحمن اسے عمر میں مہلت دیتا ہے اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ کفر میں اپنی من مانی کرے اور اس پر حجت تمام ہوجائے اور بوقت گرفت اس کے پاس کوئی عذر نہ رہے۔ یمدد۔ مدباب نصر سے مد یمد مد ڈھیل دینا۔ مدا مصدر کو دوبارہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے جندا۔ بلحاظ لشکر کے یا بلحاظ حمائتی اور مددگار کے۔ من ھو اضعف جندا۔ کون باعتبار لشکر۔ حمائتی یا مدد گار کے کمزور تر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اس طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی ” زادھم ھدی “ میں داخل ہے۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی اس نعمت دنیوی میں یہ حکمت ہے کہ مہلت دے کر اتمام حجت کردے اور یہ مہلت چند روزہ ہے۔ 4۔ یعنی دنیا میں جو اپنے اہل مجلس کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں وہاں معلوم ہوگا کہ ان میں کتنا زور ہے، کیونکہ وہاں تو زور میں اتنی کمی ہوگی کہ اصلا زور نہ ہوگا، اسی کو اضعف فرمایا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجبین سے زیادہ صحیح راستے پر ہیں ‘ محض اس لیے کہ وہ دولت مند ہیں ‘ شاو شوکت والے ہیں۔ اچھا ان کی دولت اور شان میں اور اضافہ ہو ‘ اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم ان کو یہ بد دعا دو کہ گمراہی میں یہ اور دور نکل جائیں۔ اللہ ان کی رسی اور دراز کردے۔ اہل ہدایت کو مزید ہدایت دے تاکہ یہ لوگ اپنے انجام تک پہنچ جائیں اور ان کا انجام یہی ہو سکتا ہے کہ یا دنیا میں ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں سزادی جائے اور یا آخرت میں ان کو سزا دی جائے۔ اس وقت پھر ان کو صحیح صورت حالات کا علم ہوجائے گا ‘ کہ کس کا مقام و مرتبہ اچھا ہے اور کون کمزور اور ناتواں اور بےبس ہے۔ اس وقت مسلمان بہت خوش ہوں گے اور عزت پائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کو ڈھیل دی جاتی ہے بعد میں وہ اپنا انجام دیکھ لیں گے مال و اسباب پر فخر کرنے والوں کو اول تو یہ جواب دیا کہ ان سے پہلے کتنی جماعتیں گزر چکی ہیں جو سازو سامان اور زیب وزینت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں انھیں ہلاک کردیا گیا پھر ارشاد فرمایا (قُلْ مَنْ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلْیَمْدُدْلَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا) اس میں یہ بتایا کہ گمراہی پر ہوتے ہوئے سازو سامان نعمت نہیں ہے بلکہ یہ استدراج یعنی ڈھیل ہے اس ڈھیل کی وجہ سے اور زیادہ گمراہی میں ترقی کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی عذاب دنیوی کو یا موت کے وقت کی تکلیف کو تو اس وقت انھیں پتہ چل جائے گا کہ مومنین اور کافرین میں سے کون بدترین مرتبہ کو پہنچا اور جماعت کے اعتبار سے کون زیادہ کمزور نکلا۔ لفظ شرمکانا خیر مقانا کے جواب اور اَضْعَفُ جُنْدًا، اَحْسَنُ نَدِیًّا کے جواب میں فرمایا کہ لشکر کے اعتبار سے کمزور تر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی مصیبت کے وقت کوئی بھی مددگار نہ ہوگا اور دنیا میں جتنے اہل مجلس تھے کوئی بھی کچھ نہ مدد کرے گا نہ کرسکے گا پھر فرمایا (وَ یَزِیْدُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اھْتَدَوْا ھُدًی) اس میں ہدایت والوں کی فضیلت بیان فرمائی اہل کفر کفر پر جمے ہوئے ہونے کی وجہ سے عذاب آنے تک ڈھیل میں ہیں اور ہدایت پانے والے یعنی اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے انعام کے مستحق ہیں، انعام تو بہت ہیں ان میں سے ایک انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ ہدایت دے گا اور ہدایت پر استقامت نصیب فرمائے گا اور چونکہ ایمان اچھے اعمال پر ابھارتا ہے اور اہل ایمان کے اعمال صالحہ مقبول ہیں اس لیے آیت کے ختم پر یوں فرمایا (وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌمَّرَدًّا) یعنی اعمال صالحہ جو باقی رہنے والے ہیں آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بھی، کیونکہ ان کا انجام ہمیشہ کی خوشی اور ہمیشہ کی نعمتیں ہیں اور جو دار النعیم یعنی جنت میں ملیں گی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

52:۔ یہ زجر ہے۔ جو لوگ دنیوی مال و جاہ پر مغرور ہو کر گمراہی اور ضد وعناد میں منہمک ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ڈھیل دے دیتا ہے یہاں تک کہ وعدہ کے مطابق اللہ کا عذاب آجائے۔ یا قیامت قائم ہوجائے۔ ” فَسَیَعْلَمُوْنَ الخ “ اب تو نہیں مانتے۔ لیکن اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ فریقین (مومنین اور کفار) میں سے برا ٹھکانا کس کا ہے اور کس کے انصار و اعوان کمزور ہیں دنیا میں مشرکین جن بزرگوں کو متصرف و کارساز سمجھ کر پوجتے اور پکارتے ہیں۔ ان کے بارے میں انکا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر آڑے وقت میں ان کے کام آئیں گے۔ لیکن خدا کا عذاب آنے پر کوئی کام نہیں آتا۔ اللہ کے سوا تمام سہارے بیکار اور کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ وانما ذکر ذلک ردا لما کانوا یزعمونہ من ان لھم اعوانا من شرکاءھم (روح ج 16 ص 127) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

75 اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے جو لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں رحمان ان کو ڈھیل اور طویل مہلت دیتا چلا جا رہا ہے ہیاں تک کہ جب وہ اس چیز کا معائنہ کرلیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ دنیا کا عذاب ہو یا قیامت کا تو وہ معلوم کرلیں گے اور ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ مکان و مسکن کے لحاظ سے کونسا فریق برا اور گروہ بندی اور حمایتیوں کے اعتبار سے کون سا فریق کمزور اور ضعیف ہے۔ یعنی کفار کے اعتراض اور طعن کا ایک جواب تو الزامی تھا جو پہلی آیت میں گزرا دوسرا تحقیقی تھا جو اس آیت میں فرمایا کہ مجرموں کو موقعہ دیا جاتا ہے۔ ڈھیل ملتی ہے سمجھ دار ڈھیل سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں جو نالائق اور کج فہم ہوتے ہیں وہ گمراہی میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے وہ کوئی دنیوی عذاب ہو یا قیامت کا عذاب ہو۔ بہرحال ! جب عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ رہین کی جگہ کے اعتبار سے کون برا ہے اور کس کے حمایتی کس کی فوج اور مددگار کمزور ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بہکاوے میں جاتے ہوئے کیونکہ دنیا جانچنے کی جگہ ہے بھلا برا پاویں گے آخرت میں یہاں نیک و بد بھلائی برائی میں شامل ہیں 12 اور فرماتے ہیں فوج یعنی مددگار کافر اپنا مددگار سمجھتے ہیں بوتں کو اور ایمان والے کو 12