Surat Marium

Surah: 19

Verse: 86

سورة مريم

وَّ نَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرۡدًا ﴿ۘ۸۶﴾

And will drive the criminals to Hell in thirst

اور گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Day We shall gather those with Taqwa unto the Most Gracious (Allah), like a delegation. And We shall drive the criminals to Hell, in a thirsty state. Allah, the Exalted, informs about His righteous friends, who feared Him in the life of this world. They followed His Messengers and believed in what the Messengers told them. They obeyed them in what they commanded them and abstained from that which they prohibited. Allah explains that He will gather these people on the Day of Resurrection like a delegation that has come to Him. A Wafd (delegation) is a group that arrives while riding and from it comes the word Wufud (arriving). They will come riding upon noble steeds of light from the riding animals of the Hereafter. They will arrive before the Best Receiver of delegations at the abode of His honor and pleasure. In reference to the criminals, who denied the Messengers and opposed them, they will be driven violently to the Hellfire. Allah says, وِرْدًا (In a thirsty state), This means parched and thirsting for drink. This was stated by `Ata', Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan, Qatadah and many others. Here it will be said, أَىُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِيّاً Which of the two groups is best in Maqam (position) and the finest Nadiyyan (meeting place). (19:73) Ibn Abi Hatim reported from Amr bin Qays Al-Mula'i, who reported from Ibn Marzuq that he said, يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا (The Day We shall gather those with Taqwa unto the Most Gracious, like a delegation), "When the believer comes forth from his grave, he will meet the most handsome form he has ever seen and it will have the nicest fragrance. He will say, `Who are you?' The being will reply, `You do not know me!' The believer will say, `No, but Allah has made you sweet smelling with a handsome face.' The being will say, `I am your righteous deeds. This is how you use to beautify and apply fragrance to your deeds in the worldly life. I was riding upon you in the entire length of your worldly life, so will you not ride upon me now!' So the believer will therefore mount the creature. This is the meaning of Allah's statement, يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا The Day We shall gather those with Taqwa unto the Most Gracious, like a delegation." Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا (The Day We shall gather those with Taqwa unto the Most Gracious, like a delegation). "Riding." His saying, وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا And We shall drive the criminals to Hell, in a thirsty state. This means parched and thirsty.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

86۔ 1 وفد وافد کی جمع ہے جیسے رکب راکب کی جمع ہے۔ مطلب یہ کہ انھیں اونٹوں، گھوڑوں پر سوار کرا کے نہایت عزت و احترام سے جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ وزدا کے معنی پیاسے۔ اس کے برعکس مجرمین کو بھوکا پیاسا جہنم میں ہانک دیا جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٧] وَرَدَ کے معنی :۔ وَرَدَ کے معنی کسی شخص کا پانی پینے یا پانی لینے کے لئے پانی کی جگہ، گھاٹ، کنویں یا چشمے پر جانا ہے (اور اس کی ضد صَدَرَ ہے یعنی پانی لے کر یا پانی سے سیراب ہو کر واپس جانا) اور ورد کے معنی گھاٹ بھی ہے اور پیاسا بھی جسے پانی کی تلاش ہو اور یہ پیاسے مجرم چاہتے تو یہ ہوں گے کہ کسی طرح پانی کے گھاٹ پر پہنچیں اور پانی کی جستجو کرتے کرتے وہ جاپہنچیں گے جہنم پر۔ دوسری راہ انھیں کوئی نظر ہی نہ آئے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْ‌دًا Towards the Jahannam as herds towards water|" - 19:86. وِرد means to go towards water and since only a thirsty man or animal goes towards water, this word has been translated to denote a thirsty person.

اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا، ورد کے لفظی معنے پانی کی طرف جانے کے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ پیاس ہی کے وقت کوئی آدمی یا جانور پانی پر جاتا ہے اس لئے وردا کا ترجمہ پیاسا کیا گیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَہَنَّمَ وِرْدًا۝ ٨٦ۘ ساق سَوْقُ الإبل : جلبها وطردها، يقال : سُقْتُهُ فَانْسَاقَ ، والسَّيِّقَةُ : ما يُسَاقُ من الدّوابّ. وسُقْتُ المهر إلى المرأة، وذلک أنّ مهورهم کانت الإبل، وقوله : إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] ، نحو قوله : وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] ، وقوله : سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : ملك يَسُوقُهُ ، وآخر يشهد عليه وله، وقیل : هو کقوله : كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] ، وقوله : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] ، قيل : عني التفاف الساقین عند خروج الروح . وقیل : التفافهما عند ما يلفّان في الکفن، وقیل : هو أن يموت فلا تحملانه بعد أن کانتا تقلّانه، وقیل : أراد التفاف البليّة بالبليّة نحو قوله تعالی: يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] ، من قولهم : کشفت الحرب عن ساقها، وقال بعضهم في قوله : يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] :إنه إشارة إلى شدّة «2» ، وهو أن يموت الولد في بطن الناقة فيدخل المذمّر يده في رحمها فيأخذ بساقه فيخرجه ميّتا، قال : فهذا هو الکشف عن الساق، فجعل لكلّ أمر فظیع . وقوله : فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] ، قيل : هو جمع ساق نحو : لابة ولوب، وقارة وقور، وعلی هذا : فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] ، ورجل أَسْوَقُ ، وامرأة سَوْقَاءُ بيّنة السّوق، أي : عظیمة السّاق، والسُّوقُ : الموضع الذي يجلب إليه المتاع للبیع، قال : وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] ، والسَّوِيقُ سمّي لِانْسِوَاقِهِ في الحلق من غير مضغ ( س و ق) سوق الابل کے معنی اونٹ کو سنکانے اور چلانے کے ہیں یہ سفقتہ ( ن) کا مصدر ہے اور انسان ( انفعال ) کے معنی ہنکانے کے بعد چل پڑنے کے ہیں ان جانوروں کو جو ہنکائے جاتے ہیں سیقۃ کہا جاتا ہے ۔ اور عورت کو مہر ادا کرنے کے لئے سقت المھر الی المرءۃ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ عرب حق مہر میں وعام طور پر ) اونٹ دیا کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] میں امساق سے معنی پروردگار کی طرف چلنا کے ہیں جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] میں ہے یعنی تمہیں اپنے پروردگار کے پاس پہچنا ہے اور آیت سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک ( اس کے عملوں کی ) گواہی دینے والا ۔ میں سابق سے وہ فرشتہ مراد ہے جو اسے چلا کر حساب کے لئے پیش کرے گا اور دوسرا فرشتہ شہید بطور گواہ کے اس کے ساتھ ہوگا جو اسکے حق میں یا سکے خلاف گواہی گا بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت : ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کیطرف دھکیلے جاتے ہیں کے ہم معنی ہے اور آیت : ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] اور پنڈلی لپٹ جائے گی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں قبض روح کے وقت پنڈلیوں کا لپٹنا مراد لیا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان لپٹنے سے مراد موت ہے کہ زندگی میں وہ اس کے بوجھ کو اٹھا کر چلتی تھیں لیکن موت کے بعد وہ اس بار کی متحمل نہیں ہوسکیں گی ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک شدت کا دوسری شدت سے لپٹنا مراد ہے اسی طرح آیت : ۔ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا ۔ میں پنڈلی سے کپرا ا اٹھانا صعوبت حال سے کنایہ ہے اور یہ کشفت الحرب عن ساقھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی لڑائی کے سخت ہوجانے ہیں ۔ بعض نے اس کی اصل یہ بیان کی ہے کہ جب اونٹنی کے پیٹ میں بچہ مرجاتا ہے تو مزمر ( جنوانے والا ) اس کے رحم کے اندر ہاتھ ڈالتا ہے : ۔ اور اسے پنڈلیوں سے پکڑ کر ذور سے باہر نکالتا ہے ۔ اور یہ کشف عن الناق کے اصل معنی ہیں پھر ہر ہولناک امر کے متعلق یہ محاورہ استعمال ہوناے لگا ہے تو یہاں بھی شدت حال سے کنایہ ہے اور آیت : ۔ فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سوق ساق کی جمع ہے جیسے لابۃ کی جمع لوب اور فارۃ کی جمع فور آتی ہے ۔ اور اسی طرح آیت : ۔ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] پھر ان کی ٹانگوں اور گر دنوں پر ہاتھ پھیر نے لگے ۔ میں بھی سوق صیغہ جمع ہے اور رجل اسوق کر معنی بڑی پنڈلیوں والے آدمی کے ہیں اسکی مؤنث سوقاء آتی ہے اور سوق کے معنی بازار بھی آتے ہیں جہاں خرید فروخت ہوتی ہے اور فروخت کے لئے وہاں سامان لے جایا جاتا ہے اس کی جمع اسواق ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے ۔ اور بازروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ السویق کے معنی ستو کے ہیں کیونکہ وہ بغیر جائے حلق سے نیچے اتر جاتے ہیں ۔ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم . ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ ورد الوُرُودُ أصله : قصد الماء، ثمّ يستعمل في غيره . يقال : وَرَدْتُ الماءَ أَرِدُ وُرُوداً ، فأنا وَارِدٌ ، والماءُ مَوْرُودٌ ، وقد أَوْرَدْتُ الإبلَ الماءَ. قال تعالی: وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ مَدْيَنَ [ القصص/ 23] والوِرْدُ : الماءُ المرشّحُ للوُرُودِ ، والوِرْدُ : خلافُ الصّدر، ( ور د ) الورود ۔ یہ اصلی میں وردت الماء ( ض ) کا مصدر ہے جس کے معنی پانی کا قصد کرنے کے ہے ۔ پھر ہر جگہ کا قصد کرنے پر بولا جاتا ہے اور پانی پر پہنچنے والے کو ورود اور پانی کو مردود کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ مَدْيَنَ [ القصص/ 23] قرآن میں ہے : ۔ اور جب مدین کے پانی کے مقام پر پہنچے الوادر اس پانی کو کہتے ہیں جو وادر ہونے کے لئے تیار کیا گیا ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٦ (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا ) ” اس دن مجرموں کو جانوروں کی طرح ہانک کر جہنم کے گھاٹ پر لے جایا جائے گا ‘ اس حالت میں کہ پیاس کی شدت سے ان کی جان پر بنی ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:87) لا یملکون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب ملک مصدر (باب ضرب) وہ اختیار نہیں رکھیں گے۔ ضمیر فاعل کا مرجع مجرمین ہیں۔ لا یملکون سے کفار کی شفاعت کی نفی اور الا سے اہل ایمان کی شفاعت کا اثبات ہے۔ ای ھؤلاء الکفار لا یملکون الشفاعۃ لاحد والمسلمون فیملکون الشفاعۃ۔ یہ کفار کسی کی شفاعت حاصل نہ کرسکیں گے جب کہ مسلمانوں کو شفاعت حاصل ہوگی۔ من اتخذ عند الرحمن عھدا۔ جس نے خداوند رحمن سے وعدہ لے رکھا ہے۔ عہد سے یہاں مراد اذن۔ اجازت یا اس سے مراد عہد توحید ونبوت ہے یعنی جس نے ایمان و یقین کے ساتھ قولاً وعملاً یہ اقرار کیا : انی اشھد ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک وان محمد عبدک ورسولک۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : متقین کے مقابلہ میں مجرمین کا انجام۔ ایک طرف متقین کو انعام و اکرام کے ساتھ نوازا جارہا ہوگا اور دوسری طرف مجرمین کو ملائکہ بیڑیوں میں جکڑ کر آگ کے کوڑوں سے ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف دھکیل رہے ہوں گے۔ مجرم خوف اور پیاس کی شدت کی وجہ سے ہلکان ہو رہے ہوں گے۔ کیونکہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ مجرمین تانبے جیسی زمین پر کھڑے ہونگے جس پر سورج اپنی پوری تپش اور شدت کے ساتھ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ مزید یہ کہ مجرم جہنم کو اپنے سامنے دیکھیں گے۔ اس خوف اور سورج کی حدّت کی وجہ سے پیاس کے مارے ان کے کلیجے کٹ رہے ہوں گے اور زبانیں منہ سے باہر نکلی ہوں گی۔ اس کیفیت میں انھیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔ دنیا میں جن لوگوں پر یہ اعتماد اور بھروسہ کرتے تھے وہ ان کی کوئی سفارش نہیں کرسکیں گے۔ سفارش تو ان لوگوں کے حق میں وہی لوگ کرسکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائے گا۔ ظاہر ہے مشرک اور کافر کی کوئی بھی سفارش نہیں کرسکے گا اور نہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرسکیں گے۔ اَلرَّحْمٰنَ سے عہد لینے سے مراد اس کی طرف سے سفارش کی اجازت ملنا ہے۔ مسائل ١۔ مجرمین کو جہنم میں دھکیلا جائے گا۔ ٢۔ مجرموں کی کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہوگا۔ ٣۔ سفارش وہی شخص کرسکے گا جس کو رب رحمٰن اجازت عنایت فرمائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن سفارش و شفاعت کے اصول : ١۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کا حقدار نہ ہوگا۔ (یونس : ٣) ٢۔ صرف اللہ تعالیٰ کی اجازت سے سفارش ہو سکے گی۔ (البقرۃ : ٢٥٥) ٣۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے رحمن اجازت دے گا۔ (مریم : ٨٧) ٤۔ شفاعت اسی کے حق میں ہوگی جس پر رحمن راضی ہوا۔ (طٰہٰ : ١٠٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ونسوق المجرمین الی جھنم وردا (٩١ : ٦٨) ” اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم میں ہانک لے جائیں گے “۔ اس دن کسی کی کوئی سفارش نہ ہوگی ‘ ماسوائے اس شخص کے جس نے کوئی اچھا عمل کیا۔ یہ عمل صالح اس کا سفارشی ہوگا اور اللہ اپنے عہد کو پوراکرے گا۔ اللہ نے وعدہ کررکھا ہے کہ جو ایمان لائے اور عمل صالح کرے اس کو پوری جز ادے گا اور اللہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ایک بار پھر روئے سخن مشرکین کے عقیدہ منکرہ کی طرف مڑ جاتا ہے۔ بعض مشرکین عرب کا یہ قول تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہودیوں کا ایک مشرک طبقہ حضرت عزیز کو ابن اللہ کہتا تھا ‘ نصاریٰ کے مشرکین کہتے تھے مسیح ابن اللہ ہیں ‘ ان مشرکانہ اقوال کی وجہ سے پوری کائنات کا نپنے لگتی ہے۔ فطرت کائنات اس کا انکار کرتی ہے اور اس کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

86 اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا اور پیاس کی حالت میں ہنکاتے ہوئے لے جائیں گے۔