Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 104

سورة البقرة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾

O you who have believed, say not [to Allah 's Messenger], "Ra'ina" but say, "Unthurna" and listen. And for the disbelievers is a painful punishment.

اے ایمان !والو تم ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ) راعنا نہ کہا کرو ، بلکہ انظرنا کہو یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Manners in Speech Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ لاَ تَقُولُواْ رَاعِنَا وَقُولُواْ انظُرْنَا وَاسْمَعُواْ وَلِلكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ O you who believe! Say not (to the Messenger) Ra`ina but say Unzurna (make us understand) and hear. And for the disbelievers there is a painful torment. (2:104) Allah forbade His believing servants from imitating the behavior and deeds of the disbelievers. The Jews used to use devious words that hide what they really meant. May Allah's curse be upon them. When they wanted to say, `hear us,' they would use the word Ra`ina, which is an insult (in Hebrew, but means `hear us' in Arabic). Allah said, مِّنَ الَّذِينَ هَادُواْ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَعِنَا لَيّاً بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْناً فِى الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَكِن لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَ يُوْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلً Among those who are Jews, there are some who displace words from (their) right places and say: "We hear your word (O Muhammad) and disobey," and "Hear and let you (O Muhammad) hear nothing." And Ra`ina with a twist of their tongues and as a mockery of the religion (Islam). And if only they had said: "We hear and obey," and "Do make us understand," it would have been better for them, and more proper; but Allah cursed them for their disbelief, so they believe not except a few. (4:46) Also, the Hadiths stated that; when they would greet Muslims, they would say, `As-Samu alaykum,' meaning, `death be to you'. This is why we were commanded to answer them by saying, `Wa alaykum,' meaning, `and to you too', then our supplication against them shall be answered, rather than theirs against us. Allah forbade the believers from imitating the disbelievers in tongue or deed. Allah said, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ لاَ تَقُولُواْ رَاعِنَا وَقُولُواْ انظُرْنَا وَاسْمَعُواْ وَلِلكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ O you who believe! Say not (to the Messenger) Ra`ina but say Unzurna (make us understand) and hear. And for the disbelievers there is a painful torment. Also, Imam Ahmad narrated that Ibn Umar said that the Messenger of Allah said, بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَاللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي وَجُعِلَتِ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَومٍ فَهُوَ مِنْهُم I was sent with the sword just before the Last Hour, so that Allah is worshipped alone without partners. My sustenance was provided for me from under the shadow of my spear. Those who oppose my command were humiliated and made inferior, and whoever imitates a people, he is one of them. Abu Dawud narrated that the Prophet said, مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُم Whoever imitates a people is one of them. These Hadiths indicate, along with their threats and warnings, that we are not allowed to imitate the disbelievers in their statements, deeds, clothes, feasts, acts of worship, etc., whatever actions of the disbelievers that were not legislated for us. Ad-Dahhak said that Ibn Abbas commented on the Ayah, لااَ تَقُولُواْ رَاعِنَا (Say not (to the Messenger) Ra`ina), "They used to say to the Prophet, Ar`ina samak(which is an insult)." Ibn Abu Hatim said that it was reported that Abu Al-Aliyah, Abu Malik, Ar-Rabi bin Anas, Atiyah Al-Awfi and Qatadah said similarly. Further, Mujahid said, "`Do not say Ra`ina' means, `Do not dispute'." Mujahid said in another narration, "Do not say, `We hear from you, and you hear from us."' Also, Ata'said, "Do not say, رَاعِنَا (Ra`ina), which was a dialect that the Ansar used and which was forbidden from use by Allah." Also, As-Suddi said, "Rifaah bin Zayd, a Jewish man from the tribe of Qaynuqa, used to come to the Prophet and say to him, `Hear, Ghayr Musma'in (let you hear nothing).' The Muslims used to think that the Prophets are greeted and honored with this type of speech, and this is why some of them used to say, `Hear, let you hear nothing,' and so on, as mentioned in Surah An-Nisa." Thereafter, Allah forbade the believers from uttering the word Ra`ina." Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam also said similarly. The extreme Enmity that the Disbelievers and the People of the Book have against Muslims Allah said next,

مسلمانو کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو! اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنئے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت ( من الذین ھادوا ) یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لئے راعنا کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنئے اور ہماری طرف توجہ کیجئے تو یہ ان کے لئے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اس میں ایمان بہت ہی کم ہے احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہو گی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں مقبول نہیں ہو گی الغرض قول و فعل میں ان سے مشابہت کرنا منع ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے میں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالیٰ نے میرے نیزے تلے لکھی ہے اس کے لئے ذلت اور پستی ہے مگر جو میرے احکام کے خلاف چلے کرے اور جو شخص کسی ( غیر مسلم ) قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے ۔ ابو داؤد میں بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال وافعال لباس عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لئے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے ایسا کرنے والوں کو شریعت میں عذاب کی دھمکی سخت ڈراوا اور حرمت کی اطلاع دی گئی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن کریم میں آیت ( یا ایھا الذین امنوا ) سنو تو کان لگا دو اور دل سے متوجہ ہو جایا کرو کیونکہ یا تو کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی برائی سے ممانعت ہو گی حضرت خیثلہ فرماتے ہیں توراۃ میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یاایھا المساکین فرمایا ہے لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت ( یا ایھا الذین امنوا ) کے معزز خطاب سے یاد فرمایا ہے راعنا کے معنی ہماری طرف کان لگانے کے ہیں بروزن عاطنا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کے معنی خلاف کے بھی ہیں یعنی خلاف نہ کہا کرو اس سے یہ بھی مروی ہے کہ مطلب یہ کہ آپ ہماری سنئے اور ہم آپ کی سنیں ۔ انصار نے بھی یہی لفظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہنا شروع کر دیا تھا جس سے قرآن پاک نے انہیں روک دیا حسن فرماتے ہیں راعن کہتے ہیں ( راعن مذاق کی بات کو کہتے ہیں ) یعنی تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور اسلام سے مذاق نہ کیا کرو ۔ ابو صخر کہتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگتے تو جنہیں کوئی بات کہنی ہوتی وہ کہتے اپنا کان ادھر کیجئے اللہ تعالیٰ نے اس بے ادبی کے کلمہ سے روک دیا اور اپنے نبی کی عزت کرنے کی تعلیم فرمائی ۔ سدی کہتے ہیں رفاعہ بن زید یہودی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے ہوئے یہ لفظ کہا کرتا تھا مسلمانوں نے بھی یہ خیال کر کے یہ لفظ ادب کے ہیں یہی لفظ استعمال کرنے شروع کر دیئے جس پر انہیں روک دیا گیا جیسے سورۃ نساء میں ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اس کلمہ کو اللہ نے برا جانا اور اس کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا جیسے حدیث میں آیا ہے کہ انگور کو کرم اور غلام کو عبد نہ کہو وغیرہ اب اللہ تعالیٰ ان بد باطن لوگوں کے حسد و بغض کو بیان فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں جو اس کامل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کامل شریعت ملی ہے اس سے یہ تو جل بھن رہے ہیں ان سے کہ دو کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمائے وہ بڑے ہی فضل و کرم والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

104۔ 1 رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ جیسے وہ السلام علیکم کی بجائے السام علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ـ ' انْظُرْنَا ' کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ کفار کے ساتھ افعال اوراقوال میں مشابہت کرنے سے بچا جائے تاکہ مسلمان (حدیث من تشبہ بقوم فھو منھم، ابوداؤد ( جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا) کی وعید میں داخل نہ ہوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٣] یہود کی شرارتیں راعِیْنَا کہنا :۔ یہود جب کبھی آپ کی مجلس میں بیٹھتے اور آپ کے ارشادات سنتے اور کسی بات کو دوبارہ سننے یا سمجھنے کی ضرورت پیش آتی تو ازراہ عناد (رَاعِنَا) کہنے کی بجائے زبان کو مروڑ دے کر راعِِیْنَا کہا کرتے۔ (رَاعِنَا) کا مطلب ہے ہماری طرف توجہ کیجئے۔ یعنی بات ذرا دہرا دیجئے اور راعِیْنَا کا معنی ہے && ہمارے چرواہے۔ && اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کی شرارت پر مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ تم (رَاعِنَا) کہنا چھوڑ دو بلکہ اس کے بجائے اُنْظُرْنَا کہہ لیا کرو (اس کا معنی بھی وہی ہے جو راعنا کا ہے) اگر بات کو پہلے ہی توجہ سے سن لیا کرو کہ انظرنا بھی کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے تو یہ زیادہ مناسب ہے اور یہ شرارتی یہود تو ہیں ہی کافر۔ جو یقینا دردناک عذاب کے مستحق ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(رَاعِنَا) ” رَاعِ “ یہ باب مفاعلہ (مراعاۃ) سے فعل امر ہے، یعنی ہماری رعایت کیجیے۔ مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متوجہ کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے، یہودی بھی اس لفظ کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے، مگر زبان کو پیچ دے کر لفظ بدل دیتے، جیسا کہ سورة نساء (٤٦) میں ہے، جس سے وہ لفظ گالی بن جاتا۔ مفسرین نے اس کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ ” رَاعِنَا “ کی بجائے ” رَاعِیْنَا “ کہتے، جس کا معنی ” ہمارا چرواہا “ ہے۔ دوسری یہ کہ وہ اسے رعونت سے اسم فاعل قرار دے کر ” رَاعِنًا “ کہتے جس کا معنی احمق ہے اور منادیٰ غیر معین کو خطاب کی وجہ سے منصوب ہے، پھر آپس میں جا کر خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے ہی سے منع فرما دیا اور ” انْظُرْنَا “ کہنے کا حکم دیا، ساتھ ہی فرمایا کہ غور سے سنو، تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متوجہ کروانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس سے یہودیوں کی دشمنی، ان کی طبیعت کی خست اور شرارت صاف واضح ہے۔ مسلمانوں کو ان کے اعمال کے علاوہ ان کے الفاظ و اقوال کی مشابہت سے بھی منع فرمایا گیا، جیسا کہ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ )” جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انھی میں سے ہے۔ “ [ أبوداوٗد، اللباس، باب فی لبس الشھرۃ : ٤٠٣١ و حسنہ الألبانی ] اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں بےادبی یا گستاخی کا شبہ بھی پیدا ہوتا ہو، وہ استعمال کرنا درست نہیں۔ یہودیوں کی اسی طرح کی ایک اور کمینگی کا ذکر حدیث میں آیا ہے کہ وہ ” السلام علیکم “ کے بجائے ” اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ “ کہتے، جس کا معنی ہے تم پر موت ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں صرف ” عَلَیْکَ “ کہنے کا حکم دیا کہ وہ تمہیں پر ہو۔ [ مسلم، السلام، باب النہی عن ابتداء ۔۔ : ٢١٦٤

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Among other perversities, some of the Jews invented a new mischief. When they presented themselves before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) they would address him with the word Ra` ina رَ‌اعِنَا ، which, in Arabic, means |"be mindful of us|", but is, in Hebrew, a curse. The latter is what they intended, but the Arabs, not knowing Hebrew, could not see the point, and some Muslims too, with the Arabic sense of the word in mind, began to address the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the same manner to the great glee of the Jews who had thus found a way of insulting him openly, and had even tricked the Muslims into joining them. In order to frustrate the design of the Jews, the Holy Qur&an commands the Muslims to use the word Unzurna انظُرْ‌نَا instead of Ra&ina رَ‌اعِنَا ، for the meanings of the two words are the same in Arabic. The verse also announces a dire punishment to the Jews for showing disrespect to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and for trying to be clever with him. The verse describes the insolent Jews as Kafirin کافرون (infidels), which means that being intentionally disrespectful towards a prophet even in an indirect manner constitutes infidelity. The verse shows that if a perfectly legitimate action on one&s part provides room for others to commit illegitimate actions, even the legitimate action no longer remains lawful for one. For example, if a permissible action on the part of a scholar is likely to lead the ignorant into error and to induce them to do impermissible things, that permissible action will then become forbidden for him, provided that the action concerned is not essential according to the Shari&ah and is not included among its objects. The Holy Qur&an and the Hadith provide many instances of this nature. For example, before the advent of Islam the Quraysh قریش had, in rebuilding the Ka&bah کعبہ ، made certain modifications in the design set by Sayyidna Ibrahim (Abraham علیہ السلام). A hadith reports that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) wished to demolish the present structure, and to build it again according to the Abrahamic pattern, but he did not do so, for such an action could have led ignorant people into misunderstanding and error. In the vocabulary of the Principles of Islamic Jurisprudence, such injunctions are described as سدَ الذرایع : Sadd al-Dhara&i: |"removing the means (to error) |" and are accepted by all the jurists -- those of the Hanbali school being very particular about them. (Qurtubi)

خلاصہ تفسیر : (بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور میں آکر لفظ راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں ایک بدعا کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے تھے مگر عربی زبان میں اسکے معنی ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے کے ہیں اس لئے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکتے تھے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعضے مسلمان بھی حضور کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو گنجائش ملی آپس میں بیٹھ کر ہنستے تھے کہ اب تک تو ہم ان کو خفیہ ہی برا کہتے تھے اب علانیہ کہنے کی تدبیر ایسی ہاتھ آگئی کہ مسلمان بھی اس میں شریک ہوگئے حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کو مسلمانوں کو حکم دیا کہ) اے ایمان والو تم (لفظ) راعنا مت کہا کرو اور (اس کی جگہ لفظ) انظرنا کہہ دیا کرو (کیونکہ اس لفظ کے معنی اور راعنا کے معنی عربی زبان میں ایک ہی ہیں راعنا کہنے میں یہودیوں کی شرارت چلتی ہے اس لئے اس کو ترک کرکے دوسرا لفظ استعمال کرو) اور (اس حکم کو اچھی طرح) سن لیجئو (اور یاد رکھیو) اور (ان کافروں کو تو سزائے دردناک ہو (ہی) گی جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں ایسی گستاخی اور وہ بھی چالاکی کے ساتھ کرتے ہیں) مسئلہ : اس آیت سے یہ بات ہوئی کہ اگر اپنے کسی جائز فعل سے دوسروں کی ناجائز کاموں کی گنجائش ملتی معلوم ہو تو یہ جائز فعل بھی اس کے لئے جائز نہیں رہتا جیسے اگر کسی عالم کے جائز فعل سے جاہلوں کو مغالطہ میں پڑنے اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو اس عالم کا جائز فعل بھی ممنوع ہوجائے گا بشرطیکہ یہ فعل شرعا ضروری اور مقاصد شرعیہ میں سے نہ ہو اس کی مثالیں قرآن وسنت میں بہت ہیں اسی کی ایک دلیل وہ حدیث ہے جس میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیت اللہ کی تعمیر جو قریش نے زمانہ جاہلیت میں کی تھی اس میں کئی چیزیں بناء ابراہیمی کے خلاف کردی ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ اس کو منہدم کرکے ازسر نو بناء ابراہیمی کے مطابق بنادوں لیکن اس سے ناواقف عوام کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہے اس لئے بالفعل ایسا نہیں کرتا ایسے احکام کو اصول فقہ کی اصطلاح میں سد ذرائع سے تعبیر کیا جاتا ہے جو سبھی فقہاء کے نزدیک معتبر ہے خصوصاً حضرات حنابلہ اس کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 13 يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا۝ ٠ ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ۝ ١٠٤ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رعی الرَّعْيُ في الأصل : حفظ الحیوان، إمّا بغذائه الحافظ لحیاته، وإمّا بذبّ العدوّ عنه . يقال : رَعَيْتُهُ ، أي : حفظته، وأَرْعَيْتُهُ : جعلت له ما يرْعَى. والرِّعْيُ : ما يرعاه، والْمَرْعَى: موضع الرّعي، قال تعالی: كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعامَكُمْ [ طه/ 54] ، أَخْرَجَ مِنْها ماءَها وَمَرْعاه[ النازعات/ 31] ، وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعى [ الأعلی/ 4] ، وجعل الرَّعْيُ والرِّعَاءُ للحفظ والسّياسة . قال تعالی: فَما رَعَوْها حَقَّ رِعايَتِها[ الحدید/ 27] ، أي : ما حافظوا عليها حقّ المحافظة . ويسمّى كلّ سائس لنفسه أو لغیره رَاعِياً ، وروي : «كلّكم رَاعٍ ، وكلّكم مسئول عن رَعِيَّتِهِ» قال الشاعر : ولا المرعيّ في الأقوام کالرّاعي وجمع الرّاعي رِعَاءٌ ورُعَاةٌ. ومُرَاعَاةُ الإنسان للأمر : مراقبته إلى ماذا يصير، وماذا منه يكون، ومنه : رَاعَيْتُ النجوم، قال تعالی: لا تَقُولُوا : راعِنا وَقُولُوا انْظُرْنا [ البقرة/ 104] ، وأَرْعَيْتُهُ سمعي : جعلته راعیا لکلامه، وقیل : أَرْعِنِي سمعَك، ويقال : أَرْعِ علی كذا، فيعدّى بعلی أي : أبق عليه، وحقیقته : أَرْعِهِ مطّلعا عليه . ( ر ع ی ) الرعی ۔ اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں ۔ خواہ غذا کے ذریعہ ہو جو اسکی زندگی کی حافظ ہے یا اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعہ ہو اور رعیتہ کے معنی کسی کی نگرانی کرنے کے ہیں اور ارعیتہ کے معنی ہیں میں نے اسکے سامنے چارا ڈالا اور رعی چارہ یا گھاس کو کہتے ہیں مرعی ( ظرف ) چراگاہ ۔ قرآن میں ہے ۔ كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعامَكُمْ [ طه/ 54] تم بھی کھاؤ اور اپنے چارپاؤں کو بھی چراؤ ۔ أَخْرَجَ مِنْها ماءَها وَمَرْعاها[ النازعات/ 31] اس میں سے اس کا پانی اور چارہ نکالا ۔ وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعى [ الأعلی/ 4] اور جس نے ( خوش نما ) چارہ ( زمین سے ) نکالا ۔ رعی اور رعاء کا لفظ عام طور پر حفاظت اور حسن انتظام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَما رَعَوْها حَقَّ رِعايَتِها[ الحدید/ 27] لیکن جیسے اس کی نگہداشت کرنا چاہئے تھی انہوں نے نہ کی ۔ اور ہر وہ آدمی جو دوسروں کا محافظ اور منتظم ہوا اسے راعی کہا جاتا ہے ۔ حدیث میں ہے ( 157) کلھم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال ہوگا شاعر نے کہا ہے ( السریع ) ولا المرعيّ في الأقوام کالرّاعی اور محکوم قومیں حاکم قوموں کے برابر نہیں ہوسکتیں ۔ اور راعی کی جمع رعاء ورعاۃ آتی ہے ۔ المراعاۃ کسی کام کے انجام پر غور کرنا اور نہ دیکھنا کہ اس سے کیا صادر ہوتا ہے کہا جاتا ہے ۔ راعیت النجوم میں نے ستاروں کے غروب ہونے پر نگاہ رکھی ۔ قرآن میں ہے : لا تَقُولُوا : راعِنا وَقُولُوا انْظُرْنا[ البقرة/ 104]( مسلمانو پیغمبر سے ) راعنا کہہ کر مت خطاب کیا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو ۔ کہا جاتا ہے : ارعیتہ سمعی ۔ میں نے اس کی بات پر کان لگایا یعنی غور سے اس کی بات کو سنا اسی طرح محاورہ ہے ۔ ارعنی سمعک میری بات سنیے ۔ اور ارع علٰی کذا ۔ کے معنی کسی پر رحم کھانے اور اسکی حفاظت کرنے کے ہیں ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا (اے ایمان لانے والو، راعنا نہ کہا کرو) قطرب نے کہا ہے کہ آیت میں مذکورہ کلمہ اہل حجاز کا کلمہ ہے جسے وہ تمسخر کے طور پر کہتے تھے۔ ایک قول کے مطابق یہود یہ کلمہ کہتے تھے جس طرح ایک اور مقام پر قول باری ہے : ویقولون سمعنا وعصینا و اسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لئے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سمعنا وعصینا اور اسمع غیر مسمع اور راعنا) یہود یہ الفاظ آپس میں گٹھ جوڑ کر کے تمسخر کے طور پر کہتے۔ “(درج بالا الفاظ کا مفہوم سمجھنے کے لئے یہ نوٹ ملاحظہ کیجیے۔ مترجم) جب انہیں یعنی یہود کو خدا کے احکام سنائے جاتے ہیں تو زور سے کہتے ہیں۔ سمعنا ہم نے سن لیا اور آہستہ سے کہتے ہیں۔ عصینا ہم نے قبول نہیں کیا یا اطعنا ہم نے قبول کیا کا تلفظ اس انداز سے زبان کو لچکا وے کر کرتے ہیں کہ عصینا بن جاتا ہے۔ دوران گفتگو میں جب وہ کوئی بات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں اسمع سینے اور پھر ساتھ ہی غیر مسمع بھی کہتے ہیں جو ذومعنی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے محترم ہیں کہ آپ کو کوئی بات خلاف مرضی نہیں سنائی جاسکتی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی کچھ سنائے ایک اور مطلب یہ ہے کہ خدا کرے تو بہرے ہو جائو۔ راعنا بھی ایک ذومعنی لفظ ہے۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوران میں یہودیوں کو کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش آئی کہ ٹھہریے ۔ ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجیے، تو وہ راعنا کہتے تھے۔ اس لفظ کا ایک ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ذرا ہماری رعایت کیجیے یا ہماری بات سن لیجیے، مگر اس لفظ میں کئی احتمالات اور بھی تھے مثلاً عربانی زبان میں اس سے ملتا جلتا ایک لفظ تھا جس کے معنی تھے : سن، تو بہرا ہوجائے۔ “ اور خود عربی میں اس کے ایک معنی صاحب رعونت اور جاہل و احمق کے بھی تھے۔ اور گفتگو میں یہ ایسے موقع پر بولا جاتا تھا جب یہ کہنا ہو کہ ” تم ہماری سنو تو ہم تمہاری سنیں۔ “(تفہیم القرآن جلد اول کچھ تصرف کے ساتھ) یہود راعنا کا لفظ تمسخر کے طور پر کہتے تھے جیسا کہ یہ قول باری ہے : واذا جائوک حیرک بمالم یحیک بہ اللہ (اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کہتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کہا) یہودی جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تو السلام علیک کہنے کی بجائے ” السام علیک “ کہتے جس کے معنی ہیں ” تم پر موت ہو۔ “ وہ یہ الفاظ اس طرح کہتے کہ سننے والوں کو وہم ہوتا کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کر رہے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی اس خباثت سے آگاہ مسلمانوں کو اس جیسے ذومعنی الفاظ کہنے سے روک دیا۔ قول باری : رعنا میں اگرچہ ” رعایت کیجیے اور ” ذرا ٹھہریے “ کے معانی موجود ہیں، لیکن جب اس لفظ کے اندر تمسخر کے معنی بھی موجود تھے جو یہودیوں کے ہاں مراد تھے تو مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے روک دیا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگرچہ اس میں ذرا ٹھہریے “ کے معنی کا احتمال ہے، لیکن اس کا اطلاق تمسخر کے معنوں کا مقتضی ہو۔ اس کی مثل نعت میں موجود ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ وعد کے اسم کا اطلاق خیر اور شر دونوں پر ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے : وعدھا اللہ الذین کفروا (اس کا وعدہ اللہ نے ان لوگوں سے کیا ہے جنہوں نے کفر کیا) نیز فرمایا : ذلک وعد غیر مکذوب (یہ ایسا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا) لیکن جب اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے تو اس سے خیر کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے شرکا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ قول باری : راعنا بھی دونوں باتوں کا احتمال رکھتا ہے، لیکن اطلاق کے وقت یہ لفظ ” ذرا ٹھہریے “ کے معنوں کی بہ نسبت تمسخر کے معنوں کے ساتھ اخص ہوتا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ہر ایسا لفظ جس میں خیر اور شر دونوں کا احتمال ہو تو اس کا اطلاق اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اسے ایسے لفظ کے ساتھ مقید نہ کردیا جائے جو خیر کے معنی ادا کرتا ہو۔ نیز اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ دین میں تمسخر ممنوع ہے۔ اس طرح وہ لفظ بھی ممنوع ہے جو تمسخر کے معنی اور دیگر معنی کا احتمال رکھتا ہو۔ واللہ اعلم

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٤) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (راعنا) یعنی اے اللہ تعالیٰ کے نبی اپنی گفتگو سنائیے، یہ نہ کہا کرو بلکہ یہ کہا کرو کہ ہماری جانب توجہ فرمائیے اور اے اللہ تعالیٰ کے نبی ہماری گفتگو سنیے اور لغت یہود میں اس کا یہ مطلب ہوتا تھا کہ اپنی بات پھر سنائیے تاکہ میں سنوں (اور یہودی بدنیتی سے ایسا کہتے تھے) اس وجہ سے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے روکا گیا اور فرمایا کہ جس چیز کا حکم دیا جارہا ہے اسے پہلے ہی غور سے سن لو اور اس کی اطاعت کرو اور ان یہودیوں کے لیے تو ایسا دردناک عذاب ہے کہ اس کی سختی ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔ شان نزول : (آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لاتقولواراعنا “۔ (الخ) ابن منذر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے دو شخص مالک بن صیف اور رفاعہ بن یزید جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملتے تو ” راعنا “۔ کہتے اور ان کا یہ مطلب ہوتا کہ آپ ہمارے سامنے گفتگو فرمائیں مگر حقیقت ہمیں ہم آپ کی گفتگو کو نہیں سنتے، مسلمانوں نے یہ کلمہ یہودیوں کی زبان سے سن کر یہ سمجھ لیا کہ یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعہ یہودی اپنے انبیاء کرام کی تعظیم کرتے ہیں، تو انہوں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کلمہ سے مخاطب کرنا شروع کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ” اے ایمان والو (آیت) ” راعنا “۔ مت کہا کرو بلکہ (آیت) ” انظرنا “۔ بولا کرو، ابو نعیم (رح) نے دلائل میں بواسطہ، سدی (رح) صغیر (رح) کلبی (رح) ، ابوصالح (رح) ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” راعنا “۔ یہودیوں کی زبان میں بہت بری گالی تھی، جب یہودیوں نے صحابہ کرام (رض) سے اس کلمہ کو سنا تو انہوں نے علی الاعلان حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ لفظ کہنا شروع کردیا۔ یہودی اس لفظ کو بولتے تھے اور آپس میں ہنستے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت سعد بن معاذ (رض) نے یہ جب یہ آیت سنی تو یہودیوں سے کہا اے اللہ کے دشمنو ! اگر اس مجلس کے بعد میں تم میں سے کسی کو اس کلمہ کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کہتے ہوئے سنا تو اس کی گردن کاٹ دوں گا اور ابن جریر (رح) نے ضحاک سے روایت کیا ہے کہ کوئی شخص حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ کہتا تھا کہ اپنی گفتگو سے میری جانب متوجہ ہوجائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے ” راعنا کسمعک “۔ یہودیوں نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر یہی کلمہ کہنا شروع کردیا تب یہ آیت نازل ہوئی، عطا سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ انصار کی لغت تھی جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ عرب جب آپس میں بات چیت کرتے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے (ارعنی سمعک) چناچہ اس لفظ کے استعمال سے سب کو روک دیا گیا (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٤ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقُوْلُوْا رَاعِنَا) (وَقُوْلُوا انْظُرْنَا) (وَاسْمَعُوْا ط) قبل ازیں منافقین بنی اسرائیل کا ذکر ہوا تھا ‘ جن کا قول تھا : سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ اب یہاں ان منافقین کا طرز عمل بیان ہو رہا ہے جو مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے اور یہود کے زیر اثر تھے۔ یہودی اور ان کے زیر اثر منافقین جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میں بیٹھتے تھے تو اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کی کوئی بات انہیں سنائی نہ دیتی یا سمجھ میں نہ آتی تو وہ راعِنَا کہتے تھے ‘ جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ذرا ہماری رعایت کیجیے ‘ بات کو دوبارہ دہرا دیجیے ‘ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اہل ایمان بھی یہ لفظ استعمال کرنے لگے تھے۔ لیکن یہود اور منافقین اپنے خبث باطن کا اظہار اس طرح کرتے کہ اس لفظ کو زبان دباکر کہتے تو راعِیْنَا ہوجاتا (یعنی اے ہمارے چرواہے ! ) اس پر دل ہی دل میں خوش ہوتے اور اس طرح اپنی خباثت نفس کو غذا مہیاّ کرتے۔ اگر کوئی ان کو ٹوک دیتا کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو تو جواب میں کہتے ہم نے تو راعِنَا کہا تھا ‘ معلوم ہوتا ہے آپ کی سماعت میں کوئی خلل پیدا ہوچکا ہے۔ چناچہ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم اس لفظ ہی کو چھوڑ دو ‘ اس کی جگہ کہا کرو : اُنْظُرْنَا۔ یعنی اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف توجہ فرمایئے ! یا ہمیں مہلت دیجیے کہ ہم بات کو سمجھ لیں۔ اور دوسرے یہ کہ توجہ سے بات کو سنا کرو تاکہ دوبارہ پوچھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ (وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

107. This and the following verses inform the followers of the Prophet (peace be on him) of the machinations of the Jews against Islam and the Muslims, and dispel any doubts and misgivings they tried to create in their minds. Special attention is paid to the points raised during controversial discussions between Muslims and Jews. It is useful to note here that when the Prophet (peace be on him) arrived in Madina and the message of Islam began to spread the Jews tried to engage Muslims in controversial religious discussions. They raised all kinds of involved and suspicion-provoking problems so as to contaminate the simple and pure-hearted Muslims with the spiritual diseases from which they themselves suffered. Not only that, they resorted to sly and deceptive talk in the presence of the Prophet. 108. When the Jews visited the Prophet they tried to vent their spite by using ambiguous expressions in their greetings and conversation. They, used words which had double meanings, one innocent and the other offensive. After using quite proper expressions they would then whisper some malicious words. Ostensibly they maintained the decorum of respect and courtesy while sparing no underhand means to insult the Prophet. Later we shall encounter several examples of this kind of behaviour. The particular expression referred to here, and which the Muslims were asked to avoid using since it lent itself to abuse, was employed by the Jews when in conversation with the Prophet, whenever they wanted to request a short pause in which to finish whatever they wanted to say. They, used the expression ra'ina, which meant 'kindly indulge us' or ' kindly lend ear to us'. It was possible, however, for the expression to be used with quite a different shade of meaning. In Hebrew, for instance, there is a word similar to it which means: 'Listen, may you become deaf.' In the same language it also means arrogant, ignorant and fool. In actual conversation it was also used on occasions when one wanted to say: 'If you listen to me, 1 will listen to you.' When it was pronounced with a slight twist of the tongue it turned into ra'ina, meaning 'our shepherd'. It is because of the possibility of the word being used in these different senses that Muslims were asked to avoid it and to use instead the straightforward expression unzurna, meaning 'kindly favour us with your attention' or 'kindly grant us a while to follow (what you are saying) '. This advice was followed by the admonition to listen attentively to what the Prophet said, for the Jews used to ask for the same thing to be repeated merely because they did not pay proper attention to what the Prophet said but instead were engrossed in their own thoughts. If the Muslims were to heed what the Prophet said, they would scarcely need to make such requests.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :107 اس رکُوع اور اس کے بعد والے رکوع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کرنے والوں کو ان شرارتوں سے خبردار کیا گیا ہے جو اسلام اور اسلامی جماعت کے خلاف یہُودیوں کی طرف سے کی جارہی تھیں ، ان شبہات کے جوابات دیے گئے ہیں جو یہ لوگ مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے ، اور ان خاص خاص نکات پر کلام کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ یہُودیوں کی گفتگو میں زیرِ بحث آیا کرتے تھے ۔ اس موقع پر یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے پہنچے اور ان اطراف میں اسلام کی دعوت پھیلنی شروع ہوئی ، تو یہُودی جگہ جگہ مسلمانوں کو مذہبی بحثوں میں اُلجھانے کی کوشش کرتے تھے ، اپنی موشگافیوں اور تشکیکات اور سوال میں سے سوال نکالنے کی بیماری ان سیدھے اور سچے لوگوں کو بھی لگانا چاہتے تھے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ کر پُرفریب مکّارانہ باتیں کر کے اپنی گھٹیا درجے کی ذہنیّت کا ثبُوت دیا کرتے تھے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :108 یہُودی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے ، تو اپنے سلام اور کلام میں ہر ممکن طریقے سے اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے تھے ۔ ذُو معنی الفاظ بولتے ، زور سے کچھ کہتے اور زیرِ لب کچھ اور کہہ دیتے ، اور ظاہری ادب آداب برقرار رکھتے ہوئے درپردہ آپ کی توہین کرنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھتے تھے ۔ قرآن میں آگے چل کر اس کی متعدد مثالیں بیان کی گئی ہیں ۔ یہاں جس خاص لفظ کے استعمال سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے ، یہ ایک ذُومعنی لفظ تھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے دَوران میں یہُودیوں کو کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش آتی کہ ٹھیریے ، ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجیے ، تو وہ رَاعِنَا کہتے تھے ۔ اس لفظ کا ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ذرا ہماری رعایت کیجیے یا ہماری بات سُن لیجیے ۔ مگر اس میں کئی احتمالات اور بھی تھے ۔ مثلاً عبرانی میں اس سے مِلتا جُلتا ایک لفظ تھا ، جس کے معنی تھے”سُن ، تو بہرا ہو جائے “ ۔ اور خُود عربی میں اس کے ایک معنی صاحب رعونت اور جاہل و احمق کے بھی تھے ۔ اور گفتگو میں یہ ایسے موقع پر بھی بولا جاتا تھا جب یہ کہنا ہو کہ تم ہماری سُنو ، تو ہم تمہاری سُنیں ۔ اور ذرا زبان کو لچکا دے کر رَاعِیْنَا بھی بنا لیا جاتا تھا ، جس کے معنی ”اے ہمارے چرواہے“ کے تھے ۔ اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرو اور اس کے بجائے اُ نْظُرْ نَا کہا کرو ۔ یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیے یا ذرا ہمیں سمجھ لینے دیجیے ۔ پھر فرمایا کہ ”توجّہ سے بات کو سُنو“ ، یعنی یہُودیوں کو تو بار بار یہ کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر توجّہ نہیں کرتے اور ان کی تقریر کے دَوران میں وہ اپنے ہی خیالات میں اُلجھے رہتے ہیں ، مگر تمہیں غور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننی چاہییں تاکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

70: مدینہ میں رہنے والے بعض یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ وہ جب حضور اکرم (صلی اﷲ علیہ وسلم) سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے ’’رَاعِنَا‘‘۔ عربی میں اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ’’ہماری رعایت فرمائیے‘‘، اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنیٰ نہیں تھے۔ لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی، اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بددُعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا، نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو وہ رَاعِنَا بن جاتا ہے۔ جس کے معنیٰ ہیں: ’’ہمارے چرواہے!‘‘ غرض یہودیوں کی اصل نیت اس لفظ کو خراب معنیٰ میں استعمال کرنے کی تھی، لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا، اس لئے بعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ لفظ بولنا شروع کردیا۔ یہودی اس بات سے بڑے خوش ہوتے اور اندر اندر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس لئے اس آیت نے مسلمانوں کو اس شرارت پر متنبہ بھی کردیا، آئندہ اس لفظ کے استعمال پر پابندی بھی لگادی اور یہ سبق بھی دے دیا کہ ایسے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں ہے جن میں کسی غلط مفہوم کا احتمال ہو یا ان سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہو۔ نیز اگلی آیت میں اس سارے عناد کی اصل وجہ بھی بتادی کہ درحقیقت ان کو یہ حسد ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے نبوت کی نعمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں عطا فرمادی ہے۔ رَاعِنَا کے بجائے اُنْظُرْنَا کا لفظ سکھا دیا کیونکہ اس کے معنیٰ ہیں ’’ہم پر (شفقت کی) نظر فرمائیے‘‘ اور معنیٰ کا اِحتمال نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(104 ۔ 105):۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان لوگوں کو راعنا کے لفظ کے کہنے سے منع کیا کیونکہ ظاہری معنی تو اس لفظ کے یہ ہیں کہ اے نبی اللہ کے ہماری طرف بھی متوجہ ہو جس وقت صحابہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دوبارہ کوئی بات پوچھنی چاہتے تھے۔ اس وقت آپ کی توجہ اپنی طرف مصروف کرنے کے لیے یہ لفظ کہا کرتے تھے لیکن یہود نے اس لفظ کو جب مسلمانوں سے سنا تو خود بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات چیت کرتے وقت اس لفظ کو کہنا شروع کردیا مگر یہ لوگ زبان کے دانتوں میں دبا کر عداوت کے سبب سے اس طرح اس لفظ کو بولتے تھے جس کے معنی نبی کی شان کے مخالف تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آئندہ اس لفظ کے بولنے سے روک دیا اور فرمایا کہ یہود لوگ اپنے کفر کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہیں جن کے سبب سے ایک دن سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے اور اللہ نے جب تک چاہا نبوت کو بنی اسرائیل میں رکھا اور اب وہ نبوت بنی اسماعیل میں آگئی۔ ان کی اس پر عداوت کا کچھ حق نہیں ہے یہ تو اللہ کی نعمت ہے وہ جس کو چاہے دے دے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:104) راعنا۔ رع ی۔ مادہ سے مشتق ہے مراعاۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے مراعاۃ بمعنی حفاظت کرنا۔ کسی کی طرف کان لگانا۔ مثلاً راعیتہ سمعی۔ میں نے اس کی طرف کان لگایا۔ یا کسی کی بات کی طرف دھیان دیا۔ مثلاً ھو لا یراعی الی قول احد وہ کسی کی بات پر دھیان نہیں دیتا۔ راعنا۔ ہماری طرف کان لگا۔ ہماری طرف متوجہ ہو۔ الرعی۔ اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں۔ خواہ غذا کے ذریعہ سے ہو جو اس کی زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعے سے ہو۔ مثلاً ارعیتہ میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ اور رعیتہ میں نے اس کی نگرانی کی۔ اسی سے رعی چارہ یا گھاس کو کہتے ہیں اور مرعی چراگاہ کو۔ اسی سے راعی چرواہا کو کہتے ہیں ۔ نیز راعن یہود کی زبان میں ایک نہایت فحش گالی تھی۔ راعنا (ہماری طرف کان لگا یا متوجہ ہو) کو ذرا زبان دبا کر راعینا بولتے اور اپنے دل میں اس کے معنی لیتے۔ اے ہمارے چرواہے یا بطور گالی راعنا۔ راعین سے بمعنی احمق استعمال کرے۔ ان کو دیکھا دیکھی اور ان کی نیت کو جانے بغیر مسلمان بھی کبھی یہ لفظ (بمعنی ہماری طرف متوجہ ہو) استعمال کرلیتے تھے۔ آیت ہذا میں خداوند تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے تاکہ یہ دو معونی لفظ کسی گستاخی کا باعث نہ بن سکے۔ اور ہدایت فرمائی کہ وہ (یعنی مسلمان) راعنا کے بجائے انظرنا کہا کریں۔ واسمعوا۔ واؤ عاطفہ اسمعوا سماع (باب سمع) مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ۔ تم سنو۔ تم سنتے رہو۔ یعنی انظرنا (آپ ہماری طرف نظر فرمائیں۔ کہو اور پھر دھیان سے سنو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 حضرت ابن عباس (رض) فراماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں بعض یہود بھی شامل ہوجاتے مسلمان کوئی بات سمجھنا چاہتا تو راعنا کہتا یعنی ہماری رعایت کریں اور ہماری طرف متوجہ ہوں یہود نے اپنے لہجہ میں اس کلمہ کو بطور شتم استعمال کرنا شروع کردیا اور اسے زبان سے دبابر راعنا کے معنی احمق بھی آتے ہیں۔ اس اشتباہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس مشتبہ کلمہ کے استعمال سے منع فر دیا اور اس کی بجائے انظرنا کی تعلیم دی (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 104 112 اسرارو معارف فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ، وہ تو محاورتاً کرتے تھے مگر چونکہ یہود نے یہ لفظ توہین کے لئے چن لیا تھا تو اللہ کریم نے اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لغت سے ہی خارج فرمادیا کہ کبھی راعنا مت کہو۔ غالباً اسی وجہ سے سید انور شاہ کشمیری (رح) نے کفار المحدین میں لکھا ہے کہ کوئی جملہ شان رسالت میں ایسا کہنا جس سے مراد توہین نہ ہو مگر سننے والا سمجھے کہ اس نے توہین کی ہے تو قائل کافر ہوجائے گا۔ سو اس سے صحابہ کرام (رض) کو اللہ نے بچا لیا اور فرمایا کہ یہ لفظ ہی چھوڑ دو اور انظرنا کہا کرو جو عرفاً اس کے ہم معنی ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ اس کی بھی نوبت کیوں آئے واسمعوا غور سے سنا کرو کہ معجزات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہ بھی تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز جہاں تک مجمع ہوتا برابر پہنچتی بغیر اس کے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی کوشش فرماتے یا زیادہ اونچا بولتے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معتدل اور طبعی آواز جیسے پہلی صف والا آدمی سنتا ایسے ہی دور بیٹھنے والے تک پہنچتی تھی اگر بات رہ جاتی تو نقص سننے والے کی طرف سے ہوتا سو یہ ہو ہی کیوں ، پوری توجہ سے سنو۔ رہے کفار ، جو ایسی خباثبتیں کرتے ہیں ان کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے جو آخرت کا تو ہے ہی یقینی ، مگر دنیا میں بھی یہود کی حالت بہت بری ہوئی ، جس کا مشاہدہ چشم عالم نے کیا۔ مایودالذین کفروا………………سوآء السبیل o اگر بات یہ ہے کہ کفار خواہ یہود ونصاریٰ ، اہل کتاب میں سے ہوں ، خواہ مشرکین میں سے یہ اپنے دل سے اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر اللہ کی طرف سے انعامات کا ظہور ہو۔ تو چونکہ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت سے تو آگا ہیں ہی یہ بات بھی کہ اللہ خالق باقی سب مخلوق ہے ساری مخلوق میں جس قدر حسن و جمال اور علوم ودرجات تقسیم ہوئے سب سے زیادہ کا جامع محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اس میں بحث کی گنجائش کہاں ہے اللہ سب کو سمجھ عطا فرمائے ! آمین۔ یہ تو آپ حضرات کو رحمت باری سے محروم کرنے کی تدبیر کرتے مگر اللہ بھی جسے چاہے اپنی رحمت کے لئے مختص فرمادے ” یعنی صحابہ کرام کو اللہ نے اپنی رحمت کے لئے چن لیا تھا “۔ کہ اول مخاطب کلام باری کے وہی ہیں اور سب سے پہلے انہی کو آداب بارگاہ رسالت سے مطلع فرمایا جارہا ہے تو اس طرح یہ آیت عدل صحابہ (رض) پہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت کے لئے چن لے جیسے آپ حضرات کو چن لیا ہے اور رحمت کے فریب پر مطلع فرمادیا ہے کہ وہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ اسی طرح یہ قبلہ کی تبدیلی پہ معترض ہیں کہ جی مذہب حقہ کیسے جسے کبھی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہوئے پاتے ہیں اور پھر اچانک سمت بدل کر کعبہ کو قبلہ قرار دیتا ہے۔ اب پہلے والا ٹھیک تھا یا موجودہ ؟ فرمایا یہ سب مسلمانوں کو بھٹکانے کی چالیں ہیں ورنہ اعتراض تو جب تھا کہ کوئی خبر یا اطلاع غلط ثابت ہوتی ۔ انبار میں تو نسخ ہے نہیں۔ اب رہے احکام تو بندہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند ہے خدا بندے کی صلاح یا مشورے کا پابند نہیں اللہ کی مرضی کسی شریعت میں دو نمازیں تھیں ، دوسری میں پانچ نمازیں کردیں کسی کا قبلہ بیت المقدس تو کسی کا کعبہ تھا۔ مسلمانوں کو دونوں کی سعادت بخشی ، سو جو کوئی جانتے ہیں کہ اگر کوئی ناسمجھی سے بھی توہینکرسالت کا مرتکب ہوا تو انعامات باری تو کجا ایمان بھی نہ پائے گا اس لئے اس طرح کے الفاظ کے پھیر میں الجھانا چاہتے ہیں۔ یہ معاملہ اس قدر نازک اور آج کے لوگ اس قدر دلیر ہیں کہ ہر بات پر موضع بحث ہی ذات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہو صفات کی جائے گی جہاں ذرا بےادبی ہوئی اور ایمان چلا گیا ، کیا کافی نہیں کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر حکم منسوخ ہوتا ہے یا ذہنوں سے بھلا دیا جاتا ہے تو اس کی جگہ اس جیسا یا اس سے بھی بہتر برکات کا حاکم بھیج دیا جاتا ہے یہ دونوں طریقے نسخ فرمادیئے جاتے یا تلاوت منسوخ حکم باقی ، جیسے آیہ رجم ، اور یا حکم اپنے کی بجائے وہ آیت فراموش کرادی اور صحابہ کرام کو خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد نہ رہتی۔ ان میں سے کوئی بھی صورت ہو اس میں بندوں کی بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اور زیادہ برکات کا نزول اور اے مخاطب ! کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ غالب ہے مغلوب نہیں اس کی اطاعت کی جائے گی۔ نہ یہ کہ انسان کے لئے قاعدے مقرر کرے۔ اے مخاطب ! کیا نہیں سمجھتا کہ آسمانوں اور زمین کی حقیقی سلطنت اسی کے لئے ہے اور اکیلا حاکم اور ساری کائنات محکوم ہے۔ خوب سن لو ، ایک وقت آرہا ہے جب حقائق بےنقاب ہوں گے تو تم اس کے مقابلے میں کسی کو نہ اپنا دوست پائو گے نہ مددگار۔ اور یہ جو کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر تو کتاب ایک ہی بار نازل ہوئی تھی تم بھی اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کرو تو کیا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب فوراً مان لی تھی یا طرح طرح کے سوال کرکے عذاب الٰہی کو دعوت دی تھی جب تمہیں ترغیب دے رہے ہیں تو کیا تم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عبث سوالوں سے پریشان کرنا چاہتے ہو ، اگر ایسا ہے تو یہ ایمان نہ ہوگا بلکہ یہ راہ تو ایمان سے ہٹ کر کفر اختیار کرنے کی ہے ۔ اور جس کسی نے ایمان چھوڑ کر کفر اپنایا وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ ودکثیر من اھل الکتاب………………بما تعملون بصیر۔ یہ ساری کوشش اہل کتاب کی اس وجہ سے ہے کہ تم سے حسد کرتے ہیں جلتے ہیں تم پر نزول رحمت کو برداشت نہیں کرپاتے حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ حق وہی ہے جس پر تم عمل پیرا ہو تو یہ حیلے تمہیں رہاہ حق سے ہٹانے کے لئے کر رہے ہیں۔ جیسے آج بھی یہودکا رائج کردہ سودی نظام۔ کہ سود کھانے والے کا ایمان نہ بچ سکے گا یا مغرب سے نصاریٰ کے ممالک سے اشیاء جن میں اکثر خنزیر کی آمیزش کردی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے منہ میں جائے گی تو ان کے ایمان ضرور خراب ہوں گے مگر افسوس کہ مسلمان بچوں کے دودھ سے لے کر میت کے کفن تک وہیں سے منگانا پسند کرتے ہیں۔ یہ سب حیلے تمہیں بھٹکانے کے لئے ہیں جن سے کمال رحمت فرماتے ہوئے اللہ نے تمہیں آگاہ کردیا ہے تم درگز کرو خیال میں نہ لائو حتیٰ کہ اللہ کا حکم آجائے یا اللہ جہاد کا حکم دے کر ہر چیز پہ قادر ہے ان کا افرادی قوت اور دولت واسلحہ کا گھمنڈ خاک میں ملا دے اور یہی ہوا کہ جب اللہ کی اجازت ملی تو یہود کا حشر عبرت کا سبق بن گیا اور یا پھر موت اور قیام قیامت ان کی ذلت کو عام کر ردے کہ اللہ تو ہر بات پر قادر ہے۔ اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو یعنی فضول الجھنے کی بجائے عبادات الٰہی پہ کمر بستہ ہوجائو۔ مناطرہ : اسی لئے عام مناظرہ ممنوع ہے ہاں اگر کوئی شخص تحصیل علم کی بناء پر سوال کرے تو درست۔ یا پھر ایسے شخص سے مناظرہ کرنا جو لوگوں کے عقائد خراب کررہا ہو اس آدمی کے لئے جائز ہے جو اسکو جواب دے کر لوگوں کے دین کی حفاظت کا سبب بنے ورنہ یہ کام محض شغلاً کرنے کا نہیں ، جتناوقت یہاں برباد کرو گے اس کو اللہ کی یاد اور اطاعت پر لگائو کہ ہر نیکی کو تم کل اللہ کے ہاں اپنے لئے محفوظ پائو گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر تمہارے تمام کا م دیکھ رہا ہے کام کرتے وقت یہ دھیان رہے کہ اللہ کے سامنے کررہا ہوں۔ وقالو لن یدخل الجنۃ…………………ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ اور یہ کہتے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کے علاوہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا گویا انہوں نے جنت میں داخلے کو تو میت پر منحصر کردیا ہے کہ بس اہل کتاب کی فہرست میں یا یہود ونصاریٰ کی مردم شماری میں آگئے تو جنت کے وارث قرار پائے۔ کیا مجال جو دوسرا وہاں دم مارسکے۔ یہی حال آج کے مسلمانوں کا ہے کہ نام دین محمد یا عبداللہ خان رکھ لو اور مسلمانوں کی مردم شماری میں آجائو یا قومی مسلمان بن جائو ، جنت کے مالک ہوجائو گے خواہ عقائد و اعمال کچھ بھی پلے نہ ہو مگر یہ بات سوائے ایک آرزو کے کچھ وزن نہیں رکھتی۔ ذرا ان سے کہئے کہ اس بات پہ کوئی سند تو لائو اور اپنی صداقت کی کوئی دلیل تو پیش کرو جو یہ ہرگز نہیں کرسکتے بلکہ بات اس طرح ہے جنت قومیت یا نسل پر موقوف نہیں بلکہ جو کوئی بھی ہو اگر وہ سر تسلیم خم کردے یعنی عقائد صحیحہ کو تسلیم کرے۔ وھو محسن اور صدق دل سے ان پر عمل پیرا ہو۔ احسان کی تعبیر احادیث میں یوں ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی ایسا اطمینان حاصل ہو اور دل کا ایسا ربط نصیب ہوجائے۔ یا کم ازکم اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے یہ کم تر درجہ ہے ، اس سے کم کی گنجائش نہیں ، اسی کو اصطلاح صوفیہ میں نسبت کہا گیا ہے۔ جو کوئی عقائد و اعمال میں صمیم قلب سے کوشاں ہو اس کے لئے اللہ کے ہاں انعامات وبرکات ہیں اور وہ شخص نہ آئندہ سے خوف زدہ ہوگا اور نہ گزشتہ پہ پشیمان……کہ اس نے راہ عمل ایسی اپنا لی جو ہر طرح سے محفوظ ہے مگر یہ ضروری ہے کہ اس کا دل بھی اس کے ساتھ ہو ، محض رسمی کاروائی نہ ہو کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں اور نہ صرف دعویٰ قومیت ہو۔ جو کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اور یہی بنیادی ضرورت ہے جو دل کو ذاکر کرنے اور ذکر قلبی پر مجبور کرتی ہے کہ دل جب تک خود زندہ نہ ہو ، خود استعداد قبول نہ رکھتا ہو کب اعمال میں ساتھ دے گا اور یہی فیض صحبت ہے کہ علم نبوت نے عقائدواعمال ارشاد فرمائے اور صحبت نبوی نے دلوں کو گرمایا اور درجہ صحابیت پر فائز کردیا۔ آج بھی اگر کوئی صاحب دل میسر آجائے تو انسان کی دنیا بدل جاتی ہے ورنہ محض رسمی وعظ اور ضابطے کی کاروائی تو عام ہے جس کا اثر وقتی وعارضی ہوتا ہے مجلس ختم ، اثر ختم عملی زندگی کو متاثر نہیں کرپاتا۔ پھر یہاں ایک مصیبت اور ہے کہ لوگ دو حصوں میں بٹ گئے ہیں ایک وہ حضرات جنہوں نے تعلیم ، تعلم اور عبادات کو تو اپنایا مگر دلوں کی طرف توجہ نہ فرمائی اور اصلاح باطن سے صرف نظر کیا جس کا نتیجہ سامنے ہے کہ زبان قرآن وحدیث بیان کرتی ہے بدن رکوع و سجود میں لگا ہے مگر دل دنیا میں اٹکا ہے جب ذرا سا لالچ یا خوف سامنے آیا فوراً رائے بدل لی اور مداہنت کی راہ اپنانا پڑی۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جنہوں نے یہ سمجھا کہ ہمارے دل میں درد موجود ہے ہم محبت الٰہی سے سرشار ہیں اب اس کا فائدہ انہوں نے یہ اٹھایا کہ اعمال اپنی پسند کے شروع کردیئے اور ان خرافات میں جاپھنسے جو خلاف سنت اور محض رسومات تھیں ، انہی کو دین سمجھ لیا تو یہ دونوں باتیں درست نہ ہوئیں بلکہ چاہیے یہ تھا کہ من اسلم یعنی عقائد و اعمال اور اطاعت وفرمانبرداری کے طریقے وہی اپناتا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے تعلیم فرمائے۔ درجہ احسان کیسے حاصل ہوتا ہے ؟ : اور اس کے ساتھ اس فیض کو حاصل کرتا ہے جو محض صحبت سے حاصل ہے۔ تعلیم ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تزکیہ صحبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس نے صحابہ (رض) کو صحابیت بخشی وہ تعلیم رسول نہ تھی کہ وہ تو بحمدللہ ہم تک بھی پہنچی اور ہمیں بھی اس کے طفیل دین نصیب ہوا۔ وہ تو صحبت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھی جس نے انہیں احسان بخشا دل کی زندگی عطا کی ۔ درجہ صحابیت عطا فرمایا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں بہت اعلیٰ انعامات ہیں اور وہ بےخوف وخطر ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ محض دعویٰ اسلام ہی کو کافی سمجھ لیا جائے اور پھر اس پر طرہ یہ کہ محض اس دعویٰ کی بنیاد پر یہ امید بھی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھی کوئی دکھ نہ ہو اگر پریشانی آتی ہے تو اس کا سبب اسلام کو گردانتے ہیں حالانکہ مسلمانوں کی مصیبت کا اصلی سبب مسلمان ہوتے ہوئے ترک اسلام ہے کہ عملاً اسلام سے دور چلے گئے اور سارا کام نرے دعوے سے لینا چاہا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے مادی وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باوجود بڑی طاقتوں کو اللہ کے آگے جھکنے پر مجبور کردیا۔ مگر وہ اس وقت حقیقی مسلمان تھے نرا دعویٰ نہ تھا جو عمل گیا صرف دعویٰ رہا تو تائید باری نہ رہی اب بات صرف اسباب پر رہ گئی اگر اسباب میں کافر اس سے بڑھ کر ہے تو وہ یقینا اسے تکلیف دے گا۔ یہی حال تجارت ، مال و دولت دنیاوی کا ہے کہ کافر نے اس طرف بھی توجہ دی اور وہ آگے نکل گئے اگر ہماری طرح محض کسی عقیدے کا نام لے کر بیٹھ جاتے تو وہی ہوتا جو ہمارے ساتھ اب ہورہا ہے۔ مسلمان اگر محنت کریں اور اسلامی اصولوں کے مطابق بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ناکام ہو۔ یہاں تو مصیبت یہ ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر یورپ کی اقتداء میں نکلے تو محنت کرنا ان سے بھی نہ سیکھا بلکہ صرف بےحیائی ، آخرت سے غفلت اور کفر درآمد کیا۔ الغرض محض نام یا قومیت کسی کام کی نہیں جب تک خلوص قلب اور عمل صالح ساتھ نہ ہو۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 104 تا 107 لا تقولوا (تم نہ کہو) ۔ انظرنا (ہماری طرف دیکھیے) ۔ یختص (خاص کرتا ہے) ۔ ذو الفضل (فضل و کرم والا) ۔ ما ننسخ (ہم منسوخ نہیں کرتے) ۔ ننس (ہم بھلا دیتے ہیں) ۔ نات (ہم لے کر آتے ہیں) ۔ الم تعلم (کیا تو نہیں جانتا ) ۔ تشریح : آیت نمبر 104 تا 107 “ راعنا ” کے معنی ہیں۔ “ ہماری رعایت کیجئے ” یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو یا بات تو سمجھ میں آرہی ہو مگر سننے والا اس کی مزید وضاحت چاہتا ہو۔ لیکن اگر اسی لفظ کو ذرا زبان دبا کر “ راعینا ” کہا جائے تو پھر اس کے معنی ہوتے ہیں “ ہم میں سے بیوقوف ” “ ہمارا چرواہا ” وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے اے ایمان والو ! تم راعنا مت کہا کرو کیونکہ اس لفظ کے دو معنی ہو سکتے ہیں جس میں ایک پہلو ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے توہین آمیز بھی ہے۔ بات یہ تھی کہ بعض یہودی اپنی منافقانہ ذہنیت کی تسکین کے لئے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں شریک ہوتے اور بار بار “ راعنا راعنا ” کہتے حالانکہ وہ زبان دبا کر “ راعینا راعینا ” کہتے تھے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین کرنا، دلی بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنا اور اللہ کے رسول کو دوسروں کی نظروں میں ذلیل کرنا مقصود ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ تم رسول کی ہر بات کو پوری توجہ اور غور سے سنو لیکن اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو راعنا کے بجائے انظرنا کہا کرو جس کے معنی ہیں “ ہماری طرف توجہ فرمائیے ” اس سے مخلصین اور منافقین کا فرق بھی واضح ہوجائے گا اور توہین رسول کے ادنی شائبہ سے بھی بچاجا سکے گا۔ فرمایا مشرکین اور اہل کتاب کو یہ بات ایک نظر نہیں بھاتی کہ تمہیں کوئی بھی خیر کی بات پہنچے حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے خیر اور بھلائی کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔ اس کائنات میں جو بھی تبدیلی کرنا چاہتا ہے کر گزرتا ہے کسی کو رکھے یا مٹادے یہ کائنات اس کی ہے اس کو پورا اختیار ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آتے تو راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں برے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے اور عربی میں اس کے معنی بہت اچھے کے ہیں کہ ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے اس لیے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعض مسلمانوں نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو اور گنجائش ملی حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کی مسلمانوں کو یہ حکم دیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہودی جبریل امین، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور پہلے انبیاء کے بدترین گستاخ تھے اور ہیں اسی عادت خبیثہ کی وجہ سے نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخیاں کیا کرتے ہیں جس کی سزا جہنم قرار دی گئی ہے۔ ہر زبان میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو دوسری زبان سے ملتے جلتے اور ہم آواز ہوتے ہیں۔ عربی کے جو الفاظ عبرانی زبان سے مشابہت اور مماثلت رکھتے ہیں ان میں ایک لفظ ” راعنا “ ہے۔ جس کو ذرا کھینچ کر ادا کیا جائے تو اس کے معانی بنتے ہیں احمق ‘ اجڈ اور چرواہا۔ مسلمانوں کی عزت، اسلام کی عظمت و رفعت اور نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احترام و اکرام میں روز افزوں اضافہ دیکھ کر یہودی اپنے دلوں میں کڑھتے اور جلتے رہتے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں آپ کی مجلس میں آتے تو آپ کی گفتگو کے دوران ” راعنا “ کا لفظ استعمال کر کے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے کہ ہم آپ کی بات کو سمجھ نہیں سکے۔ بسا اوقات فہم کلام کے لیے مسلمان بھی آپ کی خدمت میں ” رَاعِنَا “ عرض کرتے لیکن دونوں کی ادائیگی اور نیت میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ صحابہ کا مقصد یہ تھا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑاسا توقف فرمائیں تاکہ آپ کا ارشاد سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہودی گستاخی کے انداز میں بولتے اور بعد ازاں اپنی مجلسوں میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے کہ دیکھو ان کا نبی اور یہ لوگ کس قدر نادان اور بیوقوف ہیں کہ انہیں اس لفظ کا مفہوم سمجھ نہیں آتا۔ اس موقع پر ارشاد خداوندی نازل ہوا کہ اے مسلمانو ! اب کے بعد اس ذو معنیٰ لفظ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو ۔ اس کی بجائے ” انظرنا “ کا لفظ استعمال کیا کرو جس کا معنٰی ہے اے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف نظر التفات فرمائیں۔ پھر جو کچھ آپ کی زبان اقدس سے الفاظ جاری ہوں انہیں پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ سنا کرو۔ ” وَاسْمَعُوْا “ کا لفظ استعمال فرما کر یہ اشارہ بھی دیا کہ دوران خطاب متکلم کو ٹوکنا سننے والے کی عدم توجہ کی دلیل ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا سامع کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کے کلام کو ایسے انہماک کے ساتھ سنے کہ حتی الوسع اسے استفسار کرنے کی حاجت پیش نہ آئے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے کلام کو عدم توجہ اور بد نیتی کے ساتھ سننے کی بجائے ہمہ تن گوش ہو کر سننا اور ماننا چاہیے۔ یہ بھی انتباہ فرمایا کہ رسول خدا کی گستاخی کرنا کفر ہے۔ یہودی انبیاء کے گستاخ نوح (علیہ السلام) اور شراب : بائبل میں لکھا ہے کہ ” اس نے مے پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرے میں برہنہ ہوگیا۔ “ اس کے بیٹے حام نے انہیں اس حالت میں دیکھا۔ (پیدائش ٦: ٩‘ ٩ : ٢٠۔ ٢٢) لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیاں : بائبل کے بیان کے مطابق ‘ لوط (علیہ السلام) کی دو سگی بیٹیوں نے انہیں شراب پلائی اور پھر باری باری ان سے ہم آغوش ہوئیں۔ (نعوذ باللہ) حتی کہ لوط (علیہ السلام) کی یہ دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں اور ان سے ایک ایک بیٹا پیدا ہوا۔ (پیدائش ١٩: ٣٠۔ ٣٨) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹوں پر الزام : بائبل کے بیان کے مطابق ‘ داؤد کا بیٹا امنون بھی عشق اور زناکاری کے مرحلہ سے گزرا ‘ اور اس نے یہ کام اپنی سوتیلی بہن تمر سے کیا۔ اس نے مقصد برآوری کے لیے فریب اور جھوٹ سے کام لیا اور دھوکہ سے بہن کو الگ کمرہ میں بلا کر اس سے زبردستی کی۔ داؤد نے یہ سب سنا تو ” نہایت غصہ ہوا “ مگر امنون کو پورے دو سال تک کوئی سزا نہ ملی۔ یہاں تک کہ داؤد کے ایک دوسرے بیٹے اور تمر کے سگے بھائی ابی سلوم نے دھوکہ سے امنون کو مروا کر اپنی بہن کا بدلہ لے لیا۔ (سموئیل۔ باب ١٣) حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر شرک کا الزام : ” اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے۔۔ محبت کرنے لگا۔۔ اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اور تین سو حر میں تھیں۔ اس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا اور اس کا دل خداوند کے ساتھ کامل نہ رہا، جیسا کہ اس کے باپ داؤد کا دل تھا۔۔ سلیمان نے خداوند کے آگے بدی کی اور اس نے خداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اس کے باپ داؤد نے کی تھی۔ (سلاطین ١: ١۔ ٤) گستاخ اور شاتم رسول کی سزا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت و تکریم مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ آپ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوگا اور دنیا میں واجب القتل ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اور اسلام کے بیشمار دشمنوں کو معاف فرما دیا لیکن چند بدبختوں کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹ جائیں تو بھی انہیں قتل کردیا جائے۔ یہ فرمان ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) اور صحابہ کرام (رض) کی گواہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ شاتم رسول دوسروں کے دلوں سے عظمت و احترام رسول گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے۔ اس لیے توہین رسول کو برداشت کرلینا، ایمان سے ہاتھ دھونے اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ کھولنے کرنے کے مترادف ہے۔ نیز رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کی محبت عقیدت کا مرکز و محور ہے اور اس کے بغیر مسلمان کا ایمان اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہے اس لیے جو زباں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طعن کے لیے کھلتی ہے۔ اگر اسے کاٹا نہ جائے اور جو قلم آپ کی گستاخی کے لیے اٹھتا ہے اگر اسے توڑا نہ جائے تو اسلامی معاشرہ اعتقادی و عملی فساد کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ (رض) کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دیتا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے ایمان اور غیرت کی خاطر گستاخی کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ امام ابن تیمیہ (رض) اپنی کتاب ” الصارم المسلول علی شاتم الرسول “ میں فرماتے ہیں کہ ائمہ اہلحدیث امام احمد (رض) اور امام مالک (رض) کے نزدیک شاتم رسول کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچا سکتی جبکہ امام شافعی (رض) سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول و عدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔ البتہ امام ابو جعفر (رض) کے نزدیک اگر وہ سزا سے پہلے توبہ کرے تو سزا سے بچ سکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ (رض) اکثر محدثین اور فقہا کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو دلائل دیے ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ (١) ۔ شاتم رسول فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ کی تلافی نہیں ہوسکتی جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔ (٢) ۔ اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اس سے دوسرے بدبختوں کو جرأت ہوگی کہ وہ جب چاہیں توہین رسول کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کر کے سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو بازیچۂ طفلاں بنا لیں گے۔ (٣) ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہانت و تحقیر کے جرم کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ حقوق اللہ اللہ تعالیٰ چاہے معاف کر دے مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے۔ مگر اب اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نیابۃً اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ (٤) ۔ قتل، زنا، سرقہ جیسے جرائم کے بارے میں بھی اصول یہی ہے کہ ان کا مجرم سچی توبہ کرنے سے آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے ‘ مگر دنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل ‘ زانی یا چور گرفتار ہوجائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا ہے مگر اب توبہ کرتا ہوں تو اسے چھوڑ دیا جائے اسے ہر صورت سزا دی جائے گی۔ اسی طرح شاتم رسول کا مرتکب بھی جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے تو دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے زیادہ سنگین ہے۔ گستاخ رسول کے بارے میں احکامات (اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعدَّلَہُمْ عَذَابًا مُہِیْنًا) (الأحزاب : ٥٧) ” بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ گستاخ رسول کا قتل : ( اِنَّ أعْمٰی کَانَتْ لَہٗ اُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَ تَقَعُ فِیْہِ فَیَنْہَا ہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَیَزْجُرُہَا فَلَا تَنْزَجِرُ فَلَمَّا کَانَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَتَشْتُمُہٗ فَاخَذَا لْمِغْوَلَ فَوَ ضَعَہٗ فِیْ بَطْنِہَا وَتَّکَأَ عَلَیْہَا فَقَتَلَہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذَلِکَ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ اُنْشِدُ رَجُلًا فَعَل مَا فَعَلَ لِیْ عَلَیْہِ حَقُّٗ اِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ الْاَعْمٰی یَتَخَطَّی النَّاسَ وَہُوَ یَتَدَلْدَلُ حَتّٰی قَعَدَبَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَا صَاحِبُہَا کَانَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاَنْہَاہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَأَزْجُرُہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ وَلِیَ مِنْہَا اِبْنَانِ مِثْلُ الْلُؤلُؤَتَیْنِ وَکَانَتْ بِیْ رَفِیْقَۃً فَلَمَّا کَانَ الْبَارِحَۃُ جَعَلَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُہُ فِیْ بَطْنِہَا وَاتَّکَأْتُ عَلَیْہِ حَتّٰی قَتَلْتُہَا فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَلَا أَشْہِدُوْا أَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ) (رواہ ابوداؤد : کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی) ” ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا۔ وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا۔ مگر وہ نہ رکتی تھی۔ ایک رات اس لونڈی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دینا شروع کیں تو نابینا صحابی نے ایک چھرا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کرتے ہوئے اسے زور سے دبایا جس سے وہ مرگئی۔ صبح اس کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا ‘ جو کچھ کیا۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ بات سن کر ایک نابینا صحابی کھڑا ہوا۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! میں اسے منع کرتا تھا مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقۂ حیات تھی۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کرتے ہوئے اسے زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہوا۔ “ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ ) (رواہ الطبرانی فی الصغیر صفحہ 236 جلد 1) ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے اس کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں۔ “ مشرک گستاخ رسول کا قتل : (اِنَّ رَجُلًا مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ شَتَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ یَّکْفِیْنِیْ عَدُوِّی فَقَام الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فَقَالَ اَنَا فَبَارَزَہٗ فَاَعْطَاہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سَلَبَہٗ ) (الصارم المسلول ١٧٧) ” مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا ؟ تو حضرت زبیر بن عوام کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔ حضرت زبیر (رض) نے اسے قتل کردیا۔ تو رسول اللہْ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا سامان زبیر کو دے دیا۔ “ ابو لہب کا عبرت ناک انجام : سورۃ لہب کے نزول پر ابھی آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں بڑے بڑے سرداران قریش مارے گئے۔ مکہ میں بدر کی شکست کی اطلاع پہنچی تو سب سے زیادہ دکھ اور رنج ابولہب کو ہوا۔ یہ اسی صدمے اور رنج میں بیمار پڑگیا۔ ساتویں روز بیماری کوڑھ کی شکل اختیار کرگئی۔ جس وجہ سے اس کے گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا ترک کردیا۔ بالآخر وہ نہایت بےکسی کی موت مرا۔ مرنے کے بعد بھی اس کے بیٹے اس کے قریب نہ گئے یہاں تک کہ اس کی لاش سے بو پھیلنے لگی۔ تب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دیے تو انہوں نے ایک حبشی کو مزدوری دی۔ جس نے گڑھا کھودا اور لکڑی سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینکا اور مٹی ڈال دی۔ گستاخ رسول کو قبر نے باہر پھینک دیا : حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : (کَانَ رَجُلٌ نَصْرانِیًّا فَأسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ فَکَانَ یَکْتُبُ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَعَادَ نَصْرَانِیًّا فَکَانَ یَقُوْلُ مَایَدْرِی مُحَمَّدٌ الاَّ مَا کَتَبْتُ لَہٗ فَأَمَاتَہُ اللّٰہُ فَدَ فَنُوْہُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْ ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَ اَصْحَابِہٖ لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ فَأَعْمَقُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْا ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَاَصْحَابِہٖ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ وَأَعْمَقُوْا لَہٗ فِی الْاَرْضِ مَاسْتَطَاعُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَعَلِمُوْا اَنَّہُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ فَالْقَوْہُ ) (رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام) ” ایک شخص عیسائی تھا وہ مسلمان ہوگیا سورة بقرۃ اور آل عمران پڑھ چکا تھا وہ کاتب وحی تھا۔ پھر وہ مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا اسے کچھ معلوم نہیں۔ اس کی موت واقع ہوگئی تو اس کے ساتھیوں نے اسے دفن کیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر کی بجائے زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائیوں نے کہا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے انہوں نے قبر کھود کر لاش کو باہر پھینک دیا ہے۔ چناچہ دوسری قبر کھودی جو بہت گہری تھی لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی جتنی گہری ان کے بس میں تھی اور اس میں ڈال دیا لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر پڑی تھی۔ اب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ یہ آدمی عذاب خداوندی میں گرفتار ہے۔ چناچہ انہوں نے اسے یونہی زمین پر پھینک دیا۔ “ امام احمد بن حنبل a : (کُلُّ مَنْ شَتَمَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَوْ تَنَقَّصَہٗ مُسْلِمًا کَانَ اَوْ کَافِرًا فَعَلَیْہِ الْقَتْلُ وَأَرٰی اَنْ یُقْتَلَ وَلَا یُسْتَتَابَ ) (الصارم المسلول : ٣٣) ” جو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دیتا ہے یا آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے وہ مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کرنے کی مہلت نہ دی جائے بلکہ فوراً قتل کردیا جائے۔ “ امام مالک (رح) : خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک (رض) سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں پوچھا۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : (مَابَقَاءَ الْاُمَّۃِ بَعْدَ شَتْمِ نَبِیِّہَا) (الشفاء للقاضی عیاض : ٢/٢٣٣) ” اس امت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں جس کے نبی کو گالیاں دی جائیں۔ “ امام ابن تیمیہ (رح) : (اِنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ مُسْلِمٍ اَوْ کَافِرٍ فَاِنَّہ یَجِبُ قَتْلُہُ ہَذَا مَذْہَبُ عَامَۃِ اَہْلِ الْعِلْمِ ) (الصارم المسلول : ٣١) ” جو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دے خواہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ “ ستمبر ٢٠٠٥ ء میں ڈنمارک کے بدنام زمانہ صحافی نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاکے شائع کیے جس سے تو پورے عالم اسلام میں ایسا اضطراب پیدا ہوا کہ مسلمان تڑپ اٹھے اور پوری دنیا میں جلوس، ہڑتالیں اور بےمثال مظاہرے ہوئے اس میں سعودی عرب نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ ڈنمارک کے گستاخانہ عمل کی وجہ سے سعودی عرب نے عالم اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے ٢٦ جنوری کو ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور سعودی عرب سے ڈنمارک کی اشیاء کے بائیکاٹ کا آغاز ہوگیا جو تمام عرب ریاستوں ‘ مصر ‘ لیبیا ‘ ایران اور دوسرے مسلمان ممالک تک پھیل گیا۔ ٤ فروری کو پاکستان نے ڈنمارک ‘ ناروے ‘ فرانس ‘ جرمنی ‘ اٹلی ‘ سپین ‘ سوئٹزر لینڈ ‘ ہینگری ‘ ہالینڈ اور جمہوریہ چیک ری پبلک کے سفیروں کو طلب کر کے گستاخانہ خاکوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ پاکستان نے خاکوں کے شائع کرنے والے ممالک سے ادویات درآمد کرنے پر پابندی لگا دی ‘ فرانس اور ڈنمارک کی چار میڈیسن کمپنیوں کی تقریباً ایک سو گیارہ ادویات پاکستانی میڈیکل سٹورز پر فروخت کی جاتی تھیں۔ ڈاکٹرز صاحبان نے ان ادویات کے بجائے متبادل ادویات تجویز کردیں۔ شام، لبنان اور لیبیا میں ڈنمارک کے سفارت خانوں کو آگ لگا دی گئی۔ مسلم ممالک نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا۔ بس جس ملک سے جو بن پڑا اور جس دینی ‘ سیاسی اور رفاہی تنظیم سے جو ہوسکا اس نے اپنی اسلامی غیرت کا ثبوت فراہم کرکے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جس کو دیکھ کر عالم کفر کے بعض حکمرانوں اور اخبارات کے ایڈیٹرز اور مالکان نے معذرت کا رویہ اپنایا جن میں چند ایک یہ ہیں : ناروے کے اخبار کے ایڈیٹر انچیف ” ویجیو ان سیلبک “ نے معافی مانگی جس کو ناروے کی اسلامی کونسل نے قبول کرلیا۔ فرانس کے اخبار کے مالک نے ایڈیٹر کو نوکری سے برطرف کردیا۔ ٣١ جنوری کو ڈنمارک کے اخبار نے معافی نامہ جاری کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگی۔ مسائل ١۔ ذو معنٰی لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ٢۔ کلام اللہ اور حدیث رسول توجہ کے ساتھ سننی چاہیے۔ ٣۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گستاخ کافر اور واجب القتل ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ٦ تشریح آیات (١٠٤ تا ١٢٣) اس سبق کے شروع میں روئے سخن ” ان لوگوں کی طرف ہے جو ایمان لاچکے ہیں۔ “ مقصد یہ کہ دوسرے لوگوں سے ان مابہ الامتیاز کی صفت ایمان ہے ۔ یہی صفت ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو وہ اپنے نبی سے مربوط ہیں اور دوسری طرف اپنے پروردگار سے منسلک ہیں ۔ اور یہی صفت ہے کہ جس کے ساتھ اگر انہیں پکاراجائے تو اس کی وجہ سے ان کے دل متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ ہر پکار پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس صفت سے انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخاطب ہوتے وقت ” راعنا “ کا لفظ استعمال نہ کریں۔ بلکہ ” انظرنا “ (ہماری طرف رعایت کیجئے) کے بھی وہی معنی ہیں ۔ صفت ایمان کے ساتھ اپیل کرتے ہوئے قرآن کریم انہیں سمع اور طاعت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور کافروں کے برے ٹھکانے اور برے انجام یعنی عذاب الیم سے انہیں ڈراتا ہے۔ لفظ ” راعنا “ کے استعمال سے ممانعت کا سبب مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ بعض احمق یہودی اس لفظ کو یوں ادا کرتے تھے کہ یہ مصدر ” رعایت “ کے بجائے ” رعونت “ کا مشتق معلوم ہوتا تھا۔ یہ لوگ یوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین کرکے اور آپ کی شان میں گستاخی کرکے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتے تھے ۔ ان میں یہ جراءت تو تھی نہیں کہ اعلانیہ کھل کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کچھ کہہ سکیں ۔ اس لئے یہودیوں کے بعض کمینے اور ذلیل لوگ یوں لفظی ہیر پھیر سے آپ کے حق میں بدزبانی کرنے کی سعی کرتے تھے ۔ اس لئے مؤمنین کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ سرے سے وہ الفاظ استعمال نہ کریں ، جسے یہودی اس ذلیل مقصد کے لئے استعمال کررہے تھے تاکہ ان کی کمینگی کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے کے لئے یہودیوں کی جانب سے ایسے ذلیلانہ ہتھکنڈوں کا استعمال اس امر کو اچھی طرح ظاہر کردیتا ہے کہ ان بدبختوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی تحریک سے کس قدر بغض تھا ۔ اور کس طرح وہ آپ کے خلاف ہر گھٹیا حربہ استعمال کررہے کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔ اور اس سلسلے میں کسی موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔ نیز ایسے موقع پر وحی الٰہی کے ذریعے ایسے الفاظ کے استعمال کی ممانعت کردینے سے یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنے نبی اور تحریک اسلامی کے نگہبان تھے اور ان کے مکار دشمنوں کی سازشوں اور مکاریوں کا دفیعہ فرمادیتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے دلوں مسلمانوں کے خلاف کس قدر بغض وکینہ بھرا ہوا ہے ۔ کیونکر یہ ہر وقت مسلمانوں کی عداوت اور ایذا رسانی پر کمر بستہ ہیں ۔ یہ سب کچھ وہ محض اس لئے کررہے ہیں کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے اس مخصوص فضل وکرم سے نوازا۔ یہ تفصیلات اللہ تعالیٰ نے اس لئے بیان کیں کہ مسلمان اپنے دشمنوں سے محتاط ہوجائیں اور جس ایمان کی وجہ سے ان کے دشمنوں کے دل جل اٹھے ہیں ، اس پر اور جم جائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جو خصوصی فضل فرمایا ہے اس کا شکریہ ادا کریں۔ اس کی حفاظت کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رَاعِنَا کہنے کی ممانعت اور یہود کی شرارت یہودیوں کی بہت سی شرارتوں میں سے ایک یہ بات تھی کہ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو لفظ راعِنَا کہتے تھے۔ یہ عربی زبان کا لفظ بھی ہے اور عبرانی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری رعایت کیجیے۔ اور عبرانی زبان میں یہ لفظ بد دعا کے معنی میں ہے۔ یہ لوگ شرارت سے اور بد دعا دینے کی نیت سے اس لفظ کو استعمال کرتے تھے تاکہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے سننے والے یہ سمجھیں کہ یہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری رعایت فرمائیے اور ہماری طرف توجہ فرمائیے۔ اور اندر سے دل میں برے معنی کی نیت کرتے تھے۔ سورة نساء میں فرمایا (وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَاوَ عَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّا بِاَلْسِنَتِھِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ ) مسلمان عربی زبان کے اعتبار سے راعِنَا یَا مُحَمَّدْ کہتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ (رض) یہودیوں کی زبان جانتے تھے انہوں نے محسوس کرلیا کہ یہودی راعِنَا یا مُحَمَّدْ کہتے ہیں اور آپس میں ہنستے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے یہودیوں سے کہا کہ آئندہ تم میں سے کسی نے یہ لفظ بولا تو میں گردن مار دوں گا۔ وہ کہنے لگے کہ تم لوگ بھی تو کہتے ہو اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی کہ اے مسلمانو ! تم راعِنَا نہ کہو۔ اس کے بجائے لفظ اُنْظُرْنَا کہو اس کا معنی بھی وہی ہے کہ ہماری طرف دیکھئے اور توجہ فرمائیے۔ لہٰذا وہ لفظ بولنا چاہیے جس کے معنی میں دوسرے معنی کا اشتباہ نہ ہو سکے اور یہودی یہ نہ کہہ سکیں کہ تم بھی لفظ راعنا بولتے ہو تو ہم نے بھی بول دیا۔ غیر مسلمانوں سے خطاب ہوا کہ تم بات کو سنو اور اطاعت کرو اور یہ بھی فرمایا کہ کافروں کے لیے عذاب الیم ہے وہ آخرت میں اپنی حرکتوں کی درد ناک سزا پالیں گے۔ ( من معالم التنزیل ص ١٠٢ ج ١) بیان القرآن میں لکھا ہے کہ اس حکم سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر اپنے کسی فعل مباح سے کسی کو گنجائش گناہ کرنے کی ملے تو وہ فعل خود اس کے حق میں مباح نہیں رہتا جیسے مثلاً عالم کے کسی فعل سے کوئی جاہل سند لے کر خلاف شرع کام کرنے لگے تو اگر وہ فعل ضروری نہ ہوگا تو خود اس عالم کے لیے بھی منع ہوجائے گا۔ لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا سے استنباط احکام : اور ابوبکر حبصاص احکام القرآن میں اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اس میں دلالت ہے اس بات پر کہ جس لفظ میں احتمال خیر و شر دونوں کا ہو اس کا بولنا جائز نہیں جب تک کوئی ایسی چیز اس کے ساتھ نہ ملالی جائے جس سے وہ خیر ہی کے لیے متعین ہوجائے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کی ہنسی کرنا، مذاق اڑانا ممنوع ہے اور ہر وہ لفظ ممنوع ہے جس میں احتمال مذاق اڑانے کا ہو (چونکہ یہودی لفظ راعنا کہہ کر ہنستے تھے اور مذاق بناتے تھے اس لیے جصاص نے اس آیت کے ذیل میں یہ بات لکھی ہے) ۔ مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو کافروں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا قول میں بھی اور فعل میں بھی۔ اس کے بعد مسند احمد اور سنن ابی داود سے حدیث نقل کی ہے۔ من تشبہ بقوم فھو منھم (کہ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے) اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اس میں دلالت ہے اس بات پر کہ کافروں کے ساتھ ان کے اقوال اور افعال اور لباس اور تہوار اور عبادات وغیرہ میں مشابہت اختیار کرنا سخت ممنوع ہے، اور مشابہت کرنے والوں کے لیے تہدید اور وعید ہے۔ (ص ١٤٨ ج ١) متعدد احادیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے کہ خطاب اور گفتگو میں اچھے الفاظ استعمال کیے جائیں اور ان الفاظ سے بچیں جو برے اور نامناسب معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لیے کسی کو ملک الاملاک یعنی شہنشاہ کہنے سے منع فرمایا۔ ( کیونکہ سب بادشاہوں کا بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے) ایک لڑکی کا نام عاصیہ (گنہگار) تھا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام اور باندی کو عبدی اور امتی نہ کہے۔ تم سب اللہ کے بندے اور تمہاری سب عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ عَبْدیْ اور اَمَتِیْ کی بجائے غُلَامی اور جارِیَتِیْ کہا جائے۔ (یہ سب احادیث مشکوٰۃ المصابیح باب الاسامی میں مذکور ہیں)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

201 اللہ نے مسلمانوں کو راعنا کے لفظ سے منع فرمادیا کیونکہ یہ لفظ موہم شرک تھا اور اس کے تحت یہودیوں کی ناپاک نیتیں تھیں اور اس کی جگہ انظرنا کا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا۔ وَاسْمَعُوْا۔ میرے امرونہی کو غور سے سنو اور اس پر عمل کرو۔ ای ما امرتکم بہ ونھیتکم عنہ بجد (روح ص 349 ھ 1) اس سے ایسے الفاظ کہنے اور ایسی رسموں کی بنا رکھنے ممانعت ثابت ہوئی جو مبدا شرک ہوں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قُلْ لَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ ۔ الایۃ کا علان کرنیکا حکم دیا تاکہ نصاری کی طرح مسلمان حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالم الغیب اور مالک ومختار نہ سمجھنے لگیں۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے اللہ میری قبر ظاہر نہ ہونے پائے تاکہ وہ شرک کا اڈہ نہ بن جائے۔ کذا فی الخازن۔ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ۔ اس کا تعلق لَمَّا جَاۗءَھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۔ سے ہے یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے اُعْبُدُوْ ا رَبَّکُمْ وَلَاتَجْعَلُوْا للہ اَنْدَاداً تو وہ اس کے مقابلہ میں جادو منتر پیش کردیتے ہیں۔ اب یہاں فرمایا گیا کہ وہ تو مشرک ہیں ہی اب تمہارے اندر بھی موہم شرک الفاظ کے ذریعے شرک پھیلانا چاہتے ہیں۔ اَلْکَافِرِیْنَ میں الف لام عہد کا ہے اور اس سے مراد وہ سازشی یہود ہیں جنہوں نے بد نیتی سے لفظ راعنا استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اب آگے اہل کتاب اور مشرکین کی ایک اور بری اور ناپاک خواہش کا ذکر کیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ِف 3 اے ایمان لانے والو ! تم پیغمبر کو مخاطب کرتے وقت رعناً نہ کہا کرو بلکہ اگر نبی کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہو تو انظرنا کہا کرو اور یہ بات سن لو اور یاد رکھو اور ان کافروں کے لئے جو نبی کی شان میں گستاخی اور بےادبی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بڑا الم انگیز عذاب ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یہود پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں بیٹھتے اور حضرت کلام فرماتے ۔ بعض بات جو نہ سنی ہونی چاہئے کہ پھر تحقیق کریں تو کہتے راعناً یعنی ہماری طرف بھی متوجہ ہو ان سے مسلمان بھی سیکھ کر کسی وقت یہ لفظ کہتے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ یہ لفظ نہ کہو اگر کہنا ہو تو انظرنا کہو اس کے بھی معنی یہی ہیں اور آگے سے سنتے رہو کہ پوچھنا ہی نہ پڑے یہود ک و اس لفظ کے کہنے میں دعا تھی اس کو زبان دبا کر کہتے تو راعینا ہوجاتا یعنی ہمارا چرواہا اور ان کی زبان میں راعنا احمق کو بھی کہتے ہیں۔ (موضح القرآن) واسمعوا کی جو توجیہہ حضرت شاہ صاحب نے بیان فرمائی ہے و ہ بھی محض بعض مفسرین کا قول ہے۔ واللہ اعلم آگے یہود کی ایک اور پوشیدہ بات کو ظاہر کرتے ہیں اور وہ بات ایسی ہے کہ اس میں مشرک بھی ان کے ہم نوا تھے ظاہر میں تو جب کبھی مسلمانوں سے ملتے تو یہی کہتے کہ ہماری یہ آرزو ہے کہ تم پر کوئی ایسی بھلی بات نازل ہو جو ہمارے دین سے بھی بھلی ہو اور ہم بھی تمہارا دین اختیار کرلیں۔ مگر کیا کریں تمہارے دین میں کوئی بات ہمارے دین سے بہتر اور اچھی ہے ہی نہیں۔ اس لئے ہم تمہارے دین کو قبول نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس دروغ بیانی کا رد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)