Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 140

سورة البقرة

اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطَ کَانُوۡا ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ قُلۡ ءَاَنۡتُمۡ اَعۡلَمُ اَمِ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۰﴾

Or do you say that Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants were Jews or Christians? Say, "Are you more knowing or is Allah ?" And who is more unjust than one who conceals a testimony he has from Allah ? And Allah is not unaware of what you do.

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب ( علیھم السلام ) اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کیا تم زیادہ جانتے ہو ۔ یا اللہ تعالٰی ؟اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیادہ ظالم اور کون ہے؟ اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah said, أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَالاسْبَاطَ كَانُواْ هُودًا أَوْ نَصَارَى ... Or say you that Ibrahim, Ismail, Ishaq, Yaqub and Al-Asbat, were Jews or Christians! Allah criticized them in the claim that Ibrahim, the Prophets who came after him and the Asbat were following their religion, whether Judaism or Christianity. Allah said, ... قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللّهُ ... Say, "Do you know better or does Allah!" meaning, Allah has the best knowledge and He stated that they were neither Jews, nor Christians. Similarly, Allah said in the Ayah, مَا كَانَ إِبْرَهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ Ibrahim was neither a Jew nor a Christian, but he was a true Muslim Hanifa (to worship none but Allah alone) and he was not of Al-Mushrikin. (3:67) and the following Ayat. Allah also said, ... وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللّهِ ... And who is more unjust than he who conceals the testimony he has from Allah, Al-Hasan Al-Basri said, They used to recite the Book of Allah He sent to them that stated that the true religion is Islam and that Muhammad is the Messenger of Allah. Their Book also stated that Ibrahim, Ismail, Ishaq, Yaqub and the tribes were neither Jews, nor Christians. They testified to these facts, yet hid them from the people. Allah's statement, ... وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ And Allah is not unaware of what you do. is a threat and a warning that His knowledge encompasses every one's deeds, and He shall award each accordingly. Allah then said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

140۔ 1 تم کہتے ہو کہ یہ اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھی، جب کہ اللہ تعالیٰ اس کی نفی فرماتا ہے۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ زیادہ علم اللہ کو ہے یا تمہیں۔ 140۔ 2 تمہیں معلوم ہے کہ یہ انبیاء یہودی یا عیسائی نہیں تھے، اسی طرح تمہاری کتابوں میں آنحضرت کی نشانیاں بھی موجود ہیں، لیکن تم ان شہادتوں کو لوگوں سے چھپا کر ایک بڑے ظلم کا ارتکاب کر رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے خفیہ نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٢] اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق تیسری اور چوتھی صدی قبل مسیح میں معرض وجود میں آئی تھی۔ اور عیسائیت اپنے مخصوص نظریات و عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے مابعد کی پیداوار ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالم لوگ اس بات کو خوب جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق علیہ السلام، یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) وغیرہم۔ اس قسم کی یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے وفات پاچکے تھے، مگر ان علمائے یہود و نصاریٰ نے عوام کے ذہن میں یہ بات پختہ کردی تھی کہ یہ مندرجہ بالا انبیائے کرام یہود کے قول کے مطابق یہودی تھے اور نصاریٰ کے قول کے مطابق عیسائی تھے۔ اس پس منظر میں اب اس آیت کو ملاحظہ فرمائیے جس میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود و نصاریٰ کی اس بددیانتی کو آشکار کیا ہے اور انہیں کتمان شہادت کے مجرم قرار دے کر سب سے بڑے ظالم ٹھہرایا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت بعد اور نصرانیت اپنے مخصوص نظریات و عقائد کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) کے بہت بعد وجود میں آئی۔ یہود و نصاریٰ کے عالم لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اس یہودیت و نصرانیت سے، بلکہ موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی بہت پہلے ہو گزرے ہیں، مگر یہود و نصاریٰ کے ان علماء نے عوام کے ذہن میں یہ بات پختہ کردی تھی کہ یہ تمام انبیاء یہود کے قول کے مطابق یہودی تھے اور نصاریٰ کے قول کے مطابق نصرانی تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود و نصاریٰ کی اس بددیانتی کو ظاہر فرمایا ہے اور شہادت چھپانے کے مجرم قرار دے کر سب سے بڑے ظالم قرار دیا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے اس فعل کی مثال امت مسلمہ میں ایسے ہے جیسے کوئی مسلم عالم عوام کو یہ باور کروائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقہ حنفی یا فقہ شافعی کے مطابق فیصلے فرماتے تھے، حالانکہ اسے خوب معلوم ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی (رح) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت بعد پیدا ہوئے اور وہ نبی بھی نہیں تھے کہ ان کی بات حجت ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْـبَاطَ كَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى۝ ٠ ۭ قُلْ ءَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللہُ۝ ٠ ۭ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللہِ۝ ٠ ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝ ١٤٠ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ سبط أصل السَّبْط : انبساط في سهولة، يقال : شَعْرٌ سَبْطٌ ، وسَبِطٌ ، وقد سَبِطَ سُبُوطاً وسَبَاطَةً وسَبَاطاً ، وامرأة سَبْطَةُ الخلقة، ورجل سَبْطُ الكفّين : ممتدّهما، ويعبّر به عن الجود، والسِّبْطُ : ولد الولد، كأنه امتداد الفروع، قال : وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْباطِ [ البقرة/ 136] ، أي : قبائل كلّ قبیلة من نسل رجل، وقال تعالی: وَقَطَّعْناهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْباطاً أُمَماً [ الأعراف/ 160] ، والسَّابَاطُ : المنبسط بين دارین . وأخذت فلانا سَبَاطِ ، أي : حمّى تمطّه، والسُّبَاطَةُ خط من قمامة، وسَبَطَتِ النّاقة ولدها، أي : ألقته . ( س ب ط ) السبط اس کا اصل معنی سہولت کے ساتھ کسی چیز کا منبسط ہونا ہیں اور سبط ( س ) سبوطا و سباطۃ وسباطا کے معنی بالوں کے سیدھا اور دراز ہونے کے ہیں اور سیدھے بالوں کو جن مین گھنگٹ نہ ہوں سبط یا سبط کہا جاتا ہے ۔ اسیطرح خوش قامت عورت کو بھی سبطۃ کہا جاتا ہے اور دراز کف دست آدمی کو سبط الکفین کہتے ہیں اور یہ سخاوت سے کنایہ ہوتا ہے ۔ السبط اس کے معنی اولاد کی اولاد یعنی پوتے اور نواسے کے ہیں گویا اس میں فروع کے امتداد کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْباطِ [ البقرة/ 136] اور حضرت یعقوب اور ان کی اولاد ۔ یہاں اسباط سے مراد قبائل ہیں ۔ ہر قبیلہ ایک شخص کی اولاد سے تھا ۔ جیسے فرمایا : أَسْباطاً أُمَماً [ الأعراف/ 160] ( الگ الگ ) بارہ قبیلے بنا دیئے الساباط وہ مسقف راستہ جو دو مکانوں کے درمیان ہو ۔ اور اخذت فلانا سباط کے معنی ہیں فلاں کو بخار چڑھ گیا ۔ مثل مشہور ہے ( مثل ) السباطۃ خیر میں قمامۃ کہ خاک روبہ کوڑے سے بہتر ہے ۔ سبطت الناقۃ ولدھا اونٹنی نے نا تمام بچہ گرا دیا ۔ هَادَ ( یہودی) فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا [ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من غير استدعاء، وتَهَوَّدَ في مشيه : إذا مشی مشیا رفیقا تشبيها باليهود في حركتهم عند القراءة، وکذا : هَوَّدَ الرّائض الدابّة : سيّرها برفق، وهُودٌ في الأصل جمع هَائِدٍ. أي : تائب وهو اسم نبيّ عليه السلام . الھود کے معنی نر می کے ساتھ رجوع کرنا کے ہیں اور اسی سے التھدید ( تفعیل ) ہے جسکے معنی رینگنے کے ہیں لیکن عرف میں ھو د بمعنی تو بۃ استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا[ البقرة/ 62] ہم تیری طرف رجوع ہوچکے بعض نے کہا ہے لفظ یہود بھی سے ماخوذ ہے یہ اصل میں ان کا تعریفی لقب تھا لیکن ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد ان پر بطور علم جنس کے بولا جاتا ہے نہ کہ تعریف کے لئے جیسا کہ لفظ نصارٰی اصل میں سے ماخوذ ہے پھر ان کی شریعت کے منسوخ ہونے کے بعد انہیں اسی نام سے اب تک پکارا جاتا ہے ھاد فلان کے معنی یہودی ہوجانے کے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ عَلى شَفا جُرُفٍ هارٍ فَانْهارَ بِهِ فِي نارِ جَهَنَّمَ [ التوبة/ 109] جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی کیونکہ کبھی اسم علم سے بھی مسمی ٰ کے اخلاق و عادات کا لحاظ کر کے فعل کا اشتقاق کرلیتے ہیں مثلا ایک شخص فرعون کی طرح ظلم وتعدی کرتا ہے تو اس کے کے متعلق تفر عن فلان کہ فلان فرعون بنا ہوا ہے کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اسہ طرح تطفل فلان کے معنی طفیلی یعنی طفیل نامی شخص کی طرح بن بلائے کسی کا مہمان بننے کے ہیں ۔ تھودا فی مشیہ کے معنی نرم رفتاری سے چلنے کے ہیں اور یہود کے تو راۃ کی تلاوت کے وقت آہستہ آہستہ جھومنے سے یہ معنی لئے کئے ہیں ۔ ھو دا لرائض الدبۃ رائض کا سواری کو نر می سے چلانا ھود اصل میں ھائد کی جمع ہے جس کے معنی تائب کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ایک پیغمبر کا نام ہے ۔ نَّصَارَى وَالنَّصَارَى قيل : سُمُّوا بذلک لقوله : كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] ، وقیل : سُمُّوا بذلک انتسابا إلى قرية يقال لها : نَصْرَانَةُ ، فيقال : نَصْرَانِيٌّ ، وجمْعُه نَصَارَى، قال : وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاری الآية [ البقرة/ 113] ، ونُصِرَ أرضُ بني فلان . أي : مُطِرَ «1» ، وذلک أنَّ المطَرَ هو نصرةُ الأرضِ ، ونَصَرْتُ فلاناً : أعطیتُه، إمّا مُسْتعارٌ من نَصْرِ الأرض، أو من العَوْن . اور بعض کے نزدیک عیسائیوں کو بھی نصاری اس لئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے نحن انصار اللہ کا نعرہ لگا دیا تھا ۔ چناچہ قران میں ہے : ۔ كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ [ الصف/ 14] جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مر یم نے حواریوں سے کہا بھلا کون ہے جو خدا کی طرف بلانے میں میرے مددگار ہوں تو حوراریوں نے کہا ہم خدا کے مددگار ہیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ نصرانی کی جمع ہے جو نصران ( قریہ کا نام ) کی طرف منسوب ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَقالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصاریالآية [ البقرة/ 113] یہود کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں ۔ نصر ارض بنی فلان کے معنی بارش بر سنے کے ہیں کیونکہ بارش سے بھی زمین کی مدد ہوتی ہے اور نصرت فلانا جس کے معنی کسی کو کچھ دینے کے ہیں یہ یا تو نصر الارض سے مشتق ہے اور یا نصر بمعنی عون سے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، وقال : وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] ، وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] ، وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ [ آل عمران/ 71] ، وقوله : الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] فَكِتْمَانُ الفضل : هو کفران النّعمة، ولذلک قال بعده : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] ، وقوله : وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] قال ابن عباس : إنّ المشرکين إذا رأوا أهل القیامة لا يدخل الجنّة إلّا من لم يكن مشرکا قالوا : وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] فتشهد عليهم جوارحهم، فحینئذ يودّون أن لم يکتموا اللہ حدیثا «2» . وقال الحسن : في الآخرة مواقف في بعضها يکتمون، وفي بعضها لا يکتمون، وعن بعضهم : لا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] هو أن تنطق جو ارحهم . ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے ۔ وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] مگر ایک فریق ان میں سچی بات جان بوجھ کر چھپا رہا ہے ۔ وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] اور ( دیکھنا ) شہادت کو مت چھپانا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو ( مال ) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں ۔ میں کتمان فضل سے کفران نعمت مراد ہے اسی بنا پر اس کے بعد فرمایا : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے کی تفسیر میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے روز مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو رہے ہیں جو مشرک نہیں تھے ۔ تو چھٹ سے پکارا اٹھیں گے وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے ۔ مگر اس کے بعد ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت وہ تمنا کریں گے کہ خدا تعالیٰ سے کوئی بات نہ چھپائے ہوتی حسن بصری فرماتے ہیں کہ آخرت میں متدد واقف ہوں گے بعض موقعوں پر وہ اپنی حالت کو چھپانے کی کوشش کریں گے ۔ اور بعض میں نہیں چھپائیں گے بعض نے کہا ہے کہ کوئی چھپا نہ سکنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دینگے ۔ شَّهَادَةُ : قول صادر عن علم حصل بمشاهدة بصیرة أو بصر . وقوله : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] ، يعني مُشَاهَدَةِ البصر ثم قال : سَتُكْتَبُ شَهادَتُهُمْ [ الزخرف/ 19] ، تنبيها أنّ الشّهادة تکون عن شُهُودٍ ، وقوله : لِمَ تَكْفُرُونَ بِآياتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] ، أي : تعلمون، وقوله : ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] ، أي : ما جعلتهم ممّن اطّلعوا ببصیرتهم علی خلقها، وقوله : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] ، أي : ما يغيب عن حواسّ الناس وبصائرهم وما يشهدونه بهما الشھادۃ ۔ ( 1 ) وہ بات جو کامل علم ویقین سے کہی جائے خواہ وہ علم مشاہدہ بصر سے حاصل ہوا ہو یا بصیرت سے ۔ اور آیت کریمہ : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ۔ میں مشاہدہ بصر مراد ہے اور پھر ستکتب شھادتھم ( عنقریب ان کی شھادت لکھ لی جائے گی ) سے اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ شہادت میں حاضر ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] اور تم اس بات پر گواہ ہو ۔ میں تشھدون کے معنی تعلمون کے ہیں یعنی تم اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہو ۔ اور آیت کریمہ ۔ ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] میں نے نہ تو ان کو آسمان کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ یہ اس لائق نہیں ہیں کہ اپنی بصیرت سے خلق آسمان پر مطع ہوجائیں اور آیت کریمہ : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے ۔ میں غالب سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کا ادراک نہ تو ظاہری حواس سے ہوسکتا ہو اور نہ بصیرت سے اور شہادت سے مراد وہ اشیا ہیں جنہیں لوگ ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٠) اے یہود ونصاری کی جماعتو ! جیسا کہ تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، ویعقوب (علیہم السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہ سب یہودی یا نصاری تھے، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ کیا تم ان کے دین سے زیادہ واقف ہو یا اللہ سے زیادہ واقف ہے۔ اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس بات سے مطلع فرما دیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، اور اس شخص سے بڑا منکر کون ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی اور دلیری کرے اور توریت میں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں گواہی ہے اس کو چھپائے یہ لوگ جو اس گواہی اور شہادت کو چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٠ (اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ کَانُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی ط) تم جو کہتے ہو کہ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی تب ہدایت پاؤ گے ‘ تو کیا ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا نصرانی ؟ اور اسحاق ‘ یعقوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کون تھے ؟ یہی بات آج مسلمانوں کو سوچنی چاہیے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب (رض) دیوبندی تھے ‘ بریلوی تھے ‘ اہل حدیث تھے یا شیعہ تھے ؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ ان تقسیموں سے بالاتر رہا جائے۔ ٹھیک ہے ایک شخص کسی فقہی مسلک کی پیروی کر رہا ہے ‘ لیکن اس مسلک کو اپنی شناخت بنا لینا ‘ اسے دین پر مقدمّ رکھنا ‘ اس مسلک ہی کے لیے ہے ساری محنت و مشقت اور بھاگ دوڑ کرنا ‘ اور اسی کی دعوت و تبلیغ کرنا ‘ دین کی اصل حقیقت اور روح کے یکسر خلاف ہے۔ (قُلْ ءَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہُ ط) (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ط) علماء یہود جانتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ‘ جن کے وہ منتظر تھے۔ لیکن وہ اس گواہی کو چھپائے بیٹھے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

140. This remark is addressed to the ignorant mass of Jews and Christians who sincerely believed that all the Prophets belonged to their religious denomination. 141. This remark is addressed to the Jewish and Christian theologians who were not unaware that Judaism and Christianity, with their existing characteristics, had emerged at a relatively late period in history. They nevertheless considered Truth to he confined to their own religious sects. They also perpetuated the misunderstanding that man's ultimate happiness and success lay in following the beliefs, institutions and legal codes which had been developed by their jurists, theologians and mystics long after the Prophet of God had passed away. When these theologians were asked to which among their religious communities Abraham, Isaac, Jacob and other Prophets belonged, they evaded a reply. This was because they could not state categorically that they belonged to their own sect. On the other hand, they could not reply explicitly in the negative, for such an admission would have undermined the very basis of their claim that Truth was confined to their fold.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :140 یہ خطاب یہُود و نصاریٰ کے ان جاہل عوام سے ہے جو واقعی اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ یہ جلیل القدر انبیا سب کے سب یہودی یا عیسائی تھے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :141 یہ خطاب ان کے علما سے ہے ، جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہ تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیّات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی ہیں ، مگر اس کے باوجود وہ حق کے اپنے ہی فرقوں میں محدُود سمجھتے تھے اور عوام کو اسی غلط فہمی میں مبتلا رکھتے تھے کہ انبیا کے مدّتوں بعد جو عقیدے ، جو طریقے اور جو اجتہادی ضابطے اور قاعدے ان کے فقہا ، صوفیہ اور متکلّمین نے وضع کیے ، انہیں کی پیروی پر انسان کی فلاح اور نجات کا مدار ہے ۔ ان علما سے جب پوچھا جاتا تھا کہ اگر یہی بات ہے ، تو حضرت ابراہیم ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ وغیرہ انبیا علیہم السّلام آخر تمہارے ان فرقوں میں سے کس سے تعلق رکھتے تھے ، تو وہ اس کا جواب دینے سے گریز کرتے تھے ، کیونکہ ان کا علم انہیں یہ کہنے کی تو اجازت نہ دیتا تھا کہ ان بزرگوں کا تعلق ہمارے ہی فرقے سے تھا ۔ لیکن اگر وہ صاف الفاظ میں یہ مان لیتے کہ یہ انبیا نہ یہُودی تھے ، نہ عیسائی ، تو پھر ان کی حجّت ہی ختم ہو جاتی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

88: یعنی یہ حقیقت دراصل اِن کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام انبیائے کرام توحیدِ خالص کا درس دیتے رہے ہیں، اور ان بے بنیاد عقیدوں سے انبیائے کرام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ خود ان کی کتابوں میں یہ حقیقت واضح طور پر لکھی ہوئی موجود ہے، اور ان میں نبی آخرالزامان صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں بھی موجود ہیں جو ان کے پاس اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہ ظالم اُن کو چھپائے بیٹھے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:140) ام۔ معادلۃ للھمزۃ ہے (یعنی ہمزہ استفہام انکاری جو اوپر اتحاجوننا میں آیا ہے اسی معنی میں یہ آتا ہے) (ای وقل یا محمد) ام تقولون ۔۔ کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور اسباط یہودی یا نصرانی تھے ؟ تمہارا کہنا بھی بےبنیاد اور ناقابل تسلیم اور افتراء ہے کیونکہ یہودیت اور نصرانیت تو ان حضرات (علیہم السلام) کے بعد کی بات ہے انما حدثت الیہودیۃ والنصرانیۃ بعدھم وثبت کذبکم یا معشر الیہود والنصری علی ابراہیم وبنیہ۔ مقصود یہ ہے کہ تمہاری یہ دونوں باتیں محاجۃ فی دین اللہ وقولکم کانوا ابراہیم ۔۔ الخ۔ ھودا اور نصاری بالکل غلط ہیں۔ قل (ای قل یا محمد) تو کہہ (زجروتوبیخ کے پیرایہ میں آیا ہے۔ ام۔ یہاں متصلہ ہے ای ایکماعلم (تم میں سے کون بہتر جانتا ہے) استفہام انکاری ہے۔ ای لستم اعلم بحال ابراہیم (علیہ السلام) فی باب الدین بل اللہ تعالیٰ اعلم بذلک دین کی بابت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال کو تم بہتر نہیں جانتے بلکہ خداوند تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ماکان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما (3:67) ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بےتعلق ہوکر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے۔ ومن اظلم۔ واؤ عاطفہ۔ من استفہامیہ اظلم اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور کون زیادہ ظالم ہے ۔ ممن۔ من۔ حرف جار اور من اسم موصول سے مرکب ہے کتم شھادۃ۔ کتم فعل بافاعل۔ شھادۃ مفعول ۔ عندہ۔ من اللہ۔ دونوں شھادۃ کی صفت ہیں۔ جو چھپاتا ہی اس شہادت کو جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے۔ کنتم شھادۃ عندہ من اللہ۔ صلہ ہے اپنے موصول کا موصول اپنے صلہ سے مل کر مجرور ہے اپنے جار من کا۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ۔ اور اللہ کی جانب سے شہادت کیا تھی ؟ ابین کثیر فرماتے ہیں کہ خدا کی کتاب جو ان کے پاس آئی تھی۔ اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے اور محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم۔ اسماعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یہودیت و نصرانیت سے الگ تھے۔ لیکن پھر بھی نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو چھپا بھی رکھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ انبیاء نہ یہودی اور نصرانی ہونے کا دعوی کرتے ہو پھر تم ہی بتاؤ زیادہ علم تم کو ہے یا اللہ تعالیٰ کو ؟ 5 یعنی تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ انبیاء یہودی یا نصرانی نہیں تھے بلکہ سب کا دین وہی اسلام تھا جس کی طرف آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دے رہے ہیں۔ مگر بایں ہمہ تم اس شہادت کو چھپا رہے ہو نیز تمہیں اپنی کتابوں کو ذریعہ خوب معلوم ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے سچے اور آخری نبی ہیں جب کے متعلق تمہاری کتابوں میں بشارت تیں موجود ہیں اور یہ بھی جانتے ہو کہ یہ قرآن واقعی اللہ تعالیٰ آخری کتاب ہے مگر تم ان سب شہادتوں کو محض تعصب اور حسد اور نغض کی بنا پر چھپا رہے ہو پھر بتاؤ کہ تم سے بڑھ کر بھی دنیا میں کوئی ظالم ہوسکتا ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ جب یہ حضرات یہود و نصاری نہ تھے تو تم طریقہ دین میں ان کے موافق کب ہوئے پھر تمہارا حق پر ہونا بھی ثابت نہ ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انبیائے کرام فرقہ واریت سے مبرّا حضرات تھے اور ان کو فرقہ واریت میں گھسیٹنا اللہ تعالیٰ کی شہادت کو ٹھکرانے اور چھپانے کے مترادف ہے۔ یہود و نصاریٰ انتہائی ہٹ دھرم لوگ ہیں جو جغرافیائی حقائق ‘ تاریخی شواہد اور الہامی دلائل سننے کے باوجود بھی رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے لے کر آج تک اپنی ضد پر قائم اور جھوٹا دعو ٰی کیے جا رہے ہیں کہ ہدایت کا راستہ یہودی اور عیسائی ہونے میں ہے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کو یہودی اور عیسائی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جارہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ ان پیغمبروں کے متعلق اور ان کے عقائد کے بارے میں تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ علیم وخبیر اور علّام الغیوب زیادہ جانتا ہے ؟ یہ اللہ کی وہ شہادت ہے جس پر تورات ‘ انجیل اور قرآن گواہی دے رہے ہیں۔ وہ شخص انتہا درجے کا ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم شہادت کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے جو ہر اعتبار سے کامل اور اکمل ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی قول و فعل سے غافل وبے خبر نہیں ہے۔ جن ہستیوں کو تم اپنے کھاتہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ایک برگزیدہ جماعت تھی جو گزر چکی۔ ان کے اعمال کا صلہ انہی کے لیے ہے اور تمہارے اعمال کا نتیجہ تمہارے سامنے ہوگا۔ تمہیں ان کے اعمال کی بجائے اپنے اعمال کی فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ تمہیں ہرگز ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ایسا اصول ہے جس سے ہر انسان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے ساتھ ان تمام سہاروں کو کاٹ دیتا ہے جن سے افراد اور قوموں میں بد عملی پیدا ہوا کرتی ہے۔ ( مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَہُودِیًّا وَلَا نَصْرَانِیًّا وَلَکِنْ کَانَ حَنِیفًا مُسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ) [ آل عمران : ٦٧] ” ابراہیم یہودی اور عیسائی نہ تھے۔ لیکن وہ توحید پرست مسلمان تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ “ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی شہادت کو چھپانا بڑا گناہ اور ظلم ہے۔ ٣۔ فوت شدگان کے بارے میں ہمیں اور ہمارے بارے میں انہیں نہیں پوچھا جائے گا۔ ٤۔ ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہوگا۔ تفسیر بالقرآن بڑا ظالم کون ؟ ١۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا۔ (البقرۃ : ١١٤) ٢۔ اللہ کی گواہی کو چھپانے والا۔ (البقرۃ : ١٤٠) ٣۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا۔ (الانعام : ١٢) ٤۔ نبوت کا دعو ٰی کرنے والا۔ (الانعام : ٩٣) ٥۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا۔ (الاعراف : ٣٧) ٦۔ اللہ کی آیات سن کر اعراض کرنے والا۔ (الکہف : ٥٧) ٧۔ حق بات کو جھٹلانے والا۔ (العنکبوت : ٦٨) ٨۔ سچ بات کو جھٹلانے والا۔ (الزمر : ٣٢) ٩۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم : ٥٢) ١٠۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مانگنے والا۔ (یونس : ١٠٦) ١١۔ قرآن کی نصیحت سے منہ موڑنے والا۔ (الکہف : ٥٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اس ناقابل نزاع موقف سے روئے سخن ایک دوسرے موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ، جس میں اختلاف موجود تھا ، لیکن بتایا جاتا ہے کہ اس میں جو بھی اختلاف کیا گیا وہ بھی غیر ضروری اور غیر معقول اختلاف ہے ۔ فرماتے ہیں أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى یا پھر تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی یا نصرانی تھے ؟ “ یہ لوگ تو حضرت موسیٰ سے بھی پہلے گزرے ہیں اور یہودیت اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ اور ان کے دین کی حقیقت اللہ نے بیان بھی کردی ہے ۔ اور اس کی گواہی دے دی ہے کہ ان کا دین اسلام تھا۔ جس طرح اوپر تفصیل سے بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ” کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ “ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف پر صرف ایک سوال کردیا ہے ۔ اس لئے کہ ان کا موقف بادی النظر میں غلط تھا ۔ جواب دینے کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ صرف سوالیہ نظروں سے تنبیہہ کردی گئی ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے کہا جاتا ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ حضرات یہودیت اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہ اس ابتدائی دین کے حامل تھے جسے حنیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ کہ تمہاری کتابوں میں ، تمہارے پاس یہ شہادت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب نبی آخرالزمان کو الٰہی دین حنیف کے ساتھ بھیجنے والے ہیں ۔ جو دین ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہے لیکن تم اس شہادت کو چھپا رہے ہو ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ ” اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کے ذمے اللہ کی طرف سے گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے۔ “ اور اللہ کو اس بات کی اچھی طرح خبر ہے کہ جس شہادت کو تمہارے پاس بطور امامت ودیعت کیا گیا تھا ، اسے تم چھپا رہے ہو ۔ اور اس کے برعکس تم اسے چھپانے کے لئے بحث وجدال اور تلبیس بھی کررہے ہو ۔ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” اور اللہ اس بات سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہود و نصاری کے اس قول کی تردید کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب یہودی یا نصرانی تھے یہودی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد جن کو اللہ نے نبوت سے سر فراز فرمایا یہودی تھے۔ اور نصاری کہتے تھے کہ یہ حضرات نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان لوگوں کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ یہ حضرات ملت ابراہیمی پر تھے یہودیت اور نصرانیت اور توریت اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئی ہیں جن سے تم اپنا جوڑ لگاتے ہو پھر ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے اور پوتے یہودیت اور نصرانیت اور توریت پر کیسے ہوسکتے ہیں تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ تعالیٰ کو زیادہ علم ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا عالم ہے اسی کو صحیح علم ہے تم جہاں حضرت ابراہیم اور اسمٰعیل، اسحاق اور یعقوب اور ان کے اسباط کے بارے میں غلط بات کہتے ہو اور ان کو یہودیت اور نصرانیت پر بتلاتے ہو وہاں اس شہادت اور گواہی کو بھی چھپاتے ہو جو اللہ کی طرف سے تمہارے پاس پہنچی۔ اور وہ شہادت یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے موحد تھے مشرک نہیں تھے یہودی اور نصرانی نہیں تھے۔ سورۃ آل عمران میں فرمایا : (یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ مَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰیۃُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ بَعْدِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْن ھٰٓاَنْتُمْ ھآؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) ” اے اہل کتاب کیوں حجت کرتے ہو ابراہیم کے بارے میں حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر ان کے بعد، کیا پھر سمجھتے نہیں ہو۔ ہاں تم ایسے ہو کہ ایسی بات میں تو حجت کر ہی چکے تھے جس سے تم کو کسی قدر تو واقفیت تھی سو ایسی باتوں میں کیوں حجت کرتے ہو جس سے تم کو اصلاً واقفیت نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے لیکن طریق مستقیم والے صاحب اسلام تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ “ آیت شریفہ کے عموم میں جہاں اس شہادت کے چھپانے کو بڑا ظلم بتایا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں تھی وہاں یہودیوں کی اس بدباطنی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس گواہی کو چھپا رکھا تھا جو تورات اور انجیل میں حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور نبوت و رسالت کے بارے میں موجود تھی۔ قال فی الروح ص ٤٠٠ ج ١ و فی اطلاق الشھادۃ مع ان المراد بھا ما تقدم من الشھادۃ المعینۃ تعریض بکتما نھم شھادۃ اللہ تعالیٰ لنبیہ محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

265 جب یہود ونصاریٰ کو ہر طرح کے دلائل سے لاجواب کردیا گیا اور کہا گیا کہ اگر توحید معیارِ صداقت ہے تو ہم موحد ہیں۔ اور اگر اتباع معیار حق ہے تو ہم تمام انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے پیغام توحید کو مانتے ہیں۔ مگر جب ان سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو انہوں نے یہ غلط پروپیگنڈا شروع کردیا۔ کہ پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) تو ان کے مذہب پر تھے۔ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ سب یہودی تھے اور نصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ وہ سب نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے بطور زجر فرمایا کہ کیا اب تم یہ کہتے ہو کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) تمہارے مذہب پر تھے اور تمہاری طرح عیاذاً باللہ مشرک تھے۔ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ۔ جواب شکوہ۔ کیا ان انبیاء کے دین اور مذہب کو تم خدا سے زیادہ جانتے ہو، ظاہر ہے کہ اللہ کا علم تم سے زیادہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے پہلے واضح طور پر بیان فرمادیا ہے کہ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین اسلام تھا اور وہ سب کے سب توحید پر قائم تھے۔ اور مشرک نہیں تھے۔ 266 یہ اہل کتاب کے لیے زجر ہے اور شکوہ کا جواب بھی ہے۔ استفہام انکار کے لیے ہے اور شہادت سے اللہ تعالیٰ کی وہ شہادت مراد ہے جو تورات اور انجیل میں موجود ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) توحید پر تھے اور مذاہب باطلہ سے کوسوں دور تھے۔ شہادۃ التوراۃ والانجیل علی الانبیاء کانوا علی التوحید والحنیفیۃ (کبیر ص 754 ج 1) یعنی سب سے بڑا ظالم وہ ہے جس نے اللہ کی اس شہادت کو چھپایا جو اس کے پاس موجود ہے جیسا کہ یہود اور نصاری نے کیا۔ ان کے پاس تورات وانجیل میں انبیائے کرام کے توحید پرست ہونے کی شہادت موجود تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے ان کو یہودی اور نصرانی ظاہر کیا۔267 یہ ان کے لیے وعید شدید ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں، انبیائے کرام پر تمہارے غلط افتراء ات اور خدا کی شہادت کا کتمان اور تمہارے دوسرے اعمال سب اس کی نظر میں ہیں وہ تمہیں اس کی پوری پوری سزا دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے نبی آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کیا تم لوگ ہم سے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کج بحثی اور کٹ حجتی کئے جاتے ہو حالانکہ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمارا بھی پروردگار ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہم نے تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے اعمال کو اور اپنے دین کو خالص کر رکھا ہے کیا تم اب یہی کہے جاتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہ سب لوگ یہودی یا نصرانی تھے آپ ان سے فرماتے اچھا یہ تو بتائو تم زیادہ ان لوگوں کے دین سے واقف ہو یا اللہ تعالیٰ حالانکہ تم جانتے ہو مگر جان بوجھ کر چھپاتے ہو اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوسکتا ہے جو ایسی شہادت کو چھپائے اور گواہی کا اخفا کرے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کو پہنچی ہو اور وہ شہادت اس کے پاس موجود ہو اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل اور بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔ (تیسیر) محاجہ اس مناظرے کو کہتے ہیں جو محض مکابرہ اور مجادلہ ہو تحقیق حق کی غرض سے نہ کیا جائے سبط اس درخت کو کہتے ہیں جس کی بہت سی ٹہنیاں اور شاخیں ہوں۔ یہاں اسباط سے مراد کسی شخص کی اولاد اور اولاد کی اولاد ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو قبیلہ کہا جاتا ہے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد کو اسباط کہاجاتا ہے بہرحال ایک شخص کی اولاد جو پھیل جائے اسکو قبیلہ اور سبط کہتے ہیں یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بارہ بیٹوں کی اولادیں مراد ہیں ہر بیٹے کی اولاد ایک سبط ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں جو حضرات نبی ہوئے ان سب کو یہ لوگ یہودی اور نصرانی کہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ بلاوجہ کا جھگڑا کیے چلے جاتے ہو کہ ہم جنت میں جائیں گے اور محمدی مسلمان نہیں بخشے جائیں گے حالانکہ یہ بحث کی کونسی بات ہے اللہ تعالیٰ تمہارا بھی رب ہے اور ہمارا بھی رب ہے ہر ایک کے اعمال بھی اپنے اپنے لئے ہیں نہ ربوبیت میں کوئی تخصیص ہے نہ اعمال میں پھر اس قسم کی کٹ حجتی سے کیا فائدہ ؟ اور خدا کا شکر ہے ہم نے اپنے آپ کو شرک کی آمیزش سے بچا کر اللہ کے لئے خاص کر رکھا ہے نہ ہم کسی کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں نہ ہم نے کسی انسان کو اللہ کے علاوہ اپنا رب بنا رکھا ہے جو کام کرتے ہیں حضرت حق کی خوشنودی کے لئے کرتے ہیں کیونکہ اخلاص اور مخلصین لہ الدین کے معنی ہی یہ ہیں پھر نہ بخشے جانے کا مطلب کیا ہے اور یہ بھی ان کے مکابرے اور محاورے کا جواب ہے اپنے اخلاص کا دعویٰ نہیں ہے شھادۃ عندہ من اللہ مطلب یہ ہے کہ ان کو خود بھی معلوم ہے کہ کوئی نبی یہودی اور نصرانی نہیں تھا بلکہ سب ملت اسلامیہ کے پابند تھے اور سب کا مذہب اسلام تھا جو اصل پیغمبروں کا مذہب ہے لیکن یہ جان بوجھ کر اپنی کتاب کو ایک قسم کی آسمانی شہادت ہے چھپا دیتے ہیں آگے پھر مکرر تاکید کیطورپر فرماتے ہیں کہ جو بزرگ گزر چکے ان کو اپنی اغراض مشئومہ کے لئے مت استعمال کرو اور گذشتہ لوگوں پر غلط الزام لگانے سے بچو چناچہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)