Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 153

سورة البقرة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾

O you who have believed, seek help through patience and prayer. Indeed, Allah is with the patient.

اے ایمان والو !صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو ، اللہ تعالٰی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Virtue of Patience and Prayer Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ O you who believe! Seek help in patience and As-Salah(the prayer). Truly, Allah is with As-Sabirin (the patient). After Allah commanded that He be appreciated, He ordained patience and prayer. It is a fact that the servant is either enjoying a bounty that he should be thankful for, or suffering a calamity that he should meet with patience. A Hadith states: عَجَبًا لِلْمُوْمِنِ لاَ يَقْضِي اللهُ لَهُ قَضَاءً إلاَّ كَانَ خَيْرًا لَهُ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ كَانَ خَيْرًا لَهُ وإنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ كَانَ خَيْرًا لَه Amazing is the believer, for whatever Allah decrees for him, it is better for him! If he is tested with a bounty, he is grateful for it and this is better for him; and if he is afflicted with a hardship, he is patient with it and this is better for him. Allah has stated that the best tools to help ease the effects of the afflictions are patience and prayer. Earlier we mentioned Allah's statement: وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَـشِعِينَ And seek help in patience and As-Salah (the prayer) and truly, it is extremely heavy and hard except for Al-Khashi`in (i.e., the true believers in Allah). (2:45) There are several types of Sabr ـ patience: one for avoiding the prohibitions and sins, one for acts of worship and obedience. The second type carries more rewards than the first type. There is a third type of patience required in the face of the afflictions and hardships, which is mandatory, like repentance. Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Sabr has two parts: patience for the sake of Allah concerning what He is pleased with (i.e., acts of worship and obedience), even if it is hard on the heart and the body, and patience when avoiding what He dislikes, even if it is desired. Those who acquire these qualities will be among the patient persons whom Allah shall greet (when they meet Him in the Hereafter; refer to Surah Al-Ahzab (33:44), Allah willing." The Life enjoyed by Martyrs Allah's statement:

موسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی ، شرابی ، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے؟ فرمایا ہاں برائی سے ، حسن بصری فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی میرے ضروری احکام بجا لاؤ میں تمہیں یاد کروں گا یعنی اپنی نعمتیں عطا فرماؤں گا سعید بن جیر فرماتے ہیں میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کروں گا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ کا یاد کرنا بہت بڑی چیز ہے ایک قدسی حدیث میں ہے جو تجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں ۔ مسند احمد میں ہے کہ وہ جماعت فرشتوں کی ہے جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہوں اور اگر تو اے بنی آدم میری طرف ایک ہاتھ بڑھائے گا میں تیری طرف دو ہاتھ بڑھاؤں گا اور اگر تو میری طرف چلتا ہوا آئے گا تو میں تیری طرف دوڑتا ہوا آؤں گا صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث ہے حضرت قتادہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سے بھی زیادہ قریب ہے پھر فرمایا میرا شکر کرو ناشکری نہ کرو اور جگہ ہے آیت ( لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ ) 14 ۔ ابراہیم:7 ) یعنی تیرے رب کی طرف سے عام آگہی ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں برکت دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھنا میرا عذاب سخت ہے ، مسند احمد میں ہے کہ عمربن حصین ایک مرتبہ نہایت قیمتی حلہ پہنے ہوئے آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی پر انعام کرتا ہے تو اس کا اثر اس پر دیکھنا چاہتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

153۔ 1 انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں آرام اور راحت (نعمت) یا تکلیف و پریشانی۔ نعمت میں شکر الہی کی تلقین اور تکلیف میں صبر اور اللہ سے مدد کی تاکید ہے۔ حدیث میں ہے ـ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اسے خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں ہی حالتیں اس کے لئے خیر ہیں۔ (صحیح مسلم) صبر کی دو قسمیں ہیں، برے کام کے ترک اور اس سے بچنے پر صبر اور لذتوں کے قربان اور عارضی فائدوں کے نقصان پر صبر۔ دوسرا احکام الٰہی کے بجا لانے میں جو مشکلیں اور تکلیفیں آئیں، انہیں صبر اور ضبط سے برداشت کرنا۔ بعض لوگوں نے اس کو اس طرح تعبیر کیا ہے۔ اللہ کی پسندیدہ باتوں پر عمل کرنا چاہے وہ نفس اور بدن پر کتنی ہی گراں ہوں اور اللہ کی ناپسندیدگی سے بچنا چاہیے اگرچہ خواہشات و لذات اس کو اس کی طرف کتنا ہی کھنچیں۔ (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٢] مشکل اور آڑے وقت میں صبر اور نماز سے مدد لینے کا حکم پہلے اسی سورة کی آیت نمبر ٤٥ میں بھی گزر چکا ہے۔ اس مقام پر اس کی مناسبت یہ ہے۔ تحویل قبلہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو جس امامت کے لیے تیار کرنا مقصود ہے تو اس کی راہ میں بیشمار مشکلات اور مصائب پیش آنے والے ہیں۔ لہذا اے مسلمانو ! ایسے اوقات میں صبر اور نماز سے کام لو۔ صبر سے انسان بہت سی مشکلات پر قابو پا لیتا ہے اور نماز ان حالات میں نفس انسانی کو اطمینان بخشتی ہے۔ بندہ کا اللہ پر توکل بڑھتا ہے اور یہی توکل مشکلات میں ثابت قدم رہنے کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہوتا ہے۔ [ ١٩٣] صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعانت اور توفیق نصیب ہوتی رہتی ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ بات ہر انسان کو اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر بھی معلوم ہوسکتی اور ہوتی رہتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذکر و شکر کے ساتھ صبر اور نماز کی تعلیم دی ہے۔ احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں صبر اور نماز پر ہمیشگی ان مشکلات کا مقابلہ کرنے میں معاون ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا سارا کام ہی خیر ہے اور یہ چیز کسی اور کو حاصل نہیں۔ (خیر اس طرح کہ) اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔ “ [ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : ٢٩٩٩، عن صہیب (رض) ] اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے تذکرہ کے بعد (جن میں بیت اللہ کو قبلہ قرار دے کر اپنی نعمت تمام کرنا اور اپنے آخری رسول کو بھیجنا شامل ہے) اپنے ذکر و شکر کا حکم دیا اور اس آیت میں مصیبتوں کے آنے پر صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (٤٥) اگرچہ اس میں ایمان والوں پر آنے والی ہر مصیبت کا علاج بتایا گیا ہے، مگر آیات کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کرنے کی تمہید ہے، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی رجب یا شعبان ٢ ہجری میں ہوئی اور غزوۂ بدر رمضان ٢ ہجری میں ہوا۔ دونوں کے درمیان تقریباً دو ماہ کا وقفہ ہے۔ (اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ) اس سے معیت خاصہ (خصوصی ساتھ) مراد ہے اور جسے اللہ کا ساتھ مل جائے اسے کیا غم ہے ؟ جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ ) [ التوبۃ : ٤٠ ] ” غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ [ بخاری، المناقب، باب علامات النبوۃ فی الإسلام : ٣٦١٥ ] مقصد یہ ہے کہ صبر کرو، تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا ساتھ نصیب ہوجائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

As we have already seen, the enemies of Islam have been objecting to the change in the ‘orientation of Qiblah قبلہ ، wishing to produce in the minds of the people doubts about the validity of Islam as a religion. The earlier verses have, in answering these objections, removed all such misgivings. But some of the enemies simply ignored the answers, and still persisted in their hostility. This situation was likely to dishearten the Muslims. So, the present verse nullifies such a re-action on the part of the Muslims by prescribing the method of overcoming one&s grief or anxiety. The patience and the Salah نماز : And the method consists in turning to patience and prayers; for Allah assures us here that He is with those who are patient. This promise applies, above all, to those who offer prayers, whether fard فرض (obligatory) or nafl (supererogatory), for prayers are the supreme form of worship. In explaining the context, we have mentioned a specific situation, but the verse, in fact, identifies the elixir for all the ills which are a necessary part of human existence, whether they be wants and needs, or anxiety and suffering. The Holy Qur&an itself has indicated; in a very subtle and eloquent way, the general efficacy of this remedy by employing a generalizing expression - |"seek help|" - without specifying the situation in which help is to be sought. (Mazhari) Now, the two ingredients of this remedy are patience and prayers. The Arabic term Sabr (صبر) is much more comprehensive than its usual English equivalent, |"patience|". Lexically, the word |"Sabr|" signifies |"restraining oneself, or keeping oneself under control.|" In the terminology of the Holy Qur&an and the Hadith, Sabr صبر has three modes: (1) Restraining oneself from what the Shari&ah has declared to be illegal or impermissible (Haram حرام). (2) Forcing oneself to be regular in the observance of the different forms of worship and to be steadfast in obeying the commandments of Allah and the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . (3) To endure all kinds of trouble and pain - in other words, to understand clearly and to believe that it is the will of Allah to make one suffer, and to hope that one shall receive a reward for this suffering. With regard to this last point, let us add that, on the authority of the commentator Said Ibn Jubayr, Ibn Kathir says that if one cannot help uttering a word of grief or a sigh of pain, it does not go against Sabr صبر ، or nullify it. People generally identify Sabr صبر with the third mode alone, and ignore the first two which are, indeed, more basic and essential. We cannot insist too much on the fact that all the three are equally obligatory, and that every Muslim is required to practice all the three forms of Sabr صبر . In the terminology of Holy Qur&an and the Hadith, Al-Sabirun is the title of those who are steadfast in observing all the three forms with equal rigour. According to the Hadith, people will hear a call on the Day of Judgment, |"Where are the Sabirun صابرون ?|"; at this, those who had been constant in observing the three forms of Sabr صبر will stand up, and they will be allowed to enter Paradise without having to present the account of their deeds. In citing this hadith, Ibn Kathir points out that it is corroborated by the Holy Qur&an itself: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُ‌ونَ أَجْرَ‌هُم بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ : |"The Sabirun صابرون shall certainly receive their full reward without reckoning.|" (39:10) As for the second ingredient of the prescription, it is Salah نماز (Prayer). Although Sabr صبر ، as we have just explained it, covers the different forms of worship, including prayers, all of them being its branches. Salah نماز ، however, has been mentioned separately, because that is the most perfect model of Sabr صبر . For, in the state of Salah نماز ; one binds oneself to obedience and worship, and restrains oneself not only from all that is sinful or reprehensible but even from what is otherwise permissible - e.g., from eating or drinking or talking. Hence, Salah نماز is a visible demonstration of Sabr صبر which signifies keeping oneself under control in shunning everything sinful and in submitting oneself totally to obedience. A remedy to all problems Moreover, Salah نماز does possess a special efficacy in releasing man from all kinds of trouble and pain, and in fulfilling all his needs. We may not be able to explain it rationally, but the efficacy is present as a characteristic quality in the very nature of prayers - as happens in the case of certain medicines too. But the efficacy shows itself only when prayers are offered in the proper way and according to the physical and spiritual etiquette laid down by the Shari` ah. If our prayers seem to be fruitless, it is because we have been deficient in observing this etiquette, and have not turned to Allah in single-minded devotion and total submission. Let us not forget that, according to the Hadith, whenever the Holy Prophet $ was faced with a grave problem of any kind, he always hastened to offer nail prayers, and through the barakah بر کہ (benediction) of the prayers Allah came to his aid and resolved the problem satisfactorily. As to how Sabr صبر can save man from all kinds of trouble and pain and resolve all his difficulties, the secret has been revealed in the last phrase of this verse - |"Surely, Allah is with those who are patient.|" That is to say, as a reward for Sabr صبر man receives the honour of the |"company|" of Allah. And it goes without saying that when the might of the Lord of the Worlds Himself has come to the aid of a man, what pain or trouble can overcome him, and who can prevent his concerns from prospering?

ربط : تحویل قبلہ میں جو مخالفین کی طرف سے اعتراض تھا اس کے دو اثر تھے ایک مذہب اسلام پر کہ اعتراض سے مذہب کی حقانیت میں شبہ پیدا کیا جایا کرتا ہے، اوپر کی آیتوں میں اس اعتراض کا جواب دے کر اس کا اثر کا دفع کرنا مقصود تھا دوسرا اثر طبائع اہل اسلام پر کہ اعتراض سے بالخصوص جواب دینے کے بعد بھی اس پر بےجا اصرار کرنے سے قلب میں رنج اور صدمہ پیدا ہوتا ہے آیت آئندہ میں تخفیف حزن کا طریقہ کہ صبر وصلوۃ ہے بتلا کر اس دوسرے اثر کو زائل فرماتے ہیں، خلاصہ تفسیر : اے ایمان والو ! (طبیعتوں میں غم ہلکا کرنے کے بارے میں) صبر اور نماز سے سہارا (اور مدد) حاصل کرو بلاشبہ حق تعالیٰ (ہر طرح سے) صبر کرنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں (اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ تو بدرجہ اولیٰ وجہ یہ کہ نماز سب سے بڑی عبادت ہے جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جو اس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولیٰ یہ بشارت ہوگی) معارف و مسائل : اِسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ اس آیت میں یہ ہدایت ہے کہ انسان کی تمام حوائج و ضروریات کے پورا کرنے اور تمام آفات و مصائب اور تکالیف کو دور کرنے کا نسخہ اکسیر دو جزء سے مرکب ہے ایک صبر دوسرے نماز اور اس نسخہ کے تمام حوائج اور تمام مصائب کے لئے عام ہونے کی طرف قرآن عظیم نے اس طرح سے اشارہ کردیا ہے کہ اِسْتَعِيْنُوْا کو عام چھوڑا ہے کوئی خاص چیز ذکر نہیں فرمائی کہ فلاں کام میں ان دونوں چیزوں سے مدد حاصل کرو، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے انسان کی ہر ضرورت میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے تفسیر مظہری میں اس عموم کو واضح کردیا ہے اب اس دو جزئی نسخے کے دونوں اجزاء کو سمجھ لیجئے، صبر کی اصل حقیقت : صبر کے اصلی معنی اپنے نفس کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے ہیں قرآن وسنت کی اصطلاح میں صبر کے تین شعبے ہیں ایک اپنے نفس کو حرام و ناجائز چیزوں سے روکنا۔ دوسرے طاعات و عبادات کی پابندی پر مجبور کرنا تیسرے مصائب وآفات پر صبر کرنا یعنی جو مصیبت آگئی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھنا اور اس کے ثواب کا امیدوار ہونا اس کے ساتھ اگر تکلیف و پریشانی کے اظہار کا کوئی کلمہ بھی منہ سے نکل جائے تو وہ صبر کے منافی نہیں (ذکرہ ابن کثیر عن سعید بن جبیر) یہ تینوں شعبے صبر کے فرائض میں داخل ہیں ہر مسلمان پر یہ پابندی عائد ہے کہ تینوں طرح کے صبر کا پابند ہو عوام کے نزدیک صرف تیسرے شعبے کو تو صبر کہا جاتا ہے دو شعبے جو صبر کی اصل اور بنیاد ہیں عام طور پر ان کو صبر میں داخل ہی نہیں سمجھا جاتا، قرآن و حدیث کی اصطلاح میں صابرین انھیں لوگوں کا لقب ہے جو تینوں طرح کے صبر میں ثابت قدم ہوں بعض روایات میں ہے کہ محشر میں نداء کی جائے گی کہ صابرین کہاں ہیں ؟ تو وہ لوگ جو تینوں طرح کے صبر پر قائم رہ کر زندگی سے گذرے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں گے اور ان کو بلاحساب جنت میں داخلہ کی اجازت دے دیجائے گی ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ آیت قرآن اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (١٠: ٣٩) سے بھی اس طرف اشارہ ہوتا ہے ، نماز، دوسرا جزء اس نسخہ کا جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور تمام پریشانیوں اور آفتوں سے نجات دلانے میں اکسیر ہے نماز ہے صبر کی جو تفسیر ابھی لکھی گئی ہے اس سے معلوم ہوگیا ہے کہ درحقیقت نماز اور تمام عبادات صبر ہی کے جزئیات ہیں مگر نماز کو جداگانہ بیان اس لئے کردیا کہ تمام عبادات میں سے نماز ایک ایسی عبادت ہے جو صبر کا مکمل نمونہ ہے کیونکہ نماز کی حالت میں نفس کو عبادت وطاعت پر محبوس بھی کیا جاتا ہے اور تمام معاصی ومکروہات سے بلکہ بہت سے مباحات سے بھی نفس کو بحالت نماز روکا جاتا ہے اس لئے صبر جس کے معنی نفس کو اپنے قابو میں رکھ کر تمام طاعات کا پیرو اور تمام معاصی سے مجتنب و بیزار بنانا ہے نماز اس کی ایک عملی تمثیل ہے، اس کے علاوہ نماز کو انسان کی تمام حاجات کے پورا کرنے اور تمام آفتوں مصیبتوں سے نجات دلانے میں ایک خاص تاثیر بھی ہے گو اس کی وجہ اور سبب معلوم نہ ہو جیسے دواؤں میں بہت سی ادویات کو مؤ ثر بالخاصہ تسلیم کیا جاتا ہے، یعنی کیفیات حرارت وبرودت کے حساب سے جیسے کسی خاص مرض کے ازالہ کے لئے بعض دوائیں بالخاصہ مؤ ثر ہوتی ہیں جیسے درد گردہ کے لئے فرنگی دانہ کو ہاتھ یا منہ میں رکھنا اور بہت سے امراض کے لئے عود صلیب وغیرہ کو گلے میں ڈالنا مؤ ثر بالخاصہ ہے سبب نامعلوم ہے لوہے کو کھنچنے میں مقناطیس مؤ ثر بالخاصہ ہے وجہ معلوم نہیں اسی طرح نماز تمام انسانی ضروریات کی کفالت اور تمام مصائب سے نجات دلانے میں مؤ ثر باالخاصہ ہے بشرطیکہ نماز کو نماز کی طرح آداب اور خشوع خضوع کے ساتھ پڑھا جائے ہماری جو نمازیں غیر مؤ ثر نظر آتی ہیں اس کا سبب ہمارا قصور ہے کہ نماز کے آداب اور خشوع و خضوع میں کوتاہی ہوتی ہے ورنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کوئی مہم پیش آتی تو نماز کی طرف رجوع فرماتے تھے اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس مہم کو پورا فرما دیتے تھے حدیث میں ہے، اذاحزبہ امر فزع الی الصلوٰۃ۔ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی ضرورت پیش آتی تو نماز کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے۔ صبر اور نماز تمام مشکلات و مصائب سے نجات کا سبب اس لئے ہے کہ صبر سے اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے : اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ اس کلمہ میں اس کا راز بتلا دیا گیا ہے کہ صبر حل مشکلات اور دفع مصائب کا سبب کیسے بنتا ہے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ صبر کے نتیجہ میں انسان کو حق تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کے ساتھ رب العزت کی طاقت ہو اس کا کونسا کام رک سکتا ہے اور کونسی مصیبت اس کو عاجز کرسکتی ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۝ ١٥٣ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ استِعَانَةُ : طلب العَوْنِ. قال : اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] الا ستعانہ مدد طلب کرنا قرآن میں ہے : ۔ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] صبر اور نماز سے مدد لیا کرو ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : یایھا الذین اٰمنو استعینوا بالصبروالصلاۃ ( ایے ایمان لانے والو، صبر اور نماز سے کام لو) اللہ سبحانہ نے اس آیت کا ذکر اپنے قول : فاذکرونی اذکرکم کے بعد فرمایا، جو اس امرپر دلالت کرتا ہے کہ صبر کرنا، نیز نماز پڑھنا اللہ کے ذکر کی ( جو اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین ، نیز اس کی قدرت و عظمت پر غور و فکر کا دوسرا نام ہے) انسانی عقول کے نزدیک ایک لطیف صورت ہے۔ یہ قول باری اس قول باری کی طرح ہے ان الصلوۃ تنھی علی الفحشاء والمنکر ( بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) اس کے بعد فرمایا : ولذکر اللہ اکبر۔ ( اور اللہ کا ذکر بڑھ کر ہے) یعنی اپنے دلوں کے اندر اللہ کو یاد کرنا، دوسرے الفاظ میں کائنات کے اندر اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل پر غور و فکر کرنا نماز پڑھنے سے بڑھ کر ہے کیونکہ نماز اس ذکر کو قائم و دائم رکھنے میں صرف مدد دیتی اور اس کی راہ ہموار کرتی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٣) یعنی فرائض خداوندی کی ادائیگی اور گناہوں کے چھوڑنے اور رات دن نفلیں ادا کرنے اور گناہوں کے ختم کرنے پر ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ مددگار اور حفاظت کرنے والا ہے اور صبر کرنے والوں کی مدد کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع سے اب امت مسلمہ سے براہ راست خطاب ہے۔ اس سے قبل اس امت کی غرض تأسیس بایں الفاظ بیان کی جا چکی ہے : (لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ط) (آیت ١٤٣) ” تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہی دینے والا بنے “۔ گویا اب تم ہمیشہ ہمیش کے لیے ٌ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور نوع انسانی کے درمیان واسطہ ہو۔ ایک حدیث میں علماء حق کے بارے میں فرمایا گیا ہے : (اِنَّ الْعُلَمَاءَ ھُمْ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِ ) (١٧) ” یقیناً علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں “۔ اس لیے کہ اب نبوت تو ختم ہوگئی خاتم المرسلینٌ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ پر ‘ لیکن یہ آخری کتاب قیامت تک رہے گی ‘ اس کو پہنچانا ہے ‘ اس کو عام کرنا ہے ‘ اور صرف تبلیغ سے نہیں عمل کر کے دکھانا ہے۔ وہ نظام عملاً قائم کر کے دکھانا ہے جو محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قائم کیا تھا ‘ تب حجت قائم ہوگی۔ اس کے لیے تمہیں قربانیاں دینی ہوں گی ‘ مشکلات جھیلنی ہوں گی ‘ جان و مال کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ آرام سے گھر بیٹھے ‘ ٹھنڈے پیٹوں حق نہیں آجائے گا ‘ کفر اس طرح جگہ نہیں چھوڑے گا۔ کفر کو ہٹانے کے لیے ‘ باطل کو ختم کرنے کے لیے اور حق کو قائم کرنے کے لیے تمہیں تن من دھن لگانے ہوں گے۔ چناچہ اب پکار آرہی ہے : آیت ١٥٣ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط) پانچویں رکوع کی سات آیات کو میں نے بنی اسرائیل سے خطاب کے ضمن میں بمنزلۂ فاتحہ قرار دیا تھا۔ وہاں پر یہ الفاظ آئے تھے : (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ الاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) ” اور مدد چاہو صبر اور نماز سے ‘ اور یقیناً یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں ‘ جو گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اب یہی بات اہل ایمان سے کہی جا رہی ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ) ” اللہ تعالیٰ کی معیتّ سے کیا مراد ہے ! ایک بات تو متفق علیہ ہے کہ اللہ کی مدد ‘ اللہ کی تائید ‘ اللہ کی نصرت ان کے شامل حال ہے۔ باقی یہ کہ جہاں کہیں بھی ہم ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے ‘ لیکن خود اس کا فرمان ہے کہ ” ہم تو انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ (قٓ: ١٦)

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

153. Since the ummah has been invested with world leadership, a set of necessary directives is now provided for its guidance. Before laying down these directives it seemed necessary to caution the Muslims that the office which had been conferred on them was indeed no bed of roses. On the contrary, it was a great and perilous responsibility. Once they undertook it, they would be subjected to all kinds of afflictions, put to all kinds of trials and tribulations and made to bear all kinds of deprivation. If, however, the Muslims persisted along the path of God despite the perils they would be rewarded with God's favour in full measure. 154. To acquire the strength that is needed to bear this heavy burden of responsibility the believers should do two things: they should develop patience and they should strengthen themselves by devoting themselves to Prayer. Later we shall encounter elaborations which will show that 'patience' is a word embracing a whole set of moral virtues of the utmost importance. 'Patience' is indeed an indispensable key to success. Likewise, we shall later have occasion to note in some detail how Prayer prepares the Muslims, both as individuals and as a collective body, to carry out their mission.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :153 منصب امامت پر مامور کرنے کے بعداب اس اُمّت کو ضروری ہدایات دی جارہی ہیں ۔ مگر تمام دُوسری باتوں سے پہلے انہیں جس پات پر متنبہ کیا جا رہا ہے ، وہ یہ ہے کہ یہ کوئی پھُولوں کا بستر نہیں ہے ، جس پر آپ حضرات لِٹائے جارہے ہوں ۔ یہ تو ایک عظیم الشّان اور پُر خطر خدمت ہے ، جس کا بار اُٹھانے کے ساتھ ہی تم پر ہر قسم کے مصائب کی بارش ہوگی ، سخت آزمائشوں میں ڈالے جاؤ گے ، طرح طرح کے نقصانات اُٹھانے پڑیں گے ۔ اور جب صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے خدا کی راہ میں بڑھے چلے جاؤ گے ، تب تم پر عنایات کی بارش ہوگی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :154 یعنی اس بھاری خدمت کا بوجھ اُٹھانے کے لیےجس طاقت کی ضرورت ہے ، وہ تمہیں دو چیزوں سے حاصل ہوگی ۔ ایک یہ کہ صبر کی صفت اپنے اندر پرورش کرو ۔ دُوسرے یہ کہ نماز کے عمل سے اپنے آپ کو مضبوط کرو ۔ آگے چل کر مختلف مقامات پر اس امر کی تشریحات ملیں گی کہ صبر بہت سے اہم ترین اخلاقی اوصاف کے لیے جامع عنوان ہے ۔ اور حقیقت میں یہ وہ کلیدِ کامیابی ہے ، جس کے بغیر کوئی شخص کسی مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح آگے چل کر نماز کے متعلق بھی تفصیل سے معلوم ہوگا کہ وہ کِس کِس طرح افرادِ مومنین اور جماعتِ مومنین کو اس کارِ عظیم کے لیے تیار کرتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

101: اس سورت کی آیت نمبر ٤٠ سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا وہ پورا ہوگیا اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں، چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہورہا ہے، اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے ؛ کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آرہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی تھیں، جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہورہے تھے یا ہونے والے تھے۔ لہذا اب مسلمانوں کو تلقین کی جارہی ہے کہ دین حق کے راستے میں یہ آزمائشیں تو پیش آنی ہیں، ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر راضی رہ کر صبر کا مظاہرہ کرے، واضح رہے کہ صبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کسی تکلیف یا صدمہ پر روئے نہیں، صدمے کی بات پر رنج کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے شریعت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی، جو رونا بے اختیار آجائے وہ بھی بے صبری میں داخل نہیں، البتہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ صدمے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہ ہو ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر انسان عقلی طور پر راضی رہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر آپریشن کرے توانسان کو تکلیف تو ہوتی ہے اور بعض اوقات اس تکلیف کی وجہ سے انسان بیساختہ چلا بھی اٹھتا ہے ؛ لیکن اسے ڈاکٹر سے شکایت نہیں ہوتی ؛ کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اس کی ہمدردی میں اور اس کی مصلحت کی خاطر کررہا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(153 ۔ 154) ۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان آدمی کو ہر طرح بھلائی پہنچ سکتی ہے اگر وہ نعمت کے وقت شکر اور مصیبت کے وقت صبر کرے ٣۔ پہلی آیت میں شکر نعمت کا ارشاد تھا اور اس آیت میں وصیبت کے وقت صبر کا ارشاد ہے اس لئے کہ انسان کی دو ہی حالتیں ہیں یا وہ صاحب نعمت ہوگا یا صاحب مصیبت ان دونوں حالتوں کے باہمی تعلق کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے صبر کا ذکر شکر نعمت کے بعد فرمایا تاکہ یہ آیت پہلی آیت کا ایک جز قرار پا کر شکر اور صبر کا حکم ایک جگہ ہوجاوے۔ مسند امام احمد (رح) ابو داؤد وغیرہ میں جو معتبر سند سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی رنج و غم کا موقع پیش آتا تھا تو آپ اس رنج و غم کو ٹالنے کے لئے نماز پڑھنے میں مصروف ہوجاتے تھے ٤۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح صبر کرنے سے مصیبت ہلکی ہوجاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نماز میں ایک اثر مصیبت کے ہلکا کردینے کا رکھا ہے اور اسی مناسبت کے سبب سے اپنے کلام پاک میں نماز کو صبر کے ساتھ ذکر فرمایا ہے مصیبت کے وقت صبر کرنے کی فضیلت میں اور صبر کے اجر میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ مصیبت کے وقت صبر کے علاوہ مامور شرعی کے ادا کرنے اور ممنوع شرعی سے بچنے میں بھی خواہش انسانی کو روکنا اور صبر کرنا پڑتا ہے اس لئے صبر ہر عبادت کا گویا ایک جز ہے۔ جہاد میں طرح طرح کی تکلیفات پر آخری درجہ جان دینے کی تکلیف پر صبر درکار ہوتا ہے شہید لوگ اس صبر کے متحمل ہوئے اور خدا کی راہ میں اپنی جان دی اسی تعلق اور مناسبت کے لحاظ سے صبر کی آیت میں شہیدوں کا ذکر فرمایا تاکہ اور لوگ بھی اس قدر صبر کا تحمل اختیار کریں کہ خدا کی راہ میں درجہ شہادت کا حاصل کر کے شہیدوں کے مرتبہ کو پونچیں صحیح بخاری مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت انس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی جنت کی نعمتوں کو چھوڑ کر جنت سے نکلنا اور پھر دنیا میں آنا پسند نہ کرے گا۔ مگر شہیدلوگوں کی یہ تمنا ہوگی کہ اگر وہ دس دفعہ دنیا میں آ کر خدا کی راہ میں شہید ہوں تو بھی ان کی آرزو پوری نہ ہوگی ١۔ شہادت کے سبب سے بڑے بڑے درجہ با رگاہ الٰہی سے جو شہیدوں کو ملیں گے ان کے بڑھانے کی حرص میں شہیدوں کو دوبارہ دنیا میں آنے اور پھر شہید ہونے کی تمنا ہوگی صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اب قیامت سے پہلے ہر ایک شہید کی روح ایک خوبصورت سبز جانور کے پوٹے میں ہے وہ سبز جانور جنت میں سارا دن جہاں چاہتے ہیں طرح طرح کے جنت کے میوے کھاتے پھرتے ہیں اور شام کو عرش کے نیچے ایک قسم کی قندیلیں لٹک رہی ہیں ان میں بسیرا لیتے ہیں ٢۔ چودہ صحابہ بدر کی لڑائی میں جو شہید ہوگئے تھے موافق لوگ اس کا افسوس کرتے تھے اور مخالف لوگ کہتے تھے کہ ان مرنے والوں نے مفت اپنی جانیں کھوئیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ مرنا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کا دینا ہمیشہ کی زندگی کا حاصل کرنا ہے۔ چناچہ شہداء عند اللہ اب بھی زندہ ہیں اچھی غذا پاتے ہیں۔ لیکن تم لوگوں کو ان کی زندگی کا حال معلوم نہیں کیونکہ وہ تم سے جداہو گئے ہیں اور علاوہ حال کے زندگی کے جنت میں بھی پھر اپنے اصلی جسم سے داخل ہو کر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ذکر وشکر کے ساتھ صبر وصلوہ کی تعلیم دی ہے احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب برداشت کرنے پڑتے ہیں صبر صلوہ پر دوام ان مشکلات کا مقابلہ کرنے لیے ہرحال میں بہتری ہے تکلیف کی حالت میں صبر کرتا ہے اور خوشحالی میں شکر گزار رہتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 153 163 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔ نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے : ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں بعض پریشانیاں یا صحت وبیماری وغیرہ اور دوسرے اہل اللہ کے لئے معاشرے کی عمومی مخالفت بھی ایک بہت بڑا بوجھ بنتی ہے کہ معاشرہ ہمیشہ اپنی رسومات اور اپنے اطوار کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور اہل اللہ اسے اس کے بنائے ہوئے غیر موزوں اور نامناسب طریقوں سے ہٹا کر اللہ کی راہ پر لگانا چاہتے ہیں جس سے اس کی انانیت کو ٹھیس لگتی ہے اور وہ مقابلے پر اتر آتا ہے سوائے ان سلیم الفطرت لوگوں کے جن کو اللہ ہدایت سے نوازے اور ظاہر ہے ایسے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ تکالیف انبیاء کرام (علیہ السلام) پر آتی ہیں کہ وہ معاشرے میں فسق وفجور اور شرک وکفر کو مٹا کر اللہ کا دین نافذ کرتے اور راستہ بناتے ہیں۔ بعد والے لوگ نبی کی اقتدا میں بنے ہوئے راستہ پر چلتے ہیں تو نبی کی نسبت انہیں بہت کم تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غالباً اس حدیث پاک کا ، جس کا مفہوم ہے کہ مجھے سب انبیاء سے بھی زیادہ تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ راہ بھی یہی ہے کہ دوسرے انبیاء نے صرف مخصوص قوموں کا سامنا کیا کہ انہی کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سارے عالم کی رسومات کو للکارا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے کے لے کسیو دوسرے سے مخالفت بھی اتنی ہی شدید ہوگی اور تکالیف بھی اسی قدر زیادہ ۔ تو جب تم اللہ کی راہ پر چل نکلے تو اب فرار کسی طرح مناسب نہیں بلکہ جم جائو اور اگر بدکار برائی سے نہیں ہٹتے تو نیکی کا راستہ کیوں چھوڑ دو ۔ ہاں ! یہ کام مشکل ضرور ہے اور اس مشکل کا حل بڑا سہل ہے کہ صبر اور نماز سے مدد لو۔ یہ دکھ کا مداوا ہے۔ صبر کا معنی ہے رک جانا۔ یعنی اللہ کے احکام پر اپنے آپ کو پابند کرنا ، خدا کی نافرمانی سے باز رہنا اور دنیاوی تکالیف پر جزع وفزع سے اجتناب کرنا کہ جس اللہ کی طرف سے حساب احسانات ہیں اگر کوئی معمولی تکلیف آبھی جائے تو شکر ہی مناسب ہے اور یہ مقام اس باطنی تعلق کی وجہ سے حاصل ہوگا جو بندے کو اللہ کریم سے حاصل ہے اور جس کی بنیاد اللہ کی عبادت ہے۔ لہٰذا نماز سے مدد حاصل کرو کہ سب سے زیادہ قرب نماز میں حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ عبادات بھی صبر ہی کا ایک جز ہیں مگر مقام صبر پر استقامت کا سبب بھی ہیں اور سب عبادات میں نماز گویا سب کا تاج ہے تو اس صبر اور نماز سے تمہیں ایک خالص مدد حاصل ہوگی اور وہ ہے کہ معیت ذاتی ان اللہ مع الصابرین کہ یہ پکی بات ہے کہ اللہ ذاتی طور پر صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جب اللہ ساتھ ہو تو پھر تکلیف تکلیف نہیں رہتی بلکہ ظاہراً اگر مصیبت بھی ہو تو باطناً ایک خاص لطف اور لذت لئے ہوئے ہوتی ہے مگر یہ یاد رہے کہ دوسری طرف بندے کا وصف ہے یعنی صبر۔ اگر کسی مقام پر صبر کا دامن چھوٹ گیا تو گویا معیت باری کھو بیٹھا۔ یہی وجہ ہے کہ ولایت شے کسبی ہے کہ بندے کی کوشش سے متعلق ہے اور تادام واپسیں اس کے سلب ہونے کا خطرہ ہے کہ زندگی کی طویل اور کٹھن راہ جہاں بھی صبر چھوٹا ، دولت معیت گئی۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس راہ میں عمریں صرف کردیں اور جن کو دین سے مس ہی نہیں اس راہ پہ چلے ہی نہیں وہ کیسے ولی اللہ بن گئے۔ یہ سب جہالت کے کرشمے ہیں۔ کوئی شخص اتباع دین کو چھوڑ کر ولایت حاصل نہیں کرسکتا۔ بلکہ ولایت خاصہ نام ہی عوام سے بڑھ کر اطاعت کرنے کا ہے ورنہ ظاہر ہے خلاف پمیبر کسے راہ گزید او ہرگز بمنزل نخواہد رسید یہ صرف نبوت ہے جو دہبی طور پر عطا ہوتی ہے اور پھر کبھی سلب نہیں ہوتی کہ شئے موہوب ایک طرح ملکیت ذات بن جاتی ہے لہٰذا مامون ہوتے ہیں مگر ولی آخر تک خطرہ میں یہ اور بات ہے کہ اولیا اللہ کی حفاظت باری حاصل ہوتی ہے اور یہ حضرات محفوظ ضرور ہوتے ہیں مگر اس وقت تک جب تک وصف صبر کو زندہ رکھیں۔ ایک وہم یہ کہ فلاں پیدائشی ولی تھا ، یہ بھی درست نہیں۔ جب ولایت کا تعلق کسب سے ہے اور کسب کا تعلق بلوغت سے جب بالغ ہوگا مکلف ہوگا اور جب مکلف ہوگا تو نیکی کرکے ولایت حاصل کرسکے گا پھر شکم مادر سے منازل سلوک کس طرح طے کر گیا۔ یہ صرف عرفاً کہہ دیا جاتا ہے اور ان خوش نصیب لوگوں پہ اس کا اطلاق ہوتا ہے جو نیک گھرانوں میں یا نیک ماحول پیدا ہوئے۔ اور مزاج صالح پائے بچپن سے برائی سے متنفر رہے۔ حتیٰ کہ بلوغت کے بعد ولایت خاصہ یا منازل سلوک کو حاصل کیا۔ ورنہ پیدائشی طور پر تو ہر پیدا ہونے والا بچہ استعداد لے کر پیدا ہوتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ، ” کل مولود یولہ علی الفطرۃ “ کہ ہر پیدا ہونے والا فطری صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس پر رنگ چڑھاتے ہیں اور اسے اپنی روش پہ لگا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کافر بھی توبہ کرے تو ولایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کو پاسکتا ہے کہ استعداد اس کے وجود میں موجود ہے جس کے آگے کفر کی دیوار تھی یا پھر بےصبری کی دھند۔ اگر کفر کی دیوار بھی ڈھادے اور توفیق صبر بھی پائے تو یقینا ولی ہوگا۔ یہ یاد رہے کہ یہ توفیق صبر خود بخود حاصل نہیں ہوتی۔ یہ کمالات رسالت میں سے ہے کہ لوگ ایک ایک گھونٹ پر گلے کاٹتے تھے مگر ان کی صحبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ صبر دیا کہ میدان جہاد میں زخموں سے چور ، حالت نزع میں بھی پانی دوسروں کی طرف بڑھاتے اور ایثار کی روشن مثال قائم کرتے چلے گئے تو یہ کمال پر توجمال نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھا اور ہے جب تک دل میں وہی انوارنہ آئیں صبر کا نصیب ہونا مشکل ہے۔ یہ ایک کیفیت ہے جو صرف الفاظ سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ علم ظاہر بھی ہو اور صحبت کامل بھی تو یہ اس کامل ہستی کے سینے کا پر تو ہوگا جو انوار نبوت کا امین ہو۔ ایک بات یہاں اور بھی ہوجائے اور وہ ہے مجازیب کی۔ تو یاد رہے مجذوب بھی وہ ہوگا جو بعداز بلوغت کسی شیخ کامل سے اللہ کا نور حاصل کرے اور پھر کسی درجہ میں قوت برداشت جواب دے جائے تو عقل وخرد بھی کھو بیٹھے۔ ورنہ پاگل تو ہوسکتا ہے مجذوب سالک نہیں۔ جنہوں نے اس کمال کو حاصل ہی نہیں کیا اور ہوش سے بیگانہ ہیں تو محض پاگل ہیں۔ نیز مجذوب ہونا نقص کی دلیل ہے۔ کمال کا نہیں۔ اگر یہ کمال ہوتا تو انبیاء مجذوب ہوتے مگر کوئی نبی مجذوب نہیں ہوا بلکہ کاملین کو عوام سے جدا کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور جس قدر کسی کو کمال نصیب ہوتا ہے اس کے امور بالکل عام آدمی سے قریب تر آتے چلے جاتے ہیں کہ منزل پر سوار بھی پیدل بن جاتا ہے اور مجازیب سے فائدہ نہیں ہوسکتا کہ انہیں نفع نقصان کا ہوش ہی نہیں ہوتا بلکہ اگر ان سے نچلے درجے کا کوئی سالک ان کے پاس چلا جائے تو الٹا اس کے احوال سلب ہوجاتے ہیں ان کے انوار قوی ہوجاتے ہیں کہ بالکل ایک طرف لگے رہتے ہیں۔ لہٰذا شرعاً اتنا کافی ہے کہ میں آدمی کے حواس درست نہ ہوں اسے الل کے سپرد کردیا جائے اور کچھ نہ کہا جائے اور استقامت علی الذکر حاصل کرنے میں کوشاں رہے کہ معیت باری کا سبب ہے اگر یہ دولت حاصل ہوجائے تو پھر کوئی تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور تکالیف مبدل براحت ہوجاتی ہیں دنیا میں سب سے بڑھ کر دکھ جو کسی کو دیا جاسکتا ہے وہ ہے قتل ، کہ قیدیا جرمانہ اس سے کمتر درجہ میں ہیں تو اگر کوئی راہ حق میں قتل بھی ہوجائے تو مت کہو کہ وہ مرگیا بلکہ اس نے موت کو بھی شکست دے دی اور موت بھی اس کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ کرسکی۔ حیات شہدائ : جو اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں قتل ہونا بدن سے متعلق ہے اور فعل قتل کا درود بدن پر ہوگا۔ تلوار سے کٹ جائے یا گولے سے اڑ جائے۔ اگرچہ اس کی دنیاوی زندگی تمام ہوئی اور یہاں سے کوچ کرکے برزخ میں چلا گیا مگر بایں ہمہ وہ مردہ نہیں بلکہ برزخ میں اسی زندگی کے ساتھ زندہ ہے۔ اگر چہ غذا دن رات یا موسم اور آرام و تکلیف کے احکام اس پر برزخی واردہوں گے۔ اگر روح کا وہ تعلق جو دنیا میں بدن کے ساتھ تھا ویسا ہی قائم رہے اور بدن مرکر بھی زندہ ہے۔ شہداء پر دنیا کے اعتبار سے احکام میت کے وارد ہوتے ہیں میراث بٹتی ہے۔ بیویاں بعداز عدت نکاح ثانی کرسکتی ہیں جنازہ اٹھتا ہے ، دفن ہوتے ہیں مگر بدن کو روح سے وہی تعلق رہتا ہے جو دنیا میں تھا خواہ بدن ریزہ ریزہ ہوجائے یا جل جائے یا درندے کھاجائیں کہ اللہ قادر ہے انسان کے خون کے ایک قطرے میں اربوں جراثیم رکھ سکتا ہے تو درندے کے جزو بدن بننے والے گوشت کو بھی علیحدہ زندگی دے سکتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے اعلیٰ زندگی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ہے کہ دنیا سے جانے کے بعد بھی بعض احکام ظاہری ان کی حیات سے متاثر ہوتے ہیں اگرچہ جنازہ و تدفین ہوتی ہے مگر میراث تقسیم نہیں ہوتی ، ازواج مطہرات نکاح ثانی نہیں کرسکتیں۔ دراصل موت اس کیفیت کا نام ہے کہ جب روح کو بدن سے نکال کر فرشتے اللہ کریم کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں وجود اس کی جدائی سے بےحس ہوجاتا ہے اگرچہ اس عالم آب وگل میں ہوتا ہے مگر اس کے اثرات کی اسے پرواہ نہیں ہوتی چونکہ روح برزخ میں ہوتی ہے تو بدن پر بھی احوال برزخ کے وارد ہوتے ہیں خواہ دنیا میں وہ جس حال میں بھی ہو۔ اللہ کی بارگاہ میں پیشی کے بعد روح کو اس کے مقام پر رکھا جاتا ہے جو علیین یا کفار کے لئے بحین کے نام سے موسوم ہے۔ تو چونکہ اعمال میں روح اور بدن کی شراکت ہے اس لئے جزاء میں بھی دونوں شریک رہتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ دنیا میں بدن مکلف بالذات تھا روح اس کے تابع۔ برزخ میں روح مکلف یالذات ہوتا ہے ، بدن اس کے تابع ، تو روح کا اپنے مقام پر رہتے ہوئے بھی بدن سے ایسا رابطہ ہوجاتا ہے کہ دکھ یا سکھ جو روح پر وارد ہو اس میں بدن شریک رہے جس طرح دنیا میں بدن کی لذت والم سے روح متلذذ ومتالم ہوتی تھی برزخ میں بدن روح کے دکھ سکھ میں شریک ہے اور یہ کہنا کہ وہاں نیا مثالی بدن عطا ہوتا ہے اور اس پر ثواب و عذاب ہوتا ہے۔ نادانی ہے کہ محنت یہ بدن کرے اور ثواب بدن مثالی پائے یا گناہ یہ وجود کرکے اور سزا بدن مثالی پائے یہ نہیں ہوسکتا۔ بدن مثالی نہ دنیا میں آیا نہ مکلف ہوا۔ نہ اس کی طرف کوئی نبی مبعوث ہوا بس اچانک پیدا ہو کر ثواب یا عذاب پانے لگا۔ یہ ناممکن ہے۔ قرآن شاہد ہے کہ آل فرعون غرق ہوتے ہی داخل نار ہوئے۔ اغرقوا فادخلو انارا۔ تو روح کا تعلق غرق سے کیسا ؟ غرق تو بدن ہوئے پھر کسی کا بدن برآمد ہوا اور اکثر مچھلیوں یا سمندری جانوروں کی غذا بن گئے مگر اس کے باوجود اللہ فرماتا ہے کہ آگ میں داخل ہوئے کہ روح جس آگ میں داخل ہوئی وہ ہماری سمجھ سے بالاتر۔ مگر بدن بھی اسی آگ میں ہے کہ روح کے تعلق کی وجہ سے آگ اس تک پہنچ رہی ہے اور وہ جل رہا ہے بظاہر خواہ قاہرہ کے عجائب گھر میں رکھا ہو یہ حال کافر کا ہے۔ مومن کی روح کو بھی بدن سے علاقہ ہوتا ہے اور نعم اخروی کے اثرات بدن تک پہنچتے ہیں۔ مگر شہید یا راہ حق میں قتل ہونے والوں کی ارواح کا تعلق اس قدر قوی ہوتا ہے کہ ابدان بظاہر زندہ نظر آتے ہیں اور صدیوں بلکہ ہمیشہ زندہ اور محفوظ رہتے ہیں اور یہ اکثر مشاہدہ ہے۔ پہلے کی تو بات کیا۔ اب 1978 ء میں مسجد نبوی کی توسیع کے سلسلہ میں صحابہ (رض) کی قبور اکھڑیں تو چودہ صدیاں بعد بھی ابدان تروتازہ تھے جنہیں جنت البقیع منتقل کردیا گیا۔ یہاں ایک بات اور سمجھ لی جائے کہ اگر کوئی واقعی شہید بھی ہو اور اس کا بدن سلامت نہ رہے تو کوئی استعباد نہیں۔ کہ موت کی وجہ سے اس کا بدن خراب نہ ہوگا اس کے علاوہ اثرات متاثر کرسکتے ہیں جیسے جلا دیا جائے یا گوشت کاٹ دیا جائے تو جو سب کچھ دنیا کی زندگی میں ممکن ہے اس کے بعد کی زندگی میں بھی ممکن ہے۔ ہاں ، صرف موت کی وجہ سے گل سڑ جانے کا امکان نہیں کہ احیاء کا مصداق بدن ہے جو بعد قتل بھی زندہ ہے کہ فعل قتل اسی پر صادر ہوا اور روح تو کافر کی بھی زندہ رہتی ہے۔ اس میں شہداء کی کیا تخصیص ۔ ہاں ! ان کی زندگی چونکہ باعتبار عالم کے برزخی ہوتی ہے موسم ، ماحول ، آرام ، سب اس کے مطابق ہوتے ہیں اور باعتبار حیات کے بالکل یہی زندگی ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی قدرت کے مشکل تو نہیں وہ تو کرسکتا ہے ۔ ہماری میڈیکل سائنس کی رسائی سے بالاتر ہے۔ ہم مادی ذہن سے اس بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ صرف اللہ کی اطلاع پر یقین کرلو کہ اس کی بات ہمیشہ سی ہوتی ہے۔ اللہ کا کلام شہداء کی زندگی پہ شاہد اور عقل انسانی انبیاء کی حیات میں سرگرداں وحیراں۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگ عقل سے مادی دماغ سے سمجھنا چاہتے ہیں کہ ان کے دل زندہ نہیں ہیں اگر دل زندہ ہوتے تو وہ اس کی تصدیق کرتے جس کے مقابلے میں عقل کے ہونٹ بھی سل سکتے ہیں۔ اہل بصیرت کے لئے حیات انبیاء بدیہات میں سے ہے۔ خدا تمام مسلمانوں کے دل روشن کردے۔ آمین۔ ولنبلونکم بشیئ………………اولائک ھم المھتدون۔ اسی بات کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ کسی قدر خوف یا بھوک یا مالی نقصان یا فصلوں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کی جائے گی کہ صرف بےخطر زندگی میں ہی ذکر الٰہی کرتے ہو یا اسباب ظاہری تمہاری کوئی امید نہ بندھا رہے ہوں ، دشمن کا خوف ہو اور کسی تباہی کا سامنا۔ تو اللہ کی یاد سے ہٹ کر اس کے سامنے جھک تو نہ جائو گے یا کم از کم اللہ کی طرف سے غافل تو نہ ہوجائو گے۔ اور یہی حال جانی ومالی نقصانات سے بھی ہوگا یعنی ایک عام انسانی زندگی تمہیں بھی بسر کرنی ہوگی فرق یہ ہوگا کہ غافلین پر جو مصیبت وارد ہوگی وہ واقعی مصیبت ہوگی مگر اللہ کی یاد سے معمور سینہ رکھنے والوں پر اور نور ایمان سے منور دل رکھنے والوں پر جو تکلیف آئے گی اگرچہ صورت مصیبت کی ہوگی مگر ہوگا امتحان کہ کامیابی کی کلید امتحان ہی ہوا کرتے ہیں۔ خداوند عالم کا علم ازلی ہے ، ابدی ہے ، کامل واکمل ہے مگر اپنے بندوں پہ بھی اتمام حجت فرماتا ہے کہ کل میدان حشر میں یہ بات سامنے ہو کہ ان نورانی چہروں نے جہان کی ہر شے قربان کی مگر اللہ کا نام اور اس کی بارگاہ نہ چھوڑی اور وہ بدبخت اور بےنصیب بھی علیحدہ نظر آئیں گے کہ جو ان دنیاوی آسائشوں کے حصول کی غرض سے یا دنیاوی نقصانات سے بچنے کی امید پر غیر اللہ کے در پر سجدہ ریز رہے جو نہ انہیں دنیا دے سکے اور نہ آخرت۔ تو اے میرے حبیب ! میرے ان بندوں کو جنہوں نے ہر حال میں صبر کا دامن نہ چھوڑا اور ہر شے کے نقصان پر یہی بات کہی کہ ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ہماری جان ، مال ، آبرو ، اولاد سب اللہ کے لئے ہے جو عطا کرے اس پہ بھی شکر بجالاتے ہیں اور جو لے لے اس پہ بھی شکر ہی کرتے ہیں کہ ان چیزوں کا کیا ہم تو خود اسی کے ہیں اور اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ اگرچہ دکھ طبعاً تو ان کو بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے ارشاد ہے ، اذا اصابتھم مصیبۃ ، یعنی جب ان پہ مصیبت اور تکلیف وارد ہوتی ہے توبہ تقاضائے بشریت ورد تو انہیں بھی ہوتا ہے مگر وہ درد ان کو نہ اللہ سے غافل کرسکتا ہے اور نہ شکوہ سنج ، بلکہ صبر کرتے اور اسی کا ذکر کرتے ، اسی کی یاد میں لگ جاتے ہیں۔ بشارت دیجئے ! انہیں مبارکباد کہئے کہ ان کے دل پہ گزرنے والے ایک دکھی لمحے کے صدقے اللہ کریم انہیں مدت مدید کی خوشیاں بخشے گا۔ اور یہی لوگ ہیں کہ جن پر عنایات خاص ہیں اور ایسے ہی لوگ حق پر ہیں ورنہ تو اگر دنیا کے لذائذ یا فوائد کو عبادات سے جوڑ دیا جاتا تو کون کم بخت پیچھے رہتا۔ لوگ تو جنگ عظیم اول میں سات روپے ماہوار لینے کے لئے سمندر پار جاکر لڑے اور وہیں کٹ مرے تو اگر نماز ، روزہ یا ذکر کے ساتھ رزق لگادیا جاتا تو یہ مساجد سے کب اٹھتے تھے یا صحت کو منسلک کردیا جاتا تو مساجد سے کب اٹھتے تھے۔ بھلا پانچ نمازوں سے پیچھے رہ جاتے ہرگز نہیں۔ روپیہ بھی بچاتے اور صحت بھی پاتے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اے مومنین ! تمہیں اللہ کی اطاعت ، اس کی عبادت بھی کرنا ہے اور دنیا میں انسانی زندگی بھی حسب معمول بسر کرنی ہے بلکہ یہ آیت تو اس بات پہ شاہد ہے کہ غافلین پہ کوئی دکھ آئے یا نہ آئے ، حاضرین پہ تو ضرور وارد ہوگا۔ اسی مقصد کو یہ حدیث پاک واضح کرتی ہے جس کا مفہوم ہے کہ سب سے زیادہ مصیبت انبیاء کرام (علیہ السلام) پر آتی ہے پھر ان سے قریب تر لوگوں پر اور پھر ان سے قریب لوگوں پر۔ آج کے دور کی بڑی مصیبت بھی یہی ہے لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ نماز روزہ کرکے ہم نے اللہ پر احسان کردیا ہے۔ اب اللہ کو ایسا ہی کرنا چاہیے ، جیسے ہماری منشا ہو ، سبحان اللہ ! گویا پہلے عبادت کی اور اب کروانا چاہتے ہو اطاعت ہی تو عبادت ہے معاذ اللہ ! اگر خدا انسانوں کا مطیع ہوگیا تو پھر ہوچکی خدائی ، بلکہ ایسی آرزو کرنا بہت بڑی جہالت ہے۔ ہاں ! ہر حال میں اس کی رحمت پہ امید رکھنا بہت بڑی بات ہے اور اس کی رضا کو اس طرح پانا کہ اپنی پسند اس میں گم ہوجائے اصل درجہ ہے۔ ان الصفا والمروۃ………………شاکر علیم۔ اور ذرا دیکھو تو ! میری ایک بندی نے پوری زندگی کس قدر قربانیاں دی ہیں۔ ایمان لائی تو ہجرت کرنا پڑی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے نکاح کیا تو ساری عمر سفر اور غربت کی تکالیف سہیں۔ بادشاہوں سے ٹکر ہوئی ، ظالموں کی قید میں گئیں ، مگر ہر جگہ صبر کیا ، اللہ پر بھروسہ کیا اور ہمیشہ نعمت باری کی سزاوار ہوئیں۔ حتیٰ کہ آخری عمر میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جیسالخت جگر عطا ہوا مگر یہ بخشش بھی مزید امتحان لائی اور بےآب وگیاہ صحرا میں بچے سمیت چھوڑ دی گئیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واپس ہونے لگے تو پوچھا ، یا خلیل اللہ ! ہمیں یہاں کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ فرمایا : ” اللہ کا حکم ہے ! “ تو فرمایا : ” اللہ ہمیں ضائع نہ کرے گا “۔ اس کے بعد پھر نئی مصیبت آگئی پانی ختم ہوا۔ جس کے سبب دودھ بھی سوجھ گیا بچہ بلبلارہا ہے صحرا کی وسعتوں میں بجز اللہ کوئی نہیں جب کوئی صورت نظر نہ آئی تو بےتابانہ پہاڑی پر چڑھیں ، بچہ نیچے رکھا ہوا تھا۔ وہاں سے نظر دوڑائی ، پانی نظر نہ آیا تو دوسری پہاڑی کی طرف چل دیں ، جب وادی میں اتریں تو بچہ اوجھل ہوگیا۔ دوڑ پڑیں کہ نگاہوں کے سامنے رہے مبادا کو کا نور نقصان پہنچائے دوسری پہاڑی سے بھی کچھ نظر نہ آیا تو سات چکر بیتابی سے لگائے۔ بظاہر تو یہ بہت بڑی مصیبت تھی مگر اللہ کو یہ ادا کیسی بھائی۔ فرمایا ، دیکھ لو ! ہم نے صحرا کا جگر شق کرکے چشمہ بھی جاری کردیا اور ان پہاڑوں کو وہ عظمت بخشی کہ دین کی علامتوں میں سے قرار دیا اور ان پر اسی طرح بےتابانہ دوڑنا حج وعمرہ کرنے والوں پر واجب قرار دیا۔ سعی کرنا امام (رح) کے نزدیک سنت مستحیہ ، امام مالک اور شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرض اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک واجب ہے (معارف) اور اسے اس عظیم عبادت یعنی حج وعمرہ کے ارکان میں شامل فرمایا کہ جس کے کرنے والا گناہوں سے ایسے پاک ہوتا ہے ، جیسے پہلے روز دنیا میں آیا تھا۔ یہ سب برکات تو دنیا میں ظاہر اور سب کے سامنے ہیں اخروی اجر تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اب رہے وہ لوگ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یا کتاب پر یا بیت اللہ کے قبلہ ہونے پر معترض ہیں تو ان کے پیشوا علمائے بنی اسرائیل ہیں کہ مشرک بھی ان سے پوچھتے تھے تو وہ ان سب حقائق سے خوب آگاہ ہیں کتب سابقہ میں یہ سب بطور پیشگوئی کے موجود ہے مگر یہ اسے ظاہر نہی کرتے اور چھپاتے ہیں کہ اسی میں اپنا اقتدار سمجھتے ہیں۔ ان الذین یکتمون……………ولاھم ینظرون۔ جو لوگ ارشادات باری کو جو لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے نازل ہوئے چھپاتے ہیں اور ظاہر نہیں کرتے ، وہ غضب الٰہی کا شکار ہوتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے لعنت ہوتی ہے اور ساری مخلوق کی طرف سے بھی کہ ان کا کتمان حق ایسی ظلمت پیدا کرتا ہے جس کی نحوست کے اثرات ساری مخلوق کو متاثر کرتے ہیں تو سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔ دراصل انسانی افعال کا اثر بہت وسیع ہے یہ قوم لوط کے اعمال تھے جنہوں نے زمین سمیت ساری چیزوں کو تباہ کردیا یا نوح (علیہ السلام) کی قوم کہ جس کے اعمال بد ساری زمین پر طوفان لائے اور سوائے کشتی کے کوئی چیز نہ بچ سکی سب غرق ہوگئے تو اس کا سبب انسانوں کی ہی بدعملی تھی اور سب طرح کی بداعمالیوں میں سرفہرست کتمان حق ہے کہ ایک بات دین کی جانتا ہو مگر دنیاوی مفاد کے لئے بیان نہ کرے یا توڑ موڑ کر اس طرح کرے کہ بات بگڑ جائے مگر لوگ خوش ہوں اور یہ فائدہ اٹھائے ، تو یہ شخص اللہ اور اللہ کی مخلوق کی لعنت کا نشانہ بنے گا۔ بلکہ ارشاد ہے کہ جس نے جانتے ہوئے بات چھپائی ، اللہ اسے آگ کا لگام پہنائیں گے۔ ہاں ! یہ دوسری بات ہے کہ جانتا ہی نہ ہو تو ایسے شخص کو بھی خواہ مخواہ مفتی بننے کا حق حاصل نہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہی باتیں بیان کرنے کا حکم ہے جن کے ظاہر کرنے کی ضرورت ہو اور لوگوں کی راہنمائی کے لئے ضروری ہوں خواہ مخواہ مسائل گھڑ کے جھگڑا پیدا کرنا اور اپنی ہوس پوری کرنے کا ذریعہ بنانا بھی سخت جرم ہے نیز لوگوں سے ان کی استعداد کے مطابق بات کی جائے ایسی بات جو عوام کی رسائی سے بالاتر ہو عوام سے نہ کہی جائے کہ فتنہ میں مبتلا نہ ہوں اور یہ سب کچھ صرف کتاب اللہ کے لئے نہیں بلکہ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اسی حکم میں ہے کہ بغیر حدیث کے ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی اور نہ قرآن کے مفہوم کی تعین ہوسکتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا ، سو جو لوگ ان حقائق کو جو اللہ نے لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ہے چھپاتے ہیں سخت ترین مجرم اور لعنت کے سزاوار ہیں۔ مگر بایں ہمہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اتباع رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اختیار کریں اور حق کو ظاہر کریں یعنی محض زبان سے لفظ توبہ کہہ کر خوش نہ ہولیں بلکہ اپنے اعمال کی ، عقائد کی اصلاح کریں اور برائی سے علانیہ بیزار ہوں اگر کوئی حق بات چھپائی تھی تو اسے ظاہر کریں تو اللہ کریم فرماتے ہیں ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہوں کہ میری شان ایسی ہی عظیم ہے اور توبہ قبول کرنا اور رحم کرنا مجھے ہی سزاوار ہے۔ سبحان اللہ ! اگر اس قدر وسیع رحمت اور بخشش سے بھی کوئی فرار ہی اختیار کرے تو پھر یہ پکی بات ہے کہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اپنائی اور ضھر اسی پر موت سے ہمکنار ہوئے تو ان پر اللہ کی لعنت اور تمام نسل انسانی کی لعنت ہے کہ وہ ان سب کے مجرم ہیں اللہ کی نافرمانی کرکے اس کا جرم کیا اور انسانوں کی بستیوں میں غضب الٰہی کو وارد کرنے کا سبب بنے تو ان سب کی لعنت کے سزاوار ہوئے چونکہ کافر ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس میں کمی نہ ہوگی اور نہ کبھی انہیں مہلت دی جائیگی۔ یہاں سے سمجھ آئی کہ جب تک خاتمہ کفر پہ نہ ہو شخص سمعین پر لعنت کرنا جائز نہیں البتہ ظالموں اور کافروں پر بغیر کسی فرد کی تعین کے لعنت کرنا درست ہے۔ جب یہ اس قدر سنگین بات ہے کہ کافر پر بھی جب تک کفر پر ہی نہ مرجائے لعنت کرنا درست نہیں تو پھر مومن پر خواہ کیسا ہی ہو کبھی جائز نہیں ہوسکتی حالانکہ ہمارے ہاں عورتیں بات بےبات پر لعنت برساتی ہیں جس پر لعنت کی جائے اگر وہ اس کا مستحق نہ ہو تو پھر کرنے والے پر پلٹتی ہے اور یہ صرف لفظ لعنت کہنے سے نہیں بلکہ اس کے ہم معنی الفاظ مثلاً رادہ درگاہ یا مردود وغیرہ سے بھی پرہیز لازم ہے سو یہ حال تو ہے ان کا جو کتمان حق کے مرتکب ہیں کہ وہ اپنی ہی راہ میں گڑھا کھود رہے ہیں۔ رہی تمہاری بات تو تمہیں اللہ پہ نگاہ رکھنی ہے کہ وہی اکیلا تمہارا معبود ہے اور اسی کی رضا تمہارا مقصود۔ کوئی کہتا ہے تمہیں اس سے غرض نہیں۔ والھکم الہ واحد لا الہ الا ھوالرحمن الرحیم۔ تمہارا معبوداکیلا ہے جسکا نہ کوئی ثانی ہے نہ شریک اور وہ اکیلا ہی مستحق ہے عبادت کا تمہیں اس کی رضا مطلوب ہے اور اس کے احکام کی بجاآوری تمہارا مقصد کہ وہ بہت بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 153 تا 157 یایھا الذین امنوا (اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو۔ اے مومنو ! ) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو) ۔ الصبر (صبر یعنی جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا) ۔ الصلوٰۃ (نماز ، عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ) یقتل (مارا جاتا ہے) ۔ احیاء (زندہ) ۔ لا تشعرون (تم شعور (ادراک ، سمجھ) نہیں رکھتے) ۔ لبنلونکم (ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے) ۔ الجوع (بھوک) ۔ نقص (کمی، نقصان) ۔ ثمرات (پھل، پھول، سبزہ ، سبزی) ۔ بشر (خوش خبری دیجئے) ۔ اصابت (پہنچ گئی) ۔ راجعون (لوٹنے والے) ۔ صلوات (رحمتیں (صلوٰۃ کی جمع ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 153 تا 157 اللہ کی راہ میں حق و باطل کا پہلا معرکہ جو غزوۂ کہلاتا ہے اس میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے ۔ کچھ لوگوں نے اللہ کی راہ میں جانیں دینے والوں کے لئے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا۔ ہائے افسوس فلاں شخص مرگیا۔ کچھ دن اور زندہ رہتا تو اس دنیا کی زندگی کے بہت سے فائدے حاصل کرتا ۔ زندگی کی لذتوں سے ہمکنار ہوتا ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ایمان والو ! زندگی اور موت، نفع اور نقصان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو جتنے دن اس دنیا میں رکھنا چاہتا ہے زندہ رکھتا ہے اور جب اس کی زندگی کی مدت پوری ہوجاتی ہے تو اس پر موت کی کیفیات کو طارہ کردیا جاتا ہے۔ اے مومنو ! تم جس دین کی راہ میں چلے ہو اس میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا کیونکہ جس ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ گیا اس میں اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت اور طاقت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ لہٰذا صبر کرو اور ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرو اور اس سے نہ گھبراؤ۔ نمازوں کے ذریعے سے اپنی بندگی کے تعلق کو مضبوط بناتے چلے جاؤ یقیناً وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے جب کامیابیاں تمہارے قدم چو میں گی۔ فرمایا جو لوگ اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے ہر طرح کے مصائب اور نقصانات کو برداشت کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے لئے اپنی جانیں قربان کردیتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو وہ عالم برزخ میں ایک امتیازی شان کے ساتھ زندہ ہیں جنت کی تمام لذتوں کو حاصل کر رہے ہیں لیکن تم اس دنیا میں رہتے ہوئے اس عالم کی کیفیات کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس بات کو ذرا وضاحت سے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ : موت کے بعد انسان کی روح ایک اور جہاں میں منتقل ہوجاتی ہے اس کو عالم برزخ کہتے ہیں۔ عالم برزخ میں ہر شخص کو ایک نئی زندگی عطا کی جاتی ہے جس میں کچھ سوالات کے بعد اس کے عذاب وثواب کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، جسے جزا اور سزا کا پوری طرح ادراک ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دئیے جاتے ان کو عام لوگوں کے مقابلہ میں ایک خصوصی اور امتیازی برزخی زندگی عطا کی جاتی ہے جس کے اثرات عرصہ دراز تک ان کے جسم پر بھی باقی رکھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے لیکن شہید کو بھی یہ مقام حیات انبیاء کرام کے طفیل عطا کردیا جاتا ہے۔ شہید جس طرح اور جس حالت میں دفن کیا جاتا ہے۔ وہ اسی حالت میں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب شہید قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے جسموں سے اسی طرح خون بہتا ہوا ہوگا جس طرح دنیا میں شہادت کے وقت ان کا خون بہہ رہا تھا ۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی ان باتوں کو ظاہر کردیتا ہے اور موطا میں حضرت امام مالک (رح) نے شہیدوں کے جسم خاکی کے باقی رہنے کے لئے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرو ابن جموح (رض) اور حضرت عبد اللہ ابن جبیر (رض) جو احد کے غزوے میں شہید ہوئے تھے ان کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ غزوۂ احد کے تقریباً چھیالیس سال کے بعد جب سیلاب کی وجہ سے ان کی قبریں کھل گئیں تو یہ حیرت ناک واقعہ ہزاروں آدمیوں نے دیکھا کہ ان کے جسم بالکل اسی طرح تروتازہ اور شگفتہ و شاداب تھے جیسے انہیں آج ہی دفن کیا گیا ہو۔ اسی طرح جب دریائے دجلہ حضرت عبد اللہ ابن جابر (رض) اور دوسرے شہیدوں کی قبروں کے بالکل نزدیک پہنچ گیا۔ تو حکومت عراق نے ان شہیدوں کے جسموں کو حضرت سلمان فارسی (رض) کے مزار کے قریب منتقل کرنا چاہا۔ تیرہ صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے جسم اور کفن بالکل صحیح سلامت پائے گئے ہزارہا لوگوں نے قرآن کی صداقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کو نہ صرف عالم برزخ میں حیات عطا فرماتا ہے بلکہ ان کے جسموں کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے جس کا کبھی کبھی مشاہدہ ممکن ہے۔ روحوں کی دنیا میں اور جنت میں شہیدوں کو جو اعزاز عطا کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی روحوں کو سفید اور سبز پرندوں کا جیسا جسم دیا جاتا ہے وہ جنت میں جس جگہ چاہتے ہیں آزادی کے ساتھ آ جاسکتے ہیں اور وہ جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور رات کو عرش الٰہی کی قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ ہم اپنے سمجھنے کے لئے اس عالم کی زندگی کو اس طرح تقسیم کرسکتے ہیں کہ عام لوگوں کے مقابلہ میں شہداء کو ایک امتیازی مقام عطا کیا جاتا ہے وہ سفید اور سبز پرندوں کی شکل میں جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور جبکہ اعلیٰ ترین زندگی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ہوتی ہے جن کو وہ حیات عطا کی جاتی ہے جو نہ صرف بلند ترین ، ارفع، و اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ ان کی عظمت شان کا تصور بھی ممکن ہے۔ ایک دوسرے مقام پر قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ “ وہ لو گ جو اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے جاتے ہیں وہ زندہ ہیں ان کو اللہ کی طرف سے رزق عطا کیا جاتا ہے جس سے وہ خوش ہوتے ہیں ” یعنی لذات اور اعمال دونوں اعتبار سے ان کو وہاں کی زندگی کے تمام فوائد اور لذتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ تمام وہ کیفیات ہیں جن کا علم ہمیں قرآن کریم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے ان ہی باتوں کو سمجھ سکتے ہیں جو ہمارے پانچوں حواس کے دائرے میں سما سکتی ہوں لیکن جو باتیں ہمارے حواس سے باہر ہیں ہم ان کا نہ تو ادراک کرسکتے ہیں اور نہ ہمارے شعور میں وہ باتیں آسکتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ دوسرے جہان میں وہ زندہ ہیں مگر تم اس بات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے اب ان کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے شہید ہوجانے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں سے بھی عدت گزرنے کے بعد نکاح کیا جاسکتا ہے ان کا چھوڑا ہوا مال و اسباب ورثاء میں تقسیم کردیا جاتا ہے یہ صرف انبیاء کرام کی خصوصیت ہے کہ ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ان کی بیویوں سے کوئی نکاح نہیں کرسکتا۔ اور نہ ان کا ترکہ تقسیم ہوتا ہے کیونکہ ان کو دوسرے عالم کی زندگی میں ارفع و اعلیٰ مقام دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی اعزاز ہے کہ ان کے جسموں کو نہ تو زمین کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ کھا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مبارک جسموں کی بھی حفاظت فرماتے ہیں۔ بہرحال جو بات ہمارے حواس خمسہ سے باہر ہے اس کیفیت کو ہم کسی مثال سے تو سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن سفید و سبز پرندوں کی کیفیت ، کھانے پینے کی لذت ، عرش الٰہی کی قندیلوں میں بسیرا کرنے کی حالت کا ہم ادراک و شعور حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ان کو روحوں کے جہان میں ایک امتیازی مقام دیا جاتا ہے خواہ اس کی کیفیت ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مقدس، پاکیزہ اور لطیف روحوں پر حیات برزخی کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ شہداء سے بہت ہی قوی اور اعلیٰ و برتر ہوتے ہیں۔ اسی بات کو یہاں سمجھایا گیا ہے کہ جو لو گ اللہ کی راہ میں محض اس کی رضا و خوشنودی کے لئے مصائب اور تکلیفوں کو جھیلتے ہیں، صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ اور نماز کے ذریعہ اپنے تعلق بندگی کو مضبوط کرتے رہتے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ اللہ کی راہ میں پیش کردیتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں لیکن تم ان کی زندگی کی کیفیات اور لذتوں کا شعور نہیں کرسکتے ، ان کو عرش الٰہی کے سائے میں تمام راحتیں عطا کی جاتی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جو اس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولی یہ بشارت ہوگی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ذکر اور شکر کی بہترین صورت نماز ہے۔ شکر سے اعراض اور نماز کا انکار کفر ہے۔ اگلی آیات میں شہادت اور مختلف قسم کی آزمائشوں کا آنا یقینی فرمایا ہے۔ لہٰذا آزمائشوں اور کفار کے پروپیگنڈہ سے گھبرانے کے بجائے پہلے نماز اور صبر کے ذریعے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صبر ایک ایسی اخلاقی قدر اور قوت ہے جو انسان کی منفی قوتوں پر کنٹرول اور مثبت صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ ان صلاحیتوں میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ قرآن مجید نے صبر کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ گفتگو کے ضمن میں کئی بار یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ کچھ معاملات کی حکمت جاننے کے لیے ان کے ہمسفر ہوئے تو انہوں نے کئی بار فرمایا کہ جناب موسیٰ ! آپ میرے معاملات پر حوصلہ نہیں کر پائیں گے۔ کلیم اللہ نے کہا کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ میرے صبر کے بندھن ٹوٹنے نہ پائیں۔ گویا کہ صبر کا معنیٰ ہے اپنے آپ پر قابورکھنا اور مشکل کے وقت استقامت اختیار کرنا۔ تو اس طرح صبر اور استقامت کا تعلق آپس میں چولی دامن کا تعلق بنتا ہے۔ غریب آدمی صبر کا دامن چھوڑ دے تو وہ خود کشی کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ جو ان کے اندر صبر کی قوت کمزور ہوجائے تو اس سے بےحیائی کی ایسی حرکات ثابت ہوتی ہیں کہ ساری زندگی اسے پچھتاوا رہتا ہے۔ صاحب اقتدار آدمی صبر سے تہی دامن ہو تو وہ اپنے وقت کا فرعون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس یہی لوگ صبر و حوصلہ کا مظاہرہ کریں تو زندگی ان کے لیے آسان ہوجاتی ہے۔ بہادر اور بااختیار شخص حوصلہ سے کام لے تو کمزوروں کے لیے اللہ کی رحمت ثابت ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے زندگی کے ہر موڑ پر صبر وحوصلے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی دستگیری کی خوشخبری دی ہے۔ صبر کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں مخاطب کیا گیا : (وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا) [ المزمل : ١٠] ” لوگوں کی دل آزار باتوں پر صبر کرتے ہوئے انہیں اچھے انداز سے چھوڑ دیجیے۔ “ (وَلَءِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصَّابِرِیْنَ ) [ النحل : ١٢٦] ” صبر کا رویّہ اختیار کرو یہ بہترین انجام کی ضمانت ہے۔ “ (اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) [ الزمر : ١٠] ” صبر کرنے والوں کو ہی بغیر حساب کے پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کے حصول کے لیے دوسرا مؤثر ذریعہ نماز قرار دی گئی ہے۔ اگر آدمی نماز کو صحیح انداز میں ادا کرتے ہوئے یہ تصور قائم کرلے کہ میں مشفق و مہربان آقا کے حضور درخواست گزارہوں اور وہی میری روح کے کرب کو جانتا اور میرے دکھوں کا مداوا کرسکتا ہے تو انسان کا غم فوری طور پر ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسی بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : مجھے نماز میں سکون ملتا ہے اور آپ ہر مشکل وقت مصلّے کی طرف لوٹا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی زندگی کے نازک مراحل میں نماز کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت طلب کیا کرتے تھے۔ (1) (جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ )[ رواہ النسائی : کتاب عشرۃ النساء، باب حب النساء ] ” نماز میں میری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہے۔ “ (2) (یَابِلَالُ ! اَرِحْنَا بالصَّلَاۃِ ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند الانصار، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں سکون پہنچاؤ۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نماز (3) (فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَہٗ رَاٰھَا بَعْضُ أَھْلِ الْجَبَّارِ أَتَاہُ فَقَالَ لَہٗ لَقَدْ قَدِمَتْ أَرْضَکَ امْرَأَۃٌ لَا یَنْبَغِیْ لَھَا أَنْ تَکُوْنَ إِلَّا لَکَ فَأَرْسَلَ إِلَیْھَا فَأُتِیَ بِھَا فَقَامَ إِبْرَاھِیْمُ إِلَی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیْہِ لَمْ یَتَمَالَکْ أَنْ بَسَطَ یَدَہٗ إِلَیْھَا قُبِضَتْ یَدُہٗ قَبْضَۃً شَدِیْدَۃً فَقَالَ لَھَا ادْعِی اللّٰہَ أَنْ یُطْلِقَ یَدِیْ وَلَا اَضُرُّکِ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فُقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَۃِ الْأُوْلٰٰی فَقَالَ لَھَا مِثْلَ ذٰلِکَ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ أَنْ یُطْلِقَ یَدِیْ فَلَکِ اللّٰہُ أَنْ لَّاأَضُرَّکِ فَفَعَلَتْ وَأُطْلِقَتْ یَدُہٗ وَدَعَا الَّذِیْ جَاءَ بِھَا فَقَالَ لَہٗ إِنَّکَ إِنَّمَا أَتَیْتَنِیْ بِشَیْطَانٍ وَلَمْ تَأْتِنِیْ بِإِنْسَانٍ فَأَخْرِجْھَا مِنْ أَرْضِیْ وَأَعْطِھَا ھَاجَرَ قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَمْشِیْ فَلَمَّا رَاٰھَا إِبْرَاہِیْمُ ( علیہ السلام) انْصَرَفَ فَقَالَ لَھَا مَیْھَمْ قَالَتْ خَیْرًا کَفَّ اللّٰہُ یَدَ الْفَاجِرِوَأَخْدَمَ خَادِمًا) [ رواہ مسلم : کتاب الفضائل، باب من فضائل إبراھیم الخلیل (علیہ السلام) ] ” جب ابراہیم اس جابر بادشاہ کی سرزمین میں داخل ہوئے تو بادشاہ کے کارندے نے انہیں دیکھ کر بادشاہ سے کہا کہ آپ کے علاقے میں ایک عورت آئی ہے جو صرف آپ کے پاس ہی ہونی چاہیے۔ بادشاہ نے اپنا اہلکار بھیج کر اسے منگوایاتو ابراہیم (علیہ السلام) نے نماز شروع کردی۔ حضرت سارہ[ جب اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن بادشاہ کا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا گیا۔ اس نے حضرت سارہ[ سے کہا کہ : اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میرا ہاتھ چھوڑ دیا جائے۔ میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ ہاتھ چھوڑدیا گیا تو اس نے دوبارہ دست درازی کی کوشش کی لیکن ہاتھ پہلے سے زیادہ سختی سے پکڑ لیا گیا۔ پھر اس نے ہاتھ چھڑانے کے لیے اللہ سے دعا کروائی اور وعدہ کیا کہ اب ایسے نہ کروں گا تو ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔ تیسری دفعہ پھر اس نے ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا گیا۔ اب پھر اس نے حضرت سارہ[ سے دعا کے لیے کہا کہ اللہ کی قسم ! میرا ہاتھ چھوٹ جائے تو میں تیرے ساتھ زیادتی نہیں کروں گا۔ حضرت سارہ[ کی دعا پر ہاتھ چھوڑ دیا گیا۔ بادشاہ نے اس اہلکار کو بلاکر کہا کہ : تو میرے پاس انسان کے بجائے کوئی شیطان لے آیا ہے۔ اسے میری سرزمین سے جانے دیجیے اور اسے ہاجرہ بھی ساتھ دے دیجیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب سارہ[ کو آتے ہوئے دیکھا تو نماز کے بعد خیریت پوچھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فاجر کے ہاتھوں کو روک لیا اور میں سلامت رہی، اس نے ایک خادمہ خدمت کے لیے مجھے دی ہے۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِّنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَایُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو نہ لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور نہ ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ مستقل مزاج اور صبر کرنے والوں کی دستگیری فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر کی اہمیت اور اجر : ا۔ صبر اہم کاموں میں اہم ترین کام ہے۔ (الاحقاف : ٣٥) ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : ٥) ٣۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : ١٥٣) ٤۔ صبر کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ (الحجرات : ٥) ٥۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : ١١١) ٦۔ مسلمان صابر کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : ٢٤) ٧۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ (الفرقان : ٧٥) ٨۔ صابر بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر : ١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن کریم میں صبر کا تذکرہ بتکرار ہوا ہے ۔ اس لئے کہ تحریک اسلامی کو سخت ترین مخالفتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اس راہ میں صبر و استقامت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ تحریک اسلامی کو مسلسل مشکلات اور لگاتار کشمکشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا لہٰذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اہل ایمان صبر سے کام لیں اور ان کے نفوس داخلی اور خارجی معاملات میں بیدار رہیں ۔ اہل ایمان کی قوتیں منظم رہیں اور ان کے اعصاب پختہ رہیں ۔ ایسے حالات میں صبر و استقامت کے سوا چارہ کار ہی کیا ہے ؟ اس طرح عبادت میں بھی صبر کی ضرورت ، گناہوں سے بچنے میں صبر کی ضرورت ، غرض ان مختلف النوع سازشوں کے خلاف صبر ، نصرت خداوندی میں تاخیر پر صبر ، طویل ترجدوجہد پر صبر ، باطل کی قوت پر صبر ، دین کے حامیوں کی قلت پر صبر ، بغض وعداوت کے بوجھ پر اور غرض پرستی کی تلخی پر صبر۔ جب صبر طویل ہوجاتا ہے اور مشکلات بڑھ جاتی ہے تو قوت صبر کمزور پڑجاتی ہے ۔ اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ اگر بیرونی امداد میسر نہ ہو تو پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے ، اس لئے نماز کے ساتھ ساتھ صبر کی تلقین بھی کی جارہی ہے ۔ نماز وہ سرچشمہ ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا ۔ یہ وہ زاد راہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ یہ طبع تجدید قوت ہے ، یہ قوت دل کا سامان ہے ۔ اس سے صبر کی بھرپور قوت حاصل ہوجاتی ہے اور صبر کے ساتھ رضامندی وخندہ پیشانی اور یقین محکم پیدا ہوتا ہے۔ انسان فانی ہے ، ضعیف ہے اور محدود قوت کا مالک ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ قوت کبریٰ سے لو لگائے ۔ جب اس کا مقابلہ شر کی ظاہری اور باطنی قوتوں سے ہو اور معاملہ اس کی محدود قوت و برداشت سے بڑھ جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس ” عظیم قوت “ سے مددلے ۔ اس راہ میں ایسے مقامات آتے ہیں کہ خواہش نفس کا زور ہوجاتا ہے ، طمع و لالچ کی شدیدکشش ہوتی ہے ۔ اور راہ حق پر استقامت کی جدوجہد بھاری ہوجاتی ہے ، فسق وفجور اور ظلم وعدوان کی قوتیں زور پکڑلیتی ہیں اور مقابلہ دشوار ہوجاتا ہے ، راستہ طویل ہوجاتا ہے ، مشقت بڑھ جاتی ہے اور زندگی کے شب وروز تاریک نظر آتے ہیں۔ انسان غور کرتا ہے دیکھتا ہے کہ ابھی وہ کسی مقام تک نہیں پہنچ سکا ، لیکن موت قریب ہے ۔ اس نے کچھ پایا نہیں اور زندگی کا سورج قریب الی الغروب ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ شر دھنی ہوئی روئی کی طرح پھولا ہوا ہے اور حق سکڑا ہوا ہے۔ منزل دور ہے ، افق پر سے آخری شعاع امید غائب بھی ہے اور راستے پر کوئی نشان راہ نہیں ۔ ایسے حالات میں صبر وصلوٰۃ ہی سرچشمہ قوت ہوتے ہیں۔ ایسے مقامات اور ایسی منازل ہی پر نماز کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے ۔ انسان فانی اور خدائے باقی کے درمیان واحد براہ راست رابطہ نماز سے قائم ہوتا ہے ۔ یہ وہ مقام التقا ہے جس پر ایک تنہا قطرہ ابدی سرچشمہ سے آملتا ہے ۔ یہ اللہ کے ان خزانوں کی کنجی ہے جو مستغنی کردیتے ہیں ، جھولی بھردیتے ہیں اور رحمتوں کی بارش کردیتے ہیں ۔ یہ ایک جست ہے اس کے ذریعے انسان اس چھوٹی اور محدود دنیا کی حدود کو پھاڑ کر عظیم تر کائنات کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے ۔ وہ سخت گرمی اور تپتی ہوئی دھوپ میں ۔ ٹھنڈی چھاؤں ہے ، نسیم سحر اور خوشگوار شبنم ہے ۔ وہ تھکے مارے دل کے لئے ایک خوشگوار احساس ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب پریشان ہوتے ، سخت حالات سے دوچار ہوتے تو فرماتے تھے !” بلال ! ذرا ہمیں اس کے ذریعے تسکین دو ۔ “ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پریشانیوں کے ہجوم میں ہوتے ، نماز کثرت سے پڑھنا شروع کردیتے ۔ اسلامی نظام دراصل عبادت اور بندگی کا نظام ہے ۔ اس کی عبادت بھی حکیمانہ ہے اس کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ وہ زاد راہ ہے ۔ روحانی امداد کا سرچشمہ ہے ۔ اور دل کی صفائی ہے ۔ جب بھی انسان مصیبت میں مبتلاہو ، دل تنگ ہو ، یہ عبادت کشادگی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور انسان آرام ، خندہ پیشانی اور خوشگواری سے اس مصیبت کو انگیز کرتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس عظیم شعار اور بھاری منصب کے لئے منتخب کیا تو آپ کو حکم دیا : يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (١) قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا (٢) نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلا (٣) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلا (٤)إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلا ثَقِيلا (٥) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو ، مگر کم ، آدھی رات ، یا اس سے کچھ کم کرلو ، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھالو ، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ “ (المزمل : ٥ : ١) یہ رات کا قیام ، یہ دن کے رکوع و سجود کیا تھے ؟ یہ بھاری کلام ، اور اس عظیم ذمہ داری کے لئے تیاری اور تربیت تھی ، جس کی راہ مصائب وشدائد سے پر تھی ۔ یہ وہ عبادت تھی جس سے سکون کے سوتے پھوٹ پڑے ہیں ۔ باہمی ربط مضبوط ہوجاتا ہے ، کام آسان ہوجاتا ہے ، آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور قلب مومن پر تسلی وتشفی اور آرام و اطمینان کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان ان مصائب وشدائد کی دہلیز تک جاپہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں صبر وصلوٰۃ کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔ اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا فرماتے ہیں : اِنَّ اللہَ مَعَ الصَّابِرِینَ ” بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ “ اللہ ان کے ساتھ ہے ، ان کی مدد کرتا ہے ، انہیں قوت اور ثابت قدمی عطا کرتا ہے ، ان کے ساتھ انس و محبت رکھتا ہے ، اس کٹھن سفر میں وہ انہیں اکیلے نہیں چھوڑتا ۔ وہ انہیں اور ان کی محدود طاقت اور قوت کو چھوڑ کر ایک طرف نہیں ہوجاتا۔ جب بھی زاد راہ ختم ہو اس کی جانب سے رسد آجاتی ہے ۔ جب بھی وہ تھک کر چور چور ہوجائیں وہ انہیں از سر نو قوت عطا کرتا ہے ۔ وہ آیت کا آغاز :” اے ایمان والو “ کی پیاری آواز سے کرتا ہے اور اس کا اختتام ان حوصلہ افزا الفاظ پر کرتا ہے ۔” بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ “ صبر و تحمل کے بارے میں بیشمار احادیث وارد ہیں یہاں سیاق وسباق قرآنی کی مناسبت سے اور اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لئے امت مسلمہ کو تیار کرنے کی خاطر جس کے لئے اس امت کو برپا کیا گیا ہے ان میں سے چند احادیث کا ذکر مناسب ہے : ” حضرت خباب (رض) ، ابن الارت روایت بیان کرتے ہیں ! ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے لئے نصرت طلب نہیں فرماتے ؟ ہمارے لئے دعا نہیں فرماتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص کو پکڑا جاتا ، اس کے لئے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اسے اس میں رکھ دیا جاتا ، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اسے دوٹکڑے کردیا جاتا ۔ اور لوہے کی کنگھیوں سے نوچ کر اس کی ہڈیوں سے گوشت الگ کردیا جاتا لیکن باوجود ان مشکلات کے کوئی طاقت اسے اپنے دین سے نہ روک سکتی ۔ اور اللہ کی قسم اللہ اس کام کو ضرور پورا کرے گا ۔ یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا ، لیکن اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا۔ بھیڑیا بھیڑیوں کی رکھوالی کرے گا لیکن افسوس کہ تم جلد بازی کرتے ہو۔ “ (بخاری ، ابوداؤد ، نسائی) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں ایک بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی نبی کا قصہ بیان کرتے تھے ، گویا کہ میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں ، اس کی قوم نے انہیں مارا اور لہولہان کردیا ۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کررہے تھے اور فرما رہے تھے !” اللہ میری قوم کو معاف کردے ۔ یہ لوگ جانتے نہیں۔ “ (بخاری ومسلم) یحییٰ بن وثاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک بوڑھے ساتھی سے روایت کی ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں میں رہے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرے اس مسلمان سے بہتر ہے جو لوگوں سے الگ رہے اور ان کی اذیتوں پر صبر نہ کرے۔ (ترمذی) اور اب ، تحریک اسلامی مدینہ طیبہ میں ہے ۔ کرہ ارض پر ، اسلامی نظام کے قیام کے لئے ، وہ آگے بڑھ رہی ہے ۔ کیوں نہ بڑھے ! یہ روز اول سے اس کا مقسوم مقدر تھا ۔ اس نے حق کا علم اٹھالیا اور اس علم کو لے کر ایک طویل دشوار گزار سفر پر روانہ ہورہی ہے ۔ قرآن مجیدروحانی طور پر اسے تیار کررہا ہے اس عظیم تحریک جہاد کے دوران کھینچاتانی ہوگی ، مصائب حائل ہوں گے اور ان مجاہدین کو اپنی جانوں اور مالوں کی قربانی دینی ہوگی ، لہٰذا قرآن مجید یہاں انہیں ایک صحیح نقطہ نظر اور ایک درست نقطہ نظریہ حیات عطا کرتا ہے ۔ قرآن تحریک اسلامی کو ایک ایسا معیار ، ایسی کسوٹی ایک ایسی میزان عطا کرتا ہے ، جس پر وہ اس طویل اور کٹھن سفر میں اپنے تمام معاملات اور اپنی تمام اقدار کو پرکھ سکیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد مانگنے کا حکم اس سے پہلی آیت میں ذکر اور شکر کا حکم فرمایا اور اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ صبر اور صلاۃ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔ لفظ صبر کا لغوی معنی رکنے اور ٹھہر جانے کا ہے۔ شریعت میں یہ لفظ تین معنی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اول اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور طاعت و فرما نبرداری پر لگائے رہنا دوم اپنے نفس کو گناہوں سے روک کر رکھنا۔ سوم آفات اور مصائب پر جو تکلیف ہوا سے سہ جانا اور اس طرح سے گزر جانا کہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر پر راضی ہو اور اللہ تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہ کرے اور دکھ تکلیف اور مصیبت پر ثواب کا امید وار رہے عام لوگ صبر صرف تیسرے معنی ہی کے لیے استعمال کرتے ہیں پہلے دو معنی کی طرف ان کا ذہن نہیں جاتا حالانکہ یہ تینوں صورتیں صبر کا جزو ہیں اور صبر کے مفہوم میں شامل ہیں اور تینوں میں مشترک امر وہی ایک بات ہے یعنی نفس کو دبانا اور ہر اس بات سے روکنا جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو۔ جو شخص بھی صبر کے ان تینوں طریقوں کو اختیار کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نصرتیں اس پر نازل ہوں گی۔ سورة زمر میں ارشاد فرمایا۔ (اِِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) کہ صابروں کو پورا پورا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔ صبر کی فضیلت اور اہمیت : درحقیقت صبر اور شکر مومن کی زندگی کے لیے (جو ایک رواں دواں سیارہ کے مشابہ ہے) پہیے ہیں اور مومن کی کوئی چیز ضائع نہیں ہے۔ آرام و راحت ہو نعمتیں ہوں یا دکھ تکلیف ہو اور کلفتیں ہوں ہر حال میں اس کے لیے نفع ہے۔ حضرت صہیب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجب ہے۔ اس کی ہر حالت خیر ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں اگر مومن کو خوش کرنے والی حالت پہنچ گئی تو اس نے شکر کیا جو اس کے لیے بہتر ہوا اور اگر اس کو تکلیف دینے والی حالت پہنچ گئی تو اس نے صبر کیا یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوا۔ (رواہ مسلم ص ٤١٣ ج ٢) صحیح بخاری ص ٩٥٨ ج ٢ میں ہے کہ ولن تعطوا عطاء خیر او اوسع من الصبر (یعنی تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ ) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو چار چیزیں عطا کردی گئیں اسے دنیاو آخرت کی بھلائی دے دی گئی۔ ١۔ شکر گزار دل، ٢۔ ذکر کرنے والی زبان۔ ٣۔ مصیبت پر صبر کرنے والا بدن، ٤۔ ایسی بیوی جو اپنی جان کے بارے میں اور شوہر کے مال کے بارے میں شوہر کی خیانت نہ کرے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ ص ٢٨٣) صبر میں تھوڑی سی تکلیف تو ہوتی ہے مگر اس کے بعد نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ کچھ ملتا ہے جس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ تکلیفیں تو سبھی کو پہنچتی ہیں۔ مومن ہو یا کافر نیک ہو یا بد۔ فرق اتنا ہے کہ جو لوگ صبر کرلیتے ہیں وہ ثواب بھی لیتے ہیں اور آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد رحمت اور نصرت کے دروازے بھی ان کے لیے کھل جاتے ہیں۔ جو لوگ صبر نہیں کرتے واویلا کرتے ہیں چیختے چلاتے ہیں۔ اللہ پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کی قضا اور قدر پر راضی نہیں ہوتے تکلیف بھی اٹھاتے ہیں اور ثواب سے بھی محروم ہوتے ہیں اور اللہ پر اعتراض کر کے کافر ہوجاتے ہیں۔ اور درحقیقت اصل مصیبت زدہ وہی لوگ ہیں جو ثواب سے بھی محروم رہتے ہیں۔ وانما المصاب من حرم الثواب۔ (رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ) جس نے اپنی تکلیف پر صبر کرکے ثواب لے لیا آخرت میں درجات بلند کروا لیے اس کی تکلیف کوئی تکلیف نہیں ہے کیونکہ اسے اس تکلیف کی قیمت مل گئی۔ دنیا میں دیکھتے ہیں کہ مہینہ بھر ملازمت کی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ مزدور دن بھر دھوپ میں کام کرتے ہیں لیکن چونکہ ان سب کا معاوضہ مل جاتا ہے اس لیے یہ تکلیف خوشی سے برداشت کرلیتے ہیں اور اس کو تکلیف سمجھا ہی نہیں جاتا۔ دفع مصائب کے لیے نماز : صبر کے ساتھ نماز کا تذکرہ بھی فرمایا اور نماز کے ذریعہ بھی مدد حاصل کرنے کا حکم فرمایا۔ نماز بھی اللہ کی مدد اور نصرت لانے کے لیے بہت بڑی چیز ہے۔ اور ہر طرح کی پریشانیاں دور کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی مشکل پیش آجاتی تھی تو نماز میں مشغول ہوجاتے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١١٧) نماز فرض کا تو بہر حال اہتمام ہوتا ہی تھا۔ مشکلات سے نکلنے کے لیے اور حاجات پوری کرانے کے لیے آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خصوصیت کے ساتھ نفل نماز میں مشغول ہوجاتے تھے صلوٰۃ الحاجت، صلوٰۃ الاستخارہ۔ صلوٰۃ التوبہ۔ صلوٰۃ الاستسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) یہ سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں۔ جو اللہ کی رحمت اور نصرت کرنے کے لیے مشروع کی گئی ہیں۔ اس سلسلہ کی بعض روایات آیت کریمہ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَ الصَّلوٰۃِ ) کے ذیل میں گزر چکی ہے لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ کوئی مصیبت آجائے دنیا بھر کی تدبیریں کرتے ہیں اور مخلوق سے مدد چاہتے ہیں لیکن صبر اور صلوٰۃ کو مدد حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بناتے بلکہ اس کے برعکس بےصبری کرتے ہیں اور تھوڑے بہت چند افراد جو نمازیں پڑھتے ہیں وہ فرض نمازیں بھی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ نفل نمازوں میں لگنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ اور جن گناہوں میں مبتلا تھے ان سب گناہوں میں بھی لگے رہتے ہیں۔ پھر رحمت اور نصرت کیسے ملے ؟ آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہے۔ صابروں کے لیے یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہے۔ اگر حکومت کا کوئی معمولی درجہ کا آدمی بھی یقین دلا دے کہ فکر نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں تو اس سے بڑی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ طبیعت میں بڑا اطمینان ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ نے جو وعدہ فرمایا کہ میں صبر والوں کے ساتھ ہوں اس وعدہ پر عموماً لوگ یقین نہیں رکھتے اور صبر کے موقع میں بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ درحقیقت مومن کو کسی بھی جگہ ناکام ہونے اور گھبرانے کا کوئی موقع نہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر میں اور صبر و صلاۃ میں لگا رہے پھر اس کے لیے کامیابی ہی کامیابی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے ایمان والو ! تم محنت اٹھانے اور تکلیف برداشت کرنے اور نماز پڑھنے سے قوت اور سہارا حاصل کرو اور صبرو نماز سے مدد لو۔ اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ صبرکرنیوالوں کے ساتھی اور ہمراہی ہیں اور وہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ (تیسیر) چونکہ اوپر کی آیت میں شکر بجا لانے اور نا شکری اور ناسپاسی سے بچنے کا حکم فرمایا تھا شکرنام ہے اطاعت گزاری اور فرمانبرداری کا اور کفرنام ہے ترک شکر یعنی معصیت اور نافرمانی کا اور چونکہ ان دو باتوں کے بجا لانے میں انسان کو مختلف قسم کی تکالیف کا سامنا ہوتا ہے حکم کی بجا آوری میں بھی محنت اور حنطوظ نفس کو ترک کرنے میں ب ھی تکلیف اس لئے ان دونوں باتوں کے سہل اور آسان ہونے کا طریقہ تعلیم کرتے ہیں کہ صبر کے خوگر اور نماز کے عادی ہوجائو اور ان دونوں چیزوں سے استعانت اور مدد حاصل کرو تو شکر کی بجا آوری اور کفر سے حافظ ہوجائیگی یا ربط کی تقریریوں ہوسکتی ہے کہ اوپر دشمنوں کے طعن وتشنیع کا ذکر کیا تھا اور ان کے اعتراضات بیان کئے تھے۔ جہاں تک معترضین کے جوابات کا تعلق تھا اور دلائل کے ساتھ ان کا رد کرنا تھا وہ تو اوپر بیان کردیا اور جہاں تک مسلمانوں کو ان لغو اعتراضات اور بےہودہ طعن وتشنیع سے تکلیف پہنچنے کا تعلق ہے اس کا مداوا اس آیت میں بیان فرماتے ہیں کہ صبر کی عادت ڈالو اور نماز کے پابند رہو تو اس قسم کے طعن وتشنیع اور اعتراضات سے جو اثر طبائع پر ہوتا ہے وہ زائل ہوجائیگا نیز یہ کہ اوپر ذکرکا بیان تھا اور نماز خود ایک مستقل ذکر ہے اور ایسا ذکر ہے جو معاصی اور منیہات سے روکتی ہے اس لئے لا تکفرون کا علاج بھی ہے اور صبرچون کہ مختلف قسم کی چیزوں پر ہوتا ہے ایک طعن وتشنیع پر صبر ہے ایک مار پیٹ پر صبر ہے ایک قتل پر صبر ہے جو عام طورپر میدان جہاد میں پیش آتا ہے جس طرح مصائب میں کمی بیشی ہے اسی طرح صبر اور اس کے اجر میں کمی اور زیادتی ہے۔ غرض آگے کی آیتوں میں کچھ مصائب و آلام کا ذکر ہے امتحان اور ابتلا کا اظہار ہے اور بعد میں بشارت اور ثواب کا اعلان ہے اور یہ چیز مھتدون تک مسلسل ہے۔ نیزان آیات ما سبق میں ایک بات بالکل صاف اور نمایاں تھی کہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک تبلیغی اور اپنے پروگرام کو دنیا سے تسلیم کر انیوالی جماعت ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی جماعت سے باطل کی ہر قوت ٹکراتی اور اس کو پاش پاش کرنی کی فکر کرتی ہے اس لئے نہ معلوم مسلمانوں کو کہاں کہاں اور کس کس سے مقابلہ کی نوبت آئے اور کس قدر جانی اور مالی نقصان برداشت کرنے پڑیں۔ اس لئے ہر قسم کے چھوٹے بڑے نقصانات اور مصائب اور ان کے اجر کو بتایا تاکہ مسلمانوں میں ان سب مصائب کو برداشت کرنے کی استعداد پرورش پائے اور وہ اس روشنی میں ہر امتحان میں پامردی کا ثبوت دیں اور ثابت قدم رہ کر اجرو ثواب کے مستحق ہوں۔ اگر آپ آگے کی آیتوں کا ترجمہ پڑھیں گے تو ربط آیات اور ان کا مطلب سمجھنے میں آسانی ہوگی اور انشاء اللہ بڑی مدد ملے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے اشارت ہے کہ جہاد میں محنت اٹھائو اور مضبوطی اختیارکرو ۔ (موضح القرآن) (تسہیل)