Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 168

سورة البقرة

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ ۖوَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾

O mankind, eat from whatever is on earth [that is] lawful and good and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.

لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راہ پر مت چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Order to eat the Lawful Things, and the Prohibition of following the Footsteps of Shaytan After Allah stated that there is no deity worthy of worship except Him and that He Alone created the creation, He stated that; يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي الاَرْضِ حَلَلاً طَيِّباً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ... O mankind! Eat of that which is lawful and good on the earth, and follow not the footsteps of Shaytan (Satan). Allah stated that He is the Sustainer for all His creation, and He mentioned a favor that He granted them; He has allowed them to eat any of the pure lawful things on the earth that do not cause harm to the body or the mind. He also forbade them from following the footsteps of Shaytan, meaning his ways and methods with which he misguides his followers, like prohibiting the Bahirah (a she-camel whose milk was spared for the idols and nobody was allowed to milk it), or Sa'ibah (a she-camel let loose for free pasture for the idols and nothing was allowed to be carried on it), or a Wasilah (a she-camel set free for idols because it has given birth to a she-camel at its first delivery and then again gives birth to a she-camel at its second delivery), and all of the other things that Shaytan made attractive to them during the time of Jahiliyyah. Muslim recorded Iyad bin Himar saying that Allah's Messenger said that Allah the Exalted says, إِنَّ كُلَّ مَالٍ مَنَحْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلَلٌ وَفِيهِ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُم `Every type of wealth I have endowed My servants is allowed for them...' (until), `I have created My servants Hunafa' (pure or upright), but the devils came to them and led them astray from their (true) religion and prohibited them from what I allowed for them.' Allah said: ... إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ...he is to you an open enemy. warning against Satan. Allah said in another instance: إِنَّ الشَّيْطَـنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوّاً إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُواْ مِنْ أَصْحَـبِ السَّعِيرِ Surely, Shaytan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the blazing Fire. (35:6) and, أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِى وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِيْسَ لِلظَّـلِمِينَ بَدَلاً Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me while they are enemies to you! What an evil is the exchange for the Zalimin (polytheists, and wrongdoers, etc). (18:50) Qatadah and As-Suddi commented on what Allah said: وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ (...and follow not the footsteps of Shaytan (Satan), Every act of disobedience to Allah is among the footsteps of Satan. Abd bin Humayd reported that Ibn Abbas said: "Any vow or oath that one makes while angry, is among the footsteps of Shaytan and its expiation is that of the vow. " Allah's statement: إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاء وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ

روزی دینے والا کون؟ اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لئے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے ، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں ، میں تمہیں روکتا ہوں کہ شیطان کی راہ پر نہ چلو جس طرح اور لوگوں نے اس کی چال چل کر بعض حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں ، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پروردگار عالم فرماتا ہے میں نے جو مال اپنے بندوں کو دیا ہے اسے ان کے لئے حلال کر دیا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا مگر شیطان نے اس دین حنیف سے انہیں ہٹا دیا اور میری حلال کردہ چیزوں کو ان پر حرام کر دیا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جس وقت اس آیت کی تلاوت ہوئی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا حضور میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری دعاؤں کو قبول فرمایا کرے ، آپ نے فرمایا اے سعد پاک چیزیں اور حلال لقمہ کھاتے رہو ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں قبول فرماتا رہے گا قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے حرام کا لقمہ جو انسان اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے اس کی نحوست کی وجہ سے چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی جو گوشت پوست حرام سے پلا وہ جہنمی ہے ۔ پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ، جیسے اور جگہ فرمایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو اسکی اور اس کے دوستوں کی تو یہ عین چاہت ہے کہ لوگوں کو عذاب میں جھونکیں اور جگہ فرمایا آیت ( اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا ) 18 ۔ الکہف:50 ) کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو؟حالانکہ حقیقتا وہ تمہارا دشمن ہے ظالموں کے لئے برا بدلہ ہے آیت ( خطوات الشیطان ) سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت ہے جس میں شیطان کا بہکاوا شامل ہوتا ہے شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق کے پاس جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک مینڈھا ذبح کر دے ورنہ نذر شیطان کے نقش قدم سے ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دن بکرے کا پایا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا ، آپ نے فرمایا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھاؤنگا آپ نے پوچھا کیا روزے سے ہو؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں آپ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنے قسم کا کفارہ دو اور کھا لو ، ابو رافع کہتے ہیں ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ کہنے لگی کہ میں ایک دن یہودیہ ہوں ایک دن نصرانیہ ہوں اور میرے تمام غلام آزاد ہیں اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے ، اب میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے آیا اس صورت میں کیا کیا جائے؟ تو آپ نے فرمایا شیطان کے قدموں کی پیروی ہے ، پھر میں حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور اس وقت مدینہ بھر میں ان سے زیادہ فقیہ عورت کوئی نہ تھی میں نے ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا یہاں بھی یہی جواب ملا ، عاصم اور ابن عمر نے بھی یہی فتویٰ ، حضرت ابن عباس کا فتویٰ ہے کہ جو قسم غصہ کی حالت کھائی جائے اور جو نذر ایسی حالت میں مانی جائے وہ شیطانی قدم کی تابعداری ہے اس کا کفارہ قسم کے کفارے برابر دے دے ۔ پھر فرمایا کہ شیطان تمہیں برے کاموں اور اس سے بھی بڑھ کر زناکاری اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ سے ان باتوں کو جوڑ لینے کو کہتا ہے جن کا تمہیں علم نہ ہو ان باتوں کو اللہ سے متعلق کرتا ہے جن کا اسے علم بھی نہیں ہوتا ، لہذا ہر کافر اور بدعتی ان میں داخل ہے جو برائی کا حکم کرے اور بدی کی طرف رغبت دلائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

168۔ 1 یعنی شیطان کے پیچھے لگ کر اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام مت کرو۔ جس طرح مشرکین نے کیا اپنے بتوں کے نام وقف کردہ جانوروں کو وہ حرام کرلیتے تھے، جس کی تفصیل سورة الا نعام میں آئے گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو حنیف پیدا کیا پس شیطان نے ان کو دین سے گمراہ کردیا اور جو چیزیں میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں وہ اس نے ان پر حرام کردیں۔ (صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا باب الصفات التی یعرف بھافی الدنیا اھل الجنۃ واھل النار

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠٨] حلال سے مراد ایک تو وہ سب چیزیں ہیں جنہیں شریعت نے حرام قرار نہیں دیا۔ دوسرے وہ جنہیں انسان اپنے عمل سے حرام نہ بنا لے۔ جیسے چوری کی مرغی یا سود اور ناجائز طریقوں سے کمایا ہوا مال اور پاکیزہ سے مراد وہ صاف ستھری چیزیں ہیں جو گندی سٹری، باسی اور متعفن نہ ہوگئی ہوں۔ حرام چیزوں سے بچنے کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ ١۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک مال قبول کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا : چناچہ فرمایا آیت یٰایُّھَا الرُّسُلُ ۔۔ (اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو اور فرمایا اے ایمان والو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کر کے آیا ہو، اس کے بال پریشان اور خاک آلود ہوں وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے پروردگار ! اے میرے پروردگار ! جبکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور جس غذا سے اس کا جسم بنا ہے وہ بھی حرام ہے تو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی ؟ (ترمذی، ابو اب التفسیر) (مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب قبول الصدقۃ من کسب الطیب) ٢۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ گوشت جو مال حرام سے پروان چڑھا ہے وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اور جو بھی گوشت حرام سے پروان چڑھا اس کے لیے جہنم ہی لائق تر ہے۔ && (احمد، دارمی، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب البیوع باب الکسب و طلب الحلال فصل ثانی) ٣۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص حرام مال کمائے اور پھر اس سے صدقہ کرے تو وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا اور اگر اس سے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ (احمد، بحوالہ مشکوٰاۃ، کتاب البیوع باب الکسب و طلب الحلال، فصل ثانی) ٤۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب بیان ان اسم الصدقہ یقع علی کل نوع من المعروف) ٥۔ حضرت نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں کہتے سنا ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اب جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑگیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو کسی کی رکھ کے گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ رکھ میں جا گھسیں۔ سن لو ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے۔ سن لو ! اللہ کی رکھ اس کی زمین میں حرام کردہ چیزیں ہیں۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبراء لدینہ (مسلم، کتاب المساقاۃ باب اخذ الحلال و ترک الشبہات) ٦۔ عطیہ سعدی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک اندیشہ والی چیزوں سے بچنے کی خاطر ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی اندیشہ نہیں۔ && (ترمذی، ابن ماجہ، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال) ٧۔ حضرت حسن بن علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات یاد رکھی ہے کہ جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ اور وہ اختیار کر جو شک میں نہیں ڈالتی۔ && (احمد بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب الکسب و طلب الحلال) ٨۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔ && (بخاری، کتاب البیوع، باب مالم یبال من حیث کسب المال) [ ٢٠٩] یہاں شیطان کے پیچھے چلنے سے مراد یہ ہے جو چیزیں اللہ نے حرام نہیں کیں انہیں حرام نہ سمجھ لو، جیسے مشرکین عرب بتوں کے نام سانڈ چھوڑ دیتے تھے۔ پھر ان جانوروں کا گوشت کھانا یا ان سے کسی طرح کا بھی نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے یا کسی مخصوص کھانے پر اپنی طرف سے پابندیاں عائد کر کے اسے حرام قرار دے لیتے تھے۔ یہی صورت کسی حرام چیز کو حلال قرار دینے کی ہے۔ جیسے یہود نے سود کو حلال قرار دے لیا تھا۔ امیوں کا مال کھانا جائز سمجھتے تھے اور یہ شرک ہے۔ کیونکہ حلال و حرام قرار دینے کے جملہ اختیارات اللہ کو ہیں۔ نیز آپ ہیں۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے قریب میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب کا کوئی دوسرا نام رکھ کر اس کو حلال بنالیں گے۔ && (بخاری، کتاب الاشربہ، باب فیمن یستحل الخمر ویسمیہ بغیراسمہ) اور ابو مالک کہتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا ریشم، شراب اور باجے گاجے وغیرہ کے دوسرے نام رکھ کر انہیں حلال بنالیں گے۔ && (حوالہ ایضاً ) اور ایسی سب باتیں اللہ کی صفات میں شرک کے مترادف ہیں۔ کیونکہ حلت و حرمت کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سورة بقرہ میں ” يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ “ کے ساتھ خطاب دوسری مرتبہ کیا گیا ہے۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو ” انداد “ (شریک) بنانے کا برا انجام ذکر کیا گیا ہے۔ مشرکین ان ” انداد “ کی تعظیم و تکریم میں اتنی زیادتی کرتے کہ عبادت اور دعا میں بھی ان کو پکارتے اور ان کے نام پر بہت سے مویشی مثلاً بحیرہ، سائبہ، وصیلہ وغیرہ حرام قرار دے دیتے، ان پر نہ سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے اور ان کو اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھتے (دیکھیے انعام : ١٣٨، ١٣٩) اور دوسری طرف انھوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرایا تھا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز۔ چناچہ اس آیت میں اس طرح کے حرام ٹھہرا لینے سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا، یعنی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو اور اس کی حلال کردہ طیب چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، کیونکہ اسلام تب معتبر ہوگا جب کوئی شخص مسلمانوں کی حلال اشیاء کو حرام نہیں ٹھہرائے گا، جیسا کہ انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے وہ نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اس قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے۔ “ [ بخاری، الصلٰوۃ، باب فضل استقبال القبلۃ : ٣٩١ ] چناچہ یہاں بھی فرمایا کہ شیطان کے پیچھے لگ کر ان کو حرام نہ ٹھہراؤ، اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی ہر نافرمانی اور دین میں شامل کی ہوئی ہر وہ بات جو اللہ اور اس کے رسول نے نہیں بتائی، یعنی ہر بدعت شیطان کے قدموں کی پیروی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The meaning of the words The real meaning of the root word حلَّ (halla) in (halalan tayyiban: حَلَاً طَیِّباً : permissible and good) is &to open a knot&. In that sense, what has been made halal حلال means that a knot has been opened and the restriction has been removed. The blessed Companion Sahl ibn ` Abdullah (رض) has said: |"Salvation depends on three things - eating halal حلال ، fulfilling (Divine) obligations and following the Sunnah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .|" The word طَیَّب (tayyib) means &good& as inclusive of the clean and the pure and covers the twin aspects of being lawful, permissible or halal حلال and being naturally desirable. The word حُطُوَات (khutuwat) is the plural form of خُطوہ (khutwah) which is the distance between the two feet when striding. Here the khutuwat of Shaytan means Satanic deeds. Injunctions and Rulings 1. Polytheistic practices, such as releasing animals in the name of idols or dedicating them, whether big or small, to a saint or to anyone other than Allah has been declared unlawful in Verse 173 which follows. The present Verse (168) is not negating the unlawfulness of such an animal as wrongly conceived by some people. The objective of the verse is to stress that animals which Allah has made lawful should not be made unlawful by dedicating them to idols. Let them be what they are and use them for personal benefit. Why go about making things unlawful on your own which is a grave sin, and when it is dedicated to someone other than Allah it becomes impure and what is impure is unlawful. 2. If anyone dedicates an animal to anyone other than Allah out of ignorance or carelessness and wishes to make amends, he should resolve to retreat from his misdeed and repent on what he did, in which case, the meat of that animal will become lawful for him.

خلاصہ تفسیر : (بعض مشرکین بتوں کے نام جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضائے حق و وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے، حق تعالیٰ اس باب میں خطاب فرماتے ہیں کہ) اے لوگو ! جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے (شرعی) حلال پاک چیزوں (کی نسبت اجازت ہے کہ ان کو کھاؤ (برتو) اور (ان میں سے کسی حلال چیز سے یہ سمجھ کر پرہیز کرنا کہ اس سے اللہ راضی ہوگا یہ سب شیطانی خیالات ہیں تم) شیطان کے قدم بقدم مت چلو فی الواقع وہ (شیطان) تمہارا صریح دشمن ہے (کہ ایسے ایسے خیالات وجہالات سے تم کو خسران ابدی میں گرفتار کر رکھا ہے اور دشمن ہونے کی وجہ سے) وہ تم کو انہی باتوں کی تعلیم کرے گا جو کہ (شرعا) بری اور گندی ہیں اور یہ (بھی تعلیم کرے گا) کہ اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ جن کی تم سند بھی نہیں رکھتے (مثلا یہی کہ ہم کو خدا تعالیٰ کا اس طرح حکم ہے) معارف و مسائل : حَلٰلًا طَيِّبًا لفظ حل کے اصلی معنی گرہ کھولنے کے ہیں جو چیز انسان کے لئے حلال کردی گئی گویا ایک گرہ کھول دی گئی اور پابندی ہٹا دی گئی۔ حضرت سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نجات تین چیزوں میں منحصر ہے، حلال کھانا، فرائض ادا کرنا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی اتباع کرنا اور لفظ طیب کے معنی ہیں پاکیزہ جس میں شرعی حلال ہونا بھی داخل ہے اور طبعی مرغوب ہونا بھی خُطُوٰتِ خطوہ کی جمع ہے اتنی مقدار کو خطوہ کہتے ہیں جو دونوں قدموں کے درمیان کا فاصلہ ہے خطوات شیطان سے مراد شیطانی اعمال و افعال ہیں۔ مسئلہ : سانڈ وغیرہ جو بتوں کے نام پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں یا اور کوئی جانور مرغا بکرا وغیرہ کسی بزرگ یا اور کسی غیر اللہ کے نامزد کردیا جاتا ہے اس کا حرام ہونا ابھی چار آیتوں کے بعد وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے تحت آنے والا ہے اس آیت يٰٓاَيُّهَا النَّاس میں ایسے جانور کے حرام ہونے کی نفی کرنا منظور نہیں جیسا کہ بعضوں کو شبہ ہوگیا بلکہ مقصد اس فعل کی حرمت و ممانعت ہے کہ غیر اللہ کے تقرب کے لئے جانوروں کو چھوڑ دینا اور اس عمل کو موجب برکت و تقرب سمجھنا اور ان جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا معاہدہ کرلینا اس کو دائمی سمجھنا یہ سب افعال ناجائز اور ان کا کرنا گناہ ہے۔ تو حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جن جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے حلال بنایا ہے ان کو بتوں کے نام کرکے حرام نہ بناؤ بلکہ اپنی حالت پر چھوڑ کر کھاؤ پیو اور اگر ایسی حرکت جہالت سے ہوجائے تو اصلاح نیت کے ساتھ تجدید ایمان اور توبہ کرکے اس حرمت کو ختم کرو اس طرح ان جانوروں کو تعظیماً حرام قرار دینا تو گناہ ہوا مگر غیر اللہ کے نام پر کردینے سے یہ مردار اور نجس کے حکم میں ہوگیا، نجاست کی وجہ سے حرمت ثابت ہوگئی، مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے جہالت یا غفلت سے کسی جانور کو کسی غیر اللہ کے ساتھ نامزد کرکے چھوڑ دیا تو اس کی توبہ یہی ہے کہ اپنے اس خیال حرمت سے رجوع کرے اور اس فعل سے توبہ کرے تو پھر اس کا گوشت حلال ہوجائے گا، واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا۝ ٠ؗۖ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝ ١٦٨ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ حلَال حَلَّ الشیء حلالًا، قال اللہ تعالی: وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] ، وقال تعالی: هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] ( ح ل ل ) الحل اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ حل ( ض ) اشئی حلا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز کے حلال ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] اور جو حلال طیب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ ۔ هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ خطو خَطَوْتُ أَخْطُو خَطْوَةً ، أي : مرّة، والخُطْوَة ما بين القدمین قال تعالی: وَلا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ [ البقرة/ 168] ، أي : لا تتّبعوه، وذلک نحو قوله : وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى [ ص/ 26] . ( ح ط و ) خطوت آخطوۃ کے معنی چلنے کے لئے قدم اٹھانے کے ہیں خطوۃ ایک بار قدم اٹھانا الخطوۃ کی جمع خطوت اتی ہے ۔ قرآن میں ہے ولا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ [ البقرة/ 168] اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ۔ یعنی شیطان کی اتباع نہ کرو ۔ اور یہ آیت کریمہ : وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى [ ص/ 26] اور خواہش کی کی طرح ہے ۔ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ مبین بَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٨۔ ١٦٩) اب اللہ تعالیٰ کھیتی اور جانوروں کے حلال ہونے کو بیان فرماتے ہیں، اے مکہ والو کھیتی اور ان جانوروں کو کھاؤ، جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی قسم کی کوئی حرمت نہیں بیان کی گئی ہے، اور کھیتی اور حلال جانوروں کے اپنے اوپر حرام کرنے میں شیطان کی ملمع کاری اور اس کے وسوسوں اور خیالات کا کی پیروی نہ کرو، اس کی دشمنی واضح اور ظاہر ہے، شیطان برے کام اور گناہوں اور ایسے امور میں جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٨ (یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّبًاز) (وَّلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط) (اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ) یہ بحث دراصل سورة الانعام میں زیادہ وضاحت سے آئے گی۔ عرب میں یہ رواج تھا کہ بتوں کے نام پر کوئی جانور چھوڑ دیتے تھے ‘ جس کو ذبح کرنا وہ حرام سمجھتے تھے۔ ایسی روایات ہندوؤں میں بھی تھیں جنہیں ہم نے بچپن میں دیکھا ہے۔ مثلاً کوئی سانڈ چھوڑ دیا ‘ کسی کے کان چیر دیے کہ یہ فلاں بت کے لیے یا فلاں دیوی کے لیے ہے۔ ایسے جانور جہاں چاہیں منہ ماریں ‘ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ظاہر ہے ان کا گوشت کیسے کھایا جاسکتا تھا ! تو عرب میں بھی یہ رواج تھے اور ظہور اسلام کے بعد بھی ان کے کچھ نہ کچھ اثرات ابھی باقی تھے۔ آباء و اَجداد کی رسمیں جو قرنوں سے چلی آرہی ہوں وہ آسانی سے چھوٹتی نہیں ہیں ‘ کچھ نہ کچھ اثرات رہتے ہیں۔ جیسے آج بھی ہمارے ہاں ہندوانہ اثرات موجود ہیں۔ تو ایسے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ مشرکانہ توہماتّ کی بنیاد پر تمہارے مشرک باپ دادا نے اگر کچھ چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا تھا اور کچھ کو حلال قرار دے لیا تھا تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ تم شیطان کی پیروی میں مشرکانہ توہمات کے تحت اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام مت ٹھہراؤ۔ جو چیز بھی اصلاً حلال اور پاکیزہ و طیب ہے اسے کھاؤ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

166. The demand made here is that they should violate all those taboos in matters of food and drink which have their basis in superstitious beliefs or irrational usages.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :166 یعنی کھانے پینے کے معاملے میں ان تمام پابندیوں کو توڑ ڈالو جو توہمّات اور جاہلانہ رسموں کی بنا پر لگی ہوئی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

106: مشرکینِ عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال وحرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے مثلا مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا، مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل اِن شاء اﷲ سورۂ انعام میں آئے گی، یہ آیات ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(168 ۔ 169) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود حقیقی اور خالق مخلوقات ہونے کا ذکر فرما کر اس آیت میں اپنے رازق مطلق ہونے کا ذکر فرمایا ہے مشرکین مکہ نے اپنے رسم و رواج کے طور پر بعض جانوروں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا مثلاً وہ جانورو جن کو وہ سانڈ کے طور پر یا اس کے کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے یا وہ اونٹ کے نطفہ سے دس جھول بچوں کے پیدا ہوچکے ہوں یا اونٹنی کے پیٹ میں بعض بچوں کو مردوں کے لئے مخصوص ٹھہراتے تھے عورتوں کو وہ گوشت نہیں کھانے دیتے تھے سورة مائدہ اور انعام میں اس کا ذکر تفصیل سے آئے گا۔ اصل تو ان کی تنبیہہ میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ لیکن اب بھی جو شخص جان دار یا غیر جان دار حلال چیز کو قسم یا نذر مان کر اپنے اوپر حرام ٹھہرائے یا حرام چیز کی طرح کام میں لائے تو وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے چناچہ ایک شخص نے مسروق تابعی کے زمانہ میں اپنے لڑکے کی قربانی کرنے کی ندر مانی تو انہوں نے بجائے اس لڑکے کے ایک بکری ذبح کرنے کا فتویٰ دیا اور کہا کہ شیطان کی پیروی جس کا ذکر اس آیت میں ہے ایسی ہی نذر ہے۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) ایک روز پیوسی کا جما ہوا دودھ نمک سے کھا رہے تھے ایک شخص اور آگیا انہوں نے اس کو بھی دعوت دی اس نے انکار کیا۔ آپ نے پوچھا کیا تیرا روزہ ہے اس نے کہا نہیں میں نے اپنے جی سے عہد کرلیا ہے کہ میں پیوسی نہ کھاؤں گا آپ نے فرمایا جس شیطان کی پیروی کا آیت میں ذکر ہے وہ اسی طرح کی پیروی ہے صحیح مسلم میں عیاض بن حمار (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو چیزیں میں نے اپنے بندوں پر حلال کی تھیں۔ شیطان کے بہکانے سے وہ انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلیں ہیں ١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:168) حلالا طیبا۔ حلالا۔ مفعول ہے کلوا کا طیبا صفت ہے۔ حلالا کی۔ پاک ، ستھرا حلال۔ لاتبتعوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر، تم پیروی مت کرو۔ اتباع (افتعال) مصدر۔ خطوت الشیطن۔ مضاف مضاف الیہ۔ خطوت جمع ہے خطوۃ کی۔ وہ فاصلہ جو دو قدموں کے درمیان ہو۔ خطوۃ ایک بار قدم اٹھانا۔ خطو مادہ۔ خطوت الشیطن سے مراد شیطانی راستے ہیں مطلب یہ ہے کہ شیطان کے نقش قدم پر مت چلو۔ عدو مبین۔ موصوف و صفت۔ کھلا دشمن۔ مبین۔ ابان یبین۔ ابانۃ (باب افعال) اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ ابانۃ۔ ظاہر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ بین مادہ۔ اس سے باب افعال تفعیل، استفعال، لازم بھی آتے ہیں اور متعدی بھی اسی لئے مبین کے معنی ظاہر کرنے والا بھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 سورت بقرہ میں یا یھا الناس کے لفظ کے ساتھ خطاب یہاں دوسری مرتبہ کیا گیا ہے۔ اوپر کی آتیوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو انداد بنانے سے تحذیر کا ذکر چلا آرہا ہے۔ ، مشرکین ان انداد کی تعظیم و تکریم میں اسقدر غلو کرتے کہ عبادت ودعا میں بھی انہی کو پکارتے اور ان کے نام پر بہت سے مویشی بھی حرام قرار دے دیتے۔ ان پر نہ سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے ان کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے۔ سورة انعام 138 ۔ 139) چناچہ اس آیت میں اس قسم کی تحریمات سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا۔ صحیح مسلم میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جو مال بھی میں نے اپنے بندوں کو بخشا ہے وہ اس کے لیے حلال اور طیب ہے مگر شیاطین ان کو گمراہ کردیتے ہیں اور وہ حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں چناچہ یہاں بھی فرمایا کہ شیطان کی اتباع کر کے ان کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ سنن اور شرئع کے ماسوا معصیت۔ خطم الشیطان میں داخل۔ حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور میں یہ آیت تلاوت کی گئی تو سعد بن ابی وقاص نے عرض کیا، اللہ کے رسول ! دعا فرمایئے کہ میں مستجاب الدعوہ بن جاؤں۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ حلال اور طیب کھاؤ تو تمہاری دعاقبول ہوگی۔ (ابن کثیر) یعنی شیطان ایک طرف تو معاشرے میں اخلاقی برائیوں ( سؤ فحشاء) کو فروغ دیتے ہیں اودوسری طرف دین میں بدعات پیدا کر کے لوگوں کے عقائد و اعمال خراب کرتے ہیں۔ ہر وہ بات جو کتاب وسنت ثابت نہ ہو وہ ان تقو لو اعلی اللہ تعلمون میں داخل ہے بیان کے لیے دیکھئے سورت اعراف۔ آیت 28) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ السؤ اس برائی کو کہتے ہیں جس میں کوئی جک حد شرعی معین نہ ہو اور فحشا وہ برائی ہے جس کے ارتکاب پر حد معتین ہو۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 168 176 اسرارو معارف یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔ لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا حکم نہ ہوگا مگر تم اس بات کو اللہ کی طرف منسوب کرو گے۔ یا پھر اللہ پر اعتراضات کرتے رہو گے کہ حلال و حرام وہی ہیں جو اللہ نے مقرر فرمائے ہیں نہ یہ کہ شیطان کے بہکاوے میں آکر تم حلال کو حرام سمجھ بیٹھو اور حرام چیزوں کو حلال کہہ کر کھاتے رہو۔ کہ لوگ بعض حلال جانوروں کو بتوں کے نام کرکے چھوڑ دیتے اور ان کا کھانا حلال نہ جانتے تھے۔ کسی قدر مشابہت آج کے دور میں بھی پائی جاتی ہے۔ کہ مسلمان بھی جانوروں کو بعض بزرگوں کے نام مختص کردیتے ہیں اور پھر اپنے پر اس کو حلال نہیں سمجھتے۔ یہ سراسر ناجائز اور سخت گناہ ہے اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر مختص ہوجائے جب تک اس خیال سے توبہ نہ کی جائے حرام ہوگا اور مردار کے حکم میں ہوگا۔ لہٰذا ان کو ان کی اصلی حالت پر چھوڑ کر کھائو ، پیو ! یہی بات جب ان سے کہی جائے کہ اللہ کے احکام کی پیروی کرو تو کہتے ہیں بھلا ہم باپ دادا کے رواج کو کیوں چھوڑ دیں اور ان کی اطاعت کیوں نہ کریں۔ ان کی اطاعت ضرور کرتے لیکن اس شرط پر کہ وہ یعنی ان کے آبائو اجداد سمجھ رکھنے والے اور ہدایت یافتہ بھی تو ہوتے کہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت بن جاتی مگر حال یہ ہے کہ ان یعنی کفار کے آبائو اجداد نہ ہدایت پر تھے اور نہ ہی سمجھ رکھتے تھے کہ حق و باطل میں تمیز کرسکتے۔ تقلید : بعض لوگ یہ آیات تقلید آئمہ مجتہدین کے خلاف پڑھ دیتے ہیں جو صریحاً زیادتی ہے ، اور مدلول آیت سے فرار ، بلکہ اس آیت نے تقلید کے لئے دو شرائط پیش کی ہیں۔ ایک یہ کہ عقل رکھتا ہو احکام دین کا استخراج کرسکے اور قرآن وسنت کا علم یعنی ہدایت رکھتا ہو۔ اگر یہ دو وصف نہ ہوں تو اندھی تقلید ہوگی جو باطل ہے ورنہ حق میں تو تقلید ضروری ہے کہ خود قرآن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول موجود ہے کہ میں نے اتباع کیا اپنے آبائو اجداد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا۔ ہاں ! خلاف سنت امور میں یا فرائض وواجبات میں احکام الٰہی کے خلاف کرنا اور جاہل باپ دادوں کے رواج کو اپنانا سخت ظلم ہے۔ اس کے ساتھ اگر یہ گمان بھی رکھے کہ صحیح طریقہ یہی ہے جو مروج ہے اور احکام دین معاذ اللہ فضول ہیں تو کافر ہوگا ، جیسے آج کل عموماً کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر یہ کام سنت یا شریعت کے مطابق کروں تو نکٹی ہوگی۔ ایسا کہنے والا ایمان نہیں بچا سکتا۔ اگر خلاف سنت بھی کر گزرے تو کم از کم یہ احساس ضرور ہو کہ حق تو راہ سنت ہے میرا کام غلط ہے تاکہ ایمان تو بچ سکے۔ یہ حال تو مسلمانوں کا ہے تو سراسر باطل پہ جمے ہوئے ہیں اور اپنے کافر اجداد کی پیروی بہ نسبت احکام الٰہی ضروری خیال کرتے ہیں یہ تو ایسے گئے گزرے ہیں کہ ان پر نصیحت کا بھی اثر نہیں ہوتا جیسے کوئی شخص ایسی شے کو پکاررہا ہو جس میں سننے کی صلاحیت ہی نہ ہو ، سوائے چیخ و پکار کے ، بلکہ یہ بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں اور اس کے ساتھ انتہائی بیوقوف اور بےعقل بھی کہ سمع و بصارت کو بھی محض پیٹ بھرنے کے لئے استعمال کرنا تو شرف انسانیت نہیں ہے بلکہ یہاں تک تو سب جانور بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں ان کا مصرف اصلی تو حصول معرفت تھا جس سے یہ محروم رہے تو گویا آنکھ کان رکھتے ہوئے بھی بہرے ، گونگے اور اندھے ہی رہے۔ نیز تمہاری دماغی قوتوں کو بھی محض دنیا کمانے کے لئے ہی صرف کیا حالانکہ یہی قوتیں دلائل حقہ ، کو سمجھنے کا ذریعہ بھی تھیں تو گویا اس نے عقل کو بھی ضائع ہی کردیا۔ غذا کا اثر : اے ایمان والو ! یہ سب چیزیں میں نے تمہیں روزی میں دی ہیں اور نوع انسانی کے لئے یہ سارا نظام ہے مگر یادرکھو ! ان میں سے طیب کھائو یعنی پاکیزہ کہ حلال بھی ہو اور پاک بھی کہ طیب صرف ، حلال ہی نہ ہوگا بلکہ پاک بھی ہو۔ اصل میں انسانی مزاج غذا ہی سے تعمیر پاتا ہے حرام غذا کی ایک خاص نحوست اور کیفیت ہوتی ہے جو اللہ سے دور کرتی ہے اور شیطانی القاء کو قبول کرتی ہے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ بہت سے طویل السفر اور پریشان حال اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے اور یارب ! یارب ! پکارتے ہیں مگر کھانا پینا ، لباس ان کا حرام ہوتا ہے۔ دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟ حرام سے حاصل کی گئی قوت زبان حق بیان نہیں کرسکتی اور کان حق نہیں سن سکتے ، آنکھوں میں حیا نہیں رہتی اور دل میں نور نہیں رہتا۔ انسان پر شیطان کا اثر قوی ہوجاتا ہے اور وہ اسی کے نقش قدم پر چل نکلتا ہے۔ رزق حلال سے ایک نور دل میں پیدا ہوتا ہے حق گوئی اور حق پرستی کی قوت نصیب ہوتی ہے عبادات کے لئے دل میں ذوق پیدا ہوتا ہے اور دل کی آہ عرش تک پہنچتی ہے اور گناہ سے بےرغبتی پیدا ہوتی ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ اگر تم صری اللہ کی عبادت کرنے والے ہو تو حلال کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو اور محض اپنی طرف سے کوئی شخص قید لگا کر کسی شے کو حرام نہیں کرسکتا بلکہ حرام وہی ہیں جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ حلال و حرام : اللہ نے تو مردار ، خون ، لحم خنزیر اور وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، حرام کیا ہے کہ بنیادی طور پر تمام جانوروں کو ان قسموں میں پرکھا جاسکتا ہے جو ان میں سے ہو وہ حرام ، علاوہ ان کے سب حلال۔ سب سے پہلا ہے ھیتہ یعنی مردار۔ اس کی مصداق وہ جانور ہیں جن کے حلال ہونے کے لئے ذبح کرنا ضروری مگر وہ بغیر ذبح کے مرجائیں یا مار دیئے جائیں ، جیسے گلا گھونٹ کر یا پتھر وغیرہ سے ضرب لگاکر اور دوسری قسم مردار کی وہ ہے کہ جانور شرعی طور پر ذبح کرنے سے بھی حلال نہیں ہوتے وہ جب بھی جس حال میں مریں یا مارے جائیں مردار ہوں گے اور ان سے نفع حاصل کرنا یا کھانا جائز نہ ہوگا سوائے ان جانوروں کے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر ذئح کے حلال قرار دیئے ہیں جیسے مچھلی اور ٹڈی۔ ارشاد ہے کہ ہمارے لئے دو مردار حلال کردیئے گئے ہیں ایک مچھلی دوسری ٹڈی اور دو خون حلال کردیئے گئے ہیں جگر وطحال (ابن کثیر) ان میں بھی جو مچھلی سٹر کر پانی کے اوپر آجائے حلال نہیں رہتی۔ نیز ذبح میں ایسے جانور جو شکار کئے جائیں اگر قابو نہ آسکیں تو تکبیر پڑھ کر دھاردار چیز سے زخم لگائیں تو بغیر ذبح کے حلال ہوگا اور وہی اس کے ذبح کا حکم رکھے گا۔ مگر شرط ہے کہ چیز دھار دار ہو اور کاٹے ، توڑے نہیں۔ مثلاً تیر یا خنجر وغیرہ اگر بندوق کی گولی سے جانور مرا تو وہ اس حکم میں ہوگا جیسے لاٹھی یا پتھر کی چوٹ سے مرا ، اس لئے اس کو مرنے سے پہلے ذبح کرنا ضروری ہے۔ بیشک گولی نوکدار ہو کہ کوئی گولی ادھاردار نہیں ہوتی اور نوکدار کی نوک میں بھی کاٹنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی۔ بارود کے زور سے گوشت یا ہڈیوں کو توڑتی ہے۔ ظاہر ہے جیسے مردار کا کھانا حرام ہے اسی طرح اس سے نفع اٹھانا یا کسی دوسرے کو کھلانا بھی ناجائز۔ حتیٰ کہ جانور کو بھی مردار نہ کھلایا جائے بلکہ کسی ایسی جگہ رکھ دے جہاں سے کوئی کتا بلی وغیرہ خود اٹھا کر کھالے۔ ہاں ! مردار کی ہڈی ، کھال ، بال وغیرہ جو چیز کھانے کی نہیں ہے ان سے نفع اٹھانا جائز ہے۔ جیسے ارشاد ہے ، ” ومن اصوافھا واوبار ھا واشعارھا اثاشا وھتاعالی الی حین “۔ میں مطلقاً اجازت ہے ذبح شرط نہیں۔ ہاں ہڈی خشک ہو ، گوشت یا چربی کا اثر نہ ہو اور کھال کی دباغت کی جائے کہ یہ اثرات نہ رہیں۔ گوشت کی طرح چربی بھی حرام ہے اور مردار کی چربی سے صابن وغیرہ بنانا بھی ناجائز ۔ جیسے اکثر یورپ سے آنے والے صابن وغیرہ میں اس کا احتمال زیادہ ہے بلکہ ممکن ہے خنزیر کی استعمال ہو۔ اس لئے احتیاط ضروری ہے ہاں علم قطعی نہ ہونے کی وجہ سے گنجائش ہے مگر جن ڈبوں پہ لکھا ہو کہ اجزاء خنزیر سے شامل ہیں وہ تو قطعی حرام ہیں۔ دوسرا حرام خون ہے یہاں اگرچہ صرف لفظ دم استعمال ہوا ہے مگر سورة انعام میں ساتھ مسفوح بھی ہے یعنی بہنے والا۔ تو وہ خون جو عندالذبح بہتا ہے حرام ہوگا یازخمی جانور کے زخم سے بہنے والا۔ ہاں بعد ذبح اگر گوشت میں لگارہ گیا تو وہ اس حکم میں شامل نہیں ذبح میں حلقوم کو کاٹے اور گردن کی دونوں رگیں احتیاط سے کاٹے۔ کوئی رگ رہ نہ جائے۔ نیز گردن کو توڑ کر پیچھے مروڑ کر حرام مغز کو کٹنا مکروہ ہے۔ کہ اس کے کٹنے سے دل کی حرکت فوراً معطل ہوجاتی ہے جس سے خون کے جسم میں رہ جانے کا امکان ہے جو قصاب وغیرہ عموماً کاٹ دیتے ہیں کہ اس طرح جانور کے مرنے میں جلدی ہوجاتی ہے نیز خون کا بیچنا بھی حرام ہے۔ خون کا دینا : ایک مسئلہ دور حاضرہ ہے کہ انسانوں کا خون دیا جاتا ہے یہ ایک تو کیا اضطراراً جاتا ہے کہ اس کے بغیر مریض جانبر نہ ہوسکتا ہو۔ دوسرے ٹیکے سے لیا جاتا ہے اور ٹیکے سے رگ میں داخل کیا جاتا ہے اس میں کھانے پینے کا سوال نہیں وہ اس حکم میں نہیں آتا کہ ناجائز ہو۔ ہاں ! اس کی تجارت درست نہیں۔ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فراہم کرنا چاہیے۔ تیسری شے لحم الخنزیر یعنی کسی بھی حال میں اس کا گوشت تک حلال نہیں۔ باقی تمام اجزاء بھی باجماع امت حرام ہیں کہ یہ نجس العین ہے بلکہ اس کی اجرت لینا تک حرام ہے مثلا کوئی خنزیروں کی چربی پہ نوکر ہو یا کسی کے پالتو خنزیروں کا چوکیدار ہو یا ٹرک وغیرہ میں لاد کر پہنچائے اور اجرت لے یہ سب حرام ہے۔ یہی حکم شراب اور سود کا ہے شراب کی مزدور اور سود کی گواہی تک حرام ہیں۔ وما اھل بہ لغیر اللہ۔ چوتھی شے وہ جانور ہے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کردیا جائے۔ اس کی تین صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ کوئی جانور غیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے اور وقت ذبح اسی کا نام لیا جائے یہ جانور مردار ہوگا اور اس کی کسی شے سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی بھی غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کیا جائے اور وقت ذبح اس پر اللہ ہی کا نام لیا جائے۔ یہ بھی حرام اور مردار کے حکم میں ہے اور کسی امام کا اس میں اختلاف نہیں۔ خواہ ہندو یا غیر مذاہب بت یا دیوی دیوتائوں کو خوش کرنے کے لئے کریں یا مسلمان پیروں ، بزرگوں اور اولیاء اللہ کو خوص کرنے کے لئے۔ حکم دونوں کا ایک ہے کہ دونوں میں تقرب غیر اللہ کا مقصود ہے اشتراک علت سے حرام ہوگا۔ نیز یہ وماذبح علی النصب کے حکم میں آکر بھی حرام ہوگا کہ ” نصب “ ان تمام کو کہا جائے گا خواہ اشیاء ہوں یا افراد جن کو الہ مانا جائے یا ان کی وہ عظمت تسلیم کی جائے جو صرف اللہ کا حصہ ہے اور ایسی عاجزی ان کے سامنے کی جائے جو صرف اللہ کے لئے ہے خواہ وہ فرشتہ اور نبی ہی کیوں نہ ہو ، جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا بیٹا مانے پھرتے ہیں تو اگرچہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برحق نبی ، مگر عیسائی غیر اللہ کے پجاری قرار پائے۔ اب اگر ان کا تقرب حاصل کرنے کو جانور ذبح کریں گے ۔ خواہ ذبح کے وقت اللہ ہی کا نام لیں ، حرام ہوگا۔ یہی حال پیروں کے مرغوں اور بکروں کا ہے کہ کسی بھی بزرگ کا تقرب چاہنے کے لئے ذبح کرے گا ، حرام قرار پائے گا اور اس کا کھانا ناجائز۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی جانور اللہ کے بغیر کسی اور کے نام پر مختص کردیا جائے اور اسے ذبح کرنا یا بیچنا یا اس سے کام لینا ناجائز تصور کیا جائے۔ وما اھل بہ لغیر اللہ کے حکم میں بھی داخل ہو اور وماذبح علی النصب کے حکم میں بھی۔ ان ہی کو بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کہا گیا ہے نیز ان کے حرام سمجھنے سے جانور حرام نہیں ہوجاتا۔ اگر اس عقیدے سے توبہ کرے تو ذبح کرے یا کوئی دوسرا جو اس گمراہی میں مبتلا نہ ہو مثلاً باپ نے بکرا ، پیر کے نام چھوڑ رکھا مگر بیٹا اس خیال سے متفق نہ ہو اور اللہ کے نام پر ذبح کرے حلال ہوگا۔ ہاں ! اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس جانور کو صدقہ کرکے ثواب کسی بزرگ کو پہنچائے تو اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرے اور جو ثواب حاصل ہو وہ مرنے والے کو بخشے درست ہے نیز شرعاً یہ جانور اسی کو ملک ہوتا ہے اگر بیچ دے تو جائز ہے یا ہبہ کرے درست ہے۔ ایسے ہی وہ جانور ، جو ہندو وغیرہ مندروں پر دیتے تو چڑھاوا ہیں مگر پجاریوں کو اختیار دیتے ہیں کہ رکھیں یا بیچیں یا جاہل مسلمان مزارات وغیرہ پر دے کر مجاوروں کو اختیار دے دیتے ہیں ، ان کی خرید وفروخت جائز ہے مگر وہ چیز جو صرف قبر پر رکھ دی جائے یا مزار پر چھوڑ دی جائے تو چونکہ قبر تو مالک نہیں ہوسکتی اس لئے وہ اسی آدمی کی ملکیت رہتی ہے اس کی خریدوفروخت کے لئے مالک کی اجازت ضروری ہے۔ یہی حال نذر اور منت کے جانوروں یا مٹھائیوں کا ہے خواہ ہندو مندر میں دے یا مسلمان مزار پر ، اشتراک علیت یعنی تقرب الیٰ غیر اللہ کی وجہ سے وما اھل لغیر اللہ میں داخل ہو کر حرام ہے اور اس کا کھانا کھلانا بیچنا سب حرام ہیں۔ تفصیل کتب فقہ سے ملاحظہ ہو۔ حرام چیزوں کے بیان کے بعد ایک حکم استثنائی ہے کہ اگر کوئی شخص بھوک سے قریب المرگ ہے کہ نہ تو کھانے میں لذت کا خواہشمند ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ کھائے تو اس صورت میں ان حرام چیزوں سے بھی کھالے تو اس کے لئے کوئی گناہ نہیں یعنی یہ دونوں شرطیں پائی جائیں۔ اول تو بغیر اس شے کے کوئی چیز دستیاب نہیں اور پھر بغیر کھائے یا پئے موت کا اندیشہ ہے اور دوسری شرط یہ ہے کہ نہ لذت طلبی ہو نہ پیٹ بھر کے کھائے صرف اس قدر کھائے کہ موت سے بچ جائے اس صورت میں حرام حلال نہ ہوگا رہے گا حرام ہی مگر اس آدمی پر گناہ نہیں۔ فلا اثم علیہ یعنی اس پر کچھ گناہ نہیں یہی حال حرام دوائوں کا ہے کہ بغیر اس دوا کے چارہ نہ ہو۔ آدمی کو موت کا خطرہ اور اس کے بغیر کوئی صورت ممکن نہ ہو۔ محض معمولی تکلیف میں اور حلال و جائز دوائوں کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی جواز نہیں۔ یہ حکم ان ولایتی دوائوں کا ہے جن میں شراب وغیرہ نجس اشیاء کا ہونا یقینی معلوم ہو جن میں ایسے اجزاء کا وجود مشکوک ہو ان میں اور بھی گنجائش ہے مگر احتیاط بہرحال لازم ہے۔ چونکہ یہ احکام رواجات سے براہ راست متصادم ہیں اور ہر دور میں انسانی کمزوری رہی ہے کہ کسی نہ کسی شے کو آسرا بنائے رکھتا ہے اور اس پر نذر ونیاز چڑھا کر مطمئن ہوجاتا۔ نیز یہی شے راہبوں ، پادریوں اور پیروں کو اظہار حق سے مانع بھی ہے کہ ایک تو رواج سے براہ راست ٹکر لینا مشکل ہے اور دوسرے اس میں کافی آمدن بھی ہے جسے چھوڑنا آسان نہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پیشتر کی امتیں بھی اس مرض کا شکار تھیں اور علمائے سو نے اپنی آمدن کے ذرائع بنا رکھے تھے اور باطل مذاہب کی تو بنیاد ہی یہی چیزیں ہیں مشکل تو یہ تھی کہ آسمانی مذاہب کے ماننے والے بھی اس طوفات میں گھر چکے تھے۔ اور بدنصیبی یہ ہے کہ مرور زمانہ نے مسلمان کو جو اکیلا مذہب حقہ کا وارث ہے اسی دلدل میں پھینک دیا ہے چڑھادے چڑھتے ہیں۔ شیرینیاں بٹتی ہیں اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا غریب ادھار لے کر بکرا نذر کرتا ہے کہ ادھار کی مصیبت سے چھوٹ سکے مگر نادان اور دھنستا چلا جاتا ہے اور بڑی بڑی توندوں والے مزار فروش تجوریاں بھرتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو روکھی سوکھی اور صبر کی تلقین کرکے گھر میں انگریزی کھانے پکواتے ہیں اور لوگوں کو مسجد کی دعوت دے کر گھر میں عریاں فلمیں دیکھتے ہیں ایسے لوگ کب جرات کرتے ہیں کہ ان حقائق سے پردہ اٹھائیں۔ اللہ کریم نے اس جرم کو اور اس کی شدت کو یوں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ احکام الٰہی کو جو اللہ نے کتب میں نازل فرمائے ہیں چھپاتے ہیں اور اس فعل کو ذریعہ آمدن بنائے ہوئے ہیں۔ یا دولت دنیا لے کر احکام شرعی کو بدل دیتے ہیں یہ دونوں باتیں ایک سی ہیں کوئی غیر اللہ کے نام کی نیازیں وصول کرتا رہے اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا رہے کہ یہ جائز اور بہت بڑا ثواب ہے یا پیسے لے کر کوئی حکم بدل کر بتائے تو ایسے لوگ سوائے دوزخ کی آگ کے اور کچھ نہیں کھا رہے ہیں یعنی یہ مال بظاہر تو دنیا کا رزق ہے مگر اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ نار جہنم ہے۔ اگرچہ دنیا میں عام انسان کو نظر نہ آرہا ہو۔ دوسری مصیبت اس کی یہ ہے کہ ولا یکمھم اللہ یوم القیمۃ کو روز محشر اللہ کریم ان سے مطلقاً بات نہیں کریں گے اگرچہ بعض کفار اتنی اجازت تو ہوگی کہ عرض معروض کریں گے۔ اور اتمام حجت کے بعد ان پر حکم لگایا جائے گا کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہاری عرض سنی جائے بلکہ دوزخ میں داخلے کے بعد اللہ کو پکاریں گے تو جھڑک ہی سہی جواب تو پائیں گے کہ دوزخ میں بھی نامرادی کا شکار ہو۔ آئندہ مجھے پکارنے کی جرات نہ کرنا۔ مگر ایسے لوگ جو حرام کو حلال بلکہ ثواب بتا کر دولت جمع کرتے رہے ان کو یہ سزا میدان حشہ سے ہی شروع ہوجائے گی کہ خطاب الٰہی سے محروم ہوں گے اور انہیں پاک نہیں کیا جائے گا کہ حدیث شریف میں آتا ہے جب کوئی مسلمان حرام کا مال کھائے تو جو گوشت رزق حرام سے بنے گا اسے دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ پھر اللہ کریم نیا گوشت عطا فرما کر اسے جنت میں داخل فرمائیں گے کہ حرام کا کوئی ذرہ جنت میں نہ جائے گا مگر یہ لوگ اس سے بھی محروم ہوں گے۔ ولایزکیھم۔ ان کو پاک بھی نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے عذاب بھی بہت درد ناک ہوگا یعنی بہت سخت اور بہت زیادہ ایذا دینے والا عذاب۔ عام دوزخیوں کی نسبت بہت دکھ دینے والا ہوگا کہ ایسے لوگ جو گمراہی کے بدلے ہدایت کو چھوڑ دیتے ہیں گویا وہ خود معرفت الٰہی کو ٹھکرا کر عذاب الٰہی خریدتے ہیں اور یہ لوگ دوزخ پہ کس قدر صبر کئے بیٹھے ہیں۔ جاہل بزعم خود عیش کر رہے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ دوزخ کی آگ کھا کر کون سی عیش نصیب ہوگی اگرچہ یہ بہت سخت سزا ہے مگر یہ بلاوجہ نہیں بلکہ ان کا جرم بھی بہت شدید ہے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی کو نوع انسانی کے لئے باعث حیات تھی۔ مگر ان بدبختوں نے محض پیٹ بھرنے کے لئے مزارات اور تعزیے بنا کر لوگوں کو روحانی موت سے ہمکنار کیا اور مٹھائی کا لیبل لگا کر زہر کھلائی اور بجائے احقاق حق کے کتمان حق کے مرتکب ہوئے۔ یہ بہت سخت جرم تھا اور یہ پکی بات ہے کہ جو بھی اللہ کی کتاب میں بےراہ روی اور کج روی اختیار کرے وہ بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو اور اسی نسبت سے سخت ترین سزا کا حقدار۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6 کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔ تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6 اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے استعمال کی اجازت دی ہے ، جن چیزوں کی اجازت دی ہے یعنی حلال کیا ہے وہ خوشگوار، پاکیزہ ، معتدل ، صحت بخش اور روح پرور ہیں اور جن چیزوں سے منع کیا ہے یعنی ان کو حرام قرار دیا ہے وہ سب کی سب کی روح، عقل، جسم اور اخلاق و کردار کو نقصان پہنچان والی اور بدکاری و بےحیائی کی راہ کھولنے والی ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنو ! جن چیزوں کو ہم نے حلال قرار دیا ہے ان میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ، پاکیزہ چیزوں سے مراد یہ ہے کہ وہ چیزیں جو ظاہری گندگی، عقل اور اخلاق کو تباہ کرنے والی چیزیں ہیں ان کو استعمال نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کا براہ راست اثر انسان کے کردار پر پڑتا ہے ۔ اس کے برخلاف وہ چیزیں جن میں ظاہری گندگی یا باطنی گندگی ہے جن سے انسانی کردار متاثر ہوتا ہے۔ ان کو نہ کھاؤ وہ انسان کے لئے حرام قرار دے دی گئی ہیں جیسے مردار جانور، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے بجائے غیر اللہ کا نام لے کر اس کو غیر اللہ سے منسوب کیا گیا ہو قطعاً حرام ہیں۔ البتہ اگر کسی جگہ ایسی مجبوری ہو کہ ان مذکورہ چیزوں کے علاوہ کچھ ملتا ہی نہ ہو اور زندگی بچانے کا مسئلہ پیدا ہوجائے تب ان چیزوں کے استعمال کرسکتا ہے خون سے مراد خون پینا ہے کسی شدید مرض میں کوئی مومن ڈاکٹر اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر وہ کسی جانور کا کون پئے گا تو اس کی جان بچ سکتی ہے اس صورت میں تو کراہت بھی نہیں ہے اسی طرح اگر انسانی جان بچانے کے لئے کسی کو اپنا خون دیا جائے یا دوسرے کی جان بچانے کے لئے خون استعمال کیا جائے اس میں قطعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ان کو کھانے میں کوئی حر ج نہیں ہے لیکن بعض لوگوں نے خود سے بھی محض مشرکانہ توہمات کے تحت جن چیزوں کو حلال یا حرام قرار دے رکھا ہے ان کی شرعی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دیا جائے گا تو یقیناً یہ شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے برابر ہوگا۔ ۔ فرمایا گیا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ساتھ شیطان کی دشمنی کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ وہ انسان کا کھلا دشمن ہے جو ہر آن اس کو اخلاقی شکست دینے کے چکر میں لگا رہتا ہے ۔ وہ انسان سے اپنی اس کھلی دشمنی کا اعلان اللہ کے سامنے کرچکا ہے جو دشمن اتنے کھلے الفاظ میں اپنی دشمنی کا اعلان کرچکا ہو اس کے ازلی دشمن ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے اس لئے قرآن کریم میں اس کو ” عدومبین “ فرمایا گیا ہے یعنی کھلا ہوا دشمن اور فرمایا گیا کہ چھپے ہوئے دشمن سے دھوکا کھا جانا ممکن ہو سکتا ہے لیکن کھلے ہوئے دشمن سے دھوکہ کھاجانا ممکن ہو سکتا ہے لیکن کھلے ہوئے دشمن سے دھوکہ کھا جانا یہاں تک کہ اس کو اپنا دوست، اور کارساز بنا لینا، اس کے مشوروں پر چلنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ فرمایا شیطان نے لوگوں کو توحید کے راستے سے بھٹکانے کے لئے گمراہی کے راستوں کو بہت آسان بنا دیا ہے وہ بدترین بےحیائی اور بےشرمیوں کی طرف بڑے خوبصورت انداز سے دعوت دیتا ہے لیکن عقل مند وہی ہے جو اس کھلے ہوئے دشمن کے چکر میں نہ پھنسے ورنہ انسان اپنے تمام اعمال کو ضائع کر بیٹھے گا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو حلال اور پاکیزہ بنا دیا ہے ان کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جن چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے ایک مومن کو اس کے قریب بھی نہ جانا چاہئے۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اس کے بہکائے میں آکر حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا کسی طرح جائز اور مناسب نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ بعض مشرکین بتوں کے نام پر جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضاء حق وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے اس آیت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہاں پہلی آیات کے ساتھ معنوی ربط پایا جارہا ہے۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر شرک اور حرام و حلال کا مسئلہ ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ [ الانعام : ١٣٧ تا ١٤٠۔ النحل : ٣٥] آیات ملاحظہ فرمائیں۔ حلال وطیب کھانے کے بارے میں قرآن مجید نے بنی نوع انسان کے تینوں طبقات کو مخاطب کرتے ہوئے ایک جیسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ آغاز میں عوام الناس کو مخاطب کیا جارہا ہے اور اس کے بعد ٹھیک چوتھی آیت میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ سورة المومنون آیت ٥١ میں انبیاء کی مقدس جماعت کو خطاب کرتے ہوئے حلال کھانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ جب تک اس پر اپنے اپنے مقام پر سب لوگ عمل نہیں کرتے توحید کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے اور نہ معیشت کرپشن سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اس مسئلے کا تعلق بیک وقت حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ساتھ ہے۔ حقوق اللہ کے ساتھ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاک جسم کی عبادت ہی قبول کرتا ہے۔ حلال، طیب کھانے والا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی میں لذت محسوس کرتا ہے ‘ اس کے دل میں سرور، طبیعت میں استغناء، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کے ساتھ سخاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ حقوق العباد کے ساتھ تو اس کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ جب معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز اٹھ جائے تو معاشی استحاصل ‘ ڈاکہ ‘ چوری ‘ دھوکہ دہی ‘ فریب کاری کی وارداتیں عام ہوجاتی ہیں۔ جس سے معاشی ناہمواری کے ساتھ سماجی زندگی تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ اس لیے تمام لوگوں کو بیک وقت حلال، طیب کھانے کی تلقین کی جارہی ہے۔ خوراک ظاہری گندگی سے پاک نہ ہو تو جسمانی بیماریاں پیدا ہوں گی۔ کھانے اور کمانے میں شریعت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو روحانی زندگی اور اخلاقی قدریں اس قدر کمزور ہوجاتی ہیں بالآخر آدمی زندہ ہونے کے باوجود اس کے روح کی موت اور اجتماعیت بکھر کر رہ جائے گی اور یہی شیطان کا مقصد ہے۔ لہٰذا حرام کھانے والا شیطان کے قدم بقدم چلتا ہوا دنیا میں ذلیل اور حریص کہلوائے گا اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنے گا۔ اس لیے متنبہ کیا جارہا ہے کہ شیطان تمہارا ابدی دشمن ہے اس سے ہر صورت بچ کر رہنے کی کوشش کرتے رہنا اور کوئی غیرت مند آدمی اپنے دشمن کی چال میں نہیں آیا کرتا۔ حرام خوری کے نقصانات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ ‘ اَلنَّارُ أَوْلٰی بِہٖ ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند جابر بن عبد اللّٰہ ] ” حرام سے پلنے والا جسم جنت میں داخل نہ ہوگا بلکہ اسے آگ زیادہ لائق ہے۔ “ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ” لوگو ! یقیناً اللہ پاک ہے اور پاک ہی قبول کرتا ہے اور اللہ نے مومنوں کو اسی چیز کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا ہے۔ فرمایا : اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً میں اسے جاننے والا ہوں۔ اور فرمایا : اے مومنو ! ہم نے جو تمہیں رزق دیا اس میں سے پاک کھاؤ۔ “ (ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَارَبِّ یَا رَبِّ وَمَطْعَمُہٗ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہٗ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالْحَرَامِ فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذَلِکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا ] پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو لمبا سفر کرتا ہے ‘ اس کے بال پراگندہ اور پاؤں خاک آلود ہیں، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے یارب ! یارب ! کی صدائیں بلند کرتا ہے اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور وہ حرام سے پرورش پایا ہے ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول کی جائے گی ؟ “ مسائل ١۔ ہر شخص کو حلال اور پاک کھانا چاہیے۔ ٢۔ حرام کھانا شیطان کی پیروی کرنا ہے۔ ٣۔ شیطان انسان کا واضح دشمن ہے، اس کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اکل حلال کی اہمیت : ١۔ ایمان داروں کو حلال کھانے کا حکم ہے۔ (البقرۃ : ١٧٢) ٢۔ رسولوں کو اکل حلال کی تلقین۔ (المومنون : ٥١) ٣۔ تمام لوگوں کو اکل حلال کا حکم ہے۔ (البقرۃ : ١٦٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ وہی ایک معبود اور اللہ ہے ۔ وہی ایک خالق ہے اور جو لوگ دوسروں کو اللہ ہمسر بناتے ہیں ۔ ایک شدید ان کا منتظر ہے ۔ اب یہاں بیان کیا جاتا ہے کہ اپنے بندوں کا رازق بھی وہی ہے۔ حلال و حرام کے بارے میں قانون سازی کا اختیار بھی اسی کو ہے اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ وحدت الوہیت کا یہ قدرتی ثمرہ ہے ۔ جس ذات نے پیدا کیا ہے اور پھر پرورش کی ، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ حلال و حرام کے معاملے میں قانون سازی کرے اور قانون سازی اور نظریات عقائد سے ہم آہنگ ہو۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ، سوائے ان کے جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ حرام و حلال کے تعین میں صرف اللہ تعالیٰ سے راہ نمائی حاصل کرو اور ان معاملات میں سے کسی ایک میں بھی شیطان کی پیروی نہ کرو ۔ وہ تو تمہارا دشمن ہے ۔ وہ ہرگز تمہیں نیکی کا حکم نہیں دے سکتا۔ وہ تو تمہیں غلط تصورات دیتا ہے۔ غلط افعال کی ترغیب دیتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان خود اپنی مرضی سے بعض چیزوں کو حلال قرار دے اور بعض کو حرام ۔ حالانکہ اس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل وسند نہ ہو اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے انسان کو یہ زعم بھی ہو کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہ عین شریعت کے مطابق ہے ۔ جیسا کہ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ اپنے عقائد ونظریات اور افعال و اعمال کے بارے میں کرتے تھے۔ (یہ حکم کہ زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے جائز ومباح ہیں ۔ الا یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ایک سادہ اور وسیع نظریہ ہے ۔ وہ اس کائنات کے مزاج اور پھر اس میں بسنے والوں کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو پیدا انسان کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کے لئے ان کا استعمال جائز قرار دیا ہے اور یہ کہ کسی چیز کے بارے میں ممانعت کا کوئی حکم آیاہو ، یا یہ کہ کوئی حکم نہ بھی ہو تو بھی یہ عام حکم موجود ہے کہ کسی چیز کا استعمال حد اعتدال سے زیادہ نہ ہو ۔ لیکن اصل پالیسی یہ ہے کہ دنیا کی تمام پاک چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے ، تقاضائے فطرت کے عین مطابق ، تنگی ، سخت گیری اور ناجائز پابندیوں کے بغیر ۔ صرف ایک شرط ضرور ہے وہ یہ لوگوں کے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ؟ اس کا فیصلہ صرف اللہ کے پاس ہو ، کیونکہ اللہ ہی نے ان طیبات کو پیدا کیا ہے ، لہٰذا حلال و حرام کے احکامات وہ اس شیطان سے اخذ نہ کریں جو ان کا بین دشمن ہے ۔ وہ تو انہیں صرف برائی اور فحش کا حکم دیتا ہے ۔ اور بغیر کسی ثبوت ویقین کے یہ شیطان اللہ پر افتراء باندھتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف کفر کی نسبت کرکے اس کی توہین کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حلال کھانے اور شیطان کے اتباع سے پرہیز کرنے کا حکم ان آیات میں اول تو ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی جو زمین میں حلال اور پاکیزہ چیزیں موجود ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ شیطان کے قدموں کا تباع نہ کریں۔ شیطان کا اتباع کرنے اور اس کی بات ماننے میں سراسر نقصان اور خسران اور ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس کا کوئی مشورہ اور کسی بھی عمل کی ترغیب انسانوں کے لیے خیر نہیں ہوسکتی وہ تمہارا دشمن ہے اس نے دشمنی پر کمر باندھی ہوئی ہے۔ اسے دوزخ میں جانا ہے اس کی کوشش یہ ہے کہ سب بنی آدم بھی میرے ساتھ دوزخ میں چلے جائیں۔ وہ ہمیشہ برائی ہی کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور بدکاری ہی کا راستہ بتاتا ہے۔ اس کا یہ بھی کام ہے کہ تم سے شرک کرائے اور تمہیں غلط عقیدوں پر ڈالے۔ اور پھر تم سے یہ کہلوائے کہ یہ جو کچھ ہم نے کیا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے اور اس کی رضا کے لیے ہے۔ سورۃ اعراف میں فرمایا : (وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآءَ نَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بالْفَحْشَآءِ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) ” اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کا حکم نہیں دیتا، کیا خدا کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کو تم نہیں جانتے۔ “ اسباب النزول للواحدی ص ٤٣ میں ہے کہ آیت (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ ) (الایۃ) بنی ثقیف اور بنی خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان لوگوں نے کچھ کھیتیاں، کچھ جانور اپنے اوپر حرام کرلیے تھے اور جن جانوروں کو حرام کیا تھا (ان کی حرمت کے لیے کچھ شرطیں اور قیدیں لگا دی تھیں اور) ان کے نام بحیرہ سائبہ اور وصیلہ اور حام تجویز کرلیے تھے۔ سورة مائدہ اور سورة انعام کی تفسیر میں انشاء اللہ تعالیٰ ان کی تفصیلات مذکور ہوں گی۔ یہ باتیں ان کو شیطان نے بتائی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرنے کا یا حرام کو حلال کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ یہ جو تحریم و تحلیل کا سلسلہ مشرکین نے نکالا تھا اس میں شیاطین کو اور بتوں کو راضی رکھنے کے جذبات تھے۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت میں جو چیزیں حلال ہیں ان کو حرام کرلینا حلال نہیں ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی شریعت کو بدلنا ہے اور تحریف کرنا ہے۔ تحلیل و تحریم کا حق صرف اللہ ہی کو ہے : سورۃ مائدہ میں فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ) (اے ایمان والو ! اللہ نے جو چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حدود سے آگے مت نکلو۔ بلاشبہ اللہ حد سے نکلنے والوں سے محبت نہیں فرماتے) ۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ شہد پینے کے متعلق فرما دیا تھا کہ اب ہرگز نہ پیوں گا، اللہ جل شانہ نے آیت نازل فرمائی : ( ٰٓیاََیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ) ” اے نبی تم اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے۔ “ ایسی بہت سی رسمیں آج لوگوں میں موجود ہیں جن میں عملاً بلکہ اعتقاداً بھی بہت سی حلال چیزوں کو حرام سمجھ رکھا ہے۔ مثلاً ذی قعدہ کے مہینہ میں ( جسے عورتیں خالی مہینہ کہتی ہیں) اور محرم و صفر میں شریعت میں شادی کرنا خوب حلال اور درست ہے لیکن اللہ کی اس حد سے لوگ آگے نکلتے ہیں اور ان میں شادی کرنے سے بچتے ہیں۔ ماہ محرم میں میاں بیوی والے تعلق سے بچتے ہیں۔ اور بہت سی قوموں میں بیوہ عورت کے نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں اور عملاً اس کو حرام بنا رکھا ہے۔ بہت سی قوموں میں ماموں، خالہ، چچا، پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کرنے کو عملاً بلکہ اعتقاداً حرام قرار دے رکھا ہے۔ یہ سب حدود سے آگے بڑھ جانا ہے۔ جس طرح حلال کو حرام کرنا منع ہے اسی طرح حرام کو حلال کرلینا بھی منع ہے۔ حرام و حلال مقرر فرمانے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔ خواہ اس نے قرآن میں نازل فرمایا ہو یا اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی بتایا ہو۔ سورة نحل میں ارشاد ہے (وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ) ” اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا زبانی جھوٹا دعویٰ ہے ان کی نسبت یوں مت کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ گے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

307:۔ دلائل توحید اور مشرکین کے لیے تخویف اخروی کے بعد اب آگے شرک فعلی کی دونوں قسموں یعنی تحریم لغیر اللہ اور نذر لغیر اللہ یا بالفاظ دیگر تحریمات مشرکین اور نیازات مشرکین کی تردید کی گئی ہے۔ مشرکین اپنے معبودوں کو خوش کرنے کے لیے دو قسم کا شرک فعلی کیا کرتے تھے۔ ایک تو یہ وہ جانوروں کو اپنے معبودوں کے لیے نامزد اور معین کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ وہ جہاں چاہیں بلا روک گھو میں پھریں اور کھائیں پئیں۔ اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس سے ہمارے معبود ہم پر خوش اور مہربان ہوجائیں گے اور آڑے وقت ہماری مدد کریں گے اور ہمارے مال وجان میں برکت دیں گے اور ہم سے بیماری اور تکلیف دور کریں گے۔ ایسے جانوروں کے متعلق انہوں نے یہ عقیدہ بنایا ہوا تھا کہ ان کا کھانا، ان کا دودھ پینا اور ان سے کسی قسم کا انتاع جائز نہیں۔ وہ اس کے کھانے اور اس سے انتفاع کو حرام سمجھتے تھے اور ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے اس جانور کو استعمال کیا یا اسے کوئی تکلیف پہنچائی تو ہمارے معبود ہم پر ناراض ہوجائیں گے اور ہمیں تکلیف پہنچائیں گے تو یہ مشرک اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے معبودوں کی خوشی کے لیے محض اپنے وہم باطل اور خیال خام کے تحت حرام کردیتی تھے۔ حالانکہ انہیں اس کا کوئی حق نہیں تھا۔ یہ تو تحریمات مشرکین یا تحریمات لغیر اللہ ہیں۔ شرک فعلی کی دوسری قسم یہ تھی کہ وہ مصائب سے نجات اور مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے معبودوں کی نذریں اور منتیں مانتے تھے۔ مثلاً کہتے تھے کہ اگر ہمارا فلاں کام ہوگیا یا فلاں مصیبت ٹل گئی تو ہم فلاں معبود کے استھان اور اس کی عبادت گاہ پر غلہ، نقدی، کپڑا یا کوئی جانور بطور نذر ونیاز لے جائینگے یا وہاں لے جائے بغیر ہی غربا میں تقسیم کردیں گے۔ اور کھی ایسا بھی کرتے تھے کہ حاجت اور مصیبت کے بغیر ہی اپنے مال مویشی میں اپنے معبودوں کا حصہ مقرر کردیتے تھے اور اس سے ان کا یہ مقصد ہوتا تھا کہ ہمارے معبود ہم سے خوش رہیں گے اور ہمارے مال وجان میں برکت دینگے اور ہمارے مال وجان کو مصائب اور بیماریوں سے محفوظ رکھیں گے۔ یہ نذور مشرکین یا نذور لغیر اللہ کہلاتی ہیں اور ان کے متعلق مشرکین کا عقیدہ تھا کہ ان کا کھانا اور استعمال کرنا جائز ہے حالانکہ یہ چیزیں تقرب غیر اللہ کے لیے نامزد ہوجانے کی وجہ سے حرام ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسم کی تعیینات اور تخصیصات کا حکم بیان فرمایا جو مشرکین نے اپنے زعم میں جائز کر رکھی تھیں۔ چناچہ فرمایا کہ جن حلال وطیب چیزوں کو تم نے اپنے طرف سے حرام کر رکھا ہے وہ حلال ہیں ان کو کھاو اور جو نذریں نیازیں تم نے غیر اللہ کی خوشنودی اور تعظیم کے لیے مقرر کر رکھی ہیں اور انہیں تم حلال سمجھتے ہو، وہ قطعاً حرام ہیں انہیں مت کھاؤ۔ چناچہ پہلے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْاسے اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَتک تحریمات مشرکین یعنی تحریم لغیر اللہ کا حکم بیان کیا گیا ہے اور اِنَّمَا حَرَّمَسے لَفِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍتک نذر لغیر اللہ کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہ آیت ان جانوروں کی حلت کا اعلان کرنے کے لیے نازل ہوئی جن کو بعض لوگوں نے بالکل حرام کر رکھا تھا۔ یعنی بحیرہ سائبہ وغیرہ قال ابن عباس (رض) نزلت الایۃ فی الذین حرموا علی انفسہم السوائب والوصائل والبحائر (کبیر ص 113 ج 2) انھا نزلت فی ثقیت وخزاعۃ وبنی مدلج فیما حرموہ علی انفسہم من الانعام (قرطبی ص 207 ج 2) اس آیت میں حلالاً طیباً سے وہ حلال جانور مراد ہیں جو مشرکین نے اپنی طرف سے حرام کر رکھے تھے مثلاً بحیر، سائبہ وغیرہ وقد فسرھا بعضھم بالبحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام یعنی کلوا البحیرۃ واخواتھا ولا تاکلوا المیتۃ واخواتھا (تفسیر حمدی ص 37) اس مسئلہ کی مزید تحقیق سورة مائدہ رکوع نمبر 14 میں آئے گی۔ اس آیت سے تمام حلال اشیاء سے انتفاع کی اباحت ثابت ہوتی ہے۔ 308 خطوات خطوۃ کی جمع ہے یعنی نقوش قدم ای اثارہ کما حکی عن الخلیل (روح ص 29 ج 2) اور اس سے وہ تمام گمراہی کے طریقے مراد ہیں جو شیطان لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ شیطان کے نقش قدم پر مت چلو۔ اور اس کے جاری کیے ہوئے طریقوں مثلاً تحریمات لغیر اللہ وغیرہ سے پرہیز کرو۔ وھی طرائقہ ومسال کہ فیما اضل اتباعہ فیہ من تحریم البحائر والسوائب والوصائل ونحوھا (ابن کثیر ص 203 ج 1) یہ شیطان سے نفر دلانے کے لیے فرمایا۔ یعنی شیطان تو تمہارا علانیہ دشمن ہے وہ ہمیشہ تمہیں ہلاکت وتباہی کی راہ ہی بتائیگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اے لوگو ! زمین میں جو چیزیں موجود ہیں ان میں سے وہ چیزیں جو شرعاً حلال و پاکیزہ ہوں ان کو تم کھائو اور دیکھو شیطان کی پیروی نہ کرو اور اس کے قدم بقدم نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیاء خوردنی تمہارے لئے زمین میں پیدا کی ہیں ان میں سے جو شریعت نے حلال و پاکیزہ فرمائی ہیں ان کو حسب ضرورت کھانے اور استعمال کرنے کی اجازت ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ حلال چیزوں کو حرام کرکے بیٹھ جائو اور ان کا کھانا ترک دو جیسا کہ بعض یہود اب تک اپنی منسوخ شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھ رہے ہیں یا بعض عرب کے قبائل بعض جانوروں کو بتوں کیلئے خاص کرلیتے تھے اور ان کی سواری اور ان کے گوشت کو حرام سمجھتے تھے یا جیسے مشرکین ہند گائے کو قابل تعظیم سمجھ کر اسکا گوشت نہیں کھاتے یا بعضے جاہل اپنی یا اپنے عزیزوں کی بیماری کی وجہ سے اپنے پر بعض ماکولات اور مشروبات کو حرام کرلیتے ہیں یا جیسے بعض لوگ غصہ میں کسی چیز کے کھانے پر قسم کھالیتے ہیں اور اس چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں یا جیسے بعض جاہل صوفی ٹھنڈا پانی یا لذیذ کھانوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں اور اسکی اعلیٰ درجہ کی ریاقت و عبادت سمجھتے ہیں تحریم کے یہ سب طریقے حرام ہیں جو چیزیں شریعت محمدیہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام کرنیکا حق کسی کو نہیں ہے۔ حلال کے ساتھ طیب کی قید بھی لگائی۔ بعض حضرات نے طیب سے خوش ذائقہ اور لذیذ اشیاء مراد لی ہیں یعنی جو چیز شرعاً حلال ہو اور مرغوب طبع اور لذیر بھی ہو اگر طیب کے یہ معنی کئے جائیں تو دائوں کو مستثنیٰ کرنا ہوگا کیونکہ دوا کا استعمال جائز ہے اور بسا اوقات دوا مرغوب طبع اور لذیذ نہیں ہوتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ چیز چلال و طیب نہ ہو تو فی حد ذاتہ حرام ہو جیسے شراب، خون، مردار وغیرہ اور نہ کسی عارض کیوجہ سے اس میں حرمت آتی ہو جیسے رشوت، غصب، سود، اسیاء مسروقہ وغیرہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے بارگارہِ رسالت میں ایک دفعہ درخواست کی تھی یا رسول اللہ ؐ میرے لئے دعا کر دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مستجاب الدعوات کردے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے سعد میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بعض دفعہ انسان حرام کا ایک لقمہ کھا لیتا ہے اور اس کی دعا اس حرام کے لقمہ کی وجہ سے چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی جس شخص کا گوشت اور رشوت سود کے مال سے بڑھے گا اس کے لئے دوزخ کی آگ ہی سزا وار ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جس طرح بتوں کی عظمت اور ان کے احترام کی وجہ سے کسی جانور یا کسی کھیت کو یا کسی جانور کے دودھ کو یا کسی مادہ کے اس بچہ کو جو پیٹ میں ہو حرام سمجھنا ایک شیطانی اور مشرکانہ فعل ہے۔ اسی طرح کسی سانڈ کو یا بکرے اور مرغ کو تقرب کی نیت سے غیر اللہ کے نام پر نامزد کرنا بھی ایک حرام فعل ہے اور یہ بھی حلال کو حرام کرنی کی ایک صورت ہے جسکی تفصیل انشاء اللہ چند آیتوں کے بعد آجائیگی مطلب یہ ہے کہ خواہ کوئی ایسا فعال کیا جائے جس سے حلال جانور حرام ہوجائے اور اس میں حرمت آجائے یا غیر اللہ کی تعظیم اور تقرب کی نیت سے کسی حلال کو اپنے اوپر حرام کرلو یہ دونوں صورتیں غیر شرعی اور خطوات شیطان سے ہیں۔ غرض جو ماکولات و مشروبات حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی ہیں ان کو کھائو پیو، بشرطیکہ ان میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو خطوۃ یا خطوۃ اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو چلنے والے کے دونوں قدم کے درمیان ہوتا ہے یعنی ایک قدم اٹھا کر دوسرا قدم رکنے کے مابین کا فاصلہ لیکن چونکہ اب یہ پیروی کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عرب کے لوگوں نے دین ابراہیم (علیہ السلام) کو کئی طرح بگاڑا تھا اول سوائے خدا کے اوروں کو پوجنے لگے اور ان کی نیاز جانور ذبح کرنے لگے کہ وہ مردار ہوتا ہے اور کفر ہے اور مواشی میں سے کئی چیزیں حرام ٹھہریں سورة مائدہ اور انعام میں جن کا بیان ہے اور گوشت خوک حلال سمجھا ان باتوں پر اللہ تعالیٰ ان کو الزام دیتا ہے۔ (موضح القرآن) اب آگے شیطان کا طریقہ کار کا ذکر ہے کہ وہ کیسی بری باتوں پر انسان کو ابھارتا اور آمادہ کرتا ہے۔ (تسہیل)