Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 169

سورة البقرة

اِنَّمَا یَاۡمُرُکُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَ الۡفَحۡشَآءِ وَ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾

He only orders you to evil and immorality and to say about Allah what you do not know.

وہ تمہیں صرف برائی اور بےحیائی کا اور اللہ تعالٰی پر ان باتوں کے کہنے کا حکم دیتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He (Satan) commands you only what is evil and Fahishah (sinful), and that you should say about Allah what you know not. The verse means: `Your enemy, Satan, commands you to commit evil acts and what is worse than that, such as adultery and so forth. He commands you to commit what is even worse, that is, saying about Allah without knowledge.' So this includes every innovator and disbeliever.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢١٠] چونکہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ لہذا وہ ہمیشہ تمہیں کوئی بری بات یا بےشرمی یا بےحیائی کی بات ہی سمجھائے گا۔ وہ بھی اس طرح کہ تمہاری نظروں میں وہ بھلی معلوم ہو۔ [ ٢١١] یعنی خود ساختہ رسموں اور پابندیوں کے متعلق یہ سمجھنا یا تاثر دینا کہ یہ اللہ کے احکام ہیں جبکہ ان کے من جانب اللہ ہونے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو، اللہ کے ذمہ جھوٹ لگانے کے مترادف ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

” اَلسُّوْءُ “ سے مراد کوئی بھی برائی ہے اور ” اَلْفَحْشَاءُ “ وہ برائی ہے جو حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے، مثلاً حد سے بڑھا ہوا بخل (بقرہ : ٢٦٨) ، زنا (نور : ١٩، ٢١) ، چوری، شراب اور قتل وغیرہ۔ یعنی شیاطین ایک طرف تو معاشرے میں اخلاقی خرابیوں ” اَلسُّوْءُ وَالْفَحْشَاءُ “ کو فروغ دیتے ہیں اور دوسری طرف دین میں بدعات پیدا کرکے لوگوں کے عقائد و اعمال خراب کرتے ہیں۔ بغیر علم کے اللہ کے ذمے کوئی بات لگانے میں ہر وہ بات شامل ہے جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ مزید دیکھیے اعراف (٢٨، ٣٣) ۔ پچھلی آیات کے لحاظ سے یہاں ” وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ “ سے مراد اللہ کے لیے شریک بنانا، شیطان کے کہنے پر اللہ کے حلال کردہ کو حرام قرار دینا، مثلاً بحیرہ و سائبہ وغیرہ اور اس کے حرام کو حلال سمجھنا، مثلاً مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز دینا، غرض اپنے پاس سے دین کی کوئی بھی بات بنا کر اللہ کے ذمے لگا دینا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The word ‘su& in السُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ means something which bothers somebody good and reasonable. The word fahsha covers what is immodest. Some commentators have said that su& here signifies sin as such, and fahsha& فَاحْشَا signifies major sins. The expression إِنَّمَا يَأْمُرُ‌كُم (innama ya&murukum: he only orders you& ) means instigating a suggestion in the heart. The meaning can be seen more clearly in a hadith from the blessed Companion ` Abdullah ibn Masud (رض) who said that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: The son of Adam آدم is influenced by a suggestion from the Satan شیطان and a suggestion from the angel. The Satanic suggestion has the effect of bringing forth the expedient gains in evil deeds and thereby opening the avenues of negating the truth, while the angelic suggestion promises reward and success for good deeds and leaves the happy effect of a heart in peace at its attestation of the truth.|"

اَلسُّوْۗءِ وَالْفَحْشَاۗءِ سوء وہ چیز جس کو دیکھ کر عقلمند شریف آدمی کو دکھ ہو، فحشاء، بےحیائی کا کام، بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ سوء سے مراد مطلق معصیت اور فحشاء سے مراد کبیرہ گناہ ہے، اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ شیطان کے امر اور حکم کرنے سے مراد دل میں وسوسہ ڈالنا ہے جیسا حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدم کے بیٹے کے قلب میں ایک شیطانی الہام و اثر ہوتا ہے اور دوسرا فرشتہ کی طرف سے شیطانی وسوسہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ برے کام کرنے کے فوائد اور مصالح سامنے آتے ہیں اور حق کو جھٹلانے کی راہیں کھلتی ہیں اور الہام فرشتہ کا اثر اور نیکی پر انعام و فلاح کا وعدہ اور حق کی تصدیق پر قلب کا مطمئن ہونا ہوتا ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْۗءِ وَالْفَحْشَاۗءِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝ ١٦٩ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے ساء ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] ، أي : قبیحا، وکذا قوله : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ، عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] ، أي : ما يسوء هم في العاقبة، وکذا قوله : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] ، وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66] ، وأما قوله تعالی: فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، وساءَ ما يَعْمَلُونَ [ المائدة/ 66] ، ساءَ مَثَلًا[ الأعراف/ 177] ، فساء هاهنا تجري مجری بئس، وقال : وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ [ الممتحنة/ 2] ، وقوله : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، نسب ذلک إلى الوجه من حيث إنه يبدو في الوجه أثر السّرور والغمّ ، وقال : سِيءَ بِهِمْ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] : حلّ بهم ما يسوء هم، وقال : سُوءُ الْحِسابِ [ الرعد/ 21] ، وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] ، وكنّي عن الْفَرْجِ بِالسَّوْأَةِ «1» . قال : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] ، فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] ، يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] ، لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما [ الأعراف/ 20] . ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ اور آیت :، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی ( طرح ) کا بدلہ دیا جائیگا ۔ میں سوء سے اعمال قبیحہ مراد ہیں ۔ اسی طرح آیت : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ان کے برے اعمال ان کو بھلے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور آیت : عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] انہیں پر بری مصیبت ( واقع ) ہو ۔ میں دائرۃ السوء سے مراد ہر وہ چیز ہوسکتی ہے ۔ جو انجام کا رغم کا موجب ہو اور آیت : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] اور وہ بری جگہ ہے ۔ وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66]( دوزخ ) ٹھہرنے کی بری جگہ ہے ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہے ۔ اور کبھی ساء بئس کے قائم مقام ہوتا ہے ۔ یعنی معنی ذم کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] مگر جب وہ ان کے مکان میں اتریگا تو جن کو ڈرسنایا گیا تھا ان کے لئے برادن ہوگا ۔ وساءَ ما يَعْمَلُونَ [ المائدة/ 66] ان کے عمل برے ہیں ۔ ساءَ مَثَلًا[ الأعراف/ 177] مثال بری ہے ۔ اور آیت :۔ سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ( تو) کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ میں سیئت کی نسبت وجوہ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ حزن و سرور کا اثر ہمیشہ چہرے پر ظاہر ہوتا ہے اور آیت : سِيءَ بِهِمْ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] تو وہ ( ان کے آنے سے ) غم ناک اور تنگدل ہوئے ۔ یعنی ان مہمانوں کو وہ حالات پیش آئے جن کی وجہ سے اسے صدمہ لاحق ہوا ۔ اور فرمایا : سُوءُ الْحِسابِ [ الرعد/ 21] ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا ۔ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ [ الرعد/ 25] اور ان کیلئے گھر بھی برا ہے ۔ اور کنایہ کے طور پر سوء کا لفظ عورت یا مرد کی شرمگاہ پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : كَيْفَ يُوارِي سَوْأَةَ أَخِيهِ [ المائدة/ 31] اپنے بھائی کی لاش کو کیونکہ چھپائے ۔ فَأُوارِيَ سَوْأَةَ أَخِي [ المائدة/ 31] کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا ۔ يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] کہ تمہار ستر ڈھانکے ، بَدَتْ لَهُما سَوْآتُهُما [ الأعراف/ 22] تو ان کے ستر کی چیزیں کھل گئیں ۔ لِيُبْدِيَ لَهُما ما وُورِيَ عَنْهُما مِنْ سَوْآتِهِما[ الأعراف/ 20] تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ۔ کھول دے ۔ فحش الفُحْشُ والفَحْشَاءُ والفَاحِشَةُ : ما عظم قبحه من الأفعال والأقوال، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] ( ف ح ش ) الفحش والفحشاء والفاحشۃ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو قباحت میں حد سے بڑھا ہوا ہو ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ اللَّهَ لا يَأْمُرُ بِالْفَحْشاءِ [ الأعراف/ 28] کہ خدا بےحیائی کے کام کرنے کا حکم ہر گز نہیں دیتا ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

167. The notion that all superstitious customs and taboos are God-given religious teachings is an example of satanic deception, pure and simple, since there is no evidence whatsoever to suggest that they are from God.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :167 یعنی ان وہمی رسموں اور پابندیوں کے متعلق یہ خیال کہ یہ سب مذہبی امور ہیں جو خدا کی طرف سے تعلیم کیے گئے ہیں ، دراصل شیطانی اِغوا کا کرشمہ ہے ۔ اس لیے کہ فی الواقع ان کے مِن جانب اللہ ہونے کی کوئی سَنَد موجود نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

السوئ۔ سوء دراصل اس شے کو کہتے ہیں جو انسان کو غمگین کرنے والی ہو۔ برائی، آفت، گناہ، برا کام۔ عیب۔ یہ سب سوء میں شامل ہیں۔ الفحشائ۔ بأساء کے وزن پر مصدر ہے۔ فحش۔ مادہ۔ الفحشاء وہ قول یا فعل جس کی برائی کھلی ہوئی ہو ۔ اور اس کا سننا یا کرنا برا لگے۔ برا کام ، بےحیائی کا کام ، زنا، قرآن مجید میں مختلف معانی میں مستعمل ہے مثلاً وہ کام جو شرعاً برا ہو۔ نجل، بیحیائی، زنا، امر قبیح۔ وان تقولوا۔ میں ان مصدریہ ہے۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اور جملہ کا عطف السوء پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور تمہیں السوئ۔ الفحشاء اور خدا پر ایسی باتیں بنانے کا حکم دیتا ہے۔ جن کا تم کو کوئی علم نہیں۔ یعنی جو تمہاری من گھڑت ہیں اور لا علمی اور جہالت کی وجہ سے ان کو احکام خداوندی سمجھنے لگتے ہو۔ تقولوا۔ قول۔ کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی کے خلاف گھڑ لینا۔ کسی پر بہتان لگانا مالا تعلمون۔ علم سے یہاں مراد علم یقینی یا علم ثابت یا لوحی ہے ۔ پس اس وعید کے تحت میں صرف کفر کے ہی نہیں بلکہ بدعت کے اقوال بھی داخل ہوجاتے ہیں (الماجدی) الا تخاذ الانداد۔ تحلیل المحرمات تحریم الطیبات (بیضاوی) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حلال کے فوائد کے بعد حرام خوری کے نقصانات بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے حرام کھانے والا بالفعل شیطان کا حکم مانتا ہے۔ شیطان تو انسان کو بےحیائی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بےاعتقادی اور بدگمانی پیدا کرتا ہے۔ حرام سے اجتناب نہ کرنا اور اپنی مرضی سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرلینا درحقیقت شیطان کی پیروی کرنے کے مترادف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ حرام کھانے پر آمادہ کرنے کے بعد شیطان کے لیے یہ کام نہایت ہی آسان ہوجاتا ہے کہ وہ حرام خور کو برائی اور بےحیائی کی طرف مائل کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا آدمی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے ضمیر میں حیا محسوس نہیں کرتا۔ جب ضمیر حیا سے خالی ہوجائے تو ظلم کرنا، کاروبار میں ہیرا پھیری، اشیاء میں ملاوٹ ‘ جھوٹ بول کر سودا بیچنا اور دوسرے کا حق مارنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کر گاہک کو دھوکہ دینے میں بھی یہ شخص باک محسوس نہیں کرتا۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےحیائی کا نقصان ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : (اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ الْاُؤلٰی إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِءْتَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إذا لم تستحی فاصنع ماشئت ] ” جو کچھ لوگوں نے پہلے انبیاء کی تعلیم سے پایا وہ یہ ہے کہ جب تجھ سے حیا ختم ہوجائے تو جو چاہے کر گزر۔ “ حرام کی دولت جب کسی گھر میں داخل ہوتی ہے تو اس میں بےحیائی کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ پردہ نشین عورتوں کے نقاب اترنا شروع ہوجاتے ہیں ‘ بچیوں کے سروں سے دوپٹے سرکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، نوجوان اچھی روایات کو چھوڑ کر بری عادات کو فیشن کے طور اپنانے میں فخر اور شرافت کے ماحول میں گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے پاس اگر مال کی فراوانی اور جوانی ہو تو وہ برائی اور بدکاری میں آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگر ان لوگوں کو سمجھایا جائے تو کچھ لوگ حد سے آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہی سب کچھ کھاپی رہے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی حرام خوری کو اللہ رب العزّت کے ذمہ لگاتے ہیں۔ جس کو قرآن مجید نے سورة النحل کی آیت ٣٥ میں مشرکوں کا کردار بتاتے ہوئے یوں بیان فرمایا ہے کہ :” مشرک کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے آباء و اجداد اللہ کے علاوہ نہ کسی کی عبادت کرتے اور نہ کسی چیز کو حرام ہی قرار دیتے۔ “ مسائل ١۔ شیطان انسان کو برائی، بےحیائی اور اللہ تعالیٰ کے متعلق غلط باتیں سکھلاتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

309 اِنَّما کلمہ حصر ہے اور مطلب یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ شیطنت ہی کرے گا۔ اس سے بھلائی یا خیر خواہی کی کوئی توقع نہیں۔ السوء سے مراد وہ افعال ہیں جو عقلاً برے اور قبیح ہوں اور الفحشاء وہ جن کو شریعت نے بھی برا ٹھہرایا ہو۔ یہاں الفحشاء سے طواف بحالت عریانی مراد ہے۔ مشرکین ننگا طواف کرنے کو بھی اپنے معبودوں کی خوشنودی کا ذریعہ سمجھتے تھے اس لیے باقی امور شرکیہ کے ساتھ اس سے بھی منع فرمایا۔ 310 یہ السوء پر معطوف ہے۔ قول بغیر علم سے یہاں خدا پر افتراء مراد ہے یعنی جس طرح شیطان دیگر برے اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح وہ دین کے بارے میں خدا پر بہتان تراشی پر اکساتا ہے جو لوگ اپنی خواہشات نفس کو دین کہتے ہیں، وہ خدا پر افتراء کرتے ہیں کیونکہ ان کی خواہشات کو خدا نے دین نہیں بنایا۔ چناچہ خدا کی حلال چیزوں کو حرام کرنا اور حرام چیزوں کو حلال ٹھہرانا اور برہنہ ہو کر طواف کرنے کو عبادت سمجھنا یہ سب خدا پر افتراء اور شیطان کا فریب ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 شیطان کا کام تو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ تم کو بری اور بےحیائی کی باتیں سکھاتا ہے اور نیز یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگائو جن کی نہ تمہارے پاس کوئی سند ہے اور نہ تم ان باتوں کی حقیقت کو جانتے ہو۔ (تیسیر) سوء سے مراد ہر قسم کے معاصی ہیں اور فحشاء سے گناہوں کی بد ترین قسم مراد ہے اس لئے فحشا کی تفسیر زنا کے ساتھ اور بخل کے ساتھ کی گئی ہے۔ بعض نے کہا سوء سے مراد وہ گنا ہے جس پر شریعت نے کوئی حد مقرر نہ کی ہو اور فحشاء سے مراد وہ گنا ہیں جن پر شریعت نے کوئی سزا اور حد مقرر کی ہو۔ بعض حضرات نے حلال و طیب کے مقابلے کی وجہ سے بری اور گندی چیزوں کے ساتھ تفسیر کی ہے اور یہ جو فرمایا کہ اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگائو جس کا تم کو علم نہیں اس کا مطلبیہ ہے کہ حلال کو حرام خود کرو اور یہ کہہ دو کہ اللہ کا حکم یہی ہے اور اس نے ہی یہ فرمایا ہے کہ بتوں کی نیاز دلوایا کرو ان کی سفارش سے تم کو میری بارگاہ میں تقرب حاصل ہوجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مسئلے اپنی طرف سے بنالو جیسے اب بھی بہت غلط العام ٹھہر رہے ہیں۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں بہت سی بدعات اور رسومات شرکیہ میں لوگ مبتلا ہیں اور ان سب رسومات قبیحہ اور بدعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف منسوب کرتے ہیں فقیر عرض کرتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب کے دور پر کیا موقوف ہے ہمارے زمانے میں بھی عوام کا یہی حال ہے کہ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کی سنت سے بےاعتنائی ہے اور بدعات کا نہایت اہتمام ہے۔ بہر حال شیطان کا یہی طریقہ کار ہے کہ وہ لوگوں کو غیر شرعی امور پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور شیطان کے وسوسہ کو لفظ امر سے تعبیر فرمایا امر کے معنی حکم دینے کے ہیں تو اس میں یہ نکتہ ہے کہ شیطان کے وسوسہ پر اس طرح کار بند ہوتے ہیں جس طرح کوئی حاکم کا حکم مانتا ہے ۔ (واللہ اعلم) اب آگے مشرکین کی ایک اور دلیل کار و فرماتے ہیں۔ (تسہیل)