Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 172

سورة البقرة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾

O you who have believed, eat from the good things which We have provided for you and be grateful to Allah if it is [indeed] Him that you worship.

اے ایمان والو !جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ ، پیو اور اللہ تعالٰی کا شکر کرو ، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to eat Pure Things and the Explanation of the Prohibited Things Allah commands; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُواْ لِلّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ O you who believe (in the Oneness of Allah ـ Islamic Monotheism)! Eat of the lawful things that We have provided you with, and be grateful to Allah, if it is indeed He Whom you worship. Allah commands His believing servants to eat from the pure things that He has created for them and to thank Him for it, if they are truly His servants. Eating from pure sources is a cause for the acceptance of supplications and acts of worship, just as eating from impure sources prevents the acceptance of supplications and acts of worship, as mentioned in a Hadith recorded by Imam Ahmad, that Abu Hurayrah said that Allah's Messenger said: يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّـبًا وَإنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُوْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ O people! Allah is Tayyib (Pure and Good) and only accepts that which is Tayyib. Allah has indeed commanded the believers with what He has commanded the Messengers, for He said: يأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ الطَّيِّبَـتِ وَاعْمَلُواْ صَـلِحاً إِنِّى بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat and do righteous deeds. Verily, I am well-acquainted with what you do. (23:51), and: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ O you who believe! Eat of the lawful things that We have provided you with. ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ He then mentioned a man, يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَملْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذلِكَ who is engaged in a long journey, whose hair is untidy and who is covered in dust, he raises his hands to the sky, and says, `O Lord! O Lord!' Yet, his food is from the unlawful, his drink is from the unlawful, his clothes are from the unlawful, and he was nourished by the unlawful, so how can it (his supplication) be accepted?" It was also recorded by Muslim and At-Tirmidhi After Allah mentioned how He has blessed His creatures by providing them with provisions, and after commanding them to eat from the pure things that He has provided them, He then stated that He has not prohibited anything for them, except dead animals.

حلال اور حرام کیا ہے؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تم پاک صاف اور حلال طیب چیزیں کھایا کرو اور میری شکر گزاری کرو ، لقمہ حلال دعا عبادت کی قبولیت کا سبب ہے اور لقمہ حرام عدم قبولیت کا ، مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ پاک چیز کو قبول فرماتا ہے اس نے رسولوں کو اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ وہ پاک چیزیں کھائیں اور نیک اعمال کریں فرمان ہے آیت ( يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ) 23 ۔ المؤمنون:51 ) اور فرمایا آیت ( يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:172 ) پھر آپ نے فرمایا کہ ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے وہ پراگندہ بالوں والا غبار آلود ہوتا ہے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاکر دعا کرتا ہے اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے لیکن اس کا کھانا پینا لباس اور غذا سب حرام کے ہیں اس لئے اس کی اس وقت کی ایسی دعا بھی قبول نہیں ہوتی حلال چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد حرام چیزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ تم پر مردار جانور جو اپنی موت آپ مر گیا ہو جسے شرعی طور پر ذبح نہ کیا گیا ہو حرام ہے خواہ کسی نے اس کا گلا گھونٹ دیا ہو یا لکڑی اور لٹھ لگنے سے مر گیا ہو کہیں سے گر پڑا ہو اور مر گیا ہو یا دوسرے جانوروں نے اپنے سینگ سے اسے ہلاک کر دیا ہو یا درندوں نے اسے مار ڈالا ہو یہ سب میتہ میں داخل ہیں اور حرام ہیں لیکن اس میں سے پانی کے جانور مخصوص ہیں وہ اگرچہ خود بخود مر جائیں تو بھی حلال ہیں ۔ آیت ( اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ) 5 ۔ المائدہ:96 ) اس کا پورا بیان اس آیت کی تفسیر میں آئے گا ۔ انشاء اللہ تعالیٰ عنبر نامی جانور کا مرا ہوا ملنا اور صحابہ کا اسے کھانا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہونا اور آپ کا اسے جائز قرار دینا یہ سب باتیں حدیث میں ہیں ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ، ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہم پر حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی کلیجی اور تلی ، سورۃ مائدہ میں اس کا بیان تفصیل وار آئے گا ۔ انشاء اللہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

172۔ 1 اس میں اہل ایمان کو ان تمام چیزوں کے کھانے کا حکم ہے جو اللہ نے حلال کی ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی تاکید ہے۔ اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی حلال کردہ چیزیں ہی پاک ہیں حرام کردہ اشیاء پاک نہیں ہیں چاہے وہ اپنے نفس کو کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگیں (جیسے اہل یورپ کو سور کا گوشت بڑا پسند ہے) دوسرا یہ کہ بتوں کے نام پر منسوب جانوروں اور اشیا کو مشرکین اپنے اوپر جو حرام کرلیتے تھے (جس کی تفصیل سورة الا نعام میں ہے) مشرکین کا یہ عمل غلط ہے اور اس طرح ایک حلال چیز حرام نہیں ہوتی تم ان کی طرح ان کو حرام مت کرو (حرام صرف وہی ہیں جس کی تفصیل اس کے بعد والی آیت میں ہے) تیسرا یہ کہ اگر تم صرف ایک اللہ کے عبادت گزار ہو تو ادائے شکر کا اہتمام کرو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢١٤] آیت نمبر ١٦٩ میں خطاب عوام الناس سے تھا۔ اس آیت میں مومنوں سے ہے۔ اسی لیے انہیں تاکید کی جا رہی ہے کہ کھانے کے بعد اللہ کا شکر بھی ادا کیا کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس سے پہلے سب لوگوں کو حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اہل ایمان کو حلال اور پاکیزہ روزی کھانے اور کمانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے لوگو ! بیشک اللہ طیب (پاک) ہے، طیب کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، اس نے ایمان والوں کو اسی چیز کا حکم دیا جس کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا، چناچہ فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) [ المؤمنون : ٥١ ] ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔ “ اور فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ) [ البقرۃ : ١٧٢ ] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، بکھرے بالوں والا ہے، گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے، آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے : ” اے میرے رب ! اے میرے رب ! “ (اور صورت حال یہ ہے کہ) اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اسے جو غذا دی گئی ہے وہ بھی حرام تو بھلا اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی ؟ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب و تربیتہا : ١٠١٥، عن أبی ہریرۃ (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Earlier, the aim was to correct the error made by the mushrikin مشرکین when they made unlawful what was good and permissible. Now, in the present Verse (172), the believers are being warned against falling into the same error. As a corollary, they are reminded of Allah&s blessings and are taught to be grateful to Him. Later, in Verse 173 it is said that the prohibited must remain pro¬hibited and should never be treated as lawful, something the mushri¬kin used to do when they ate carrion or animals slaughtered in a name other than that of Allah. Also implied is the warning that it is an error to declare any animal, other than those specified, as unlawful. Comments on juristic details follow. The effects of eating Halal حلال and Haram حرام Verse 172 forbids eating that which is Karam and along with it, allows eating that which is halal in all gratefulness to Allah. The reason is that the act of eating haram promotes evil instincts, kills the taste of ` ibadah and makes the prayers ineffective. In contrast, eating halal generates inner light, creates a distaste for evil deeds, leads towards high morals, and creates a state in which the heart welcomes ` ibadah and finds the very thought of sin sickening and of course, prayers are answered. Therefore, Allah Almighty has told all his prophets to eat from what is good and do what is righteous: یأَيُّهَا الرُّ‌سُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًاً 0 Messengers, eat of the good things and do the righteous. (23:51) This shows that eating and using what is halal حلال plays a vital role in doing what is good and virtuous. Similarly, living by the halal حلال helps the chances of a prayer being answered while living by the haram حرام kills those chances. The Holy Prophet has said that there are many people, tired and distressed, who stretch their hands in prayer before Allah fervently calling &0 Lord, 0 Lord, yet haram حرام is what they eat, haram حرام is what they drink and haram حرام is what they wear, how then, under these conditions, could they hope to have their prayers answered?& (The Sahih, Muslim, and Tirmidhi as quoted by Ibn Kathir)

خلاصہ تفسیر : اوپر اکل طیبات کے معاملہ میں مشرکین کی غلطی بتلا کر ان کی اصلاح مقصود تھی آگے اہل ایمان کو اس بات سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس غلطی میں مشرکین کی موافقت نہ کرنے لگیں اسی کے ضمن میں اہل ایمان کو اپنے انعامات کا ذکر اور اس پر ادائے شکر کی تعلیم بھی ہے۔ اے ایمان والو ! (ہماری طرف سے تم کو اجازت ہے کہ) جو (شرع کی رو سے) پاک چیزیں ہم نے تم کو مرحمت فرمائی ہیں ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ (برتو) اور (اس اجازت کے ساتھ یہ حکم ہے کہ) حق تعالیٰ کی شکر گذاری کرو (زبان سے بھی ہاتھ پاؤں سے خدمت وطاعت بجا لاکر بھی اور دل سے ان نعمتوں کو منجانب اللہ سمجھ کر بھی) اگر تم خاص ان کے ساتھ غلامی کا تعلق رکھتے ہو (اور یہ تعلق ہونا مسلم اور ظاہر ہے پس وجوب شکر بھی ثابت ہے) ربط : اوپر تو اس کا بیان تھا کہ حلال کو حرام مت کرو آگے یہ مذکور ہوتا ہے کہ حرام کو حلال مت سمجھو جیسا کہ مشرکین اس میں مبتلا تھے مثلاً مردار جانور اور ایسے جانور جن کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو مشرکین ان کو کھایا کرتے تھے اس سے منع کیا گیا اسی کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ کے نزدیک فلاں فلاں جانور حرام ہیں ان کے سوا دوسرے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا غلطی ہے اس سے پچھلے مضمون کی تائید ہوگئ۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر صرف (ان چیزوں کو) حرام کیا ہے (اور ان چیزوں کو حرام نہیں کیا جن کو تم اپنی طرف سے حرام کر رہے ہو جیسا کہ گذرا یعنی) مردار (جانور) کو (جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مرجاوے) اور خون کو (جو بہتا ہو) اور خنزیر کے گوشت کو (اسی طرح اس کے سب اجزاء کو بھی) اور ایسے جانور کو جو (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (ان سب کو بیشک حرام کیا ہے) پھر بھی (اس میں اتنی آسانی رکھی ہے کہ جو شخص (بھوک سے بہت ہی) بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو (کھانے میں) طالب لذت ہو اور نہ (قدر ضرورت و حاجت سے) تجاوز کرنے والا ہو تو (اس حالت میں ان چیزوں سے کھانے میں بھی) اس شخص پر کچھ گناہ نہیں ہوتا واقعی اللہ تعالیٰ ہیں بڑے غفور ورحیم (کہ ایسے وقت میں یہ رحمت فرمائی کہ گناہ کی چیز میں بھی گناہ اٹھا دیا) معارف و مسائل : حلال کھانے کی برکت اور حرام کھانے کی نحوست : آیات مذکورہ میں جیسے حرام کھانے کی ممانعت کی گئی ہے اسی طرح حلال طیب چیزوں کے کھانے اور اس پر شکر گذار ہونے کی ترغیب بھی ہے کیونکہ جس طرح حرام کھانے سے اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں عبادت کا ذوق جاتا رہتا ہے دعاء قبول نہیں ہوتی اسی طرح حلال کھانے سے ایک نور پیدا ہوتا ہے، اخلاق رذیلہ سے نفرت، اخلاق فاضلہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، عبادت میں دل لگتا ہے گناہ سے دل گھبراتا ہے دعاء قبول ہوتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب رسولوں کو یہ ہدایت فرمائی ہے، (آیت) يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (٢٣: ٥١) اے ہمارے رسولو ! تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، اس میں اشارہ ہے کہ نیک عمل کرنے میں رزق حلال کو بڑا دخل ہے اسی طرح قبول دعا میں حلال کھانا معین اور حرام مانع قبول ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بہت سے لوگ طویل السفر پریشان حال اللہ کے سامنے دعاء کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور یا رب یا رب پکارتے ہیں مگر کھانا ان کا حرام، پینا ان کا حرام، لباس ان کا حرام، غذا ان کی حرام، ان حالات میں ان کی دعاء کہاں قبول ہوسکتی ہے (صحیح مسلم، ترمذی، از ابن کثیر)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلہِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاہُ تَعْبُدُوْنَ۝ ١٧٢ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٢) اب اللہ تعالیٰ پھر مزید کھیتی اور جانوروں کے حلال ہونے کو بیان فرماتے ہیں یعنی کھیتی اور حلال جانوروں میں سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے کھاؤ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اگر تم لوگ اسی ہی کی عبادت کرتے ہو ، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اگر تم ان چیزوں کی حمت اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرح سمجھتے ہو تو پھر ان چیزوں کو مت حرام جانو کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ان کو حلال سمجھنے میں ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٢ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ) (وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ ) (اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا سورة الانعام میں یہ ساری چیزیں تفصیل سے آئیں گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

170. The believers are told that if by having believed they have committed themselves to following the Law of God as they claim then they should abandon all taboos and prohibitions imposed by the pundits and priests, by the rabbis and church fathers, by the monks and recluses, and by their own forefathers. Although they were required to abstain from whatever had been prohibited by God, they ought to feel no compunction with regard to consuming all that He had permitted. This has also been alluded to in the saying of the Prophet reported in a Tradition in the following words: 'Whoever prays in our manner, turns towards our qiblah (in Prayer) , and eats (the flesh) of our slaughtered (animals) , that person is Muslim. (Bukhari, 'K. al-Salah', 28; 'K. al-Adahi', 12; Muslim, 'K. al-Adahi', 6; Nasai, 'K. al-lman', 9; 'K. al-Dahaya', 17 - Ed.) This means that in spite of praying and facing towards the qiblah, a person is not fully assimilated into Islam as long as he maintains the pre-Islamic taboos in matters of eating and drinking and holds on to the fetters of superstition forged by the victims of Ignorance. A person's adherence to these taboos is indicative of the fact that the poison of Ignorance continues to flow in his veins.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :170 یعنی اگر تم ایمان لا کر صرف خدائی قانون کے پَیرو بن چکے ہو ، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو پھر وہ ساری چھُوت چھات ، اور زمانہء جاہلیّت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو جو پنڈتوں اور پروہتوں نے ، ربّیوں اور پادریوں نے ، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں ۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو ، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھاؤ پیو ۔ اسی مضمون کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے جس میں آپ ؐ نے فرمایا کہ مَنْ صَلّٰی صَلوٰ تَنَا و َ اسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الخ یعنی جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کر تے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا وہ مسلمان ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھنے اور قبلے کی طرف رخ کرنے کے باوجود ایک شخص اس وقت تک اسلام میں پوری طرح جذب نہیں ہوتا جب تک کہ وہ کھانے پینے کے معاملے میں پچھلی جاہلیّت کی پابندیوں کو توڑ نہ دے اور ان توہّمات کی بندشوں سے آزاد نہ ہو جائے جو اہل جاہلیّت نے قائم کر رکھی تھیں ۔ کیونکہ اس کا ان پابندیوں پر قائم رہنا اس بات کی علامت ہے کہ ابھی تک اس کی رگ و پے میں جاہلیّت کا زہر موجود ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اکل حلال دنیا میں ہر مسلمان کے لئے بڑی چیز ہے کوئی عبادت اور کوئی دعا بغیر غذائے حلال کے قبول نہیں ہوتی مسند امام احمد بن جنبل اور مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے بدوں پاک چیز کے اور کوئی چیز اللہ کی بار گاہ میں قبول نہیں ہوتی ١۔ بعض لوگ رات دن یا اللہ یا اللہ کہہ کر گڑگڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ کی جناب میں کرتے ہیں اور طرح طرح کی حاجتوں کا روا ہونا اس کی بارگاہ سے چاہتے ہیں اور جب ان کی حاجت روا نہیں ہوتی تو مایوس ہو کر دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی حالانکہ ان کی قوت بسری رزق حلال سے جب تک نہ ہو ان کی دعا کیا عبادت بھی اللہ کی بارگاہ میں ہرگز قبول نہ ہوگی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے رسولوں کو { قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ } کی آیت یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات (٢٣: ٥١) میں غذائے حلال کی تاکید اور حکم فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں عام مسلمان لوگوں کو اس کی تاکید اور اس کا حکم فرمایا ہے۔ تاکہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ اثر پیدا ہو کہ امت کو جو کچھ وہ نصیحت کریں وہ باتاثیر ہو اور مسلمان لوگوں کے کلام میں غذائے حلال سے یہ اثر بطور دعا یا بطور عبادت کے جو بات ان کے منہ سے نکلے وہ مقبول اور رائیگاں نہ جائے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:172) اشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون۔ جملہ شرطیہ کو شرط کے بعد لایا گیا ہے۔ ترجمہ اگر تم صرف اسی کی ہے (یعنی اللہ ہی کی) عبادت کرتے ہو تو شکر بھی ادا کرو۔ یہاں صیغہ امر و جواب کے لئے آیا ہے نہ کہ صرف اجازت کے لئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اس میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ایمان کو حلال اور پاکیزہ روزی کمانے اور کھانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا لو گو ! اللہ تعال طیب ہے او طیب کے بغیر کچھ قبول نہیں فرماتا۔ اس نے پانے رسولوں کو بھی پاک غذاکھانے کا حکم دیا ہے۔ (دیکھئے آیت 5 سورت المومنون) اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے گرد آلود ہے اور اس کے بال پر اگندہ ہیں۔ ایسی حالت میں وہ ہاتھ اٹھاکر یا رب یادب پکارتا ہے مگر اس کا کھانا حرام ہے اور لباس حرام ہے پھر بھلا اس کی یہ دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر بحوالا صحیح مسلم )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلے تمام لوگوں کو حلال کھانے کا حکم دیا تھا اب خاص کر مومنوں کو یہ کہہ کر حلال کھانے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کا تقاضا ہے کہ حلال کھانے کا اہتمام کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام خور کی عبادت قبول نہیں کرتا۔ قبل ازیں بنی نوع انسان کو حلال وطیب کھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ حلال وطیب کا اہتمام نہ کرنے والا درحقیقت شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ حرام خوری کے ذریعے نہ صرف تمہیں تمہارے خالق سے دور رکھ کر تمہارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ وہ حرام کھانے اور کمانے کے ذرائع کے ذریعے بھی تمہارے درمیان نفرتیں اور عداوتیں پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ حرام ذرائع کے ساتھ دولت کمانے سے لامحالہ دوسرے کے مالی حقوق کو نقصان پہنچتا ہے جس سے لوگوں کے درمیان نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ ان نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایمان داروں کو خصوصی خطاب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اے ایمان وایقان رکھنے والو ! تمہیں پاک چیزیں کھانی چاہییں جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ اِدھر ادھر ہاتھ مارنے کے بجائے انہی پر صابر و شاکر رہنے کی کوشش کرو۔ حلال پر صبر وشکر تب ہی کر پاؤ گے جب تم اپنے آپ کو ہماری غلامی اور عبادت کے لیے خالص کرلو گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ طیبات کھانے والوں کی ہی عبادت قبول کرتا ہے۔ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ الْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ کَالرَّاعِيْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِيالْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِيَ الْقَلْبُ ) [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحلال وترک الشبھات ] ” حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی مگر ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں۔ جن سے اکثر لوگ واقف نہیں۔ جو شخص ان مشکوک چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ رکھا۔ اور جو ان میں ملوث ہوگیا اس کی مثال ایسے چرواہے کی ہے جو اپنے جانوروں کو سرکاری چراگاہ کے قریب لے جاتا ہے۔ بہت ممکن ہے وہ جانور اس چراگاہ میں گھس جائیں۔ اچھی طرح سن لو ! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم ہی خراب ہوجاتا ہے۔ سنو ! وہ دل ہے۔ “ حلال کے بارے میں احادیث (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکرِبَ الزُّبَیْدِیِّ (رض) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَا کَسَبَ الرَّجُلُ کَسْبًا أَطْیَبَ مِنْ عَمَلِ یَدِہٖ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ أَہْلِہٖ وَوَلَدِہٖ وَخاَدِمِہٖ فَہُوَ صَدَقَۃٌ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب التجارات، باب الحث علی المکاسب ] ” حضرت مقدام بن معدیکرب (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی کے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر اور کوئی کمائی پاکیزہ نہیں آدمی اپنے نفس، اہل، اولاد اور خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ مِنْ أَطْیَبِ مَآ أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ وَوَلَدُہٗ مِنْ کَسْبِہٖ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین اور پاکیزہ مال وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھاتا ہے اس کی اولادبھی اس کی کمائی ہے۔ “ (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ وَ دَمٌ نَبْتَا عَلٰی سُحْتٍ فَالنَّارُ اَولٰی بِہٖ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب ما ذکر فی فضل الصلٰوۃ ] ” جنت میں وہ گوشت اور خون داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلا ہوگا اس کے لیے دوزخ ہی مناسب ہے۔ “ مسائل ١۔ صاحب ایمان لوگوں کو پاک روزی کھانا چاہیے۔ ٢۔ ہر دم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ حلال کمایا اور کھایاجائے۔ تفسیر بالقرآن اکل حلال کی اہمیت : ١۔ ایمان داروں کو حلال کھانے کا حکم۔ (البقرۃ : ١٧٢) ٢۔ رسولوں کو اکل حلال کی تلقین۔ (المومنون : ٥١) ٣۔ تمام لوگوں کو اکل حلال کا حکم۔ (البقرۃ : ١٦٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں مسلمانوں کو ” اے ایمان والو “ کے الفاظ سے پکارا گیا ہے ۔ اس لئے کہ ایمان ہی اہل اسلام کے درمیان مضبوط رابطہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں ہی ماخذ قانون ہوں اس لئے قانون مجھ سے اخذ کرو ۔ مجھ سے ہی حلال و حرام کے احکام اخذ کرو ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں نے تم پر جو انعامات کئے ہیں انہیں یاد رکھو ۔ میں ہی تمہارا رازق ہوں اور میں نے ہی تمہارے لئے کھانے پینے کی چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ۔ پاکیزہ چیزوں میں سے کسی ایک کو بھی حرام نہیں قرار دیا گیا۔ جو چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں وہ اس لئے حرام نہیں کہ اللہ تم پر تنگی کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ پاک اور طیب نہیں ہیں ۔ وہی تو ہے جو ابتدائے آفرینش سے تمہیں رزق دے رہا ہے ۔ پھر تلقین ہوتی ہے کہ اگر وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی چاہتے ہیں تو پھر اس کا شکر ادا کریں ۔ چکر بھی عبادت اور بندگی کی ایک قسم ہے ۔ اور اللہ شکر ادا کرنے سے بہت راضی ہوتا ہے ۔ یہ تمام ہدایات اس آیت میں دے دی گئی ، جو چند کلمات پر مشتمل ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ” ایمان لانے والوں اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حلال کھانے اور شکر ادا کرنے کا حکم اس آیت شریفہ میں بھی پاکیزہ چیزوں کے کھانے کا حکم فرمایا اور اللہ پاک نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم اللہ کی عبادت کرتے ہو تو اس کا شکر ادا کرو کیونکہ جو عبادت اس کی عظمت و کبریا کی شایان شان ہے وہ شکر کے بغیر کامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے جو حلال رزق عطا فرمایا ہے اسے کھاؤ پیو اور شکر کرو۔ سورة سبا میں فرمایا (کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ ) ” اپنے رب کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ “ نعمتوں کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اللہ کی اطاعت اور عبادت میں مشغول ہوں۔ اور اس کی نعمتوں کو گناہوں میں خرچ نہ کریں۔ (مِنْ طَیّْبٰتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ ) ” میں یہ بھی نکتہ ہے کہ دوسروں کا مال چھین کر یا چرا کر یا خیانت کر کے استعمال نہ کیا جائے کہ اللہ نے جو مال جس کسی کو دیا ہے وہ اگرچہ فی نفسہ اصول شریعت کے مطابق حلال اور طیب ہے۔ لیکن دوسروں کے لیے اسی وقت حلال اور طیب ہوگا جبکہ حلال طریقہ سے صاحب مال سے حاصل کیا ہو۔ حرام کھانے کا وبال : حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی (مال اور قول و عمل) کو قبول فرماتا ہے۔ (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ (حلال کھانے کے بارے میں) اللہ جل شانہ نے پیغمبروں کو جو حکم فرمایا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے چناچہ پیغمبروں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے رسولو ! طیب چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو اور مومنین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! جو پاک چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان میں سے کھاؤ، اس کے بعد حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے شخص کا ذکر فرمایا کہ جو لمبا سفر کر رہا ہو۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں جسم پر گردوغبار اٹا ہو اور آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے یا رب یا رب کہہ کر دعا کرتا ہو یہ شخص دعا تو کر رہا ہے اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے۔ پینا حرام ہے اور پہننا حرام ہے اور اس کو حرام غذا دی گئی ہے پس ان حالات کی وجہ سے اس کی دعا کیو نکر قبول ہوگی۔ (صحیح مسلم ص ٣٢٦ ج ١) اس حدیث میں حرام سے پرہیز کرنے اور حلال کھانے کی اہمیت پرزور دیا ہے۔ اور بتایا کہ جو صدقہ حلال مال سے ہوگا وہی قبول ہوگا۔ اللہ پاک ہے اور اس کی بار گاہ میں پاک چیز ہی قبول ہوسکتی ہے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں۔ پہلی آیت میں حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو حکم ہے کہ پاک چیزیں کھائیں اور نیک عمل کریں اور دوسری آیت میں ایمان والوں کو حکم ہے کہ اللہ کی پاک عطا کردہ چیزوں میں سے پاک چیزیں کھائیں۔ اللہ جل شانہ، نے جو حکم اپنے پیغمبروں کردیا ہے کہ حلال کھائیں، وہی حکم اپنے مومن بندوں کو دیا ہے۔ حلال کی اہمیت اور ضرورت ظاہر کرنے کے بعد آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبے سفر میں ہو اور بدحالی کی وجہ سے اس کے بال بکھرے ہوں۔ جسم پر غبار پڑا ہو اور وہ اپنی اسی بدحالی میں آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے یارب یارب کہہ کر خدائے پاک کو پکار رہا ہو اور چاہتا ہو کہ میری دعا قبول ہوجائے اس کی دعا قبول نہ ہوگی کیونکہ اس کا کھانا حرام ہے پینا حرام ہے اور لباس حرام ہے اور اس کو حرام غذا دی گئی ہے، مسافر کا شمار ان لوگوں میں ہے جن کی دعا خصوصیت سے قبول ہوتی ہے اور مضطر و پریشان حال شخص کی بھی دعا قبول و مقبول ہوتی ہے۔ لیکن مسافر اور پریشان حال ہونے کے باو جود ایسے شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی جس کا کھانا پینا اور پہننا حرام ہو، آج کل بہت سی دعائیں کی جاتی ہیں لیکن دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ لوگ شکایتیں کرتے پھرتے ہیں کہ دعاؤں کا اس قدر اہتمام کیا اور اتنی بار دعا کی لیکن دعا قبول نہیں ہوتی۔ شکایت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنا حال دیکھیں اور اپنی زندگی کا جائزہ لیں۔ ہر شخص غور کرے کہ میں حلال کتنا کھاتا ہوں اور حرام کتنا، اور کپڑے جو پہنتا ہوں وہ حلال آمدنی سے ہیں یا حرام سے اگر روزی حرام ہے یا لباس حرام ہے تو اس کو ترک کریں، خوراک اور پوشاک کو حدیث شریف میں بطور مثال ذکر فرمایا ہے۔ اوڑھنا بچھونا رہائش کا مکان آسائش کی چیزیں اگر حرام کی ہوں تو وہ لباس کے حکم میں ہیں ان کا استعمال بھی حرام ہے۔ حرام کی کمائی کی چند صورتیں : رشوت آج کل بہت عام ہے سب کو معلوم ہے کہ رشوت کا مال حرام ہے۔ رشوت کا نام ہدیہ یا تحفہ رکھ لیا جائے تب بھی حرام ہی رہتا ہے۔ جو لوگ حکومت کے کسی جائز شعبے میں کام کرتے ہیں اور رشوت لیتے ہیں ان کی رشوت تو حرام ہے ہی تنخواہ بھی حلال نہیں اس لیے کہ جس کام کے لیے حکومت نے ان کو دفتر میں بٹھایا ہے وہ کام انہوں نے نہیں کیا رشوت لینے کے لیے ان اصول و قواعد کے خلاف کام کرتے ہیں جو کام کرنے کے لیے مقرر کیے ہیں۔ سود کم ہو یا زیادہ عوام سے لیا جائے یا کسی بھی ادارے سے وہ سب حرام ہے اگرچہ اس کا نام نفع رکھ لیا جائے، ہر وہ ملازمت حرام ہے جس میں گناہ کیا جاتا ہو، چونکہ گناہ کرنا اور گناہ کی مدد کرنا دونوں حرام ہیں۔ اس لیے گناہ کی اجرت بھی حرام ہے اور گناہ پر مدد کرنے کی اجرت بھی حرام ہے۔ حرام چیزوں کی تجارت حرام ہے اور اس پر نفع بھی حرام ہے۔ شراب، خنزیر خون مردار گوشت، تصویریں، مورتیں ان سب چیزوں کی خریدو فروخت حرام ہے اور اس کی تنخواہ بھی حرام ہے۔ بیمہ پالیسی سراسر قمار ہے یعنی جوا ہے زندگی کا بیمہ ہو یا اموال تجارت کا کار خانوں کا یا گاڑیوں کا یہ سب حرام ہے اور ان میں اپنی جمع کر وہ رقم سے زائد جو کچھ ملے وہ سب حرام ہے جتنے بھی قمار کے طریقے ہیں گھوڑ دوڑ وغیرہ ان کی آمدنی سب حرام ہے۔ غصب، چوری، ڈاکہ زنی کے ذریعہ جو کچھ حاصل کیا جائے وہ سب حرام ہے۔ لوگوں کو اغواء کرکے جو ان پر رقم حاصل کی جائے وہ بھی حرام ہے۔ جو لوگ پیری مریدی کا کاروبار کرتے ہیں ان کو اہل حق اور اہل ارشاد سمجھ کر جو کچھ دیا جاتا ہے (حالانکہ وہ حقیقت میں ایسے نہیں ہیں) ان کے لیے وہ سب حرام ہے۔ میراث، شریعت کے مطابق تقسیم نہیں کی جاتی۔ جس وارث کے قبضہ میں جو مال آجاتا ہے وہی اپنا بنا کر بیٹھ جاتا ہے۔ مرنے والے کے بیٹے اپنی بہنوں کو اور ماؤں کو میراث نہیں دیتے۔ اور چونکہ میراث تقسیم نہیں ہوتی اس لیے یتیموں کے حصہ کا مال بھی خورد برد کردیا جاتا ہے۔ شرعاً جو دوسروں کا مال ہے اس کو اپنی ملکیت اور کام میں لاناحرام ہے۔ اور نفس کی خوشی سے جو مال نہ دیا گیا ہو اگرچہ دینے والے نے بظاہر کسی دباؤ میں خاموشی اختیار کرلی ہو وہ مال بھی حرام ہے۔ یہ تھوڑی سی تفصیل زیر قلم آگئی ہے۔ حرام کے شعبے بہت ہیں۔ ہر شخص اپنی آمدنی اور اخراجات کی فکر کرے۔ حرام مال کا و بال : بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حرام آمدنی میں سے صدقہ کردیا جائے تو باقی سب مال حلال ہوجاتا ہے۔ حرام سے صدقہ کرنا تو اور گناہ ہے۔ وہ مقبول ہی نہیں ہوتا۔ حدیث شریف میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ ہی کو قبول فرماتے ہیں جو صدقہ خود ہی قبول نہیں اس کے ذریعہ باقی مال کیسے حلال ہوجائے گا جو صدقہ دیا وہ بھی و بال اور جو باقی مال ہے وہ بھی و بال اور آخرت کے عذاب کا ذریعہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جو بھی کوئی بندہ حرام مال سے کسب کرے گا پھر اس میں سے صدقہ کرے گا تو وہ قبول نہ ہوگا اور اس میں سے خرچ کریگا تو اس کے لیے اس میں برکت نہ ہوگی۔ اور اپنے پیچھے چھوڑ کر جائے گا تو وہ اس کے دوزخ میں جانے کا ذریعہ ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتے لیکن برائی کو نیکی کے ذریعہ مٹاتے ہیں۔ بیشک خبیث، خبیث کو نہیں مٹاتا۔ (رواہ احمد فی المشکوٰۃ ص ٢٤٢) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں وہ گوشت داخل نہ ہوگا جو حرام سے پلا بڑھا اور ہر وہ گوشت جو حرام سے پلا بڑھا ہو دوزخ کی آگ اس کی زیادہ مستحق ہے۔ (ایضاً ) ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں وہ جسم داخل نہ ہوگا۔ جس کو حرام سے غذا دی گئی۔ (مشکوٰۃ ص ٢٤٣) اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس نے دس درہم کا کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی کوئی بھی نماز قبول نہ فرمائے گا جب تک کہ وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا۔ (مشکوٰۃ ص ١٤٣)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

313 پہلے عام انسانوں سے خطاب تھا۔ اب مسلمانون کو حکم ہورہا ہے کہ وہ مشرکین کی طرح حلال و حرام کے بارے میں من مانی نہ کریں اور جن چیزوں کو ہم نے حلال کیا ہے ان کو نہ صرف حلال سمجھیں بلکہ ان کو کھائیں اور اس طرح اپنے عمل سے بھی اپنے اعتقاد کی تصدیق کردیں بعض اوقات انسان ایک چیز کو عقیدے کی حد تک تو مان لیتا ہے لیکن اس پر عمل کرنے سے جھجکتا ہے اس لیے ایمان والوں سے ارشاد فرمایا کہ اگر واقعی دل وجان سے تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو اور تحریمات لغیر اللہ کے ذریعے شرک سے سچی توبہ کرچکے ہو تو اس بات کا عملی ثبوت بھی دو اور وہ یہ ہے کہ سائبہ بحیرہ وغیرہ کو کھاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ ابھی تم خالص اللہ کی عبادت نہیں کر رہے ہو بلکہ تمہارے اعمال میں شرک کا شائبہ موجود ہے۔ اور پھر اللہ کا شکر بھی بجا لاؤ جس نے تم کو یہ حلال چیزیں عطا فرمائی ہیں کیونکہ اس کا شکر بھی ایک بہت بڑی عبادت ہے اور اس کے بغیر عبادت کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ اللہ کی دی ہوئی حلال چیزوں کا ایک شکریہ یہ بھی ہے کہ انہیں شرک کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور اپنی طرف سے ان کو حرام نہ کیا جائے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi