Earlier, the aim was to correct the error made by the mushrikin مشرکین when they made unlawful what was good and permissible. Now, in the present Verse (172), the believers are being warned against falling into the same error. As a corollary, they are reminded of Allah&s blessings and are taught to be grateful to Him. Later, in Verse 173 it is said that the prohibited must remain pro¬hibited and should never be treated as lawful, something the mushri¬kin used to do when they ate carrion or animals slaughtered in a name other than that of Allah. Also implied is the warning that it is an error to declare any animal, other than those specified, as unlawful. Comments on juristic details follow. The effects of eating Halal حلال and Haram حرام Verse 172 forbids eating that which is Karam and along with it, allows eating that which is halal in all gratefulness to Allah. The reason is that the act of eating haram promotes evil instincts, kills the taste of ` ibadah and makes the prayers ineffective. In contrast, eating halal generates inner light, creates a distaste for evil deeds, leads towards high morals, and creates a state in which the heart welcomes ` ibadah and finds the very thought of sin sickening and of course, prayers are answered. Therefore, Allah Almighty has told all his prophets to eat from what is good and do what is righteous: یأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًاً 0 Messengers, eat of the good things and do the righteous. (23:51) This shows that eating and using what is halal حلال plays a vital role in doing what is good and virtuous. Similarly, living by the halal حلال helps the chances of a prayer being answered while living by the haram حرام kills those chances. The Holy Prophet has said that there are many people, tired and distressed, who stretch their hands in prayer before Allah fervently calling &0 Lord, 0 Lord, yet haram حرام is what they eat, haram حرام is what they drink and haram حرام is what they wear, how then, under these conditions, could they hope to have their prayers answered?& (The Sahih, Muslim, and Tirmidhi as quoted by Ibn Kathir)
خلاصہ تفسیر : اوپر اکل طیبات کے معاملہ میں مشرکین کی غلطی بتلا کر ان کی اصلاح مقصود تھی آگے اہل ایمان کو اس بات سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس غلطی میں مشرکین کی موافقت نہ کرنے لگیں اسی کے ضمن میں اہل ایمان کو اپنے انعامات کا ذکر اور اس پر ادائے شکر کی تعلیم بھی ہے۔ اے ایمان والو ! (ہماری طرف سے تم کو اجازت ہے کہ) جو (شرع کی رو سے) پاک چیزیں ہم نے تم کو مرحمت فرمائی ہیں ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ (برتو) اور (اس اجازت کے ساتھ یہ حکم ہے کہ) حق تعالیٰ کی شکر گذاری کرو (زبان سے بھی ہاتھ پاؤں سے خدمت وطاعت بجا لاکر بھی اور دل سے ان نعمتوں کو منجانب اللہ سمجھ کر بھی) اگر تم خاص ان کے ساتھ غلامی کا تعلق رکھتے ہو (اور یہ تعلق ہونا مسلم اور ظاہر ہے پس وجوب شکر بھی ثابت ہے) ربط : اوپر تو اس کا بیان تھا کہ حلال کو حرام مت کرو آگے یہ مذکور ہوتا ہے کہ حرام کو حلال مت سمجھو جیسا کہ مشرکین اس میں مبتلا تھے مثلاً مردار جانور اور ایسے جانور جن کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو مشرکین ان کو کھایا کرتے تھے اس سے منع کیا گیا اسی کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ کے نزدیک فلاں فلاں جانور حرام ہیں ان کے سوا دوسرے جانوروں کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا غلطی ہے اس سے پچھلے مضمون کی تائید ہوگئ۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر صرف (ان چیزوں کو) حرام کیا ہے (اور ان چیزوں کو حرام نہیں کیا جن کو تم اپنی طرف سے حرام کر رہے ہو جیسا کہ گذرا یعنی) مردار (جانور) کو (جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مرجاوے) اور خون کو (جو بہتا ہو) اور خنزیر کے گوشت کو (اسی طرح اس کے سب اجزاء کو بھی) اور ایسے جانور کو جو (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (ان سب کو بیشک حرام کیا ہے) پھر بھی (اس میں اتنی آسانی رکھی ہے کہ جو شخص (بھوک سے بہت ہی) بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو (کھانے میں) طالب لذت ہو اور نہ (قدر ضرورت و حاجت سے) تجاوز کرنے والا ہو تو (اس حالت میں ان چیزوں سے کھانے میں بھی) اس شخص پر کچھ گناہ نہیں ہوتا واقعی اللہ تعالیٰ ہیں بڑے غفور ورحیم (کہ ایسے وقت میں یہ رحمت فرمائی کہ گناہ کی چیز میں بھی گناہ اٹھا دیا) معارف و مسائل : حلال کھانے کی برکت اور حرام کھانے کی نحوست : آیات مذکورہ میں جیسے حرام کھانے کی ممانعت کی گئی ہے اسی طرح حلال طیب چیزوں کے کھانے اور اس پر شکر گذار ہونے کی ترغیب بھی ہے کیونکہ جس طرح حرام کھانے سے اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں عبادت کا ذوق جاتا رہتا ہے دعاء قبول نہیں ہوتی اسی طرح حلال کھانے سے ایک نور پیدا ہوتا ہے، اخلاق رذیلہ سے نفرت، اخلاق فاضلہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، عبادت میں دل لگتا ہے گناہ سے دل گھبراتا ہے دعاء قبول ہوتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب رسولوں کو یہ ہدایت فرمائی ہے، (آیت) يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (٢٣: ٥١) اے ہمارے رسولو ! تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، اس میں اشارہ ہے کہ نیک عمل کرنے میں رزق حلال کو بڑا دخل ہے اسی طرح قبول دعا میں حلال کھانا معین اور حرام مانع قبول ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بہت سے لوگ طویل السفر پریشان حال اللہ کے سامنے دعاء کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور یا رب یا رب پکارتے ہیں مگر کھانا ان کا حرام، پینا ان کا حرام، لباس ان کا حرام، غذا ان کی حرام، ان حالات میں ان کی دعاء کہاں قبول ہوسکتی ہے (صحیح مسلم، ترمذی، از ابن کثیر)