Criticizing the Jews for concealing what Allah revealed
Allah said:
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ الْكِتَابِ
...
Verily, those who conceal what Allah has sent down of the Book,
Meaning the Jews who concealed their Book's descriptions of Muhammad, all of which testify to his truth as a Messenger and a Prophet.
They concealed this information so that they would not lose authority and the position that they had with the Arabs, where they would bring them gifts, and honor them. The cursed Jews feared that if they announced what they know about Muhammad, then the people would abandon them and follow him. So they hid the truth so that they may retain the little that they were getting, and they sold their souls for this little profit.
They preferred the little that they gained over guidance and following the truth, believing in the Messenger and having faith in what Allah was sent him with. Therefore, they have profited failure and loss in this life and the Hereafter.
As for this world, Allah made the truth about His Messenger known anyway, by the clear signs and the unequivocal proofs. Thereafter, those whom the Jews feared would follow the Prophet, believed in him and followed him anyway, and so they became his supporters against them. Thus, the Jews earned anger on top of the wrath that they already had earned before, and Allah criticized them again many times in His Book.
For instance, Allah said in this Ayah,
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلً
...
Verily, those who conceal what Allah has sent down of the Book, and purchase a small gain therewith (of worldly things).
meaning, the joys and delights of this earthly life.
Allah said:
...
أُولَـيِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلاَّ النَّارَ
...
...they eat into their bellies nothing but fire,
meaning, whatever they eat in return for hiding the truth, will turn into a raging fire in their stomachs on the Day of Resurrection.
Similarly, Allah said:
إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَلَ الْيَتَـمَى ظُلْماً إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ نَاراً وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيراً
Verily, those who unjustly eat up the property of orphans, they eat up only fire into their bellies, and they will be burnt in the blazing Fire! (4:10)
Also, reported in an authentic Hadith is that Allah's Messenger said:
الَّذِي يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ فِي انِيةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّم
Those who eat or drink in golden or silver plates are filling their stomachs with the fire of Jahannam (Hell).
Allah said:
...
وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor purify them, and theirs will be a painful torment.
This is because Allah is furious with them for concealing the truth. They thus deserve Allah's anger, so Allah will not look at them or purify them, meaning that He will not praise them but will cause them to taste a severe torment.
Then, Allah said about them:
بدترین لوگ
یعنی جو یہودی نبی کی صفات کی آیتوں کو جو توراۃ میں ہیں چھپاتے ہیں اور اس کے بعلے اپنی آؤ بھگت عرب سے کراتے ہیں اور عوام سے تحفے اور نقدی سمیٹتے رہتے ہیں وہ اس گھٹیا دنیا کے بدلے اپنی آخرت خراب کررہے ہیں ، انہیں ڈرلگا ہوا ہے کہ اگر حضور کی نبوت کی سچائی اور آپ کے دعوے کی تصدیق کی آیتیں ( جو توراۃ میں ہیں ) لوگوں پر ظاہر ہو گئیں تو لوگ آپ کے ماتحت ہو جائیں گے اور انہیں چھوڑ دیں گے اس خوف سے وہ ہدایت و مغفرت کو چھوڑ بیٹھے اور ضلالت وعذاب پر خوش ہوں گئے اس باعث دنیا اور آخرت کی بربادی ان پر نازل ہوئی ، آخرت کی رسوائی تو ظاہر ہے لیکن دنیا میں بھی لوگوں پر ان کا مکر کھل گیا ، وقتًا فوقتاً وہ آیتیں جنہیں یہ بدترین علماء چھپاتے رہتے تھے ظاہر ہوتی رہیں ، علاوہ ازیں خود حضرت کے معجزات اور آپ کی پاکیزہ عادت نے لوگوں کو آپ کی تصدیق پر آمادہ کر دیا اور ان کی وہ جماعت جس کے ہاتھ سے نکل جانے کے ڈرنے انہیں کلام اللہ چھپانے پر آمادہ کیا تھا بلآخر ہاتھ سے جاتی رہیں ان لوگوں نے حضور سے بیعت کر لی ایمان لے آئے اور آپ کے ساتھ مل کر ان حق کے چھپانے والوں کی جانیں لیں اور ان سے باقاعدہ جہاد کیا ، قرآن کریم میں ان کی حقائق چھپانے والی حرکتوں کو جگہ جگہ بیان کیا گیا ، اور فرمایا ہے کہ جو مال تم کماتے ہو اللہ کی باتوں کو چھپا کر ، قرآن کریم نے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو یتیموں کا مال ظلم سے ہڑپ کرلیں ۔ ان کے لئے بھی یہی فرمایا ہے کہ وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے ۔ پھر فرمایا ان سے تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت بھی نہیں کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ المناک عذابوں میں مبتلا کرئے گا ۔ اس لئے کہ ان کے اس کرتوت کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور اب ان پر سے نظر رحمت ہٹ گئی ہے اور یہ ستائش اور تعریف کے قابل نہیں رہے بلکہ سزایاب ہوں گے اور وہاں تلملاتے رہیں گے ۔ حدیث شریف میں ہے تین قسم کے لوگوں سے اللہ بات چیت نہ کرئے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب میں زانی بڈھا ، جھوٹا بادشاہ ، متکبر فقیر فرمایا کہ ان لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی انہیں چاہئے تھا کہ توراۃ میں جو خبریں حضور کی نسبت تھیں انہیں ان پڑھوں تک پہنچاتے لیکن اس کے بدلے انہوں نے انہیں چھپا لیا اور خود بھی آپ کے ساتھ کفر کیا اور آپ کی تکذیب کی ، ان کے اظہار پر جو نعتیں اور رحمتیں انہیں ملنے والی تھیں ان کے بدلے زحمتیں اور عذاب اپنے سر لے لئے ۔ پھر فرماتا ہے انہیں وہ دردناک اور حیرت انگیز عذاب ہوں گے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جائے اور یہ بھی معنی ہیں کہ انہیں آگ کے عذاب کی برداشت پر کس چیز نے آمادہ کیا جو یہ اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول ہو گئے ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے مستحق اس لئے ہوئے کہ انہوں نے اللہ کی باتوں کی ہنسی کھیل سمجھا اور جو کتاب اللہ حق کو ظاہر کرنے اور باطل کا نابود کرنے کے لئے اتری تھی انہیں نے اس کی مخالفت کی ظاہر کرنے کی باتیں چھپائیں اور اللہ کے نبی سے دشمنی کی آپ کی صفتوں کو ظاہر نہ کیا فی الواقع اس کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والے دور کی گمراہی میں جاپڑے ۔