Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 182

سورة البقرة

فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا فَاَصۡلَحَ بَیۡنَہُمۡ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۸۲﴾٪  6

But if one fears from the bequeather [some] error or sin and corrects that which is between them, there is no sin upon him. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

ہاں جو شخص وصیّت کرنے والے کی جانبداری یا گناہ کی وصیّت کر دینے سے ڈرے پس وہ ان میں آپس میں اصلاح کرا دے تو اس پر گناہ نہیں ، اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But he who fears from a testator some unjust act or wrongdoing, and thereupon he makes peace between the parties concerned, there shall be no sin on him. Certainly, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful. فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا (But he who fears from a testator some unjust act or wrongdoing), Ibn Abbas, Abu Al-Aliyah, Mujahid, Ad-Dahhak, Ar-Rabi bin Anas and As-Suddi said, "Error." These errors include such cases; as when the inheritor indirectly acquires more than his fair share, such as by being allocated that a certain item mentioned in the legacy be sold to him. Or, the testator might include his daughter's son in the legacy to increase his daughter's share in the inheritance, and so forth. Such errors might occur out of the kindness of the heart without thinking about the consequences of these actions, or by sinful intention. In such cases, the executive of the will and testament is allowed to correct the errors and to replace the unjust items in the will with a better solution, so that both the Islamic law and what the dead person had wished for are respected and observed. This act would not constitute an alteration in the will and this is why Allah mentioned it specifically, so that it is excluded from the prohibition (that prohibits altering the will and testament) mentioned in the previous Ayah. And Allah knows best. The Virtue of Fairness in the Will Abdur-Razzaq reported that Abu Hurayrah said that Allah's Messenger said: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَه بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّــة A man might perform the works of righteous people for seventy years, but when he dictates his will, he commits injustice and thus his works end with the worst of his deeds and he enters the Fire. A man might perform the works of evil people for seventy years, but then dictates a just will and thus ends with the best of his deeds and then enters Paradise. Abu Hurayrah then said, "Read if you wish: تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَ تَعْتَدُوهَا These are the limits ordained by Allah, so do not transgress them." (2:229)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

182۔ 1 جَنَفًا (مائل ہونا) کا مطلب ہے غلطی یا بھول سے کسی ایک رشتہ دار کی طرف زیادہ مائل ہو کر دوسروں کی حق تلفی کرے اور اثمًا سے مراد ہے جان بوجھ کر ایسا کرے تو مراد گناہ کی وصیت ہے جس کا بدلنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وصیت میں عدل و انصاف کا اہتمام ضروری ہے ورنہ دنیا سے جاتے جاتے بھی ظلم کا ارتکاب اس کے اخروی نجات کے نقط نظر سے سخت خطرناک ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٢٨] ہاں اگر معلوم ہوجائے کہ مرنے والے نے وصیت کرنے میں غلطی کی، خواہ وہ دیدہ دانستہ تھی۔ یا نادانستہ یا کسی کی طرفداری کر گیا تو اس میں وارثوں کے صلاح مشورہ سے تبدیلی کی جاسکتی ہے بلکہ ولی یا بااختیار وارث کو ایسی ترمیم ضرور کردینا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے کہ وصیت کرنے والے کا گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًـا فَاَصْلَحَ بَيْنَہُمْ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْہِ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ ١٨٢ ۧ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ جنف أصل الجَنَف ميل في الحکم، فقوله تعالی: فَمَنْ خافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفاً [ البقرة/ 182] ، أي : ميلا ظاهرا، وعلی هذا : غَيْرَ مُتَجانِفٍ لِإِثْمٍ [ المائدة/ 3] ، أي : مائل إليه . ( ج ن ف ) الجنف اس کے اصل معنی فیصلہ ہیں ایک طرف مائل ہونے ( یعنی جانبداری یا ظلم کرنے ) کے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ فَمَنْ خافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفاً [ البقرة/ 182] اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے ( کیس وارث کی ) طرفداری کا اندیشہ ہو ۔ میں صریح طور پر جانبداری مراد ہے اسی طرح فرمایا : ۔ غَيْرَ مُتَجانِفٍ لِإِثْمٍ [ المائدة/ 3] دبشر طی کہ ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

وصیت میں ظلم کا علم ہوجائے تو وہ کیا کریں ارشاد باری ہے : فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بینھم فلا اثم علیہ ( البتہ جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن محمد اسحاق نے الحسن بن ابی ربیع سے، ان سے عبدالرزاق نے اور ان سے معمر نے قتادہ سے قول باری : فن خاف من موص جنفاً او اثما کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وصیت کرے، لیکن اپنی وصیت میں حق تلفی سے کام لے اور پھر ولی اس وصیت کو حق اور انصاف کی طرف لوٹا دے۔ ابو جعفر الرازی نے رلربیع بن انس سے نقل کیا ہے جنف خطا اور اثم عمد کے معنوں میں ہے ۔ ابن ابی البخیح نے مجاہد سے اور ابن طائوس نے اپنے والد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ موصی ہے جو اپنے نواز سے کے لیے وصیت کرے اور ارادہ یہ ہو کہ اس طرح یہ وصیت اس کی بیٹی کو مل جائے ۔ المعتمر بن سلیمان نے اپنے والے سے، انہوں نے حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں روایت بیان کی ہے جو اقارب کو نظر انداز کر ک اباعد کے لیے وصیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسے چاہیے کہ اپنی وصیت کے دو تہائی حصے اقارب کے لیے رکھے اور ایک تہائی اباعد کے لیے۔ طائوس سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جو اباعد کے لیے وصیت کرے ، اسے چاہیے کہ ان سے یہ وصیت لے کر اقارب کے حوالے کر دے الا یہ کہ اباعد میں کوئی شخص فقیر ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جنف غلطی اور نادانستہ طور پر حق سے ہٹ جانے کو کہتے ہیں۔ ہم نے اوپر الربیع بن انس سے جنف کے معنی خطا اور غلطی نقل کئے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ان کی مراد غلطی کی بنا پر حق سے ہٹ جانا ہو۔ اثم عمداً اور قصداًٰ حق سے ہٹ جانے کا نام ہے۔ یہی تاویل درست ہے حسن بصری نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہونی چاہیے جو وارث نہ بن رہے ہوں۔ طائوس نے اس کی تاویل دو معنوں پر کی ہے۔ ایک تو یہ ک اباعد کے لیے وصیت کی جائے ایسی صورت میں یہ وصیت اقارت کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنے نواسے کے لیے وصیت کرے اور اس کا ارادہ ہو کہ یہ وصیت اس کی بیٹی کو مل جائے ، حالانکہ والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا وجوب منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ثمن خاف من موص جنفا او اثما۔ اس امر کا موجب نہیں ہے کہ یہ حکم اس وصیت تک محدود رہے جس کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے کیونکہ آیت ایک مستقل بنفسہ کلام ہے اور اس کے ساتھ خطاب کی ابتدا درست ہے نیز یہ اپنے ما قبل کے ضمن میں نہیں ہے۔ یہ وصیت کی تمام صورتوں کے لیے عام ہے، جبکہ ان ک ذریعے انصاف سے ہٹ کر ظلم اور جور کی طرف میلان کا اظہار کیا گیا ہو، یہ اس وصیت کو بھی شامل ہے جو والدین اور رشتہ داروں کے لیے اسی وقت واجب تھی جب اس کا وجوب باقی تھا اور اس کے سوا دیگر وصیتوں کو بھی شامل ہے۔ اس لیے عوام الناس میں سے جو شخص بھی کسی وصیت کنندہ کے اندر حق و انصاف سے ہٹ جانے اور ظلم و جور کی طرف میلان محسوس کرے ۔ اس پر واجب ہوگا کہ وہ اسے عدل و انصاف کی راہ دکھائے اور اپنی اصلاح کرنے کی طرف اس کی توجہ مبذول کرائے۔ اس کام کے ساتھ شاہد یا وصی یا حاکم مختص نہیں ہیں، بلکہ تمام لوگ اس میں داخل ہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب سے ہے۔ اگر کہا جائے کہ قول باری : فمن خاف من موص جنافا او اثما کا کیا مفہوم ہے جبکہ خوف صرف اس امر کے ساتھ مختص ہوتا ہے جس کا مستقبل میں وقوع ممکن ہو۔ ماضی سے تعلق رکھنے والے کسی امر کے ساتھ خوف وابستہ نہیں ہوتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ متعلقہ شخص کے سامنے موصی کی کچھ ایسی حرکات ظاہر ہوگئی ہوں جنہیں دیکھ کر اس کا غلب گمان یہ ہو کہ وہ جو رکا ارادہ رکھتا ہے اور میراث کو ورثا کے حوالے کرنا نہیں چاہتا۔ اس بنا پر جس شخص کو یہ اندیشہ ہو اس پر لازم ہوگا کہ وہ موصی کو انصاف برتنے پر مائل کرے اور اسے ظلم وجور ک بُرے انجام سے ڈرائے یا اصلاح کی نیت سے موصی لہ، اور ورثا کے درمیان آ کر معاملہ درست کر دے۔ ایک قول باری : فمن خاف کے معنی یہ ہیں کہ اسے علم ہوجائے کہ وصیت کے اندر جور کا پہلو موجود ہے اور پھر وہ اسے انصاف کی طرف لوٹا دے۔ اللہ سبحانہ نے فلا اثمہ علیہ فرمایا اور یہ نہیں فرمایا کہ وصیت کو عدل اور صلاح کی طرف لوٹا دے۔ نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کے لیے ثواب کے استحقاق کا ذکر کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جھگڑے کے دونوں فریقوں کے درمیان اصلاح کی نیت سے مداخلت کرنے والے کے اکثر احوال یہ ہوتے ہیں کہ انہیں ہر فریق کو سمجھانا پڑتا ہے، وہ اپے دعوے اور حق کا کچھ حصہ دوسرے فریق کی خاطر چھوڑ دے۔ ایسی صورت میں اصلاح کرنے والے کے ذہن میں بعض دفعہ یہ بات آ جاتی ہے کہ اسے ایسا کرنا نہیں تھا نیز یہ وجہ بھی ہے کہ وہ اکثر حالات میں اپن غالب ظن کی بنیاد پر اصلاح کا مذکورہ کام سرانجام دیتا ہے اور اس کا یہ عمل حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ سبحانہ نے فریقین کے درمیان اصلاح احوال کی خاطر مداخلت کرنے کی رخصت دے دی اور مصلح کے ذہن میں بیٹھے ہوئے اس ظن کو دور کردیا کہ اس کے لیے اس اقدام کا جواز ممتنع ہے۔ اسی بنا پر فرمایا : فلا اثم علیہ دوسرے مقام پر اس جیسے اقدام پر ثواب کا وعدہ کیا گیا، چناچہ ارشاد ہے : لا خیر فی کثیر من نجواھم الا من امر بصدقۃ او معروف او اصلاح بین الناس ، ومن یفعل ذلک ابتغاء مرضات اللہ فسوف نوتیہ اجراً عظیما ( لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ، ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو ی البتہ بھلی بات ہے اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے۔ وصیت کے اندر جنف یعنی حق اور انصاف سے ہٹ کر اقدام کرنے کی سنگینی کے سلسلے میں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، ان سے احمد بن الحسن نے، ان سے عبدالصمد بن حسان نے ان سے سفیان ثوری نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ انہوں نے فرمایا : وصیت کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں شالم ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ( یہ اللہ کی مکر کردہ حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرنا) عبدالباقی ن ہی روایت بیان کی، ان سے القاسم بن زکریا اور محمد اب اللیث نے ، ان سے عبداللہ بن یوسف نے، ان سے عمر بن المغیرہ نے دائود بن ابی ہند سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وصیت کے ذریعے نقصان پہنچانا کبائر میں سے ہے۔ عبدالباقی نے رواییت بیان کی کہ ان سے طاہر بن عبدالرحمن بن اسحق القاضی نے، ان سے یحییٰ بن معین نے، ان سے عبدالرزاق نے، ان سے معمر نے اشعث سے، انہوں نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے حضرت ابوہرہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص ستر برسوں تک خبتیوں والے عمل کرتا ہے۔ پھر جب وصیت کرتا ہے تو اپنی وصیت میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اپنے بدترین عمل پر اس کا خاتمہ لکھ دیا جاتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک شخص ستر برسوں تک جہنمیوں والے کام کرتا ہے پھر وہ اپنی وصیت کے اندر انصاف سے کام لیتا ہے اور پھر اپنے بہترین عمل پر اس کا خاتمہ لکھ دیاجاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ محمد بن بکر نے روایت بیان کی، ان سے ابودائود نے ، ان سے عبدہ، بن عبداللہ نے، ان سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، ان سے نصر بن علی الحدانی نے، ان سے الاشعث بن جابر نے، ان سے شہر بن حوشب نے، ان سے حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مرد اور عورت دونوں ساٹھ برسوں تک اللہ کی اطاعت میں عمل کرتے رہتے ہیں، پھر دونوں کی موت کا وقت آ جاتا ہے اور وہ وصیت کے اندر ضرر رسانی کرتے ہیں اور ان کے لیے آگ ( جہنم) واجب ہوجاتی ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے یہ آیت پڑھی : من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین غیر مضار ( جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوریکر دی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے ، بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو) اور : ذلک الفوز العظیم ( اور یہی بڑی کامیابی ہے) یہ حدیثیں اور ان کے ساتھ دیگر اقوال و آثار جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اس شخص پر جسے کسی وصیت کنندہ کی وصیت میں حق اور انصاف سے ہٹ جانے کا علم ہوجائے یہ امر واجب کردیتے ہیں کہ وہ اسے انصاف کی طرف لوٹائے، اگر اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول باری : بینھم میں ضمیر کا مرجع کون بنے گا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ سبحان، نے موصی کا ذکر فرمایا تو اس خطاب کے ضمن میں یہ بات آگئی کہ ایک موصی لہ ہوگا اور ورثا ہوں گے اور ان کے مابین تنازعہ ہوگا تو ان کے درمیان اصلاح کرانے کی بنا پر ضمیر کا مرجع مذکورہ افراد بنیں گے۔ فراء نے یہ شعر پڑھے تھے۔ وما ادری اذا یممت ارضا ارید الخیر ایھما یلینی الخیر الذی انا ابتغیہ ام الشوالذی ھو یبتغینی ( جب میں خیر کے ارادے سے کسی سرزمین کا قصد کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ کو نسی چیز مجھے ملے گی۔ آیا وہ خیر جس کی تلاش میں میں یا وہ شر جو میری تلاش میں ہے۔ شاعر نے پہلے شعر میں صرف خیر کآذکر کیا لیکن اس کے ساتھ خیر اور شر دونوں کے لیے ضمیر لے آیا کیونکہ خیر کے ذکر کی بنا پر اس لفظ کے ضمن میں شر پر بھی دلالت موجود تھی۔ ایک قول کے مطابق ضمیر ان لوگوں کی طرف عائد ہے جن کا ذکر ابتدائے خطاب میں ہوا ہے، یہ افراد والدین اور رشتہ دار ہیں۔ اس آیت نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہی، حاکم ، وارث اور ہر اس شخص پر جسے وصیت کے اندر ظلم اور جور کا علم ہوجائے خواہ یہ ظلم نا دانتہ طور پر ہوا، ہو یا دانستہ طور پر، لازم ہے کہ وہ مذکورہ وصیت کو انصاف کی طرف لوٹا دے۔ نیز یہ دلالت بھی موجود ہے کہ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ عدل و انصاف پر مبنی وصیت کے ساتھ خاص ہے اور ناانصافی پر مبنی وصیت اس میں داخل نہیں ہے۔ اس میں اجتہاد رائے اور ظن غالب پر عمل کے جواز پر بھی دلالت ہے کیونکہ حق و انصاف سے ہٹ جانے کا اندیشہ خائف کے ظن غالب پر مبنی ہوگا۔ آیت میں فریقین کے درمیان اصلاح کی نیت سے مداخلت کرنے کی بھی رخصت ہے اور اس سلسلے میں فریقین کی باہمی رضا مندی سے اصل حق میں جو کمی بیشی کی جائے اس کی بھی اجازت ہے۔ واللہ الموفق۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٢) اور جس شخص نے مرنے والے کی طرف سے وصیت میں کسی طرف مائل ہونے اور غلطی کا علم اور یا وہ جان بوجھ کر کسی جانب مائل ہو پھر وہ شخص وارثوں اور اس شخص کے درمیان جس کے حق میں وصیت کی گئی ہو (جس کے لیے وصیت) صلح کرا دے، تو اس تبدیلی میں اس پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور اگر میت زیادتی اور غلطی کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے اور جس وقت وہ تہائی مال میں وصیت نافذ کرے یا عدل و انصاف کے ساتھ تقسیم کرے تو اللہ تعالیٰ مہربانی کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨٢ ( فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا) اگر کسی کو یہ اندیشہ ہو اور دیانت داری کے ساتھ اس کی یہ رائے ہو کہ وصیت کرنے والے نے ٹھیک وصیت نہیں کی ‘ بلکہ بےجا جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے یا کسی کی حق تلفی کر کے گناہ کمایا ہے ۔ (فَاَصْلَحَ بَیْنَہُمْ ) اس طرح کے اندیشے کے بعد کسی نے ورثاء کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ دیکھو ‘ ان کی وصیت تو یہ تھی ‘ لیکن اس میں یہ زیادتی والی بات ہے ‘ اگر تم لوگ متفق ہوجاؤ تو اس میں اتنی تبدیلی کردی جائے ؟ (فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ط) ۔ یعنی ایسی بات نہیں ہے کہ اس وصیت کو ایسا تقدس حاصل ہوگیا کہ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ‘ بلکہ باہمی مشورے سے اور اصلاح کے جذبے سے وصیت میں تغیر و تبدل ہوسکتا ہے

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

114: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی وصیت کرنے والا ناانصافی سے کام لے اور کوئی اسے سمجھابجھا کر اپنی وصیت میں مرنے سے پہلے پہلے تبدیلی کرنے پر آمادہ کردے تو یہ جائز ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:182) موص اسم فاعل واحد مذکر ایصاء مصدر باب (افعال) اصل میں موصی تھا وصیت کرنے والا ۔ جنفا۔ میلا عن الحق خطأ وجھلا۔ غلطی سے یا نادانستگی سے حق سے دوسری طرف جھک جانا۔ طرفداری کجی۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ مصدر ہے۔ اثما۔ مصدر ۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ عمداً ارتکاب ظلم کرنا۔ خاف فعل بافاعل ہے۔ من موص متعلق ہے خاف سے یہ جملہ شرطیہ ہے فلا اثم علیہ۔ جواب شرط ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 فاصلح بینھم یعنی ورثہ کو سمجھابجھا کر ان میں صلح کر ادے وصیت کا بدلنا بڑا گناہ ہے اور اس میں کتمان یعنی وصیت کو چھپانا بھی داخل ہے لیکن اگر اس میں کسی کی حق تلفی ہو یا خلاف شریعت کسی امر کی وصیت کی جائے مثلا شراب پلانے کی ناچ کرنے کی کسی قبر پر چراغاں کرنے یا میلہ اور عرس وغیرہ کرانے کی تو ایسی وصیت کا تبدیل کرنا واجب او ضرور ہے۔ (وحیدی) حدیث میں ہے الجنف جی الوصیتہ من انکبا ئر کہ وصیت میں کسی کی حق تلفی کبیرہ گناہ ہے اور سنن نسائی میں ہے کہ آنحضر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے شخص کو جنازہ کی نماز نہ پر ھنے کی سرزنش فرمائی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے مگر مرتے وقت وصیت میں ظلم کرجاتا ہے فرمایا : فیختم لہ لبشر ھملہ فید خل النار۔ کہ اس کا خاتمہ بہت برے عمل پر ہوتا ہے جس کی پاداش میں آگ میں چلا جاتا ہے (قرطبی۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ایک حالت ایسی ہے جو وصی کو اختیا رہے کہ وہ وصیت کرنے والے کی وصیت میں کچھ ردوبدل کرے ، لیکن یہ اس وقت ہوگا جب اس بات کا علم ہوجائے کہ وصیت کرنے والے نے کسی کی ناحق طرفداری کی ہے یا ناجائز طور پر وارث کی حق تلفی کی ہے ۔ اس صورت میں جو شخص وصیت نافذ کرنے کا اختیاررکھتا ہے اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس حد تک اس میں تبدیلی کرے کہ ناجائز حق تلفی نہ رہے نہ ہی کسی کی طرف داری رہے ۔ معاملہ عدل و انصاف کے مطابق ہوجائے فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ” البتہ جس کو اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور پھر معاملہ سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان ، وہ اصلاح کرے ، اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ۔ اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ تمام معاملات میں ، معاملہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت خصوصی کے سپرد ہے ۔ ہر حال میں اللہ کا کرم اور اس کی نگہبانی ہمارے حالات کی شیرازہ بند ہے ۔ اور یہی عدل و انصاف کے حصول کی آخری ضمانت ہے ۔ قانون قصاص اور قانون وصیت دونوں کو ایک ہی رسی میں باندھ دیا گیا ہے ۔ یعنی خدا خوفی بلکہ اسلامی نظام زندگی کے تمام شعبے اور اسلامی معاشرے کا ہر مسئلہ اس میں باندھا ہواہوتا ہے ۔ یہ امت پوری انسانیت پر گواہ ٹھہرائی گئی ہے وہ انسانیت کی نگران اعلیٰ ہے ۔ اور اسے کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی قائم کرنا ہے اور اس سلسلے میں اس جہاد فی سبیل اللہ فرض ہوچکا ہے ۔ لہٰذا اب یہ قدرتی امر ہے کہ اس پر روزہ بھی فرض کردیا جائے ۔ روزہ سے ارادہ قوی اور عزم صمیم ہوجاتا ہے ۔ اس کے ذریعے انسان اطاعت وانقیاد کے ساتھ اپنے رب سے ملتا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے انسان جسم کی تمام ضروریات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان کے دباؤ اور ان کے بوجھ کو برداشت کرتا ہے۔ محض رضائے الٰہی کے حصول اور اجر اخروی کے طمع میں ۔ یہ سب تدابیر اس لئے ہیں کہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کی راہ میں جو دشواریاں اور جو مشکلات ہیں ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں اور جو کانٹے بچھے ہیں ، ان کو برداشت کے لئے نفس انسانی تیار ہوجائے ۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے کہ اس کی دشواریوں کے علاوہ اس کے دونوں طرف مرغوب اور پسندیدہ چیزیں بکھری پڑی ہیں ۔ ہزاروں ایسی چیزیں اس راستے میں پڑی ہیں ، جو قدم قدم پر اسے فریب دینے کے لئے تیار ہیں ۔ اب دور حاضر کے انکشافات سامنے آتے ہیں ۔ حکما کہتے ہیں کہ روزہ انسان کے جسم پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں ۔ اگرچہ میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ روزے یا دوسری عبادات کے ایسے دنیاوی فوائد بیان کئے جائیں جو طبعی زندگی سے متعلق ہوں اور حس ونظر تک محدود ہوں ۔ اس لئے کہ عبادات کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ انسان کو اس فرض کی ادائیگی کے لئے تیار کیا جائے جو اسے کرہ ارض پر ادا کرنا ہے۔ دوسری طرف اسے اس کامیابی اور اس کمال کے لئے جدوجہد کرنی ہے ، جو اسے دارآخرت میں حاصل ہوگا لیکن اس کے باوجود میں اس کے خلاف بھی نہیں کہ سائنس اور تجربہ سے عبادات کے سلسلے میں جو فوائد ثابت ہوتے ہیں ان کا بالکل انکار کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے وجود انسانی کے لئے فرائض و عبادات کے تعین میں جو عمومی تدابیر اختیار کی ہیں ۔ ان سے جو حکمت واضح طور ملحوظ ومفہوم نظر آتی ہے ، اس پر اعتماد ضروری ہے ۔ البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ سائنس اور تجربات سے ظاہر ہونے والی ان حکمتوں اور فوائد کو احکام و تکالیف شرعیہ کا اصل سبب اصل علت نہیں قرار دینا چاہئے ۔ اس لئے کہ سائنس کا دائرہ بہت ہی محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حیوانیت کو توڑ کر جس طرح اس کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اس میں جو حکمتیں ہیں وہاں تک انسانی علم ترقی کر ہی نہیں سکتا ۔ خود اس پوری کائنات کی بےقابو قوتوں کو اللہ تعالیٰ جس طرح سدھانا چاہتا ہے ، سائنس کی وہاں تک رسائی کب ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَھُمْ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ) (سو جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب سے کسی جانبداری کا یا گناہ کا خوف کھائے پھر ان کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر گناہ نہیں ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ وصیت کرنیوالا خطاً یا عمداً وصیت میں کوئی ایسا طریقہ اختیار کرلیتا ہے جس میں کسی وارث یا دوسرے کسی رشتہ دار کی طرف میلان ہوجاتا ہے اور وصیت میں عدل باقی نہیں رہتا اگر کوئی ایسی کوئی صورت ہوجائے، اور کسی کو معلوم ہوجائے کہ ایسی وصیت کی ہے یا ایسی وصیت کرنے کا ارادہ کیا ہے اور وہ بیچ میں پڑکر موصی (وصیت کرنے والا) اور موصی لھم (جن کے لیے وصیت کی جائے) کے درمیان اصلاح کر دے اور ان کو صحیح طریقہ بتادے جو شرعاً درست ہو۔ یا صاحب اقتدار اس کو بدل دے تو اس کو بدلنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو شخص ایسا کرے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا۔ یہ وہ تبدیلی نہیں ہے جس کی مذمت (فَمَنْ بَدَّلَہٗ ) میں کی گئی ہے۔ جو وصیت عادلانہ نہ ہو اس کی کئی صورتیں مفسرین نے لکھی ہیں۔ اس میں سے ایک یہ ہے کہ دور کے رشتہ داروں کے لیے وصیت کر دے اور قریب کے رشتہ داروں کو چھوڑ دے اور ایک صورت یہ ہے کہ چونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے پوتوں کو میراث نہیں مل سکتی اور کسی ایک بیٹے کو زیادہ مال پہنچانا چاہتا ہے تو پوتوں کے غیر وارث ہونے کا بہانہ بنا کر پوتوں کے لیے وصیت کر دے تاکہ ان پوتوں کے باپ کو مال زیادہ پہنچ جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ کل مال کی وصیت کر دے یا تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کردے، جو شخص بھی اس قسم کی وصیت پر واقف ہو کر صحیح طریقہ بتائے گا اور راہ صحیح پر ڈالے گا اس کو تبدیل وصیت کا گناہ نہ ہوگا۔ بعض لوگ بیٹوں کو میراث سے محروم کرنے کے لیے زندگی ہی میں بیٹوں کے نام یا کسی ایک بیٹے کے نام جائیداد کردیتے ہیں تاکہ دوسری اولاد محروم ہوجائے اور بھی طرح طرح کی غیر شرعی وصیتیں کر جاتے ہیں جس سے گنہگار ہوتے ہیں۔ وارث کو میراث سے محروم کرنے کے لیے کسی کو مال ہبہ کردینا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ کوئی مرد اور کوئی عورت ساٹھ سال تک اللہ کی فرمانبر داری میں لگے رہیں پھر ان کو موت حاضر ہوجائے اور وصیت کرنے میں کسی کو ضرر پہنچانے کا پہلو اختیار کرلیں تو ان کے لیے دوزخ واجب ہوجاتی ہے۔ حدیث بیان کرکے حضرت ابوہریرہ (رض) نے سورة نساء کی آیت (مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِھَآ اَوْدَیْنٍ غَیْرَ مُضَآرٍّ ) تلاوت کی اور (وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) تک پڑھی۔ (رواہ احمد کمافی المشکوٰۃ ص ٢٦٥ ج ١) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے وارث کی میراث سے کوئی حصہ کاٹ دیا اللہ تعالیٰ جنت سے اس کا میراث کاٹ دیں گے۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٩٤)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

336 جنف کے معنی حق سے ناحق کی طرف میلان کے ہیں۔ یہاں اس سے بلا قصد غلطی سے میلان عن الصواب مراد ہے اور اثما سے قصداً میلان عن الصواب مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی دوسرے آدمی کو ڈر ہو کہ وصیت کرنے والا غلطی سے یا عمداً وصیت میں شرعی ضابطہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے یا دوسرے ورثاء کی حق تلفی کر رہا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ وصیت کرنے والے کی رہنمائی کرے اور اسے حق اور انصاف کی راہ بتائے۔ یہ شخص گنہگار نہیں ہوگا بلکہ اجر وثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وہ گنہگاروں کو بھی معاف کردیتا ہے جو نیک نیتی سے اصلاح کرنے والے ہیں۔ ان کو اپنی رحمت سے کیوں نہیں نوازے گا۔ والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا مگر آیت میراث سے یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ اب والدین کے لیے اور اسی طرح دوسرے ورثاء کے لیے وصیت جائز نہیں۔ ثم ھذ الحکم کان فی بدء الاسلام ثم نسخ بایۃ المیراث (روح ص 53 ج 2) حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے جن پانچ آیتوں کو منسوخ مانا ہے ان میں سے ایک یہ ہے لیکن بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے چناچہ صاحب مدارک فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرک ماں باپ اور رشتہ داروں کے حق میں نازل ہوئی تھی اور حکم استحبابی ہے وجوب کے لیے نہیں ہے۔ وقیل کیر منسوخۃ لانھا نزلت فی حق من لیس بوارث بسبب الکفر۔۔ فشرعت الوصیۃ فیما بینہم قضاء لحق القرابۃ ندباً (مدارک ص 73 ج 1) اور حضرت شیخ (رح) اس کی توجیہ اس طرح فرماتے ہیں کہ یہاں وصیت والدین اوراقربین کے لیے نہیں بلکہ والدین اوراقربین کو ہے اور المعروف سے مراد حکم شرعی ہے اور مطلب یہ ہے کہ مرنے والے پر لازم ہے کہ وہ ماں باپ اور رشتہ داروں کو اس بات کی وصیت کرے کہ وہ اس کا ترکہ حکم شرعی کے مطابق تقسیم کریں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 البتہ جس شخص کو وصیت کرنے والے کی جانب سے نا دانستہ کسی بےعنوانی اور غلطی کا قصداً کسی جرم کے ارتکاب کا علم ہوجائے اور یہ بات تحقیق ہوجائے کہ مرنے والے نے غلطی سے وصیت کرنے میں کوئی خطا کی ہے یا جان بوجھ کر کوئی گناہ کیا ہے مثلاً ایک ثلث سے زیادہ وصیت کردی یا غیر مستحق کو مال دلوادیا۔ پھر اس شخص نے وصیت میں کچھ تبدیلی کرکے موصی لہم میں صلح کرا دی اور ان کا باہمی نزاع ختم کرا دیا تو یاد رکھو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ (تیسیر) یعنی مرنے والے سے جو کوتاہی ہوئی تھی اس پر جھگڑے کا اندیشہ پید ہوگیا اور اس شخص نے بیخ میں پڑ کر جھگڑا ختم کرادیا اور اس وجہ سے اس وصیت میں کچھ تبدیلی بھی کرنی پڑی تو اس پر مواخذہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے وہ تو گناہ گاروں کو معاف فرماتا ہے اور ان پر رحمت کرتا ہے اور یہ شخص جس نے صلح کرائی ہے یہ تو گناہ گار بھی نہیں پھر اس کے ساتھ رحمت کا برتائو کیوں نہ کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کسی نے دیکھا کہ مردہ بےانصافی سے دلوایا گیا اولاد کو بہت تھوڑا بچا تو اوروں کو سمجھا کر صلح کرادے ایسا بدلنا گناہ نہیں۔ فائدہ اول اللہ صاحب نے یہ حکم فرمایا تھا بعد اس کے سورة نساء میں وارثوں کے حصے آپ ہی ٹھہرا دئیے اب مردے کا دلوانا موقوف ہوا۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کے فائدہ کا مفاد یہ ہے کہ یہ ماں باپ اور قرابت داروں کے حق میں وصیت کا حکم اس وقت تھا جب تک ورثاء کے حصے مقرر نہیں ہوئے تھے اب چونکہ ورثاء کے سہام مقرر ہوچکے ہیں اب کسی وارث کے حق میں وصیت موقوف ہے اگر کوئی وارث کے حق میں وصیت کریگا تو باطل ہوگی ہاں وارث کے علاوہ اور کسی کے حق میں وصیت کرسکتا ہے لیکن ایک ثلث سے زائد نہ ہو اگر جان بوجھ کر ورثاء کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کسی کے حق میں وصیت کرے گا تو اگرچہ وصیت جاری ہوجائے گی لیکن ورثاء کو محروم کرنے والا گناہ گار ہوگا اور ثلث سے زائد اگر کوئی وصیت کی جائے گی تو وہ زیادتی باطل ہوگی مگر یہ کہ ورثاء اس زیادتی پر رضا مند ہوں بشرطیکہ ورثاء بالغ ہوں۔ واللہ اعلم خاف کا ترجمہ معلوم ہوجائے اور تحقیق ہوجائے کیا ہے جو شخص جانتا ہے اور علم رکھتا ہے وہی ڈرتا اور خوف کرتا ہے یہاں لازم بول کر ملزوم مراد لیا گیا ہے وارث کے لئے وصیت کی ممانعت کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے الا ان اللہ قد اعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث لوگو ! سن لو ! اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دلوا دیا ہے اب وارث شرعی کے لئے کوئی وصیت نہیں ہے آگے ان ہی اعمال خیر اور اعمال بر کے سلسلے میں روزے کا بیان فرماتے ہیں۔ ( تسہیل )