Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 212

سورة البقرة

زُیِّنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ یَسۡخَرُوۡنَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۘ وَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۲۱۲﴾

Beautified for those who disbelieve is the life of this world, and they ridicule those who believe. But those who fear Allah are above them on the Day of Resurrection. And Allah gives provision to whom He wills without account.

کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے ، وہ ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں حالانکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہونگے ، اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ امَنُواْ وَالَّذِينَ اتَّقَواْ فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... Beautified is the life of this world for those who disbelieve, and they mock at those who believe. But those who have Taqwa, will be above them on the Day of Resurrection. And Allah gives (of His bounty, blessings, favors, and honors on the Day of Resurrection) to whom He wills without limit. Allah states that He has made the life of this world beautiful for the disbelievers who are satisfied with it, who collect wealth, but refrain from spending it on what they have been commanded, which could earn them Allah's pleasure. Instead, they ridicule the believers who ignore this life and who spend whatever they earn on what pleases their Lord. The believers spend seeking Allah's Face, and this is why they have gained the ultimate happiness and the best share on the Day of the Return. Therefore, they will be exalted above the disbelievers at the Gathering Place, when they are gathered, during the resurrection and in their final destination. The believers will reside in the highest grades in the utmost highs, while the disbelievers will reside in the lowest of lows (in the Fire). This is why Allah said: ... وَاللّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاء بِغَيْرِ حِسَابٍ And Allah gives to whom He wills without limit. This Ayah indicates that Allah gives sustenance to whomever He wills of His servants without count or limit in this and the Hereafter. A Hadith has stated (that Allah said): ابْنَ ادَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْك O son of Adam! Spend (in Allah's cause) and I (Allah) will spend on you. The Prophet said: أَنْفِقْ بِلَلُ وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَلاً O Bilal! Spend and do not fear deprivation from the Owner of the Throne. Allah said: وَمَأ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ...and whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. (34:39) In addition, it is reported in the Sahih that the Prophet said: أَنَّ مَلَكَيْنِ يَنْزِلاَنِ مِنَ السَّمَاءِ صَبِيحَةَ كُلِّ يَوْمٍ فَيَقُولُ أحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الاخَرُ اللَّهُمَّ أعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا Every day two angels come down from heavens and one of them says, `O Allah! Compensate every person who spends in Your cause,' and the other (angel) says, `O Allah! Destroy every miser.' Also in the Sahih: يَقُولُ ابْنُ ادَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلاَّ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ وَمَا لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ وَمَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ وَمَا سِوَى ذلِكَ فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس The son of Adam says, `My money, my money!' Yet, what is your money except that which you eat and use up, wear and tear, and spend in charity and thus keep (in your record). Other than that, it will go away and will be left for the people (the inheritors). In addition, Imam Ahmad reported that the Prophet said: الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لاَ دَارَ لَهُ وَمَالُ مَنْ لاَ مَالَ لَهُ وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لاَ عَقْلَ لَه The Dunya (life of this world) is the residence of those who have no residence, the wealth of those who have no wealth, and it is harvested by those who have no sense of reason.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

212۔ 1 چونکہ مسلمان کی اکثریت غربا پر مشتمل تھی جو دینوی آسائشوں اور سہولتوں سے محروم ہے اس لئے کافر یعنی قریش مکہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ اہل ثروت کا ہر دور شیوا رہا ہے۔ 212۔ 2 اہل ایمان کے فقر اور سادگی کا کفار مذاق اڑاتے، اس کا ذکر فرما کر کہا جا رہا ہے کہ قیامت والے دن یہی فقراء اپنے تقویٰ کی بدولت بلند بالا ہونگیں بےحساب روزی کا تعلق آخرت کے علاوہ دنیا سے بھی ہوسکتا ہے کہ چند سالوں کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے فقراء پر بھی فتوحات کے دروازے کھول دیئے۔ جن سے سامان دنیا اور رزق کی فروانی ہوگئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨٠] یعنی وہ دنیوی مال و دولت میں مگن رہ کر حضرت بلال (رض) ، عمار (رض) ، صہیب (رض) اور دوسرے فقرائے مہاجرین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قسم کے لوگوں کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھ ملا کر عرب کے سرداروں پر غالب آنے کے خواب دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ دنیا کا رزق کامیابی اور اخروی نجات کا کوئی معیار نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں یہ رزق کافروں کو چاہے تو زیادہ بھی دے دیتا ہے۔ رہی کامیابی کی بات تو یہی ناتواں اور پرہیزگار لوگ قیامت کے دن جنت میں بلند تر مقامات پر ہوں گے اور یہ دنیا پر فریفتہ کافر ان سے بہت نیچے جہنم میں ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی کفار کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کی نگاہ میں دنیا کا بہت مزین ہونا ہے۔ مومن جو آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی زیب و زینت کو کچھ نہیں سمجھتے، کفار کے خیال میں بھولے بھالے اور دیوانے ہیں، اس لیے انھوں نے ان کا مذاق اڑانے اور انھیں ذلیل کرنے کو اپنا مشغلہ بنا رکھا ہے، مگر قیامت کے دن اہل تقویٰ ہر اعتبار سے ان سے بلند درجہ ہوں گے، کیونکہ مومنوں کا نام علیین میں ہوگا اور کفار اسفل السافلین ہوں گے۔ یہاں ” بِغَيْرِ حِسَابٍ “ فرمایا، سورة نبا میں ” عَطَاۗءً حِسَابًا “ فرمایا، تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نبا کی آیت (٣٦) کے فوائد۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝ ٠ ۘ وَالَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ ۭ وَاللہُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۝ ٢١٢ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ فوق فَوْقُ يستعمل في المکان، والزمان، والجسم، والعدد، والمنزلة، وذلک أضرب : الأول : باعتبار العلوّ. نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] ، مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] ، وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] ، ويقابله تحت . قال : قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] الثاني : باعتبار الصّعود والحدور . نحو قوله :إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] . الثالث : يقال في العدد . نحو قوله : فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] . الرابع : في الکبر والصّغر مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] . الخامس : باعتبار الفضیلة الدّنيويّة . نحو : وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] ، أو الأخرويّة : وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] ، فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] . السادس : باعتبار القهر والغلبة . نحو قوله : وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقوله عن فرعون : وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ( ف و ق ) فوق یہ مکان ازمان جسم عدد اور مرتبہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور کئی معنوں میں بولا جاتا ہے اوپر جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا ۔ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے ۔ وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] اور اسی نے زمین میں اس کے پہاڑ بنائے ۔ اس کی ضد تحت ہے جس کے معنی نیچے کے ہیں چناچہ فرمایا ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے ۔ 2 صعود یعنی بلند ی کی جانب کے معنی میں اس کی ضدا سفل ہے جس کے معنی پستی کی جانب کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی جانب سے تم پر چڑھ آئے ۔ 3 کسی عدد پر زیادتی کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی ہوں ( یعنی دو یا ) دو سے زیادہ ۔ 4 جسمانیت کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونے کے معنی دیتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز مثلا مکھی ۔ مکڑی کی مثال بیان فرمائے ۔ 5 بلحاظ فضیلت دنیوی کے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے ۔ اور کبھی فضلیت اخروی کے لحاظ سے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر پر فائق ہوں گے ۔ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] کافروں پر فائق ۔ 6 فوقیت معنی غلبہ اور تسلط کے جیسے فرمایا : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] فرعون سے اور بےشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔ القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ بِغَيْرِ حِسابٍ وقوله : يَرْزُقُ مَنْ يَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ [ البقرة/ 212] . ففيه أوجه : الأول : يعطيه أكثر ممّا يستحقه . والثاني : يعطيه ولا يأخذه منه . والثالث : يعطيه عطاء لا يمكن للبشر إحصاؤه، کقول الشاعر : عطایاه يحصی قبل إحصائها القطر والرابع : يعطيه بلا مضایقة، من قولهم : حاسبته : إذا ضایقته . والخامس : يعطيه أكثر مما يحسبه . والسادس : أن يعطيه بحسب ما يعرفه من مصلحته لا علی حسب حسابهم، وذلک نحو ما نبّه عليه بقوله تعالی: وَلَوْلا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً لَجَعَلْنا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمنِ ... الآية [ الزخرف/ 33] . والسابع : يعطي المؤمن ولا يحاسبه عليه، ووجه ذلك أنّ المؤمن لا يأخذ من الدنیا إلا قدر ما يجب وکما يجب، وفي وقت ما يجب، ولا ينفق إلا کذلک، ويحاسب نفسه فلا يحاسبه اللہ حسابا يضرّ ، كما روي : «من حاسب نفسه في الدنیا لم يحاسبه اللہ يوم القیامة» والثامن : يقابل اللہ المؤمنین في القیامة لا بقدر استحقاقهم، بل بأكثر منه كما قال عزّ وجل : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضاعِفَهُ لَهُ أَضْعافاً كَثِيرَةً [ البقرة/ 245] . وعلی هذه الأوجه قوله تعالی: فَأُولئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيها بِغَيْرِ حِسابٍ [ غافر/ 40] ، وقوله تعالی: هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] ، وقد قيل : تصرّف فيه تصرّف من لا يحاسب، أي : تناول کما يجب وفي وقت ما يجب وعلی ما يجب، وأنفقه كذلك . اور آیت کریمہ : ۔ يَرْزُقُ مَنْ يَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ [ البقرة/ 212] اور خدا جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے ۔ میں بغیر حساب کی متعدد تو جیہات ہوسکتی ہیں ۔ ( 2 ) جسے چاہے عطا فرماتا ہے اور پھر اس سے واپس نہیں لیتا ۔ ( 3 ) اس قدر عطا فرماتا ہے کہ انسان کے لئے اس کا احصاء ممکن نہیں جیسا کہ شاعر نے کہا ہے کہ باعش کے قطروں سے بھی اس کے عطایا زیادہ ہوجاتے ہیں ۔ ( 4 ) بغیر کسی تنگی کے دیتا ہے اور یہ حاسبتہ سے ہے جس معنی ضایقتہ یعنی تنگی کرنا آتے ہیں ( 5 ) لوگوں کے عام اندازہ سے کہیں زیادہ دیتا ہے ۔ ( 6 ) اپنی مصلحت کے مطابق عطا فرماتا ہے ز کہ لوگوں کے حساب کے مطابق جیسا کہ آیت : ۔ وَلَوْلا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً لَجَعَلْنا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمنِ ... الآية [ الزخرف/ 33] اور اگر یہ خیال نہ ہوتا گہ سب لوگ ایک ہی ۔۔۔۔۔۔ جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ۔ میں تنبیہ فرمائی ہے ۔ ( 7 ) مومن کو کچھ دیتا ہے اس پر محاسبہ نہیں کریگا اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن دنیا میں بقدر کفایت حاصل کرتا ہے اور وہ بھی جائز طریقہ سے اور حسب ضرورت اور اسی طریق سے خرچ کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنے آپ پر محاسبہ بھی کرتا رہتا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس سے اس طرح حساب نہیں لے گا ۔ جس سے کہ اسے نقصان پہنچے جیسا کہ حدیث میں ہے ۔ کہ جو شخص دنیا میں اپنے نفس پر محاسبہ کرتا رہے گا ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے حساب نہیں لے گا ( یعنی جس سے کہ اسے نقصان پہنچے ) ( 8 ) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو ان کے استحقاق سے زیادہ بدلہ عطا فرمائیگا ۔ جیسے فرمایا : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضاعِفَهُ لَهُ أَضْعافاً كَثِيرَةً [ البقرة/ 245] کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کر وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَأُولئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيها بِغَيْرِ حِسابٍ [ غافر/ 40] تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں کے وہاں ان کو ی سے شمار رزق ملے گا ۔ بھی ان مزکورہ وجوہ ( ثمانیہ ) پر محمول ہوسکتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] یہ ہماری بخشش ہے ( چاہو ) تو احسان کردیا ( چاہو ) تو رکھ چھوڑو ( تم سے ) کچھ حساب نہیں ہے ۔ میں بغیر حساب کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اس میں اس شخص کی طرح تصرف کرو جسے محاسبہ کا خوف نہ ہو ۔ یعنی ( مومن کی طرح ) واجب طریق سے بوقت ضرورت اور بقدر کفایت لیا کرو اور پھر اسی طریق سے خرچ کرتے رہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١٢ (زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا) یہاں کی چمک دمک اور شان و شوکت ان کے لیے بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے۔ ویسے تو نئے ماڈل کی لمبی لمبی چمکیلی کاریں ‘ اونچی اونچی عمارتیں اور وسیع و عریض کو ٹھیاں کس کو اچھی نہیں لگتیں ‘ لیکن کفار کے دلوں میں مال و اسباب دنیوی کی محبت اتنی گھر کر جاتی ہے کہ پھر کوئی اچھی بات ان کی زندگی میں نہیں رہتی ‘ اور نہ ہی کوئی اچھی بات ان کے اوپر اثر کرتی ہے۔ اہل ایمان کو بھی اگر ایمان کے ساتھ یہ نعمتیں ملیں تو یہ مستحسن ہیں۔ ازروئے الفاظ قرآنی : (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ط) (الاعراف : ٣٢) (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے) کہیے ‘ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں ؟ اچھا کھانا ‘ اچھا پینا ‘ اچھا پہننا حرام نہیں ہے۔ اللہ نے اس کو لوگوں کے لیے ممنوع نہیں کیا۔ ایک مسلمان دین کے تقاضے ادا کر کے ‘ اللہ کا حق ادا کر کے اور حلال سے کما کر ان چیزوں کو حاصل کرے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ وہ حدیث بھی ذہن میں لے آیئے : (اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ ) (٢٧) دنیا مؤمن کے لیے ایک قید خانہ اور کافر کے لیے باغ ہے۔ (وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ٧) اور وہ مذاق اڑاتے ہیں اہل ایمان کا۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ذرا ان پاگلوں کو ‘ ان بیوقوفوں کو ‘ ان fanatics کو دیکھو ‘ جنہیں اپنے نفع و نقصان کا کچھ ہوش نہیں ہے۔ (وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط) وہ ان کافروں کے مقابلے میں عالی مرتبت اور عالی مقام ہوں گے ‘ بلکہ سورة المُطفّفین میں تو یہاں تک آیا ہے کہ جنت میں جانے کے بعد اہل ایمان کفارّ کا مذاق اڑائیں گے۔ (وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) ۔ یہ جنت کی طرف اشارہ ہے۔ اب پھر ایک طویل آیت آرہی ہے جس میں ایک اہم مضمون بیان ہو رہا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ سورة البقرۃ میں جابجا علم و حکمت اور معرفتِ الٰہی کے بڑے حسین اور خوش نما پھول آئے ہیں جو اس بنتی میں بن دیے گئے ہیں۔ دو لڑیاں شریعت کی ہیں ‘ یعنی عبادات اور معاملات ‘ جبکہ دو لڑیاں جہاد کی ‘ یعنی جہاد بالمال (انفاق) اور جہاد بالنفس (قتال) ‘ اور ان کے درمیان یہ عظیم پھول آجاتے ہیں۔ اس آیت کو میں نے آیت الاختلاف کا عنوان دیا ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف کیوں ہوتا رہا ہے ‘ اور یہ بہت اہم مضمون ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں وحدت ادیان کا جو فلسفہ کچھ لوگوں کی طرف سے پیش ہوتا ہے اس کا ایک حصہ صحیح ہے اور ایک حصہّ غلط ہے۔ صحیح کون سا ہے اور غلط کون سا ہے ‘ وہ اس آیت سے معلوم ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

140: یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

حضرت بلال (رض) اور عمار بن یاسر (رض) اور اس طرح کے غریب صحابہ پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرما دی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوش حال پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے وہ جن کو چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوش حالی دے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں اس نے اپنی تنگ حال متقی بندوں کے لئے بڑے بڑے عالی درجہ کے عیش رکھتے ہیں۔ اس لئے اب تو تمہیں ان غریب مسلمانوں کا حال دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔ جس وقت وہ آخرت جس کے تم منکر ہو بالکل آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور وہ عالی درجے جو اللہ تعالیٰ بےحساب بخشش کرنے والے نے ان غریب مسلمانوں کے لئے عقبیٰ میں رکھے ہیں ان کو تم دیکھو گے اور اپنے آپ کو ساتویں زمین کے نیچے دوزخ میں پڑے ہوئے پاؤ گے تو اس وقت تمہیں اس ہنسی کی قدر کھل جائے گی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:212) زین۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ تبدیل (تفعیل) مصدر (وہ سنوارا گیا۔ وہ مزین کیا گیا۔ اسے اچھا (کرکے) دکھایا گیا۔ مطلب یہ کہ دنیا کی زندگی اسے پرکشش اور مزین کر کے دکھائی گئی ۔ الحیوۃ الدنیا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول مالم یسم فاعلہ۔ ویسخرون۔ میں واؤ عاطفہ ہے یسخرون کا عطف زین پر ہے۔ سخر (باب سمع) مصدر سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے وہ مذاق بناتے ہیں۔ وہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ من کے صلہ کے ساتھ ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے ان تسخروا منا فانا نسخر منکم (11:38) اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو ہم سے تمسخر کریں گے۔ فوقھم۔ فوق۔ ظرف منصوب۔ مضاف۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف الیہ ان کے اوپر۔ ان سے بڑھ کر، ان سے زیادہ، ان پر غالب۔ والذین اتقوا فوقھم یوم القیامۃ۔ والذین اتقوا۔ مبتداء فوقھم خبر یوم القیمہ ظرف ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی ان کے اعراض اوکفر کا سبب یہ ہے کہ دنیا کے چند روز عیش و عشرت اور رنگ رلیوں میں بد مست ہو کر رہ گئے ہیں اور اہل حق کی تذلیل اور ان کی سادہ زندگی مذاق اڑانے کو انہوں ن مشغلہ بنا رکھا ہے مگر قیامت کے دن اہل تقوی ہر اعتبار سے ان پر فائق ہوں گے کیونکہ مومن علی علیین میں ہوں گے اور کفار اسفل السافلین میں۔ بیضاوی) جنت میں رزق کا بغیر حساب ہونا یا تو دائمی اور غیر فانی ہونے کے اعتبار سے ہے۔ (دیکھئے ہود آیت 108) یا اس اعتبار سے کہ انہیں مزید اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نوازا جائے گا۔ (دیکھئے غافر آیت :40) لہذا یہ عطاء حسابا ( النساء 36) کے منافی نہیں ہے۔ رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ پس اس کا مدار قسمت پر ہے نہ کہ کمال اور مقبولیت پر۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کافروں کے لئے اس دنیا کی حقیر عارضی چیزوں اور چھوٹی چھوٹی ضروریات کو ہی اہم اور مزین بنایا گیا ہے ۔ یہ چیزیں انہیں اتنی بھلی لگیں کہ وہ انہی کے ہوکررہ گئے ۔ اور آگے نہ بڑھے ۔ ان کی نظریں انہی پر ٹک گئیں اور ان سے آگے حقائق تک نہ پہنچ سکیں ۔ ان لوگوں کو ان حقیر چیزوں کے علاوہ ، بلند اقدار کا علم ہی نہیں ہے اور جو شخص دنیا میں پھنس جاتا ہے ، دنیا کی آخری حد پر جا کے ہی دم لیتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ان کی عقل وفکر ان بلند مقاصد تک رسائی اختیار کرسکے جو مرد مومن کی توجہ کا مرکز ہیں اور جن کو مومن کی نگاہ بلند نے بہت دور اور بلند آفاق میں پالیا ہے ۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مومن بنیادی ساز و سامان کو بالکل ہی نظر انداز کردیتا ہے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ دوں ہمت ہے ، اس لئے نہیں کہ اس میں حصول دنیا کا جوہر نہیں ہے۔ اس لئے بھی نہیں کہ منفی الفکر ہے اور دنیا کی ترقی و کمال میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، یہ محض اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی بلند مقام سے ، اس عارضی دنیا پر نگاہ غلط انداز ڈالتا ہے ، باوجود اس کے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کا نائب ہے ، اس کی دیکھ بھال اس کی ذمہ داری میں ہے ۔ وہ اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتا ہے ، وہ اس کی تہذیب اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے ، لیکن وہ اس مقام کی تمام بوقلمونیوں میں سے اپنے لئے اس اعلیٰ مقصد کو تلاش کرکے چن لیتا ہے جو بہت ہی اعلیٰ ہے ، ارفع ہے ، اور قیمتی ہے۔ اس کی نگاہ انتخاب اس پر پڑتی ہے کہ اس دنیا کے لئے ایک نظام زندگی چاہئے ۔ انسانیت ٹھیکریاں اور خزف تلاش کرتی پھرتی ہے ، اس کی راہنمائی اس کان تک جانی چاہئے جہاں موتی ہی موتی ہیں ۔ لوگوں کے سروں پہ اور زمین کی چوٹیوں پر اللہ کا علم بلند ہونا چاہئے تاکہ انسانیت اس مقام بلند تک ترقی کرسکے ۔ انسانیت اس دنیا کی ذلیل و حقیر چیزوں سے نظریں اٹھاکر آگے بھی دیکھے کہ اس قصر دنیا سے آگے اور جہاں بھی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں ایمان کی چنگاری نہیں ہے وہ بڑے مقاصد ، اعلیٰ نصب العین اور وسعت فکر ونظر سے محروم ہوتے ہیں اور ایسے لوگ دنیا کے غلام ہوتے ہیں اور بندگان دنیا کہلاتے ہیں۔ یہ کوتاہ ہمت اور زمین کی آلائشوں میں گھرے ہوئے بونے قد کے لوگ ، یہ دنیا وی اغراض کے بندے اور مطلب پرست ، بڑی حقارت سے ایمان داروں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے دنیا کی تمام آلودگیوں ، تمام کدورتوں اور تمام حقیر سازوسامان کو ان کفار کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہے اور اپنے سینوں میں پاک آرزو ہائے عالیہ لئے پھرتے ہیں ، ان آرزؤں کا تعلق ان کی ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں ۔ ان تمناؤں کی تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ان کے نظریہ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں ۔ بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں ۔ ان تمناؤں کا تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ان کے نظریہ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں ۔ اب یہ کفار ذرا اور گہری نظر اور سنجیدگی سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ ان آرزؤں کے حصول کے لئے نہ صرف یہ کہ دنیا کو ترک کئے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس جدوجہد میں تھک کر چور چور ہوگئے ، وہ ان کی خاطر بڑی سے بڑی مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں اور ان بونے لوگوں نے جن دنیاوی لذائذ کو زندگی کی روح سمجھ رکھا ہے اور جو ان کا بلند ترین مقصد ہے ، ان پر ان اولوالعزم لوگوں نے لات ماردی ہے ۔ غرض ایسے حالات میں یہ بونے اور دوسرے درجے کے لوگ ان لوگوں کی زندگیوں پر نظر دوڑاتے ہیں جو صحیح معنوں میں مومن ہیں تو یہ لوگ ان کے مقاصد بلند تک نہیں پہنچ سکتے ۔ ان کی زندگی کے راز کو نہیں پاسکتے ۔ تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ وہ بےاختیار ان سے مذاق کرتے ہیں ، ان کے حال پر انہیں ہنسی آتی ہے ، پھر وہ ان کے نظریات کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہوں نے جو طرز عمل اختیار کررکھا ہوتا ہے اس پر منہ چڑاتے ہیں زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پسند بنادی گئی ہے ۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ “ لیکن جس ترازو میں یہ کفار ، زندگی کی قدروں کو تولتے ہیں ، وہ حقیقی ترازو نہیں ہے ۔ سچائی کا ترازو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، اور اللہ کے ترازو میں ایمان والوں کا کیا وزن ہے اور کیا قدر و قیمت ہے وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ” مگر قیامت میں پرہیز گار مومن ہی ان کفار کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ “ یہ ہے سچائی کا ترازو اور پھر ہے بھی دست قدرت میں ۔ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنی اس قدر و قیمت کا تعین اس ترازو سے کریں ۔ وہ منزل کی طرف بڑھتے چلیں اور ان احمقوں کی حماقتوں کی طرف توجہ ہی نہ کریں ، مذاق اڑانے والوں کے مذاق کی طرف دھیان ہی نہ دیں ، کافروں کی گھٹیا اقدار کو خاطر ہی میں نہ لائیں ۔ اس لئے کہ اہل ایمان تو ان کفار کے مقابلے میں ، دار آخرت میں بلند مرتبت ہوں گے ۔ آخری حساب جب ہوگا تو اہل ایمان کا حساب زیادہ نکلے گا ، اور اس بات پر اللہ گواہ ہے جو احکم الحاکمین ہے ۔ اللہ نے ان کے لئے بھلائی رکھ چھوڑی ہے ، وہ رزق سے بھی زیادہ کشادہ ہے یعنی روح کی غذا ہے ، وہ یہ دولت انہیں دنیا میں بھی عطاکرے گا اور آخرت میں بھی ۔ یا دنیا وآخرت دونوں میں جو وہ مناسب سمجھے ، کیونکہ وہ مختار ہے ۔ حکیم ہے ، وہی سمجھتا ہے کہ ان کے لئے بھلائی کس میں ہے ۔ رزق دنیا کی اہمیت ہی کیا ہے وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ” دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے ، جسے چاہے بےحساب دے ۔ “ وہی داتا ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، جس پر چاہتا ہے عطیات کی بارش کردیتا ہے ، وہ کبھی کفار کو دنیاوی شان و شوکت دیتا ہے اور یہ اس کی حکمت ہوتی ہے۔ اس میں ان کی کوئی فضیلت نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے مختار بندوں کو بھی دنیا وآخرت دونوں میں دیتا ہے ۔ ہر قسم کی داد وہش کا سرچشمہ وہی ہے لیکن برگزیدہ لوگوں کے لئے اس کی پسند ہی اعلیٰ اور دیرپا ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں ہر وقت انسانوں کے یہ دونوں نمونے پائے جاتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی قدر و قیمت اپنے فکر و عمل کی قدر اللہ رب العزت سے اخذ کرتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کی صفات اور زمین کی عارضی چیزوں ، اور چھوٹے چھوٹے مقاصد سے بلند ہوجاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی انسانیت ایک ٹھوس حقیقت ہوتی ہے ۔ یہ لوگ زندگی کے حکمران ہوجاتے ہیں ، زندگی کے غلام نہیں ہوتے ۔ بعینہٖ اسی طرح ایسے لوگوں کے مقابلے میں کچھ دوسرے لوگ ہیں ، جن کے لئے دنیا کی زندگی کو محبوب بنادیا گیا ہے۔ وہ دنیا کی عارضی ساز و سامان کے غلام بنادیئے گئے ہیں ۔ وہ بنیادی اقدار کے غلام ہیں ۔ یہ لوگ ضروریات زندگی کے دام میں گرفتار ہیں اور دنیا کے اس گندے دلدل میں ایسے پھنسے ہیں کہ اب اس سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ لیکن اس افتادہ مخلوق خدا کے پاس جتنا سازوسامان ہو ، ان پر مرد مومن ایک نہایت ہی بلند مقام سے نظر ڈالتا ہے ۔ اگرچہ اپنی جگہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں ۔ صاحب فضل وکرم ہیں اور ایمان والے محروم ہیں ۔ کبھی تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں اور کبھی ان کا مذاق آڑاتے ہیں ۔ حالانکہ وہ خود ہمدردی کے مستحق ہیں ، خود وہ قابل رحم وقابل شفقت ہیں۔ زندگی کے اعلیٰ قدروں کے بیان اور اہل ایمان کے بارے میں کافروں کے موقف کی وضاحت اور خود اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کفار کے وزن اور مقام کے تعین کے بعد ، اب اگلی آیات میں وہ اصل کہانی بیان کی جاتی ہے کہ لوگوں کے درمیان تصورات ونظریات اور اقدار ومقاصد کے بارے میں اختلاف رائے شروع کیسے ہوا ؟ اور پھر وہ اصول بتادیا جاتا ہے جس پر اختلاف کرنے والے یہ لوگ ایسے اختلافات ختم کرسکتے ہیں اور عدالت کی وہ ترازو بتائی جاتی ہے جو ان کے اختلافات کے بارے میں ، ان لوگوں کے درمیان ، آخر کار یہ فیصلہ دے گی ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کے لیے دنیا کا مزین ہونا اور ان کا ایمان والوں پر ہنسنا اس آیت میں کافروں کے کفر پر جمنے اور کفر اختیار کرنے کا سبب بتایا ہے اور وہ یہ کہ دنیاوی زندگی اور اس سے متعلقہ سازو سامان آرائش اور زیبائش ان کی نظروں میں بھایا ہوا ہے۔ اسی حسن ظاہر کو دیکھ کر وہ دنیا پر پلے پڑے ہیں۔ چونکہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے میں انہیں دنیا اور اسباب دنیا میں کمی ہوتی نظر آتی ہے اس لیے کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دنیا کے سازو سامان مال اور جائیداد ہی کو کامیابی سمجھے ہوئے ہیں اس لیے اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان سے تمسخر کرتے ہیں (کیونکہ ان کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں) یہ دنیا چند روزہ ہے اس کے بعد اہل کفر کے لیے عذاب ہی عذاب ہے اور اہل ایمان کے لیے جنت ہے۔ اہل ایمان قیامت کے دن بلند وبالا ہوں گے۔ جنت کے بالا خانوں میں ہوں گے اور اہل کفر دوزخ میں پڑے ہوں گے اس وقت اہل ایمان ان پر ہنسیں گے جیسا کہ سورة مطففین میں فرمایا : (فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ عَلَی الْاَرَاءِکِ یَنْظُرُوْنَ ) (سو آج ایمان والے کافروں سے ہنسیں گے۔ مسہریوں پر بیٹھے ہوئے دیکھتے ہو نگے) علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ یہ آیت مشرکین عرب ابو جہل وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ اپنے مالوں میں مست تھے۔ تنعم کی زندگی گزارتے تھے۔ اور آخرت کی تکذیب کرتے تھے اور فقرائے مومنین مثلاً عبداللہ بن مسعود و عمار بن یاسر اور صہیب اور بلال اور خباب جیسے حضرات کا مذاق بناتے تھے، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت منافقین (عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں) کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ دنیا میں مزے کی زندگی گزارتے تھے اور فقرائے مہاجرین پر پھبتیاں کستے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کہنا ہے کہ ان (مسکینوں) کو ساتھ لے کر لوگوں پر غلبہ پائیں گے۔ حضرت عطاء نے فرمایا کہ یہ آیت رؤسائے یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو فقرائے مہاجرین پر ہنستے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین سے وعدہ فرمایا کہ بنی نضیر اور بنی قریظہ کے اموال تم کو بغیر جنگ کے مل جائیں گے۔ چناچہ الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔ (معالم التنزیل ص ١٨٥ ج ١) آیت کے ختم پر فرمایا کہ (وَ اللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) (اور اللہ جسے چاہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے) بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے دنیا میں بغیر کسی محنت اور تکلیف کے جس قدر چاہے عطا فرما دے اور اسے اعمال صالحہ کی توفیق دیدے پھر آخرت میں اس مال کا حساب نہ لے، اور بعض حضرات نے بغیر حساب کا یہ معنی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو جتنا چاہے دے کم دے زیادہ دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اس سے کوئی حساب لینے والا نہیں، اور ایک معنی یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحساب خرچ فرماتا ہے۔ اسے خرچ کرنے میں حساب کرنے کی ضرورت نہیں اس کے خزانے بےانتہا ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

401 یہ مقابل کی علت ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کی ہدایت سے منہ موڑا، اس کے انبیاء کی تکذیب کی، اس کی آیات کو جھٹلایا اور اس کی توحید کا انکار کیا انہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا اور اس کا سبب کیا تھا ؟ فرمایا ان لوگوں کے دلوں میں دنیا کی دولت اور ظاہری شان و شوکت کی محبت بس چکی ہے۔ دین کے مقابلہ میں دنیوی وقار واقتدار، زندگی کی مادی آسائشیں اور ٹھاٹھ باٹھ انہیں بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو قبول کیا ہے جس سے انہیں تمام دنیوی مقاصد اور مادی خواہشات کے پورا ہوجانے کی قوی امید ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام قبول کر کے ان لوگوں نے کیا حاصل کیا ہے۔ ان کے پاس دولت ہے، نہ زمینیں، محلات ہیں، نہ باغات۔ کیونکہ ان کوتاہ نظروں اور کج فہموں نے ان چیزوں ہی کو زندگی کا ماحصل سمجھا ہوا ہے۔ 402 واؤ حالیہ ہے حالانکیہ غرباء جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے تمام احکام تعمیل کرتے ہیں قیامت کے دن ان کافروں سے بہت بلند درجات میں ہوں گے کیونکہ ایسے ضدی اور معاند کفار ومنافقین کا ٹھکانا جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوگا اور یہ خدا سے ڈرنے والے فقراء مؤمنین اعلیٰ علیین میں ہونگے۔ فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۔ ای فی الدرجۃ لانھم فی الجنۃ والکفار فی النار (قرطبی ص 29 ج 3) لان الفقراء فی علیین والکفار والمنافقین فی اسفل السافلین (معالم ص 168 ج 1)403 باقی رہا دنیا میں کثرت رزق اور مال وزر کی فراوانی کا سوال تو یہ چیز خدا کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے بےحساب دولت دیدے کسی مسلمان کو دیدے یا کسی کافر کو اس لیے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے تحت جسے چاہتا ہے دنیا کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ دولت کی کمی بیشی سے حق و باطل کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اس آیت نے اس شبہ کا ازالہ بھی کردیا جس کے پیدا ہونے کا امکان تھا۔ کہ اگر کافر حق پر نہیں ہیں تو اللہ نے انہیں اتنی دولت کیوں دی ہے تو فرمایا کہ یہ دولت تو چند روزہ ہے اور محض دنیا کی زینت اور رونق ہے آخرت میں تو صرف یہی ایمان اور تقویٰ کام آئے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 جن لوگوں نے کفر اور انکار کی روش اختیار کر رکھی ہے ان کے لئے دنیوی زندگی خوش نما اور مزین و آراستہ کردی گئی ہے اور منکروں کی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں سے تمسخر کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ یہ مسلمان جو کفر و شرک سے بچتے ہیں اور اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمانبردار ہیں ان کافروں سے قیامت کے دن بلند وبالا تر ہوں گے اور اعلیٰ مراتب و درجات پر فائز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب اور بہ کثرت روز کی عنایت کرتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ کفار کے لئے چونکہ دنیوی زندگی کو خوش نما اور خوش منظر کردیا گیا ہے اس لئے وہ دنیوی زندگی پر قانع ہیں اور آخرت کی زندگی کا ان کو خیال بھی نہیں آتا بلکہ اس کے منکر ہیں اور اس انکار میں یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ جو لوگ مسلمان ہیں جیسے عبداللہ بن مسعود، عمار، صہیب بلال (رض) وغیرہ ان غریب مسلمانوں کے ساتھ یہ منکر مذاق کرتے ہیں اور ان پر پھبتیاں کستے ہیں حالانکہ جن کو غریب اور ذلیل سمجھتے ہیں یہ مسلمان ان کافروں سے قیامت کے دن بلند مرتبہ ہوں گے منکرین جہنم میں پڑے ہوں گے اور مسلمان جنت کے بالاخانوں میں اونچے اونچے تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور کفار اپنی مال حالت پر مغرور نہ ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بکثرت روزی دیتا ہے یعنی دولت مندی کوئی حق و باطل کی علامت نہیں ہے یہ تو ہماری مشیت پر موقوف ہے کوئی یہاں دولت مند ہے مگر قیامت میں محتاج اور فقیر ہے کوئی یہاں فقیر ہے وہاں دولت مند ہے کوئی یہاں اور وہاں دونوں عالم میں خوشحال ہے۔ مفسرین نے اس آخری جملہ کی کئی طرح مناسبت بیان کی ہے ہم نے تسہیل میں ایک پہلو اختیار کرلیا ہے ۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پر نہ کوئی نگراں ک ہے اور نہ ان سے کوئی حساب لے سکتا ہے اس لئے جس کو چاہتے ہیں دیتے ہیں اور جس قدر چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں۔ حضرت سعید بن جبیر (رض) کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ سے حساب نہیں لیا جاتا دنیوی زندگی کی تربین کا مطلب یہ ہے کہ ان کو یہی زندگی اچھی اور بھلی معلوم ہوتی ہے چونکہ دنیا کی محبت اور خوشنمائی دین حق سے اغراض اور دین حق میں اختلاف پیدا کرنے کی وجہ ہے اس لئے عام طور سے امم سابقہ کی حالت بیان کرتے ہیں۔ زیر بحث آیت میں ان کافروں کا ذکر تھا جو مکہ کے غریب مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے آگے کی آیت میں عام طور سے دین میں اختلاف پیدا کرنے والوں کا ذکر فرماتے ہیں شاید یاد ہوگا ہم اوپر تقویٰ کی بحث میں یہ کہہ چکے ہیں کہ تقویٰ کے مختلف مراتب ہیں محض کفرو شرک سے پرہیز کرنے والے کو بھی متقی کہہ سکتے ہیں اسی مفہوم کی جانب ہم نے تیسیر میں اشارہ کیا ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ مسلمان خواہ کسی درجہ کا متقی ہو بہرحال وہ دین حق کے منکر سے قیامت میں بہتر اور برتر ہوگا۔ (تسہیل)