Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 241

سورة البقرة

وَ لِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۴۱﴾

And for divorced women is a provision according to what is acceptable - a duty upon the righteous.

طلاق والیوں کو اچھی طرح فائدہ دینا پرہیزگاروں پر لازم ہے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And for divorced women, maintenance (should be provided) on reasonable (scale). This is a duty on Al-Muttaqin (the pious). Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that; when Allah's statement: مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ (...a gift of reasonable amount is a duty on the doers of good) (2:236) was revealed, a man said, "If I want, I will be excellent and if I do not, I will not." Thereafter, Allah revealed this Ayah: وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (And for divorced women, maintenance (should be provided) on reasonable (scale). This is a duty on Al-Muttaqin (the pious). The scholars who ruled that; the Mut`ah (reasonable gift) at the time of divorce is required for every divorced woman, whether she had a bridal-money appointed for her or not, and whether the marriage was consummated or not, relied on this Ayah (2:241) when they issued their ruling. This is the view taken on this subject by Sa`id bin Jubayr and several others among the Salaf and also Ibn Jarir. Hence, Allah's statement: لااَّ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاء مَا لَمْ تَمَسُّوهُنُّ أَوْ تَفْرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدْرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ There is no sin on you, if you divorce women while yet you have not touched (had sexual relation with) them, nor appointed for them their due (dowry). But bestow on them (a suitable gift), the rich according to his means, and the poor according to his means, a gift of reasonable amount is a duty on the doers of good. (2:236) only mentions some specifics of this general ruling. Allah then said:

مطلقہ عورت کو فائدہ دینے کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ اگر ہم چاہیں دیں ، چاہیں نہ دیں ، اس پر یہ آیت اتری ، اسی آیت سے بعض لوگوں نے ہر طلاق والی کو کچھ نہ کچھ دینا واجب قرار دیا ، اور بعض دوسرے بزرگوں نے اسے ان عورتوں کے ساتھ مخصوص مانا ہے جن کا بیان پہلے گزر چکا ہے یعنی جن عورتوں سے صحبت نہ ہوئی اور مہر بھی نہ مقرر ہوا ہو اور طلاق دے دی جائے لیکن پہلی جماعت کا جواب یہ ہے کہ عام میں سے ایک خاص صورت کا ذِکر کرنا اسی صورت کے ساتھ اس حکم کو مخصوص نہیں کرتا جیسا کہ مشہور اور منصوص مذہب ہے واللہ اعلم ،

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

241۔ 1 یہ حکم عام ہے جو ہر متعلقہ عورت کو شامل ہے اس میں تفریق کے وقت جس حسن سلوک کا اہتمام کرنے کی تاکید کی گئی ہے اس کے بیشمار معاشی فوائد ہیں کاش مسلمان اس نہایت ہی اہم نصیحت پر عمل کریں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٣٨] آیت نمبر ٢٣٦ میں طلاق کے وقت کچھ دے دلا کر رخصت کرنے کا حکم صرف ایسی مطلقہ کے لیے ہے جس کا نہ تو حق مہر مقرر ہوا ہو۔ نہ ہی اس کے خاوند نے صحبت کی ہو اور وہ صحبت سے پیشتر ہی فوت ہوجائے۔ اب یہاں ایسا حکم ہر قسم کی مطلقہ کے لیے دیا جا رہا ہے اور اس کی تاکید بھی کردی گئی کہ پرہیزگاروں کا یہ شیوہ نہیں ہوتا کہ وہ طلاق دے کر مطلقہ کو خالی ہاتھ گھر سے نکال باہر کریں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سورة بقرہ کی آیت (٢٣٦) میں ان مطلقہ عورتوں کو سامان دینے کا حکم تھا جنھیں نہ خاوند نے ہاتھ لگایا ہو اور نہ مہر مقرر ہوا ہو، جبکہ اس آیت میں تمام مطلقہ عورتوں کو اچھے طریقے سے کچھ سامان، کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دے کر رخصت کرنے کا حکم ہے، تاکہ عورت کی کچھ دل جوئی ہوجائے۔ یہ احسان کا تقاضا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 241: The divorced women deserve a benefit Providing compensatory benefits (` mata متاع `) for divorced women has also been dealt with in verses earlier than this, but that was re¬stricted to two types of divorced women who were divorced before pri¬vacy and consummation. The first case of providing compensatory ben¬efits was the giving of a set of clothes. The second case was of providing compensatory benefit in the form of half of the dower. Now remains the case of divorcees who were divorced after privacy and con-summation. Here, providing compensatory benefits to one whose dow¬er has already been fixed lies in giving her the full amount of dower or mahr. For one whose dower has not already been fixed, a post-consummation divorce will make it obligatory to give her mahr al¬mithl مھر المثل or &equivalent dower& (as customarily given in the immediate family circle of the woman). If the word &benefit& used in this verse is taken to mean &dower&, its payment is obligatory according to these de-tails. However, if we take math& to mean a particular benefit, that is, the giving of a gift or set of clothes, then giving this to a particular type of divorced woman is obligatory which has been pointed out earli¬er. In the rest of the cases, this is mustahabb مستحب or desirable. And should math` be taken to mean maintenance or nafaqah, then it is obligatory until the expiry of ` iddah in the case of a divorce after which ` iddah has to be observed. The divorce may be revocable (رجعی) or irrevocable (باین) --it does not matter. To sum up, the verse, by using universally applica¬ble words, covers all situations.

(٢) وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ مطلقہ عورتوں کو متعہ یعنی فائدہ پہچانا اس سے پہلی آیات میں بھی آچکا ہے مگر وہ صرف دو قسم کی مطلقات کے لئے تھا جن کو صحبت وخلوت سے پہلے طلاق ہوگئی ہو ایک کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ جوڑا دیا جائے دوسری کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ آدھا مہر دیا جائے اب وہ طلاق والیاں رہ گئیں جن کو صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی جاوے سو ان میں جس کا مہر مقرر کیا گیا ہو اس کو فائدہ پہنچانا یہ ہے کہ پورا مہر دینا چاہئے اور جس کا مہر مقرر نہ کیا جاوے اس کے لئے بعد دخول کے مہر مثل واجب ہے یہ متاع بمعنی مطلق فائدہ پہنچانا اس تفصیل سے تو واجب ہے اور اگر متاع سے مراد فائدہ خاص یعنی تحفہ یا جوڑا دینا ہی لیا جائے تو ایک مطلقہ کو تو دینا واجب ہے جس کا ذکر ماقبل میں آچکا ہے اور باقی سب اقسام میں مستحب ہے اور اگر متاع سے مراد نفقہ لیا جاوے تو جس طلاق میں عدت ہے اس میں عدت گزر نے تک واجب ہے خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن غرض آیت اپنے الفاظ عامہ سے سب صورتوں کو شامل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ۝ ٠ ۭ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ۝ ٢٤١ طلق أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ( ط ل ق ) ا لطلاق دراصل اس کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرنا کے ہیں ۔ محاورہ الطلقت البعر من عقالہ وطلقۃ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا طالق وطلق وہ اونٹ جو مقید نہ ہو اسی سے خلی تھا کی طرح طلقت المرءۃ کا محاورہ مستعار ہے یعنی میں نے اپنی عورت کو نکاح کے بندھن سے آزادکر دیا ایسی عورت کو طائق کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٤١۔ ٢٤٢) ان عورتوں کو کچھ فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا مقرر ہوا ہے، واجب نہیں کیوں کہ یہ بطور احسان کے حق مہر کے علاوہ ہے، اسی طرح حق تعالیٰ احکام الہی کو بیان کرتا ہے، جیسا کہ ان چیزوں کو بیان کیا ہے تاکہ تم اللہ کے حکموں کو سمجھو۔ شان نزول : (آیت) ” وللمطلقت متاع بالمعروف “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے ابن زید (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ ”۔ ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “۔ نازل ہوئی تو اس پر ایک شخص کہنے لگا کہ اگر اس نے بھلائی کی تو میں بھی ایسا کروں گا اور اگر اس نے بھلائی دیکھنے میں نہ آئی تو میں یہ سلوک نہیں کروں گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانا مقرر ہوا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤١ (وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌم بالْمَعْرُوْفِ ط) (حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ) ۔ واضح رہے کہ یہ ہدایت عدت کے وقت تک کے لیے ہے ‘ اس کے بعد نہیں۔ اسی معاملے میں کلکتہ ہائی کو رٹ نے شاہ بانو کیس میں جو ایک فیصلہ دیا تھا اس پر ہندوستان میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کوئی مسلمان اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ بیوی اگر تو دوسری شادی کرلے تب تو بات دوسری ہے ‘ ورنہ جب تک وہ زندہ رہے گی اس کا نان نفقہ طلاق دینے والے کے ذمے ّ رہے گا۔ اس پر بھارت کے مسلمانوں نے کہا کہ یہ ہماری شریعت میں دخل اندازی ہے ‘ شریعت نے مطلقہ کے لیے صرف عدت تک نان نفقہ کا حق رکھا ہے۔ چناچہ مسلمانوں نے اس مسئلے پر احتجاجی تحریک چلائی ‘ جس میں بہت سے لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آخر کار راجیو گاندھی کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور پھر وہاں یہ قانون بنا دیا گیا کہ ہندوستان کی کوئی عدالت بشمول سپریم کو رٹ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل نہیں دے سکتی۔ اس پر میں مسلمانان بھارت کی عظمت کو سلام پیش کیا کرتا ہوں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں یہ ہوا کہ ایک فوجی آمر نے عائلی قوانین بنائے جن کے بارے میں سنی ‘ شیعہ ‘ اہل حدیث ‘ دیوبندی ‘ بریلوی تمام علماء اور جماعت اسلامی کی چوٹی کی قیادت سب نے متفقہ طور پر یہ کہا کہ یہ قوانین خلاف اسلام ہیں ‘ مگر وہ آج تک چل رہے ہیں۔ ایک اور فوجی آمر گیارہ برس تک یہاں پر کو سِ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ بجاتا رہا اور اسلام اسلام کا راگ بھی الاپتارہا ‘ لیکن اس نے بھی ان قوانین کو جوں کا توں برقرار رکھا۔ اسی بنیاد پر میں نے اس کی شوریٰ سے استعفا دیا تھا۔ لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے وہاں پر یہ بات نہیں ہونے دی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

162: مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانے کا لفظ بڑا عام ہے۔ اس میں عدت کے دوران کا نفقہ بھی داخل ہے اور اگر ابھی مہر نہ دیا گیا ہو تو وہ بھی داخل ہے، نیز اوپر آیت نمبر : ۶۳۲ میں جس تحفے کا ذکر ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ تحفہ اس صورت میں تو واجب ہے جب کوئی مہر مقرر نہ ہوا ہو، اور خلوت سے پہلے طلاق واقع ہوگئی ہو، لیکن جب مہر مقرر ہوا ہو تو اس صورت میں بھی مستحب ہے کہ مطلقہ عورت کو مہر کے علاوہ یہ تحفہ بھی دیا جائے ان تمام احکام سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اول تو طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اقدام اسی وقت کرنا چاہئے جب کوئی اور صورت باقی نہ رہی ہو، دوسرے جب یہ اقدام کیا جائے تونکاح کے تعلق کا اختتام بھی شرافت، فراخ دلی اور احترام سے خوشگوار ماحول میں ہونا چاہئے، دُشمنی کے ماحول میں نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:241) وللمطلقت۔ لام استحقاق کا ہے المطلقت جمع ہے المطلقۃ کی جو اسم مفعول واحد مؤنث بمعنی طلاق دی گئی عورت ہے۔ یہاں المطلقت سے مراد جمیع مطلقات ہیں یعنی معروف قاعدہ کے مطابق جملہ مطلقہ عورتوں کو متعہ کا حق حاصل ہے۔ حقا علی المتقین۔ حقا۔ منصوب بوجہ مفعول مطلق کے ہے ملاحظہ ہو ،:238 متذکرہ بالا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ متعہ کا دینا متقین پر واجب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اوپر کی آیت 236 میں خاص صورت میں متعہ طلاق کا حکم تھا اب اس آیت میں ہر مطلقہ کے لیے متاع یعنی متعہ طلاق کا حکم دیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلقہ عورت کو کچھ دے کر رخصت کرنا چاہیے تاہم اس کے وجوب پر ارتفاق نہیں ہے۔ ( درمنشور۔ ابن کثیر) یہاں تک نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلقہ مسائل ختم ہوئے۔ (موضح) آخر میں ان معا شرتی مسائل کی اہمیت کے پیش نظر اہل عقل کو مخاطب کیا ہے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

دوسری آیت میں اللہ خوفی کی دعوت دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ ہر مطلقہ عورت کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ سامان ضرور دیا جائے : وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔ “ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ مطلقات کے بارے میں سابقہ آیات میں تفصیلی احکام آچکے ہیں ، اس لئے یہ آیت ان آیات کی وجہ سے منسوخ تصور ہوگی ۔ لیکن یہاں اسے منسوخ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ متاع یعنی کچھ نہ کچھ دے دینا نفقات واجبہ سے علیحدہ ایک چیز ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے جو احکامات اب تک دیئے ہیں ، ان کی حقیقت پر غور کیا جائے تو ہر مطلقہ عورت کے لئے تحفہ کیے طور پر کچھ نہ کچھ دئیے جانے کی گنجائش رکھنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔ چاہے اس کے ساتھ مباشرت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس کا مہر مقرر کیا گیا ہو یا مقرر نہ کیا جاسکا ہو۔ اس لئے طلاق کی وجہ سے فریقین کے تعلقات میں خشکی پیدا ہوجاتی ہے ، دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف وحشت اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے ، چناچہ ایسے موقع پر اس قسم کے حسن سلوک سے تعلقات میں تازگی پیدا ہو سکتی ہے ، دلوں کی باہمی وحشت دور ہوسکتی ہے ۔ یہ واحد گارنٹی ہے ، جس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اور جس سے جماعت مسلمہ کے تعلقات درست ہوسکتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مطلقہ عورتوں کو متعہ دینے کی تاکید جن عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی جائے اور مہر مقرر نہ کیا گیا ہو ان کے لیے متعہ دینے کا حکم عنقریب گزر چکا ہے۔ اس آیت میں فرمایا کہ طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے نفع پہنچانا ہے، اس سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے تو یہ فرمایا ہے کہ اس سے پہلے جن عورتوں کو متعہ یعنی تین کپڑے دینے کا حکم ہوا تھا اس کو یہاں بطور تاکید دوبارہ بیان فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی ص ١٦٠ ج ٢ لکھتے ہیں کہ اس کی تعیین اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن جریر نے ابن زید سے روایت کی ہے اور وہ یہ کہ جب لفظ (حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ) نازل ہوا تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو احسان اور سلوک کی بات ہوئی۔ (یعنی تبرع والا معاملہ ہوا) چاہے عمل کروں چاہے نہ کروں۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور (حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ) فرمایا، جس سے ظاہر ہوا کہ جو شخص اس پر عمل نہیں کرے گا وہ گناہ گار ہوگا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے عدت کے زمانہ میں نان و نفقہ مراد ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی نفع پہنچانے میں شامل ہے اور لفظ مَتَاعٌ کو اور زیادہ عام لیا جائے تو اس میں وہ سب احکام داخل ہوجاتے ہیں جو مطلقہ عورتوں سے متعلق ہیں جس میں بعض صورتوں میں پورے مہر کی ادائیگی اور بعض صورتوں میں نصف مہر کی ادائیگی واجب ہے جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اگر بیوی کا مہر ادا نہیں کیا ہے تو یہ نہ سمجھے کہ اب تو میری بیوی رہی ہی نہیں اب کیا لینا دینا ہے بلکہ اب تو مہر کی ادائیگی کی فرضیت اور زیادہ مؤکد ہوگئی کیونکہ جب تک نکاح میں تھی تو معاف کردینے کا بھی احتمال تھا اب کیوں معاف کرنے لگی۔ لہٰذا اب جلدی ادائیگی کر کے سبکدوش ہوجائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

475” متاع “ کا یہ حکم تمام مطلقات کے لیے ہے اور یہ حکم استحبابی ہے البتہ جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق ہوجائے اور اس کا مہر مقرر نہ ہو اس کو متعہ کے کپڑے دینے واجب ہیں جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ ” کذلک یبین اللہ لکم ایتہ لعلکم تعقلون “ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے معاش و معاشرت کے احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم انہیں سمجھو اور سمجھ کر ان پر عمل کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi