Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 253

سورة البقرة

تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ وَ لٰکِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلُوۡا ۟ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۲۵۳﴾٪  1

Those messengers - some of them We caused to exceed others. Among them were those to whom Allah spoke, and He raised some of them in degree. And We gave Jesus, the Son of Mary, clear proofs, and We supported him with the Pure Spirit. If Allah had willed, those [generations] succeeding them would not have fought each other after the clear proofs had come to them. But they differed, and some of them believed and some of them disbelieved. And if Allah had willed, they would not have fought each other, but Allah does what He intends.

یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ، ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالٰی نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں ، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے ، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا ، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر ، اور اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تعالٰی جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah Honored Some Prophets Above Others Allah says; تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ... Those Messengers! We preferred some of them to others; Allah states that He has honored some Prophets to others. For instance, Allah said, وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ وَءَاتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا And indeed, We have preferred some of the Prophets above others, and to Dawud We gave the Zabur (Psalms). (17:55) In the Ayah, Allah said, تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللّهُ ... Those Messengers! We preferred some of them to others; to some of them Allah spoke (directly), meaning, Musa and Muhammad, and also Adam according to a Hadith recorded in Sahih Ibn Hibban from Abu Dharr. ... وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ... Others He raised to degrees (of honor), as is evident in the Hadith about the Isra' journey, when the Messenger of Allah saw the Prophets in the various heavens according to their rank with Allah. If somebody asks about the collective meaning of this Ayah and the Hadith that the Two Sahihs collected from Abu Hurayrah which states, "Once, a Muslim man and a Jew had an argument and the Jew said, `No, by Him Who gave Musa superiority over all human beings!' Hearing him, the Muslim man raised his hand and slapped the Jew on his face and said, `Over Muhammad too, O evil one!' The Jew went to the Prophet and complained to him and the Prophet said, لاَا تُفَضِّلُونِي عَلَى الاْاَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى بَاطِشًا بِقَايِمَةِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ فَلَا تُفَضِّلُونِي عَلَى الاْاَنْبِيَاء Don't give me superiority above the Prophets, for the people will become unconscious on the Day of Resurrection, and I will be the first to be resurrected to see Musa holding on to the pillar of Allah's Throne. I will not know whether the unconsciousness Musa suffered on the Day of the Trumpet sufficed for him, or if he got up before me. So, do not give me superiority above the Prophets. In another narration, the Prophet said, Do not give superiority to some Prophets above others. The answer to this question is that this Hadith prohibits preferring some Prophets above others in cases of dispute and argument, such as the incident mentioned in the Hadith. The Hadith indicates that it is not up to creation to decide which Prophet is better, for this is Allah's decision. The creation is only required to submit to, obey and believe in Allah's decision. Allah's statement, ... وَاتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ ... And We gave `Isa, the son of Maryam, clear signs, refers to the proofs and unequivocal evidences that testify to the truth that `Isa delivered to the Children of Israel, thus testifying that he was Allah's servant and His Messenger to them. ... وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ... And supported him with Ruh-il-Qudus, meaning Allah aided `Isa with Jibril, peace be upon him. Allah then said, ... وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَـكِنِ اخْتَلَفُواْ فَمِنْهُم مَّنْ امَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا اقْتَتَلُواْ ... If Allah had willed, succeeding generations would not have fought against each other, after clear Verses of Allah had come to them, but they differed ـ some of them believed and others disbelieved. If Allah had willed, they would not have fought against one another. meaning all this happened by Allah's decree, and this is why He said next, ... وَلَـكِنَّ اللّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ But Allah does what He wills.

ذِکر مدارج الانبیاء یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں ، جیسا اور جگہ فرمایا ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض و اتینا داؤد زبورا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور حضرت داؤد کو ہم نے زبور دی ، یہاں بھی اسی کا ذِکر کرکے فرماتا ہے ان میں سے بعض کو شرف ہمکلامی بھی نصیب ہوا جیسا حضرت موسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت آدم ۔ صحیح ابن حبان میں حدیث ہے جس میں معراج کے بیان کے ساتھ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ کسی نبی کو آپ نے الگ الگ کس آسمان میں پایا جو ان کے مرتبوں کے کم و بیش ہونے کی دلیل ہے ، ہاں ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی کچھ بات چیت ہو گئی تو یہودیوں نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے موسیٰ کی تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو مسلمان سے ضبط نہ ہو سکا ، اس نے اٹھا کر ایک تھپڑ مارا اور کہا خبیث کیا ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ یہودی نے سرکارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آکر اس کی شکایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو ، قیامت کے دن سب بیہوش ہونگے سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہوں گے ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا سرے سے بیہوش ہی نہیں ہوئے تھے؟ اور طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں کی بیہوشی سے بچا لئے گئے ، پس مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو ، ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبروں کے درمیان فضیلت نہ دو ، پس یہ حدیث بظاہر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے لیکن دراصل کوئی تعارض نہیں ، ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس سے پہلے ہو کہ آپ کو فضیلت کا علم نہ ہوا ہو ، لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے ، دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ آپ نے محض تواضع اور فروتنی کے طور پر فرمایا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر ، تیسرا جواب یہ ہے کہ ایسے جھگڑے اور اختلاف کے وقت ایک کو ایک پر فضیلت دینا دوسرے کی شان گھٹانا ہے اس لئے آپ نے منع فرما دیا ، چوتھا جواب یہ ہے کہ تم فضیلت نہ دو یعنی صرف اپنی رائے ، اپنے خیال اور اپنے ذہنی تعصب سے اپنے نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت نہ دو ، پانچواں جواب یہ ہے کہ فضیلت و تکریم کا فیصلہ تمہارے بس کا نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ جسے فضیلت دے تم مان لو ، تمہارا کام تسلیم کرنا اور ایمان لانا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو واضح دلیلیں اور پھر ایسی حجتیں عطا فرمائی تھیں جن سے بنی اسرائیل پر صاف واضح ہو گیا کہ آپ کی رسالت بالکل سچی ہے اور ساتھ ہی آپ کی یہ حیثیت بھی واضح ہو گئی کہ مثل اور بندوں کے آپ بھی اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے اور بےکس غلام ہیں ، اور روح القدس یعنی حضرت جبرائیل سے ہم نے ان کی تائید کی ۔ پھر فرمایا کہ بعد والوں کے اختلاف بھی ہمارے قضا و قدر کا نمونہ کا نمونہ ہیں ، ہماری شان یہ ہے کہ جو چاہیں کریں ، ہمارے کسی ارادے سے مراد جدا نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

253۔ 1 قرآن نے ایک دوسرے مقام پر بھی اسے بیان کیا ہے ( وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ ) 017:055 " ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے اس لئے اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں۔ البتہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (لا تخیرونی من بین الأنبیآء (صحیح بخاری کتاب التفسیر سورة الاعراف، باب 135۔ مسلم کتاب الفضائل موسی) تم مجھے انبیاء کے درمیان فضیلت مت دو تو اس سے ایک کی دوسرے پر فضیلت کا انکار لازم نہیں آتا بلکہ یہ امت کو انبیاء (علیہ السلام) کی بابت ادب اور احترام سکھایا گیا ہے کہ تمہیں چونکہ تمام باتوں اور ان امتیازات کا جن کی بنا پر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہے پوار علم نہیں ہے اس لیے تم میری فضیلت بھی اس طرح بیان نہ کرنا اس سے دوسرے انبیاء کی کسر شان ہو۔ ورنہ بعض نبیوں پر فضیلت اور اور تمام پیغمبروں پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت و اشرفیت مسلمہ اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے جو کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے (فتح القدیر) 253۔ 2 مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے مثلاً احیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا) وغیرہ جس کی تفصیل سورة آل عمران میں آئے گی۔ روح القدوس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ 253۔ 3 اس مضموں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ بیان فرمایا۔ مطلب اس کا یہ نہیں ہے کہ اللہ کے نازل کردہ دین میں اختلاف پسندیدہ ہے یا اللہ کو ناپسند ہے اس کی پسند (رضا) تو یہ ہے کہ تمام انسان اس کی نازل کردہ شریعت کو اپنا کر جہنم سے بچ جائیں اس لئے اس نے کتابیں اتاریں انبیاء (علیہ السلام) کا سلسلہ قائم کیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رسالت کا خاتمہ فرما دیا۔ تاہم اس کے بعد بھی خلفاء اور علماء دعوت کے ذریعے سے دعوت حق اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس کی سخت اہمیت و تاکید بیان فرمائی گئی کس لیے اسی لیے تاکہ لوگ اللہ کے پسندیدہ راستے کو اختیار کریں لیکن چونکہ اس نے ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کی نشان دہی کر کے انسانوں کو کوئی ایک راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ بطور امتحان اسے اختیار اور ارادہ کی آزادی سے نوازا ہے اس لیے کوئی اس اختیار کا صحیح استعمال کر کے مومن بن جاتا ہے اور کوئی اس اختیار و آزادی کا غلط استعمال کر کے کافر یہ گویا اس کی حکمت ومشیت ہے جو اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥٦] انبیاء و رسل کی سب سے بڑی فضیلت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت و رسالت عطا فرمائی۔ اس لحاظ سے ان میں کوئی فرق نہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے کسی پیغمبر پر فضیلت نہ دو ۔ نیز فرمایا کہ کسی پیغمبر کو کسی دوسرے پر فضیلت نہ دو ۔ حتیٰ کہ یونس بن متی پر بھی (بخاری، کتاب التفسیر) رہی جزوی فضیلتیں تو اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو کسی ایک فضیلت سے نوازا اور دوسرے کو کسی دوسری فضیلت سے جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کے فضائل خود ہی ذکر فرما دیئے اور یہاں فضائل سے مراد دراصل خصائص یا مخصوص معجزات ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے۔ مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اور اس زمین پر براہ راست کلام کیا جو اور کسی نبی سے نہیں کیا۔ اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے اور مٹی کے پرندے بناکر ان میں روح پھونک کر اڑا دیتے تھے۔ [٣٥٧] اختلاف اور باہمی لڑائی جھگڑے کی اصل بنیاد انسان میں قوت ارادہ و اختیار ہے۔ اگر انسان اس قوت و اختیار کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دے تو یہ ایمان ہے اور یہی اسلام ہے اور اگر اس کا آزادانہ استعمال کرنا شروع کر دے اور اللہ کے احکام کی پروا نہ کرے تو یہی کفر ہے۔ [٣٥٨] یعنی اللہ کی مشیت یہ ہے کہ انسان کو قوت ارادہ دی جائے، پھر دیکھا جائے کہ کون اس کو درست استعمال کرتا ہے اور کون غلط ؟ اور جو لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں وہی آپس میں اختلاف کرتے اور لڑائی جھگڑے کرتے رہتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو انسان کو یہ قوت ہی نہ دیتا، پھر نہ کوئی اختلاف ہوتا اور نہ لڑائی جھگڑا۔ بس سب کے سب مومن ہوتے۔ لیکن ایسا ایمان اضطراری ہوتا اختیاری نہ رہتا۔ جب کہ مشیت الٰہی یہ ہے کہ لوگ اپنے اختیار سے ایمان لائیں یا کفر کریں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

تِلْكَ الرُّسُلُ ۔۔ : اس سے وہ رسول مراد ہیں جن کا اس سورت میں ذکر آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ انبیاء درجات میں مختلف ہیں اور فضیلت میں ایک دوسرے سے زیادہ ہیں، چناچہ فرمایا : (وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ ) [ بنی إسرائیل : ٥٥ ] ” اور بلاشبہ یقیناً ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی۔ “ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آتا ہے : (وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا) [ النساء : ١٦٤ ] ” اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔ “ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ : یہ بات اسی آیت میں پہلے بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی، اب پھر فرمایا : ” ان میں سے بعض کو درجات میں بلند کیا “ اس سے ایک خاص شخصیت کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے، جسے سب جانتے ہیں، اس لیے نام لینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، جیسا کہ یہ آیت ہے : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ ) [ بنی إسرائیل : ١ ] اس میں بھی اس بندے کا نام بتانے کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فضیلت دو طرح کی ہے، ایک مجموعی اور کلی فضیلت اور دوسری جزوی فضیلت، یعنی کسی ایک چیز میں دوسروں سے بڑھ کر ہونا، مثلاً یوسف (علیہ السلام) کہ وہ خود، ان کے والد، دادا اور پردادا نبی تھے، یہ فضیلت کسی اور رسول کو حاصل نہیں، چناچہ اس لحاظ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ” أَکْرَمُ النَّاسِ “ یعنی سب لوگوں سے زیادہ معزز فرمایا۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( واتخذ اللہ ۔۔ ) : ٣٣٥٣ ] آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ (٦٠) ہاتھ قد عطا کیا اور انھیں اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، یہ آدم (علیہ السلام) کی جزوی فضیلت ہے، کلی اور مجموعی طور پر ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انبیاء سے افضل ہیں، یہی صحیح عقیدہ ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ خود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ فَخْرَ )” میں آدم (علیہ السلام) کی اولاد کا قیامت کے دن سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔ “ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة بنی إسرائیل : ٣١٤٨، و صححہ الألبانی ] آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی افضلیت کے لیے قرآن مجید ہی کافی ہے۔ دوسرے تمام انبیاء کے معجزات ان کے ساتھ ہی ختم ہوگئے جبکہ قرآن قیامت تک باقی ہے۔ مفسرین بالخصوص رازی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی افضلیت کو دلائل سے ثابت کیا ہے اور اس سلسلہ میں شبہات کے جواب دیے ہیں، لیکن ابوہریرہ (رض) سے مروی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بظاہر اس کے خلاف ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے موسیٰ ( (علیہ السلام) ) سے بہتر نہ کہو۔ “ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب وفاۃ موسٰی۔۔ : ٣٤٠٨ ] اور ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لاَ تُفَضِّلُوْا بَیْنَ أَنْبِیَاء اللّٰہِ )” اللہ کے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو ۔ “ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ ۔۔ : ٣٤١٤ ] علماء نے اس کے متعدد جواب دیے ہیں، جن میں سے واضح ترین جواب دو ہیں، ایک یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد ہے کہ میری فضیلت ایسے انداز سے بیان نہ کرو جس سے دوسرے انبیاء کی کسر شان کا پہلو نکلتا ہو، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ الفاظ مسلمان اور یہودی کے جھگڑے کے موقع پر فرمائے تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ کسی نبی کو ایک ایک چیز میں دوسرے انبیاء سے افضل نہ بتاؤ، کیونکہ جزوی فضیلت کسی بھی نبی کی ہوسکتی ہے۔ امام شوکانی (رض) لکھتے ہیں : ” اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، لیکن حدیث میں فضیلت دینے سے جو منع فرمایا ہے اس سے مراد مقابلہ کی صورت میں ہے، یا جزوی فضیلت مراد ہے، لہٰذا کتاب و سنت میں کوئی تعارض نہیں۔ “ ( ابن کثیر، فتح القدیر ) وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ ۔۔ : یہاں ” الْبَيِّنٰتِ “ سے مراد واضح دلائل اور معجزات ہیں، دیکھیے سورة آل عمران (٤٩) اور روح القدس سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (٨٧) ۔ یعنی انبیاء کے متبعین میں یہ سب دلائل دیکھنے کے بعد ضد و عناد کی وجہ سے اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بنا پر آپس کی لڑائی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ یہاں ” ایسا کیوں ہوا “ نہیں کہا سکتا کیونکہ اس کا جواب ہمارے فہم سے بالا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دیا ہے، پھر اسے بھی اپنے اختیار کے تحت رکھا ہے، اس کی حکمت وہی جانتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ تقدیر اللہ تعالیٰ کا ایک بھید ہے جو ہم سے مخفی رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے معلوم کرنے کی کوشش کا کچھ فائدہ نہیں، بلکہ مان لینا چاہیے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء (٢٣) ۔ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ کفر و ایمان میں لوگوں کا اختلاف تو پہلے ہی سے چلا آ رہا ہے، کوئی نبی ایسا نہیں کہ جس کی ساری امت ایمان لے آئی ہو، لہٰذا آپ ان کے انکار سے رنجیدہ نہ ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary 1. In Verse 253, beginning with تِلْكَ الرُّ‌سُلُ (&those are the Messenger’), the purpose is to give solace and comfort to the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) since the deniers refused to recognize his prophethood, inspite of the fact that it was conclusively proved, as has been stated in the verse 252: وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْ‌سَلِي (And certainly you are among the Messengers.) as well. This situation caused him pain. Therefore, Allah Almighty made him aware of the coming of other prophets too, in varying degrees of sta¬tion, but universal belief was not witnessed in any of their communi¬ties -- some supported while some others opposed. However, this too has its wise considerations which may not necessarily be visible to eve¬ryone, but this much is important that one should generally believe that there is definitely a certain wisdom behind this. 2. Since the words تِلْكَ الرُّ‌سُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ (Those are the Messengers some of whom We have given excellence over others) in this verse clearly indicate that some prophets are given higher status than others, we have a difficulty on our hands when we compare this with a hadith, where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: لا تفضلوا بین انبیاء اللہ Do not seek preference among prophets. لا تخیرونی علی موسٰی Do not give me precedence over Musa. لا اقول ان احدا افضل من یونس بن متی I cannot say if anyone is better than Yunus ibn Matta. These ahadith so obviously forbid the giving of preference to some prophets over some other prophets. The reply is: These ahadith mean to tell us not to give preference to some prophets over some others, without any proof, out of our own opinion. This is because a prophet&s having higher status means that he has a high station in the sight of Allah. Obviously, this knowledge cannot be acquired through conjectures and surmises but should such a proof come from the Qur&an and Sunnah, establishing the precedence of some prophets over some others, then it will be necessary to believe in it. Now, as to his saying: لا اقول ان احدا افضل من یونس بن متی (I cannot say if anyone is better than Yunus ibn Matta) and لا تخیرونی علی موسٰی (Do not give me precedence over Musa), this is related to the time when he was not given the knowledge that he has precedence over all other prophets. This was disclosed to him later on through revelation and he did tell the noble Companions about it. (Mazhari) 3. As regards the statement& مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّـهُ (Among them there is he whom Allah spoke to), it may be noted that the conversation with Musa (علیہ السلام) may be without an angel as intermediary, but it certainly was not without hijab (obstruction of view). So, there remains no conflict of meaning with what has been stated in the verse: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ (It belongs not to any mortal that God should speak to him) (42:51), in which conversation without hijab has been negated. However, post-death conversation without hijab is possible, so this verse from Sarah al-Shura relates to the life in this world.

خلاصہ تفسیر : بعض انبیاء (علیہم السلام) اور امتوں کے کچھ احوال : یہ حضرات مرسلین (جن کا ذکر ابھی اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ میں آیا ہے) ایسے ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے (مثلا) بعضے ان میں سے وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ (بلاواسطہ فرشتہ کے) ہم کلام ہوئے ہیں (مراد موسیٰ (علیہ السلام) اور بعضوں کو ان میں بہت سے درجوں میں (اعلیٰ مقام سے) سرفراز کیا اور ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو کھلے کھلے دلائل (یعنی معجزات) عطا فرمائے اور ہم نے ان کی تائید روح القدس (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) سے فرمائی (ہر وقت یہود سے انکی حفاظت کرنے کے لئے ساتھ رہتے تھے) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو (امت کے) جو لوگ ان (پیغمبروں) کے بعد ہوئے ہیں (کبھی دین میں اختلاف کرکے) باہم قتل و قتال نہ کرتے بعد اس کے ان کے پاس (امر حق کے) دلائل (پیغمبروں کی معرفت) پہنچ چکے تھے (جن کا مقتضا تھا دین حق کے قبول پر متفق رہنا) لیکن (چونکہ اللہ تعالیٰ کو بعض حکمتیں منظور تھیں اس لئے ان میں اتفاق مذہبی نہیں پیدا کیا) یہ لوگ باہم (دین میں) مختلف ہوئے سو ان میں کوئی تو ایمان لایا اور کوئی کافر رہا (پھر اس اختلاف میں نوبت قتل و قتال بھی پہنچ گئی) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ لوگ باہم قتل و قتال نہ کرتے لیکن اللہ تعالیٰ (اپنی حکمت سے) جو چاہتے ہیں (اپنی قدرت سے) وہی کرتے ہیں۔ معارف و مسائل : (١) تِلْكَ الرُّسُلُ الآیہ اس مضمون میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک گونہ تسلی دینا ہے کیونکہ جب آپ کی رسالت دلیل سے ثابت تھی جس کو ابھی اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ میں بھی فرمایا ہے اور پھر بھی منکرین نہ مانتے تھے تو یہ آپ کے رنج و افسوس کا محل تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بات سنادی کہ اور بھی پیغمبر مختلف درجوں کے گزرے ہیں لیکن ایمان عام کسی کی امت میں نہیں ہوا کسی نے موافقت کی کسی نے مخالفت اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہوتی ہیں گو ہر شخص پر منکشف نہ ہوں مگر اجمالاً اتنا عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ کوئی حکمت ضرور ہے۔ (٢) تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ یہاں یہ اشکال پیش آسکتا ہے کہ یہ آیت صراحۃ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ بعض انبیاء (علیہم السلام) بعض سے افضل ہیں حالانکہ حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لا تفضلوا بین انبیاء اللہ۔ انبیاء کے درمیان تفضیل نہ کیا کرو۔ نیز فرمایا : لا تخیرونی علیٰ موسیٰ ٰ ۔ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو ، اور فرمایا : لا اقول ان احداً افضل من یونس بن متٰی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی یونس بن متیٰ سے افضل ہے۔ ان احادیث میں بعض انبیاء (علیہم السلام) کی بعض پر فضیلت دینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ؟ جواب : یہ ہے کہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ دلیل کے بغیر اپنی رائے سے بعض کو بعض پر فضیلت نہ دو اس لئے کہ کسی نبی کے افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مرتبہ بہت زیادہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا علم رائے اور قیاس سے حاصل نہیں ہوسکتا لیکن قرآن وسنت کی کسی دلیل سے اگر بعض انبیاء (علیہم السلام) کی بعض پر فضیلت معلوم ہوگئی تو اس کے مطابق اعتقاد رکھا جائے گا۔ رہا آپ کا یہ ارشاد کہ لا اقول ان احداً افضل من یونس بن متٰی تو یہ اس وقت سے متعلق ہے جب کہ آپ کو یہ علم نہیں دیا گیا تھا کہ آپ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے افضل ہیں بعد میں بذریعہ وحی آپ کو یہ بات بتلا دی گئی اور صحابہ کرام سے آپ نے اس کا اظہار بھی فرما دیا (مظہری) (٣) مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہم کلامی گو بلاواسطہ فرشتہ کے ہو مگر بےحجاب نہ تھی پس سورة شوریٰ کی آیت مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ (٥١: ٤٢) جس میں بےحجاب کلام کی نفی کی گئی اس سے کچھ تعارض نہ رہا البتہ بعد موت کے بےحجاب کلام ہونا بھی شرعاً ممکن ہے، پس وہ شوریٰ کی آیت دنیا کے اعتبار سے ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ۝ ٠ ۘ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ۝ ٠ ۭ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۝ ٠ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِھِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْھُمُ الْبَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْھُمْ مَّنْ كَفَرَ۝ ٠ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوْا۝ ٠ ۣ وَلٰكِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ۝ ٢٥٣ ۧ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔ درج الدّرجة نحو المنزلة، لکن يقال للمنزلة : درجة إذا اعتبرت بالصّعود دون الامتداد علی البسیطة، کدرجة السّطح والسّلّم، ويعبّر بها عن المنزلة الرفیعة : قال تعالی: وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] ( د ر ج ) الدرجۃ : کا لفظ منزلہ ميں اترنے کی جگہ کو درجۃ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے صعود یعنی اوپر چڑھتے کا اعتبار کیا جائے ورنہ بسیط جگہ پر امدیاد کے اعتبار سے اسے درجۃ نہیں کہتے جیسا کہ چھت اور سیڑھی کے درجات ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا اطلاق مزدلہ رفیع یعنی بلند مرتبہ پر بھی ہوجاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے ۔ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ عيسی عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا ( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور بعیر اعیس وناقۃ عیساء جمع عیس اور عاسھا یعسھا کے معنی ہیں نر کا مادہ سے جفتی کھانا ۔ مریم مریم : اسم أعجميّ ، اسم أمّ عيسى عليه السلام» . ايد ( قوة) قال اللہ عزّ وجل : أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ المائدة/ 110] فعّلت من الأيد، أي : القوة الشدیدة . وقال تعالی: وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 13] أي : يكثر تأييده، ويقال : إِدْتُهُ أَئِيدُهُ أَيْداً نحو : بعته أبيعه بيعا، وأيّدته علی التکثير . قال عزّ وجلّ : وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، ويقال : له أيد، ومنه قيل للأمر العظیم مؤيد . وإِيَاد الشیء : ما يقيه، وقرئ : (أَأْيَدْتُكَ ) وهو أفعلت من ذلك . قال الزجاج رحمه اللہ : يجوز أن يكون فاعلت، نحو : عاونت، وقوله عزّ وجل : وَلا يَؤُدُهُ حِفْظُهُما[ البقرة/ 255] أي : لا يثقله، وأصله من الأود، آد يؤود أودا وإيادا : إذا أثقله، نحو : قال يقول قولا، وفي الحکاية عن نفسک : أدت مثل : قلت، فتحقیق آده : عوّجه من ثقله في ممرِّه . ( ای د ) الاید ( اسم ) سخت قوت اس سے اید ( تفعیل ) ہے جس کے معنی تقویت دنیا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ المائدة/ 110] ہم نے تمہیں روح قدس سے تقویت دی وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 13] یعنی جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے بہت زیادہ تقویت بخشتا ہے ادتہ ( ض) ائیدہ ایدا جیسے بعتہ ابیعہ بیعا ( تقویت دینا) اور اس سے ایدتہ ( تفعیل) تکثیر کے لئے آتا ہے قرآن میں ہے وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] اور ہم نے آسمان کو بڑی قوت سے بنایا اور اید میں ایک لغت آد بھی ہے اور ۔ اسی سے امر عظیم کو مؤید کہا جاتا ہے اور جو چیز دوسری کو سہارا دے اور بچائے اسے ایاد الشئی کہا جاتا ہے ایک قرات میں ایدتک ہے جو افعلت ( افعال ) سے ہے اور ایاد الشئ کے محاورہ سے ماخوذ ہے زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یہ فاعلت ( صفاعلہ ) مثل عادنت سے بھی ہوسکتا ہے ۔ روح ( فرشته) وسمّي أشراف الملائكة أَرْوَاحاً ، نحو : يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ صَفًّا[ النبأ/ 38] ، تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] ، نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] ، سمّي به جبریل، وسمّاه بِرُوحِ القدس في قوله : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] ، وَأَيَّدْناهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ البقرة/ 253] ، وسمّي عيسى عليه السلام روحاً في قوله : وَرُوحٌ مِنْهُ [ النساء/ 171] ، وذلک لما کان له من إحياء الأموات، وسمّي القرآن روحاً في قوله : وَكَذلِكَ أَوْحَيْنا إِلَيْكَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنا [ الشوری/ 52] ، وذلک لکون القرآن سببا للحیاة الأخرويّة الموصوفة في قوله : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، والرَّوْحُ التّنفّس، وقد أَرَاحَ الإنسان إذا تنفّس . وقوله : فَرَوْحٌ وَرَيْحانٌ [ الواقعة/ 89] روح اور قرآن نے ذو شرف ملائکہ کو بھی ارواح سے موسوم کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ صَفًّا[ النبأ/ 38] جس روز کہ روح فرشتہ اور دیگر ملائکہ صفیں باندھ کھڑے ہوں گے ۔ تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] فرشتے اور جبریل اس کی طرف چڑھتے ہیں ۔ اور اٰت کریمہ : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اسے روح امین لے کر اترا ۔ میں روح امین سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں ۔ اور دوسری آیت میں جبریل (علیہ السلام) کو روح القدس بھی کہا ہے ۔ جیسے فرمایا : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] اس قرآن کو روح القدس لے کر آتے ہیں ۔ قرآن نے حضرت عیٰسی (علیہ السلام) کو روح کہہ کر پکارا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَرُوحٌ مِنْهُ [ النساء/ 171] اور وہ ایک روح تھی جو خدا کی طرف سے آئی اور عیٰسی کو روح اس لئے کہا ہے کہ وہ دو مردوں کو زندہ کرتے تھے ۔ اور قرآن کو بھی روح کہا گیا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَكَذلِكَ أَوْحَيْنا إِلَيْكَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنا [ الشوری/ 52] اس طرح ہم نے اپنے حکم سے ( دین کی ) جان ( یعنی یہ کتاب) تمہاری طرف وحی کے ذریعہ بھیجی ۔ اس لئے قرآن سے حیات اخردی حاصل ہوتی ہے جس کے متعلق فرمایا : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] اور دار آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے ۔ اور روح ( بفتح الراء ) کے معنی سانس کے ہیں اور اراح الانسان کے معنی تنفس یعنی سانس لینے کے اور آیت : فَرَوْحٌ وَرَيْحانٌ [ الواقعة/ 89] توراحت اور مذاق ہے ۔ میں ریحان سے خوشبودار چیزیں مراد ہیں اور بعض نے رزق مراد لیا ہے الروح : کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) اس سے مراد ہے ارواح بنی آدم۔ (2) بنی آدم فی انفسہم۔ (3) خد ا کی مخلوق میں سے بنی آدم کی شکل کی ایک مخلوق جو نہ فرشتے ہیں نہ بشر۔ (4) حضرت جبرئیل علیہ السلام۔ (5) القران (6) جمیع مخلوق کے بقدر ایک عظیم فرشتہ وغیرہ۔ ( اضواء البیان) ا۔ ابن جریر نے ان جملہ اقوال میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے سے توقف کیا ہے ۔ ب۔ مودودی، پیر کرم شاہ، صاحب تفسیر مدارک، جمہور کے نزدیک حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ ج۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) کے نزدیک تمام ذی ارواح۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی (رح) کے نزدیک اس سیاق میں روح سے مراد ذی روح مخلوق لی گئی ہے۔ قدس التَّقْدِيسُ : التّطهير الإلهيّ المذکور في قوله : وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] ، دون التّطهير الذي هو إزالة النّجاسة المحسوسة، وقوله : وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ [ البقرة/ 30] ، أي : نطهّر الأشياء ارتساما لك . وقیل : نُقَدِّسُكَ ، أي : نَصِفُكَ بالتّقدیس . وقوله : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] ، يعني به جبریل من حيث إنه ينزل بِالْقُدْسِ من الله، أي : بما يطهّر به نفوسنا من القرآن والحکمة والفیض الإلهيّ ، والبیتُ المُقَدَّسُ هو المطهّر من النّجاسة، أي : الشّرك، وکذلک الأرض الْمُقَدَّسَةُ. قال تعالی: يا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ [ المائدة/ 21] ، وحظیرة القُدْسِ. قيل : الجنّة . وقیل : الشّريعة . وکلاهما صحیح، فالشّريعة حظیرة منها يستفاد القُدْسُ ، أي : الطّهارة . ( ق د س ) التقدیس کے معنی اس تطہیرالہی کے ہیں جو کہ آیت وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً [ الأحزاب/ 33] اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے ۔ میں مذکور ہے ۔ کہ اس کے معنی تطہیر بمعنی ازالہ نجاست محسوسہ کے نہیں ہے اور آیت کریمہ : وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ [ البقرة/ 30] اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ ہم تیرے حکم کی بجا آوری میں اشیاء کو پاک وصاف کرتے ہیں اور بعض نے اسکے معنی ۔ نصفک بالتقدیس بھی لکھے ہیں ۔ یعنی ہم تیری تقدیس بیان کرتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] کہدو کہ اس کو روح القدس ۔۔۔ لے کر نازل ہوئے ہیں ۔ میں روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قدس یعنی قرآن حکمت اور فیض الہی کے کر نازل ہوتے تھے ۔ جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے ۔ اور البیت المقدس کو بیت مقدس اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نجاست شرک سے پاک وصاف ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : يا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ [ المائدة/ 21] تو بھائیو ! تم ارض مقدس ( یعنی ملک شام ، میں جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے ۔ داخل ہو ۔ میں ارض مقدسہ کے معنی پاک سرزمین کے ہیں ۔ اور خطیرۃ القدس سے بعض کے نزدیک جنت اور بعض کے نزدیک شریعت مراد ہے اور یہ دونوں قول صحیح ہیں۔ کیونکہ شریعت بھی ایک ایسا حظیرہ یعنی احاظہ ہے جس میں داخل ہونے والا پاک وصاف ہوجاتا ہے۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق ہے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] ، وقال : شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] . ويقال : آية مُبَيَّنَة اعتبارا بمن بيّنها، وآية مُبَيِّنَة اعتبارا بنفسها، وآیات مبيّنات ومبيّنات . ( ب ی ن ) البین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں اور بینہ کے معنی کسی چیز کو ظاہر اور واضح کردینے کے قرآن میں ہے ۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح ( کاملہ ) کیا تھا ۔ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] چناچہ ان کے ( ویران ) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] ( روزوں کا مہنہ ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( وال وال ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥٣) ہم نے ان میں سے کچھ کو کچھ پر بزرگی عطا کی ہے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا دوست بنایا اور ادریس (علیہ السلام) ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند درجات عطا فرمائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ ان کو ہم نے اوامرو نواہی اور عجائبات عطا کیے اور جبرائیل امین (علیہ السلام) سے ان کی تائید فرمائی ، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد باوجود یہ کہ ان کی کتابوں میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف و توصیف آچکی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا یہ لوگ باہم اختلاف نہ کرتے مگر انہوں نے اختلاف کیا کچھ لوگ تو تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائے اور کچھ نے تمام کتابوں اور رسولوں کا انکار کردیا، اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو دین میں یہ لوگ اختلاف نہ کرتے مگر جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥٣ (تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ ٧ ) یہ ایک بہت اہم اصول بیان ہو رہا ہے۔ یہ بات قبل ازیں بیان کی جا چکی ہے کہ تفریق بین الرسل کفر ہے ‘ جبکہ تفضیل قرآن سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے اور اس اعتبار سے وہ دوسروں پر ممتاز ہے۔ چناچہ جزوی فضیلتیں مختلف رسولوں کی ہوسکتی ہیں ‘ البتہ کلیّ فضیلت تمام انبیاء و رسل ( علیہ السلام) پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہے۔ (مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ ) یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت کا خاص پہلو ہے۔ (وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ ط) (وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ ) (وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ط) (وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِہِمْ ) یعنی نہ تو یہودیوں کی آپس میں جنگیں ہوتیں ‘ نہ یہودیوں اور نصرانیوں کی لڑائیاں ہوتیں ‘ اور نہ ہی نصرانیوں کے فرقے ایک دوسرے سے لڑتے۔ (مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ ) (وَلٰکِنِ اخْتَلَفُوْا) (فَمِنْہُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمْ مَّنْ کَفَرَ ط) (وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَا اقْتَتَلُوْاقف) یعنی اگر اللہ تعالیٰ جبراً تکوینی طور پر ان پر لازم کردیتا تو وہ اختلاف نہ کرتے اور آپس میں جنگ وجدال سے باز رہتے۔ (وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ) اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس حکمت پر بنایا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی آزمائش ہے۔ چناچہ آزمائش کے لیے اس نے انسان کو آزادی دی ہے۔ تو جو شخص غلط راستے پر جانا چاہتا ہے اسے بھی آزادی ہے اور جو صحیح راستے پر آنا چاہے اسے بھی آزادی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

275. The main cause of the differences which arose after people had received true knowledge through the Prophets, and which were even aggravated into feuds and wars, is not that God was helpless, and lacked the power to put an end to the fighting. Had He willed so, no one would have had the power to defy the teachings of the Prophets, to take the course of disbelief and rebellion against Him, and to spread mischief and corruption in His world. But it was not His will to deprive human beings of their free-will and choice, and to compel them to follow a particular course. He has created human beings on earth in order to test them and hence endowed them with the freedom to choose from the various alternative courses of belief and action. God did not appoint the Prophets as policemen to force people to faith and obedience. He sent them, instead, with reasonable arguments and clear signs in order to invite people to righteousness. Hence the cause of all the differences and wranglings and fighting which took place was that people, in exercising the free-will granted to them by God, followed divergent courses. In short, people follow divergent ways precisely because of God's omnipotent will that men should have a choice. It would be a grave misunderstanding to hold that people follow different paths because God failed to persuade people to follow the path which He wanted them to choose.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :275 مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے علم حاصل ہو جانے کے بعد جو اختلاف لوگوں کے درمیان رونما ہوئے اور اختلافات سے بڑھ کر لڑائیوں تک جو نوبتیں پہنچیں ، تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ معاذ اللہ خدا بے بس تھا اور اس کے پاس ان اختلافات اور لڑائیوں کو روکنے کا زور نہ تھا ۔ نہیں ، اگر وہ چاہتا ، تو کسی کی مجال نہ تھی کہ انبیا کی دعوت سے سرتابی کر سکتا اور کفر و بغاوت کی راہ چل سکتا اور اس کی زمین میں فساد برپا کر سکتا ۔ مگر اس کی مشیت یہ تھی ہی نہیں کہ انسانوں سے ارادہ و اختیار کی آزادی چھین لے اور انہیں ایک خاص روش پر چلنے کے لیے مجبور کر دے ۔ اس نے امتحان کی غرض سے انہیں زمین پر پیدا کیا تھا ، اس لیے اس نے ان کو اعتقاد و عمل کی راہوں میں انتخاب کی آزادی عطا کی اور انبیا کو لوگوں پر کوتوال بنا کر نہیں بھیجا کہ زبردستی انہیں ایمان و اطاعت کی طرف کھینچ لائیں ، بلکہ اس لیے بھیجا کہ دلائل اور بینات سے لوگوں کو راستی کی طرف بلانے کی کوشش کریں ۔ پس جس قدر اختلافات اور لڑائیوں کے ہنگامے ہوئے ، وہ سب اس وجہ سے ہوئے کہ اللہ نے لوگوں کو ارادے کی جو آزادی عطا کی تھی ، اس سے کام لے کر لوگوں نے یہ مختلف راہیں اختیار کر لیں ، نہ اس وجہ سے کہ اللہ ان کو راستی پر چلانا چاہتا تھا ، مگر معاذ اللہ اسے کامیابی نہ ہوئی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

170: مطلب یہ ہے کہ تھوڑی بہت فضیلت تو مختلف انبیائے کرام علیہ السلام کو ایک دوسرے پر دی گئی ہے، لیکن بعض انبیائے کرام علیہ السلام کو دوسروں پر بدرجہا زیادہ فضیلت حاصل ہے، اور یہ نبی کریمﷺ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ 171: مضمون پیچھے آیت نمبر 87 میں آچکا ہے۔ تشریح کے لئے اس آیت کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ 172: قرآنِ کریم نے بہت سے مقامات پر یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت میں یہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کردیتا اور اس صورت میں سب کا دِین ایک ہی ہوجاتا اور کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا، لیکن اس سے وہ سارا نظام تلپٹ ہوجاتا جس کے لئے یہ دُنیا بنائی گئی ہے اور انسان کو اس میں بھیجا گیا ہے۔ انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد اس کا یہ امتحان لینا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں سے ہدایت کا راستہ معلوم کرنے کے بعد کون ہے جو اس ہدایت پر اپنی مرضی سے چلتا ہے، اور کون ہے جو اس کو نظر انداز کرکے اپنی من گھڑت خواہشات کو اپنا رہنما بناتا ہے۔ اس لئے اللہ نے زبردستی لوگوں کو ایمان پر مجبور نہیں کیا ۔ چنانچہ آگے آیت نمبر : ۶۵۲ میں صراحت کے ساتھ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، حق کے دلائل واضح کردیئے گئے ہیں، اس کے بعد جو کوئی حق کو اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ایسا کرے گا، اور جو شخص اسے نظر اندازکرکے شیطان کے سکھائے ہوئے راستے پر چلے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں اللہ تعالیٰ نے بادشاہت اور نبوت دونوں کو جمع کردیا۔ حالانکہ ہمیشہ سے بنی اسرائیل میں یہ طریقہ تھا کہ نبوت ایک خاندان میں تھی اور بادشاہت دوسرے خاندان میں جس کا ذکر اوپر آچکا ہے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق گروہ انبیاء میں کسی کو کسی طرح کی فضیلت دی ہے اور کسی کو کسی طرح کی جن انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کی فضیلت دی ہے۔ صحیح ابن حبان کی حضرت ابوذر (رض) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم الانبیاء یہ تین نبی ہیں ١۔ اور باقیوں میں بعض نبیوں کا درجہ کچھ اور بعض کا کچھ جو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے اس کی تفصیل صحیحین وغیرہ کی معراج کی حدیث سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس رات مثلاً آدم (علیہ السلام) اول آسمان پر تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ساتویں آسمان پر غرض ان آیتوں اور حدیثوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق گروہ انبیاء میں بعض نبیوں کو نبیوں پر فضیلت دی ہے اور اس فضیت کو بہم طور پر قرآن شریف میں ذکر فرمایا ہے اس لئے امت کے لوگوں کو نہیں پہونچتا ہے کہ قرآن شریف شریف کے اس ابہام کی تفصیل اپنی رائے سے کریں اور انبیاء کی فضیلت باہمی میں بحث و چرچا کر کے بعض انبیاء کی کسر شان کے درپے ہوں اسی واسطے صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں آپ نے اس طرح کی بحث سے اپنی امت کو منع فرمایا ہے ٢۔ لیکن صحیح مسلم کی حضرت ابوہریرہ (رض) کی اس روایت سے جس میں آپ نے چھ باتوں کا ذکر فرما کر یہ فرمایا ہے کہ ان چھ باتوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو سبب انبیاء پر فضیلت دی ہے ٣۔ اور حضرت اب سعید خدری (رض) کی اس روایت سے جس کو ترمذی نے معتبر سند سے روایت کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں کچھ فخر کے طور پر نہیں کہتا بلکہ بیان امر واقعی یہ ہے کہ میں سب اولاد آدم کا سردار ہوں ١۔ اور اسی قسم کی اور احادیث سے علماء سلف اور خلف کا اس بات پر متفق ہیں کہ نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افضل الانبیاء ہیں اور آیت لیظہرہ علی الدین کلہ (٣٣/٩١۔ ٩/٦١) سے اس اتفاق امت کی پوری تائید ہوی ہے آخر پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انبیاء اور ان کے معجزات اور آسمانی کتابوں کے آنے کے بعد اللہ چاہتا تو امتوں کا آپس کا اختلاف اٹھ جاتا اور سب راہ راست پر آجاتے لیکن دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے یہ جان لیا ہے کہ بعض لوگ باوجود انبیاء اور آسمانی کتابوں کے آنے اور معجزات کے دیکھنے کے راہ راست پر نہیں آئیں گے اور اسی اپنے علم کے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے جس کا نام تقدیر ہے دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے علم کے موافق ہے صحیحین کی حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کی طبیعت میں دین حق کے قبول کرنے کی صلاحیت رکھ کر انسان کو پیدا کیا ہے۔ ٢۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنی پیدائشی طبیعت کے مخالف جو کچھ کرتا ہے وہ اپنے فعل مختاری سے کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی انسان کے ایسے کام کرنے کی نہیں ہے ہاں اپنے فعل مختاری سے انسان آج جو کچھ کر رہا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے پہلے ہی جان لیا ہے لیکن اس جان لینے سے انسان کی کوئی مجبوری لازم نہیں آتی رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ انسان کے فعل مختاری سے اس کو روکتا تو یہ بات بھی تو اللہ کی قدرت میں تھی اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ صورت ایک مجبوری کی ہے اور مجبوری کا ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول نہیں ہے کیونکہ دنیا میں انسان کو امتحان کے طور پر پیدا کیا ہے چناچہ فرمایا { خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا } (٢٧۔ ٢) جب ایک شخص کو ایک کام پر مجبور کیا تو پھر اس کا امتحان کیا باقی رہا۔ مراد و بینات سے وہ قطعی دلیلیں ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھیں مثلاً مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ مراد روح القدس سے حضرت جبرئیل ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہر وقت رہتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:253) تلک۔ اسم اشارہ واحد مؤنث الرسل مشار الیہ۔ جمع مذکر۔ دونوں مل کر مبتدا فضلنا بعضھم علی بعض۔ خبر۔ ال۔ استغراق کا ہے یعنی تمام پیغمبر۔ یا ال عہد کا ہے اور اس سے وہ جماعت معلومہ ہے جس کا علم آیت سابقہ وانک لمن المرسلین سے ہوچکا ہے۔ فضلنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تفضیل (تفعیل) مصدر ہم نے فضیلت بخشی۔ ہم نے بزرگی عطا کی۔ بعضھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر مفعول فضلنا کا۔ علی بعض بعض پر ہم نے ان پیغمبروں میں سے بعض کو بعض پر برتری عطا کی۔ منھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع تلک الرسل ہے من موصولہ کلم اللہ صلہ۔ یعنی ان میں سے کوئی تو وہ تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ من کلم اللہ بدل ہے محل فضلنا سے۔ ورفع بعضھم درجت۔ واؤ عاطفہ ہے درجت حال ہے بعضھم سے یا اس سے قبل فی مقدر ہے۔ اور بعض کو مرتبوں کی صورت میں بلندی عطا کی۔ بعضھم۔ مضاف مجاف الیہ مل کر رفع کا مفعول ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب رسل کی طرف راجع ہے۔ اتینا۔ ماضی جمع متکلم ایتاء (افعال) مصدر ہم نے دیا۔ ہم نے بخشا۔ البینت۔ کھلی دلیلیں۔ روشن دلائل ۔ معجزات، بینۃ کی جمع۔ تبیین (تفعیل) مصدر سے مشتق ہے۔ تبیین کے معنی بیان کرنے اور واضح اور ظاہر کرنے کے ہیں۔ یہاں البینت سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا برص کے مریضوں کو تندرست کردینا۔ پیدائشی نابیناؤں کو صحت یاب کردینا مردوں کو زندہ کرنا (باذن اللہ) وغیرہ ہیں۔ ایدنہ۔ ماضی جمع متکلم تابید (تفعیل) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ہم نے اس کو قوت دی۔ ہم نے اس کی مدد کی۔ بروح القدس حضرت جبریل کے ذریعہ سے۔ روح القدس۔ روح پاک۔ جان پاک۔ پاک فرشتہ۔ روح موصوف اور القدس صفت ہے۔ یہاں موصوف کی صفت کی طرف اضافت ہے۔ جیسے رجل صدق میں رجل موصوف اور صدق اس کی صفت ہے لیکن یہاں ترکیب اضافی میں موصوف کی اضافت صفت کی طرف ہے۔ روح القدس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد 3 یا کوئی اور مستند کتاب) ۔ ما اقتتل۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اقتتال (افتعال) مصدر بمعنی آپس میں جنگ و قتال کرنا۔ باہم لڑنا۔ من بعدھم۔ ای من بعد الرسل۔ الذین (اسم موصول جمع مزکر) من بعدھم صلہ یعنی رسولوں کے بعد میں آنے والے لوگ من بعد ما جاء تھم البینت۔ ای من جھۃ اولئک الرسل۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب بمعنی الذین من بعد الرسل۔ یعنی رسولوں کے پیروکار۔ ان کے متبعین البیت۔ المعجزات الباھرۃ والایات والظاھرۃ۔ پرشکوہ۔ دل نشین اور روز روشن کی طرح ظاہر معجزے اور کھلے کھلے صاف اور ظاہر دلائل۔ یعنی رسولوں کی طرف سے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ آجانے کے بعد اور اپنے سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد۔ ولو شاء اللہ ۔۔ ماجاء تھم البینت۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ رسولوں کے متبعین آپس میں جنگ و قتال نہ کریں تو وہ ان کو ہدایت نصیب فرما دیتا۔ حق پر سب کو متفق کردیتا۔ اور مکمل اتباع رسل ان کو نصیب فرما دیتا۔ کوئی امت اپنے رسول کے بعد اپنے اپنے رسولوں کے ہاتھوں معجزات و آیات دیکھ لینے کے بعد آپس میں اختلافات نہ رکھتی اور باہمی جنگ و جدال کے متعلق سوچتی بھی نہ۔ ولکن اختلفوا لیکن انہوں نے (باہم) اختلاف کیا اور آپس میں قتل و غارت کا اترکاب کیا۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جلالی و جمالی صفات اور اپنے مختلف اسماء (مثلا) ہادی۔ مضل۔ غفار ۔ قہار۔ منتقم اور عفو کا ظہور چاہا۔ اس لئے وہ لوگ کفر و اسلام اور ہدایت و گمراہی میں بٹ گئے) ۔ فمنھم من امن۔ پس کچ تو ایمان لے آئے (یعنی اللہ نے اپنی مہربانی سے دین انبیاء کا پابند رہنے کی ان کو ہدایت و توفیق عطا فرما دی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کا دین اللہ کی صفت ہدایت کا مظہر قرار پایا ۔ ومنھم من کفر۔ اور کچھ لوگ ہوئے جنہوں نے کفر کیا۔ یعنی اللہ نے تقاضائے عدل کے تحت ان کی مدد نہیں کی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کا دین اللہ کی صفت اضلال کا مظہر قرار پایا۔ ولوشاء اللہ ما اقتتلوا۔ اس جملہ کا دوبارہ ذکر اول جملہ کی تاکید کے لئے ہے۔ فائدہ : اگر اللہ چاہتا کہ سب ہدایت پر آجائیں اور باہمی جنگ و جدال سے باز رہیں تو اس مشیت ایزدی کی تکمیل میں کوئی شے مانع نہیں ہوسکتی تھی۔ ان میں سے بعض کا ایمان اور بعض کا کفر نعوذ باللہ خدا کی بےبسی کی دلیل نہیں بلکہ وہ جو کچھ چاہتا ہے وہی کرتا ہے اور وہی ہوتا ہے۔ ہماری عقل اس کی حکمت اور تقدیر کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔ لکن (نون کی تشدید کے ساتھ) حرف استدراک ہے۔ یعنی پہلی بات کا وہم دور کرنے والا حرف جیسے بل غیر ان۔ الا الا ان وغیرہ۔ یہ اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا (2:102) حضرت سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کہ بلکہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے۔ لکن (تخفیف کے ساتھ یعنی بغیر تشدید کے) حرف عاطفہ ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد کوئی مفرد آئے۔ اور یہ لکن استدراک کے لئے بھی آتا ہے اور کچھ عمل نہیں کرتا۔ مثلاً واذا انزلت سورة ان امنوا باللہ وجاھدوا مع رسولہ استاذنک اولوا الطول منھم وقالوا ذرنا لکن مع القعدین ۔ رضوا بان یکونوا مع الخوالف وطمع علی قلوبہم فہم لا یفقھون ۔ لکن الرسول والذین امنوا معہ جھدوا باموالہم وانفسھم ط واولئک لہم الخیرات واولئک ہم المفلحون ۔ (9: 86 تا 88) اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہوکر لڑائی کرو۔ تو ان میں جو دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے۔ کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں۔ یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔ لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 تلک الرسل سے وہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں جن کا اس سورت میں ذکر آیا ہے۔ یہ عقیدہ کہ انبیاء درجات میں مختلف ہیں اور ان میں جو تفاضل پایا جاتا ہے اور پھر یہ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انبیاء سے افضل ہیں اور بالکل صحیح اور امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ رازی نے انہیں دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جملہ انبیاء پر فضیلت حاصل ہے اور اس سلسلہ میں شبہات کے جوابات دیئے ہیں۔ (کبیر) لیکن صحیحین میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ بھی روایت کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لا تفضلونی علی الانبیاء (کہ مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دو ) جو بظاہر اس آیت کے معارض ہے علماء نے اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں، واضح ترین جواب یہ ہے کہ میری فضیلت ایسے انداز سے بیان نہ کرو جس سے دوسرے کسر شان کا پہلو نکلتا ہو۔ امام شوکانی لکھتے ہیں کہ اس آیت سے انبیاء کے مابین تفاضل ثابت ہوتا ہے لیکن حدیث میں مقابلہ کی صورت میں تفاضل سے منع فرمایا ہے یا فضیلت جزوی مراد ہے۔ پس کتاب و سنت میں کوئی تعارض نہیں والحمد للہ علی ذلک۔ ابن کثیر، فتح القدیر) 2 جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ صحیح ابن حبان کی ایک حدیث میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا بھی نبی مکلم ہونا ثابت ہے۔ (ابن کثیر، کبیر) 3 چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیلتہ الاسرا میں بحسب مراتب آسمانوں پر انبیاء کو دیکھا۔ (ابن کثیر ) 4 یہاں البینات سے مراد واضح دلائل اور معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے۔ ( دیکھئے آل عمران آیت 49) اور روح القدس سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ (بقرہ آیت 78) 5 یعنی انبیاء کے متبعین میں یہ اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بنا پر باہم قتال اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت سے ہے جس کی ہمارے فہم سے بالا تر ہے تقدیر کے متعلق ایک سائل کے جواب میں حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ ایک بھید ہے جو تم سے مخفی رکھا گیا ہے لہذا تم اسے معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ فتح البیان) اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ کفر و ایمان میں لوگوں کا اختلاف تو پہلے سے چلا آتا ہے کوئی نبی ایسا نہیں کہ ساری امت اس پر ایمان لے آئی ہو لہذا ان کے انکار سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ چونکہ اوپر کی آیت میں ضمنا پیغمبروں کا مجملا ذکر آگیا تھا اس لیے اس میں کسی قدر تفصیل ان میں سے بعض حضرات کے احوال و کمالات کی اور پھر ان کے ذکر کی مناسبت سے ان کے امم کی ایک حالت خاصہ اور اس حالت کے واقع فی الوجود ہونے کے متضمن حکمت و مصلحت الہیہ ہونے کی طرف اشارہ یہ سب مضامین مذکور ہیں۔ 1۔ اس مضمون میں ایک گونہ تسلی دینا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ نے یہ بات سنا دی کہ اور بھی پیغمبر مختلف درجوں کے گزرے ہیں لیکن ایمان عام کسی کی امت میں نہیں ہوا کسی نے موافقت اور اس میں بھی اللہ کی حکمتیں ہوتی ہیں گوہر شخص پر منکشف نہ ہوں مگر اجمالا اتنا عقیدہ ضروری ہے کہ کوئی حکمت ضرور ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جلیل القدر انبیاء کرام اور ان کے معجزات دیکھ لینے کے باوجود سب کے سب لوگوں کا ایمان نہ لانا اللہ تعالیٰ کے اختیار سے متجاوز نہیں یہ اس کی مشیّت کے عین مطابق ہے۔ جس طرح انبیاء کے مراتب اور ان کی جدوجہد کے نتائج میں فرق ہے اسی طرح حق کو قبول کرنے اور کفر سے اجتناب کرنے میں لوگوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ اے رسول کریم ! آپ کو ان کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے یقین رکھنا چاہیے کہ آپ بالیقین مرسلین کے سرخیل ہیں۔ تمام انبیاء خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء رشتہ نبوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں لیکن ان کی مائیں مختلف ہیں۔ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الانبیاء ] پھر سلسلۂ نبوت کو ایک عالی شان اور خوبصورت محل کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا : (إِنَّ مَثَلِيْ وَمَثَلَ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِيْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَأَحْسَنَہٗ وَأَجْمَلَہٗ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍمِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ھَلَّا وُضِعَتْ ھٰذِہِ اللَّبِنَۃُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَۃُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب خاتم النبیین ] ” بیشک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا پھر اس کو خوبصورت اور مزین کیا لیکن صرف ایک اینٹ کی جگہ ایک کونے میں رہ گئی۔ لوگ اس گھر کو دیکھتے اور اس ایک اینٹ کی جگہ خالی پا کر تعجب کرتے ہوئے کہتے : یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَبِیَدِيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ یَوْمَءِذٍ اٰدَمُ فَمَنْ سِوَاہُ إِلَّا تَحْتَ لِوَاءِيْ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب ] ” میں قیامت کے دن آدم کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا مگر اس اعزاز پر فخر نہیں کرتا اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اس پر میں اتراتا نہیں اور قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سمیت تمام نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ” جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس کوئی دوسرا رسول اسی چیز کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے تمہارے پاس موجود ہے تو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو ؟ سب نے کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں ‘ فرمایا اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ “ [ آل عمران : ٨١] رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (لَاتُفَضِّلُوْا بَیْنَ أَنْبِیَاء اللّٰہِ )[ رواہ البخاری : أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ وإن یونس لمن المرسلین ]” انبیاء کو آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ۔ “ انبیاء کے درمیان مراتب کا تفاوت سمجھنے کے لیے طلبہ کی ایک کلاس کو سامنے رکھیں۔ استاد کی نظر میں تمام طلبہ عزیز ہوتے ہیں اور ہونے چاہییں۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ہر طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اس کے باوجود پوری کلاس میں مجموعی طور پر ایک ہی طالب علم قابلیت اور لیاقت کے اعتبار سے سب سے آگے ہوتا ہے۔ جب کہ جزوی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے کئی طلبہ کو ایک دوسرے پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے مجموعی طور پر سرفہرست آنے والے طالب علم سے دوسرا طالب علم سائنس کے مضمون میں اس سے زیادہ نمبر حاصل کرتا ہو۔ اور یہی کیفیت دوسرے طالب علم کی کسی دوسرے مضمون میں ہوسکتی ہے۔ یہاں بھی انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت و عظمت دینے کا یہی مفہوم ہوسکتا ہے کہ زمانے اوراقوام کے مزاج کے پیش نظر ایک نبی کو ایسے معجزات دیے گئے جو اس کے بعد آنے والے نبی کے دور اور مزاج کے لیے ضروری نہیں تھے۔ مثال کے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں جادو کا علم اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ دنیا کے قابل ترین جادوگر شکست ماننے پر مجبور ہوئے۔ ان کے بعد ہر دور کے مطابق انبیاء معجزات کے ساتھ مبعوث کیے گئے یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ ان کے سامنے ارسطو اور افلاطون کی طب ماند پڑگئی۔ پھر یہودیوں کی چیرہ دستیوں اور سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی حفاظت کا انتظام کیا گیا تاآنکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) زندہ آسمان پر اٹھالیے گئے۔ اتنے عظیم المرتبت پیغمبروں کی تشریف آوری اور ان کی گراں مایہ تعلیمات اور بےمثال جدوجہد کے باوجود بھی نہ صرف لوگ انکاری ہوئے بلکہ باطل نظریات کی خاطر انبیاء کرام سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ یہ جرأت ان کو اس لیے حاصل نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و سطوت سے باہر تھے بلکہ یہ اس لیے ہوتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ حقائق لوگوں کے سامنے کھول کر رکھنے کے بعد دیکھا جائے کہ کون دل و دماغ اور بصارت و بصیرت سے کام لے کر ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتا ہے اور کون ہدایت کا انکار کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طاقت کے ذریعے روکنا چاہتاتو وہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق ہی سب کچھ کیا کرتا ہے لہٰذا ان میں ایمان لانے والے بھی تھے اور کفروالحاد قبول کرنے والے بھی ہوئے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی۔ ٢۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف عطا کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی جبریل امین سے تائید فرمائی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگ آسمانی ہدایت آنے کے بعد اختلاف نہ کرتے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کے مراتب میں فرق : ١۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : ٣٠) ٢۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النساء : ١٢٥) ٣۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : ٣٥) ٤۔ داوٗد (علیہ السلام) کو اللہ نے دانائی عطا فرمائی۔ (ص : ٢٠) ٥۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ (یوسف : ٨٣) ٦۔ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : ٣١) ٧۔ ادریس (علیہ السلام) کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم : ٥٧) ٨۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ : ١٢ تا ١٤) ٩۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (النساء : ١٧١) ١٠۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رحمۃ للعالمین وخاتم النبیّین بنایا۔ (الانبیاء : ١٠٧، الاحزاب : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

پارہ سوم ایک نظر میں (سورۃ البقرہ کا آخری حصہ) یہ تیسرا پارہ دواجزاء پر مشتمل ہے۔ پہلا سورة بقرہ کے بقیہ پر مشتمل ہے (یاد رہے کہ پہلے دواجزاء سورة بقرہ ہی پر مشتمل رہے ہیں) اور دوسرا سورة آل عمران کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔ یہاں صرف بقرہ کے آخری حصہ کے بارے میں اجمالی بحث کریں گے ۔ اور آل عمران کے حصہ پر بحث اس وقت کریں گے جب سورة آل عمران پر بحث کا آغاز ہوگا۔ سورة بقرہ کے اس حصہ میں بھی اسی اساسی موضوع ہی کو لیا گیا ہے جس کے بارے میں ہم حصہ اول کے آغاز میں بتاچکے ہیں ۔ اور جس کا مطالعہ ہر اس سورت میں مسلسل کرتے رہتے ہیں ۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ کو اس ہدف کے لئے تیار کرنا جس کی خاطر اسے برپا کیا گیا ہے تاکہ وہ ان مقاصد کو لے کر آگے بڑھے ، ایسے حالات میں کہ اس کے سامنے ایمانی تصور حیات ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ اس عظیم امت اور تحریک کو انہی مقاصد کے لئے برپا کیا گیا ہے ۔ اور اس کے سامنے امم سابقہ کے وہ تمام تجربات بھی کھول کر رکھ دیئے ہیں ۔ اسے آگاہ کردیا گیا ہے کہ اس راہ کے لئے اس نے کن وسائل کو کام میں لانا ہے ، اور یہ کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور یہ کہ تحریک کے دشمن اس کے خلاف کیا کیا سازشیں کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ اللہ کے دشمن ، حق کے دشمن اور ایمان کے دشمن ہیں ، اور یہ اس لئے کہ یہ امت اس مشکل راہ میں بیدار مغزی کے ساتھ آگے بڑھے اور تمام مراحل طے کرے۔ امت مسلمہ کی تربیت وتیاری ، اس کی یہ تمام سروسامانیاں اور اس کی ہمہ گیر ٹریننگ اور اس کا نصب العین اور اس کے اغراض و مقاصد وہ مضامین ہیں جن کے ذریعہ قرآن کریم ، ابتدائی نسل کے بعد ، ہر دور میں جماعت مسلمہ کو تروتازہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی قیادت و راہنمائی کے لئے یہی منتہاہ متین ہے ۔ لہٰذا قرآن مجید ایک زندہ فعال اور محرک ذریعہ تربیت ہے اور وہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایک زندہ اور فعال اور مکمل دستور ہے بلکہ قرآن مجید ہر مرحلے ، ہر قدم اور ہر دور میں ایک قائد ، ایک مرشد اور ایک راہنما ہے ۔ لیکن صرف اس شخص کے لئے جو قرآن سے نصیحت ، ہدایت اور راہنمائی کا طالب ہے ۔ پارہ دوئم کا خاتمہ اس آیت پر ہوا تھا تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ................ ” یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور تم یقیناً مرسلین میں سے ہو۔ “ اور یہ آیت بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کے اس قصے کے بعد ” جو موسیٰ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا ، جنہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔ “ (٢٤٦ : ٢) اور اس قصے کے آخر میں کہا گیا تھا ” اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن چیزوں کا چاہا اسے علم دیا۔ “ (٢٥١ : ٢) تو گویا پارہ دوئم کا خاتمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی بات پر ہوا۔ جس میں حضرت داؤد کے واقعہ کی تفصیل تھی ۔ اس میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی طرف بھی اشارہ تھا اور یہ بتادیا گیا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان تجربات سے مسلح کیا جارہا ہے جو تمام مرسلین کو انسانی تاریخ میں پیش آتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارہ سوئم میں بات یوں شروع کی جاتی ہے کہ وہ اس سے پہلے کے کلام سے مربوط ہے ۔ یعنی انبیائے سابقہ کے بارے میں بات یوں چلتی ہے کہ ان میں سے بعض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ برگزیدہ تھے ۔ بعض کے درجات دوسروں پر بلند تھے ۔ اور یہ کہ ان رسولوں کے پیروکاروں نے ازمنہ مابعد میں باہم اختلافات پیدا کرلئے ۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ حق پر کون ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اختلافات قائم رکھے ۔ ان میں سے بعض لوگ ایمان پر قائم رہے اور بعض نے کفر کا راستہ اپنایا۔ ان میں سے بعض نے دوسروں کو قتل کیا :” یہ رسول ................ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کئے ۔ ان میں سے کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہمکلام ہوا۔ کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلنددرجے دئیے اور آخر میں عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطاکیں اور روح پاک سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے وہ آپس میں لڑتے ۔ مگر انہوں نے باہم اختلاف کیا ، پھر کوئی ان میں ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ۔ ہاں ، اللہ چاہتا ، تو وہ ہرگز نہ لڑتے ، مگر اللہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے۔ “ ربط کلام بالکل واضح ہے کہ پارہ دوئم کے آخر میں بھی رسولوں کی نسبت بات تھی اور پارہ سوئم کے آغاز میں بھی یہی بات ہے بلکہ اس پوریہ سورت میں کلام مربوط ہے ۔ اس پوری سورت میں ، مدینہ میں منظم ہونے والی اسلامی جماعت اور بنی اسرائیل کے درمیان فکری مجادلہ ہے ۔ اور قرآن مجید کے پہلے دوپاروں میں عموماً یہی مباحث ہیں ۔ اسی نسبت سے یہاں رسولوں اور ان کے بعد ان کی امم کے مابین فرقہ وارانہ اختلافات اور باہم قتل ومقاتلہ کی بات یہاں تفصیل سے چھیڑی گئی ہے ۔ یعنی یہ کہ ان امتوں میں سے بعض لوگ تو ایمان پر قائم رہے اور بعض نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور پھر ناحق باہم دست گریباں ہوئے ۔ لہٰذا ربط کلام واضح ہے ۔ (مرحوم سید قطب نے اپنی تفسیر قرآن مجید کے پاروں کو پیش نظر رکھ کر لکھی ہے ۔ حالانکہ قرآن مجید کی تدوین میں پاروں کا لحاظ نہ تھا ۔ پاروں کی تقسیم محض ایک ماہ میں تلاوت کرنے کی سہولت پیدا کرنے کے لئے کی گئی ہے ۔ لہٰذا تلک الرسل سے جو کلام شروع ہوتا ہے ظاہر ہے کہ وہ سابقہ آیات سے مربوط ہے ۔ مترجم) یہاں یہ بات اس لئے کی گئی ہے کہ تحریک اسلامی کے سامنے ، اس وقت کے متبعین انبیاء ، بنی اسرائیل وغیرہ کی مبہم اور واقعی بہتر مال خرچ کرے اور یہ تو محض توشہ آخرت کے لئے جہاں ” نہ خرید وفروخت ہوگی ، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی “ (٢١٠٤ : ٢) اس لئے انفاق فی سبیل ایک ایسا مالی فریضہ ہے جو فریضہ جہاد فی سبیل اللہ کا ایک لازمہ ہے ۔ اور خصوصاً ایسے حالات میں جو تحریک اسلامی کو اس وقت درپیش تھے ۔ جن میں غازیان کرام کو خود ان کے لئے اپنے اموال اور ان لوگوں کے اموال کے ذریعہ جنگ کے لئے تیار کیا جارہا تھا جو انفاق فی سبیل اللہ کے نتیجے میں فراہم ہوتے تھے ۔ اس کے بعد اس فکری اساس کے بعض پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے جس پر اسلامی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یعنی وجود باری اور اس کی وحدانیت یہ کہ اللہ وحدہ ہر چیز کا منتظم ہے اور ہر چیز اس کی وجہ سے قائم ہے ۔ وہ اس کائنات کا مالک مطلق ہے ۔ وہ اس کائنات کی ہر چیز کا علیم وخبیر ہے۔ اسے اس پوری کائنات پر قدرت حاصل ہے ، وہ پوری طرح اس کے قبضہ میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے ۔ اور یہ کہ قیامت کے دن اس کے ہاں کوئی سفارش کارگر نہ ہوگی الا یہ کہ وہ اجازت دے ، یہ کہ اس جہاں میں انسان کو وہی علم حاصل ہے جو وہ عطا کرتا ہے ، تاکہ ایک مسلمان اپنی راہ پر اس طرح گامزن ہو کہ اس کے ذہن میں اس کے نظریات کا ایک واضح تصور ہو جن نظریات پر یہاں وہ نظام زندگی قائم کرنے چلا ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” اللہ وہ زندہ ٔ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے ، اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے ۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے زمین وہ آسمان میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ۔ کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے وہ بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے ، اس سے بھی واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز بھی ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی ۔ الا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے ۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لئے کوئی تھکادینے والا کام نہیں ہے ۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔ “ (٢٠٠ : ٢) اس تصور حیات کے مطابق ایک مسلمان آگے بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال شروع کرتا ہے ، اس لئے نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنے نظریہ حیات اور اپنے عقائد زور سے منوائے ، بلکہ اس لئے کہ ہدایت اور گمراہی کے درمیان تمیز ہوجائے فتنہ و فساد اور ضلالت وگمراہی کے اصل عوامل واسباب کا خاتمہ کردیا جائے اور اس کے بعد لوگوں کو مکمل آزادی ہوگی کہ وہ جو رویہ چاہیں اپنائیں۔ ” دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے ۔ اب جو کوئی طاغوت سے انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا ، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ۔ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ “ (٢٥٦ : ٢) یوں ایک مسلمان اپنی راہ حیات پر پورے اطمینان کے ساتھ رواں دواں ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتا ہے ۔ اور اللہ کی نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ کی راہنمائی اور اللہ کی امداد اس کے شامل حال ہے ۔ ” جو لوگ ایمان لاتے ہی اللہ ان کا مددگار ہے ۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے ۔ اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اپنائی ہے ان کے حامی شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف لاتے ہیں ۔ یہ لوگ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جو وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (٢٥٧ : ٢) غرض اس پارے کے آخر میں بھی ، یہ پیراگراف مسلسل اسی ہدف کی طرف آگے بڑھتا ہے جس کی طرف اس پارہ کے آغاز میں روئے سخن تھا یعنی تحریک اسلامی کے اغراض ومقاصد کا بیان اور جماعت اسلامی میں ان مقاصد کی آبیاری۔ اس کے بعد اسلامی نقطہ نظر سے موت وحیات کی حقیقت پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظریاتی زندگی کے دوتجربات بیان کئے جاتے ہیں اور ایک مشاہدہ ایک دوسرے شخص کا بیان کیا گیا ہے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان تجربات میں موت وحیات کی یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ اس کا تعلق صرف اللہ کے علم و ارادہ کے ساتھ ہے ۔ اور یہ کہ انسان کا محدود ادراک موت وحیات کی اصل حقیقت کو اپنے احاطہ میں لانے سے قاصر ہے کیونکہ اصل حقیقت ماوراء الادراک ہے ۔ اور اس کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ یہاں موت اور حیات کو اس واضح کیا گیا ہے کہ ایک تو حیات انسانی کے بارے میں انسانی تصور اور فکر کی اصلاح ہو دوسرے یہ کہ جہاد و قتال میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان کے پیش نظر بھی موت وحیات کا صحیح تصور آنا ضروری ہے ۔ ان فکری ہدایات کے بعد اسلامی معاشرہ کے اجتماعی معاملات کے سلسلے میں قدرے طویل بات ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشل سیکورٹی اسلامی معاشرہ کی اساس ہے ، اس معاشرہ میں ربا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ایک قابل لعنت فعل تصور ہوگا۔ اس کے مقابلے میں اسلامی معاشرہ میں زیادہ دولت بذریعہ صدقات وانفاق فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس پر قدرے طویل بحث ہوتی ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا بیان بہترین تصویر کشی ، بہترین تاثرات واشارات اور اعلیٰ فنی خوبیوں پر مشتمل ہے ۔ اس فنی اور ادبی پہلو پر ہم انشاء اللہ اس وقت بات کریں گے جب یہ خوبصورت آیات تشریح کے وقت ہمارے سامنے ہوں گی۔ یہاں اس قدر اشارہ مناسب ہے جہاد و قتال اور انفاق فی سبیل اللہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ نیز انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات اسلام کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے ۔ اور معاشی زندگی کے اس پہلو کو اس سورت میں ترغیب اور قانون سازی کے مختلف طریقوں سے منظم کیا گیا ہے ۔ احسان و صدقہ کے بالمقابل سود کا خبیث نظام ہے ۔ اس خبیث نظام کے خلاف قرآن مجید نے طویل جنگ کی ہے ۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے بمباری کرکے اجتماعی زندگی کے معاشی نظام سے اس مذموم ادارے کی بنیادیں بھی منہدم کردی ہیں ۔ قرآن سودی نظام کی جگہ ایک مستحکم اور صحت مند معاشی نظام قائم کرنا چاہتا ہے ۔ جس کے ذریعہ معاشرے کا اقتصادی نظام ترقی کرسکے ۔ اس کے بعد باہمی لین دین کے بارے میں قانون سازی کی گئی ہے اور ایسا قانون بنایا گیا ہے کہ دنیا کے کسی قانونی نظام میں یہ قانون (معاملات کی تحریری شکل) نہ تھا۔ یہ قانون سازی دوآیات میں کی گئی ہے ۔ ایک آیت قرآن کریم کی طویل ترین آیات میں سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم قانون سازی میں کیا طریق کار اختیار کرتا ہے ۔ اور کس انداز سے کرتا ہے ۔ قرآن کا قانون ایک زندہ ، منفرد اور معجزانہ قانون ہوتا ہے اور ہر دور اور ہر زمانے کے لئے موزوں بھی ۔ اس سورت کا خاتمہ بھی انہی الفاظ اور مضامین پر کیا جاتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا یعنی اللہ کی ذات ، ملائکہ ، اللہ کی کتابوں اور رسولوں کے بارے میں اسلامی تصور اور نظریہ کہ لَا نُفَرِّقُ بَینَ اَحَدٍ مِّن رُّسُلِہٖ ” ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ “ یہ وہ اصول ہے جس کا اس سورت میں بار بار اظہار کیا گیا۔ آخر میں مومنین کو طریقہ دعا سکھایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ایک مومن کا تعلق اپنے رب کے ساتھ کیسا ہوتا ہے ؟ اور اس دعا میں بھی بنی اسرائیل کی تاریخ کی طرف ایک اشارہ ہے یعنی یہ کہ انہوں نے اپنے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق نہ جوڑا تھا۔ اس دعا پر اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے جو مختلف مضامین پر مشتمل ایک طویل سورت کا مناسب خاتمہ ہے ۔ ” اے ہمارے رب ! ہم سے بھول وچوک میں قصور ہوجائے ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ (٢٨٦ : ٢) درس ١٧ ایک نظر میں اس سبق کے آغازہی میں ہمیں رسولوں کے بارے میں قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیر ملتا ہے ۔ تِلکَ الرُّسُلُ.........” رسولوں کی جماعت “ اور ھٰٓؤُلَآ ءِالرُّسُلُ.........” یہ رسول “ کا لفظ اختیار نہیں کیا گیا ۔ رسولوں کے لئے آغاز کلام میں یہ خاص طرز تعبیر کیوں اختیار کیا گیا ؟ اس میں کچھ واضح اشارات ہیں ۔ مناسب ہے کہ تشریح آیات سے پہلے اس انداز کلام پر کچھ بات ہوجائے ۔ تِلکَ الرُّسُلُ.........” یہ گروہ رسل “ جو ایک خاص جماعت ہیں ۔ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور ایک خاص ماہیت ہے ۔ اگرچہ وہ بشر ہیں ۔ تو پھر وہ کون ہیں ؟ رسالت کی حقیقت کیا ہے ؟ رسالت کا مزاج کیا ہے ؟ یہ فریضہ کیسے ادا کیا جاتا ہے ؟ پھر صرف ان مخصوص افراد ہی کو کیوں درجہ رسالت پر فائز کیا گیا اور کیسے کیا گیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر میں ایک طویل عرصہ سے سوچتا رہا ہوں ۔ تسلی بخش جواب کا متلاشی رہا ہوں۔ میرے پردہ احساس پر کچھ ایسے مفہوم اور معانی ابھرتے ہیں جن میں کلمات وعبارات کی صورت میں منتقل نہیں کرسکتا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ میں اپنے اس وجدان و شعور کو اور ان تصورات ومفہومات کو الفاظ وافہام کے قریب تر کرسکوں ۔ یہ کائنات جس میں ہم زندہ ہیں اور ہم جس کا ایک اہم حصہ ہیں کچھ اصول وقواعد پر چل رہی ہے ۔ اور یہ اصول وہ تکوینی اصول و ضوابط ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے لئے وضع فرمائے ہیں ۔ اور اس کائنات کو حکم دیا ہے کہ یہ ان کے مطابق چلتی رہے اور ان کے مطابق حرکت کرے اور ان اصولوں کے منشا کے مطابق چلے ۔ اور اس کائنات میں انسان جونہی علمی میدان میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور کچھ نئے اکتشافات ودریافت کرلیتا ہے یا انسان کو اللہ تعالیٰ کچھ مزید معلومات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کردیتا ہے تو یہ ادراک اورا کتشاف اس کی محدود قوت مدرکہ کے حدود کے اندر ہوتا ہے اور اسی قدر ہوتا ہے جس قدر اسے اس دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ یہاں اپنی محدود زندگی میں انسانی خلافت کے فرائض اچھی طرح سر انجام دے سکے ۔ اور اس کائنات میں ، ان طبعی قوانین اور ضوابط کے دریافت کرنے کے لئے انسان اپنی شخصیت کے نقطہ نظر سے دوچیزوں کو کام میں لاتا ہے۔ ایک مشاہدہ اور دوسرا رتجربہ۔ مشاہدہ اور تجربہ اپنے مزاج کے اعتبار سے دونوں جزوی ذرائع علم ہیں ۔ وہ اپنے نتائج کے اعتبار سے اٹل اور آخری اور فیصلہ کن نہیں ہوتے ۔ البتہ ان دو ذرائع سے اس کائنات میں بعض ایسے کلی قواعد و ضوابط دریافت کرلیے جاتے ہیں جو ایک طویل عرصے تک قوانین کلیہ سمجھے جاتے ہیں لیکن آخر کار یہ دریافت بھی ایک جزوی دریافت بن جاتی ہے ۔ جو نہ تو انتہائی ہوتی ہے اور نہ ہی مطلق ۔ اس لئے کہ کائنات کے ان قوانین کے درمیان تناسق وتطابق اس کلی ناموس سے منسلک ہے ، جو ان تمام کلیات کو باہم مربوط کرتا ہے ۔ اور یہ ناموس اکبر ہمیشہ سے مخفی رہتا ہے اور یہ اس کی جزوی مشاہدہ اور تجربہ کے دائرہ سے باہرہوتا ہے ۔ اگرچہ بحث وتحقیق کا ایک طویل دور گزرجائے اس لئے کہ اس سلسلے میں زمانہ کوئی اہم عنصر نہیں ہے ۔ اس کائنات میں اس کی اہمیت اور اس کی تشکیل کے لحاظ سے یہ تو انسانی ذات اور طاقت کے میدان کے لئے ایک حد ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت بھی ایک جزوی اور نسبتی حیثیت ہے ۔ پھر پوری بنی نوع انسان کو جو زمان عطا کیا گیا ہے وہ بھی جزئی اور محدود ہے ۔ اس لئے ہمارے ذرائع معرفت اور ان ذرائع کے نتیجے میں حاصل ہونے والے تمام نتائج جزئی ہی رہتے ہیں اس لئے کہ یہ جزوی اور نسبتی ذرائع کے واسطے سے سامنے آتے ہیں ۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں رسالت کی اہمیت کیا ہے ۔ رسالت کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے اور یہ مزاج خاص اور یہ قوت اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوتی ہے تاکہ وہ اس ناموس اکبرکو اخذ کرکے اور اس کی گہرائی تک جاسکے ۔ جس پر اس کائنات کا وجود قائم ہے ۔ ایک رسول کا رابطہ اس ناموس اکبر کے ساتھ کس نوعیت کا ہوتا ہے ، ہم آج تک اس کی حقیقت کو نہیں پاسکے ۔ ہم صرف اس رابطہ وتعلق کے آثار کو سمجھ سکتے ہیں۔ رسول کی یہ مخصوص طبیعی قوت ہوتی ہے جو اس ناموس اکبر سے وحی حاصل کرتی ہے اور اس میں اس کی صلاحیت ہوتی ہے ، اس لئے کہ رسول کا یہ مزاج اس پیغام کے وصول کرنے کے لئے تیارہوتا ہے۔ اور یہ پیغام وہی پیغام ہوتا ہے جو اس ناموس اکبر سے یہ پوری کائنات بھی وصول کرتی رہتی ہے ۔ اس لئے یہ پوری کائنات براہ راست اس ناموس اکبر سے منسلک ہے اور اس کے تصرف اور کنٹرول میں ہے ۔ اب رسول یہ اشارہ کس طرح وصول کرتا ہے ، وہ کس ذریعہ یا کس سے یہ اشارہ وصول کرتا ہے ؟ اس سوال کا جواب ہم صرف اس وقت دے سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ استعدادبخش دے جو وہ اپنے بندوں میں سے ان مختار اور منتخب لوگوں کو بخش دیتا ہے جو رسول کہلاتے ہیں اور اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ................” اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ استعداد رسالت کہاں رکھ دے “ یہ ایک عظیم الشان معاملہ ہے اور یہ اس کائنات کا وہ عظیم الشان راز ہے جو انسان کی قوت ادراک سے ماوراء ہے ۔ تمام رسول توحید کی حقیقت کو پاگئے تھے اور تمام رسولوں کا نظریہ نظریہ توحید رہا ہے ۔ اس لئے کہ ان رسولوں کے وجود کے اندرناموس اعظم کے ساتھ رابطے کی استعداد ودیعت کی گئی اس لئے کہ ان تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہی تھا ۔ اگر یہ منبع اور مصدر ہدایت ایک نہ ہوتا تو ان انبیاء کے نظریات جدا ہوتے اور ان کا طریقہ واردات متنوع ہوجاتا ۔ رسولوں کا یہ ادراک اس دور میں ہوا جب کہ انسانیت اپنے ابتدائی دور میں تھی اور فہم وادراک اور مشاہدہ و تجربہ کے وہ ذرائع جو آج ہیں انسانیت کو میسر نہ تھے اور نہ ہی اس دور میں کلی قوانین بشریت پر ظاہر ہوئے تھے جو نظریہ توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔ آغاز بشریت سے آج تک تمام رسولوں نے صرف اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دی ہے ۔ یہ تمام انبیاء اس ایک حقیقت کی طرف بلاتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے اس مزاج خاص اور طبیعت خاصہ سے یہی پیغام پایا ہے ۔ اس لئے ان کے اس مزاج نبوی پر جب اس ناموس کلی کا القاء ہوا ، تو اس سے ان کے قلوب پر ایک فطری سوچ ابھری جو اس ناموس کلی سے پوری طرح مربوط تھی ۔ پھر اس پیغام کی تبلیغ و اشاعت بھی ان کی اس سوچ اور یقین کا قدرتی نتیجہ تھی۔ ان کا یہ پختہ ایمان تھا کہ یہ حق ہے اور سوچ ان کی طرف اللہ وحدہ کی طرف سے القاء ہوئی ہے اور یہ کہ عالم بالا سے ان کے اس وثیق اور قوی رابطہ اور ان کی مخصوص رسولانہ فطرت کی وجہ سے ان کو پورا یقین تھا کہ وہ ناموس اللہ وحدہ لاشریک ہے اور اس کی ذات میں تعدد ممکن نہیں ہے۔ عقیدہ توحید رسولوں کی فطرت نبوت کا لازمی شعور ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے انبیاء (علیہم السلام) کے جو قصص نقل کئے ہیں ان میں بعض الفاظ ایسے موجود ہیں جن سے اس فطرت نبویہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ بعض اوقات انبیاء کو اس فطرت سے موصوف کیا جاتا ہے ۔ مثلاً حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے میں مذکور ہے ۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ (٢٨) وَيَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالا إِنْ أَجْرِيَ إِلا عَلَى اللَّهِ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ (٢٩) ” اے برادران قوم ! ذرا سوچوتوسہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا ، مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپک دیں ؟ اور اے برادران قوم ! میں اس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا ، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ اور میں ان لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے ، وہ آپ بھی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو اور اے قوم ! اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچانے آئے گا ؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات نہیں آتی ؟ “ (٢٨ : ١١) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زبانی فرمایا گیا : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ ” اے برادارن قوم ! تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھے نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تم خسارے میں ڈالنے کے سوا میرے کس کام آسکتے ہو۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرۃ میں بھی یہی نظر آتا ہے۔ وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِي وَلا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلا تَتَذَكَّرُونَ (٨٠) وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالأمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (٨١) ” اور اس کی قوم اس سے گھڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے ۔ اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ۔ ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو ضرور ہوسکتا ہے ۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ۔ پھر کیا تم ہوش میں نہیں آؤگے ؟ اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے میں کیسے ڈروں جب کہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے ۔ جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں نازل کی ہے ۔ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے ۔ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ “ اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حصے میں بھی یہی بات بتائی گئی ہے۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (٨٨) ” بھائیو ! تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ۔ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں ، جہاں تک میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں ، اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے ۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ “ (٨٨ : ١١) اور یہ بات حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں کی قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ ” اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔ اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔ “ (٨٦ : ١٢) یوں اور اسی طرح تمام رسولوں کے اقوال اور ان کے اوصاف میں اس گہری ہم آہنگی اور رابطے کے اثرات پائے جاتے ہیں جو ان کی فطرت کا حصہ ہیں اور ان کے ضمیر کی گہرائیوں میں جاگزیں ہیں ۔ اور جن کی وجہ سے ان رسولوں کا کلام متنوع اور مزین ہوتا ہے ۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ انسان کے علم ومعرفت نے کچھ ایسی علامات ودریافت کرلی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قانون وحدت موجود ہے ۔ انسانوں میں اہل علم اس بات کو پاچکے ہیں کہ اس طویل و عریض کائنات میں وحدت وجود اور وحدت حرکت موجود ہے ۔ اور انسان نے اپنے محدود علم کے اندر رہتے ہوئے اس بات کو پالیا ہے کہ اس کائنات کی تعمیر ذرہ سے ہوئی ہے اور یہ کہ ذرہ دراصل (Power) ہے۔ یوں اس ذرے میں مادہ اور قوت دونوں ملے ہوئے ہیں اور علماء طبیعات اس عرصے تک جس نظریہ پر قائم تھے کہ یہ کائنات مادہ اور قوت دو علیحدہ چیزوں سے مرکب ہے وہ اب ختم ہوگیا ہے ۔ اب صحیح بات یہ ہے کہ کائنات ذرے سے مرکب ہے اور ذرے کو اگر توڑ دیا جائے تو یہ ایک عظیم قوت ہے ۔ اور انسان نے اپنے محدود علم کی حد تک اس بات کو پالیا ہے کہ یہ ذرہ اپنے اندرونی نظام کے اندر متحرک ہے اور وہ الیکٹرون اور پروٹون اور نیوٹرون سے مرکب ہے ۔ اور الیکٹرون دونوں کے ارد گرد ہر وقت حرکت کرتے ہیں جو اس ذرے کا قلب ہوتا ہے۔ اور یہ حرکت دائمی ہے اور ہر ذرے میں ہے ۔ اور جس طرح فرید الدین العطار نے کہا ہے کہ ہر ذرہ ایک سورج کے مانند ہے جس کے اردگرد ستارے گھومتے ہیں ۔ جس طرح ہمارے اس سورج کے ارد گرد ستارے گھومتے ہیں اور جو تسلسل کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ اس کائنات کی وحدت اور حرکت کی وحدت اس کائنات کی وہ خصوصیات ہیں جن کو انسان نے پالیا ہے اور یہ دونوں خصوصیات دور سے یہ اشارہ کررہی ہیں کہ اس کائنات کو ایک وسیع تر ضابطہ وحدت اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے ۔ اس حقیقت تک انسانی علم نے اس حد تک رسائی کرلی ہے جس حد تک انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تجربہ کے لئے رسائی ممکن تھی لیکن خواص کی قوائے موہوبہ اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ ان تمام حقائق کو ایک لمحہ میں پالیتی ہیں ، اس لئے کہ ان پر یہ حقائق بلا واسطہ القاء ہوتے ہیں اور ان حقائق کی ادراک کی قوت صرف ان خواص کے پاس ہوتی ہے۔ ان خواص نے علمی تجربات کے ذریعہ ان مشاہدات اور خصوصیات کا ادراک نہیں کیا ہوتا ، ان کو ایسی قوت مدرکہ عطا کی گئی ہوتی ہے جو اس حقیقت وحدت کو براہ راست پالیتی ہے ۔ یہ خواص اس واحد ناموس کو براہ راست پاتے ہیں اور یہ ان کا داخلی ، اپنی ذات کے اندر کا عمل ہوتا ہے ۔ وہ اس بات کو پاتے ہیں کہ یہ ایک جیسا القاء لازماً ایک ہی مصدر اور منبع سے صادر شدہ ہے ۔ ان خواص کی ذات میں جو مشینی قوت مدرکہ ودیعت کی جاتی ہے وہ نہایت ہی کامل اور نہایت ہی پیچیدہ ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ وہ آن واحد میں اس حقیقت کو پالیتے ہیں ، جس منبع سے ان کو ہدایت ملتی ہے ۔ وہ واحد ہے ، جس ارادے کے تحت وہ روبعمل ہوتے ہیں ۔ وہ اسی منبع سے صادر ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان کی یہ مخصوص قوت مدرکہ یا یہ مخصوص آلات مدرکہ بشکل یقین اس حقیقت کو پالیتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی وحد ذات ہی ہے جو اس کائنات میں متصرف حقیقی ہے ۔ میں یہ بات اس بناء نہیں کہہ رہا ہوں کہ جدید سائنس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وحدت کائنات سے متعلق کوئی ایک یا دو حقائق دریافت کرلئے ہیں ۔ اس لئے کہ سائنسی حقائق کبھی ثابت تصور ہوتے ہیں اور کبھی ان کی تردید ہوجاتی ہے اور سائنس جن حقائق تک پہنچتی ہے جو جزوی اور نسبتی حقائق ہوتے ہیں کیونکہ سائنس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی مطلق اور اٹل حقیقت تک پہنچ سکے ۔ اس لئے کہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں ۔ بعض نظریات بعض دوسرے نظریات کی تکذیب کرتے ہیں ۔ بعض ایک دوسرے میں تبدیلی کرتے ہیں ۔ میں نے وحدت کائنات اور وحدت حرکت کے بارے میں جو بات کی ہے اس لئے نہیں کہ اس کا اور اس ناموس وحدت کے درمیان کو ئی مماثلت ہے جو ان خواص رسل پر منجانب اللہ القاء ہوا کرتی ہے ۔ میرا منشاء یہ ہرگز نہیں ہے ۔ میرا مقصد ایک دوسرا امر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہدایت اور راہنمائی کا قابل اعتماد مصدر اور منبع صرف انبیاء کے ہاں ہے اور انبیاء ہی اس کائنات کے بارے میں واحد ، مکمل ، جامع اور سچائی پر مشتمل تصور دے سکتے ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ جدید علمی اتکشافات نے اس کائنات کی حقیقت عظمیٰ کے بعض پہلو اور بعض خواص پالئے ہوں اور انہوں نے یہ معلوم کرلیا ہو کہ حقیقت کبریٰ صرف ایک ہی ہے لیکن وہی حقیقت ہے جسے رسولوں نے براہ راست اپنی مخصوص قوت مدرک سے پالیا ہوتا ہے اور اس کا احاطہ کرلیا ہوتا ہے اور وہ حقیقت ان رسولوں کی فطری قوت مدرکہ میں براہ راست پوری طرح موجود ہوتی ہے اور یہ کہ رسولوں کا یہ ادراک اپنی جگہ سچائی پر مبنی ہوتا ہے ، چاہے جدید سائنس نے اس کی بعض خصوصیات کو صحیح طرح پالیا ہو یا نہ پایا ہو۔ اس لئے کہ سائنسی نظریات قابل بحث اور قابل نظرثانی ہوتے ہیں ۔ پہلے تو یہ ثابت نہیں ہوتے ۔ ظن وتخمین پر مبنی ہوتے ہیں پھر اگر بظاہر ثابت نظر بھی آئیں تو یہ ثبوت اٹل نہیں ہوتا ۔ اس لئے حقیقت رسالت کو ان نظریات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ مقیاس ومعیار ہمیشہ ایسا ہونا چاہئے جو ثابت ہو اور اٹل ہو۔ اس لئے ہم لازماً اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسالت ہی وہ معیار ومقیاس ہے جس پر ہم جدید سائنسی نظریات کی جانچ پڑتال کریں گے ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے درمیان فرق مراتب لفظ تلک اسم اشارہ ہے اس کا مشار الیہ المرسلین ہے، یعنی یہ پیغمبر جن کا ذکر ابھی ابھی ہوا، ان کو ہم نے آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت دی کہ بعض کو ایسی منقبت سے متصف فرما دیا جو بعض دوسروں میں نہیں تھی اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے تفصیل بالشرائع مراد ہے۔ ان میں سے بعض کو مستقل شریعت دی تھی اور بعض کو سابق نبی ہی کی شریعت کا مؤید و مبلغ بنایا، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (ص ٢ ج ٢) ، پہلے قول کی تائید (مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ ) سے ہوتی ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں سے بعض ایسے حضرات تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو سب ہی کلیم اللہ کے نام سے جانتے ہیں۔ سورة النساء میں فرمایا (وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا) اور اس کلام سے بلا واسطہ کلام مراد ہے جس میں فرشتے کا واسطہ نہیں تھا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) ان حضرات میں شامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بلا واسطہ کلام فرمایا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کرتے ہوئے (وَ رَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ) بھی فرمایا یعنی بعض انبیاء کے درجات دوسرے بعض انبیاء کے مقابلہ میں زیادہ بلند فرمائے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہاں بَعْضُھُمْ سے سرور عالم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ، نے آپ کو وہ وہ خواص علمیہ و عملیہ عطا فرمائے کہ زبانیں ان کو پوری طرح کر کرنے سے عاجز ہیں، آپ رحمۃ للعالمین ہیں، صاحب الخلق العظیم آپ کی صفت خاص ہے۔ آپ پر قرآن کریم نازل ہوا جو پوری طرح محفوظ ہے۔ آپ کا دین ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جو معجزات کے ذریعے مؤید ہے۔ مقام محمود اور شفاعت عظمیٰ کے ذریعہ آپ کو رفعت دی گئی ہے اور آپ کے فضائل اور مناقب اتنے زیادہ ہیں جن کا شمار کرنا بندوں کے بس سے باہر ہے، حضرات علماء کرام نے آپ کے معجزات اور مناقب اور خصائص پر مستقل کتابیں تالیف کی ہیں، حافظ جلال الدین سیوطی کی کتاب الخصائص الکبریٰ ، اور امام بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ کا مطالعہ کیا جائے، آخر الذکر کتاب سات جلدوں میں ہے جو کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : (وَ اٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ) کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح معجزات عطا کیے اور روح القدس (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی تائید کی، اس کی تفسیر و تشریح سورة البقرہ کے رکوع ١٢ میں گزر چکی ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : (وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ ) اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ آپس میں جنگ اور قتل و قتال نہ کرتے۔ جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تشریف لیجانے کے بعد آپس میں مختلف ہوگئے۔ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں آپس میں اختلاف کرتی رہیں اور ان میں لڑائیاں ہوتی رہیں حالانکہ ان کے پاس کھلے ہوئے دلائل موجود تھے۔ اگر ان کو سامنے رکھتے تو نہ مختلف ہوتے نہ جنگ کرتے ان میں بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے ایمان قبول کیا اور انبیاء (علیہ السلام) کے متبع بنے اور بہت سے لوگوں نے کفر اختیار کیا اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی تو ان کا آپس میں قتل و قتال نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور فاعل ہے وہ چاہے کرلے اس پر کسی کا اعتراض ہو نہیں سکتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

495 امام رازی امام ابو مسلم سے ناقل ہیں کہ یہ آیت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تسلیہ کے لیے ہے۔ پہلے اللہ نے اسرائیلیوں اور عیسائیوں کی کجروی اور کج بحثی کا ذکر کیا۔ چناچہ یہودیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ ہم کو خدا کی ذات کا آنکھوں سے مشاہدہ کرادو اور بت پرستوں کی طرح ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کردو (یہ مطالبہ سورة اعراف رکوع 16 میں جو پہلے نازل ہوچکی تھی مذکور ہے) اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی تکذیب کرنا حضرت شمویل سے امیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرنے کے بعد طالوت کی امارت پر اعتراض کرنا وغیرہ۔ یہ تمام واقعات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بڑی شان اور بزرگی والے تھے۔ ان کی قوموں کا رویہ آپ نے دیکھ لیا۔ لہذا اگر آپ کی قوم بھی قیام معجزات اور وضوع دلائل کے باوجود ایمان نہیں لاتی تو اس پر غمگین اور دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمام انبیاء اوراقوام عالم میں اللہ کا دستور ہی یہی ہے۔ (من الکبیر۔ ملخصا ص 451 ج 2) حضرات انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی تمام نور، ناری اور خاکی مخلوق سے افضل و برتر ہیں۔ البتہ ان کے درجات باہم متفاوت ہیں۔ ہر پیغمبر کو کوئی نہ کوئی ایسی خصوصیت حاصل ہے جو دوسرے کو حاصل نہیں۔ آگے اس کی تمثیل ہے۔ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ ۔ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں۔ جن سے اللہ نے کوہ طور پر بلا واسطہ کلام فرمایا اور رَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ۭ سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ المکلم موسیٰ (علیہ السلام) (قرطبی ص 264 ج 3، مدارک ص 99 ج 1) والمراد ببعضھم ھذا النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کما ینبئ عنہ الاخبار بکونہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منھم (روح ص 2 ج 3، مدارک قرطبی)496 بینات سے معجزات اور انجیل کی آیات واضحہ مراد ہیں۔ روح القدس اور تائید کی تفسیر رکوع 11 میں گذر چکی ہے۔ امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ بعض انبیاء کو بعض پر جزوی فضیلت ہے۔ لیکن تمام انبیاء (علیہم السلام) سے افضل حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اجمعت الامة علی ان بعض النبیاء افضل من بعض وعلی ان محمدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افضل من الکل (کبیر ص 451 ج 2) ۔497 اگر اللہ چاہتا تو وہ دین حق کے واضح ہوجانے کے بعد تمام لوگوں کو توحید پر قائم رکھتا اور ان میں اختلاف واقع نہ ہونے دیتا اور اس طرح جنگ وجدال کی نوبت ہی نہ آتی۔ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ اللہ نے لوگوں سے اختیار چھین کر ان کی توحید قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ کیونکہ جبری ایمان مطلوب نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ بندے کو ایمان قبول کرنے پر مجبور کرتا تو ثواب و عقاب کا سلسلہ خدا کی حکمت بالغہ کے ساسر منافی اور بالکل بےمعنی ہوتا۔ نیز اس طرح ابتلاء اور آزمائش کی حکمت فوت ہوجاتی جو رسالت ونبوت کا صل مدعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل (علیہم السلام) کو بھیج کر اور ان کے ذریعے ایمان وتحید کا راستہ دلائل وبینات سے واضح فرما کر بندوں کا امتحان کیا کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا۔ چناچہ ارشاد ہے وَلَوْشَآءَ اللهُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرَاتِ ۔ اس لیے اللہ نے بندوں پر جبر نہیں کیا۔ بلکہ انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار اور پسند کے مطابق حق و باطل میں سے کوئی ایک راستہ منتخب کرلیں۔ اس لیے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ کسی نے ایمان اور توحید کی راہ اختیار کی اور کسی نے شرک وکفر کا راستہ لیا۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا۔ حضرت شیخ نے فرمایا۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الخ کے بعد اس جملے کا اعادہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُاس پر مرتب ہوسکے۔ یہ اعادہ، اعادہ لبعد العہد کے قبیل سے ہے۔ لوگوں میں دین کا اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بناء پر جنگ و قتال یہ سب کچھ خدا کے تصرف واختیار سے باہر نہیں۔ اگر وہ چاہتا تو اس اختلاف اور باہمی قتال کو روک سکتا تھا۔ مگر اس نے چاہا کہ لوگوں کو ایک راہ پر چلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بلکہ انہیں موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اختیار سے جونسی راہ چاہیں اختیار کریں۔ حضرت شیخ علیہ الرحمة نے فرمایا کہ وجوب اور مشروعیت قتال کی ایک علت وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسِ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍمیں بیان ہوچکی ہے اور یہ مشروعیت قتال کی دوسری علت ہے یعنی اگر اللہ چاہتا تو جہاد و قتال کے بغیر ہی سب لوگوں کو دین حق اور توحید پر متفق کردیتا ہے۔ لیکن اس نے بندوں کے ابتلاء وامتحان کے لیے ان پر قتال واجب کردیا ہے۔ ان آیات کا خلاصہ ربط یہ ہے وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهسے مشروعیت جہاد کی علت بیان فرما کر تِلْکَ اٰيٰتُ اللّٰهِ الايةسے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت بیان کی کیونکہ ان مذکورہ واقعات کی خبر آپ کو نہ تھی۔ یہ سب کچھ آپ وحی من جانب اللہ کے ذریعے بتا رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ کے ذکر مبارک کی مناسبت سے اس کے بعدتلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ الايةمیں باقی انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا سے يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُتک میں قتال کی دوسری علت بیان فرمائی۔ یعنی ہم نے تمام رسولوں کو فضیلت اور برتری عطا فرمائی اور بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ لیکن اس تفاوت درجات کے باوجود ان سب کا دین ایک تھا اور سب نے اپنے اپنے وقت میں دلائل وبینا سے دین توحید کو واضح فرمایا مگر ان کے بعد پچھلے لوگوں نے اس میں اختلاف کیا۔ کچھ توحید پر قائم رہے اور کچھ توحید کو چھوڑ کر شرک کرنے لگے یہاں تک کہ نوبت جنگ و قتال تک پہنچی اگر اللہ چاہتا تو تمام مشرکوں کو خود ہلاک کردیتا یا ان کو ایمان اور توحید قبول کرنے پر مجبور کردیتا تو جہاد و قتال کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ابتلاء اور آزمائش کے لیے قتال واجب کردیا۔498 اس کا ہر فعل اس کے اپنے ارادے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کا فعل نہ کسی دوسرے کے ارادہ کے ماتحت ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے اس کے ارادہ سے باز رکھ سکتا ہے اور امر بالقتال سے اس کا ارادہ بندوں کی آزمائش ہے کہ کون قتال و جہاد میں حصہ لیتا ہے اور کون نہیں لیتا۔ امر بالقتال اور ترغیب الی الجہاد کے بعد آگے پھر پانچویں بار جہاد کے لیے مال خرچ کرنے کا حکم ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 یہ جتنے رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت اور فضلیت عطا فرمائی ہے ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور ان کو کسی فرشتے کے بغیر ہم کلامی کا شرف بخشا اور ان کے بعض کو درجات و مراتب میں بلند مقامات پر فائز کیا اور ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کو دلائل واصحہ اور معجزات ظاہرہ عطا فرمائے اور ہم نے روح القدس یعنی جبریل (علیہ السلام) سے ان کو قوت بخشی اور جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی تائید کی اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو جو لوگ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد ہوتے رہے یعنی ان کی امت کے لوگ وہ ان صاف اور کھلے کھلے دلائل کے بعد جو ان کو پیغمبروں کی رسالت سے پہنچ چکے تھے آپس میں قتل و قتال نہ کرتے اور دین حق میں باہم اختلاف نہ کرتے۔ لیکن انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور باہم دین میں مختلف ہوگئے۔ لہٰذا کوئی ان میں ایمان لایا اور کوئی ان میں کافرہوا یعنی کفر ہی پر قائم رہا اور یہ باہمی اختلاف قتل قتال کا موجب ہوا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو یہ لوگ آپس میں قتل و قتال نہ و کرتے ، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے جو اس کی حکمت کا مقتضا ہوتا ہے وہ اس کی قدرت پورا کر کے رہتی ہے۔ ( تیسیر) یہاں ان رسولوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے یا وہ رسول مراد ہیں جن کا حال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا جا چکا ہے اور بظاہر یہ ہے کہ انک لمن المرسلین کی جانب اشارہ فرمایا ہے اور تمام رسول مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام رسول نفس رسالت میں اگرچہ مساوی ہیں جیسا کہ لا نفرق بین احد من رسلہ سے ظاہر ہے کہ ہم سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ تفریق نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر نہ لائیں باقی ان سب کا آپس میں مراتب و درجات اور خصوصیات کے اعتبار سے تفاوت تو یہ ظاہ رہے اور اسی امر کو اس آیت میں بیان کرنا ہے جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا ہے۔ ولقد فضلنا بعض النبین علی بعض واتینا دائود ربورا ً یعنی ہم نے بعض نبیوں کو بعض سے زیادہ کیا اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی خصوصیات یکساں نہیں ہیں کسی کو کسی خصوصیت سے نوازا ہے کسی کو کسی مرتبے سے سرفراز فرمایا ہے ، مثلاً کسی کی شریعت کامل ہے کسی کی اکمل ہے کسی پر مستقل کتاب نازل کی گئی ہے کسی پر صرف چند صحیفے نازل فرمائے ہیں کسی کی امت کم ہے کسی کی زیادہ کسی کو چند معجزات دیئے گئے اور کسی کو بکثرت معجزات سے نوازا گیا کوئی مستقل شریعت کا مالک اور وارث بنایا گیا اور کوئی صرف دوسرے رسولوں کی شریعت کا عامل اور محافظ کیا گیا ۔ کسی کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) صرف ایک مرتبہ یا ایک مرتبہ سے چند مرتبہ زائد تشریف لائے اور کسی کے پاس بکثرت آتے رہے اور کسی کی ہر قیمت نگہبانی کرتے رہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کلیم کیا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی طرح بدون نطفہ کے پیدا کر کے اپنا کلمہ اور اپنی روح ٹھہرایا ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو زبور اور حکمت و نبوت اور حسن صوت سے نواز اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایک ایسا ملک اور سلطنت بخشی جو ان کے علاوہ کسی دوسرے کو عنایت نہیں کی اور محمد الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام اگلی اور پچھلی خطائیں معاف فرما دیں ۔ صاحب خان نے فرمایا ہے کہ تمام امت کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ ہمارے پیغمبر افضل الانبیاء ہیں ۔ آپ کی رسالت کا پیام تمام مخلوق کے لئے ہے ، اور آپ ؐ کو بےشماردلائل اور معجزات دے کر تمام مخلوق کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور کوئی نشانی اور کوئی معجزہ ایسا نہیں ہے جو کسی نبی کو دیا گیا ہو ، مگر یہ کہ ٓپ ؐ کو اس سے بڑھ کر عطا کیا گیا ہے۔ تمام انبیا کے معجزات ختم ہوگئے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم قیامت تک باقی رہنے والا ہے جس کے جواب سے تمام انسان اور جنات عاجز ہوچکے ہیں۔ حضرت جابر (رض) سے بخاری اور مسلم نے مرفوعا ً نقل کیا ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ 1۔ مجھے وہ رعب اور ہیبت دی گئی ہے جس کا اثر مخالف کے قلب پر ایک مہینے کی راہ پر پڑتا ہے یعنی میرا مخالف اور دشمن مجھ سے اس قدر فاصلہ پر و کہ اسے مجھ تک پہنچنے میں صرف ایک مہینہ صرف ہو تو وہ اتنے فاصلہ سے میری ہیبت اپنے قلب میں محسوس کرے گا ۔ 2۔ تمام زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک قرار دیا گیا لہٰذا میری امت میں جس شخص پر کسی جگہ نماز کا وقت آجائے تو وہ وہیں نماز ادا کرلیا جائے ، یعنی تمام زمین مسجد ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ جہاں مسجد نہ ہو تو مسجد تلاش کرتا پھرے جیسے مسافر جنگل میں جا رہا ہو یا جہاز میں سفر کررہا ہو تو جہاں وقت آجائے اپنا کپڑا بچھا کر نماز پڑھ لے۔ 3۔ اور میرے لئے غنائم کو حلال کردیا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے غنیمت حلال نہ تھی۔ 4۔ مجھ کو شفاعیت کا مرتبہ عطا کیا گیا ہے یعنی قیامت کے دن مجھ کو شفاعت کی اجازت دی جائیگی۔ 5۔ مختلف نبی اپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور میری بعثت تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے جس کو مسلم نے نقل کیا ہے کہ مجھ کو دوسرے انبیا پر چھ باتوں میں فضلیت دی گئی ہے۔ 1۔ مجھ کو جو امع الکلم کی نعمت سے نوازا گیا ہے یعنی میرا کلام جامع ہوتا ہے۔ 2۔ میری مدد عب اور ہیبت سے کی گئی ہے۔ 3۔ میرے لئے غنائم حلال کردیئے گئے ہیں۔ 4۔ میرے لئے تمام زمین کو مسجد اور طہور کردیا گیا ہے۔ 5۔ میں تمام مخلوقات کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔ 6۔ اور مجھ پر ابنیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے یعنی میرے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ۔ رہا یہ امر کہ حدیث میں آتا ہے کہ تم مجھ کو انبیاء پر فضلیت نہ دیا کرو۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم مجھ کو حضرت یونس (علیہ السلام) پر بھی فضلیت نہ دیا کرو یا یہ کہ تم یوں نہ کہا کرو کہ میں یونس سے بہتر ہوں ۔ ان تمام احادیث کا مفادیہ ہے کہ فضلیت کی تفصیل میں نہ جائو بلکہ یہ معاملہ خدا کے سپرد کرو وہی خوب جانتا ہے کہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر کس قسم کی فوقیت حاصل ہے ۔ یا ہوسکتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد یہ ہو کہ اس طرح فضلیت بیان کرو جو دوسرے انبیاء کی توہین کو مسلزم ہو۔ جیسا کہ ہمارے زمانے کے قصہ گو واعظ اور جاہل نعت خواں کیا کرتے ہیں ۔ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور کلام بھی بلا واسطہ فرمایا اگرچہ بلا حجاب نہیں ۔ وہ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں ۔ حضرت آدم کے بارے میں بھی فرمایا ہے۔ انہ نبی مکلم یعنی وہ ایک ایسے نبی ہیں جن سے کلام کیا گیا ہے اور خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی شرف تکلم حاصل ہے ، لیکن عام مفسرین نے اس آیت میں حضرت مویٰ (علیہ السلام) مراد لئے ہیں۔ چھٹے پارے میں ارشاد ہے وکلم اللہ موسیٰ تکملیما ً درجات و مراتب کی بلندی سے بعض نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بعض نے حضرت ادریس (علیہ السلام) مراد لئے ہیں ۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کو بیشمار مراتب اور گونا گوں مدارج و مناصب عالیہ سے سرفراز فرمایا ہے جیسا کہ اوپر حدیث سے معلوم ہوچکا ہے کہ مجھ کو وہ دیا گیا ہے جو کسی کو نہیں دیا گیا اور آپ کی عظمت مخامت کی وجہ سے ان درجات کو مبہم رکھا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی شان اس قدر بلندو برتر ہے کہ ذہن ان کے سوا کسی اور کی طرف منتقل ہی نہیں ہوسکتا۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ یہود و نصاریٰ نے ان کے متعلق انتہائی افراط وتفریط سے کام لیا ہے یہود نے ان کی تحقیر میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور نصاریٰ نے ان کی تعظیم ایسی کی کہ ان کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے۔ بینات سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ مشہور معجزات ہیں جن کا ذکرآگے آجائیگا ۔ مثلاً مردوں کو زندہ کرنا ، بیماروں کو اچھا کرنا اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد انجیل ہو جو دلائل واضحہ کو مشتمل تھی ۔ روح القدس عام طور سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ قل نزلہ روح القدس ۔ قدس کے معنی طہارت اور برکت کے ہیں یا قدس تقدیس یعنی تطہیر کے معنی میں ہے۔ شاید جبرئیل کو اس وجہ سے روح کہا گیا ہو کہ جس طرح روح جسمانی حیات کا سبب اور ذریعہ ہے اسی طرح حضرت جبریل معنوی اور باطنی حیات کا ذریعہ اور سبب ہیں ، کیونکہ تمام آسمانی کتابیں جو بیشمار علوم اور روحانیت کا سر چشمہ ہیں ۔ حضرت جبرئیل ہی کی معرفت نازل ہوئی ہیں ۔ حضرت جبرئیل کی تائید کا مطلب یہ ہے کہ ابتداء سے لیکر انتہا تک حضرت جبرئیل نے ان کی امداد و نگرانی کی ۔ نفخ روح کے وقت سے لے کر جب تک وہ آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت تک حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کے مدد گار بنے رہے۔ جیسا کہ ساتویں پارے میں ارشاد ہے۔ از ایدتک بروح القدس اور ہوسکتا ہے کہ روح القدس سے خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں اور ظاہر ہے کہ ان کی روح کو قدس اس بنا پر کہا گیا ہے کہ وہ نطفہ کی تخلیق اور حیض کی غذا سے پاک و صاف تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قدس سے مراد حضرت حق جل مجدہٗ کی ذات اقدس ہو اور روح سے مراد حضرت جبرئیل ہوں اور یہ اضافت و نسبت تشریفی ہو لیکن عام طور سے مفسرین کے نزدیک روح القدس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت حسان (رض) کے متعلق حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ الفاظ احادیث میں آتے ہیں ۔ روح القدس محک اور کبھی فرماتے و جبرئیل معک پہلے پارے میں بھی اس نفعہ کی مختصر تحقیق گزر چکی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت علم اور قول کا مظہر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جس طرح صفت حیات کا مظہر حضرت اسرافیل اور صفت ارادہ اور جود کا مظہر حضرت میکائل اور صفت قدرت کا مظہرحضرت عزرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ لہٰذا حضرت جبرئیل کو مظہر علم ہونے کا اعتبار سے روح القدس اور مظہر قول ہونے کے اعتبار سے روح الامین کہتے ہیں ۔ واللہ اعلم آیت کے آخری حصہ میں اپنی حکمت اور اپنی مشیت کا اظہار فرمایا ہے جس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور تشفی دینا مقصود ہے اور حضور کو یہ بتانا ہے کہ باوجود انبیاعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری اور دلائل و معجزات اور کتب سماویہ کے نزول و ظہور کے بعد بھی تمام بنی نوع انسان کا دین حق کو قبول نہ کرنا اور باہم اختلاف اور قتل و قتال کرنا اور کسی کا مسلمان ہونا اور کسی کا منکر و کافر رہنا یہ کوئی نئی بات نہیں اگر آپ پر بھی سب لوگ ایمان نہیں لاتے اور امر حق کا انکار کرتے ہیں تو آپ کو اس پر حزن و ملال نہ ہونا چاہئے۔ یہ امور تو ہماری حکمت و مشیت کے ماتحت ہوتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کرتے ہیں، البتہ اگر ہم چاہتے تو ایسا نہ ہوتا لیکن ہماری حکمت کا مقتضایہ نہ ہوا کہ ہم جبر واکراہ کے ساتھ کسی کو مسلمان بنائیں ، لہٰذا کسی پیغمبر کی امت میں بھی ایسا نہ ہوا کہ سب کے سب مسلمان ہوجاتے۔ رہا حکمت کا معاملہ تو یہ ضروری نہیں کہ بندوں کو اس کی پوری حقیقت معلوم ہوجائے ہمارے لئے صرف اتنا عقیدہ ضروری ہے کہ ایسا کرنے میں حضرت حق کی کوئی مصلحت و حکمت ضرور ہے۔ اقتتلال فرمایا ، اختلاف کو جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اشارہ بھی کیا ہے یہ اس لئے کہ باہمی اختلاف ہی بڑھتے بڑھتے قتل و قتال کا موجب ہوگیا اور چونکہ اس کا بھی احتمال تھا کہ اختلاف رہتا اور قتل و قتال کی نوبت نہ آتی اس لئے مکرر فرمایا ۔ ولو شاء اللہ ما قتلوا تا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ بات بھی مشیت پر موقوف تھی چونکہ مشیت کا تعلق ترک قتال سے نہ ہوا ۔ لہٰذا قتال اور اختلاف دونوں واقع ہوئے اور بات بھی یہی ہے کہ اس کی مشیت اور اس کے ارادے پر کوئی قابو یافتہ نہیں۔ ولکن اللہ یفعل ما یرید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اظہار اور دوسرے پیغمبروں کے مراتب وغیرہ کا ذکر فرمانے کے بعد جو ایک خاص مناسبت سے آگیا تھا پھر اسی مضمون سابق کا اعادہ فرماتے ہیں ۔ یعنی وہی لفظ بر جس کو ولکن البر من امن اللہ میں فرمایا اسی کی تفصیل و توضیح مقصود ہے چناچہ ابھی چند سطریں پیشتر قرض حسنہ کا ذکر فرمایا تھا اسی سلسلہ میں انفاق فی سبیل اللہ کی پھر تاکید فرماتے ہیں اس کے آگے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات کا ذکر ہوگا جو رسالت کی ذکر سے مربوط ہے ۔ اس کے بعد پھر انفاق فی سبیل اللہ کی مختلف صورتیں ذکر کی جائیں گی۔ ( تسہیل)