Allah Honored Some Prophets Above Others
Allah says;
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ
...
Those Messengers! We preferred some of them to others;
Allah states that He has honored some Prophets to others. For instance, Allah said,
وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ وَءَاتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا
And indeed, We have preferred some of the Prophets above others, and to Dawud We gave the Zabur (Psalms). (17:55)
In the Ayah, Allah said,
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللّهُ
...
Those Messengers! We preferred some of them to others; to some of them Allah spoke (directly),
meaning, Musa and Muhammad, and also Adam according to a Hadith recorded in Sahih Ibn Hibban from Abu Dharr.
...
وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ
...
Others He raised to degrees (of honor),
as is evident in the Hadith about the Isra' journey, when the Messenger of Allah saw the Prophets in the various heavens according to their rank with Allah.
If somebody asks about the collective meaning of this Ayah and the Hadith that the Two Sahihs collected from Abu Hurayrah which states,
"Once, a Muslim man and a Jew had an argument and the Jew said, `No, by Him Who gave Musa superiority over all human beings!'
Hearing him, the Muslim man raised his hand and slapped the Jew on his face and said, `Over Muhammad too, O evil one!'
The Jew went to the Prophet and complained to him and the Prophet said,
لاَا تُفَضِّلُونِي عَلَى الاْاَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَأَجِدُ مُوسَى بَاطِشًا بِقَايِمَةِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ فَلَا تُفَضِّلُونِي عَلَى الاْاَنْبِيَاء
Don't give me superiority above the Prophets, for the people will become unconscious on the Day of Resurrection, and I will be the first to be resurrected to see Musa holding on to the pillar of Allah's Throne. I will not know whether the unconsciousness Musa suffered on the Day of the Trumpet sufficed for him, or if he got up before me. So, do not give me superiority above the Prophets.
In another narration, the Prophet said,
Do not give superiority to some Prophets above others.
The answer to this question is that this Hadith prohibits preferring some Prophets above others in cases of dispute and argument, such as the incident mentioned in the Hadith. The Hadith indicates that it is not up to creation to decide which Prophet is better, for this is Allah's decision. The creation is only required to submit to, obey and believe in Allah's decision.
Allah's statement,
...
وَاتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ
...
And We gave `Isa, the son of Maryam, clear signs,
refers to the proofs and unequivocal evidences that testify to the truth that `Isa delivered to the Children of Israel, thus testifying that he was Allah's servant and His Messenger to them.
...
وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ
...
And supported him with Ruh-il-Qudus,
meaning Allah aided `Isa with Jibril, peace be upon him.
Allah then said,
...
وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَـكِنِ اخْتَلَفُواْ فَمِنْهُم مَّنْ امَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا اقْتَتَلُواْ
...
If Allah had willed, succeeding generations would not have fought against each other, after clear Verses of Allah had come to them, but they differed ـ some of them believed and others disbelieved. If Allah had willed, they would not have fought against one another.
meaning all this happened by Allah's decree, and this is why He said next,
...
وَلَـكِنَّ اللّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ
But Allah does what He wills.
ذِکر مدارج الانبیاء
یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں ، جیسا اور جگہ فرمایا ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض و اتینا داؤد زبورا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور حضرت داؤد کو ہم نے زبور دی ، یہاں بھی اسی کا ذِکر کرکے فرماتا ہے ان میں سے بعض کو شرف ہمکلامی بھی نصیب ہوا جیسا حضرت موسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت آدم ۔ صحیح ابن حبان میں حدیث ہے جس میں معراج کے بیان کے ساتھ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ کسی نبی کو آپ نے الگ الگ کس آسمان میں پایا جو ان کے مرتبوں کے کم و بیش ہونے کی دلیل ہے ، ہاں ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی کچھ بات چیت ہو گئی تو یہودیوں نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے موسیٰ کی تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو مسلمان سے ضبط نہ ہو سکا ، اس نے اٹھا کر ایک تھپڑ مارا اور کہا خبیث کیا ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ یہودی نے سرکارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آکر اس کی شکایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو ، قیامت کے دن سب بیہوش ہونگے سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہوں گے ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا سرے سے بیہوش ہی نہیں ہوئے تھے؟ اور طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں کی بیہوشی سے بچا لئے گئے ، پس مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو ، ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبروں کے درمیان فضیلت نہ دو ، پس یہ حدیث بظاہر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے لیکن دراصل کوئی تعارض نہیں ، ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس سے پہلے ہو کہ آپ کو فضیلت کا علم نہ ہوا ہو ، لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے ، دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ آپ نے محض تواضع اور فروتنی کے طور پر فرمایا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر ، تیسرا جواب یہ ہے کہ ایسے جھگڑے اور اختلاف کے وقت ایک کو ایک پر فضیلت دینا دوسرے کی شان گھٹانا ہے اس لئے آپ نے منع فرما دیا ، چوتھا جواب یہ ہے کہ تم فضیلت نہ دو یعنی صرف اپنی رائے ، اپنے خیال اور اپنے ذہنی تعصب سے اپنے نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت نہ دو ، پانچواں جواب یہ ہے کہ فضیلت و تکریم کا فیصلہ تمہارے بس کا نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ جسے فضیلت دے تم مان لو ، تمہارا کام تسلیم کرنا اور ایمان لانا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو واضح دلیلیں اور پھر ایسی حجتیں عطا فرمائی تھیں جن سے بنی اسرائیل پر صاف واضح ہو گیا کہ آپ کی رسالت بالکل سچی ہے اور ساتھ ہی آپ کی یہ حیثیت بھی واضح ہو گئی کہ مثل اور بندوں کے آپ بھی اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے اور بےکس غلام ہیں ، اور روح القدس یعنی حضرت جبرائیل سے ہم نے ان کی تائید کی ۔ پھر فرمایا کہ بعد والوں کے اختلاف بھی ہمارے قضا و قدر کا نمونہ کا نمونہ ہیں ، ہماری شان یہ ہے کہ جو چاہیں کریں ، ہمارے کسی ارادے سے مراد جدا نہیں ۔