Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 285

سورة البقرة

اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸۵﴾

The Messenger has believed in what was revealed to him from his Lord, and [so have] the believers. All of them have believed in Allah and His angels and His books and His messengers, [saying], "We make no distinction between any of His messengers." And they say, "We hear and we obey. [We seek] Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination."

رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالٰی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Hadiths on the Virtue of These Two Ayat, May Allah Benefit Us by Them Al-Bukhari recorded that Abu Mas`ud said that the Messenger of Allah said, مَنْ قَرَأَ بِالاْيَتَيْنِ مِنْ اخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاه Whoever recites the last two Ayat in Surah Al-Baqarah at night, they will suffice for him. The rest of the six also recorded similar wording for this Hadith. The Two Sahihs recorded this Hadith using various chains of narration, and Imam Ahmad also recorded it. Muslim recorded that Abdullah said, "When the Messenger of Allah went on the Isra journey, he ascended to the Sidrat Al-Muntaha in the sixth heaven, where whatever ascends from the earth ends at, and whatever descends from above it ends at. إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى When that covered the lote tree which did cover it! (53:16) meaning, a mat made of gold. The Messenger of Allah was then given three things: the five prayers, the last Ayat in Surah Al-Baqarah and forgiveness for whoever did not associate anything or anyone with Allah from his Ummah." Earlier we mentioned the Hadith regarding the virtues of Surah Al-Fatihah from Ibn Abbas which stated, "While the Messenger of Allah was with Jibril, he heard a noise from above. Jibril lifted his sight to the sky and said, `This is a door that was opened just now in heaven, and it was never opened before.' An angel came down through the door to the Prophet and said, `Receive the good news of two lights that you have been given and which no Prophet before you was given: the Opener of the Book (Al-Fatihah) and the last Ayat in Surah Al-Baqarah. You will not read a letter of them, but you will be granted its benefit."' This Hadith was collected by Muslim and An-Nasa'i, and this is the wording collected by An-Nasa'i. The Tafsir of the Last Two Ayat of Surah Al-Baqarah Allah said, امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُوْمِنُونَ ... The Messenger believes in what has been sent down to him from his Lord, and (so do) the believers. Allah said, ... كُلٌّ امَنَ بِاللّهِ وَمَليِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ... Each one believes in Allah, His Angels, His Books, and His Messengers. (They say,) "We make no distinction between one another of His Messengers." Therefore, each of the believers believes that Allah is the One and Only and the Sustainer, there is no deity worthy of worship except Him and there is no Lord except Him. The believers also believe in all Allah's Prophets and Messengers, in the Books that were revealed from heaven to the Messengers and Prophets, who are indeed the servants of Allah. Further, the believers do not differentiate between any of the Prophets, such as, believing in some of them and rejecting others. Rather, all of Allah's Prophets and Messengers are, to the believers, truthful, righteous, and they were each guided to the path of righteousness, even when some of them bring what abrogates the Law of some others by Allah's leave. Later on, the Law of Muhammad, the Final Prophet and Messenger from Allah, abrogated all the laws of the Prophets before him. So the Last Hour will commence while Muhammad's Law remains the only valid Law, and all the while a group of his Ummah will always be on the path of truth, apparent and dominant. Allah's statement, ... وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ... And they say, "We hear, and we obey," means, we heard Your statement, O our Lord, comprehended and implemented it, and adhered to its implications. ... غُفْرَانَكَ رَبَّنَا ... "(We seek) Your forgiveness, our Lord, contains a plea and supplication for Allah's forgiveness, mercy and kindness. ... وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ and to You is the return (of all)." Allah's statement,

بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنئے ، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے ، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے ، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں ، وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں دی گئیں ۔ پانچ وقت کی نمازیں ، سورۃ بقرہ کے خاتمہ کی آیتیں اور توحید والوں کے تمام گناہوں کی بخشش ۔ مسند میں ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ بقرہ کی ان دونوں آخری آیتوں کو پڑھتے رہا کرو ، میں انہیں عرش کے نیچے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں ، ابن مردویہ میں ہے کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں ، میں سورۃ بقرہ کی یہ آخری آیتیں عرش تلے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں جو نہ میرے پہلے کسی کو دی گئیں نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی ، ابن مردویہ میں ہے حضرت علی فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اسلام کے جاننے والوں میں سے کوئی شخص آیت الکرسی اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھے بغیر سو جائے ، یہ وہ خزانہ ہے جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرش تلے کے خزانہ سے دئیے گئے ہیں ، اور حدیث ترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے تک ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اتار کر سورۃ بقرہ ختم کی ، جس گھر میں یہ تین راتوں تک پڑھی جائیں اس گھر کے قریب بھی شیطان نہیں جا سکتا ۔ امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں لیکن حاکم اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہتے ہیں ، ابن مردویہ میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ بقرہ کا خاتمہ اور آیت الکرسی پڑھتے تو ہنس دیتے اور فرماتے یہ دونوں رحمن کے عرش تلے کا خزانہ ہیں اور جب آیت ( وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:110 ) اور آیت ( وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى 40؀۠ ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى 41؀ۙ ) 53 ۔ النجم:39 ) پڑھتے تو زبان سے اناللہ نکل جاتا اور سست ہو جاتے ، ابن مردویہ میں ہے کہ مجھے سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقر کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں ، اور مزید مفصل کی سورتیں بھی وہاں سے ہی دی گئی ہیں ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جہاں حضرت جبرائیل بھی تھے کہ اچانک ایک دہشت ناک بہت بڑے دھماکے کی آواز کے ساتھ آسمان کا وہ دروازہ کھلا جو آج تک کبھی نہیں کھلا تھا ، اس سے ایک فرشتہ اترا ، اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ کو خوشی مبارک ہو ، آپ کو وہ دو نور دئیے جاتے ہیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں ۔ ان کے ایک ایک حرف پر آپ کو نور دیا جائے گا ( مسلم ) پس یہ دس حدیثیں ان مبارک آیتوں کی فضیلت ہیں ۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ رسول یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ایمان لائے جو انکی طرف سے ان کے رب کی جانب سے نازل ہوا ، اسے سن کر آپ کے فرمایا وہ ایمان لانے کا پورا مستحق ہے ، اور دوسرے ایماندار بھی ایمان لائے ، ان سب نے مان لیا کہ اللہ ایک ہے ، وہ وحدانیت کا مالک ہے ، وہ تنہا ہے ، وہ بےنیاز ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، نہ اس کے سوا کوئی پالنے والا ہے ، یہ ( ایمان والے ) تمام انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں ، تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ، آسمانی کتابوں کو انبیاء کرام پر جو اتری ہیں سچی جانتے ہیں ۔ وہ نبیوں میں فرق نہیں سمجھتے کہ ایک کو مانیں دوسرے کو نہ مانیں بلکہ سب کو سچا جانتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ پاکباز طبقہ رشد و ہدایت والا اور لوگوں کی خیر کی طرف رہبری کرنے والا ہے ، گو بعض احکام ہر نبی کے زمانہ میں تبدیل ہوتے رہے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سب کی ناسخ ٹھہری ، خاتم الانبیاء و مرسلین آپ تھے ، قیامت تک آپ کی شریعت باقی رہے گی اور ایک جماعت اس کی اتباع بھی کرتی رہے گی ۔ انہوں نے اقرار بھی کیا کہ ہم نے اللہ کا کلام سنا اور احکام الہی ہمیں تسلیم ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمارے رب ہمیں مغفرت رحمت اور لطف عنایت فرما ، تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے یعنی حساب والے دِن ۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی اور آپ کی تابعدار امت کے یہاں ثناء و صفت بیان ہو رہی ہے ، آپ اس موقع پر دعا کیجئے قبول کی جائے گی ، مانگئے کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے ۔ پھر فرمایا اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا یہ اس کا لطف و کرم اور احسان و انعام ہے ۔ صحابہ کو جو کھٹکا ہوا تھا اور ان پر جو یہ فرمان گراں گزرا تھا کہ دِل کے خطرات پر بھی حساب لیا جائے گا وہ دھڑکا اس آیت سے اٹھ گیا ۔ مطلب یہ کہ گو حساب ہو ، سوال ہو لیکن جو چیز طاقت سے باہر ہے اس پر عذاب نہیں کیونکہ دِل میں کسی خیال کا دفعتاً آجانا روکے رُک نہیں سکتا بلکہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ایسے وسوسوں کو برا جاننا دلیل ایمان ہے ، بلکہ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی ، اعمال صالحہ کرو گے جزا پاؤ گے ، برے اعمال کرو گے تو سزا بھگتو گے ۔ پھر دعا کی تعلیم دی اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ، کہ اے اللہ بھولے چوکے جو احکام ہم سے چھوٹ گئے ہوں یا جو برے کام ہوگئے ہوں یا شرعی احکام میں غلطی کرکے جو خلاف شرع کام ہم سے ہوئے ہوں وہ معاف فرما ، پہلے صحیح مسلم کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے کہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، میں نے اسے قبول فرمایا ، حدیث میں بھی ہے کہ میں یکسوئی والا اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہوں ۔ اے اللہ تکلیفیں بلائیں اور مشقتیں ہم پر نہ ڈال جن کی برداشت کی طاقت ہم میں نہ ہو ، حضرت مکحول فرماتے ہیں اس سے مراد فریب اور غلبہ شہوت ہے ، اس کے جواب میں بھی قبولیت کا اعلان رب عالم کی طرف سے کیا گیا ۔ اور ہماری تقصیروں کو معاف فرما جو تیری نافرمانی کا کوئی کام نہ ہو ، اس لئے بزرگوں کا قول ہے کہ گنہگار کو تین باتوں کی ضرورت ہے ۔ ایک تو اللہ کی معافی تاکہ عذاب سے نجات پائے ، دوسرے پردہ پوشی تاکہ رسوائی سے بچے ، تیسرے عصمت کی تاکہ دوسری بار گناہ میں مبتلا نہ ہو ، اس پر بھی جناب باری نے قبولیت کا اعلان کیا ۔ تو ہمارا ولی و ناصر ہے ، تجھی پر بھروسہ ہے ، تجھی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں ، تو ہی ہمارا سہارا ہے ، تیری مدد کے سوا نہ تو ہم کسی نفع کے حاصل کرنے پر قادر ہیں نہ کسی برائی سے بچ سکتے ہیں ، تو ہماری ان لوگوں پر مدد فرما جو تیرے دین کے منکر ہیں تیری وحدانیت کو نہیں مانتے ، تیرے نبی کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے ، تیرے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ، مشرک ہیں اے اللہ تو ہمیں ان پر غالب کر دینا اور دین میں ہم ہی ان پر فاتح رہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بھی فرمایا ہاں میں نے یہ بھی دعا قبول فرمائی ۔ حضرت معاذ جب اس آیت کو ختم کرتے آمین کہتے ۔ ( ابن جریر )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

285۔ 1 اس آیت میں پھر ان ایمانیات کا ذکر ہے جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس اگلی آیت (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) 002:286 میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت اور اس کے فضل و کرم کا تذکرہ ہے کہ اس نے انسانوں کو کسی ایسی بات کا مکلف نہیں کیا جو ان کی طاقت سے بالا ہو۔ ان دونوں آیات کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو یہ اس کو کافی ہوجاتی ہیں (صحیح بخاری) دوسری حدیث میں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معراج کی رات جو تین چیزیں ملیں ان میں سے ایک سورة بقرہ کی یہ دو آخری آیات بھی ہیں (صحیح مسلم) کئی روایات میں یہ وارد ہے کہ اس سورة کی آخری آیات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک خزانے سے عطا کی گئیں جو عرش الٰہی کے نیچے ہے۔ اور یہ آیات آپ کے سوا کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں حضرت معاذ (رض) اس صورت کے خاتمے پر آمین کہا کرتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤١٤] یہ سب ایمان بالغیب کے اجزاء ہیں۔ جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس سورة کی ابتداء میں اجمالاً بیان ہوئے تھے یہاں قدرے تفصیل ہے۔ ایمان بالغیب کے کل چھ اجزاء ہیں۔ جن میں چار یہاں مذکور ہیں۔ یعنی اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور جو یہاں مذکور نہیں ہوئے بلکہ دوسرے مقامات پر مذکور ہیں وہ ہیں روز آخرت پر ایمان اور اس بات پر ایمان کہ ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی طرف سے ہوتی ہے۔ اور یہ سب اشیاء ایسی ہیں جن کا ادراک حواس خمسہ سے ناممکن ہے اور وہ انسان کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ان میں سے کتابیں اور رسول انسانوں کو نظر تو آتے ہیں۔ لیکن اس یقین کا انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ فلاں کتاب فی الواقعہ اللہ کی طرف نازل شدہ ہے اور فلاں رسول واقعی اللہ کا رسول ہے۔ یہ یقین اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب پہلے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر ایمان لایا جائے۔ اللہ کی طرف سے جب فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر رسول پر نازل ہوتا ہے۔ تو سب سے پہلے رسول اپنی رسالت پر اور اللہ کی طرف سے ملے ہوئے احکام پر ایمان لاتا اور ان احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے اور عمل پیرا ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو دوسرے مقامات پر ( وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ١٦٣۔ ) 6 ۔ الانعام :163) اور ( وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ١٤٣۔ ) 7 ۔ الاعراف :143) کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے پھر اس کے بعد رسول دوسرے لوگوں کو اپنی رسالت پر ایمان لانے اور منزل من اللہ احکام کو بجا لانے کی دعوت دیتا ہے۔ پھر جو لوگ بھی رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے سے پہلے کے رسولوں اور پہلی نازل شدہ کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ ایمان اجمالی ہوتا ہے تفصیلی نہیں ہوتا۔ کیونکہ نیا رسول آتا ہی اس وقت ہے جب سابقہ رسول کی کتاب میں تحریف و تاویل کرکے اس کا حلیہ بگاڑ دیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو مسخ کردیا جاتا یا کچھ کا کچھ بنادیا جاتا ہے۔ گویا اب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تفصیلی ایمان لانا ضروری ہے۔ اور آپ پر تفصیلی ایمان کا مطلب آپ پر منزل من اللہ اللشریعت کے ایک ایک جزء کو واجب الاتباع سمجھنا اور اس کے مطابق عمل پیرا ہونا اور اپنی زندگی کو اس سانچہ میں ڈھالنا ہے اور سابقہ کتابوں پر اجمالی ایمان کا مطلب ہے کہ ان کتابوں میں جو باتیں شریعت اسلامیہ کے مطابق ہیں انہیں منزل من اللہ سمجھا جائے۔ اور جو مخالف ہیں انہیں لوگوں کا اضافہ یا تحریف سمجھا جائے اور جو باتیں نہ مطابق ہوں اور نہ مخالف، ان کی نہ تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب۔ [٤١٥] رسولوں میں فرق کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی کو تو اللہ کا رسول مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے۔ جیسے یہود نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول مانتے تھے اور نہ نبی اکرم کو اور عیسائی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کا نبی نہیں سمجھتے تھے۔ جبکہ مسلمان ان سب کو اللہ کے نبی اور رسول مانتے ہیں۔ ان کے نبی یا رسول ہونے میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ بلحاظ نبوت سب انبیاء کا درجہ برابر اور وہ سب ایک سطح پر ہوتے ہیں اور باقی تمام مخلوقات سے افضل ہوتے ہیں۔ ایسی ہی صورت کو ختم کرنے کے لئے آپ نے فرمایا : & کہ کسی کو ایسا کہنا درست نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں & اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ : جو شخص یوں کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا & (بخاری۔ کتاب التفسیر، تفسیر آیت (اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ١٦٣؀ۚ ) 4 ۔ النسآء :163) پھر جس طرح تمام انسان، انسان ہونے کے لحاظ سے ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان میں کچھ اچھے اور کچھ برے، کوئی عادل، کوئی ظالم، کوئی مشرک، کوئی موحد غرضیکہ ان کی بیشمار اقسام بن جاتی ہیں۔ اسی طرح تمام مسلمان، مسلمان ہونے کے لحاظ سے یا بالفاظ دیگر قانونی لحاظ سے تو ایک سطح پر ہوتے ہیں لیکن ان کے اعمال صالحہ اور غیر صالحہ کی بنا پر ان کی کئی اقسام بن جاتی ہیں، بعینہ اسی طرح تمام انبیاء اگرچہ نبوت کے لحاظ سے ایک سطح پر ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ مگر فضائل کے لحاظ سے ان میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ فرق قرآن کریم کی اس آیت ( تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۘ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ٢٥٣؁ۧ) 2 ۔ البقرة :253) سے ثابت ہے، اور بیشمار احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب انبیاء سے افضل ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary These are the last two verses of Sarah al-Baqarah. Great merits have been attributed to these two verses in authentic ahadith. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said that one who recites these two verses during the night, they will be sufficient for him. As narrated by Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that Allah Almighty has sent forth these two verses out of the treasures of Paradise and the &Rahman& رحمان had already written them by His own hand two thousand years earlier than the creation of all things and beings. One who is able to recite them after the Salah of ` Isha&, they will stand for Tahajjud in his case. As it appears in the Mustadrak of al-Hakim and in Bayhaqi, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that Allah Almighty has concluded Sarah al-Baqarah with these two verses, which have been given to me in His grace from out of the special treasure that lies under the ` Arsh عرش (Divine Throne). Therefore, you should make special effort to learn these verses, and at the same time, teach your women and children how to recite them. This is why Sayyidna ` Umar and Sayyidna ` Ali (رض) ، said that they thought that anybody who has any sense in him would never go to sleep without having recited these two verses. Meaning-wise, these verses have many special features. One of the distinct ones is that they come at the end of Sarah al-Baqarah where most of the injunctions of Shari` ah appear briefly, or in detail, such as, those dealing with the articles of faith, modes of worship, mutual deal¬ings, morals and social living etc. Here, the first of the two verses opens with words of praise for the Muslims who are true and obedient, those who said yes with all their heart to all injunctions ordained by Allah, and were all set to carry them out. In addition to being an as¬sertion of Allah&s infinite mercy, the second verse also answers the doubt which started bothering the noble Companions when verse 284, the one preceding these two, was revealed. The words of the said verses, as mentioned earlier briefly, were: وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّـهُ , that is, whether you manifest that which is in your hearts, or conceal it, Allah will call you to account for it. Here the verse was actually re¬ferring to the accounting of whatever one does with his or her choice and volition. Unintentional thoughts and errors were just not included under its purview. However, the words of the Qur&an were general because of which people surmised that man will be taken to account even for thoughts that entered his mind without his intention. Nervously excited, the noble Companion presented themselves before the Holy Prophet g and said: ia Rasool Allah, till now we thought that we shall be called to account for only those deeds that we do with our will and choice, and we shall not be called to account for thoughts that cross our minds involuntarily. But this verse seems to tell us that every thought that enters our minds will be subject to accounting. This way it is extremely difficult to escape punishment.& Although, the Holy Prophet g knew the correct intended meaning of the verse but he, in view of the generality of its words, did not elect to say anything on his own. Instead, he waited for the Wahy وحی (revelation) and instructed the Companions that they should obey whatever Allah Almighty ordains for them. It may be easy or difficult to carry out, but it is not the way of a true Muslim to show the slightest of hesitation in accepting Allah&s command when it comes. As soon as you hear the command of Allah, say: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَ‌انَكَ رَ‌بَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ‌ , that is, We have listened, and obeyed. Our Lord, Your pardon! And to You is the return&. The noble Companions (رض) did exactly what they were told by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، although their minds were still ticking with the apprehension that building a security shield against involuntary intrusions of thoughts was enormously difficult indeed! Thereupon, Allah Almighty revealed these last two verses of Surah al-Baqarah. Here the first one praises Muslims while the other gives a correct explanation of the verse that created doubt in the minds of the noble Companions. Now let us look at the words of the first verse. These are: آمَنَ الرَّ‌سُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّ‌بِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُ‌سُلِهِ لَا نُفَرِّ‌قُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّ‌سُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَ‌انَكَ رَ‌بَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ‌ ﴿٢٨٥﴾ The Messenger has believed in what has been revealed to him from his Lord, and the believers as well. All have believed in Allah and His angels and His Books and His Messengers. |"We make no division between any of His Messengers,|" and they have said: |"We have listened, and obeyed. Our Lord, Your par-don! And to You is the return.|" The first seven words of this verse admire the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It may be noted that the verse does not address him by his name, but, by calling him Rasul&, his honour and dignity have been made clear. The word, &the believers& follows immediately after that. It means that just as the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) firmly believes in the revelation (Wahy وحی) from Allah, so do the true Muslims in general. The style chosen for this sentence is also worth consideration. The major part has been used to describe the state of the &iman (belief) of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، then, the &iman ایمان (belief) of the general Muslims has been described separately. This indicates that, although the Holy Prophet and all Muslims share in the wealth of &iman ایمان as such, still there is a great difference between the two in terms of the relative degrees of &iman ایمان . The knowledge of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is based on seeing and hearing while the knowledge of other Muslims takes the form of &iman bi l&ghayb ایمان بالغیب or &believing without seeing& as based on the &ru&yat& or &seeing& of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . After that come details of the &irnan (belief) which was common between the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the Muslims in general. This &iman consisted of the belief that Allah Almighty does exist and that He is One and that He is endued with all the perfect attributes, and that there are angels, and that all Scriptures and all Messengers sent by Allah are true. After that it was clearly stressed that the &believers& of this ummah (Muslim community) will do nothing as was done by past communities when they planted seeds of discord among messengers of Allah by accepting some as prophets and by denying that status to others. The Jews accepted that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was a prophet, the Christians accepted that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) was a prophet, but that the Last of the prophets, Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was a prophet was not accepted by them. Praised here is the distinction of this umrnah which is made of people who do not reject any prophet. This is followed by words of admiration for what the noble Companions had said when so directed by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَ‌انَكَ رَ‌بَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِير We have listened, and obeyed. Our Lord, Your pardon! And to You is the return.

خلاصہ تفسیر : اعتقاد رکھتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چیز (کے حق ہونے) کا جو ان کے پاس رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور (دوسرے) مؤمنین بھی (اس کا اعتقاد رکھنا کہا جائے گا) سب کے سب (رسول بھی اور دوسرے مؤمنین بھی) عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ (کہ وہ موجود ہے اور واحد اور ذات وصفات میں کامل ہے) اور اس کے فرشتوں کے ساتھ (کہ وہ موجود ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں اور مختلف کاموں پر مقرر ہیں) اور اس کی کتابوں کے ساتھ (کہ اصل میں سب سچی ہیں) اور اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں (عقیدہ رکھنے میں) تفریق نہیں کرتے (کہ کسی کو پیغمبر سمجھیں کسی کو نہ سمجھیں) اور ان سب نے یوں کہا کہ ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا (اور اس) کو خوشی سے مانا ہم آپ سے بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے پروردگار اور آپ ہی کی طرف (ہم سب کو) لوٹنا ہے (یعنی ہم نے جو پہلی آیت میں کہا ہے کہ نفوس کی پوشیدہ باتوں پر بھی محاسبہ ہوگا اس سے مراد امور غیر اختیاری نہیں بلکہ صرف امور اختیاریہ ہیں کیونکہ) اللہ کسی کو (احکام شرعیہ میں) مکلف نہیں بناتا (یعنی ان امور کو واجب یا حرام نہیں فرماتا) مگر اسی کا جو اس کی طاقت (اور اختیار) میں ہو اس کو ثواب بھی اسی کا ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے اور اس پر عذاب بھی اسی کا ہوگا جو ارادہ سے کرے (اور جو وسعت سے باہر ہے اس کا مکلف نہیں کیا گیا اور جس کے ساتھ قصد اور ارادہ متعلق نہیں اس کا نہ ثواب ہے نہ عذاب اور وساوس طاقت سے خارج ہیں تو ان کے آنے کو حرام اور ان کے نہ آنے دینے کو واجب نہیں کیا اور نہ ان پر عذاب رکھا) اے ہمارے رب ہم پر داروگیر نہ فرمائیے اگر ہم بھول جاویں یا چوک جاویں اے ہمارے رب (ہماری یہ بھی درخواست ہے کہ) ہم پر کوئی سخت حکم نہ بھیجئے جیسے ہم سے پہلے لوگوں پر آپ نے بھیجے تھے، اے ہمارے رب اور (ہم یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ) ہم پر کوئی ایسا بار (تکلیف کا دنیا یا آخرت میں) نہ ڈالئے جس کی ہم کو سہار نہ ہو اور درگذر کیجئے ہم سے اور بخش دیجئے ہم کو اور رحم کیجئے ہم پر آپ ہمارے کارساز ہیں (اور کارساز طرف دار ہوتا ہے) سو آپ ہم کو کافر لوگوں پر غالب کیجئے۔ معارف و مسائل : ان دو آیتوں کے خاص فضائل : یہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں احادیث صحیحہ معتبرہ میں ان دو آیتوں کے بڑے بڑے فضائل مذکور ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے رات کو یہ دو آیتیں پڑھ لیں تو یہ اس کے لئے کافی ہیں۔ اور ابن عباس کی روایت میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو آیتیں جنت کے خزائن میں سے نازل فرمائی ہیں جس کو تمام مخلوق کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے خود رحمنٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھ دیا تھا، جو شخص ان کو عشاء کی نماز کے بعد پڑھ لے تو وہ اس کے لئے قیام اللیل یعنی تہجد کے قائم مقام ہوجاتی ہیں اور مستدرک حاکم اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ نے سورة بقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس خزانہ خاص سے عطاء فرمائی ہیں جو عرش کے نیچے ہے اس لئے تم خاص طور پر ان آیتوں کو سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو سکھاؤ اسی لئے حضرت فاروق اعظم اور علی مرتضیٰ نے فرمایا کہ ہمارا خیال یہ ہے کہ کوئی آدمی جس کو کچھ بھی عقل ہو وہ سورة بقرہ کی ان دونوں آیتوں کو پڑھے بغیر نہ سوئے گا ان دونوں آیتوں کی معنوی خصوصیات تو بہت ہیں لیکن ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سورة بقرہ میں اکثر احکام شرعیہ اجمالاً وتفصیلاً ذکر کردیئے گئے ہیں اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت وغیرہ۔ آخری دو آیتوں میں پہلی آیت میں اطاعت شعار مؤمنین کی مدح کہ گئی ہے جنہوں نے اللہ جل شانہ کے تمام احکام پر لبیک کہا اور تعمیل کے لئے تیار ہوگئے، اور دوسری آیت میں ایک شبہ کا جواب دیا گیا جو ان دو آیتوں سے پہلی آیت میں صحابہ کرام (رض) اجمعین کو پیدا ہوگیا تھا اور ساتھ ہی اپنے فضل و رحمت بےحساب کا ذکر فرمایا گیا وہ یہ تھا کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ جو کہ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، ہر حال میں اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لیں گے آیت کی اصل مراد تو یہ تھی کہ اپنے اختیار و ارادہ سے جو کوئی عمل اپنے دل میں کرو گے اس کا حساب ہوگا غیر اختیاری وسوسہ اور بھول چوک اس میں داخل ہی نہ تھی لیکن الفاظ قرآن بظاہر عام تھے ان کے عموم سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ انسان کے دل میں غیر اختیاری طور پر کوئی خیال آجائے گا تو اس کا بھی حساب ہوگا۔ صحابہ کرام یہ سن کر گھبرا اٹھے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی یا رسول اللہ اب تک تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کام اپنے ارادہ واختیار سے کرتے ہیں حساب ان ہی اعمال کا ہوگا غیر اختیاری خیالات جو دل میں آجاتے ہیں ان کا حساب نہ ہوگا مگر اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر خیال پر جو دل میں آئے حساب ہوگا اس میں تو عذاب سے نجات پانا سخت دشوار ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اگرچہ آیت کی صحیح مراد معلوم تھی مگر الفاظ کے عموم کے پیش نظر آپ نے اپنی طرف سے کچھ کہنا پسند نہ فرمایا بلکہ وحی کا انتظار کیا اور صحابہ کرام کو یہ تلقین فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم آئے خواہ آسان ہو یا دشوار مومن کا یہ کام نہیں کہ اس کے ماننے میں ذرا بھی تامل کرے تم کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام سن کر یہ کہو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ یعنی اے ہمارے پروردگار ہم نے آپ کا حکم سنا اور اس کی اطاعت کی، اے ہمارے پروردگار اگر حکم کی تعمیل میں ہم سے کوئی کوتاہی یا فرو گذاشت ہوئی ہو تو اس کو معاف فرمادے کیونکہ ہمارا سب کا آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا اگرچہ ان کے ذہن میں یہ خیال کھٹک رہا تھا کہ بےاختیار دل میں آنے والے خیالات اور وساوس سے بچنا تو سخت دشوار ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں نازل فرمائیں جن میں سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی مدح اور دوسری میں اس آیت کی اصلی تفسیر بتلائی گئی جس میں صحابہ کرام (رض) اجمعین کو اشتباہ پیش آیا تھا اب پہلی آیت کے الفاظ دیکھئے۔ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤ ْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ باللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۣلَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ یعنی ایمان رکھتے ہیں رسول اس چیز پر جو ان کے پاس نازل ہوئی ان کے رب کی طرف سے اس میں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدح فرمائی اور اس کی بجائے آپ کا نام مبارک لینے کے لفظ رسول فرما کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم و تشریف کو واضح کردیا اس کے بعد فرمایا والْمُؤ ْمِنُوْنَ یعنی جس طرح آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنی وحی پر ایمان و اعتقاد ہے اس طرح عام مؤمنین کا بھی اعتقاد ہے اور جو طرز بیان اس جملہ میں اختیار فرمایا کہ پہلے پورا جملہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایمان کے ذکر میں لایا گیا اس کے بعد مؤمنین کے ایمان کا علیحدہ تذکرہ کیا گیا اس میں اشارہ ہے کہ اگرچہ نفس ایمان میں آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سب مسلمان شریک ہیں لیکن درجات ایمان کے اعتبار سے ان دونوں میں بڑا فرق ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم مشاہدہ اور سماع کی بناء پر ہے اور دوسرے مسلمانوں کا علم ایمان بالغیب آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رویت کی بناء پر۔ اس کے بعد ایمان مجمل کی تفصیل بتلائی جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عام مؤمنین میں شریک تھا کہ وہ ایمان تھا اللہ تعالیٰ کے موجود اور ایک ہونے پر اور تمام صفات کاملہ کے ساتھ متصف ہونے پر اور فرشتوں کے موجود ہونے پر اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور سب رسولوں کے سچے ہونے پر۔ اس کے بعد اس کی وضاحت فرمائی کہ اس امت کے مؤمنین پچھلی امتوں کی طرح ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے رسولوں میں باہمی تفرقہ ڈالیں کہ بعض کو نبی مانیں اور بعض کو نہ مانیں جیسے یہود نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی مانا مگر خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی نہ مانا اس امت کی یہ مدح فرمائی کہ یہ اللہ کے کسی رسول کا انکار نہیں کرتے اور پھر صحابہ کرام کے اس جملہ پر ان کی تعریف کی گئی جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے موافق زبان سے کہا تھا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۝ ٠ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۝ ٠ ۣ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ۝ ٠ ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝ ٠ ۤ ۡ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۝ ٢٨٥ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محققین نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو تَّفْرِيقُ ( فرقان) أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو : يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ، إنما جاز أن يجعل التّفریق منسوبا إلى (أحد) من حيث إنّ لفظ (أحد) يفيد في النّفي، وقال : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] ، وقرئ : فَارَقُوا «1» والفِراقُ والْمُفَارَقَةُ تکون بالأبدان أكثر . قال : هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] ، وقوله : وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] ، أي : غلب علی قلبه أنه حين مفارقته الدّنيا بالموت، وقوله : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] ، أي : يظهرون الإيمان بالله ويکفرون بالرّسل خلاف ما أمرهم اللہ به . وقوله : وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] ، أي : آمنوا برسل اللہ جمیعا، والفُرْقَانُ أبلغ من الفرق، لأنه يستعمل في الفرق بين الحقّ والباطل، وتقدیره کتقدیر : رجل قنعان : يقنع به في الحکم، وهو اسم لا مصدر فيما قيل، والفرق يستعمل في ذلک وفي غيره، وقوله : يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، أي : الیوم الذي يفرق فيه بين الحقّ والباطل، والحجّة والشّبهة، وقوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] ، أي : نورا وتوفیقا علی قلوبکم يفرق به بين الحق والباطل «1» ، فکان الفرقان هاهنا کالسّكينة والرّوح في غيره، وقوله : وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، قيل : أريد به يوم بدر «2» ، فإنّه أوّل يوم فُرِقَ فيه بين الحقّ والباطل، والفُرْقَانُ : کلام اللہ تعالی، لفرقه بين الحقّ والباطل في الاعتقاد، والصّدق والکذب في المقال، والصالح والطّالح في الأعمال، وذلک في القرآن والتوراة والإنجیل، قال : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] ، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] ، تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] ، شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] . والفَرَقُ : تَفَرُّقُ القلب من الخوف، واستعمال الفرق فيه کاستعمال الصّدع والشّقّ فيه . قال تعالی: وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] ، ويقال : رجل فَرُوقٌ وفَرُوقَةٌ ، وامرأة كذلك، ومنه قيل للناقة التي تذهب في الأرض نادّة من وجع المخاض : فَارِقٌ وفَارِقَةٌ «3» ، وبها شبّه السّحابة المنفردة فقیل : فَارِقٌ ، والْأَفْرَقُ من الدّيك : ما عُرْفُهُ مَفْرُوقٌ ، ومن الخیل : ما أحد وركيه أرفع من الآخر، والفَرِيقَةُ : تمر يطبخ بحلبة، والفَرُوقَةُ : شحم الکليتين . التفریق اصل میں تکثیر کے لئے ہے اور کسی چیز کے شیر ازہ اور اتحاد کو زائل کردینے پر بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا ۔ اور آیت کریمہ : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے ۔ نیز آیت : ۔ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے میں احد کا لفظ چونکہ حرف نفی کے تحت واقع ہونے کی وجہ سے جمع کے معنی میں ہے لہذا تفریق کی نسبت اس کی طرف جائز ہے اور آیت کریمہ : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] جن لوگوں نے اپنے دین میں بہت سے رستے نکالے ۔ میں ایک قرات فارقوا ہے اور فرق ومفارقۃ کا لفظ عام طور پر اجسام کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] اب مجھ میں اور تجھ میں علیحد گی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] اس ( جان بلب ) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ بس اب دنیا سے مفارقت کا وقت قریب آپہنچا ہے اور آیت کریمہ : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں مگر حکم الہی کی مخالفت کر کے اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] اور ان میں کسی میں فرق نہ کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ الفرقان یہ فرق سے ابلغ ہے کیونکہ یہ حق اور باطل کو الگ الگ کردینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ رجل وقنعان ( یعنی وہ آدمی جس کے حکم پر قناعت کی جائے ) کی طرح اسم صفت ہے مصدر نہیں ہے اور فرق کا لفظ عام ہے جو حق کو باطل سے الگ کرنے کے لئے بھی آتا ہے اور دوسری چیزوں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] مومنوں اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دیگا ( یعنی تم کو ممتاز کر دے گا ۔ میں فر قان سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر نور اور توفیق پیدا کر دیگا جس کے ذریعہ تم حق و باطل میں امتیاز کرسکو گے تو گویا یہاں فرقان کا لفظ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ سکینۃ اور روح کے الفاظ ہیں اور قرآن نے یوم الفرقان اس دن کو کہا ہے جس روز کہ حق و باطل اور صحیح وغلط کے مابین فرق اور امتیاز ظاہر ہوا چناچہ آیت : ۔ وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] اور اس ( نصرت ) پر ایمان رکھتے ہو جو ( حق و باطل میں ) فرق کرنے کے دن نازل فرمائی ۔ میں یوم الفرقان سے جنگ بدر کا دن مراد ہے کیونکہ وہ ( تاریخ اسلام میں ) پہلا دن ہے جس میں حق و باطل میں کھلا کھلا امتیاز ہوگیا تھا ۔ اور کلام الہی ( وحی ) بھی فرقان ہوتی ہے کیونکہ وہ حق اور باطل عقائد میں فرق کردیتی ہے سچی اور جھوٹی باتوں اور اچھے برے اعمال کو بالکل الگ الگ بیان کردیتی ہے اس لئے قرآن کریم تورات اور انجیل کو فرقان سے تعبیر فرما گیا ہے چناچہ توراۃ کے متعلق فرمایا : ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون هْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] (علیہ السلام) کو ہدایت اور گمراہی میں ) فرق کردینے والی ۔ ،۔۔ عطا کی ۔ تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] وہ خدائے عزوجل بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو معجزے دیئے روزوں کا مہینہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( اول اول ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور حق و باطل کو ) الگ الگ کرنے والا ہے الفرق کے معنی خوف کی وجہ سے دل کے پرا گندہ ہوجانے کے ہیں اور دل کے متعلق اس کا استعمال ایسے ہی ہے جس طرح کہ صدع وشق کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] اصل یہ ہے کہ یہ ڈر پوک لوگ ہے ۔ اور فروق وفروقۃ کے معنی ڈرپوک مرد یا عورت کے ہیں اور اسی سے اس اونٹنی کو جو درندہ کی وجہ سے بدک کر دور بھاگ جائے ۔ فارق یا فارقۃ کہا جاتا ہے اور تشبیہ کے طور پر اس بدلی کو بھی فارق کہا جاتا ہے جو دوسری بد لیوں سے علیحد ہ ہو ۔ وہ مرغ جس کی کلفی شاخ در شاخ ہو ( 2 ) وہ گھوڑا جس کا ایک سرین دوسرے سے اونچا ہو ۔ الفریقۃ دودھ میں پکائی ہوئی کھجور ۔ الفریقہ گردوں کی چربی ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ صير الصِّيرُ : الشِّقُّ ، وهو المصدرُ ، ومنه قرئ : فَصُرْهُنَّ وصَارَ إلى كذا : انتهى إليه، ومنه : صِيرُ البابِ لِمَصِيرِهِ الذي ينتهي إليه في تنقّله وتحرّكه، قال : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] . و «صَارَ» عبارةٌ عن التّنقل من حال إلى حال . ( ص ی ر ) الصیر کے معنی ایک جانب یا طرف کے ہیں دراصل یہ صار ( ض) کا مصدر ہے ۔ اور اسی سے آیت فصوھن ہیں ایک قرآت فصرھن ہے ۔ صار الی کذا کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانا کے ہیں اسی سے صیر الباب ہے جس کے معنی درداڑہ میں شگاف اور جھروکا کے ہیں اور اسے صیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کا منتہی ہوتا ہے اور صار کا لفظ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ اسی سے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل نہ حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

(آیت 282 کی بقیہ تفسیر) تم اس کے متعلق تحریر لکھنے سے اکتاہٹ یا بیزاری کا اظہار نہ کرو۔ اس لئے کہ یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ یہاں اس سے قیراط اور دانق (قیراط نصف دانق اور دانق ورہم کا چھٹا حصہ) مراد نہیں ہے۔ کیونکہ اتنی قلیل رقم میں ایک مدت تک ادھار لین دین کی لوگوں میں عادت نہیں ہے۔ اللہ نے یہ بتادیا کہ اتنی تھوڑی مقدار جس میں مدت کی تعین عام طور پر کرلی جاتی ہے تحریر اور گواہی کے لحاظ سے جس کی یہاں ترغیب دی گئی ہے۔ اس کا بھی وہی حکم ہے جو کثیر مقدار کا کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آیت میں بالکل معمولی رقم نہیں ہے۔ البتہ ایسی تھوڑی مقدار سج کے لین دین کی لوگوں کو عادت ہوتی ہے۔ اس کے متعلق تحریر اور گواہی کی ترغیب دی گئی ہے۔ اب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس معاملے کی بنیاد لوگوں کی روزمرہ عادت پر ہوا سے معلوم کرنے کا طریقہ اجتہاد اور ظن غالب ہے۔ یہ چیز اس بات کی دلیل ہے ان نئے مسائل میں اجتہاد کا جواز ہے جن کے متعلق نہ تو فقہاء کا اتفاق ہے اور نہ ہی توقیف یعنی شریعت کی رہنمائی ہے۔ قول باری (الی اجلہ) کا مطلب ادائیگی کے مقررہ وقت کے پہنچ جانے تک دستاویز میں مدت کا بھی ذکر کیا جائے گا اور ادائیگی کے وقت کا بھی جس طرح کہ اصل قرض کا ذکر ہوگا۔ یہ بات اس چیز کی دلیل ہے کہ ان دونوں پر لازم یہ ہے کہ دستاویز میں دین کی صفت یا کیفیت اس کی مقدار اور اس کی واپسی کے متعلق سب کچھ تحریر کریں۔ اس لئے کہ اجل یعنی مدت بھی دین کی کیفیتوں میں سے ایک کیفیت ہے۔ اس لئے اجل سے متعلق تمام باتوں کا حکم بھی وہی ہوگا جو اجل یعنی مدت کا ہے۔ قول باری ہے (ذلکم اقسط عند اللہ و اقوم لشھادۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی بر انصاف ہے اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے) اس میں اس غرض کا بیان ہے جس کے تحت تحریر اور گواہی کا حکم دیا گیا ہے۔ اور وہ غرض یہ ہے کہ ادھار لین دین کرنے والے طرفین کے لئے معاملے میں پختگی اور احتیاط کا پورا سامان مہیا کردیا جائے تاکہ آپس میں انکار اور مقدمے بازی کی صورت میں معاملہ پیچیدگیوں اور بےقاعدگیوں سے محفوظ رہے۔ نیز دستاویز لکھنے سے کیا مراد ہے وہ بھی بیان کردیا اور لوگوں کو بتادیا کہ یہ طریقہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات کے لحاظ سے زیادہ عادل اور اولیٰ ہے کہ لوگوں کے درمیان چھینا چھپٹی اور ایک دوسرے پر ظلم کرنے اور حق مار لینے والی کیفیت پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طریقے سے گواہی قائم ہونے میں زیادہ سہولت بھی ہے۔ یعنی … واللہ اعلم … یہ طریقہ گواہی قائم کرنے کے لئے اس طریقے کی بہ نسبت زیادہ ٹھوس اور واضح ہے جبکہ دستاویز اور گواہ نہ ہوں اس کے ساتھ گواہی میں شک و شبہ کی نفی کے لئے بھی یہ طریقہ بہتر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں یہ اطلاع دی کہ سا نے تحریر اور گواہی کا جو حکم دیا ہے اس میں ہماری دینی اور دنیوی بھلائی کو مدنظر رکھا گیا ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کے آپس میں ایک دوسرے پر ظلم اور حق مار لینے کی تمام راہوں کو بند کرنا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتادیا کہ تحریر کی وجہ سے جو احتیاطی صورتحال پیدا ہوتی ہے اس سے گواہی کے متعلق شک و شبہ کی نفی ہوجاتی ہے اور یہ بات اللہ کے نزدیک دستاویز کی عدم تحریر کی بہ نسبت زیادہ مبنی بر انصاف ہے۔ اس لئے کہ دستاویز نہ ہونے کی صورت میں گواہ شک و شبہ میں مبتلا ہوجائے گا اور پھر اسی شک و شبہ کی کیفیت کے ساتھ وہ گواہی بھی دے گا اور اس طرح ایک ممنوع چیز کا مرتکب قرار پائے گا یا وہ گواہی دینے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور اس طرح مدعی کے حق کو ضائع کرنے والا قرار پائے گا۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ گواہی اس وقت درست ہوتی ہے جب اس کے متعلق شک و شبہ کا ازالہ ہوجاتا ہے اور یہ کہ گواہ کے لئے گواہی دینا اسی وقت جائز ہوتا ہے جب اسے یہ گواہی یا ہوا گرچہ وہ اپنی تحریر اور خط پہچانتا ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ دستاویز کا حکم اس لئے دی اگیا ہے کہ گواہ کو گواہی کے متعلق کوئی شک و شبہ نہ ہو۔ یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ شک کے ساتھ گواہی دینا جائز نہیں ہے اور جب گواہی کے متعلق شک و شبہ گواہی کی صحت اور جواز کے لئے مانع بن سکتا ہے تو گواہی کی یادداشت اور اس کے متعلق معلومات کی عدم موجودگی بطریق اولیٰ مانع بنے گی۔ قول باری ہے (الا ان تکون تجارۃ حاضرۃ قدیر ونھا بینکم فلیس علیکم جناح الا تکتبوھا، ہاں جو تجارتی لین دین تم دست بدست کرتے ہو اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں) یعنی واللہ اعلم … ایسے سودے کہ جن میں طرفین میں سے ہر ایک پر یہ لازم ہوتا ہے کہ سودے میں طے شدہ چیز، مبیع یا ثمن، دوسرے شخص کے حوالے کر دے اور اس میں ادھار یا مدت مقرر نہ کرے (دوسرے الفاظ میں دست بدست لین دین کی صورت ہو۔ ) اللہ تعالیٰ نے ایسے لین دین میں تحریر نہ لکھنے کی چھوٹ دے دی تاکہ بندوں کے لئے سہولت کی گنجائش پیدا ہوجائے اور ان کے ساتھ نرمی ہوجائے اور اس طرح وہ اشیائے خوردنی اور روزمرہ کی ضروریات وغیرہ کی خریداری میں تحریر کی بنا پر تنگی سے بچ جائیں۔ پھر سلسلہ خطاب میں یہ فرمایا (واشھدوا اذا تبایعتم، مگر تجارتی معاملے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو) لفظ کا عموم اس بات کا متقاضی ہے کہ فوری ادائیگی یا موجل ادائیگی کی بنا پر ہونے والے تمام سودوں پر گواہ کرلینا چاہیے صرف دست بدست تجارتی معاملات اور سودوں میں جو غیر مئوجل ہوں دستاویز نہ لکھنے کی اجازت ہے۔ رہ گئی گواہ کرلینے کی بات تو وہ تمام صورتوں میں مستحسن اور مستحب ہے۔ اس کی ترغیب دی گئی ہے ۔ البتہ اس سے وہ صورت خارج ہے جس میں رقم یا مقدار اتنی قلیل ہو کہ کہ عام طور پر اس کے لئے گواہی کے ذریعے توثیق اور اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، مثلاً روٹی، سبزی، پانی اور اس طرح دوسری اشیاء کی خریداری۔ تاہم سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ ان کے ہاں سبزیاں خریدتے وقت بھی گواہ کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ بات استحباب یا ترغیب کے درجے میں ہوتی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام، سلف صالحین اور متقدمین سے یہ ضرور منقول ہوتی بلکہ لوگوں کی عام ضروریات کی بنا پر تمام لوگ اس کے ناقل ہوتے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ یہ سب حضرات اشیائے خوردنی اور روزمرہ کی ضروریات کی خرید و فروخت کرتے لیکن گواہ بنانے کی کوئی بات ان سے منقول نہیں جس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ گواہ بنانے کا حکم اگرچہ استحباب اور ترغی کے طور پر ہے تاہم یہ ان سودوں اور تجارتی معاملات اور لین دین میں ہے جن میں قیمتوں کی صورت میں بھاری رقوم کی ادائیگی سے ان کا خطرہ ہو نیز جہاں قیمتی اور نفیس اشیاء کا تبادلہ ہو رہا ہو اور گڑ بڑ کا دھڑکا لگا ہو اور ان کے اندر نقص یا عیب کی صورت میں ایک دوسرے کے حقوق کے خطرے میں پڑجانے کا اندیشہ ہو یا فروخت شدہ چیز کے بعض حصوں یا کل پر کسی مستحق کا حق ثابت ہوجانے کی صورت میں خریدار پر تاوان وغیرہ عائد ہوجانے کا خطرہ ہو۔ آیت کے ضمن میں دستاویز لکھنے اور گواہ بنانے کی ترغیب ان صورتوں میں دی گئی ہے جہاں ایسے سودے ہوں جن میں قیمتوں کی دائیگی فوری نہ ہو بلکہ موجل ہو اور دست بدست لین دین میں صرف گواہ بنانے کی ترغیب ہے تحریر کی نہیں۔ لیث بن سعد نے مجاہد سے قول باری (واشھدوا اذا تبایعتم) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ جب معاملہ ادھار کی صورت میں ہو تو دستاویز لکھی جائے گی اور اگر نقد ادائیگی کی صورت ہو تو گواہی لی جائے گی۔ حسن بصری کا قول ہے کہ اگر نقد سو دے میں گواہ کر لئے جائیں تو یہ پختہ بات ہوگی اور اگر گواہی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ شعبی سے بھی اسی قسم کا قول منقول ہے۔ ایک گروہ کا یہ قول ہے گواہ بنانے کا حکم قول باری (فان امن بعضکم بعضاً اگر تمہیں ایک دور سے کی طر ف سے اطمینان ہو) ہم نے گزشتہ سطور میں اپنے ذوق کے مطابق درست بات کا تذکرہ کردیا۔ قول باری ہے (ولا یضار کاتب ولا شھید، کسی لکھنے والے کو اور نہ کسی گواہ کو ستایا نہ جائے) یزید بن ابی زیاد نے مقسم سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس کی صورت یہ کہ کوئی شخص کسی کاتب یا گواہ کے پاس جا کر یہ کہے کے مجھے تحریر یا گواہی کی ضرورت ہے اور تمہیں یہ حکم ہے کہ میری ضرورت پوری کرو۔ اس طرح اس کاتب یا گواہ کو مجبور نہ کیا جائے ۔ طائوس اور مجاہد سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے کہ کاتب نقصان نہ پہنچائے کہ وہ دستاویز میں وہ بتایں لکھ دے جو اسے لکھنے کے لئے کہی نہ گئی ہوں اور گواہ نقصان نہ پہنچائے کہ گواہی میں اپنی طرف سے اضافہ کر دے، حسن، قتادہ اور عطاء نے (ولا یضار کاتب) حرف، السراء، کی قرأت زیر کے ساتھ کی ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود اور مجاہد نے زبر کے ساتھ کی ہے۔ اسی طرح ایک قرأت میں صاحب حق یعنی مدعی کو کاتب اور گواہ کو تنگ کرنے نیز مجبور کرنے سے روکا گیا ہے اور دوسری قرأت میں کاتب اور گواہ کو حقدار کو نقصان پہنچانے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ دونوں مفہوم درست اور معمول بہ ہیں۔ حق دار یعنی مدعی کو اس سے روک دی اگیا کہ وہ کاتب اور گواہ کو نقصان نہ پہنچائے کہ انہیں ان کی اپنی مصروفیات سے نکال کر دستاویز لکھنے اور گواہی دینے پر مجبور کر دے۔ اسی طرح کاتب اور گواہ کو حق دار کو نقصان پہنچانے سے روک دی اگیا کہ وہ دستاویز میں وہ باتیں تحریر کر دے جو لکھوائی نہ گئی ہو۔ اور گواہ نے جو بات دیکھی نہ ہو اس کی گواہی دے دے گواہ کی طرف سے صاحب حق کو نقصان پہنچانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ بیٹھ جائے اور گواہی نہ دے جبکہ مقدمے میں صرف دوگواہوں ۔ ایسی صورت میں ان دونوں پر گواہی دینا فرض ہوگا اور گواہی سے باز رہ کر اسے نقصان پہنچانے کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ اسی طرح کسی اور کاتب کی عدم موجودگی میں اسے دستاویز تیار کرنا فرض ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ تجارت کے متعلق قول باری (فلیس علیکم جناح الا تکتبوھا) میں تجارت دین موجل کے درمیان فرق کی وجہ سے یہ دلالت پائی جاتی ہے کہ ان پر دین مئوجل کی تحریر اور اس پر گواہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات اس طرح نہیں ہے۔ ادھار لین دین کے اندر جس میں مدت کا تعین ہو گواہ بنانے کا حکم ترغیب اور استحباب کے طور پر ہے اور اس حکم کا تارک اس احتیاط کا تارک ہوگا جس کی حفاظت کے لئے اسے ترغیب دی گئی ہے۔ اس لئے جائز ہے کہ اس پر قول باری (الا ان تکون تجارۃ حاضرۃ تدیرونھا بینکم فلیس علیکم جناح الا تکتبوھا) کو عطف کردیا جائے اور پورا مفہوم یہ ہوگا کہ ” تم تحریر ترک کر کے اس حکم کے تارک نہیں بنو گے جس کی تمہیں ترغیب دی گئی تھی جس طرح تم مئوجل دیون میں دستاویز نہ لکھے کر اور گواہ نہ بنا کر احتیاط اور استحباب کے تارک قرار پائو گے۔ “ قول باری (فلیس علیکم جناح) میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ ماں کو محفوظ کرلینے کے باب میں تم پر کوئی ضرر نہیں ہے ا س لئے کہ متعاقدین میں ہر ایک دوسرے کو اس کا حق حوالے کرنے کے بدلے اپنا حق لے لیتا ہے۔ قول باری (قران تفعلوا فانہ فسوق بکم ایسا کو گے تو گناہ کا ارتکاب کرو گے) کا عطف (ولایضار کاتب ولا شھید) پر ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ طالب حق یعنی مدعی کی طرف سے کاتب اور گواہ کو نقصان پہنچانا اور ان دونوں کی طرف سے اسے نقصان پہنچانا فسق یعنی گناہ کی بات ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ممانعت کے باوجود ہر ایک نے دوسرے کو نقصان پہنچانے کا ارادۃ اقدام کیا۔ واللہ اعلم ! رہن کا بیان قو ل باری ہے (وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتباً فرھان مقبوضۃ اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز لکھنے کے لئے کوئی کاتب نہ ملے تو رہن بالقبض پر معاملہ کرو) یعنی … واللہ اعلم … جب تمہیں دستاویز اور گواہی کے ذریعے اطمینان حاصل کرنے اور بات پختہ کرنے کی صورت حاصل نہ ہو تو ایسی حالت میں رہن بالقبض اطمینان اور وثوق کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت میں جہاں دستاویز اور گواہوں کے ذریعے اطمینان اور توثیق حاصل نہ ہوسکتا ہو۔ وہاں اس کے لئے رہن کو دستاویز اور گواہی کو قائم مقام بنادیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت میں سفر کی حالت کا ذکر کیا ہے۔ سا لئے کہ سفر کے اندر عام حالات میں دستاویز اور گواہ مہیا نہیں ہوتے۔ مجاہد سے مروی ہے کہ وہ سفر کے سوا اور کسی حالت میں رہن کو ناپسند کرتے تھے جبکہ عطاء بن ابی رباح قیام کی حالت میں بھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ مجاہد کا استدلال یہ تھا کہ رہن کا حکم چونکہ اس آیت سے ماخوذ ہے اور سفر کی حالت میں اس کی اباحت کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لئے غیر سفر یعنی قیام کی صورت میں یہ حکم ثابت نہیں ہوگا۔ لیکن یہ استدلال تمام اہل علم کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔ فقہائے امصار اور عام سلف صالحین کے نزدیک حالت قیام میں اس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ابراہیم نخعی نے اسود سے، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی سے اشیائے خوردنی ایک مدت کے لئے ادھار حاصل کیں اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔ قتادہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک زرہ مدینے کے ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی تھی اور اس سے اپنے اہل خانہ کے لئے جو ادھار لئے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل سے حالت قیام میں رہن کا جواز ثابت ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (فاتبعوہ تم رسول کی پیروی کرو۔ ) نیز فرمایا (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ تمہارے لئے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے) اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے رہن کے ذکر کو حالت سفر کے ساتھ اس لئے خاص کردیا ہے کہ سفر ہی کے اندر عام حالات میں کاتب اور گواہ دستیاب نہیں ہوتے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد کہ (فی خمس وعشرین من الابل ابنۃ مخاض و فی ست وثلثین انبۃ لبون ، پچیس اونٹوں کی زکواۃ میں ایک بنت مخاض اور چھتیس میں ایک بنت لبون دی جائے گی۔ آپ نے یہاں ان دو لفظوں سے مراد یہ نہیں لیا کہ پچیس اور چھتیس اونٹوں پر زکواۃ میں دی جانے وا لی ایک سالہ اور دو سالہ بچھیا ایسی ہو کہ اس کی ماں مخاض یعنی درد زہ میں مبتلا ہو یا وہ لبن یعنی دودھ دے رہی ہو بلکہ آپ نے عام حالات پر مبنی ایک بات کی اطلاع دی۔ جبکہ یہ ممکن ہے کہ ماں نہ دروزہ میں مبتلا ہو اور نہ ہی دودھ دے رہی ہو۔ اسی طرح آیت میں سفر کا ذکر بھی اسی صورت پر محمول ہے۔ اسی طرح (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (لا قطع فی ثمر حتی یودیہ البحرین، جب تک کھلیان کسی پھل کو سمیٹ نہ لے اس وقت تک اسے چرا لینے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا) اس سے مراد پھل کا پختہ ہو کر خشک ہوجانا ہے، کھلیان میں پہنچ جانا مراد نہیں ہے اس لئے کہ پھل پک کر خشک ہوجانے کے بعد اگر مالک کے گھر یا دکان پر پہنچ جائے اور پھر اسے کوئی چرا لے تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اس لئے کھلیان کا ذکر عام حالات کے تحت پھل کے پکنے اور خشک ہوجانے کے سلسلے میں کیا گیا ہے اسی طرح سفر کی حالت کا بھی ذکر اسی معنی پر محمول ہوگا۔ قول باری ہے (فرھان مقبوضۃ) یہ اس بات پر دو طرح سے دلالت کرتا ہے کہ قبضہ کے بغیر رہن درست نہیں ہوتا۔ ایک تو یہ کہ اسے ماقبل کے قول پر عطاف کیا گیا ہے جو یہ ہے (واستشھد واشھدین من رجالکم فان لم یکون رجلین فرجل وامراتان ممن ترضون من الشھدآء) جب گواہوں کے لئے تعداد اور صفت کی شرطوں کا پورا ہونا واجب ہے تو یہ بھی واجب ہے کہ رہن کا حکم بھی صفت کی شرط کے لحاظ سے ایسا ہی ہو اور رہن صرف اس صفت کی بنا پر اس طرح درست ہو جس طرح گواہوں کی گواہی مذکورہ اوصاف کی بنا پر درست ہوتی ہے۔ اس لئے کہ ابتداء سے ان کی طرف خطاب کا رخ امر کے صیغے کے ساتھ ہوا جو ایجاب کا مقتضی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رہن کا حکم آیت سے ماخوذ ہے اور آیت نے اس صفت یعنی قبضے کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے اس لئے اس کے سوا کسی اور صورت کے تحت اس کی اجازت ناجائز ہوگی اس لئے کہ رہن کے جواز کے لئے آیت کے سوا اور کوئی اصل یا بنیاد موجود نہیں ہے۔ قبضہ کے بغیر رہن کی عدم صحت پر یہ بات دلالت کر رہی ہے کہ سب کو اس کا علم ہے کہ مرتہن (رہن جس کے پاس رکھی جائے یعنی قرض دینے والا) کو پانے دین کے متعلق بھروسہ اور اطمینان رہن رکھ کر ہوتا ہے ۔ اگر رہن میں قبضہ کی شرط نہ ہوتی تو مرتہن کا بھروسہ اور اطمینان باطل ہوجاتا اور یہ رہن راہن کے دور سے اموال اور چیزوں کی طرح ہوجاتا جن میں مرتہن کے لئے بھروسے اور اطمینان کا کوئی سامان نہیں ہوتا۔ رہن کو بھروسے کا ذریعہ اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ وہ مرتہن کے ہاتھوں میں اس کے دین کے بدلے محبوب رہے اور راہن کی طرح موت یا مفلس ہوجانے کی صورت میں مرتہن دوسرے قرض خواہوں کے مقابلے میں اس کا سب سے بڑھ کر مستحق ہو۔ اگر رہن اس کے ہاتھ میں نہیں ہوگا تو یہ بےمعنی اور لغو چیز ہوگی اور مرتہن اور دوسرے قرض خواہ اس کی نسبت سے یکساں صورت کے حامل ہوں گے ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ فروخت شدہ چیز قیمت کے بدلے اس وقت تک محبوب ہوتی ہے جب تک وہ فرخت کنندہ کے ہاتھ میں ہو۔ اگر فروخت کنندہ اسے خریدار کے حوالے کر دے تو اس کا حق ساقط ہوجائے گا اور پھر فروخت کنندہ اور دوسرے قرض خواہ اس چیز کی نسبت سے یکساں صورت اور حیثیت کے حامل ہوجائیں گے۔ رہن پر قبضہ کے لئے راہن اور مرتہن دونوں کے اقرار کے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے۔ ہمارے اصحاب اور امام شافعی کا قول ہے کہ جب قبضے کے متعلق راہن کے اقرار پر گواہی کیی صورت میں ثبوت مل جائے اور مرتہن اس کا دعویٰ کر رہا ہو تو گواہی درست ہوگی اور رہن کی صحت کا حکم لگا دیا جائے گا۔ امام مالک کے نزدیک قبضے کی تصدیق کرنے والے کے اقرار پر گواہی ناقابل قبول ہوگی جب تک کہ گواہ قبضہ کی چشم دید گواہی نہ دیں۔ امام مالک کے اس قول کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ رہن کے متعلق قیاس کا بھی یہی تقاضا ہے۔ رہن پر قبضہ کے متعلق راہن اور مرتہن کے اقرار پر گواہی کے جواز کی یہ دلیل ہے کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ بیع، غصب اور قتل کے بارے میں اس کا اقرار جائز ہے۔ اسی طرح رہن پر قبضے کے متعلق اس کا اقرار بھی جائز ہونا چاہیے۔ رہن مشاع کے بارے میں فقہاء کے اختلاف کا ذکر امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، زفر کا قول ہے کہ ایسی مشترک چیز جس میں حصہ داروں کے حصول کا تعین نہ ہوا ہو جس کی تقسیم ہوسکتی ہو یا تقسیم نہ ہوسکتی ہو اس کا رہن جائز نہیں۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں اس کا رہن جائز ہے۔ ابن المبارک نے سفیان ثوری سے نقل کیا ہے۔ ایک شخص اگر کوئی چیز رہن کے طور پر رکھ لے اور اس کے بعض حصے کا راہن مستحق ہو تو وہ چیز رہن کے حکم سے خارج ہوجائے گی۔ لیکن مرتہن کو اختیار ہوگا کہ وہ راہن کو اس پر مجبور کر دے کہ وہ اپنے اس حصے کو رہن بنا دے لیکن اگر وہ اسے رہن بنا دینے سے پہلے مرجائے تو یہ حصہ اس کے اور دوسرے قرض خواہوں کے درمیان رہے گا۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ جس مشترک چیز میں حصہ داروں کا حصہ متعین نہ ہوا ہو اور اس کی تقسیم نہ ہوسکتی ہو اسے رہن رکھ دینا جائز ہے اور جس کی تقسیم ہوسکتی ہو اس کا رہن جائز نہیں ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب آیت کی دلالت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قبضہ کے بغیر رہن اس حیثیت سے درست نہیں کہ یہ اعتماد اور بھروسے کا ذریعہ ہے اور قبضے کے خاتمے سے رہن کے معنی یعنی اعتماد اور بھروسے کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ ایسی مشترک چیز کا رہن درست نہ ہو جس کے حصہ داروں کے حصے ابھی متعین نہ ہوئے ہوں اور جس کی تقسیم ہوسکتی ہو یا تقسیم نہ ہوسکتی ہو اس لئے کہ حصہ داروں کے قبضہ کے استحقاق کو واجب اور اعتماد اور بھروسے کو باطل کرنے والا سبب عقد بالرہن کے ساتھ موجود ہے۔ یہ سبب وہ اشتراک ہے جس کی وجہ سے شریکوں کے درمیان قبضے کی باری بدلنے کے اصول کے تحت اسے یعنی مرتہن کو قبضہ چھوڑ دینا پڑت ا ہے۔ اس لئے ایسی بات کی موجودگی میں رہن درست نہیں ہوگا جو رہن کو باطل کرنے والی ہو۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جب قبضے کی باری بدلنے کے اصول کے تحت اس چیز پر قبضے کا حق پیدا ہوجائے گا اور اس صورت میں رہن واپس شریک کے ہاتھ میں چلا جائے گا تو اس سے اعتماد اور بھروسے کی بات ختم ہوجائے گی اور اس کی حیثیت اس رہن جیسی ہوجائے گی جو مرتہن کے قبضے میں نہ آیا ہو۔ تاہم اس کی حیثیت قبضے میں آئے ہوئے رہن کو عاریت کے طور پر راہن کو واپس کردینے والے رہنے جیسی نہیں ہے اور اس سے رہن باطل بھی نہیں ہوگا، مرتہن کو اختیار ہوگا کہ وہ اسے راہن سے اس بنا پر وپ اس لے لے کہ اس پر قبضہ رکھنے کا راہن کو کوئی حق نہیں پہنچتا اور مرتہن جب چاہے اسے راہن سے لے سکتا ہے۔ مرتہن کی طرف سے اس کی ابتداء ہوئی تھی اور اس پر راہن کے قبضے کا استحقاق کسی ایسے سبب کی بنا پر نہیں تھا جو عقد کے مقارن ہو۔ نیز اس کی حیثیت اس مشترک چیز کے ہبہ جیسی بھی نہیں ہے جس کے حصہ داروں کے حصے متعین نہ ہوں اور جو ناقابل تقسیم ہو۔ ہمارے نزدیک ہبہ کی یہ صورت جائز ہے اگرچہ رہن کی طرح ہبہ میں بھی قبضہ شرط ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہبہ میں قبضے کی جو شرط ہے وہ ملکیت کی صحت کے لئے ہے۔ ملکیت باقی رکھنے کے لئے اس ہبہ کا قبضے میں رہنا شرط نہیں ہے۔ جب ابتداء میں قبضہ درست ہوگیا تو اس چیز پر دوسرے شریکوں کے قبضے کا استحقاق اس شخص کی ملکیت کو ختم کرنے میں کسی طرح بھی مئوثر نہیں ہوگا جبکہ ایسی مشترک چیز رن کی صورت میں جس کے حصہ داروں کے حصے متعین نہ ہوئے ہوں۔ شریکوں کے استحقاق کی بنا پر اعتماد اور بھروسے کی وہ بات ہی ختم ہوجائے گی جو رہن کا مقصد ہے ۔ اس لئے اس چیز کا رہن درست نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ساتھ وہ سبب بھی موجود ہے جو اسے باطل کردیتا ہے اور جو اس کے منافی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ نے مشترک چیز کو اپنے شریک کے پاس رہن رکھ دینے کو کویں جائز قرار نہیں دیا کیونکہ اس میں دوسرے دن اسے قبضے کا استحقاق کی بنا پر اعتماد اور بھروسے کی وہ بات ہی ختم ہوجائے گی جو رہن کا مقصد ہے۔ اس لئے اس چیز کا رہن درست نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ساتھ وہ سبب بھی موجود ہے جو اسے باطل کردیتا ہے اور جو اس کے منافی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ نے مشترک چیز کو اپنے شریک کے پاس رہن رکھ دینے کو کیوں جائز قرار نہیں دیا کیونکہ اس میں دوسرے دن اسے قبضے کا استحقاق نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ رہن چھڑا لینے تک اس پر اس کا قبضہ باقی رہتا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر رہن غلام کی صورت میں ہو تو قبضے پر باری بدلنے کے اصول کے تحت شریک کو اپنی ملکیت کے حق کی بنا پر اس سے خدمت لینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور جو شخص ایسا کرے گا غلام پر اس کا قبضہ رہن والا قبضہ نہیں ہوگا اور دوسرے دن رہن پر قبضے کا استحقاق پیدا ہوجائے گا۔ سا لئے شریک اور اجنبی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ وہ سبب موجود ہوتا ہے جو عقد کے ساتھ رہن پر قبضہ کے استحقاق کا موجب ہے۔ دین کو رہن رکھنے کے مسئلے میں اختلاف ہے ۔ تمام فقہاء کا یہ قول ہے کہ دین کو رہن رکھنا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے۔ ابن القاسم نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص کا دوسرے شخص پر قرضہ ہو۔ میں اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کر دوں اور ثمن کے بدلے دین کی وہ رقم رہن رکھ لوں جو اسے ملنے والی ہے تو یہ صورت جائز ہوگی۔ یہ صورت اس صورت سے بہتر ہے کہ وہ کسی عائد شدہ قرضے کو بطور رہن رکھ لے۔ اس لئے کہ مقروض کے ذمہ جو قرض ہے اس کی بنا پر صورت جائز ہے۔ امام مالک کے قول کے مطباق یہ صورت جائز ہے کہ ایک شخص اپنے قرضے کی وہ رقم رہن رکھ دے جو کسی کے ذمہ واجب الا دا ہے پھر وہ کسی اور شخص سے کچھ خریداری کرے اور قیمت کے بدلے قرض کی اسی رقم کو اس کے پاس رہن رکھ دے جو اس دوسرے شخص کے ذمے واجب الادا ہے۔ وہ اس کے اس حق کو اپنے قبضے میں لے کر اس کے حق میں گواہی دے گا۔ یہ ایسا قول ہے کہ اہل علم میں سے سوائے امام مالک کے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے اور یہ قول فرمان الٰہی (فرھان مقبوضۃ) کی بنا پر فاسد ہے۔ دین پر قبضہ اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ دین ہے خواہ یہ دین خود اس پر ہو یا کسی اور پر۔ اس لئے کہ دین ایسا حق ہے۔ جس پر قبضہ درست نہیں ہوتا جبکہ قبضہ اعیان یعنی نقد نیز اشیاء پر ہوتا ہے۔ تاہم اس چیز کے باوجود یہ دیکھا جائے گا کہ آیا وہ دین پہلی ضمانت کے حکم پر باقی ہے یا رہن کی ضمانت کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ اگر دوسری صورت ہو تو پھر ضرو ری ہے کہ جب قرض کی رقم رہن کی رقم سے کم ہو تو اس زائد رقم سے وہ بری الذمہ ہوجائے۔ اگر پہلی صورت ہو تو یہ رہن نہیں بنے گا اس لئے کہ یہ اپنی اصلی حالت پر باقی ہے ۔ رہ گیا وہ دین جو کسی دوسرے کے ذمہ ہے۔ اس کے رہن رکھنے کا جواز اور بھی بعید ہے اس لئے کہ ایسے دین کو اپنے قبضے میں لانا اور پھر اسے اپنے قبضے میں رکھنا کسی صورت میں بھی ممکن نہیں۔ اگر رہن کسی عادل آدمی کے پاس رکھوا دیا جائے تو اس کے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اور زفرنیز سفیان ثوری کا قول ہے کہ اگر راہن اور مرتہن دونوں اس رہن کو سکی عادل انسان کے پاس رکھوا دیں تو رہن جائز ہوگا اور مرتہن کی ذمہ داری پر ہوگا یعنی نقصان پہنچنے کی صورت میں مرتہن تاوا ن بھرے گا۔ حسن بصری ، عطاء اور شعبی کا یہی قول ہے۔ قاضی ابن ابی لیلیٰ ، ابن شبرمہ اور اوزاعی کا قول ہے کہ جب تکمترہن اسے اپنے قبضے میں نہ لے لے اس وقت تک اس کا رہن بننا درست نہیں ہوگا۔ امام مالک کا قول ہے کہ جب راہن اور مرتہن دونوں نے مل کر اسے کسی عادل آدمی کے پاس رکھوا دیا ہو تو اس صورت میں اگر وہ ضائع ہوجائے تو اس صورت میں اس کا ضیاع راہن کے حساب میں شمار ہوگا۔ امام شافعی نے تلوار کے ایک حصے کو بطور رہن رکھنے کے متعلق کہا کہ جب تک راہن اور مرتہن اس تلوار کو سکی عادل شخص یا شریک یعنی حصہ دار کے پاس نہ رکھوا دیں اس وقت تک اس پر قبضے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (فرھان مقبوضہ) رہن پر کسی عادل آدمی کے قبضے کی صورت میں اس کے جواز کا مقتضی ہے۔ اس لئے کہ آیت میں مرتہن کے قبضے اور عادل آدمی کے قبضے کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے آیت کا عموم ان دونوں میں سے ہر ایک کے قبضے کے جواز کا مقتضی ہے۔ سا لئے کہ عادل آدمی دراصل قبضے کے معاملے میں مرتہن کا وکیل اور نمائندہ ہوتا ہے اس لئے اس قبضے کی حیثیت وہی ہوگی جو ہبہ اور قبضے میں لی جانے والی تمام اشیاء میں وکالت کی ہے۔ ان میں حق والے کی طرف سے کسی کو وکیل کے طور پر مقرر کیا جائے تو یہ وکالت درست ہوگی اور وکیل اپنے موکل کی طرف سے ان اشیاء کو اپنے قبضے میں لے سکے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اگر عادل آدمی مرتہن کا وکیل ہوتا تو مرتہن کو اختیار ہوتا کہ وہ اس سے رہن لے کر اسے اپنے قبضے میں کرلے اور عادل آدمی اسے ایسا کرنے سے روک نہیں سکتا تھا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ صورت حال اس عادل آدمی کو کیل بننے اور رہن پر قبضہ رکھنے کے حکم سے خارج نہیں کرسکتی۔ اگرچہ اسے اس پر قبضہ رکھنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل راہن اس چیز پر مرتہن کے قبضے سے رضای نہیں ہوا بلکہ اس کے وکیل کے قبضے سے راضی ہوا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص کسی کی طرف کسی شئی کی خریداری کا وکیل وہتا ہے وہ مئوکل کی طرف سے خریدی ہوئی چیز کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اسے یہ اختیار ہوتا ہے کہ اس نے مئوکل کی طرف سے اس چیز کی اپنی گرہ سے جو قیمت ادا کی ہے اس کی وصولی کے لئے اس چیز کو اپنے پاس رکھ لے۔ اگر وہ چیز وکیل کی طرف سے محبوب ہونے سے قبل ہلاک ہوجائے تو وہ مئوکل کے مال سے ہلاک ہوگئی۔ لیکن بائع اس پر راضی نہیں ہوا جس کی بنا پر یہ ساری صورتحال بدل گئی۔ لیکن رہن کے معاملے میں یہ صورت حال نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ عادل آدمی کا مرتہن کی طرف سے وکیل بن جانا راہن کے حق کے سقوط کو واجب نہیں کرتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ رہن پر مرتہن کے قبضے کے بعد بھی اس پر راہن کا حق باقی رہتا ہے۔ اس طرح عادل آدمی کے قبضے کے بعد بھی اس پر راہن کا حق باقی رہے گا۔ اس لئے عادل آدمی کے قبضے اور مرتہن کے قبضے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لیکن خرید کی صورت میں اس وجہ سے فرق ہے کہ عادل آدمی جس کے پاس مبیع رکھا دیا گیا ہے، مشتری کا وکیل نہیں بن سکتا کیونکہ اس صورت میں مبیع کا بائع کی ضمانت سے نکل کر مشتری کی ضمانت میں داخل ہونے کے لحاظ سے وہ مشتری کے قبضے کے معنی میں ہوگا۔ نیز اس کا معنی یہ بھی ہوگا کہ اس مبیع کے سلسلے میں بیع کی تکمیل ہوگئی ہے اور اس پر سے بائع کا حق ساقط ہوگیا ہے جبکہ بائع اس پوری صورت حال پر سرے سے رضا مندی ہی نہیں ہوا۔ یہ بھی جائز نہیں کہ عادل آدمی بائع کے مثل قرار دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عادل آدمی کا اپنے پاس مبیع کو روکے رکھنے کا حق عقد بیع کی بنا پر واجب ہوا ہے۔ اس لئے یہ حق ساقط نہیں ہوگا الا یہ کہ بائع اس مبیع کو مشتری کے حوالے کرنے یا ثمن پر قبضہ کرنے پر رضا مند ہوجائے۔ رہن کی ضمانت کا بیان قول باری ہے (فرھان مقبوضہ فان امن بعضکم بعضاً فلیود الذی اوتمن امانتہ، رہن بالقبض پر معاملہ کرو۔ اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کر کے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ امانت ادا کر دے) اللہ تعالیٰ نے امانت کے ذکر کو رہن پر عطاف کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ رہن امانت نہیں ہے۔ اور جب امانت نہیں ہے تو اس کا تاوان بھرنا پڑے گا۔ اس لئے کہ رہن اگر امانت ہوتا تو اس پر امانت کو عطف نہ کیا جاتا کیونکہ ایک چیز کو اس کی اپنی ذات پر عطف نہیں کیا جاتا ہے بلکہ دوسری چیز پر عطف کیا جاتا ہے۔ رہن کے حکم کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ ، امام ابو یوسف، امام محمد، زفر، ابن ابی لیلیٰ اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ رہن کا تاوان ہوتا ہے۔ یہ تاوان اس کی قیمت اور قرض کی رقم میں سے جو چیز کم ہوگی، اس کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔ الثقفی نے عثمن البتی سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر رہن سونے، چاندی یا کپڑوں کی صورت میں ہو تو ضائع ہوجانے کی صورت میں اس کا تاوان بھرنا پڑے گا اور جو زائد مقدار ہوگی اسے راہن اور مرتہن آپس میں ایک دوسرے کو لوٹا دیں گے۔ اگر رہن زمین یا جانور کی صورت میں ہو اور پھر ہلاک ہوجائے تو وہ راہن کے مال سے ہلاک ہوگا اور مرتہن کا حق باقی رہے گا، البتہ اگر راہن نے تاوان کی شرط لگائی ہو تو اس کی شرط کے مطابق معاملہ طے ہوگا۔ ابن وہب نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ اگر رہن کی ہلاکت کا علم ہوجائے تو وہ راہن کے مال سے ہلاک ہوگا اور مرتہن کے حق میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اگر اس کی ہلاکت کا علم نہ ہو سکے تو وہ مرتہن کے مال سے ہلاک ہوگا اور مرتہن اس کی قیمت کا تاوان بھر دے گا۔ راہن سے کہا جائے گا کہ ہلاک شدہ چیز کی تفصیل اور مالیت بیان کرے۔ سا کے بعد اس سے اس بیان کردہ تفصیل اور اس کی مالیت کی سچائی پر حلف لیا جائے گا۔ پھر اس چیز کے متعلق واقفصیت رکھنے والوں سے اس کی قیمت لگوائی جائے گی۔ اگر ان کی لگائی ہوئی قیمت راہن کی بیان کردہ قیمت سے زائد ہوگی تو زائد قیمت راہن کو دے دے جائے گی اور اگر قیمت کم ہوگی تو اس سے اس کی بیان کردہ قیمت پر پھر حلف لیا جائے گا اور قرض کی زائد رقم باطل ہوجائے گی۔ اگر راہن حلف اٹھانے سے انکار کر دے تو اس صورت میں رہن کی قیمت سے جو رقم زائد ہوگی وہ مرتہن کو دے دی جائے گی۔ ابن القاسم نے بھی امام مالک سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ ا س میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ اگر یہ شرط ہو کہ اس کی ہلاکت کی صورت میں مرتہن کے قول کی تصدیق کی جائے گی اور مرتہن پر اس کا تاوان نہیں آئے گا تو یہ شرط باطل ہوگی اور مرتہن کو اس کا تاوان بھرنا پڑے گا۔ اوزاعی کا قول ہے کہ اگر گروی شدہ غلام مرجائے تو اس کا قرض باقی رہے گا۔ اس لئے کہ رہن کو بند نہیں کیا جاتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول (الرھن لایغلق کا ) کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کی ہلاکت کا علم ہوجائے تو یہ ہلاکت قرض کی رقم کے بدلے نہیں ہوگی۔ لیکن اگر اس کی ہلاکت کا علم نہ ہو تو اس صورت میں راہن اور مرتہن زائد رقم آپس میں ایک دوسرے کو لوٹا دیں گے۔ اوزاعی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول (لہ غنمہ و علیہ غرمہ) کے متعلق کہا کہ پہلے حصے کا معنی یہ ہے کہ اگر رہن کی مالیت قرض کی مالیت سے زائد ہوگی تو زائد رقم راہن کو واپس کردی جائے گی اور دوسرے حصے کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی مالیت میں کمی ہوگی تو اتنی رقم راہن سے لے کر مرتہن کر دے دی جائے گی۔ لیث بن سعد کا قول ہے کہ جب رہن ہلاک ہوجائے اور اس کی قیمت میں دونوں کا اختلاف ہوجائے اور قرض کی رقم کی مقدار کے متعلق بھی کوئی ثبوت یعنی گواہی وغیرہ نہ ہ وتو اس کی ہلاکت کو اس قرض میں سے سمجھا جائے گا۔ اگر قرض کی رقم کا ثبوت مل جائے تو راہن اور مرتہن دونوں زائد رقم آپس میں ایک دوسرے کو لوٹا دیں گے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ رہن امانت ہے اس کی ہلاکت کی صورت میں مرتہن پر کسی بھی صورت میں تاوان عائد نہیں ہوگا۔ خواہ اس کی ہلاکت ظاہر ہو یا خفیہ یعنی معلوم ہو یا نامعلوم۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف یعنی صحابہ کرام اور تابعین عظام کا اس پر اتفاق ہے کہ رہن کا تاوان ہوتا ہے۔ اس بارے میں ہمیں کسی کے اختلاف کا علم نہیں ہے۔ البتہ تاوان کی کیفیت کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی سے اس کے متعلق مختلف روایتیں ہیں۔ اسرائیل نے عبدالاعلیٰ سے، انہوں نے محمد بن علی اور انہوں نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ جب رہن کی قیمت اس قرض کی رقم سے زائد ہو جس کے بدلے رہن رکھا گیا تھا اور پھر رہن ہلاک ہوجائے تو وہ اس قرض کے بدلے ہلاک ہوجائے گا اور رہن کو کچھ نہیں ملے گا۔ اس لئے کہ مرتہن زائد رقم کا امین ہوتا ہے۔ اس لئے اس پر کوئی تاوان نہیں آئے گا۔ اگر رہن کی قیمت قرض کی رقم سے کم ہو اور وہ ہلاک ہوجائے تو راہن قرض کی باقی ماندہ رقم مرتہن کو واپس کر دے گا۔ عطاء نے عبید بن عمیر نے اور انہوں نے حضرت عمر سے اسی قسم کی روایت کی ہے ابراہیم نخعی کا بھی یہی قول ہے ۔ شعبی نے الحرث کے واسطے سے رہن کے متعلق حضرت علی سے روایت کی ہے کہ اگر رہن ہلاک ہوجائے تو راہن اور مرتہن دونوں قیمت اور قرض کی رقموں میں کمی بیشی کے لحاظ سے ایک دوسرے کو زائدرقم لوٹا دیں گے۔ قتادہ نے خلاس بن عمرو کے واسطے سے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ اگر رہن کی قیمت قرض کی رقم سے زائد ہو اور پھر وہ کسی آفت کی وجہ سے ہلاک ہوجائے تو وہ قرض کی رقم کے بدلے ہلاک ہوجائے ہو گا۔ اگر اس کی ہلاکت کا سبب کوئی آفت نہ ہو بلکہ مرتہن پر اس کا اتہام آئے تو مرتہن رہن کی زائد رقم راہن کو واپس کر دے گا۔ حضرت علی سے یہ تین روایتیں ہے۔ ان تینوں میں اس کے قابل ضمانت ہونے کا ذکر آیا ہے لیکن ضمان کی کیفیت کے بارے میں اختلاف ہے جس کا ہم نے ذکر کردیا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ زائد رقم راہن اور مرتہن آپس میں ایک دوسرے کو لوٹا دیں گے۔ قاضی شریح، حسن بصری، طائوس، شعبی اور ابن شبرمہ کا قول ہے کہ رہن کی ہلاکت قرض کی رقم کے بدلے ہوگی۔ شریح نے یہ بھی کہا ہے کہ خواہ وہ لوہے کی اگنوٹھی ہی کیوں نہ ہو جس کی قیمت ایک سو درہم لگائی گئی ہو۔ جب سلف کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ رہن کا تاوان ہے صرف تاوان کی کیفیت کے متعلق اختلاف ہے تو اس صورت میں یہ قول کی رہن امانت ہے اور اس کا تاوان نہیں ہے سلف کے اقوال کے دائرے سے خارج ہے۔ جس سے ان کے اجماع کی مخالفت لازم اتٓی ہے وہ اس طرح کہ جب ان حضرات کا تاوان کے متعلق اتفاق ہوگیا تو گویا تاوان کی نفی کے قول کے بطلا نپر بھی ان کا اتفاق ہوگیا۔ تاوان کی کیفیت کے متعلق ان کے اختلاف اور ضمان پر ان کے یکساں اتفاق سے کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ ان کے اتفاق سے یہ بات حاصل ہوگئی کہ رہن قابل ضمانت ہے۔ یہ اتفاق ان لوگوں کے قول کے فساد کے متعلق قول فیصل ہے جو رہن کو امانت دیتے ہیں۔ اس سے پہلے رہن کے قابل ضمانت ہونے پر آیت کی دلالت بھی گذر چکی ہے۔ رہن کا تاوان ہے یا رہن قابل ضمانت ہے ۔ اس پر سنت یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول روایات کی بھی دلالت ہو رہی ہے عبداللہ بن المبارک نے مصعب بن ثابت ہے سے روایت کی ہے انہوں نے کہا میں نے عطاء بن ابی رباح کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا کہ ایک شخص نے گھوڑا رہن رکھ دیا جو مرتہن کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرتہن یس فرمایا۔ (ذھب حقک) تیرا حق ختم ہوگیا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں (لاشئی لک ، اب تیرے لئے کچھ نہیں) آ پکا مرتہن سے یہ فرمانا گویا اس کے دین کے سقوط کی اطلاع ہے۔ اس لئے کہ مرتہن کا حق وہ قرض ہے جو وہ راہن کو دے چکا ہوتا ہے۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن علی الغنوی اور عبدالوارث بن ابراہیم نے اسماعیل بن ابی امیہ الزارع سے، انہیں حماد بن سلمہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (الرھن بمافیہ) ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق نے، انہیں مسیب بن واضح نے انہیں ابن المبارک نے مصعب بن ثابت سے، انہیں عقلمہ بن مرثد نے محارب بن دثار سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فصلہ دیا تھا کہ (الرھن بمافیہ) اس فقرے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا تاوان اس قرض سے ادا ہوگا جس کے بدلے اسے رہن رکھا گیا تھا۔ آپ شریح کے قول کو نہیں دیکھتے کہ ” رہن کی ہلاکت قرض کی پوری رقم کے بدلے ہوگی خواہ یہ رہن لوہے کی انگوٹھی کیوں نہہو۔ “ اسی طرح محارب بن دثار کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس انگوٹھی کے متعلق مروی ہے جسے قرض کے بدلے رہن رکھ دیا گیا تھا۔ پھر انگوٹھی ضائع ہوگئی تو آپ نے فرمایا (انہ بما فیہ) یعنی قرض کی رقم کے بدلے ضائع ہوئی۔ اس کا ظاہر تو یہ واجب کرتا ہے کہ رہن کے قرض کی رقم کے بدلے ہوگی خواہ قرض کی رقم رہن کی قیمت سے زیادہ ہو یا کم لیکن یہ دلیل موجود ہے کہ اس سے مراد قرض کی رقم کا رہن کی قیمت کے برابر یا اس سے کم ہونا ہے۔ اگر قرض کی رقم اس کی قیمت سے زیادہ ہوگی تو زائد رقم مرتہن کو لوٹا دی جائے گی۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ راہن کی موت کے بعد اس کے دوسرے قرض خواہوں کے مقابلے میں مرتہن رہن کا سب سے بڑھ کر حق دار ہوگا تاکہ اسے فروخت کر کے وہ اپن اقرض وصول کرلے۔ اس اتفاق کے مضمون سے بھی رہن کے قابل ضمانت ہونے پر دلالت ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ رہن پر قبضہ قرض کی وصولی قابل ضمانت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ ہر وہ چیز جو کسی وجہ کی بنا پر قبضے میں رکھی گئی ہو۔ اس کی ہلاکت بھی اسی وجہ پر سمجھی جائے گی جس کے تحت اسے قبضے میں رکھا گیا تھا۔ مثلاً غصب شدہ چیز اگر ہلاک ہوجائے تو اس کی ہلاکت غصب کی ضمانت اور تاوان پر ہوگی۔ اس طرح فاسد یا جائز بیع کی صورت میں قبضے میں آئی ہوئی چیز یعنی مبیع کی ہلاکت بھی اسی وجہ سے سمجھی جائے گی جس کے تحت اس پر قبضہ ہوا تھا۔ اب چونکہ رہن پر قبضہ قرض کی وصولی کی خاطر ہوتا ہے اور اس کی دلیل ہم نے پہلے بیان کردی ہے تو یہ واجب ہے کہ اس کی ہلاکت بھی اسی وجہ کے تحت ہو اس طرح رہن کی ہلاکت کے ساتھ مرتہن اپنا قرض اسی طریقے سے وصول کرلینے والا قرار دیا جائے جس طریقے سے وصول کرنا جائز ہوتا ہے۔ اگر رہن کی قیمت قرض کی رقم سے کم ہو تو یہ جائز نہیں ہوگا کہ رقم کی مقدار کی وصولی کو اس سے کم پر محمول کیا جائے یعنی قرض کی باقی مرتہن کو واپس کردی جائے گی اور اگر رہن کی قیمت زائد ہو تو مرتہن کے لئے جائز نہیں ہوگا کہ وہ راہن سے اپنے قرض کی رقم سے زائد وصول کرلے اس صورت میں وہ زائد رقم کا امین قرار پائے گا یعنی اس پر اس کے بدلے کوئی تاوان نہیں آئے گا۔ رہن کے قابل ضمانت ہونے کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ اعیان مثلاً ودیعت ، مضاربت اور شراکت کے بدلے رہن درست نہیں ہوتا اس لئے کہ اگر رہن ہلاک ہوجائے تو مرتہن عین کو وصول نہیں کرسکے گا۔ جبکہ ایسے دیون کے بدلے جو قابل ضمانت ہوں رہن درست ہوتا ہے۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ رہن کا تاوان قرض کے بدلے میں ہوتا ہے اور اس طرح مرتہن رہن کی ہلاکت کے ساتھ اپن اگویا قرض وصول کرے گا۔ اس پر یہ چیز بھی دلالت کر رہی ہے کہ ہم نے کسی اصل میں حق دار کے کسی حق کی بنا پر غیر کی مملوکہ شئی کا حبس نہیں پایا جس کے ساتھ ضمان یعنی تاوان کا تعلق نہ ہو۔ آپ دیکھتے نہیں کہ فروخت شدہ چیز اس وقت تک بائع کی ضمانت میں ہوتی ہے جب تک وہ اسے مشتری کے حوالے نہ کر دے کیونکہ مبیع ثمن کے بدلے بائع کے پاس محبوب ہوتا ہے۔ اسی طرح اجرت پر لی ہوئی چیز اجرت پر لینے والے شخص کے ہاتھ میں محبوس ہوتی ہے۔ اور اس چیز سے حاصل ہونے والے فائدے مستاجر کی ضمانت میں ہوتے ہیں خواہ وہ اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ اس حبس کی وجہ سے مستاجر کے ذمے اجرت کی ادائیگی ہوتی ہے جو کہ منافع کا بدل ہوتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ غیر کی مملوکہ شئی کو محبوب کرلینے کی صورت میں ضمان یعنی تاوان کا اس کے ساتھ ضرور تعلق ہوجاتا ہے۔ امام شافعی نے رہن کو امانت قرار دینے کے لئے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو ابن ابی زویب نے زہری سے انہوں نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لایغلق الرھن من صاحبہ الذی رھنہ، لہ غنمہ وعلیہ غرمہ، رہن ک و اس کے مالک سے بند نہیں کیا جاسکتا جس نے اسے بطور رہن رکھوایا ہے۔ مالک کو اس کا فائدہ ملے گا اور مالک کے ذمے اس کے نقصان کی تلافی ہوگی۔ ) امام شافعی نے فرمایا کہ سعید بن المسیب نے حضرت ابوہریرہ کے واسطے سے اتصال سند کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اتصال سند کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یحییٰ بن ابی انیسہ نے روایت کی ہے اور روایت میں یہ فقرہ ” لہ غنمہ و علیہ غرمہ “ سعید بن المسیب کا کلام ہے۔ جس طرح کہ امام مالک، یونس اور ابن ابی زویب نے زہری سے، انہوں نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لایغلق الرھن) یونس بن زید نے کہا کہ ابن شہاب زہری نے یہ کہ ا ہے کہ ابن المسیب یہ کہا کرتے تھے کہ ” الرھن لمن ذھنہ لہ غنمہ وعلیہ غرمہ “ رہن اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اسے بطور رہن رکھوایا ہے اسے اس کا فائدہ ملے گا اور اس کے ذمے اس کے نقصان کی تلافی ہوگی۔ ) ابن شہاب زہری نے یہ کہہ کر دراصل یہ بتایا ہے کہ در ج بالا فقرہ ابن المسیب کا قول ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نہیں۔ اگر ابن المسیب اس فقرے کو حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے تو ابن شہاب وہ بات نہ کہتے جو درج بالافقرے میں انہوں نے کہی ہے بلکہ وہ اس فقرے کی نسبت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہی کرتے۔ امام شاعفی نے ” لہ غنمہ وعلیہ غومہ “ سے یہ استدلال کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرض کی رقم سے رہن کی زائد قیمت رہن کے مالک کے لئے واجب کردی اور قیمت میں کمی کی تلافی بھی اس کے ذمے ڈال دی اور قرض کو علیٰ حالہ باقی رکھا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (لایغلق الرھن) کے متعلق ابراہیم نخعی اور طائوس دونوں حضرات نے یہ پس منظر باین کیا ہے کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ ایک شخص رہن رکھواتے وقت مرتہن سے کہتا کہ اگر میں فلاں وقت تک مال یعنی قرض کی رقم تمہارے پاس لے آئوں تو ٹھیک ہے ورنہ یہ رہن تمہارا ہوگا۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرما دیا کہ (لایغلق الرھن، رہن کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ ) امام مالک اور سفیان ثوری نے بھی آپ کے ارشاد کا یہی پس منظر بیان کیا ہے۔ ابوعبید نے کہا ہے کہ کلام عرب میں رہن کے ضائع ہونے کی صورت میں یہ فقرہ نہیں کہا جاتا ” قدغلن الرھن “ (رہن کو بند کردیا گیا) بلکہ یہ فقرہ اس وقت کہا جاتا ہے جب مرتہن اپنا حق جتا کر اسے لے جاتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لایغلق الرھن) فرما کر اس طریق کار کو باطل قرار دے دیا بعض اہل لغت کا قول ہے کہ ” غلق الرھن “ کا فقرہ اس وقت کہا جاتا ہے جب رہن بغیر کسی شئی یعنی بدل کے ضائع ہوجائے۔ زھیر کا شعر ہے۔ وفارقتک برھن لافکاک لہ یوم الوداع فامسیٰ رھنھا غلقاً اے محبوبہ میں تجھ سے الوداع کے دن ایسا رہن دے کر جدا ہوا جسے کبھی بھی چھڑایا نہیں جاسکتا ۔ اب محبوبہ کے پاس رکھا ہوا رہن بند ہوگیا ہے۔ شاعر کی مراد اس سے یہ ہے کہ محبوبہ اس کا دل بغیر کچھ دیئے اپنے ساتھ لے گئی۔ اعشی کا شعر ہے۔ فھل یمنعنی ارتیاد البلا …… دمن حذر الموت ان یاتین علی رقیب لہ حافظ …… فقل فی امری غلق مرتھن کیا موت کی آمد کا خوف اور خطرہ ملکوں میں چلنے پھرنے سے باز رکھ سکتا ہے مجھ پر اس کی طرف سے ایک محافظ اور نگہبان مقرر ہے۔ اس لئے میرے متعلق بتائو کہ میں ایک ایسا شخص ہوں جسے گروی رکھ دیا گیا ہے اور اس گروہی کو بند کردیا گیا ہے۔ شاعر نے دور سے شعر میں ” فقل فی امری غلق مرتھن “ کہہ کر یہ مراد لیا ہے کہ وہ مرجائے گا اور بغیر کسی چیز کے اس طرح ختم ہوجائے گا گویا کہ وہ تھا ہی نہیں۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد (لایغلق الرھن) دو معنوں پر محمول ہے ایک توبہ کہ اگر رہن بحالہ باقی ہے تو مدت گذر جانے پر قرض کے بدل کے طور پر مرتہن کو اس پر قبضے کا حق نہیں ہوگا اور دوسرا یہ کہ اگر رہن ہلاک ہوجائے تو کسی بدل کے بغیر ہلاک نہیں ہوگا۔ رہ گیا یہ قول کہ ” لہ غتمہ وعلیہ غرمہ “ تو ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ سعید بن المسبب کا قول ہے کہ جسے کسی راوی نے متن حدیث میں شامل کردیا اور بعض نے اسے متن حدیث سے لاگ رکھ کر بیان کردیا کہ یہ ابن المسبب کا قول ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی نسبت نہیں ہے۔ امام شافعی نے اس تول سے جو مفہوم اخذ کیا ہے کہ راہن کو رہن کی وہ قیمت جو قرض کی رقم سے زائد ہو، ہلاکت کی صورت میں واپس مل جائے گی اور اگر رہن کی قیمت قرض کی رقم سے کم ہوگی تو زائد رقم کی ادائیگی بھی اس کے ذمے ہوگی۔ اس کی تاویل ایسی ہے جو نہ صرف فقہاء کے اقوال کے دائرے سے خارج ہے بلکہ لغت کے اعتبار سے بھی غلط ہے۔ اس لئے کہ اصل لغت میں غرم لزوم کو کہتے ہیں۔ ارشاد باری ہے (ان عذا بھا کان غراماً ، بیشک جہنم کا عذاب ثابت اور لازم ہے) یعنی جہنم کا عذاب ثابت اور لازم ہے۔ غریم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ذمہ قرض کی رقم لگ گئی ہو یعنی مقروض، غریم قرض خواہ کو بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ قرض خواہ کو مقروض کے ساتھ چپک جانے اور مسلسل قرض کی واپسی کے مطالبہ کا حق ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گناہ اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، اس کے متعقل جب آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا (ان الرجل اذا غرم حدث فکذب دود عدفا خلف ) جب کوئی مقروض ہوجاتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ ) آپ نے عزم کا مفہوم یہ بتادیا کہ یہ آدمی کی طرف سے مسلسل مطالبہ کا نام ہے۔ قبیصہ بن المخارق کی روایت کردہ حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (ان المسئلۃ لاتحل الامن ثلاث فقر مدقع اونحرم مفظع اودم موجع، دست سوال دراز کرنا تین باتوں کی وجہ سے حلال ہوتا ہے یا تو ایسی تنگ دستی ہو جو انسان کو زمین پر گرا دے یعنی بےبس کر دے یا ایسا قرض ہو جو مقروض کو ذلیل کرا دے یا قتل کی وجہ سے خون بہا کی ادائیگی کے سلسلے میں پیدا ہونے والی پریشان کن صورت ہو) قو ل باری ہے (انما الصدقات للفقراء) تاقول باری (والغارمین) ان سے مراد قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ ہیں۔ اسی طرح قول باری ہے (انا لمغرمون یعنی ہم سے ہمارے قرضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جائے گا اور ہمارے قرض خواہ ہمارے پیچھے لگ جائیں گے۔ لغنت میں عزم کے اصل معنی یہی ہیں۔ ہمیں ثعلث کے غلام ابو عمر نے ثعلب سے اور انہوں نے ابن الاعرابی سے عزم کے معنی بیان کئے۔ ابوعمر نے کہا کہ جس شخص کا یہ قول ہے کہ مال کی ہلاکت اور اس کے نقصان کا نام عزم ہے۔ اس نے غلط کہا اس لئے کہ وہ فقیر جس کا سارا مال ختم ہوچکا ہے غریم نہیں کہلاتا بلکہ غریم وہ شخص ہے جس پر کسی آدمی کی طرف سے قرض کی ادائیگی کا مسلسل مطالبہ ہو رہا ہو جب بات اس طرح ہے تو پھر جس نے ولیہ غرمہ، کے معانی نقصان کے کئے ہیں وہ غلطی پر ہے۔ اس حدیث کے راوی سعید بن المسبب ہیں اور ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ اس فقرہ ” لہ غنمہ و علیہ غرمہ “ کے قائل وہ خود ہیں لیکن انہوں نے اس کے وہ معنی بیان نہیں کئے جو امام شافعی نے لئے ہیں کیونکہ سعید بن المسیب کا مسلک یہ ہے کہ رہن قابل ضمانت یا ضمانت کے تحت ہے۔ عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے ” کتاب السبعہ “ میں اپنے والد سے، انہوں نے سعید بن المسیب، عروہ، قاسم بن محمد، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، خارجہ بن زید، عبید اللہ بن عبداللہ وغیر ھم سے ذکر کیا ہے کہ ان حضرات نے یہ کہا ہے کہ ” الرھن بمافیہ اذا ھلک وعمیت قیمتہ “ (رہن جب ہلاک ہوجائے اور اس کی قیمت کے متعلق پتہ نہ ہ وتو وہ قرض کی رقم کے بدلے ہلاک ہوگا۔ ) ان حضرات میں سے ثقہ لوگوں نے اس قومل کی روایت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچائی ہے اور یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ سعید بن المسیب کا مسلک رہن کے ضمان کے اثبات میں ہے اس پس منظر میں کسی شخص کے لئے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ ان کے اس قول ” دعلیہ غرمہ “ سے ضمان کی نفی پر استدلال کرے۔ اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس قول کی روایت درست تسلیم کرلی جائے تو امام شافعی کے مسلک پر یہ واجب ہوگا کہ اس قول سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد کے متعلق راوی کے بیان کردہ معنی کی بنیاد پر فیصلہ کردیا جائے اس لئے کہ امام شافعی اس بات کے قائل ہیں کہ راوی حدیث کے معنی کا زیادہ اور بہتر علم رکھتا ہے۔ اسی اصول کے تحت انہوں نے عمرو بن دینار کے قول کو شاہد اور یمین کے مسئلے میں حجت تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مالی مقدمات کے بارے میں ہے اور غیر مالی مقدمات میں اس پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح ” حدیث قلتین “ میں راوی ابن جریج کے قول کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ہجر کے علاقے کے قلال یعنی کوزے مراد لئے ہیں۔ اسی طرح حضرت ابن عمر کے مسلک کی بنا پر بائع اور مشتری کے خیار کے مسئلے میں دونوں کی علیحدگی کے متعقل کہا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس سے مرا جسمانی طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی ہے کہ جس کے بعد دونوں کے لئے سودے کو ختم کردینے کا اختیار ختم ہوجاتا ہے اس اصول کی بنا پر امام شافعی پر یہ لازم آت ا ہے کہ اگر وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس فقرے کی روایت کو ثابت مانتے ہیں تو پھر اس سے آپ کی مراد کے متعلق حدیث کے راوی سعید بن المسیب کی تشریح کو قول فیصل تسلیم کرلیں۔ سعید بن المسیب کے قول ” لہ غنمہ “ کے معنی یہ ہیں کہ رہن کی قیمت میں دنی سے بڑھی ہوئی رقم کا حق دار راہن ہے اور ” دعلیہ غرمہ “ کے معنی یہ ہیں کہ راہن پر قر ض کی رقم ہے جس کے بدلے میں رہن رکھا گیا ہے۔ دراصل یہ دونوں فقرے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (لایغلق الرھن) کی تفسیر و تشریح ہیں۔ اس لئے کہ لوگوں کا طریقہ تھا کہ قرض کی ادائیگی سے پہلے مدت گذر جانے پر وہ رہن پر مرتہن کی ملکیت کے استحقاق کو لازم کردیتے تھے۔ اس پر آپ نے درج بالا فقرہ فرمایا جس کے معنی یہ ہیں کہ مدت گزر جانے پر مرتہن رہن کا مستحق نہیں ہوگا۔ پھر اس کی تفسیر ان الفاظ میں فرمائی کہ ” لصاحبہ غنمہ “ یعنی رہن کی قیمت میں پائی جانے والی زیادتی راہن کے لئے ہے اور یہ بیان کردیا کہ مرتہن صرف عین رہن کا مستحق ہے اس کی زیادتی اور اضافے کا حق دار نہیں نیز اس کا قرض راہن کے ذمے بحالہ باقی ہے۔” وعلیہ غرمہ “ کا مفہوم یہی ہے۔ جس طرح اس قول ” وعلیہ دینہ “ (اس کے ذمے اس کا فرض ہے) کا فمہوم بھی اس جیسا ہے۔ اس لئے روایت میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ رہن ناقابل ضمانت ہوتا ہے بلکہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ رہن قابل ضمانت ہوتا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول (لایغلق الرھن) سے جب یہ مراد لی جائے کہ رہن چھڑانے کے وقت وہ بحالہ باقی ہو نیز مدت گزرن یکے ساتھ اس پر مرتہن کی ملکیت کے استحقاق کی شرط آپ نے باطل قرار دی ہے تو یہ فقرہ کئی معانی پر مشتمل ہوگا ایک تو یہ کہ فاسد شرطیں رہن کو فاسد نہیں کرسکتیں بلکہ رہن شرط کو باطل کردیتا ہے اور خود جائز ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی شرط کو باطل قرار دے کر رہن کو جائز کردیا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہبہ اور صدقہ کی طرح قبضہ رہن کی صحت کی شرط ہے پھر فاسد شرطیں اسے فاسد نہیں کرسکتیں اس لئے ضروری ہوگیا کہ ان تمام چیزوں کا حکم بھی یہی ہو جو قبضہ کے بغیر درست نہیں ہوتیں مثلاً ہبہ اور صدقات کی تمام صورتیں یعنی شرطوں سے یہ صورتیں فاسد نہیں ہوتیں عین اور رہن میں مشترک بات یہ ہے کہ ان تمام کی صحت قبضہ کے ساتھ مشروط ہے۔ درج بالا روایت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے ۔ ایسے تمام عقود جن میں تملیک یعنی کسی کو سکی چیز کا مالک بنادینا ہو انہیں آنے والے وقتوں اور شرطوں کے ساتھ معلق نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ روایت میں مذکور رہن کی ملکیت جو مرتہن کو حاصل ہوجاتی ہے وہ مدت کے گذر جانے کے ساتھ مشروط تھی اور یہ ایسی تملیک تھی جو آنے والے وقت کے ساتھ مشروط تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تملیک کے لئے اسی طرح کی شرط کو باطل قرار دے دیا اور یہ مثال اس بات کی بنیاد بن گئی کہ تملیک اور برأت کے تمام عقود کو آنے والے وقتوں اور شرطوں کے ساتھ معلق کرنے کی معمانت ہے جسے ” تملیک معلق علی الخطر “ کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ” جب کل آ جائے گی تو میں تمہیں اپنا غلام ہبہ کر دوں گا یا تیرے ہاتھ فروخت کر دوں گا یا تم پر میرا جو قرض ہے اس سے میں تمہیں بری کر دوں گا۔ “ تو اس کا یہ کہنا باطل ہوگا۔ پہلے دو فقروں سے نہ ملکیت ثابت ہوگی اور فقرے سے نہ قرض سے برأت لیکن طلاق اور عتاق کی صورتیں درج بالا صورتوں سے مختلف ہیں یعنی انہیں مستقبل کے اوقات اور شرائط کے ساتھ معلق کردینا جائز ہے۔ اس لئے کہ ان صورتوں میں ایسا کرنے کے جواز کے لئے ایک اور اصل اور بنیاد ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے غلام کو مکاتب بنانے کی اپنے قول (وکاتبو ھم ان علمتم فیھم خیراً اور انہیں مکاتب بنادو اگر تمہیں ان میں کوئی بھلائی نظر آئے) میں اجازت دے دی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ آقا غلام سے یہ کہے کہ ” میں تجھے ایک ہزار درہم پر مکاتب بناتا ہوں اگر تو یہ رقم ادا کر دے گا تو تو آزاد ہے۔ اگر ادائیگی نہ کرسکے گا تو تو غلام رہے گا۔ “ اب ظاہر ہے کہ اس آزادی کو مستقبل کی ایک شرط اور وقت کے ساتھ معلق کردیا گیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے طلاق کے بارے میں فرمایا (فطلقوھن لعدتھن، انہیں ان کی عدت پر طلاق دو ۔ ) اللہ تعالیٰ نے فی الحال طلاق دینے اور اسے سنت طلاق کے وقت کی طرف منسوب کرنے کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا۔ جب اس عقد یعنی مال کے بدلے عتق یا خلع کا ایجاب آقا یا شوہر کے لئے اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ غلام یا بیوی کی طرف سے عتق یاخلع کو قبول کرنے سے پہلے اپنی پیشکش میں واجب کردہ مال وغیرہ سے رجوع نہیں کرسکتے اس صورت میں یہ عتق ایسی صورت کے ساتھ معلق ہوگیا۔ جس کی حیثیت قسموں والی شرطوں جیسی ہے۔ جن میں رجوع کرلینے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس بات میں یہ دلیل موجود ہے کہ طلاق اور عتاق کو آنے والے اوقات اور شرائط کے ساتھ معلق کردینا جائز ہے۔ ان دونوں میں جو مشترک بات پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ طلاق یا عتاق اگر ایک دفعہ واقع ہوجائے تو پھر اسے فسخ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے برعکس تملیک کے جن تمام عقود کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ان کے انعقاد کے بعد بھی انہیں فسخ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے انہیں مستقبل کے اوقات اور شرائط کے ساتھ معلق کرنا درست قرار نہیں پایا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (لایغلق الرھن) کی ہمارے بیان کردہ معنی پر دلالت کی نظیر وہ روایت ہے جس میں آپ نے بیع منابذہ، بیع ملامسہ اور بیع حصاۃ سے منع فرما دیا ہے بیع کی ان صورتوں پر زمانہ جاہلیت میں لوگ عمل پیرا تھے۔ اگر کوئی شخص فروخت کے لئے رکھی ہوئی چیز یا جانور کو ہاتھ لگا دیتا جسے بیع ملامسہ کہتے ہیں یا اپنے مقابل کی طرف کپڑا پھینک دیتا جو بیع منابذہ ہے یا اس پر ایک کنکری مار دیتا جو بیع حصاۃ کی ایک صورت ہے تو بیع واجب اور لازم ہوجاتی۔ اس طرح ملکیت کے وقوع کا تعلق ایجاب اور قبول کی بجائے کسی اور چیز سے ہوجاتا جسے بائع اور مشتری میں سے ایک سر انجام دیتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تمام صورتوں کو باطل قرار دیا۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ تملیک کے تمام عقود اخطار یعنی آنے والے اوقات اور شرائط کے ساتھ معلق نہیں ہوسکتے۔ ہمارے اصحاب نے رہن کے تاوان کے لئے وہ رقم مقرر کی ہے جو اس کی قیمت اور قرض کی مقدار می سے کم ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رہن پر مرتہن کا قبضہ چونکہ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ہوتا ہے تو ضروری ہوگیا کہ اس رقم کا اعتبار کیا جائے جس کے ذریعے قرض کی وصولی درست ہو سکے۔ اب یہ بھی درست نہیں ہے کہ مرتہن اپنی دی ہوئی رقم سے کم وصول کرے اور نہ یہ جائز ہے کہ دی ہوئی رقم سے زائد وصول کرے اس لئے اگر رہن کی قیمت کم ہوگی اور قرض زیادہ ہوگا تو وہ قرض کی زائد رقم راہن سے رکھوالے گا اور اگر صورت اس کے برعکس ہوگی تو وہ زائد رقم کا امین قرار پائے گا۔ جس شخص نے رہن کی ہلاکت کو پورے قرضے کی رقم کے بدلے ہلاکت قرار دیا ہے۔ خواہ رہن کی قیمت قرض کی رقم سے کم ہو یا زائد اور اسے بائع کے ہاتھ میں مبیع کی ہلاکت کے مشابہ قرار دیا ہے جس میں مبیع کی ہلاکت ثمن کے مقابلے میں ہوتی ہے خواہ مبیع کی اصل قیمت ثمن کی مقدار سے کم ہو یا زیادہ اور دلیل یہ دی ہے کہ ان دونوں میں مشترک بات اور علت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک یعنی رہن اور مبیع ایک قرض کی رقم کے بدلے محبوب ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بات ایسی نہیں ہے۔ اس لئے کہ مبیع کی ضمانت اور تاوان کی بات صرف ثمن کی حد تک محدود ہوتی ہے خواہ وہ کم ہو یا زیادہ اس لئے کہ مبیع کی ہلاکت پر بیع ٹوٹ جاتی ہے اور ثمن ساقط ہوجاتا ہے کیونکہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ بیع ٹوٹ جائے اور ثمن بحالہ باقی رہے۔ لیکن جہاں تک رہن کا معاملہ ہے تو اس کی ہلاکت کے ساتھ عقد رہن مکمل ہوجاتا ہے اور ٹوٹتا نہیں اور دوسری طرف مرتہن کو اس کے قرض کی وصولی بھی ہوجاتی ہے۔ اس لئے ہماری بیان کردہ دلیل کی بنا پر رہن کے ضمان کا اعتبار واجب ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ قرض سے زائد رقم اگر مرتہن کے ہاتھ میں امانت ہوسکتی ہے تو رہن کی پوری قیمت کیوں نہیں امانت ہوسکتی اور یہ کہ زائد رقم میں امانت کے معنی کے وجود کی بنا پر جس میں تاوان نہیں ہوتا مرتہن کی طرف سے اپنے قرض کی وصولی کے لئے رہن کو اپنے قبضے میں رکھنا اس کے تاوان کا موجب قرار نہ دیا جائے۔ اسی طرح رہن میں رکھی گئی عورت کے ہاں اگر رہن میں رکھے جانے کے بعد کوئی بچہ پیدا ہوجائے تو وہ بھی مرتہن کے ہاتھ میں اپنی ماں کے ساتھ محبوس ہوگا لیکن اگر وہ مرجائے تو اس کی موت کا کسی کو تاوان بھرنا نہیں پڑے گا۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مرتہن کے ہاتھ میں اس کا محبوب ہونا اس کے مضمون ہونے یعنی اس کے تاوان کی ادائیگی کی علت قرار نہیں پایا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ رہن کی قیمت سے قرض کی زائد رقم اور رہن رکھی ہوئی عورت کا بچہ یہ دونوں اپنے اپنے اصل کے تابع ہوتے ہیں اور انہیں اپنے اصل سے علیحدہ کرنا جائز نہیں ہوتا بشرطیکہ انہیں عقد میں تابع کی حیثیت سے داخل کرلیا گیا ہو۔ جب یہ بات طے ہوگئی تو اب ان پر اصلاً ضمان کا حکم لگانا درست نہیں ہوگا کیونکہ بچے کی پیدائش سے پہلے طے پا جانے والے عقد کی وجہ سے بچے پر اصلاً ضمانت کا حکم لگانا ناممکن ہے اور عقد میں بالتبع داخل ہونے اولی شے کا وہ حکم نہیں ہوتا جو اصلاً داخل ہونے والی چیز کا ہوتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ام ولد کا بچہ بالتبع ماں کے حکم میں داخل ہوجاتا ہے اور اس کے لئے بھی استیلاد کا حق ثابت ہوجاتا ہے لیکن اگر اس بچے کے لئے اصلاً اور ماں سے جدا کر کے یہ حق ثابت کیا جائے تو یہ صحیح نہیں ہوگا اسی طرح ایسی لونڈی جسے مکاتب بنادیا گیا ہو اور کتابت کے وقت اسے حمل ہو تو پیدا ہونے والا بچہ بھی بالتبع عقد کتابت میں داخل ہوجائے گا۔ اگر حمل کی حالت میں اس بچے کو اصلاً عقد کتابت میں داخل کیا جاتا تو یہ بات درست نہ ہوتی۔ ٹھیک اسی طرح قرض سے رہن کی قیمت کی زائد رقم اور رہن رکھی ہوئی عورت کا بچہ چونکہ عقد رہن میں بالتبع داخل ہوتے ہیں اس لئے یہ لازم نہیں ہوگا کہ ان کا حکم بھی وہی ہوجائے جو اصل کا حکم ہے اور نہ ہی یہ حکم انہیں اس حیثیت سے لاحق ہوگا کہ ان پر عقد کی ابتدا ہوئی تھی۔ اس پر یہ صورت بھی دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک اونٹنی قربانی کے جانور کے طور پر اپنے ساتھ مکہ معظمہ لے چلا۔ اونٹنی موٹی ہوگئی یا اس کا بچہ پیدا ہوگیا تو اس شخص پر یہ لازم ہوگا کہ وہ انٹنی کو اس کے جسمانی اضافے اور بچے کے ساتھ لیتا جائے اگر آگے چل کر اس کی فربہی ختم ہوجائے یا بچہ ہلاک ہوجائے تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی جو چیز اس پر پہلے سے لازم ہے یعنی دی کو مکہ معظمہ تک لے جانا وہی لازم رہے گی۔ اسی طرح اگر اس پر درمیانے درجے کا جانور لازم ہو لیکن وہ چنا وہا موٹا اور فربہ جانور بطور ہدی لے چلے تو اس سے زائد مقدار کا حکم اسی وقت تک ثابت رہے گا جب تک اصل باقی ہے۔ اگر ذبح ہونے سے پہلے اصل ہلاک ہوگیا تو اس سے زائد مقدار کا حکم باطل ہوجائے گا اور اس پر وہی حکم واپس آ جائے گا جو پہلے تھا یعنی درمیانے درجے کے جانور کی قربانی۔ اسی طرح اگر اضافہ یعنی جسمانی فربہی کی جگہ اس جانور سے پیدا ہونے والا بچہ ہوتا تو اس کا بھی یہی حکم ہوتا۔ ٹھیک اسی طرح رہن شدہ عورت کا بچہ اور قرض کی مقدار سے رہن کی قیمت کی زائد رقم ان دونوں کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تک اصل موجود ہیں ان کا حکم بھی باقی رہے گا اور جب اصل ہلاک ہوجائیں گے تو ان کا حکم ساقط ہوجائے گا۔ واللہ اعلم ! رہن سے فائدہ اٹھانے کے متعلق فقہاء کے اختلاف کا ذکر امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد، حسن بن زیاد اور زفر کا قول ہے کہ رہن شدہ چیز سے نہ تو مرتہن ہی کسی قسم کا کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی راہن۔ ان حضرات کا قول ہے کہ اگر مرتہن نے راہن کی یاراہن نے مرتہن کی اجازت سے رہن کو اجرت پردے دیا تو وہ رہن کے حکم سے خارج ہوجائے گا اور اس حکم میں واپس نہیں آئے گا۔ قاضی ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے کہ جب مرتہن راہن کی اجازت سے اسے اجرت پردے دے تو بحالہ رہن رہے گا اور آمدنی ہوگی تو مرتہن کی ہوگی تاکہ اس کے ذریعے اس کا حق ادا ہو سکے۔ ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ جب مرتہن رہن اور راہن کے درمیان سے ہٹ جائے کہ مکان کی صورت میں رہن اسے کرایہ پردے دے یا کسی کو لا کر وہاں بسا دے یا کسی کو عاریت کے طور پردے دے تو اب وہ رہن نہیں رہے گا لیکن اگر مرتہن راہن کی اجازت سے اسے کرایہ یا اجرت پردے دے تو وہ رہن کے حکم سے خارج نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر راہن کی اجازت سے مرتہن اسے عاریت کے طور پر کسی کو دے دے تو وہ رہن کے حکم سے خارج نہیں ہوگا ۔ اگر راہن کی اجازت سے مرتہن اسے کرایہ پردے دے تو زمین کا کرایہ مالک یعنی ساہن کو ملے گا اور یہ کرایہ اس کے لئے حق رہن نہیں بنے گا۔ البتہ مرتہن اس کی شرط لگا دے تو پھر کرایہ بھی رہن بن جائے گا۔ اگر بیع میں رہن رکھنے اور کرایہ میں اپنا حق وصول کرنے کی شرط لگائی گئی ہو تو یہ صورت امام مالک کے نزدیک مکروہ ہے لیکن اگر عقد بیع میں یہ شرط نہ ہو اور ربیع کے بعد راہن از راہ نیکی ایسا کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر بیع اس شرط پر ایک متعین مدت کے لئے کی جائے یا بائع اس میں رہن کو فروخت کرنے کی شرط لگا دے تاکہ اپنا حصہ وصول کرسکے تو امام مالک کے نزدیک مکانات اور اراضی کی صورت میں یہ بات جائز ہوگی البتہ جانور کی صورت میں یہ مکروہ ہوگی۔ المعانی نے سفیان ثوری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے رہن شدہ چیز سے کسی قسم کے انتفاع کو مکروہ سمجھا ہے حتیٰ کہ رہن شدہ قرآن مجید کے نسخے سے تلاوت بھی نہیں کرسکتا۔ اوزاعی کا قول ہے کہ رہن کی آمدنی اس کے مالک کی ہوگی اور اس میں سے وہ رہن پر خرچ کرے گا۔ بچ رہنے والا حصہ اس کا ہوگا اگر رہن سے کوئی آمدنی نہ ہو اور اس کا مالک اس سے خدمت لیتا ہو تو وہ اسے اس خدمت کے عوض کھانا دے گا۔ اگر اس سے خدمت نہ لیتا تو اس کے اخراجات مالک کے ذمے ہوں گے۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ رہن کو کام پر نہیں لگایا جائے گا اور نہ اس سے کوئی فائدہ اٹھایا جائے گا۔ البتہ اگر کوئی مکان رن میں رکھ دیا جائے اور اس کے اجڑنے اور بےآباد ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے تو اس میں مرتہن اس سے فائدہ اٹھانے کی نیت سے نہیں بلکہ اسے درست حالت میں رکھنے کی نیت سے وہاں سکونت اختیار کرسکتا ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے کہ مرتہن اگر رہن میں رکھی ہوئی انگوٹھی زیب و زینت کی نیت سے پہن لے گا تو اسے تاوان بھرنا پڑے گا لیکن اگر اسے حفاظت کی غرض سے پہن لے گا تو اس پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا لیث بن سعد کا قول ہے کہ اگر رہن شدہ غلام کو اس کی غذا کے بدلے کا م پر لگایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ خرچ کام کی مقدار کے برابر ہو۔ اگر کام خرچ سے زیادہ ہو تو مرتہن سے زائد مقدار وصول کی جائے گی۔ المزنی نے امام شافعی سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ (الرھن محلوب ومرکوب، رہن کا دودھ نکالا جاسکتا ہے اور اس پر سواری بھی کی جاسکتی ہے) یعنی جس شخص نے سواری کا یا دودھ والا جانور رہن رکھ دیا ہو تو راہن کو اس پر سوار ہونے اور اس کا دودھ حاصل کرنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ راہن کے لئے رہن شدہ غلام سے خدمت لینا دودھ والے جانور سے دودھ حاصل کرنا اور سواری کے جانور پر سواری کرنا جائز ہے۔ وہ رہن شدہ بھیڑوں کا اون بھی حاصل کرسکتا ہے۔ رہن کو رات گذارنے کے لئے مرتہن کے پاس یا اس شخص کے پاس چھوڑ دے گا جس کے ہاتھوں میں دونوں یعنی راہن اور مرتہن نے اسے دے دیا ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب (فرھان مقبوضۃ) فرمایا اور قبضے کو رہن کی ایک خصوصیت قرار دیا تو گویا یہ واجب کردیا کہ قبضے کا استحقاق عقد رہن کے ابطال کا موجب ہے اس لئے جب راہن یا مرتہن میں سے کوئی بھی دوسرے ساتھی کی اجازت سے اسے اجرت پر کسی کے حوالے کر دے گا تو رہن شدہ چیز رہن کے حکم سے نکل جائے گی کیونکہ اس صورت میں مستاجر اس قبضے کا مستحق ہوجائے گا جس کی بنا پر عقد رہن درست ہوتا ہے۔ تاہم عاریت کی صورت میں ہمارے نزدیک یہ بات پیدا نہیں ہوتی کیونکہ عاریت قبضے کے استحقاق کی موجب نہیں ہے اس لئے کہ عاریت کے طور پر کوئی چیز دینے والا شخص اس چیز کو جب چاہے اپنے قبضے میں لوٹا سکتا ہے جن لوگوں نے رہن کو اجرت پر دینے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو جائز قرار دیا ہے۔ ان کا استدلال اس روایت سے ہے جسے ہمیں محمد بن بکر نے بیان کی، انہیں ابو دائود نے انہیں ھناد نے ابن المبارک سے، انہوں نے زکریا سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے ، انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا۔ (لبن الدریحلب بنفقتہ اذا کان مرھونا والظھر یرکب بنفقتہ اذاکان مرھونا وعلی الذی یرکب ویحلب النفقۃ ، دودھ دینے والا جانور اگر رہن شدہ ہو تو اس کے اخراجات کے بدلے اس سے دودھ نکالا جائے گا، سواری کا جانور اگر رہن شدہ ہو تو اس کے اخراجات کے بدلے اس پر سواری کی جائے گی۔ دودھ نکالنے اور سواری کرنے والے پر ان جانوروں کے اخراجات کی ذمہ داری ہوگی۔ اس حدیث میں یہ ذکر ہوا کہ اخراجات کا وجوب اس پر سواری کرنے اور اس کا دودھ نکالنے کی بنا پر ہے جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ راہن پر رہن کے اخراجات کا وجوب اس کی ملکیت کی بنا پر ہے سواری کرنے یا دودھ نکالنے کی بن اپر نہیں۔ اس لئے کہ اگر رہن ایسی چیز ہوتی جس کا دودھ نہ نکالا جاسکتا یا جس پر سواری نہ ہوسکتی تو اس صورت میں بھی راہن پر اس کا نفقہ واجب ہوتا ۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے مراد یہ بات ہے کہ دودھ نکالنے اور سواری کرنے کا حق مرتہن کو اس نفقہ کے بدلے ہے جو وہ رہن پر کرتا ہے۔ یہ بات ہشیم نے اپنی روایت میں بیان کی ہے۔ انہوں نے زکریا بن ابی زائدہ سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روای ت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ (اذا کانت الدابۃ مرھونۃ فعلی الموتھن علفھاولبن الدریشرب و علی الذی یشرب نفق تھا ویرکب، جب کوئی جانور رہن میں رکھ دیا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے ہوگا۔ دودھ دینے والے جانور کا دودھ استعمال کیا جائے گا اور دودھ استعمال کرنے والے اور سواری کرنے والے پر اس جانور کے اخراجات کی ذمہ داری ہوگی۔ ) اس روایت میں یہ بیان ہوا کہ مرتہن کے ذمے رہن شدہ جانور کا نفقہ ہوگا اور اس کے دودھ اور اس پر سواری کا حق اسے حاصل ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اس کا نفقہ راہن پر ہوگا مرتہن پر نہیں ہوگا۔ اس لئے یہ روایت امام شافعی کے خلاف حجت ہے نہ کہ ان کے حق میں ۔ حسن بن صالح نے اسماعیل بن ابی خالد سے اور انہوں نے شعبی سے نقل کیا ہے کہ رہن سے کسی قسم کا فائدہ اٹھایا نہیں جاسکتا۔ اس طرح شعبی نے درج بالا روایت کو چھوڑ دیا حالانکہ وہ حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث ہے۔ یہ چیز دو باتوں میں سے ایک پر دلالت کرتی ہے یا تو یہ حدیث اصل میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہی نہیں ہے یا شعبی کے نزدیک یہ منسوخ ہوچکی ہے۔ اس حدیث کے متعلق ہماری بھی یہی رائے ہے۔ اس لئے کہ حدیث میں مذکور جیسی باتیں سود کی تحریم سے پہلے جائز تھیں۔ پھر جب سود کی حرمت نازل ہوئی اور معاملات اور اشیاء کو ان کی اصلی حالتوں کی طرف لوٹا دی اگیا (یعنی لوگوں کے معمولات اور پیش آمدہ باتوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صحیح خطوط پر استوار کردیا گیا۔ ) تو ایسی باتیں منسوخ ہوگئیں آپ نہیں دیکھتے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفقہ کو دودھ کا بدل قرار دیا خواہ یہ دودھ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ اس کی مثال وہ روایت ہے جو مصراۃ (جس جانور کے تھنوں کو خریدار کے سامنے بڑا دکھانے کے لئے اس کا دودھ اس کے تھنوں میں رہنے دیا گیا ہو) کے متعلق مروی ہے کہ خریدار اس جانور کو واپس کر دے گا اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے گا۔ اس میں دودھ کی اس مقدار کا اعتبار نہیں کیا گیا جو خریدار نے اس جانور سے حاصل کیا تھا۔ سود کی تحریم کے ساتھ یہ حکم بھی ہمارے نزدیک منسوخ ہوچکا ہے۔ جو لوگ راہن کے لئے مرہون جانور کی سواری اور دودھ کے ایجاب کے قائل ہیں ان کے بطلان پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبضہ کو رہن کی اس طرح صفت اور خصوصیت قرار دی جس طرح عدالت کو گواہی کی صفت اور خصوصیت قرار دی۔ ارشاد ہوا (اثنان ذوا عدل منکم) نیز (ممن ترضون من الشھدآء) اور یہ معلوم ہے کہ گواہی سے صفت عدالت کا زائل ہوجانا گواہی کے جواز کو مانع ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (فرھان مقبوضۃ) سے رہن کی صفت اور خصوصیت بیان کردی کہ وہ قبضے میں ہو تو پھر اس صفت کے عدم وجود پر یعنی رہن پر کسی اور کے قبضے کے استحقاق کی صورت میں عقد رہن کا ابطال واجب ہوگا۔ اس لئے اگر راہن اس قبضے کا مستحق قرار پائے جس کی وجہ سے عقد رہن درست ہوتا ہے۔ تو یہ چیز ابتداء ہی سے اس عقد کی صحت کے مانع ہوجائے گی۔ اس لئے کہ عقد کے ساتھ ساتھ اسے باطل کرنے والی چیز بھی موجود تھی۔ اگر عقد رہن ابتدائی طور پر درست ہوجائے تو پھر یہ ضروری ہوگا کہ اس پر قبضہ کے استحقاق اور اسے راہن کی طرف لوٹا دینے کے وجوب کی بنا پر یہ باطل ہوجائے۔ نیز جب سب کا اس پر اتفاق ہے کہ راہن کو اپنی اس لونڈی سے ہمبستری کی ممانعت کردی جائے گی جسے اس نے رہن رکھ دیا ہو حالانکہ ہمبستری اس مرہونہ لونڈی کے منافع میں سے ایک منفعت ہے تو اس سے یہ واجب تمام منافع کا یہی حکم ہو کہ راہن کا ان سے فائدہ اٹھانے کا حق باطل ہوجاتا ہے۔ ایک اور جہت سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ راہن کو اس لونڈی سے ہمبستری کا اس لئے حق نہیں رہا کہ مرتہن کو اس پر اپنا قبضہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ یہی صورت است خدام کی ہے (یعنی رہن رکھے ہوئے غلام وغیرہ سے راہن خدمت لینا چاہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ ) اگر کسی نے عقد رہن میں مدت کے خاتمے پر قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں رہن پر مرتہن کی ملکیت کی شرط عائد کردی تو اس کے حکم کے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، زفر اور حسن بن زیاد کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس کوئی رہن رکھ کر یہ کہے کہ اگر میں ایک ماہ تک رقم لا دوں تو ٹھیک ہے ورنہ یہ بیع ہوگی، تو اس صورت میں رہن جائز ہوگا اور شرط باطل ہوگی۔ امام مالک کا قول ہے کہ رہن فاسد ہوگا اور یہ عقد توڑ دیا جائے گا۔ اگر توڑا نہ جائے یہاں تک کہ مدت کا اختتام آ جائے تو رہن اس شرط ک بنا پر مرتہن کا نہیں ہوگا۔ البتہ مرتہن کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنے حق یعنی قرض کے بدلے اسے اپنے پاس روکے رکھے۔ وہ راہن کے دوسرے قرض خواہوں کے مقابلے میں اس کا سب سے بڑھ کر حق دار ہوگا۔ اگر رہن اس کے پاس پڑے پڑے خراب ہوجائے تو وہ اسے واپس نہیں کرے گا بلکہ اسکی قیمت اس پر لازم آئے گی یعنی اس کی وہ قیمت جو مدت کے اختتام کے دن ہو ۔ یہ حکم جانوروں اور سامان تجارت کا ہے لیکن مکانات اور اراضی کا حکم یہ ہے کہ انہیں مرتہن راہن کو واپس کر دے گا خواہ مدت کتنی طویل کیوں نہ ہوجائے۔ البتہ اگر مکان گرجائے یا مرتہن اس میں کچھ اور تعمیر کرلے یا زمین میں پودے لگا دے تو یہ حد سے تجاوز ہوگا اور مرتہن اس کی قیمت بھر دے گا۔ المعافی نے سفیان ثوری سے اس شخص کے متعلق نقل کیا ہے جو ایک مشترک چیز کو جس میں حصہ داروں کے حصوں کا تعین نہ ہوا ہو اپنے شریک کے پاس رہنے رکھ کر یہ کہتا ہے کہ اگر میں تمہارے پاس نہ آئوں تو یہ چیز تمہاری ہوگی۔ سفیان کہتے ہیں کہ ایسے رہن کو بند نہیں کیا جائے گا۔ سفیان کے اس قول پر حسن بن صالح نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یہ قول بےمعنی ہے۔ الربیع نے امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ اگر ایک شخص کسی کے پاس رہن رکھ کر یہ شرط لگا دیتا ہے کہ اگر وہ قرض کی رقم فلاں مدت تک نہیں لائے گا تو یہ رہن بیع بن جائے گی تو اس صورت میں رہن فاسد ہوگا اور یہ رہن اس کے مالک کا ہوگا جس نے اسے رہن رکھوایا تھا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ مرتہن مدت گزر جانے پر رہن کا مالک نہیں ہوگا اختلاف صرف رہن کے جواز اور فساد کے متعلق ہے۔ ہم نے سابقہ سطور میں بیان کردیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (لایغلق الرھن) کا مطلب یہ ہے کہ راہن اور مرتہن کی مقرر کردہ شرط کی بنیاد پر مدت گذرنے پر مرتہن رہن کا مالک نہیں ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رہن کو اس صورت میں بند کردینے کی نفی کردی ہے لیکن اس مشروط رہن کی صحت کی نفی نہیں فرمائی ہے جو رہن کے جواز اور شرط کے بطلان پر دلالت کرتی ہے ۔ قیاساً یہ صورت عمریٰ (مکان یا زمین جو زندگی بھر کے لئے کسی کو دے دی جائے) کی صورت کی طرح ہے جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر بھر کی شرط کو باطل قرار دے کر اس میں ہبہ کی صورت کو جائز قرار دیا تھا۔ ان دونوں صورتوں میں مشترک بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک قبضے کے بغیر درست نہیں ہوتی۔ اگر قرض کی مقدار میں راہن اور مرتہن کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ۔ اس کے متعلق فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے، امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محم، زفر اور حسن بن زیاد کا قول ہے کہ رہن ہلاک ہونے کی صورت میں دین کی مقدار کے متعلق اگر راہن اور مرتہن کے درمیان اختلا ف ہوجائے تو دین کی مقدار کے متعلق راہن کا قول معتبر ہوگا۔ لیکن اسے اس کے لئے قسم اٹھانی پڑے گی۔ حسن بن صالح، امام شافعی، ابراہیم نخعی اور عثمان البتی کا بھی یہی قول ہے ۔ طائوس کا قول ہے کہ رہن کی قیمت کی مقدار میں دین کے متعلق مرتہن کے قول کی تصدیق کی جائے گی اور اس سے اس کے متعلق حلف لیا جائے گا۔ یہی حسن بصری، قتادہ اور الحکم کا قول ہے۔ ایاس بن معاویہ کا اس بارے میں جو قول ہے وہ ان دونوں اقوال کے بین بین ہے۔ وہ یہ کہ اگر راہن کے پاس رہن رکھنے کے متعلق کوئی ثبوت گواہی وغیرہ کی شک ل میں ہو تو پھر راہن کا قول معتبر ہوگا اور اگر ثبوت نہ ہو تو مرتہن کا قول معتبر ہوگا۔ اس لئے مرتہن اگر چاہتا رہن رکھنے کے بارے میں صاف انکار کردیتا لکین جب اس نے اپنی ذات پر ایک چیز یعنی رہن کا اقرار کرلیا اور اس کے خلاف ثبوت بصورت گواہی وغیرہ نہیں ہے تو پھر اختلاف کی صورت میں کا اس کا قول معتبر ہوگا۔ ابن وہب نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ اگر راہن اور مرتہن دین اور رہن دونوں باتوں میں اختلاف کا شکار ہوجائیں اور رہن موجود ہو تو اس صورت میں اگر رہن مرتہن کے حق کی مقدار کے مساوی ہوگا تو مرتہن اسے لے لے گا اس پر اس کا حق سب سے بڑھ کر ہوگا اور قسم بھی کھائے گا۔ آیت 282 کی بقیہ تفسیر اگلی آیت میں ملاحظہ فرمائیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨٥) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کریم اور اس کے معانی کو بیان کرنے میں سچے اور دیانت دار ہیں، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی زبانی فرماتے ہیں کہ اور مسلمانوں میں سے ہر ایک ان تمام باتوں کا عقیدہ رکھتا ہے، اور مسلمان اس بات کے قائل ہیں کہ ہم رسولوں میں سے کسی بھی رسول کا انکار نہیں کرتے اور نیز ہم اللہ کے حکم کو سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، کہ اے ہمارے پروردگار ہم حدیث نفس (دل کی غلط باتوں) سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم نے مرنے کے بعد آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨٥ (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط) یہ ایک غور طلب بات اور بڑا باریک نکتہ ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب وحی آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیسے پہچان لیا کہ یہ بدروح نہیں ہے ‘ یہ جبرائیل امین ( علیہ السلام) ہیں ؟ آخر کوئی اشتباہ بھی تو ہوسکتا تھا۔ اس لیے کہ پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے نہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہانت سیکھی اور نہ آپ نے کوئی نفسیاتی ریاضتیں کیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک کاروباری آدمی تھے اور اہل و عیال کے ساتھ بہت ہی بھرپور زندگی گزار رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بلند ترین سطح کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا۔ یہ درحقیقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فطرت سلیمہ تھی جس نے وحی لانے والے فرشتے کو پہچان لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وحی پر ایمان لے آئے۔ نبی کی فطرت اتنی پاک اور صاف ہوتی ہے کہ اس کے اوپر کسی بدروح وغیرہ کا کوئی اثر ہو ہی نہیں سکتا۔ بہرحال ہمارے لیے بڑی تسکین کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایمان کے تذکرے کے ساتھ ہمارے ایمان کا تذکرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اصحاب ایمان میں شامل فرمائے۔ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ۔ (کُلٌّ اٰمَنَ باللّٰہِ وَمَلٰٓءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ قف) سورۃ البقرۃ میں یہ دوسرا مقام ہے جہاں ایمان کے اجزاء کو گنا گیا ہے۔ قبل ازیں آیۃ البر (آیت ١٧٧) میں اجزائے ایمان کی تفصیل بیان ہوچکی ہے۔ ( لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ قف) ۔ یہ بات تیسری مرتبہ آگئی ہے کہ اللہ کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔ سولہویں رکوع میں ہم یہ الفاظ پڑھ چکے ہیں : ( لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ صلے وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ) ہم ان میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں۔ اور سب سے پہلے آیت ٤ میں یہ الفاظ آ چکے ہیں : (وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج) وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اس پر بھی جو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔ البتہ رسولوں کے درمیان تفضیل ثابت ہے اور ہم یہ آیت پڑھ چکے ہیں : (تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ٧ مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ط) (آیت ٢٥٣) یہ رسول جو ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ ان میں سے وہ بھی تھے جن سے اللہ نے کلام کیا اور بعض کے درجے (کسی اور اعتبار سے) بلند کردیے۔ (وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاق) (غُفْرَانَکَ رَبَّنَا) غُفْرَانَکَ مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی نَسْءَلُکَ غُفْرَانَکَ اے اللہ ! ہم تجھ سے تیری مغفرت طلب کرتے ہیں ‘ ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں۔ ( وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ) یہاں پر ایمان بالآخرۃ کا ذکر بھی آگیا جو اوپر ان الفاظ میں نہیں آیا تھا : (کُلٌّ اٰمَنَ باللّٰہِ وَمَلٰٓءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ قف) ۔ اب آخری آیت آرہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

337. This verse outlines what one is required to believe in and what should be the distinguishing characteristics of one's conduct. They consist of the following: belief in God, in His angels, in His Books, in all His Messengers (instead of some rather than others) , and in the fact that ultimately one will have to stand before God's judgement. These are the five fundamental articles of faith in Islam. Having accepted them, the only proper attitude for a Muslim is to cheerfully accept and follow whatever directives he receives from God. Instead of exulting in his moral excellence he should be humble and should constantly seek God's forgiveness and mercy.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :337 اس آیت میں تفصیلات سے قطع نظر کر کے اسلام کے عقائد اور اسلامی طرز عمل کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے : اللہ کو ، اس کے فرشتوں کو ، اور اس کی کتابوں کو ماننا ۔ اس کے تمام رسولوں کو تسلیم کرنا بغیر اس کے کہ ان کے درمیان فرق کیا جائے ( یعنی کسی کو مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے ) ۔ اور اس امر کو تسلیم کرنا کہ آخر کار ہمیں اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے ۔ یہ پانچ امور اسلام کے بنیادی عقائد ہیں ۔ ان عقائد کو قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان کے لیے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم پہنچے ، اسے وہ بسر و چشم قبول کرے ، اس کی اطاعت کرے ، اور اپنے حسن عمل پر غرہ نہ کرے ، بلکہ اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کرتا رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(285 ۔ 286) ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی حدیث مسلم اور نسائی کے حوالہ سے اوپر گذر چکی ہے کہ سورة فاتحہ اور سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں ایسے دو نور ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے یہ نور کسی نبی پر نازل نہیں ہوئے ٣۔ مسند امام احمد اور صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص رات کو سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں امن الرسول سے سورت کے ختم تک پڑھ لے گا اس کی تمام رات کی عبادت اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائے گی ١۔ مسند امام احمد وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش معلے کے نیچے اللہ تعالیٰ کا ایک خزانہ ہے اس میں سے سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہیں ٢۔ شداد بن اوس (رض) سے طبرانی نے یہ روایت کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس گھر میں سورة بقرو کی یہ آیتیں پڑھی جائیں اس گھر پر شیطان کا اثر باقی نہیں رہتاطبرانی کی سند اس روایت کی معتبر اور جید ہے ٣۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ جتنے ایمان دار لوگ ہیں ان کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں اللہ کے سب رسول اور سب آسمانی کتابیں برحق ہیں اللہ کے حکم سے اگرچہ بعض شریعتیں بعض شریعتوں سے منسوخ ہو کر پھر پچھلی سب شریعتیں شریعت محمدی سے منسوخ ہوئی ہیں۔ اور اب قیامت تک یہی شریعت محمدی قائم رہے گی۔ لیکن اپنے اپنے وقت پر وہ سب نبی اللہ کے نبی اور سب کتابیں اللہ کی ہیں کسی رسول اور کتاب کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا یہ حکم الٰہی کے بالکل مخالف ہے اللہ کے فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں اور جس کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور کردیا ہے وہ اس کے بجا لانے میں اللہ کے پورے فرماں بردار ہیں لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا سے اوپر کی آیت وہ منسوخ ہوئی ہے جس میں دل کے وسوسہ پر محاسبہ کا حکم تھا لہا ما کسبت و علیہا ما اکتسبت کی تفسیر حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیثوں میں جن کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے یہ ہے کہ انسان نیک کام کا محض قصد بھی دل میں کرے تو اس قصد کے اجر میں ایک نیکی کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے اور گر اپنے اس قصد کے موافق وہ نیک کام کرے تو دس سے لے کر سات سو نیکیوں تک کا ثواب لکھا جاتا ہے اور برے کام کے محض ارادہ اور قصد پر کوئی بدی نہیں لکھی جاتی جب تک آدمی اس برے کام کو کر نہ لیوے ٤۔ اور برے کام کا ارادہ کر کے اگر آدمی اس کام کے کرنے سے باز رہے تو اس باز رہنے کے اجر میں بھی ایک نیکی کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ باقی لفظ ان دونوں آیتوں میں دعا کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائے ہیں کہ وہ اس معبود سے اس طرح دعا کیا کریں۔ اس سورت میں نماز روزہ حج نکاح طلاق ایلا رضاعت بہت سے احکام ہیں اس لئے یہ سورت قرآن شریف کی گویا کتاب الاحکام ہے اس کے معنی سخت تکلیف کے ہیں یہود پر سخت احکام جو نازل ہوئے تھے مثلاً توبہ کی جگہ قتل پچاس نمازیں ‘ چوتھائی مال کی زکوٰۃ نزول قرآن کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے تاکہ قرآن شریف میں نرم احکام نازل ہوں اور اگر کوئی سخت حکم نازل بھی ہو تو وہ اس دعا کی برکت سے اسی طرح منسوخ ہوجائے جس طرح دل کے وسوسہ کی آیت منسوخ ہوئی یہ محض اللہ کا فضل ہے جو اس نے اس دعا کے سکھانے سے اپنے بندوں پر کیا ہے یہ وقت تو ایسا ہے کہ نرم احکام کی تعمیل بھی ہم لوگوں سے نہیں ہوسکتی اس وقت اگر کچھ سخت احکام باقی رہ جاتے تو ہم لوگوں کے لئے بڑی دشواری تھی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس دشواری کو آسان کردیا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے فضل سے دین دنیا کی سب دشواریاں آسان کر دے۔ آمین یا ارحم الراحمین۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:285) امن۔ ماضی واحد مذکر غائب ایمان (افعال) مصدر۔ وہ ایمان لایا۔ ا م ن مادہ۔ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ ۔۔ ورسلہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایمان لائے اس پر جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نزال ہوا۔ یونی (قرآن مجید) اور مؤمنین (بھی ایمان لائے) یہ سب ایمان رکھتے ہیں اللہ پر ۔۔ اور اس کے پیغمبروں پر کل اس میں مضاف الیہ محذوف ہے۔ تنوین اس کے عوض ہے۔ کل ای کل واحد منہم ان میں سے ہر ایک (یعنی المؤمنین میں سے ہر ایک۔ کل واحد من المؤمنین) ۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی ترکیب کے متعلق رقمطراز ہیں : ” کل ان میں سے ہر ایک ۔ مضاف الیہ محذوف ہے تنوین اس کے عوض ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ المؤمنون کا عطف یا الرسول پر ہے اس صورت میں وہ ضمیر مضاف الیہ جس کی جگہ تنوین لائی گئی ہے الرسول اور المؤمنون دونوں کے مجموعہ کی طرف راجع ہوگی یا المؤمنون مبتداء ہے اس وقت ضمیر مضاف الیہ صرف المؤمنون کی طرف راجع ہوگی اور کل اپنی خبر کے ساتھ مل کر المؤمنون کی خبر ہوگی اس صورت میں امن کا فاعل تنہا الرسول ہوگا “۔ عظمت شان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے امن کی نسبت صرف الرسول کی طرف کی گئی ہے۔ یا اس وجہ سے تنہا ایمان رسول کا ذکر کیا گیا ہے کہ رسول کا ایمان مشاہدہ اور معائنہ کے ساتھ تھا۔ اور دوسرے لوگوں کا ایمان نظری اور استدلال تھا۔ بظاہر ط کا وقف المؤمنون کے فوراً بعد یہ بتارہا ہے کہ المؤمنون کا عطف الرسول پر ہی ہے اور یہ اگلے جملہ کا مبتدا نہیں ہے کتبہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی طرف سے (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اتاری ہوئی کتابیں ، صحیفے، ہدایتیں۔ نوشتے وغیرہ لانفرق۔ ای ویقولون لا نفرق ۔۔ الخ ۔ لانفرق مضارع منفی کا صیغہ جمع متکلم۔ تفریق (تفعیل) مصدر ۔ فرق مادہ ہم تفریق نہیں کرتے ہیں (کہ کسی پیغمبر کو سچا اور کسی کو جھوٹا کہیں بلکہ سب کو سچا کہتے ہیں) ۔ بین احد من رسلہ۔ احد یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے اسی لئے اس پر بین داخل ہوا ہے کیونکہ بین ایسے اسم پر داخل ہوتا ہے جو کثرت پر دلالت کرتا ہو۔ ہم بین قوم کہیں گے بین زید نہیں کہیں گے۔ وقالوا۔ اس کا عطف امن پر ہے یعنی سب ایمان رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ۔۔ سمعنا۔ ماضی جمع متکلم سمع (باب سمع) مصدر سے۔ ہم نے سنا۔ ہم نے سمجھا۔ واطعنا۔ واؤ عاطفہ۔ اطعنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم، ہم نے حکم مانا۔ ہم نے اطاعت کی۔ اطاعۃ (باب افعال) مصدر۔ غفرانک ربنا۔ اس سے قبل لسئلک محذوف ہے ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں۔ ہم تجھ سے مانگتے ہیں۔ غفرانک مضاف مضاف الیہ۔ غفران (باب ضرب) مصدر۔ تیری بخشش ۔ اے ہمارے رب ہم تجھ سے تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ غفران بوجہ فعل محذوف کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان ومصدر۔ صیر مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانہ۔ قرار گاہ۔ لوٹ کر آنا۔ حاضر ہونا۔ مائل ہونا۔ آیۃ ہذا میں بطور مصدر استعمال ہوا ہے اور بطور مصدر ہی قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر (50:43) تحقیق ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ بطور اسم ظرف مکان قرآن مجید میں ہے حسبھم جھنم یصلونھا وبئس المصیر (58:8) اے پیغمبر ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اس میں داخل ہوں گے۔ سو وہ برا ٹھکانا ہے۔ اور وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم وبئس المصیر (67:6) اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہم بعض انبیاء کو مانتے ہوں اور بعض کا انکار کرتے ہوں بلکہ ہم تمام انبیا کو مانتے ہیں۔6 اس آیت اور اس سے اگلی آیت کی فضیلت میں متعدد احادیث ثابت ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے ورایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے رات کو سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہوگئیں، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک روز آسمان کا ایک دروازہ کھلا اور ایک فرشتے نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دونوروں کی بشارت ہو جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیئے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے یعنی سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں اور سورت فاتحہ۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سورة البقرۃ کی ابتدا ایمانیات سے ہوئی اختتام بھی انہی ہدایات سے کیا گیا ہے جب ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور وہی گناہوں کو معاف فرمانے اور سزا دینے والا ہے تو اسی پر ایمان لاؤ جس پر کائنات کی عظیم ہستی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومن ایمان لائے۔ سورۃ البقرۃ کے آغاز میں ایمان کے بنیادی ارکان کا ذکر ہوا ہے اب اس سورة مبارکہ کا اختتام بھی عقائد کے بیان سے ہورہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ایمان کامل کے بغیر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونا اور ان کی قبولیت ناممکن ہے۔ ابتدا میں اہل ایمان کے حوالے سے دین کے بنیا دی عقائد کا ذکر تھا اور اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر اختتام کیا جارہا ہے کہ یہ وہ عقائد، نظریات، اصول اور احکام ہیں جن پر میرا رسول محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایمان لایا اور تمام مومن یعنی صحابہ کرام (رض) اللہ تعالیٰ ، اس کے ملائکہ، اس کی نازل کردہ کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومن پہلے رسولوں کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں کرتے۔ رسولوں کے درمیان فرق نہ کرنے کا معنٰی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے رسول تھے۔ لیکن اب سب پر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع فرض ہے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومن ان جذبات کا اظہار کرتے ہیں کہ الٰہی ! ہم نے تیرے پیغامات کو سنا اور اس پر ایمان لائے۔ ہمارے رب ! ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کیجیے۔ ہم تیرے حضور ہی حاضر ہونے والے ہیں۔ یہاں دعا کی صورت میں مومنوں کے ایمانی جذبات اور کردار کی ترجمانی کی جارہی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کا رسول سب سے پہلے اپنے رب کے احکام پر ایمان لانے والا اور اس پر عمل کرکے مومنوں کے لیے نمونہ ہوا کرتا ہے۔ یہی نیک قائد اور مذہبی پیشوا کا عمل ہونا چاہیے تاکہ اپنے اور بیگانے سبھی اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے میں رغبت محسوس کریں۔ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْہُ آیَتَیْنِ خَتَمَ بِھَا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ وَلَا یُقْرَآنِ فِيْ دَارٍ ثَلَاثَ لَیَالٍ فَیَقْرَبُھَا شَیْطَانٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی آخرسورۃ البقرۃ ] ” نعمان بن بشیر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک کتاب لکھی اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں جن سے سورة البقرہ کا اختتام کیا جس گھر میں یہ تین راتیں پڑھی جائیں وہاں شیطان نہیں جاتا۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ بَیْنَمَاجِبْرِیْلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذْ سَمِعَ نَقِیْضًا مِّنْ فَوْقِہٖ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ ھٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْیَوْمَ لَمْ یُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَنَزَلَ مِنْہُ مَلَکٌ فَقَالَ ھٰذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ یَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُوْرَیْنِ أُوْتِیْتَھُمَا لَمْ یُؤْتَھُمَا نَبِيٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ وَخَوَاتِیْمُ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِّنْھُمَا إِلَّا أُعْطِیْتَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس دوران انہوں نے ایک زور دار آواز سنی اور اپنا سر اٹھانے کے بعد فرمایا کہ آسمان کا جو دروازہ آج کھولا گیا ہے یہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازے سے ایک ایسا فرشتہ نازل ہوا ہے جو آج سے پہلے زمین پر نہیں اترا۔ اس فرشتے نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور کہا دو نوروں کی خوشخبری سنیے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیے گئے ان میں سے ایک فاتحۃ الکتاب اور دوسرا سورة البقرہ کی آخری دو آیات ہیں۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کی مانگی مراد پوری ہوجائے گی۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ، ملائکہ، آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ ٢۔ مومن بندے انبیاء کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ ٣۔ مومن بندے سننے، ماننے اور اپنے رب سے معافی طلب کرنے والے ہوتے ہیں۔ ٤۔ ہر نفس نے اللہ تعالیٰ کی طرف ہی پلٹنا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیے : ١۔ مومن اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق نہیں کرتے۔ (النساء : ١٥٢) ٢۔ رسولوں کے درمیان فرق کرنا کفر ہے۔ (البقرۃ : ٢٨٥) ٣۔ کافر اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔ (النساء : ١٥٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ٢٢ ایک نظر میں یہ سبق اس عظیم سورت کا اختتامیہ ۔ یہ قرآن کریم کی طویل ترین سورت ہے ۔ اور اس کی تعبیرات بھی اپنے اندر ایک بڑا حجم رکھتی ہیں ۔ اس سورت کے اس حجم اور طوالت کے اندر اسلامی تصور حیات کے ایک بڑے حصے کو سمودیا گیا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ ، اسلامی جماعت کی مختلف صفات ، اس کے فرائض ، اس کے طریقہ کار اور اس کرہ ارض پر مختلف امور کے بارے میں اس کی پالیسیوں کے بارے میں پوری تفصیلات اس سورت میں موجود ہیں ۔ اس پوری کائنات میں امت مسلمہ کا کیا کردار ہے ؟ اسلامی نظام زندگی کے مخالفین ، مقابلین اور دشمنان کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے ؟ ان دشمنان کا مزاج کیا ہے اور اسلامی نظام کی محاربت میں ان کے وسائل کیا ہیں ؟ نیز اسلامی جماعت ان کے مقابلے میں کیا وسائل وذرائع اختیار کررہی ہے ۔ اور ان کی سازشوں کا مقابلہ کن ذرائع سے کررہی ہے ۔ ان امور کے علاوہ اس سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی لحاظ سے خود حضرت انسان کا اس کرہ ارض پر کیا کردار مقرر کیا گیا ہے ؟ انسان کی فطرت کیا ہے ؟ اور انسانی تاریخ میں انسان کیا سے کیا کو تاہیاں اور لغزشیں ہوئی ہیں ۔ تاریخی قصص پیش کرکے ان کی وضاحت کی گئی ہے ۔ غرض یہ اور وہ تمام دوسری باتیں جن کی تفصیلات اس طویل سورت میں بیان کی گئیں ۔ یہ سبق اس طویل سورت کا اختتامیہ ہے اور صرف دو آیات میں لیکن ان دو آیات میں ان تمام مضامین اور افکار کو سمودیا گیا ہے ۔ جو اس طویل ترین سورت میں زیر بحث آئے ۔ یہ آیات فی الواقع سورت کا ایک اچھا اختتامیہ ہیں جو اس پوری سورت کے ساتھ ہم آہنگ ، متناسب اور اس سورت کے مقاصد اور اس کے اندر پائی جانے والی واقعاتی فضاء کے ساتھ مناسب ہیں ۔ اس سورت کا آغاز ان الفاظ ان الفاظ سے ہوا تھا ۔” لاف ، لام ، میم ، یہ اللہ کی کتاب ہے۔ “ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ “ ان الفاظ میں اس حقیقت کی طرف واضح اشارات دئیے گئے ہیں کہ اہل ایمان تمام رسولوں اور تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ۔ اب ذرا اس اختتامیہ کے الفاظ پر غور کریں ۔ اور رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے ۔ اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں ۔ انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔ یہ سب اللہ اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ۔ “ غرض یہ ایک ایسا اختتامیہ ہے جس طرح کتاب کے کور کے دوحصے ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس سورت میں امت مسلمہ کے فرائض کا بڑا حصہ بیان کیا گیا ہے ۔ اور زندگی کے مختلف میدانوں میں اسلامی قوانین کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے جس طرح اپنے فرائض کو نظر انداز کیا اور جس طرح انہوں نے شریعت خداوندی سے روگردانیاں کیں ان کا بھی تفصیلاً ذکر کیا گیا ۔ چناچہ اختتامیہ میں یہ آیات صاف بتادیتی ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور شریعت کی اطاعت کس طرح ہوتی ہے اور ذمہ داریوں سے پہلو تہی اور شریعت سے نافرمانیاں کیوں کر جاتی ہیں ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر کوئی مصیبت ڈالنا نہیں چاہتے ۔ نہ اس پر کوئی بھاری بوجھ لادنا چاہتے ہیں ۔ نہ اللہ تعالیٰ کو امت مسلمہ سے کوئی خاص دوستی ہے ۔ جس طرح یہود ونصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص محبوبین میں سے ہیں۔ اور نہ یہ صورت حال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو نظر انداز کردیا ہے ۔ بلکہ صورت احوال یہ ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے ، اس کا وبال اسی پر ہے ۔ “ اس سورت میں بنی اسرائیل کے قصے بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ وہ حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جن میں بڑے مشکل وقت اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر اپنا فضل وکرم کیا اور اس کا انکار اور ناشکری کا تذکرہ بھی ہوا ہے ۔ جو ان انعامات کے مقابلے میں انہوں نے کی ۔ پھر وہ سزائیں بھی مذکور ہیں ۔ جو اللہ تعالیٰ نے بطور کفارہ ناشکری انہیں دیں اور یہ سزائیں سزائے موت تک تھیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ................” تو اپنے باری تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو۔ “ ایسے ہی حالات کے بارے میں اسی سورت کے اختتام پر اہل ایمان کو دعا سکھائی جاتی ہے کہ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ ایسے حالات سے پناہ مانگیں جو بنی اسرائیل کو پیش آئے ۔ فرماتے ہیں ۔” اے ایمان والو ، یوں دعا کرو “ اے ہمارے رب ، ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ، مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے وہ ہم پر نہ رکھ ، ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم کر۔ “ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین پر قتال فی سبیل اللہ فرض کیا تھا ۔ اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور اپنا مال اس کی راہ میں خرچ کریں تاکہ کفار اور کفر دونوں کا دفاع کیا جاسکے ۔ چناچہ سورت کے آخر میں اس دعا میں وہ ان تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اللہ کی امداد چاہتے ہیں ۔ دشمن کے مقابلے میں اللہ کی نصرت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔” تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ غرض یہ اس پوری سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں مضامین سورت کا خلاصہ بصورت اشارات دیا گیا ہے ۔ جو پوری سورت کے اصل خطوط کے ساتھ متناسب اور متوازی ہے ۔ پھر ان دونوں آیات پر مشتمل اس اختتامیہ کا ہر لفظ اپنے اندر وسیع معانی رکھتا ہے ۔ ہر لفظ کا اپنا موضوع اور اپنی اہمیت ہے اور اس کے پیچھے جو مباحث گزرے ہیں ۔ یہ لفظ ان کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اور یہ مباحث عظیم مباحث ہیں ۔ جن کا تعلق اسلامی نظریہ حیات ۔ نیز دین اسلام میں اسلامی نظریہ حیات کی اہمیت ، اس کی خصوصیات اور اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں ہیں ۔ ان میں اہل ایمان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق کی نوعیت ، اللہ کے بارے میں ان کا تصور ، وہ فرائض اور ذمہ داریاں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کیں ۔ ان کی تفصیلات ہیں ۔ وہ التجا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔ وہ مشیئت ایزدی کے تابع ہوں اور اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہے ۔ غرض اس اختتامیہ کے ہر لفظ کی اپنی جگہ ایک عظیم اہمیت ہے ۔ اور جو شخص قرآن کے سائے میں زندگی بسر کرچکا ہو اور اسے معلوم ہو کہ قرآن کریم کا انداز تعبیر کیا ہے ؟ اور اس کی آیات میں سے ہر آیت کے اسرار و رموز کیا ہیں تو اسے معلوم ہے کہ ان الفاظ میں سے ہر لفظ کی اپنی شان ہے اور ہر لفظ ایک اعجوبہ ہے ........ مناسب ہے کہ ہم ان آیات پر قدرے تفصیلی بحث کریں۔ ان آیات میں اہل ایمان کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے ۔ یہ اس برگزیدہ جماعت کی تصویر ہے ۔ جس کی زندگی میں حقیقت ایمان عملی شکل میں ظاہر تھی ۔ اور قیامت تک آنے والی تمام جماعتوں کے یہی خدوخال ہوں گے ۔ جن کی زندگیوں میں حقیقت ایمان عملی شکل اختیار کرلے ۔ اس جماعت مومنہ کو اللہ تعالیٰ یوں اعزاز دیتے ہیں کہ اس کا ذکر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صفت ایمان میں یکجا کرتے ہیں ۔ یہ ایک عظیم اعزاز وشرف ہے ۔ اس لئے کہ اس یکجائی سے جماعت مومنہ حقیقت رسالت تک رسائی حاصل کرلیتی ہے ۔ اور جماعت مسلمہ کو یہ شعور بھی حاصل ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر اس کی حیثیت اور مقام کیا ہے ، اسے احساس ہوجاتا ہے ۔ وہ کیا مرتبہ بلند ہے ۔ جس تک اللہ تعالیٰ نے اسے اٹھایا ہے ۔ اس طرح کہ اللہ صفت ایمان میں اہل ایمان کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یکجا فرماتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سب ایمان لائے ہیں۔ ایک ہی صفت ایک ہی آیت میں اور پھر اللہ کے کلام میں آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ................ ” رسول اس ہدایت پر ایمان لائے ہیں ۔ جوان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہے ۔ اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں ۔ انہوں نے بھی اسی ہدایت کو دل سے تسلیم کیا ہے ۔ “ رسول اللہ پر جو کلام نازل ہوتا ہے ، اس پر رسول کا ایمان مہبط وحی ہونے کی وجہ سے براہ راست ہوتا ہے ۔ آپ کے قلب صافی پر بلندو برتر وحی نازل ہوتی ہے اور براہ راست حقیقت عظمیٰ کے ساتھ آپ کا بلاواسطہ تعلق قائم ہوتا ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو شخصیت رسول میں بذات خود ، بلاکسب واکتساب متشکل ہوتی ہے ۔ رسول اور ذات باری کے درمیان نہ کوئی واسطہ ہوتا ہے اور نہ ہی رسول کے مقام رسالت کے بارے میں کچھ عزائم ہوتے ہیں ۔ اس لئے رسول کا درجہ ایمان کے متعلق تو رسول ہی سوچ سکتا ہے اور اس کا وصف اور بیان بھی وہی شخص کرسکتا ہے جس نے درجہ ایمان کو بعینہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح پالیا ہے ۔ تو ذات باری اور کلام باری پر یہ براہ راست ایمان صرف رسول کا ایمان ہوتا ہے ۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صفت ایمان میں شریک کرکے گویا ان کو ایک قسم کا شرف و اعزاز عطا فرماتے ہیں ۔ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صفت ایمان کی حقیقت اور آپ کے سوا تمام اہل ایمان کی حقیقت ، ماہیت اور کیفیت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ اور اس ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کے حدود اربعہ کیا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ” یہ سب اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کا مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ۔ ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ “ یہ ہے مکمل ایمان جو دین اسلام نے پیش کیا ہے ۔ یہ ایمان اس قابل ہے کہ جس پر یہ امت پوری طرح جم جائے جو دین کی وارث ہے ۔ جو اس دین کی داعی ہے ۔ اور یہ دعوت اس نے قیام تک پوری دنیاکو دینی ہے ۔ جس دعوت کی جڑیں تاریخ کی طویل وادیوں میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ جس کے قافلے مسلسل چل رہے ہیں ۔ یہ رسالت کے قافلے ہیں اور انسان کی طویل تاریخ میں یہ قافلے پھیلے ہوئے ہیں ۔ یہی ایمان ہے جس نے آغاز انسانیت سے ، انسانوں کو دومحاذوں میں تقسیم کردیا ہے ۔ ایک محاذ اہل ایمان کا ہے ۔ اور دوسرا محاذ اہل کفر کا ہے ۔ ایک محاذ حزب اللہ کا ہے اور دوسرا حزب الشیطان کا ہے ۔ اور پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ان کے علاوہ کوئی تیسرا محاذ نہیں ہے۔ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ................ ” سب ایمان لائے ہیں۔ “ اللہ کی ذات پر ایمان اسلامی تصور حیات کا بنیادی پتھر ہے ۔ یہ اس نظام زندگی کی اساس ہے جو زندگی کو استحکام بخشتا ہے ۔ یہ اسلامی اخلاقیات کی اساس ہے ۔ اور اسی پر اسلام کا اقتصادی نظام استوار ہوا ہے ۔ اور یہ ہر اس تحریک کی اساس ہے جو ایک مسلم یہاں یا وہاں برپا کرتا ہے ۔ اور ایمان باللہ کا مفہوم کیا ہے ؟ یہ کہ صرف اللہ ہی الٰہ ہے ۔ وہی رب ہے ، وہ بندگی کے لائق ہے ۔ وہی ہے جسے انسان کے ضمیر ، انسان کے طرز عمل ، اور اس کی زندگی کے ہر موڑ پر حکمرانی کا حق حاصل ہے ۔ اس لئے اللہ کے ساتھ اس کی خدائی میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ اس جہاں کی نگہبانی میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اسی کائنات کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کائنات کو چلانے میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کائنات کے چلانے میں اس کے کام میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا ۔ اس زندگی کے چلانے میں کوئی دخیل نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ اس مخلوق کی رزاقی میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس مخلوق کی نفع رسانی یا ضرر رسانی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ غرض اس کائنات کا کوئی بڑا معاملہ ہو یا چھوٹا ، اس کی مشیئت اور رضا کے سوا پائے تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ عبادت اور بندگی کے معاملے میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں ۔ عبادت کے شعائر میں کوئی شریک نہیں ، اطاعت و بندگی میں اس کا کوئی شریک نہیں ۔ نہ دین میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ لہٰذا پرستش صرف اسی کی ہوگی ۔ اطاعت صرف اسی کی ہوگی یا اس کی ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے لئے کام کررہا ہے اور اس کی شریعت کو نافذ کررہا ہے اور اپنے اقتدار اور سلطنت کو اللہ سے اخذ کرتا ہے ۔ اس لئے کہ مقتدر اعلیٰ تو وہی ذات ہے ۔ لہٰذا عوام الناس پر فکری حکومت ، یا ان کے طرز عمل پر حکومت وہی شخص کرسکتا ہے ۔ جو دین اسلام سے اپنے لئے اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے ۔ لہٰذا اخلاقی اصول اور قانون سازی کے اصول وقواعد ، ہمارے اجتماعی نظام کے اصول اور ہمارے اقتصادی اصول ، سب کے سب صرف ذات باری تعالیٰ کے احکام اور اس کی ذات سے اخذ ہوسکتے ہیں ۔ یہی ہے ایمان کا مفہوم اور اس کا خلاصہ ، یہی ایمانی تصور حیات ہے جس کو اپنا کر ایک شخص ماسوا اللہ کے بندھنوں اور غلامیوں سے آزاد ہوسکتا ہے ۔ شریعت خداوندی کے علاوہ تمام حدود وقیود سے آزاد ہوجات ہے ۔ آزاد ہی نہیں بلکہ انسان سلطنت الٰہیہ کے سوا تمام قوتوں پر غالب آجاتا ہے۔ وَمَلائِكَتِهِ................ ” اور اس کے فرشتوں پر۔ “ اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانا ، ایمان بالغیب کا ایک پہلو ہے ، اسی سورت کے آغاز میں ، یعنی حصہ اول میں ہم اس موضوع پر بحث کر آئے ہیں کہ فرشتوں پر ایمان لانے کے اثرات انسانی زندگی پر کیا پڑتے ہیں اور اس کے کیا فوائد ہیں ۔ یہ ایمان انسان کو نچلی سطح سے بلند کردیتا ہے جو خود اس کی دنیا تک محدود ہے اور جو خاصہ حیوانات ہے ۔ اس ایمان کی بدولت انسانی علم ومعرفت کا ماخذ حواس سے وراء ہوجاتا ہے ۔ اور ایک انسان ایک حیوان کی سطح سے بلند ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح وہ اعلان کردیتا ہے کہ وہ انسان ہے اور اس کے خواص بالکل جدا ہیں ۔ انسان کا یہ ایک فطرتی تقاضا ہے کہ وہ پردہ غیب کے اندر مستور نامعلوم حقائق کو معلوم کرنے کا شوق رکھتا ہے ۔ یہ حقائق اگرچہ اس کے حواس کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں لیکن انسان بتقاضائے فطرت ان کے وجود کو محسوس کرتا ہے ۔ اگر انسا کے اس فطری داعیہ اور تقاضے کے سامنے وہ غیبی حقائق نہ رکھے گئے ۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطاکئے ہیں تو انسان کا یہ داعیہ انسانوں اور مذہبی دیومالاؤں میں گم ہوکر اپنے اس فطری تقاضے کی تشفی کرتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنی ایک فطری پیاس کو بجھاتا ہے اور اگر وہ ان توہمات اور طلسمات میں نہ پڑے تو وہ نفسیاتی الجھنوں اور اضطرابات کا شکار ہوجاتا ہے۔ فرشتوں پر ایمان لانا بھی ایک ایسی حقیقت ہے کہ انسان کا فہم وادراک بذات خود اسے نہیں پاسکتا ۔ یعنی صرف ان محسوس اور عقلی قوتوں کے بل پر جو اسے عطاکی گئی ہیں ۔ لیکن اپنی فطرت کے اعتبار سے ، انسان کے اندر ان غیبی حقائق تک رسائی کا بےحد شوق پایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ خالق انسان ہے ۔ وہ اس کی ساخت اور اس کے رجحانات سے اچھی طرح واقف ہے ۔ وہ ان امور سے بھی واقف ہے جو انسان کے لئے مفید ہیں اور جن سے اس کی اصلاح بھی اچھی طرح ہوسکتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی رحمت و شفقت کی وجہ سے بعض غیبی حقائق سے مطلع کیا ۔ اور تمثیلات کے ذریعہ ، ان غیبی حقائق کو اس کے فہم وادراک کے قریب لانے کی کوشش کی ۔ کیونکہ بغیر تمثیلات کے انسان کے موجودہ ذرائع فہم ان کا براہ راست ادراک کرنے سے قاصر تھے ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی ذاتی جدوجہد سے ان حقائق کے معلوم کرنے کی خاطر محنت ومشقت سے بچالیا ۔ اس لئے کہ صرف اپنی ذاتی قوتوں کے بل بوتے پر اس کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ اس سلسلے میں وہ الٰہی علم ومعرفت کا محتاج تھا ۔ اگر اللہ کی جانب سے یہ حقائق بتلائے نہ جاتے تو اس کا دل کبھی مطمئن نہ ہوتا اور اس کی شخصیت سکون وقرار سے محروم ہوتی ۔ جو لوگ اپنی فطرت کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے تصور سے غیبی حقائق کی نفی کرتے ہیں ۔ وہ ایسے خرافات اور اوہام کا شکار ہوجاتے ہیں جنہیں دیکھ کر بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ یا پھر وہ ذہنی خلجان میں مبتلاء ہوجاتے اور ان کی زندگی پیچیدگیوں اور مضحکہ انگیز خرافات کا شکار ہوجاتی ہے ۔ ملائکہ پر ایمان ان غیبی حقائق پر ایمان ہے ، جو عقل وخرد کے اعتبار سے یقینی حقائق ہیں ۔ پھر یہ حقائق منجانب اللہ ہیں اور ان پر ایمان کے نتیجے میں اس کائنات کے بارے میں انسانی شعور کو وسعت ملتی ہے ۔ مومن کے تصور میں یہ جہاں اس قدر سکڑا ہو انہیں ہوتا کہ یہ اسی قدر ہے جس قدر اس کے حواس میں آسکتا ہو۔ اس لئے کہ انسانی حواس اس کائنات کے نہایت ہی مختصر حصے پر قابو پاسکتے ہیں ۔ فرشتوں پر ایمان لانے والے انسان میں یہ شعور بھی موجزن ہوتا ہے کہ اس کی رفاقت میں ، اس کے اردگرد پھیلے ہوئے ، بیشمار غیر مرئی مومنین ہیں ، جو اس کے ساتھ اپنے رب پر ایمان لانے میں شریک ہیں ، جو اس کے لئے ہر وقت استغفار کرتے رہتے ہیں ۔ ہر بھلے کام میں اس کے معاون و مددگار ہیں ، اگر اللہ چاہے ۔ غرض یہ ایک لطیف ، اور تروتازہ ہم نشین کا شعور ہوتا جو ہر وقت ایک مومن کو حاصل ہوتا ہے ۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی معرفت حاصل کئے ہوتا ہے ۔ جو اللہ پر ایمان لانیوالوں اور فرشتوں پر ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ................ ” اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر اور ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک میں تفریق نہیں کرتے ۔ “ اسلام نے اللہ پر ایمان لانے کا جو تصور دیا ہے ۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں ۔ اور اس سلسلے میں کسی ایک رسول اور دوسرے رسول کے درمیان امتیاز نہ کریں ۔ اس لئے کہ اللہ پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان تمام حقائق پر ایمان لے آئے ، جو منجانب اللہ آئے ہیں ۔ ان تمام رسولوں کی تصدیق کرے ، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کبھی مبعوث ہوئے۔ اس لئے کہ وہ سرچشمہ ایک ہے ۔ جس کی جانب سے یہ سب رسول آئے ۔ وہ تمام کتابیں جو نازل ہوئیں وہ ایک ہی ذات کی طرف سے نازل ہوئیں ۔ اس لئے ، اس تصور ایمان کے نتیجے میں ایک مسلمان کے ذہن میں رسولوں کے مقام وحیثیت میں کوئی فرق و امتیاز ممکن ہی نہیں ۔ ہر رسول اللہ جل شانہ کی جانب سے مبعوث ہوا ۔ اور وہ ایسی صورت میں مبعوث ہوا ، جو ان لوگوں کے لئے حالات کے لئے مناسب تھی جن کی طرف وہ رسول مبعوث ہوا تھا۔ اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور آخرکار حضرت محمد خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ختم ہوا۔ اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ایسی شکل و صورت میں تشکیل پائی کہ وہ قیامت تک تمام انسانیت کے لئے ایک آخری اور مکمل نظام زندگی قرار پائی۔ اس تصور ایمان کے نتیجے میں امت مسلمہ تمام رسولوں کی رسالت کی وارث قرار پائی ۔ اب اسلامی نظام زندگی امت مسلمہ کی وراثت ہے اور اس کرہ ارض پر اس کے کاندھے پر عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے ۔ اور مومنین اللہ تعالیٰ کے صاحب اختیار علم بردار ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا علم بلند کریں گے اور اس علم کے بل بوتے پر وہ اس کرہ ارض پر ، جاہلیت کے تمام نشانات اور علامات کا مقابلہ کریں گے ۔ اس وقت یہ جاہلیت کبھی وطنی قومیت کا علم بلند کرتی ہے ۔ کبھی نسلی قومیت کے روپ میں آگے بڑھتی ہے ۔ کبھی یہ طبقاتی رنگ میں آتی ہے اور کبھی یہ صہیونیوں اور صلیبیوں کے جھنڈوں کے سایہ میں استعماری شکل میں آتی ہے ۔ کبھی وہ الحاد اور بےدینی کی شکل میں آتی ہے ۔ غرض زمان ومکان کے اختلاف سے ، اس کے رنگ ڈھنگ بھی مختلف ہیں ۔ کبھی وہ کس نام سے آتی ہے اور کبھی کس نشان سے آتی ہے ۔ لیکن اس کے علم بردار وہی ہیں یعنی جاہلیت کے پرستار ۔ اس کرہ ارض پر امت مسلمہ جس سرمایہ کی حفاظت پر مامور ہے ، وہ اسے قدیم ترین ادوار سے اس کرہ ارض پر مبعوث ہونے والے تمام رسولوں سے ملا ہے۔ اور یہ سرمایہ پوری انسانیت کا نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ یہ ہدایت اور روشنی کا سرمایہ ہے ۔ یہ یقین و اطمینان کا سرمایہ ہے ۔ یہ سعادت اور رضائے الٰہی کا سرمایہ ہے ۔ یہ علم ومعرفت کا سرمایہ ہے ۔ یادر کھو ! جو دل اس سرمایہ سے تہی دامن ہوا وہ تاریکیوں اور رنج والم کا شکار ہوگا ۔ وہ اضطراب وخلجان سے دوچار ہوگا اور شکوک و شبہات میں گرفتار ہوگا۔ وہ بدبختی اور پریشانی کے ہاتھوں عاجز آجائے گا ۔ اس کی زندگی یوں گزرے گی جس طرح ایک شخص تہہ بہ تہہ اندھیروں ، بےآب وگیاہ ریگستان میں ٹامک ٹوئیاں ماررہاہو ۔ اسے نظر نہ آرہاہو کہ وہ کہاں قدم رکھے اور کہاں نہ رکھے ۔ ان دلوں کی چیخ و پکار انتہائی کربناک ہے ۔ وہ اس زاد راہ سے محروم ہوگئے ہیں ۔ جن سے یہ قیمتی سرمایہ لٹ گیا ہے ۔ جو ایسے غمگسار رفیق سفر سے محروم ہوچکے ہیں ۔ یہ کربناک چیخ و پکار تاریخ کے ہر دور میں سنی گئی ۔ بشرطیکہ دل زندہ ہوں ، ان میں احساس ہو ، وہ اپنے اندر معرفت حقیقت اور حصول یقین کا داعیہ رکھتے ہوں ۔ رہے وہ دل جو مرچکے ہیں جو غبی ہیں ، جن کی عقل موٹی ہے ، جن کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ ان میں حصول معرفت کی یہ تڑپ نہ ہو ، وہ حصول معرفت سے بےنیاز ہوں ۔ لیکن اس کرہ ارض پر ان جیسے لوگوں کی روش بہائم کی طرح روش ہوتی ہے ۔ وہ مویشیوں کی طرح کھاتے اور پیتے ہیں ۔ ان کا محبوب مشغلہ یہ ہوتا ہے ۔ اس کرہ ارض پر ظلم و استبداد کا ارتکاب کریں ، مار دھاڑ میں مشغول ہوں اس زمین میں فساد پھیلائیں اور اس سے اس طرح رخصت ہوں کہ ان پر تمام لوگوں کی نفریں ہوں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ وہ معاشرے انتہائی ، بدبخت معاشرے ہیں جو اس دولت سے محروم رہ گئے ۔ اگرچہ وہ مادی سہولیات میں گردن تک ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ مرعاشرے گرے ہوئے تباہ حال معاشرے ہیں ۔ اگرچہ مادی پیداوار کے اعتبار سے ان کا گراف بہت اونچا ہو ۔ یہ معاشرے کربناک معاشرے ہیں ۔ اگرچہ وہ مکمل شہری آزادیوں سے مستفید ہوں ، داخلی طور پر زندگی پرامن ہو اور انہیں کوئی خارجی خطرہ بھی لاحق نہ ہو ، ہمارے پاس اس جدید دور میں ایسے معاشروں کی کئی مثالیں موجود ہیں ، اس بات کا انکار صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو انتہائی درجے کا مکار ہو اور جو اس قدر بےحیا ہو کہ محسوس اور کھلے حقائق کا انکار کرسکتا ہو۔ رہے اہل ایمان تو ان کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ۔ اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ وہ بارگاہ الٰہی میں تسلیم ورضا اور سمع وطاعت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں ۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ آخر کار اللہ کی جانب لوٹنے والے ہیں ۔ لہٰذا وہ ہر وقت اپنی تقصیرات پر طلب مغفرت کرتے ہیں وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ................ ” ہم نے حکم سنا اور اطاعت کی ۔ مالک ! ہم تجھ ہی سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ “ ان کلمات سے ایمان باللہ ، فرشتوں ، ، کتابوں اور رسولوں پر ایمان کے اثرات روشنی کی طرح ظاہرہوتے ہیں ۔ ان کا ظہور سمع و اطاعت کی صورت میں ہوتا ہے۔ اہل ایمان کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ پیغام آتا ہے ، وہ اسے سنتے ہیں ، وہ ہر اس حکم پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ جس کا حکم اللہ تعالیٰ دیتے ہیں ۔ یعنی ان کا قائد صرف اللہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے قائد کے ہر اشارے کو روبعمل لاتے ہیں ۔ اس لئے کہ اسلام کا کوئی ایساتصور نہیں ہے جس میں اللہ کے احکام کی اطاعت نہ ہو ، جس میں پوری زندگی میں نظام ربانی کا نفاذ ضروری نہ ہو ۔ اگر کسی معاشرے کی یہ حالت ہوجائے کہ اس میں لوگ اپنی زندگیوں کے یہ چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر اتر آئے ہوں تو ایسے معاشرے کو اہل ایمان کا معاشرہ نہیں کہا جاسکتا ۔ یا جہاں اللہ کی شریعت نافذ نہ ہو ۔ جس کے اخلاقی تصورات جس کا طرز عمل ، جس کے اجتماعی اور اقتصادی اور سیاسی امور سب کے سب غیر اسلامی تصورات سے ماخوذ ہوں تو ایسے معاشرے کو کس طرح ایک اسلامی معاشرہ کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے ایمان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ دل مومن میں قرار پکڑے اور اس کی تصدیق عمل سے ہو۔ اور سمع وطاعت کے ساتھ ساتھ ، انسان کو اپنی تقصیرات اور کوتاہیوں کا بھی مکمل شعورہو ، وہ یقین رکھتاہو کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا حق شکر ادا نہیں کرسکتا ۔ وہ اپنے فرائض سے کماحقہ عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں التجا کرتا ہے کہ وہ اس کی کوتاہیوں کا تدارک اپنی رحمت اور مغفرت سے فرمائیں۔ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا ................ ” اے ہمارے رب ، ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں۔ “ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ اپنی تقصیرات پر طلب مغفرت کا مقام ومحل سمع و اطاعت اور اللہ کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے کے بعد آتا ہے ۔ پہلے بغیر کسی نافرمانی اور بغیر کسی انکار کے مکمل انقیاد ضروری ہے ۔ اس کے بعد ہی انسان کے اندر یہ یقین پیدا ہوسکتا ہے کہ اس نے دنیا وآخرت میں اللہ کی طرف لوٹنا ہے ۔ اس کے عمل معاملے میں ، اور ہر عمل میں اس نے اللہ کے سامنے جوابدہی کرنی ہے ۔ اور اللہ کا فیصلہ پھر اس معاملے میں اٹل ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس کے مقابلے میں کوئی طاقت بچانے والی نہیں ہے ۔ اس کے فیصلے اور حکم سے صرف اس کی مغفرت ہی بچاسکتی ہے ۔ صرف اس کی رحمانیت ہی کام آسکتی ہے ۔ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ................ ” تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ “ ان الفاظ میں ایمان بالآخرۃ کا بیان ہوا ہے ۔ اللہ پر ایمان لانے کے تقاضوں میں سے ایک بین تقاضا ایمان بالآخرت ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے حوالے سے یہ لازم وملزوم ہیں ۔ اس تصور حیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ ایک عہد کے تحت اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ۔ یہ عہد اس کے اندر طے شدہ شرائط ، اس کرہ ارض پر انسان کی پوری زندگی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ اللہ نے یہاں اسے خلیفہ اس غرض وغایت کے لئے بنایا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں وہ اس کا امتحان لے ۔ اور آخری امتحان کے بعد وہ آخرت میں اسے جزاء و سزاء دے ۔ اس لئے اسلامی تصور حیات کی رو سے عقیدٔ آخرت ایمان کے لازمی تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا ہے۔ اس پر ایمان لانا ، ایک مومن ومسلم کے تصورات اور اس کے طرزعمل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسی ایمان کی روشنی میں ، اس دنیا میں ایک مومن کی اقدار حیات تشکیل پاتی ہیں ۔ اور اس کے حسی نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔ وہ مطیع فرمان ہو کر چلتا ہے ۔ وہ بھلائی کی راہ پر چلتا ہے ۔ وہ بھلائی کا متلاشی اور سچائی پر قائم رہتا ہے ۔ چاہے اس کا نتیجہ اس جہاں میں اسے بصورت راحت ملے یا بصورت مشقت ۔ اسے اس جہاں میں فائدہ ہو یا نقصان ہو ، اسے فتح ہو یا شکست ہو ، وہ کچھ پارہا ہو یا کچھ کھو رہا ہو ، اسے یہاں زندگی مل رہی ہو یا شہادت نصیب ہورہی ہو ۔ اس لئے کہ اس کی اصل جزاء اسے یوم آخرت میں ملے گی جب وہ اس دنیا کے امتحان میں کامیاب اور سرخرو ہوجائے گا ....... اس کا عزم اس قدر صمیم ہوتا ہے کہ اس کی راہ اطاعت ، راہ حق ، راہ بر اور راہ صداقت سے ، اسے پوری دنیا کی مخالفت ، پوری دنیا کی فتنہ انگیزی اور فتنہ وقتل اسے ہٹا نہیں سکتے ، کیونکہ اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ وہ عہد الست کو اپنی پوری شرائط کے ساتھ نافذ کررہا ہوتا ہے ۔ اور اپنے اجر کا طلب گار آخرت میں ہوتا ہے۔ یہ ایک عظیم وحدت ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کا یہی مزاج ہے ۔ اور اسے اس مختصر سی آیت میں سمودیا گیا ہے ۔ اللہ اور ملائکہ پر ایمان ، تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان ، بلا تفریق و امتیاز ، اور اللہ کی طرف مکمل رجوع وسمع وطاعت کے ساتھ اور یوم آخرت میں جو ابدہی پر ایمان اور اس کا ہر وقت احساس ۔ یہ ہے اسلام ، یہ ایسا عقیدہ جو خاتم العقائد ہے ۔ یہ آخری رسالت ہے ۔ ایسا عقیدہ جو قافلہ اہل ایمان کو آغاز انسانیت سے انتہائے انسانیت تک ساتھ لے کر چلتا ہے ۔ اس کے سفر کی سمت پوری تاریخ انسانیت میں ، اللہ کے رسول متعین کرتے ہیں ۔ جن کی قیادت میں انسانیت بتدریج ترقی کے درجات طے کرتی ہے ۔ یہ عقیدہ اسے اس کائنات کے ناموس اکبر سے بقدر استطاعت انسان ، اسے متعارف کراتا ہے ۔ یہاں تک کہ آخر میں اسلامی نظام زندگی آتا ہے ۔ وہ توحید کا اعلان کرتا ہے اور عقل انسانی کو آزاد چھوڑدیا جاتا ہے کہ اب وہ معرفت کردگار میں خود آگے بڑھے ۔ یہی وہ نظریہ حیات ہے جو ایک انسان کو انسانیت سے روشناس کراتا ہے ۔ وہ اسے جمادات اور حیوانات کے مقام سے بلند کرتا ہے ۔ وہ اسے فرشتوں اور شیطانوں سے بھی ایک علیحدہ تشخص دیتا ہے ۔ وہ انسان کا بحیثیت انسان اعتراف کرتا ہے ۔ وہ اس کی کمزوریوں کو بھی تسلیم کرتا ہے اور اس کے کمالات کا بھی لحاظ رکھتا ہے ۔ وہ اسے ایک ایسی مخلوق کی طرح لیتا ہے جس کے جسم میں مختلف قسم کے رجحانات ہیں ۔ وہ ایک عقل فعال کا حامل ہے ۔ وہ ایک روح رکھتا ہے جس کے میلانات میں بوقلمونی ہے ۔ اس لئے وہ اس پر صرف ایسے فرائض و واجبات عائد کرتا ہے جن کے لئے یہ جسم اور یہ حضرت انسان اور اس کی شخصیت متحمل ہوسکتی ہے۔ یہ عقیدہ ان فرائض اور انسان کی صلاحیت اور طاقت کے درمیان بہترین توازن قائم رکھتا ہے ۔ اس قدر بوجھ ڈالتا ہے کہ انسان مشقت اور تھکاوٹ محسوس نہ کرے ۔ یہ عقیدہ انسان کے جسمانی تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے ۔ انسان کے عقلی تقاضوں کا بھی خیال رکھتا ہے ۔ اور اس کی روحانی دنیا بھی آباد کرتا ہے ۔ اور یہ سب کام انتہائی فطری توازن کے ساتھ ، اور ان سب امور کے بعد وہ انسان کو یہ آزادی عطا کرتا ہے کہ وہ جو راہ اپنے لئے اختیار کرتا ہے ، کرے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

562 اس سورة جلیلہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت نماز، زکوۃ، حج، نکاح، طلاق، جہاد، انفاق اور حرمت ربا وغیرہ کے احکام بیان فرمائے ہیں اب سورت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ خدا کا پیغمبر اور تمام مومنین ان احکام کو دل وجان سے تسلیم کرچکے ہیں۔ اور عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا ہیں آگے اس کی قدرے تفصیل ہے۔ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ الخ۔ خدا کا پیغمبر اور سارے کے سارے مومن خدا کی توحید پر ایمان لا چکے ہیں۔ خدا کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے تمام رسولوں کے برحق ہونے پر بھی ایمان لا چکے ہیں۔ رسولوں کے درمیان تفریق کی نفی سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام رسولوں کو مانتے ہیں ایسا نہیں کرتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو نہ مانیں۔ جس طرح عیسائیوں نے حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور یہودیوں نے آپ کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انکار کیا۔ 563 قَالُوْا کا عطف اٰمَنَ پر ہے پہلے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا۔ یہاں ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا تذکرہ کیا۔ وھو حکایۃ لامتثالھم الاوامر والنواھی اثر حکایۃ ایاماھم (روح ص 68 ج 3) سَمِعْنَا کے معنی اَجَبْنَا کے ہیں اور غُفْرَانَکَ سے پہلے طَلَبْنَا فعل محذوف ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ بعض مفسرین نے اِغْفِرْ محذوف مانا ہے۔ یعنی وہ سب زبان سے اعلان کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم نے تیرے تمام احکام قبول کیے اور تیری مکمل اطاعت کا عہد کیا اور ہم تمجھ سے عفو و درگذر کی درخواست کرتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر ہم نے تیرے سامنے حاضر ہونا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ رسول یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب جو کچھ ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا وہ رسول اس کی تصدیق کرتے اور اس کے حق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اس نازل شدہ چیز کے حق ہونے پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ رسول اور مسلمان سب کے سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم اس کے رسولوں پر ایمان لانے میں کسی رسول کی تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں ۔ کسی کو پیغمبر سمجھیں اور کسی کو پیغمبر نہ سمجھیں۔ اور ان سب یعنی رسول اور مومنین نے یوں کہا ہم نے آپ کا فرمان سنا اور تمام احکامات کو بخوشی مانا اور رغبت کے ساتھ قبول کیا ۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ کی مغفرت اور بخشش کے خواہش مند ہیں ۔ ہماری مغفرت فرما دیجئے اور ہم سب کی بازگشت آپ ہی کی طرف ہے اور ہم سب کو آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ ( تیسیر) ما انزل الیہ من ربہ سے مراد یا تو قرآن ہے یا قرآنی اوامرو نواہی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ جو احکام سورة میں بیان ہوئے ہیں وہ مراد ہیں ۔ مثلاً نماز ، زکوٰۃ ، صیام ، احکام ، حج اور جہاد حیض اور طلاق اور ایلا کا حکم وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو کلام الٰہی مانتے ہیں اور جو احکام نازل ہوتے ہیں اس پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کے حق ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔ اس اعلان کے بعد قرآن پر اعتقاد رکھنے کی تفصیل بیان فرمائی تا کہ یہ عملوم ہوجائے کہ کن کن چیزوں پر اعتقاد رکھنے اور ایمان لانے کو قرآن پر ایمان لانا کہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں یہاں چار باتیں فرمائیں ۔ اول اللہ تعالیٰ پر یعنی اس کی توحید اور اس کی ذات وصفات پر ایمان رکھنا ۔ دوسرے فرشتوں پر یعنی وہ خدا کے بندے اور اس کے مطیع و فرمانبردار اور اس کے برگزیدہ ہیں ۔ تیسرے تمام کتب سماویہ پر کہ وہ سب کتابیں اپنے اپنے زمانے میں واجب التعمیل تھیں اور ان کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا ضروری تھا ۔ چو تھے رسولوں پر یعنی ان پر اس طرح ایمان لانا کہ کسی رسول کی رسالت میں تفریق نہ کرنا بلکہ سب کو خدا کا رسول اور پیغامبر ماننا یہ نہیں کہ کسی رسول پر ایمان لائیں کسی پر نہیں ۔ پھر اس تفصیل کے بعد سب کی طرف سے سمع وطاعت کا اعلان بخشش کی طلب اور آخرت میں حضرت حق جل مجدہٗ کی بارگاہ میں پیشی اور حاضری کا اقرار ہے۔ آیت میں مسلمانوں کی مدح اور مسلمانوں کی تعریف کرنا اور ان کی وفا شعاری اور اطاعت گزاری کا اظہار مقصود ہے اور مسلمانوں کی تقویت اور ان کے مرتبہ کی رفعت کے لحاظ سے پیغمبر کا ذکر بھی ان کے ساتھ کردیا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ رسول کا ایمان صحابہ کے ایمان سے اکمل اور مبنی علی المشاہدہ ہے بلکہ آپ اول المسلمین ہیں اور اجمالاً آپ کو پہلے سے تمام امور پر ایمان حاصل ہے اور صحابہ کا ایمان کامل اور حجت و براہن سے ناشی ہے اس لئے دونوں میں تفاوت اور فرق ہے ۔ مگر باوجود تفاوت اور فرق کے پھر بھی صحابہ کے ایمان کے ساتھ رسول کے ایمان کا ذکر فرمانا ایسا ہی ہے جیسے دسویں پارے میں آیت یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین میں صحابہ کے ساتھ رسول کا یا اپنا ذکر فرمایا ہے ۔ یعنی اے نبی آپ کو اللہ تعالیٰ اور وہ مسلمان جو آپ کے پیر وہیں کافی ہیں یا یہ معنی ہیں کہ اے نبی آپ کی اور آپ کے پیرو مسلمانوں کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ اس طرح آیت زیر بحث میں بھی باوجود تفاوت ایمانی کی صحابہ کے ایمان کے ساتھ رسول کے ایمان کا ذکر فرمایا ہے ہم نے اسی فرق کی رعایت سے تیسیر میں فرق کردیا ہے اور یوں ترجمہ کیا ہے کہ رسول قرآن کی تصدیق کرتے ہیں اور اس پر اعتقاد رکھتے ہیں اور مسلمان قرآن کو مانتے اور جو احکام نازل ہوتے ہیں ان پر ایمان لاتے ہیں۔ ہم نے ابھی عرض کیا ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے سے اجمالا ً تمام امور پر ایمان حاصل ہے اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ پھر سورة الشوریٰ میں کیوں ارشاد فرمایا۔ ما کنت تدری ملا الکتاب ولا الایمان شبہ کا جواب یہ ہے کہ سورة شوریٰ میں تفصیل کی نفی فرمائی ہے اجمال کی نہیں اور ہماری تقریر میں اجمال کا ذکر ہے تفصیل کا نہیں لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے۔ غفرانک کے دو معنی ہوسکتے ہیں ۔ ہم نے تیسیر میں دونوں کو ظاہر کردیا ہے ۔ ہم کو بخشش دیجئے ، یا ہم بخشش کے آرزو مند ہیں۔ والیک المصیر کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کی بازگشت صرف آپ ہی کی طرف ہے خواہ مرنے کے وقت یا قبروں سے اٹھنے کے وقت ، بہر حال مسلمانوں کی مدح اور تعریف توبیچ میں ایک خاص مناسبت سے آگئی تھی ۔ اب آگے کی آیت میں وان تبدوا ما فی انفسکم کی وضاحت اور اصل مراد کا ذکر کیا جاتا ہے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)