Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 39

سورة البقرة

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۹﴾٪  4

And those who disbelieve and deny Our signs - those will be companions of the Fire; they will abide therein eternally."

اور جو انکار کر کے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں ، وہ جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But those who disbelieve and belie Our Ayat ـ such are the dwellers of the Fire. They shall abide therein forever, meaning, they will remain in Hell for eternity and will not find a way out of it.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 قبولیت دعا کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ جنت میں آباد کرنے کے بجائے دنیا ہی میں رہ کر جنت کے حصول کی تلقین فرمائی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے واسطے تمام بنو آدم کو جنت کا یہ راستہ بتلایا جا رہا ہے۔ کہ انبیاء علیہم کے ذریعے سے میری ہدایت ( زندگی گزارنے کے احکام وضابطے) تم تک پہنچے گی جو اس کو قبول کرے گا وہ جنت کا مستحق اور بصورت دیگر عذاب الٰہی کا سزاوار ہوگا۔ ان پر خوف نہیں ہوگا۔ کا تعلق آخرت سے ہے۔ ای فیما یستقبلونہ من امر الاخرۃ اور حزن نہیں ہوگا کا تعلق دنیا سے۔ علی ما فاتھم من امورالدنیا (جو فوت ہوگیا امور دنیا سے یا اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آئے) جس طرح دوسرے مقام پر ہے آیت (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي) 020:259 ۔ جس نے میری ہدایت کی پیروی کی پس وہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا اور نہ ( آخرت میں) بدبخت۔ ابن کثیر۔ گویا آیت ( لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ) 010:062 کا مقام ہر مومن صادق کو حاصل ہے یہ کوئی ایسا مقام نہیں جو صرف بعض اولیاء اللہ ہی کو حاصل ہے اور پھر مقام کا مفہوم بھی کچھ بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ تمام مومنین و متقین بھی اولیاء اللہ ہیں۔ اولیاء اللہ کوئی الگ مخلوق نہیں۔ ہاں البتہ اولیاء کے درجات میں فرق آسکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٨] جنت میں دوبارہ داخلہ : ساتھ ہی یہ بھی وضاحت فرمائی کہ بنی نوع انسان کے لئے میری طرف سے ہدایت (وحی) آتی رہے گی اور جو لوگ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ انہیں کچھ غم واندوہ نہ ہوگا اور وہ اس جنت کے وارث ہوں گے، جہاں سے آدم وغیرہم کو نکالا گیا تھا۔ البتہ جو لوگ ہماری وحی کا انکار کریں گے اور شیطان سے دوستی رکھیں گے تو وہ دائمی طور پر دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

آخری آیت والَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہ بتلا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہوگا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت کو ہدایت سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کردیں یعنی کفار اور مؤمنین جو ہدایت کو ہدایت ماننے کا اقرار کرتے ہیں وہ عملاً کیسے بھی گہنگار ہوں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جہنم سے نکال لئے جائیں گے، واللہ اعلم :

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝ ٠ ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ ٣٩ ۧ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] ، أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] ، وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] ، أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 217] ، مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ [ فاطر/ 6] ، وأما قوله : وَما جَعَلْنا أَصْحابَ النَّارِ إِلَّا مَلائِكَةً [ المدثر/ 31] أي : الموکّلين بها لا المعذّبين بها كما تقدّم . وقد يضاف الصَّاحِبُ إلى مسوسه نحو : صاحب الجیش، وإلى سائسه نحو : صاحب الأمير . والْمُصَاحَبَةُ والِاصْطِحَابُ أبلغ من الاجتماع، لأجل أنّ المصاحبة تقتضي طول لبثه، فكلّ اصْطِحَابٍ اجتماع، ولیس کلّ اجتماع اصطحابا، وقوله : وَلا تَكُنْ كَصاحِبِ الْحُوتِ [ القلم/ 48] ، وقوله : ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] ، وقد سمّي النبيّ عليه السلام صاحبهم تنبيها أنّكم صحبتموه، وجرّبتموه وعرفتموه ظاهره وباطنه، ولم تجدوا به خبلا وجنّة، وکذلک قوله : وَما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ [ التکوير/ 22] . والْإِصحَابُ للشیء : الانقیاد له . وأصله أن يصير له صاحبا، ويقال : أَصْحَبَ فلان : إذا كَبُرَ ابنه فصار صاحبه، وأَصْحَبَ فلان فلانا : جعل صاحبا له . قال : وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ [ الأنبیاء/ 43] ، أي : لا يكون لهم من جهتنا ما يَصْحَبُهُمْ من سكينة وروح وترفیق، ونحو ذلک ممّا يصحبه أولیاء ه، وأديم مصحب : أُصْحِبَ الشّعر الذي عليه ولم يُجَزَّ عنه . ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] تو اس کادوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا ۔ أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ۔ وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] اور مدین کے رہنے والے بھی ۔ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] وہ جنت کے مالک ہوں گے ( اور ) ہمیشہ اس میں ( عیش کرتے ) رہیں گے ۔ وَلا تَكُنْ كَصاحِبِ الْحُوتِ [ القلم/ 48] اور مچھلی ) کا لقمہ ہونے والے ( یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہونا ۔ اور آیت : ۔ مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ [ فاطر/ 6]( تاکہ وہ ) دوزخ والوں میں ہوں ۔ اور آیت کریمہ : وَما جَعَلْنا أَصْحابَ النَّارِ إِلَّا مَلائِكَةً [ المدثر/ 31] اور ہم نے دوزخ کے دروغہ فرشتے بنائے ہیں ۔ میں اصحاب النار سے دوزخی مراد نہیں ہیں بلکہ دوزخ کے داردغے مراد ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ پھر صاحب کا لفظ کبھی ان کی طرف مضاف ہو تو ہے جو کسی کے زیر نگرانی ہوتے ہیں جیسے صاحب الجیش ( فوج کا حاکم اور کبھی حاکم کی طرف جیسے صاحب الاسیر ( بادشاہ کا وزیر ) المصاحبۃ والا صطحاب میں بنسبت لفظ الاجتماع کے مبالغہ پایا جاتا ہے کیونکہ مصاحبۃ کا لفظ عرصہ دراز تک ساتھ رہنے کو مقتضی ہے اور لفظ اجتماع میں یہ شرط نہیں ہے لہذا اصطحاب کے موقعہ پر اجتماع کا لفظ تو بول سکتے ہیں مگر اجتماع کی جگہ پر ہر مقام میں اصطحاب کا لفظ نہین بول سکتے اور آیت کریمہ : ۔ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] تمہارے رفیق کو سودا نہیں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صاحبکم کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ تم نے ان کے ساتھ زندگی بسر کی ہے ان کا تجربہ کرچکے ہو اور ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہوچکے ہو پھر بتاؤ کہ ان میں کوئی دماغی خلل یا دیوانگی پائی جاتی ہے یہی معنی آیت وما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ [ التکوير/ 22] کے ہیں ۔ الا صحاب للشئی کے معنی ہیں وہ فرمانبردار ہوگیا اصل میں اس کے معنی کسی کا مصاحب بن کر اس کے ساتھ رہنے کے ہیں ۔ چناچہ اصحب فلان اس وقت بولتے ہیں جب کسی کا بیٹا بڑا ہو کر اس کے ساتھ رہنے لگے ۔ اور اصحب فلان فلانا کے معنی ہیں وہ اس کا ساتھی بنادیا گیا قرآن میں ہے : ۔ وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ [ الأنبیاء/ 43] اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے ۔ یعنی ہماری طرف سے ان پر سکینت تسلی کشائش وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا ساتھ نہیں دیا جائے گا جیسا کہ اس قسم کی چیزوں سے اولیاء اللہ کی مدد کی جاتی ہے ۔ ادیم مصحب : کچا چمڑہ جس سے بال نہ اتارے گئے ہوں ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

٣٩۔ ٤٠) اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو انعامات کیے، اب ان کی یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ اے اولاد یعقوب ! میرے انعامات پر اللہ کا شکر کرو اور میرے احسانات کو محفوظ رکھو جو میں نے تم پر کتاب نازل کرکے اور رسول بھیج کر اور ایسے ہی فرعون اور اس کی آل کو غرق کرکے اور تمہیں اس سے نجات دے کر اور بطور انعام ” من وسلوی “۔ وغیرہ نازل کرکے کیے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں میرے عہد ومیثاق کو پورا کرو اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنت میں داخل کروں گا اور بدعہدی کرنے سے مجھ سے ڈرو میرے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرو اور میں نے جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے سے جو کتاب نازل کی ہے اور اس کتاب کے جو کہ تمہارے پاس ہے توحید، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے پہلے منکر نہ بنو اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف (جن کا تورات میں ذکر ہے) ان کو چھپا کر معمولی معاوضہ مت لو اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں مجھ ہی سے ڈرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩ (وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا) ہماری اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کریں گے ‘ ناشکری کریں گے۔ (وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا) ” اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے “ (اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) ’ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوع انسانی کو ابدی منشور (charter) عطا کردیا گیا جب زمین پر خلیفہ کی حیثیت سے انسان کا تقرر کیا گیا۔ ّ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے یہ ابتدائی چار رکوع قرآن کی دعوت اور قرآن کے بنیادی فلسفہ پر مشتمل ہیں ‘ اور ان میں مکی سورتوں کے مضامین کا خلاصہ آگیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

54. Ayat is the plural of ayah which means a 'sign' or 'token' which directs one to something important. In the Qur'an this word is used in four different senses. Sometimes it denotes a sign or indication. In certain other places the phenomena of the universe are called the ayat (signs) of God, for the reality to which the phenomena point is hidden behind the veil of appearances. At times the miracles performed by the Prophets are also termed ayat since they show that the Prophets were envoys of the Sovereign of the universe. Lastly, individual units of the Book of God are also called ayat because they point to the ultimate reality, and because the substantive contents of the Book of God, its phraseology, its style, its inimitable literary excellence are clear tokens of the attributes of the Author of the Book. The sense in which the word ayah has been used in a particular verse becomes evident from the context of its occurrence. 55. This is a permanent directive from God to mankind which is valid from the beginning of life until the Day of Judgement. It is this which has been mentioned earlier as God's covenant (see n. 31 above) . It is not for man to prescribe the way of life which his fellow human beings should follow. In his double capacity as the subject and vicegerent of God, man is required to follow the way of life prescribed by his Lord. There are only two means of access to this way: either by direct revelation from God or by following one to whom God has revealed guidance. Nothing else can direct man to the way that enjoys God's approval and good pleasure. Resorting to any other means in quest of salvation is not only fundamentally mistaken but tantamount to rebellion. The story of the creation of Adam and the origin of the human species occurs seven times in the Qur?an, once in the verses just mentioned. For other references see 7: 11 ff., 15: 26 ff., 17: 61 ff., 18: 50, 20: 116 ff., 38: 71 ff. The story also occurs in the Bible in Genesis 1, 2 and 3. A comparative reading of the Qur?anic and Biblical versions will enable the perceptive reader to detect the differences between the two. The dialogue between God and the angels at the time of the creation of Adam is also mentioned in the Talmud. This account lacks the spiritual significance underlying the Qur?anic version. Indeed, the Talmudic version additionally contains the following oddity: when the angels ask why men are being created, God replies that they are being created so that good people may be born among them. God refrains from mentioning the bad people lest the angels disapprove the creation of man! (See Paul Isaae Hershon, Talmudic Miscellany, London, 1880, pp. 294

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :54 آیات جمع ہے آیت کی ۔ آیت کے اصل معنی اس نشانی یا علامت کے ہیں جو کسی چیز کی طرف رہنمائی کرے ۔ قرآن میں یہ لفظ چار مختلف معنوں میں آیا ہے ۔ کہیں اس سے مراد محض علامت یا نشانی ہی ہے ۔ کہیں آثارِ کائنات کو اللہ کی آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ مظاہرِ قدرت میں سے ہر چیز اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اس ظاہری پردے کے پیچھے مستُور ہے ۔ کہیں ان معجزات کو آیات کہا گیا ہے جو انبیاء علیہم السّلام لے کر آتے تھے ، کیونکہ یہ معجزے دراصل اس بات کی علامت ہوتے تھے کہ یہ لوگ فرمانروائے کائنات کے نمائندے ہیں ۔ کہیں کتاب اللہ کے فقروں کو آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ وہ نہ صرف حق اور صداقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ، بلکہ فی الحقیقت اللہ کی طرف سے جو کتاب بھی آتی ہے ، اس کے محض مضامین ہی میں نہیں ، اس کے الفاظ اور اندازِ بیان اور طرزِ عبادت تک میں اس کے جلیل القدر مُصنّف کی شخصیت کے آثار نمایاں طور پر محسُوس ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ہر جگہ عبارت کے سیاق و سباق سے بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں”آیت“ کا لفظ کس معنی میں آیا ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :55 یہ نسلِ انسانی کے حق میں ابتدائے آفرینش سے قیامت تک کے لیے اللہ کا مستقل فرمان ہے اور اسی کو تیسرے رکوع میں اللہ کے ”عہد“سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ انسان کا کام خود راستہ تجویز کرنا نہیں ہے ، بلکہ بندہ اور خلیفہ ہونے کی دو گونہ حیثیتوں کے لحاظ سے وہ اس پر مامُور ہے کہ اس راستے کی پیروی کرے جو اس کا ربّ اس کے لیے تجویز کرے ۔ اور اس راستے کے معلوم ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں : یا تو کسی انسان کے پاس براہِ راست اللہ کی طرف سے وحی آئے ، یا پھر وہ اس انسان کا اتباع کرے جس کے پاس وحی آئی ہو ۔ کوئی تیسری صُورت یہ معلوم ہونے کی نہیں ہے کہ ربّ کی رضا کس راہ میں ہے ۔ ان دو صُورتوں کے ماسوا ہر صُورت غلط ہے ، بلکہ غلط ہی نہیں ، سراسر بغاوت بھی ہے ، جس کی سزا جہنّم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ قرآن مجید میں آدم کی پیدائش اور نَوعِ انسانی کی ابتدا کا یہ قصّہ سات مقامات پر آیا ہے ، جن میں سے پہلا مقام یہ ہے اور باقی مقامات حسبِ ذیل ہیں: الاعراف ، رکوع ۲ ۔ بنی اسرائیل ، رکوع ۷ ۔ الکہف ، رکوع ۷ ، طٰہٰ ، رکوع ۷ ۔ صٓ ، رکوع ۵ ۔ بائیبل کی کتاب ِ پیدائش ، باب اوّل ، دوم و سوم میں بھی یہ قصّہ بیان ہوا ہے ۔ لیکن دونوں کا مقابلہ کرنے سے ہر صاحب نظر انسان محسُوس کر سکتا ہے کہ دونوں کتابوں میں کیا فرق ہے ۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت اللہ اور فرشتوں کی گفتگو کا ذکر تلمود میں بھی آیا ہے ، مگر وہ بھی اس معنوی روح سے خالی ہے جو قرآن کے بیان کردہ قصہ میں پائی جاتی ہے بلکہ اس میں لطیفہ بھی پایا جاتا ہے کہ جب فرشتوں نے اللہ سے پوچھا ، انسانوں کو آخر کیوں پیدا کیا جا رہا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ۔ تاکہ ان میں نیک لوگ پیدا ہوں بد لوگوں کا ذکر اللہ نے نہیں کیا ورنہ فرشتے انسان کی تخلیق کی منظوری نہ دیتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:39) خالدون ۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ خلود باب نصر سے مصدر ۔ ہمیشہ رہنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یا یھا الناس سے لیے کر یہاں تک عمومی انعامات کا ذکر فرمائے ہیں اب خاص کر ان انعامات کا بیان ہے جو نبی اسرائیل پر کئے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا زمانہ یا لقب ہے جس کے معنی ہیں اللہ کا بندہ یا بر گزیدہ۔ بایں وجہ ان کی اولاد کی بنی اسرائیل کہا جاتا ہے بنی اسرائیل میں پہلے پیغمبر یوسف (علیہ السلام) اور آخرت پیغمبر عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (قرطبی) یہاں سے لے کر ایک سو سنتالیس آیا تک دس انعامات دس قبائح اور دس سزاؤں کا ذکر ہے جو ان کی بد کر داریوں کی وجہ سے ان کو دی گئیں۔ (صفوہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی نہ کی ان کا انجام۔ قرآن مجید کا یہ انداز فکر اور اسلوب بیان ہے کہ جب انعام و اکرام کا تذکرہ کرتا ہے تو ساتھ ہی برائی کے مضمرات و عواقب کے انجام کے بارے میں بھی انتباہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والا بیک وقت یہ سمجھ جائے کہ نیکی کے کیا فوائد اور برائی کے نقصانات کیا ہیں ؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کا انکار اور ان کی تکذیب کرنے والوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی ذات کے منکر اور اس کے احکامات کا انکارو تکذیب کرتے رہے تو تمہیں جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنَ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّتِسْعِیْنَ جُزْءً ا کُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنھا مخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں یقیناً اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ عرض کیا گیا اللہ کے رسول ! یہی آگ جلانے کے لیے کافی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس آگ سے وہ انہتر حصے زیادہ ہے ان میں سے ہر حصے کی گرمی اس جیسی ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات کا انکار اور تکذیب کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں ہمیشہ رہنے والے لوگ : ١۔ مشرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : ٣٩) ٢۔ کافر اور تکذیب کرنے والے جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤) ٣۔ منافق ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (التوبہ : ٦٨) ٤۔ اللہ و رسول کی نافرمانی جہنم میں ہمیشگی کا سبب ہوگی۔ (الجن : ٢٣) ٥۔ اللہ کے دشمن جہنم میں ہمیشہ جلتے رہیں گے۔ (فصّلت : ٢٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

95 ۔ کفر سے مراد دل سے انکار ہے اور تکذیب سے زبانی انکار مراد ہے۔ فیراد بالکفر بالایات انکرھا بالقلب وابالتکذیب انکارھا باللسان۔ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ۔ خلود سے مراد یہاں دوام ہے یعنی وہ عذاب جہنم میں ابد الآباد مبتلا رہیں گے۔ والخلود ھھنا الدوام علی ما نعقد علیہ الاجماع (روح ص 241 ج 1) بنی اسرائیل کو دعوت شروع میں یَا اَیُّہَا النَّاسُ کے خطاب عام کے ذریعے تمام انسانوں کو توحید کی دعوت عام دی گئی عقلی دلیل سے دعوی توحید کو مدلل اور واضح کیا گیا۔ اور دعویٰ توحید سے متعلق دو شبہات کا نہایت تسلی بخش طریقہ سے ازالہ کر کے ثابت کیا گیا کہ نہ فرشتے پکارنے کے لائق ہیں نہ انبیاء (علیہم السلام) اور جنات۔ اب اگلی آیت سے روئے سخن یہودیوں کی طرف پھیر دیا گیا ہے ہجرت کے بعد مدینہ میں سب سے پہلی سورت جو پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی وہ سورة بقرہ تھی۔ مدینہ اور اس کے گردونواح میں یہودیوں کی کافی آبادی تھی۔ ان میں بڑے بڑے نواب، علماء پیر اور درویش موجود تھے۔ عوام کو ان سے محبت تھی۔ بلکہ مشرکین مکہ بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ اس لیے ان مولویوں اور پیروں کی اصلاح سے پوری قوم کی اصلاح ہوسکتی تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور اس میں جا بجا یہودیوں کو خطاب فرمایا۔ اور ان کی اصلاح کیلئے حکیمانہ نصیحت کے مختلف طریقے اختیار فرمائے کہیں نرمی سے سمجھایا ہے کہیں سختی سے کہیں وعدہ انعام کے ساتھ اور کہیں وعید انتقام کے ساتھ، کہیں تو ان پر اور ان کے آباء و اجداد پر کئے گئے احسانات جتلا کر انہیں ایمان لانے کی ترغیب دی ہے اور کہیں ان کے غلط کار باپ دادوں کا برا انجام یاد دلا کر انہیں ڈرایا ہے تاکہ وہ ضدوعناد اور انکار حق سے باز آجائیں۔ کہیں ان کی شرارتوں اور خباثتوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنے بےپایاں عفودرگزر کا ذکر فرمایا ہے تاکہ ان کا جذبہ سپاس گزاری بیدار ہو اور ان میں غیرت وحیا کا کچھ احساس پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ناصح مہربان اور حکیم ہے اس لیے اس نے یہودیوں کے عوام و خواص کی اصلاح پندونصیحت کا ہر ممکن انداز اختیار فرمایا ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح راہ راستہ پر آجائیں۔ اور دعوت حق قبول کرلیں۔ اور اگر وہ ضدوانکار پر ڈٹے رہے تو حجت خداوندی ان پر قائم ہوجائے۔ پانچویں رکوع کی ابتداء یعنی ۧيٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ سے لے کر پندرھویں رکوع میں وَلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَةٌ وَلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَ تک بنی اسرائیل کی اصلاح کے عمومی پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہے اور پھر وہاں سے مسئلہ رسالت ونبوت کا آغاز ہوتا ہے۔ اصلاح کے عمومی پہلو کے سلسلے میں تذکیر ورشاد کیلئے پانچ طریقے اختیار کئے گئے ہیں۔ 1 ۔ یہودیوں کے باپ دادوں پر کیے گئے انعامات کا ذکر۔ 2 ۔ ان کے باپ دادوں کی خباثتوں کا ذکر۔ 3 ۔ نزول قرآن کے وقت موجودہ بنی اسرائیل کی بداعمالیوں کا ذکر۔ 4 ۔ ان کی بد اعمالیاں تو ایک طرف رہیں ان کے باپ دادا توحید بیان کرنے والے پیغمبروں کو قتل کرتے رہے اور ان کو جھٹلاتے رہے اس کا ذکر۔ 5 ۔ ان کے آباء و اجداد کا ذکر چھوڑو موجودہ بنی اسرائیل کا یہ حال ہے کہ آخری پیغمبر جب آگیا تو یہ اس کو جھٹلانے لگے۔ حالانکہ اس کے آنے سے پہلے اس کی آمد کی خوشخبری دیا کرتے تھے، ان کی مخالفت کا ذکر۔ اصلاحی پروگرام۔ اس سلسلے کے آغاز میں بنی اسرائیل کے سامنے آٹھ اوامر اور چار نواہی پر مشتمل ایک اصلاحی پروگرام پیش کیا گیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ ہم نے کہا اور ان کو حکم دیا کہ تم سب کے سب یہاں سے نیچے اتر جائو ، پھر اگر تم کو میری ہدایت و رہنمائی پہنچے اور میرا نام پیغام ہدات تم کو موصول ہو تو تم میں جو شخص بھی میری بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ ہر قسم کے خوف اور غم سے بےنیاز ہوگا اور ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا ڈر ہوگا اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے مگر ہاں جو لوگ اس پیغام ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور میری نازل کردہ آیات اور براہین کو جھٹلائیں گے تو ایسے اہل جہنم اور دوزخی ہوں گے اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ پڑے ہیں گے۔ ( تیسیر) یہ حکم محض پہلے حکم کی تاکید ہے اور جن کو حکم دیا گیا ان میں بھی دو احتمال ہیں یا تو آدم (علیہ السلام) و حوا اور آئندہ ان کی ہونیوالی اولاد مراد ہے اور یا پھر آدم و حوا اور ابلیس اور مور اور سانپ مراد ہیں اور اسی طرح لفظ منھا میں بھی دو احتمال ہیں تو یہ مطلب ہے کہ جنت سے باہر نکل جائو اور یا یہ مطلب ہے کہ آسمان سے نیچے جائو۔ بہرحال زمین پر پہنچتے وقت نسل آدم اور بنی نوع انسان کو آئندہ کے لئے یہ پیغام بھی سنا دیا کہ تم زمین میں جا کر آج کی باتوں کو فراموش کردو گے۔ پھر میں تمہارے پاس اپنی ہدایت یعنی رسول اور اپنی کتابیں اور اپنے احکام بھیجوں گا ۔ پھر جو میرے فرستادہ احکام اور میرے بھیجے ہوئے رسولوں کی صحیح اتباع اور پیروی کریں گے تو وہ ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن جو بدنصیب دین حق کے منکر ہوں گے اور کفر کی روش اختیار کریں گے اور میرے دلائل اور میری نشانیوں اور میر ی نازل کردہ آیات کی تکذیب کریں گے تو یہ لوگ دوزخ کے مستحق ہوں گے اور یہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ خوف اس پریشانی کو کہتے ہیں جو آئندہ کسی آفت کے اندیشہ سے ہو اور حزن اس غم اور پریشانی کو کہتے ہیں جو کسی مصیبت کے واقع ہوجانے سے ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں پر نہ کوئی آفت و مصیبت واقع ہوگی اور نہ ان کو کسی آنے والی مصیبت کا خطرہ ہوگا ۔ البتہ دوسرا فریق طرح طرح کے آلام و مصائب اور سخت ترین عذاب میں گرفتار ہوگا ۔ اب آگے ان ہی احسانات کے سلسلے میں ان خاص خاص احسانات کا ذکر کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کو خاص طور پر خطاب فرمانے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی ملک میں خاص اہمیت تھی ۔ وہ ابنیاء (علیہم السلام) کی اولاد تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے گھرانے میں نبوت و حکمت کا سلسلہ عرصہ تک قائم رہنے کی وجہ سے ان کی اولاد کا بہت اعتبار تھا۔ حتیٰ کہ تمام اہل عرب ان کی عزت کرتے تھے اور اپنی اکثر باتوں میں انہی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اسی وجہ سے ان کو خطاب فرمایا اور اپنے ان احسانات کا اظہار فرمایا جو ہزاروں برس سے ان کے خاندان پر ہوتے چلے آئے تھے اور وہ تمام پیشین گوئیاں یاد دلائیں جو ان کی کتابوں میں نبی آخر الزماں کے متعلق مذکور تھیں تا کہ وہ اسلام کے قبول کرنے میں پیش قدمی کری اور عرب کے لوگ جو ہر بات میں بنی اسرائیل کے فیصلوں کا انتظار کیا کرتے تھے وہ بھی ان کے مسلمان ہونے سے اسلام قبول کریں ۔ چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے بیشمار واقعات ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ان پر بیشمار احسان ہیں ۔ اس لئے آخری سیپارے تک ان ہی کا مسلسل بیان ہے۔ ( تسہیل)