Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 52

سورة البقرة

ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۵۲﴾

Then We forgave you after that so perhaps you would be grateful.

لیکن ہم نے باوجود اس کے پھر بھی تمہیں معاف کردیا ، تاکہ تم شکر کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And (remember) when We appointed for Musa (Moses) forty nights, and (in his absence) you took the calf (for worship), and you were Zalimun (polytheists and wrongdoers). Then after that We forgave you so that you might be grateful. Allah said, "Remember My favor on you when I forgave you for worshipping the calf." This happened after Musa went to the meeting place with his Lord at the end of that period which was forty days. These forty days were mentioned in Surah Al-A`raf, when Allah said, وَوَعَدْنَا مُوسَى ثَلَـثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ And We appointed for Musa thirty nights and added (to the period) ten (more). (7:142) It was said that these days were during the month of Dhul-Qa`dah plus the first ten days in Dhul-Hijjah, after the Children of Israel were delivered from Fir`awn and they safely crossed the sea. Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الْكِتٰبَ ) سے مراد بالاتفاق تورات ہے اور ” الفرقان “ (حق و باطل میں فرق کرنے والی چیز ) سے مراد معجزے بھی ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کردہ قوت فیصلہ بھی جو حق و باطل میں فرق کرتی تھی، اگر ” واؤ “ کو تفسیری مانیں تو خود تورات بھی حق و باطل میں فرق کرنے والی تھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Israelites were forgiven only when they had offered Taubah توبہ (repentance), as recounted in Verse 54. In saying that they were pardoned so that they might learn gratefulness, the present verse employs the Arabic word لَعَلَ La` lla which indicates expectation. In the present context it does not mean that Allah had or could have any doubt or misgiving about this or any other matter; what the word implies here is just that when a man receives a pardon, the onlookers may expect him to feel grateful.

خلاصہ تفسیر : پھر بھی ہم نے (تمہاری توبہ کرنے پر) درگذر کیا تم سے اتنی بڑی بات ہوئے پیچھے اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے، فائدہ : اس توبہ کا بیان آگے کی تیسری آیت میں مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس توقع رکھنے کا مطلب نعوذ باللہ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کو شک تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ درگذر کرنا ایسی چیز ہے کہ دیکھنے والوں کو شکر گذاری کی توقع کا گمان ہوسکتا ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝ ٥٢ عفو العَفْوُ : القصد لتناول الشیء، يقال : عَفَاه واعتفاه، أي : قصده متناولا ما عنده، وعَفَتِ الرّيحُ الدّار : قصدتها متناولة آثارها، وبهذا النّظر قال الشاعر : أخذ البلی أبلادها وعَفَتِ الدّار : كأنها قصدت هي البلی، وعَفَا النبت والشجر : قصد تناول الزیادة، کقولک : أخذ النبت في الزّيادة، وعَفَوْتُ عنه : قصدت إزالة ذنبه صارفا عنه، فالمفعول في الحقیقة متروک، و «عن» متعلّق بمضمر، فالعَفْوُ : هو التّجافي عن الذّنب . قال تعالی: فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] ، وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] ، ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ [ البقرة/ 52] ، إِنْ نَعْفُ عَنْ طائِفَةٍ مِنْكُمْ [ التوبة/ 66] ، فَاعْفُ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 159] ، وقوله : خُذِ الْعَفْوَ [ الأعراف/ 199] ، أي : ما يسهل قصده وتناوله، وقیل معناه : تعاط العفو عن الناس، وقوله : وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ [ البقرة/ 219] ، أي : ما يسهل إنفاقه . وقولهم : أعطی عفوا، فعفوا مصدر في موضع الحال، أي : أعطی وحاله حال العافي، أي : القاصد للتّناول إشارة إلى المعنی الذي عدّ بدیعا، وهو قول الشاعر : كأنّك تعطيه الذي أنت سائله وقولهم في الدّعاء : «أسألک العفو والعافية» أي : ترک العقوبة والسّلامة، وقال في وصفه تعالی: إِنَّ اللَّهَ كانَ عَفُوًّا غَفُوراً [ النساء/ 43] ، وقوله : «وما أكلت العافية فصدقة» «أي : طلّاب الرّزق من طير ووحش وإنسان، وأعفیت کذا، أي : تركته يعفو ويكثر، ومنه قيل : «أعفوا اللّحى» والعَفَاء : ما کثر من الوبر والرّيش، والعافي : ما يردّه مستعیر القدر من المرق في قدره . ( ع ف و ) العفو کے معنی کسی چیز کو لینے کا قصد کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ عفاہ واعتقادہ کسی کے پاس جو کچھ ہے وہ لینے کا قصد کیا عفت الریح الدرا ہوانے گھر کے نشانات مٹادیتے اسی معنی کے لحاظ سے شاعر نے کہا ہے ۔ ( 315 ) اخز البلی ایا تھا پوسید گی نے اس کے نشانات مٹا ڈالے عفت الدار گھر کے نشانات مٹ گئے گویا ان اثارنے ازخود مٹ جانے کا قصد کیا عفا النبت والشجر نباتات اور درخت بڑھ گئے جیسا کہ آخذ النبت فی الذیادۃ کا محاورہ ہے یعنی پودے نے بڑھنا شروع کیا ۔ عفوت عنہ کے معنی ہیں میں نے اس سے درگزر کرتے ہوئے اس کا گناہ متادینے کا قصد کیا ز لہذا یہاں اصل میں اس کا مفعول ترک کردیا گیا ہے اور عن کا متعلق مخذوف ہی یا قصدت ازالتہ ذنبہ سار فا عنہ پس عفو کے معنی گناہ سے درگزر کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] مگر جو درگزر کرے اور معاملہ کو درست کرلے وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] اور اگر تم ہی اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیز گاری کی بات ہے ۔ ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ [ البقرة/ 52] ، پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا ۔ إِنْ نَعْفُ عَنْ طائِفَةٍ مِنْكُمْ [ التوبة/ 66] اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں ۔ فَاعْفُ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 159] تو ان کی خطائیں معاف کردو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ خُذِ الْعَفْوَ [ الأعراف/ 199]( اے محمد ) عفو اختیار کرو میں العفو ہر اس چیز کو کہا گیا جس کا قصد کرنا اور لینا آسان ہو ۔ اور بعض نے اس کے معنی کئے ہیں درگزر کیجئے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ [ البقرة/ 219] ( اے محمد ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کس طرح کا مال خرچ کریں کہہ دو جو مال خرچ کرو ۔ میں عفو سے ہر وہ چیز مراد ہے جو ضروریات سے زائد ہو اور اس کے خرچ سے تکلیف نہ ہو اور اعطی عفوا اس نے اسے بےمانگے دے دیا یہاں عفوا مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے اور حال واقع ہوا ہے یعنی بخشش کرتے وقت اس کی حالت یہ تھی کہ گویا خود لے رہا ہے اور اس میں اس عمدہ معنی کی طرف اشارہ ہے جسے شاعر نے بیان کرتے ہوئے کہا ہے ( الطویل ) ( 316 ) کانک تعطیہ الذی انت سائلہ یعنی جب سائل اس کے پاس آتا ہے تو اس طرح خوش ہوتا ہے گویا جو چیز تم اس سے لے رہے ہو وہ اسے دے رہے ہو ۔ اور دعائے ماثورہ میں ہے ( 43 ) اسئلک العفو والعافیتہ یعنی اے اللہ تجھ سے عفو اور تندرستی طلب کرتا ہوں اور قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو عفو کہا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَفُوًّا غَفُوراً [ النساء/ 43] بیشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔ اور حدیث میں ہے ( 44 ) مااکلکت العافیتہ فھو صدقتہ یعنی کھیتی سے جو کچھ پرندہ چرندا اور ضرورت مند انسان کھا جائیں وہ وہ صدقہ ہے ،۔ اعفیت کذا یعنی میں نے اسے بڑھنے دیا اسی سے اعفوا الحیي ہے ( 45 ) یعنی ڈاڑھی کے بال بڑھنے دو ۔ العفاء اون یا پرند کے پر جو بڑھ جائیں اور کسی سے دیگ مستعار لینے والا جو شوربہ اس کی دیگ میں اسے بھیجتا ہے اس شوربہ کو المعافی کہا جاتا ہے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٢) اس بچھڑے کی پوجا کے بعد ہم نے تمہیں چھوڑدیا اور تمہارا خاتمہ نہیں کیا، تاکہ تم میرے معاف و درگزر کرنے پر شکر بجالاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢ (ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ) ” “ یہ ہمارا کرم رہا ہے ‘ ہماری رحمت رہی ہے۔ (لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:53) عفونا عنکم ۔ عفونا (الصلۃ عن) ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ عفو (باب نصر) سے مصدر عن کے صلہ کے ساتھ۔ بمعنی معاف کرنا۔ عفا عن ذنبہ اس نے اس کا گناہ معاف کردیا عفا اللہ عنہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرے۔ لعلکم۔ لعل عرف مشابہ بالفعل ہے امید یا خوف پر دلالت کرنے کے لئے لایا جاتا ہے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ جیسے لعل الساعۃ قریب (42:17) شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو، کم اسم ہے لعل کا۔ شاید تم۔ تشکرون مضارع جمع مذکر حاضر، شکر وشکرر (باب نصر) مصدر۔ شکر ادا کرنا۔ لعلکم تشکرون شاید کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور وہ موقعہ یاد کرو جب ہم نے حضرت موسیٰ سے چالیس دن اور رات کا وعدہ کیا تھا پھر جب وہ اس وعدے کے مطابق طور پر گئے تو تم نے ان کے جانے کے بعد ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تمہاری حالت یہ تھی کہ تم ظلم اور ناانصافی پر تلے ہوئے تھے لیکن تمہاری اس ناشائستہ حرکت کے بعد بھی جب تم نے توبہ کی تو ہم نے تم کو معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا کہ شاید تم اس معافی کا احسان مانو گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب تم فرعون کے مظالم سے نجات پانے کے بعد مطمئن ہوئے اور تم نے یہ خواہش کی کہ اب اگر ہم کوئی شریعت یا مستقل کتاب مل جائے تو ہم اس پر عمل کریں اور اس کو اپنا دستور العمل بنائیں کیونکہ اب ہم حکومت کافرہ مسلطہ سے آزاد ہوچکے ہیں اور وہ تمام رکاوٹیں دور ہوچکی ہیں جو ہماری راہ میں ایک کافر حکومت نے حائل کر رکھی تھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا ہ تم تیس راتیں طور پر آ کر رہو پھر ان تیس راتوں میں دس رز بڑھا کر پوری چالیس کردیں جس کی تفصیل انشاء اللہ نویں پارے میں آئیگی بہرحال جب حضرت مسویٰ حسب وعدہ وہاں تشریف لے گئے تو تم نے ان کے پیچھے سامری کے بہکانے سے ایک گئوسالہ کی پرستش شروع کردی لیکن ہم نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تم کو درگزر فرما دیا یہ سب کچھ اس توقع پر کیا کہ تم اس نعمت کا حق مانو گے اور شکر گزار ہو گے آسمانی احکام میں چونکہ دن رات کا تابع ہے اس لئے صرف راتوں کا ذکر فرمایا اور دن کو تابعہ نیکی وجہ سے ذکر نہیں کیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے حاضری کا وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے توریت عطا کرنیکا وعدہ فرمایا۔ اس لئے باب مفاعلت لائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باب مفاعلت صرف وعدہ سے کے معنی میں ہو جیسا کہ عام مترجم ترجمہ کر رہے ہیں باقی تفصیل انشاء اللہ آگے آئے گی۔ حضرت شاہ صاحب ظلمون کے نیچے کہتے ہیں اس کا قصہ سورة اعراف اور سورة طٓہ میں بیان کیا گیا ہے۔ (موضح القرآن) (تسہیل)