Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 71

سورة البقرة

قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِیۡرُ الۡاَرۡضَ وَ لَا تَسۡقِی الۡحَرۡثَ ۚ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیۡہَا ؕ قَالُوا الۡئٰنَ جِئۡتَ بِالۡحَقِّ ؕ فَذَبَحُوۡہَا وَ مَا کَادُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾٪  8

He said, "He says, 'It is a cow neither trained to plow the earth nor to irrigate the field, one free from fault with no spot upon her.' " They said, "Now you have come with the truth." So they slaughtered her, but they could hardly do it.

آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں ، وہ تندرست اور بے داغ ہے ۔ انہوں نے کہا ، اب آپ نے حق واضح کر دیا گو وہ حکم برداری کے قریب نہ تھے ، لیکن اسے مانا اور وہ گائے ذبح کر دی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لاَّ ذَلُولٌ تُثِيرُ الاَرْضَ وَلاَ تَسْقِي الْحَرْثَ ... He says, `It is a cow neither trained to till the soil nor water the fields,' meaning, it is not used in farming, or for watering purposes. Rather, it is honorable and fair looking. Abdur-Razzaq said that Ma`mar said that Qatadah said that, ... مُسَلَّمَةٌ لاَّ شِيَةَ فِيهَا ... sound, having no blemish in it."' means, "The cow does not suffer from any defects." This is also the opinion of Abu Al-Aliyah and Ar-Rabi. Mujahid also said that; the Ayah means the cow is free from defects. Further, Ata' Al-Khurasani said that; the Ayah means that its legs and body are free of physical defects. ...... قَالُواْ الانَ جِيْتَ بِالْحَقِّ ... They said, "Now you have brought the truth." ... فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُواْ يَفْعَلُونَ So they slaughtered it though they were near to not doing it. Ad-Dahhak said that Ibn Abbas said that the Ayahmeans, "They did not want to slaughter it." This means that even after all the questions and answers about the cow's description, the Jews were still reluctant to slaughter the cow. This part of the Qur'an criticized the Jews for their behavior, because their only goal was to be stubborn, and this is why they nearly did not slaughter the cow. Also, Ubaydah, Mujahid, Wahb bin Munabbih, Abu Al-Aliyah and Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "The Jews bought the cow with a large amount of money." There is a difference of opinion over this.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71۔ 1 انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا ایک گائے ذبح کرو۔ وہ کوئی سی بھی ایک گائے ذبح کردیتے تو حکم الٰہی پر عمل ہوجاتا لیکن انہوں نے حکم الٰہی پر سیدھے طریقے سے عمل کرنے کی بجائے میخ نکالنا شروع کردی اور طرح طرح کے سوال کرنے شروع کردیئے، جس پر اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا۔ اس لئے دین میں سختی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

گائے ذبح کرنے میں کٹ حجتیوں کی سزا :۔ غرض یہ کہ یہ قوم جتنے سوال کرتی گئی، پابندیاں بڑھتی ہی گئیں۔ ان ساری پابندیوں کے بعد بس اب ان کے ہاں صرف ایک ہی گائے رہ گئی جو تقریباً سنہری رنگ کی بےداغ اور جواں تھی اور ایسی ہی گائے ہوتی تھی جسے پوجا پاٹ کے لیے انتخاب کیا جاتا تھا۔ اب ایک تو انہیں اپنے معبود کشی کی ذہنی کوفت تھی۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کی یہ گائے تھی وہ ایک نیک بخت آدمی تھا جو اپنی ماں کی بہت خدمت کرتا تھا۔ جب اسے اس کی اہمیت معلوم ہوئی تو اس نے منہ بھر کر اس گائے کے دام مانگے، اس کی قیمت یہ ٹھہری کہ گائے کو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال میں جتنا سونا آئے وہ اس کی قیمت ہوگی۔ چناچہ ان لوگوں کو وہ قیمت ادا کرنا پڑی۔ اتنے سوال و جواب کے بعد انکار یا مزید کٹ حجتی کرنا بھی محال تھا اور اس کے بعد بالآخر انہیں اس گائے کو ذبح کرنا ہی پڑا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے پہلے حکم پر ہی گائے ذبح کرنے کو آمادہ ہوجاتے تو وہ کوئی بھی گائے ذبح کرسکتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اِنَّہٗ يَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ۝ ٠ ۚ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِيَۃَ فِيْہَا۝ ٠ ۭ قَالُوا الْـــٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ۝ ٠ ۭ فَذَبَحُوْھَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ۝ ٧١ ۧ ذلت يقال : الذُّلُّ والقُلُّ ، والذِّلَّةُ والقِلَّةُ ، قال تعالی: تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] ، وقال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، وقال : سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] ، وذَلَّتِ الدّابة بعد شماس، ذِلًّا، وهي ذَلُولٌ ، أي : ليست بصعبة، قال تعالی: لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] بغیر تاء کے ذل اور تار کے ساتھ ذلتہ کہا جاتا ہے جیسا کہ قل اور قلتہ ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی ۔ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور ( آخری کار ) زلت ( اور رسوائی ) اور محتاجی ( اور بےتوانائی ) ان سے چمٹادی گئی ۔ سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور ذلت ( نصیب ہوگی ) منہ زوزی کے بعد سواری کا مطیع ہوجانا اور اس قسم کی مطیع اور مئقاد سواری کا ذلول ( صفت فاعلی ) کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ۔ نہ تو زمین جوتتا ہو ۔ تثیر : مضارع واحد مؤنث غائب اثارۃ ( باب افعال) مصدر بمعنی برانگیختہ کرنا۔ ابھارنا۔ زمین میں جوتنے اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے میں چونکہ یہ معنی موجود ہیں اس لئے ان دونوں کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جوتنے کے لئے آیت ہذا اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے کے لئے اللہ الذی یرسل الریاح فتثر سحابا (30:48) خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں ( اوپر اٹھاتی ہیں) أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ سقی السَّقْيُ والسُّقْيَا : أن يعطيه ما يشرب، والْإِسْقَاءُ : أن يجعل له ذلک حتی يتناوله كيف شاء، فالإسقاء أبلغ من السّقي، لأن الإسقاء هو أن تجعل له ما يسقی منه ويشرب، تقول : أَسْقَيْتُهُ نهرا، قال تعالی: وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال : وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ( س ق ی ) السقی والسقیا کے معنی پینے کی چیز دینے کے ہیں اور اسقاء کے معنی پینے کی چیز پیش کردینے کے ہیں تاکہ حسب منشا لے کر پی لے لہذا اسقاء ینسبت سقی کے زیادہ طبغ ہے کیونکہ اسقاء میں مایسقی منھ کے پیش کردینے کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ پینے والا جس قد ر چاہے اس سے نوش فرمانے مثلا اسقیتہ نھرا کے معنی یہ ہوں ۔ گے کر میں نے اسے پانی کی نہر پر لے جاکر کھڑا کردیا چناچہ قرآن میں سقی کے متعلق فرمایا : ۔ وسقاھم وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا ۔ وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائیگا ۔ حرث الحَرْث : إلقاء البذر في الأرض وتهيّؤها للزرع، ويسمّى المحروث حرثا، قال اللہ تعالی: أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] ، وتصوّر منه معنی العمارة التي تحصل عنه في قوله تعالی: مَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ، وَمَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيا نُؤْتِهِ مِنْها وَما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ [ الشوری/ 20] ، وقد ذکرت في ( مکارم الشریعة) كون الدنیا مَحْرَثا للناس، وکونهم حُرَّاثاً فيها وكيفية حرثهم «1» . وروي : «أصدق الأسماء الحارث» «2» وذلک لتصوّر معنی الکسب منه، وروي : «احرث في دنیاک لآخرتک» «3» ، وتصوّر معنی التهيّج من حرث الأرض، فقیل : حَرَثْت النّار، ولما تهيّج به النار محرث، ويقال : احرث القرآن، أي : أكثر تلاوته، وحَرَثَ ناقته : إذا استعملها، وقال معاوية «4» للأنصار : ما فعلت نواضحکم ؟ قالوا : حرثناها يوم بدر . وقال عزّ وجلّ : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ [ البقرة/ 223] ، وذلک علی سبیل التشبيه، فبالنساء زرع ما فيه بقاء نوع الإنسان، كما أنّ بالأرض زرع ما به بقاء أشخاصهم، وقوله عزّ وجل : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ، يتناول الحرثین . ( ح ر ث ) الحرث ( ن ) کے معنی زمین میں بیج ڈالنے اور اسے زراعت کے لئے تیار کرنے کے پاس اور کھیتی کو بھی حرث کہاجاتا ہے ۔ قرآں میں ہے ؛۔ أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویری ہی جا پہنچو۔ اور کھیتی سے زمین کی آبادی ہوئی ہے اس لئے حرث بمعنی آبادی آجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ مَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ، وَمَنْ كانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيا نُؤْتِهِ مِنْها وَما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ [ الشوری/ 20] جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے ۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا کو خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا ۔ اور ہم اپنی کتاب مکارم الشریعہ میں دنیا کے کھیتی اور لوگوں کے کسان ہونے اور اس میں بیج بونے کی کیفیت تفصیل سے بیان کرچکے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے (72) اصدق الاسماء الحارث کہ سب سے سچا نام حارث ہے کیونکہ اس میں کسب کے معنی پائے جاتے ہیں ایک دوسری روایت میں ہے (75) اثرث فی دنیاک لآخرتک کہ اس دنیا میں آخرت کے لئے کاشت کرلو ۔ حرث الارض ( زمین کرنا ) سے تھییج بھڑکانا کے معنی کے پیش نظر حرثت النار کہا جاتا ہے میں نے آگ بھڑکائی اور جس لکڑی سے آگ کریدی جاتی ہے اسے محرث کہا جاتا ہے ۔ کسی کا قول ہے ۔ احرث القرآن یعنی قرآن کی خوب تحقیق سے کام لو ۔ حرث ناقتہ اونٹنی کو کام اور محنت سے دبلا کردیا ۔ حضرت معاویہ نے انصار سے دریافت کیا کہ تمہارے پانی کھیچنے والے اونٹ کیا ہوئے تو انہوں نے جواب دیا :۔ حرثنا ھا یوم بدر کہ ہم نے بدر کے دن انہیں دبلا کردیا ۔ اور آیت کریمہ ؛ نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ ۔ میں استعارۃ عورتوں کو حرث کہا ہے کہ جس طرح زمین کی کاشت پر افراد انسبائی بقا کا مدار ہے اس طرح نوع انسان اور اس کی نسل کا بقا عورت پر ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو ( برباد ) اور انسانوں اور حیوانوں کی ) نسل کو قابو کردے ۔ دونوں قسم کی کھیتی کو شامل ہے۔ شيه شِيَةٌ: أصلها وِشْيَةٌوذلک من باب الواو . والشية كل لون يخالف معظم لون الفرس وغیره أي لا لون فيها يخالف سائر لونها فهي صفراء کلها حتی قرنها وظلفها ، وهي في الأصل مصدر ( وشاة ) إذا خلط بلونه لوناً آخر ، أصلها وشية حذف فاؤها كما هو ( عدة ) و ( زنة ) ) ( غرائب القرآن) ( شية) ، هو في الأصل مصدر فعل وشیء من باب وعد إذا خلط لونا بلون آخر . والمراد هنا اللون نفسه . وفي الکلمة إعلال بالحذف، حذفت فاؤه كما جری ذلک في عدة وزنه علة .( اعراب القرآن) شیۃ۔ داغ۔ نشان ، علامت۔ شیات جمع شیۃ اصل میں وشیۃ تھا۔ اور وشی یشی ( باب ضرب) کا مصدر ہے۔ اس کی ھا واؤ محذوف کے عوض میں ہے وشی کے اصل معنی کسی چیز میں اس کی تمام رنگوں کے خلاف اور رنگ لگانے کے ہیں ۔ یعنی ایسا رنگ جو سارے بدن کے رنگ کے خلاف ہو، وشی مادہ۔ لاشیۃ فیہا اس میں اپنے رنگوں کے علاوہ کوئی خلاف رنگ نہ ہو۔ یعنی بےداغ ہو، یہ صفت چہارم ہوئی بقرۃ کی۔ ( الآن) ، الألف واللام فيه زائدة لازمة، وهو ظرف للزمان ملازم للبناء . جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ ذبح أصل الذَّبْح : شقّ حلق الحیوانات . والذِّبْح : المذبوح، قال تعالی: وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] ، وذَبَحْتُ الفارة شققتها، تشبيها بذبح الحیوان، وکذلك : ذبح الدّنّ «3» ، وقوله : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، علی التّكثير، أي : يذبح بعضهم إثر بعض . وسعد الذّابح اسم نجم، وتسمّى الأخادید من السّيل مذابح . ( ذ ب ح ) الذبح ( ف ) اصل میں اس کے معنی حیوانات کے حلق کو قطع کرنے کے ہیں اور ذبح بمعنی مذبوح آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو ۔ ذبحت الفارۃ ۔ میں نے نافہ مشک کو کو چیرا ۔ یہ حیوان کے ذبح کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذبح الدن کا محاورہ ہے جس کے معنی مٹکے میں شگاف کرنے کسے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے ۔ میں صیغہ تفعیل برائے تکثیر ہے یعنی وہ کثرت کے ساتھ یکے بعد دیگرے تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے ۔ سعد الدابح ( برج جدی کے ایک ) ستارے کا نام ہے اور سیلاب کے گڑھوں کو مذابح کہا جاتا ہے ۔ كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] ، لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] . وقلّما يستعمل في كاد أن إلا في ضرورة الشّعر «1» . قال قد كَادَ من طول البلی أن يمصحا«2» أي : يمضي ويدرس . ( ک و د ) کاد ( س ) فعل مقارب ہے یعنی کسی فعل کے قریب الوقوع ہون کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے مثلا کاد یفعل قریب تھا وہ اس کا م کو گزرتا یعنی کرنے والا تھا مگر کیا نہیں قرآن میں لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے ۔ وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] قریب تھا کہ یہ ( کافر) لگ تم اس سے بچلا دیں ۔ تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] قریب ہے کہ ( اس فتنہ ) سے آسمان پھٹ پڑیں ۔ ؛ يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] قریب ہے کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصارت کو اچک لے جائے ۔ يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] قریب ہوتے ہیں کہ ان پر حملہ کردیں إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] تو تو مجھے ہلاک ہی کرچکا تھا ۔ اور اگر ا ن کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکس فعل وقوع کو بیان کرنے کیلئے آتا ہے جو قوع کے قریب نہ ہوا اور حروف نفی اس پر مقدم ہو یا متاخر دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی دیتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] اور وہ ا یسا کرنے والے تھے نہیں ۔ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور کاد کے بعد ان کا استعمال صرف ضرورت شعری کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 387 ) قد کاد من طول البلیٰ ان یمصحا قریب تھا کہ زیادہ بوسیدگی کے باعث وہ سٹ جائے فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لاَّ ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلاَ تَسْقِی الْحَرْثَ ج) (مُسَلَّمَۃٌ لاَّ شِیَۃَ فِیْہَا ط) اس میں (کسی دوسرے رنگ کا) کوئی داغ تک نہ ہو۔ “ (قَالُوا الْءٰنَ جِءْتَ بالْحَقِّ ط) ۔ “ اب تو آپ ( علیہ السلام) نے بات پوری طرح واضح کردی ہے۔ (فَذَبَحُوْہَا وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ ) “ اب وہ کیا کرتے ‘ پے بہ پے سوالات کرتے کرتے وہ گھیراؤ میں آ چکے تھے ‘ لہٰذا بادل نخواستہ وہ اپنی مقدس سنہری گائے کو ذبح کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہاں واقعہ کی ترتیب تورات سے مختلف ہے اور ذبح بقرہ کا جو سبب تھا وہ بعد میں بیان ہو رہا ہے ‘ جبکہ تورات میں ترتیب دوسری ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

84. Through contact with neighbouring peoples, the Israelites had become infested with the attitude of sanctifying the cow, in fact they had even become accustomed to cow-worship. In order to disabuse the Jews of this, they were ordered to slaughter the cow. Their professed belief that God alone was worthy of worship could be tested only by making them slaughter with their own hands what they had formerly worshipped. This test was indeed a hard one since their hearts were not fully imbued with faith. Hence, they tried to shelve the issue by resorting to enquiries about the kind of animal they were required to slaughter. But the more they enquired, the narrower the strait became for them, until the indications were as obvious as if someone had put his finger precisely on the particular animal they were required to slaughter - the animal which had for so long been an object of their worship. The Old Testament also mentions the incident, but there is no reference to the manner in which the Jews tried to evade the matter. (See Numbers 19: 1-10.)

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :84 چونکہ ان لوگوں کو اپنی ہمسایہ قوموں سے گائے کی عظمت و تقدیس اور گاؤ پرستی کے مرض کی چُھوت لگ گئی تھی اس لیے ان کو حکم دیا گیا کہ گائے ذبح کریں ۔ ان کے ایمان کا امتحان ہی اسی طرح ہو سکتا تھا کہ اگر وہ واقعی اب خدا کے سوا کسی کو معبُود نہیں سمجھتے ، تو یہ عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے جس بُت کو معبُود سمجھتے رہے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے توڑ دیں ۔ یہ امتحان بہت کڑا امتحان تھا ۔ دلوں میں پُوری طرح ایمان اُترا ہوا تھا ، اس لیے انہوں نے ٹالنے کی کوشش کی اور تفصیلات پُوچھنے لگے ۔ مگر جتنی جتنی تفصیلات وہ پُوچھتے گئے اتنے ہی گھِرتے چلے گئے یہاں تک کہ آخر کار اسی خاص قسم کی سنہری گائے پر ، جسے اس زمانے میں پرستش کے لیے مختص کیا جاتا تھا ، گویا اُنگلی رکھ کر بتا یا گیا کہ اِسے ذِبح کرو ۔ بائیبل میں بھی اس واقعے کی طرف اشارہ ہے ، مگر وہاں یہ ذکر نہیں ہے کہ بنی اسرائیل نے اس حکم کو کس کس طرح ٹالنے کی کوشش کی تھی ۔ ( ملاحظہ ہو گنتی ، باب ۱۹- آیت ۱۰-۱ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

52: مطلب یہ ہے کہ شروع میں جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا تو کسی خاص قسم کی گائے نہیں بتائی گئی تھی چنانچہ وہ کوئی بھی گائے ذبح کردیتے تو حکم پورا ہوجاتا لیکن انہوں نے خواہ مخواہ کھود کرید شروع کردی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بھی نت نئی شرطیں عائد فرمالیں اور ایسی گائے تلاش کرنا مشکل ہوگیا جو ان شرطوں کو پورا کرتی ہو۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ ایسی گائے تلاش کرکے ذبح کرنے کے قابل نہ ہوں۔ اس واقعے میں سبق یہ دیا گیا ہے کہ بلاوجہ غیر ضروری کھوج میں پڑنا ٹھیک نہیں جو بات جتنی سادہ ہو اس پر اتنی ہی سادگی عمل کرلینا چاہیے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(71 ۔ 73): شروع قصہ کا یہی ہے مگر جس تنبیہ کے لئے قصے کی ترتیب بدلی گئی ہے اس کا ذکر اوپر گذر چکا۔ اس سورت میں مردہ کے زندہ ہونے کا ذکر پانچ آیتوں میں جگہ جگہ آیا ہے تاکہ منکرین حشر کے دل میں اچھی طرح یہ جم جاوے کہ جس طرح ان مردوں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اسی طرح سب مردے حشر کے دن زندہ کئے جائیں گے اور یہود لوگ اگر حشر کے منکر نہیں ہیں لیکن حشر کے ذکر سے ان کے دل میں یہ بات جم جاوے کہ آخر حشر نیک وبد کے حساب و سزا و جزا کے لئے ہے۔ پھر حشر کی اصلی غرض کو بھول کر عقبیٰ کے مضر کام کرنا بڑی نادانی کی بات ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس پر قادر رہ کر دنیا میں موت کے ما بعد کاموں میں لگا رہے اور نادان وہ ہے جو نفس کے تابع ہو کر دنیا میں موت کے مابعد کی باتوں کو بھول جائے ٣ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:71) ذلول۔ نرم ، مطیع۔ ہموار، پست، ذل اور ذل۔ سے، (باب ضرب) منہ زوری کے بعد سواری کا مطیع ہونا ۔ اس قسم کی مطیع اور منقاد سواری کو ذلول کہا جاتا ہے۔ تثیر : مضارع واحد مؤنث غائب اثارۃ (باب افعال) مصدر بمعنی برانگیختہ کرنا۔ ابھارنا۔ زمین میں جوتنے اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے میں چونکہ یہ معنی موجود ہیں اس لئے ان دونوں کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جوتنے کے لئے آیت ہذا اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے کے لئے اللہ الذی یرسل الریاح فتثر سحابا (30:48) خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں (اوپر اٹھاتی ہیں) ولا تسقی الحرث۔ لاتسقی، مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ سقی (باب ضرب) مصدر ۔ نہ وہ پانی پلاتی ہے۔ نہ وہ سیراب کرتی ہے۔ الحرث کھیتی، زراعت حرث یحرث (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ بمعنی بیج ڈالنا۔ کھیتی کرنا۔ کھیت کو بھی حرث کہتے ہیں۔ لاذلول تثیر الارض نہ (ایسی) مطیع و منقاد کہ زمین جوتے۔ یہ صفت ہے بقرۃ کی ۔ ولا تسقی الحرث۔ اور نہ کھیت سیراب کرتی ہے یہ صفت دوم ہے بقرۃ کی۔ مسلمۃ اسم مفعول واحد مؤنث تسلیم (تفعیل) مصدر سے ۔ سالم ، بےداغ۔ یہ صفت سوم ہے بقرۃ کی ۔ شیۃ۔ داغ۔ نشان ، علامت۔ شیات جمع شیۃ اصل میں وشیۃ تھا۔ اور وشی یشی (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ اس کی ھا واؤ محذوف کے عوض میں ہے وشی کے اصل معنی کسی چیز میں اس کی تمام رنگوں کے خلاف اور رنگ لگانے کے ہیں ۔ یعنی ایسا رنگ جو سارے بدن کے رنگ کے خلاف ہو، وشی مادہ۔ لاشیۃ فیہا اس میں اپنے رنگوں کے علاوہ کوئی خلاف رنگ نہ ہو۔ یعنی بےداغ ہو، یہ صفت چہارم ہوئی بقرۃ کی۔ الئن اب ۔ ظرف زمان ہے۔ مبنی برفتح ہے، الف لام بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے، راغب اصفہانی المفردات میں لکھتے ہیں الئن ۔ ہر وہ لمحہ جو ماضی اور مستقبل کے درمیان فرض کیا جاوے۔ اسے الئن کہتے ہیں ۔ جیسے الئن افعل کذا میں اب کرتا ہوں۔ اور الئن کا لفظ ہمیشہ الف لام تعریف کے ساتھ آتا ہے۔ اون مادہ ہے۔ الئن جئت بالھق۔ اب تو لایا ہے صحیح پتہ۔ یعنی اب پوری حقیقت اس گائے کی بیان کی ہے۔ وکا کادوا یفعلون ۔ کاد یکاد۔ کود (باب سمع) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے کاد افعال مقاربہ میں سے ہے اور فعل مضارع پر داخل ہو یا ہے۔ کاد اگر بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ مثلاً یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی ہی اچک لے جائے (گو ابھی اس نے ان کی بینائی اچکی نہیں ہے لیکن قریب ہے کہ ایسا ہوجائے (ب) ، اگر بصورت نفی مذکور ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع ہوگیا لیکن قریب تھا کہ واقع نہ ہی ہوتا۔ جیسے آیت ہذا میں ہے فذبحوھا وما کادوا یفعلون ۔ پھر انہوں نے گائے کو ذبح کیا اور قریب تھا کہ وہ ذبح نہ ہی کرتے۔ یعنی ذبح کرنے کی حد تک پہنچ گئے تھے (نیز ملاحظہ ہو 2:20) کود بمعنی ارادہ اور خواہش بھی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے ان الشاعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا۔ لتجزی کل نفس بما تسعی (20:15) بیشک قیامت آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلہ پائے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے ہے کہ آخر کار انہیں ان تمام صفات کی گائے ایک ایسے شخص کے پاس ملی جس کے پاس کوئی دوسری گائے نہ تھی اس لیے وہ کہنے لگا میں اپنی گائے اس قیمت پر فروخت کروں گا کہ تم اس کی کھا مجھے سونے سے بھر دو ۔ نچا نچہ انہوں نے اسی قیمت پر ان سے یہ گائے خریدی ،۔ (ابن جریر) حدیث میں ہے کہ ابتداء میں اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کردیتے تو کافی ہوجاتی مگر انہوں نے تغنت اور بےجا سوالات کئے تو اللہ تعالیٰ نے تشدید برتا۔ (فتح القدیر ) 1 یعنی گراں قیمت اور فضیحت کے خطرے اور ان کے ت عنت کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے ذبح کرنا نہیں چاہتے۔ حدیث میں ہے کہ اگر انشاء اللہ کہتے و آخر ابد تک حال گائے کانہ کھلتا اس کو ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ سے مرفوعا روایت کیا ہے ،۔ ( فوائد سلفیہ) مسئلہ۔ جس طرح اس ترسہ اوصاف کے بیان کرنے کو تعین کے لیے کافی سمجھا ہے۔ اسی طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے اونٹوں کے بھی اوصاف بیان کیے ہیں، اس سے ثا بت ہوتا ہے کہ اوصاف کے بیان سے حیوان کی تعیین ہوجاتی ہے لہذا حیوان میں بیع سلم جائز ہے یہی جمہور علماء سلف وخلف کا مسلک ہے مگر اما ابوحنیفہ اور علمائے کوفہ اس میں بیع سلم کے جواز کے قاتل نہیں ہیں۔ (ابن کثیر ) ۔ اس قصہ سے یہود کو تنبیہہ بھی مقصود ہے جس طرح گائے کے زبح کرنے میں طرح طرح کے جھگڑے نکا لنے کی وجہ سے تمہارے بزرگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شدائد میں گرفتار ہوئے اس طرح بھی نبی آخرالزمان کے اوصاف چھپا کر ان کی اتباع سے گریز کی راہیں نکالتے رہو گے تو تمہارا انجام بھی اچھا نہیں ہوگا۔ (قرطبی۔ رازی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

غرض اس نہ ختم ہونے والی لجاجت اور مباحثے کے نتیجے میں اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ اس حکم کو مزید پیچیدہ اور سخت کردیا جائے اور انتخاب واختیار کا وسیع دائرہ انہیں فراہم کیا گیا تھا ، اسے مزید تنگ اور محصور کردیا جائے اور مطلوبہ گائے کے اندر چند مزید اوصاف کا اضافہ کردیاجائے ، جبکہ پہلے ان اوصاف کی ضرورت نہ تھی اور حکم کی تعمیل کا دائرہ وسیع تر رکھا گیا تھا۔ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الأرْضَ وَلا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيهَا ” موسیٰ نے کہا ! اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہیں لی جاتی ہو ، نہ زمین جوتتی ہے ، نہ پانی کھینچتی ہے صحیح سالم اور بےداغ ہے۔ “ اب وہ گائے صرف شوخ اور دل کو لبھانے والے زرد رنگ کی متوسط عمر کی گائے ہی نہ رہی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسی گائے بن گئی جو کوئی محنت نہیں کرتی ، ہل نہیں جوتتی ، پانی نہیں کھنچتی اور ہے بھی خالص رنگ اس میں کوئی داغ نہیں ہے ۔ یہاں آکر اب ان کا دماغ درست ہوتا ہے ۔ معاملے کو مشکل تر بنانے ، زیادہ سے زیادہ شرائط عائد کرانے اور اپنے دائرہ عمل کو آخری حد تک تنگ کرانے کے بعد اب وہ پکار اٹھتے ہیں ۔ قَالُوا الآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ” اس پر وہ پکار اٹھے ! ہاں اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا۔ “ ” اب “ گویا اس سے پہلے جو کچھ آپ فرما رہے تھے وہ حق نہ تھا ، گویا اس لمحہ ہی میں انہیں یہ یقین ہورہا ہے کہ حضرت موسیٰ جو کچھ پیش فرما رہے ہیں وہ حق ہے ۔ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ ” پھر انہوں نے گائے کو ذبح کیا ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ “ جب وہ حکم الٰہی پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں اور فریضہ الٰہی کو ادا کردیتے ہیں ، تو اب یہاں پوری کہانی کے آخر میں ، اللہ تعالیٰ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کیوں دیا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

143 یعنی اس سے محنت کا کام نہ لیا جاتا ہو۔ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ ۔ یہ ماقبل کی تفسیر ہے۔ مُسَلّمَۃٌ بےعیب ہو بریئۃ من العیوب (معالم ص 61 ج 1) لَّا شِيَةَ فِيْهَا۔ وہ یک رنگ ہو اور اس میں کسی دوسرے رنگ کا داغ دھبہ نہ ہو ای لیس فیھا لون یخالف معظم لونھاھی صفرا کلھا لابیاض فیھا و لاحمرۃ ولا سواد (قرطبی ص 454 ج 1) جِئْتَ بِالْحَقِّ ۔ یہاں حق بمعنی حقیقت ہے۔ یعنی اب تم نے مطلوبہ گائے کی ٹھیک ٹھیک حقیقت بیان کی ہے۔ ای اظھرت حقیقۃ ما امرنا بہ فالحق ھنا بمعنی الحقیقۃ (روح ص 291 ج 1) فَذَبَحُوْھَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْن۔ یعنی ان کی طبیعت گائے کے ذبح کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی اس لیے بار بار سوال کرتے تھے۔ ذبح تو کیا مگر بڑی مشکل سے بنی اسرائیل کو کوئی سی گائے ذبح کرنے کا حکم ملا تھا۔ مگر انہوں نے ازراہ تعنت اس میں موشگافیاں شروع کردیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ بالا اوصاف کی گائے کے لیے ایک طرف تو انہیں بہت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑی اور دوسرا عرصہ دراز تک اس کی تلاش میں مارے مارے پھرے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اگر وہ کوئی سی گائے لیکر ذبح کر ڈالتے تو ان کا کام بن جاتا۔ لو ذبحوا ای بقرۃ ارادوا الاجزاتہم ولکن شددوا علی انفسہم فشدد اللہ تعالیٰ علیہم (روح ص 288 ج 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے درخاوست کیجیے کہ وہ اس بیل کا حال اور اس کا وصف بیان کرے کہ وہ کیسا ہو کتنا بڑا ہو۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرمتا ہے وہ بیل نہ تو بہت بوڑھا ہو اور نہ بالکل بچہ ہو بلکہ اس کی عمران دونوں حالتوں کے درمیان ہو اب جو کچھ تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو کر ڈالو اپر انہوں نے کہا آپ اپنے رب سے ہمارے لئے یہ درخواست اور کردیجیے کہ وہ یہ بیان کرے کہ اس بیل کا رنگ کیسا ہو حضرت موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ایک ایسا بیل ہو جس کا رنگ زرد ہو اور زرد بھی بہت گہرا اور شوخ جو دیکھنے والوں کو فرحت بخش اور خوش آئند ہو یہ سن کر انہوں نے کہا اچھا ایک اور درخواست اپنے رب سے ہمارے لئے کردیجیے کہ وہ ذرا واضح طور پر یہ بیان کر دے کہ وہ بیل کیسا ہو اور اس کے اوصاف کیا ہوں وہ گھر کھڑا رہتا ہو یا ہل میں جوتا جاتا ہو کیونکہ اس بیل کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہوگیا ہے اور اس میں ابھی کچھ اشتباہ باقی ہے اور ہم انشاء اللہ اب کی دفعہ ضرور راہ پالیں گے اور اس کو ٹھیک ٹھیک سمجھ جائیں گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو ہل ہی میں جوتا گیا ہو جس سے زمین جوتی جائے اور نہ اس کو پانی میں لگایا گیا ہو جس سے کھیتی کی آب پاشی کی جائے صحیح سالم اور بےداغ ہو وہ کہنے لگے اب آپ صاف اور پورا جواب لائے ہیں پھر انہوں نے ان اوصاف کا بیل تلاش کر کے اس کو ذبح کیا حالانکہ پے در پے ان کے سوالات اور حجت بازی سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ یہ کام کرنے والے نہیں ہیں۔ (تیسیر) بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ایک شخص کی لڑکی تھی اس سے کسی نے شادی کا پیام دیا باپ نے انکار کردیا اس پر اس پیام دینے والے نے لڑکی کے باپ کو قتل کردیا قاتل کا پتہ نہ چلتا تھا اس پر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ قاتل معلوم ہونا چاہئے تاکہ بےچینی دور ہو اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ عمویل یا عامیل ایک سرمایہ دار آدمی تھا اس کے وارثوں نے اسے قتل کردیا پھر اس کو شہر کے دروازے پر یا کسی دوسرے محلہ میں ڈال آئے قریب تھا کہ ورثا مقتول میں اور ان محلے والوں میں سخت جنگ ہوجائے لیکن کسی سمجھ دار شخص نے دونوں فریق میں یہ کہہ کر بیچ بچائو کرا دیا کہ جب ہم میں اللہ کا پیغمبر موجود ہے تو اس سے دریافت کرو تم آپس میں کیوں لڑتے ہو چناچہ اس بات پر سب مل کر حضرت موسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مفسرین کے اقوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ نزول تورات سے قبل کا ہے اور اس وقت تک بنی اسرائیل کو اس قسم کے قتل کا حکم معلوم نہ تھا جب حضرت مسویٰ نے جناب باری میں دعا کی تو ارشاد ہوا کہ تم ایک بیل کو ذبح کرو۔ چنانچہ اس قسم کے بیل کو بڑی مشکل سے تلاش کیا تو بنی اسرائیل کو معلوم ہوا کہ اس عمر اور اس رنگ و روپ کا بیل ایک لڑکے کی ملک ہے جو جنگل میں چرتا رہتا ہے اور سوائے اس لڑکے کے وہ بیل کسی کے ہاتھ نہیں آسکتا ۔ صاحب در منشور حضرت وہب بن منبہ سے نقل کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا نیک آدمی تھا۔ اس کا ایک لڑکا تھا اور اس کے پاس ایک بچھڑا تھا، اس نیک شخص نے مرتے وقت اس بچھڑے کو خدا کے سپرد کر کے جنگل میں چھوڑ دیا اور اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ جب یہ لڑکا بڑا ہوجائے تو اس سے کہنا کہ وہ جنگل میں جا کر خدا سے یوں دعا کرے کہ اے اللہ ! ابراہیم و اسحاق و یعقوب میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ بچھڑا میرے پاس آجائے۔ یہ لڑکا جب بڑا ہوا تو ماں کا بہت خدمتگار تھا جو مزدوری کر کے لاتا تھا اس میں سے ایک تہائی خیرات کرتا تھا اور ایک تہائی خرچ کرتا تھا اور ایک تہائی ماں کو دیا کرتا تھا۔ ماں نے اس کو یہ کہہ دیا تھا کہ جب تک مجھ سے دریافت نہ کرے اس بچھڑے کا سودا کسی سے نہ کیجیو۔ ابتدا ایک آسمانی فرشتے نے بطور امتحان اس لڑکے سے بات چیت کی اور تین دن تک اس بچھڑے کی قیمت لگاتار رہا۔ لیکن لڑکا ہر روز یہ کہطتا رہا کہ میں اپنی ماں سے دریافت کرلوں فرشتہ یہ کہتا رہا کہ تو چاہے جتنی قیمت لے لے مگر اپنی ماں سے دریافت نہ کر، آخر تیسرے دن فرشتے نے کہا کہ اس کی قیمت بہت آئے گی مگر تو اس وقت تک اس بیل کو فروخت نہ کیجیو جب تک اس کی کھال بھر کر سونا نہ حاصل کرے، لڑکا ہر روز کی بات اپنی ماں کو بتاتا رہا۔ ماں نے کہا بیٹا ! جب تک مجھ سے دریافت نہ کرلے کسی سے ہاں نہ کیجیو۔ بنی اسرائیل تلاش کرتے ہوئے اس لڑکے کے پاس پہنچے اور اس بیل کی قیمت لگاتے رہے۔ یہ کہتا رہا میں اپنی ماں سے دریافت کرلوں۔ آخر فرشتے نے جو قیمت بتائی تھی اس قیمت پر ماں نے اجازت دے دی اور بیل کا سودا ہوگیا۔ لڑکے نے جنگل میں جا کر دعا کی اور وہ بیل اس لڑکے کے پاس آکھڑا ہوا بہرحال اس غیر مرفوع روایت کا درجہ کیسا ہی ہو اور قتل کے وجوہات کچھ بھی ہوں قرآن شریف سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف اس قدر ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں کوئی خون ہوا اور قاتل کا پتہ نہ چلا اللہ تعالیٰ نے یہ احسان کیا کہ قاتل کو معلوم کرنے کا طریقہ بتایا تاکہ صحیح انصاف ہو سکے اور مقتول کا خون رائیگاں نہ ہو اور قاتل کے ساتھ جو سازش میں شریک تھے وہ نمایاں ہوجائیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اگر یہ لوگ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی ان کو اس کا پتہ نہیں لگتا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا ہے جو شخص زرد رنگ کا جوتا پہنے گا تو جب تک اس جوتہ کو استعمال کرے گا وہ خوش اور مسرور رہے گا۔ بعض حضرات نے اس موقعہ پر ترتیب آیات کی بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ قتل کے بعد بنی اسرائیل کو بیل ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا اس لئے واذ قتلتم کی آیت مقدم ہوئی اور واذ قال موسیٰ لقومہ کی آیت مئوخر ہوئی۔ یہ شبہ کرنے کے بعد پھر اس کے جوابات دیئے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس بحث کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ نزول کی ترتیب اور ہو اور تلاوت کی ترتیب دوسری ہو۔ نیز یہ کہ ترتیب خواہ کچھ ہو لیکن واقعہ بہرحال پورا ذکر کردیا گیا ہے اور چونکہ اوپر سے بنی اسرائیل کی بد عنوانیوں اور شرارتوں کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ اس لئے وہ سلسلہ بھی قائم رکھا گیا۔ (تسہیل)