Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 75

سورة البقرة

اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا لَکُمۡ وَ قَدۡ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾

Do you covet [the hope, O believers], that they would believe for you while a party of them used to hear the words of Allah and then distort the Torah after they had understood it while they were knowing?

۔ ( مسلمانو! ) کیا تمہاری خواہش ہے کہ یہ لوگ ایماندار بن جائیں حالانکہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کلام اللہ کو سن کر عقل و علم والے ہوتے ہوئے پھر بھی بدل ڈالا کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

There was little Hope that the Jews Who lived during the Time of the Prophet could have believed Allah said, أَفَتَطْمَعُونَ ... Do you covet, (O believers), ... أَن يُوْمِنُواْ لَكُمْ ... That they will believe in your religion, meaning, that these people would obey you? They are the deviant sect of Jews whose fathers witnessed the clear signs but their hearts became hard afterwards. Allah said next, ... وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَمَ اللّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ ... Inspite of the fact that a party of them (Jewish rabbis) used to hear the Word of Allah (the Tawrah), then they used to change it, meaning, distort its meaning, ... مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ ... after they understood it, They understood well, yet they used to defy the truth, ... وَهُمْ يَعْلَمُونَ knowingly. being fully aware of their erroneous interpretations and corruption. This statement is similar to Allah's statement, فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـقَهُمْ لَعنَّـهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَضِعِهِ So, because of their violation of their covenant, We cursed them and made their hearts grow hard. They change the words from their (right) places. (5:13) Qatadah commented that Allah's statement; ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (Then they used to change it knowingly after they understood it) "They are the Jews who used to hear Allah's Words and then alter them after they understood and comprehended them." Also, Mujahid said, "Those who used to alter it and conceal its truths; they were their scholars." Also, Ibn Wahb said that Ibn Zayd commented, يَسْمَعُونَ كَلَمَ اللّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ (used to hear the Word of Allah (the Tawrah), then they used to change it), "They altered the Tawrah that Allah revealed to them, making it say that the lawful is unlawful and the prohibited is allowed, and that what is right is false and that what is false is right. So when a person seeking the truth comes to them with a bribe, they judge his case by the Book of Allah, but when a person comes to them seeking to do evil with a bribe, they take out the other (distorted) book, in which it is stated that he is in the right. When someone comes to them who is not seeking what is right, nor offering them bribe, then they enjoin righteousness on him. This is why Allah said to them, أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَـبَ أَفَلَ تَعْقِلُونَ Enjoin you Al-Birr (piety and righteousness and every act of obedience to Allah) on the people and you forget (to practice it) yourselves, while you recite the Scripture (the Tawrah)! Have you then no sense!" (2:44) The Jews knew the Truth of the Prophet , but disbelieved in Him Allah said next,

یہودی کردار کا تجزیہ اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لئے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو؟ ٹھیک اس آیت کی طرح اور جگہ فرمایا ( فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ) 5 ۔ المائدہ:13 ) یعنی ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دئے یہ اللہ کے کلام کو رد و بدل کر ڈالا کرتے تھے ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام اللہ سننے کو فرمایا اس سے مراد حضرت موسیٰ کے صحابیوں کی وہ جماعت ہے جنہوں نے آپ سے اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سننے کی درخواست کی تھی اور جب وہ پاک صاف ہو کر روزہ رکھ کر حضرت موسیٰ کے ساتھ طور پہاڑ پر پہنچ کر سجدے میں گر پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انیں اپنا کلام سنایا جب یہ واپس آئے اور نبی اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا یہ کلام بنی اسرائیل میں بیان کرنا شروع کیا تو ان لوگوں نے اس کی تحریف اور تبدیلی شروع کر دی ۔ سدی فرماتے ہیں ان لوگوں نے توراۃ میں تحریف کی تھی یہی عام معنی ٹھیک ہیں جس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں گے اور اس بدخصلت والے دوسرے یہودی بھی ۔ قرآن میں ہے فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ یعنی مشرکوں میں سے کوئی اگر تجھ سے پناہ طلب کرے تو تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے تو اس سے یہ مراد نہیں کہ اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سنے بلکہ قرآن سنے تو یہاں بھی کلام اللہ سے مراد توراۃ ہے ۔ یہ تحریف کرنے والے اور چھپانے والے ان کے علماء تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف ان کی کتاب میں تھے ان سب میں انہو نے تاویلیں کر کے اصل مطلب دور کر دیا تھا اسی طرح حلال کو حرام ، حرام کو حلال ، حق کو باطل ، باطل کو حق لکھ دیا کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے آیت ( وَقَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران:72 ) یعنی اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا ایمان والوں پر جو اترا ہے اس پر دن کے شروع حصہ میں ایمان لاؤ پھر آخر میں کفر کرو تاکہ خود ایمان والے بھیاس دین سے پھر جائیں ۔ یہ لوگ اس فریب سے یہاں کے راز معلوم کرنا اور انہیں اپنے والوں کو بتانا چاہتے تھے اور مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے تھے مگر ان کی یہ چالاکی نہ چلی اور یہ راز اللہ نے کھول دیا جب یہ یہاں ہوتے اور اپنا ایمان اسلام و ظاہر کرتے تو صحابہان سے پوچھتے کیا تمہاری کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت وغیرہ نہیں؟ وہ اقرار کرتے ۔ جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے تو وہ انہیں ڈانٹتے اور کہتے اپنی باتیں ان سے کہہ کر کیوں ان کی اپنی مخالفت کے ہاتھوں میں ہتھیار دے رہے ہو؟ مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ والے دن یہودیوں کے قلعہ تلے کھڑے ہو کر فرمایا اے بندر اور خنزیر اور طاغوت کے کے عابدوں کے بھائیو! تو وہ آپس میں کہنے لگے یہ ہمارے گھر کی باتیں انہیں کس نے بتا دیں خبردار اپنی آپس کی خبریں انہیں نہ دو ورنہ انہیں اللہ کے سامنے تمہارے خلاف دلائل میسر آ جائیں گے اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گو تم چھپاؤ لیکن مجھ سے تو کوئی چیز چھپ نہیں سکتی تم جو چپکے چپکے اپنوں سے کہتے ہو کہ اپنی باتیں ان تک نہ پہنچاؤ اور اپنی کتاب کی باتیں کو چھپاتے ہو تو میں تمھارے اس برے کام سے بخوبی آگاہ ہوں ۔ تم جو اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو ۔ تمہارے اس اعلان کی حقیقت کا علم بھی مجھے اچھی طرح ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

75۔ 1 اہل ایمان کو خطاب کر کے یہودیوں کے بارے کہا جا رہا ہے کیا تمہیں ان کے ایمان لانے کی امید ہے حالانکہ ان کے پچھلے لوگوں میں ایک فرق ایسا بھی تھا جو کلام الٰہی جانتے بوجھتے تحریف کرتا تھا۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسے لوگوں کے ایمان لانے کی قطعا امید نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ دنیوی مفادات یا حزبی تعصبات کی وجہ سے کلام الٰہی میں تحریف تک کرنے سے گریز نہیں کرتے وہ گمراہی کی ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں کہ اس سے نکل نہیں پاتے۔ امت محمدیہ کے بہت سے علماء و مشائخ بھی بدقسمتی سے قرآن اور حدیث میں تحریف کے مرتکب ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جرم سے محفوظ رکھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٩] نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلقہ آیات کو چھپانا اور ان میں تحریف :۔ یہ خطاب دراصل مدینہ کے سادہ دل نو مسلموں سے ہے جو یہود سے کئی بار یہ سن چکے تھے کہ ایک نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آنے والا ہے اور جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے وہ ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔ && اب یہ لوگ تو ایمان لے آئے مگر یہود نے یہ کام کیا کہ تورات میں جو حلیہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکور تھا۔ اس میں تحریف کر ڈالی اور ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بتائی کہ اس کا حلیہ تورات میں مذکور حلیہ سے مختلف ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہ خطاب مسلمانوں سے ہے کہ یہود سے ایمان کی توقع بےسود ہے، ان کے پہلے بزرگ یہ ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ اللہ کے کلام یعنی تورات میں تحریف کر ڈالتے تھے۔ اس جگہ لفظ تحریف لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریف کو شامل ہے۔ انھوں نے تورات کے الفاظ بھی بدل ڈالے تھے، مگر زیادہ تر غلط تاویلوں سے معانی تبدیل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ موجودہ یہود نے تورات کی ان آیات کو بدل ڈالا جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف کا ذکر تھا اور اپنے دل سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرا لیا۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) آج کل کے باطل پرست علماء بھی اپنے خود ساختہ مسائل کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے حوالہ جات قرآن و حدیث سے تراش رہے ہیں اور شریعت میں تحریف کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Muslims used to take great pains in trying to make the Jews accept Islam. Having recounted so many stories of the perversity of the Jews, the Holy Qur&an points out to the Muslims that they cannot expect such a people to be sensible, and asks them not to worry much about them. For, some of the Jews have been committing an even more heinous sin - they used to change and distort the Word of Allah in spite of knowing the ignominy of such a deed. So, the Holy Qur&an wants the Muslims to realize that men who are so enslaved to their desires and so shameless in their pursuit of evil, cannot be expected to listen to anyone. The |"Word of Allah|" mentioned in the verse refers to the Torah which the Jews had |"heard|" from the prophets, and the distortion pertains to the changes made in the words themselves or in the sense or in both; or it refers to the words of Allah which the seventy men had heard directly on the Mount Tur طور (Sinai) where they had gone to seek divine confirmation of what Sayyidna Musa (Moses (علیہ السلام) ) had been telling and the distortion pertains to their declaration before their people that Allah had promised to forgive them if they could not act upon certain commandments. The Jews who were the contemporaries of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) may not have themselves been involved in some of these transgressions, but since they did not abhor the misdeeds of their forefathers, they are to be considered as their counterparts.

خلاصہ تفسیر : (مسلمان یہودیوں کو مومن بنانے کی جو کوشش کر رہے تھے اور اس میں کلفت اٹھاتے تھے تو یہود کے حالات و واقعات بتا اور سنا کر مسلمانوں کو امید کا انقطاع کرکے ان کی کلفت اس آیت کے ذریعہ فرماتے ہیں) (اے مسلمانو ! ) کیا (یہ سارے قصے سن کر) اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہارے کہنے سے ایمان لے آویں گے حالانکہ (ان سب مذکورہ قصوں سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ان سے ہوچکی ہے کہ) ان میں کچھ لوگ ایسے گذرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے اور اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے (اور) اس کو سمجھنے کے بعد (ایسا کرتے) اور لطف یہ کہ یہ بھی) جانتے تھے (کہ ہم برا کر رہے ہیں محض اغراض نفسانیہ اس کاروائی کا باعث ہوتیں) فائدہ : مطلب یہ کہ جو لوگ ایسے بیباک اور اغراض نفسانی کے اسیر ہوں اور کسی کے کہنے سننے سے کب باز آنے والے اور کسی کی کب سننے والے ہیں، اور کلام اللہ سے مراد یا تو تورات ہے اور سماع سے مراد بواسطہ انبیاء (علیہم السلام) کے ہے اور تحریف سے مراد اس کے بعض کلمات یا تفاسیر یا دونوں بدل ڈالنا ہیں اور یا کلام سے مراد وہ کلام ہے جو ان ستر آدمیوں نے بطور تصدیق موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر سنا تھا، اور سماع سے مراد بلاواسطہ اور تحریف سے مراد قوم سے یہ نقل کردینا کہ اخیر میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو حکم تم سے ادا نہ ہوسکے وہ معاف ہے، امور مذکورہ بالا میں سے کسی امر کا صدور گو ان یہودیوں سے نہ ہوا ہو جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود تھے لیکن چونکہ یہ لوگ بھی اپنے اسلاف کے ان اعمال پر انکار ونفرت نہ رکھتے تھے اس لئے حکما یہ بھی ویسے ہی ہوئے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۝ ٧٥ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ فریق والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین، قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] ( ف ر ق ) الفریق اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ تحریف الکلام : أن تجعله علی حرف من الاحتمال يمكن حمله علی الوجهين، قال عزّ وجلّ : يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] ، ويُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَواضِعِهِ [ المائدة/ 41] ، وَقَدْ كانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ ما عَقَلُوهُ [ البقرة/ 75] ، والحِرْف : ما فيه حرارة ولذع، كأنّه محرّف عن الحلاوة والحرارة، وطعام حِرِّيف، وروي عنه صلّى اللہ عليه وسلم : «نزل القرآن علی سبعة أحرف» «1» وذلک مذکور علی التحقیق في «الرّسالة المنبّهة علی فوائد القرآن» «2» . التحریف الشئ ) کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک جانب مائل کردینا ۔ جیسے تحریف القم قلم کو ٹیڑھا لگانا ۔ اور تحریف الکلام کے معنی ہیں کلام کو اس کے موقع و محل سے پھیر دینا کہ اس میں دو احتمال پیدا ہوجائیں ۔ قرآن میں ہے :۔ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ [ النساء/ 46] یہ لوگ کلمات ( کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں ۔ اور دوسرے مقام پر ويُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَواضِعِهِ [ المائدة/ 41] ہے یعنی ان کے محل اور صحیح مقام پر ہونے کے بعد ۔ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ ما عَقَلُوهُ [ البقرة/ 75]( حالانکہ ) ان میں سے کچھ لوگ کلام خد ( یعنی تو رات ) کو سنتے پھر اس کے کچھ لینے کے بعد اس کو ( جان بوجھ کر ) بدل دیتے رہے ہیں ۔ الحرف ۔ وہ چیز جس میں تلخی اور حرارت ہوگو یا وہ حلاوت اور حرارت سے پھیر دی گئی ہے ۔ طعام حزیف چر چراہٹ ( الاکھانا ) ایک روایت میں ہے ۔ (76) کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے ۔ اس کی تحقیق ہمارے رسالہ المنبھۃ علی فوائد القرآن میں ملے گی ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی توقع ختم ہوجانے کی خبر دے رہا ہے۔ کیونکہ انہوں نے حق کا علم ہوجانے کے بعد اسے جھٹلانے اور اس کے خلاف محاذ قائم کرنے کی کوشش کی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥) اب یہود میں سے جو لوگ منافقین ہیں یا نچلے طبقہ کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور جماعت صحابہ (رض) سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے نبی پر ایمان لائے اور ان کی جو نشانیاں ہماری کتابوں میں درج ہیں اس کی ہم تصدیق کرتے ہیں اور جب یہ نچلے طبقہ کے لوگ اپنے سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کے سردار جب ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) کے پاس وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری کتاب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اور آپ کے اوصاف کے متعلق بیان فرمائی ہیں تاکہ وہ تمہارے پروردگار کے سامنے تم سے جھگڑیں کیا تم سمجھ داری سے بالکل ہی عاری ہو ؟۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب تک ہم نے سورة البقرۃ کے آٹھ رکوع اور ان پر مستزاد تین آیات کا مطالعہ مکمل کیا ہے۔َ سابقہ امت مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کے ساتھ خطاب کا سلسلہ سورة البقرۃ کے دس رکوعوں پر محیط ہے۔ یہ سلسلہ پانچویں رکوع سے شروع ہوا تھا اور پندرہویں رکوع کے آغاز تک چلے گا۔ اس سلسلۂ خطاب کے بارے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے اور وہ بہت فیصلہ کن ہے ‘ جبکہ اگلے رکوع سے اسلوب کلام تبدیل ہوگیا ہے اور تہدید اور دھمکی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ پانچواں رکوع اس پورے سلسلۂ خطاب میں بمنزلۂ فاتحہ بہت اہم ہے اور جو بقیہ نو (٩) رکوع ہیں ان کے آغاز و اختتام پر بریکٹ کا انداز ہے کہ دو آیتوں سے بریکٹ شروع ہوتی ہے اور انہی دو آیتوں پر بریکٹ ختم ہوتی ہے ‘ جبکہ پانچویں رکوع کے مضامین اس پورے سلسلۂ خطاب سے ضرب کھا رہے ہیں۔ ان رکوعوں میں بنی اسرائیل کے خلاف ایک مفصل فرد قرارداد جرم عائد کی گئی ہے ‘ جس کے نتیجے میں وہ اس منصب جلیلہ سے معزول کردیے گئے جس پر دو ہزار برس سے فائز تھے اور ان کی جگہ پر اب نئی امت مسلمہ یعنی امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس منصب پر تقرر عمل میں آیا اور اس مسند نشینی کی تقریب Installation Ceremony ) کے طور پر تحویل قبلہ کا معاملہ ہوا۔ یہ ربط کلام اگر سامنے نہ رہے تو انسان قرآن مجید کی طویل سورتوں کو پڑھتے ہوئے کھو جاتا ہے کہ بات کہاں سے چلی تھی اور اب کدھر جا رہی ہے۔ ان نو رکوعوں کے مضامین میں کچھ تو تاریخ بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ہیں کہ تم نے یہ کیا ‘ تم نے یہ کیا ! لیکن ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے بعض ایسے عظیم ابدی حقائق اور Universal Truths بیان ہوئے ہیں کہ ان کا تعلق کسی وقت سے ‘ کسی قوم سے یا کسی خاص گروہ سے نہیں ہے۔ وہ تو ایسے اصول ہیں جنہیں ہمّ سنت اللہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کائنات میں ایک تو قوانین طبیعیہ (Physical Laws) ہیں ‘ جبکہ ایک Moral Laws ہیں جو اللہ کی طرف سے اس دنیا میں کارفرما ہیں۔ سورة البقرۃ کے زیر مطالعہ نو رکوعوں میں تاریخ بنی اسرائیل کے واقعات کے بیان کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایسی آیات آتی ہیں جو اس سلسلۂ کلام کے اندر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں درحقیقت موجودہ امت مسلمہ کے لیے راہنمائی پوشیدہ ہے۔ مثال کے طور پر اس سلسلۂ خطاب کے دوران آیت ٦١ میں وارد شدہ یہ الفاظ یاد کیجیے : (وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ ق وَبَآءُ ‘ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ط) ” اور ان پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے “۔ معلوم ہوا کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک مسلمان امت جس پر اللہ کے بڑے فضل ہوئے ہوں ‘ اسے بڑے انعام و اکرام سے نوازا گیا ہو ‘ اور پھر وہ اپنی بےعملی یا بدعملی کے باعث اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہوجائے اور ذلتّ و مسکنت اس پر تھوپ دی جائے۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے جو ان الفاظ میں بیان ہوگئی۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا آج ہم تو اس مقام پر نہیں پہنچ گئے ؟ دوسرا اسی طرح کا مقام گزشتہ آیت (٧٤) میں گزرا ہے ‘ جہاں ایک عظیم ابدی حقیقت بیان ہوئی ہے : (ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط) ” پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کے بعد ‘ پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں ‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی شدید تر ہیں گویا اسی امت مسلمہ کا یہ حال بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دل اتنے سخت ہوجائیں کہ سختی میں پتھروں اور چٹانوں کو مات دے جائیں۔ حالانکہ یہ وہی امت ہے جس کے بارے میں فرمایا : (وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) ع ” ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجا ! “ البتہ یہاں ایک بات واضح رہے کہ اس قساوت قلبی میں پوری امت مبتلا نہیں ہوا کرتی ‘ بلکہ اس کیفیت میں امت کے قائدین مبتلا ہوجاتے ہیں اور امت مسلمہ کے قائدین اس کے علماء ہوتے ہیں۔ چناچہ سب سے زیادہ شدت کے ساتھ یہ خرابی ان میں درآتی ہے۔ اس لیے کہ باقی لوگ تو پیروکار ہیں ‘ ان کے پیچھے چلتے ہیں ‘ ان پر اعتماد کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب کے پڑھنے والے اور اس کے جاننے والے ہیں۔ لیکن جو لوگ جان بوجھ کر اللہ کی کتاب میں تحریف کر رہے ہوں اور جانتے بوجھتے حق کو پہچان کر اس کا انکار کر رہے ہوں انہیں تو پتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ! درحقیقت یہ سزا ان پر آتی ہے۔ یہ بات ان آیات میں جو آج ہم پڑھنے چلے ہیں ‘ بہت زیادہ واضح ہوجائے گی (اِن شاء اللہ) ۔ فرمایا : آیت ٧٥ (اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ ) عام مسلمانوں کو یہ توقع تھی کہ یہود دین اسلام کی مخالفت نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ مشرکین مکہ تو دین توحید سے بہت دور تھے ‘ رسالت کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں تھا ‘ کوئی کتاب ان کے پاس تھی ہی نہیں۔ جبکہ یہود تو اہل کتاب تھے ‘ حاملین تورات تھے ‘ موسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے تھے ‘ توحید کے علمبردار تھے اور آخرت کا بھی اقرار کرتے تھے۔ چناچہ عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ انہیں توٌ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کی دعوت کو جھٹ پٹ مان لینا چاہیے۔ تو مسلمانوں کے دلوں میں یہود کے بارے میں جو حسن ظن تھا ‘ یہاں اس کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمانو ! تمہیں بڑی طمع ہے ‘ تمہاری یہ خواہش ہے ‘ آرزو ہے ‘ تمناّ ہے ‘ تمہیں توقع ہے کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے۔ (وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْم بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ) “ ظاہر بات ہے وہ گروہ ان کے علماء ہی کا تھا۔ عام آدمی تو اللہ کی کتاب میں تحریف نہیں کرسکتا۔ اب اگلی آیت میں بڑی عجیب بات سامنے آرہی ہے۔ جس طرح مسلمانوں کے درمیان منافقین موجود تھے اسی طرح یہود میں بھی منافقین تھے۔ یہود میں سے کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب ان پر حق منکشف ہوگیا تو اب وہ اسلام کی طرف آنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے لیے اپنے خاندان کو ‘ گھر بار کو ‘ اپنے کاروبار کو اور اپنے قبیلے کو چھوڑنا بھی ممکن نہیں تھا ‘ جبکہ قبیلوں کی سرداری ان کے علماء کے پاس تھی۔ ایسے لوگوں کے دل کچھ کچھ اہل ایمان کے قریب آ چکے تھے۔ ایسے لوگ جب اہل ایمان سے ملتے تھے تو کبھی کبھی وہ باتیں بھی بتا جاتے تھے جو انہوں نے علماء یہود سے نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی تعلیمات کے بارے میں سن رکھی تھیں کہ تورات ان کی گواہی دیتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ اپنے ” شیاطین “ یعنی علماء کے پاس جاتے تھے تو وہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے کہ بیوقوفو ! یہ کیا کر رہے ہو ؟ تم انہیں یہ باتیں بتا رہے ہو تاکہ اللہ کے ہاں جا کر وہ تم پر حجت قائم کریں کہ انہیں پتا تھا اور پھر بھی انہوں نے نہیں مانا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

86. This is addressed to the converts of Madina, who had then lately embraced the faith of the Arabian Prophet. These people had some vague notions about Prophethood, Heavenly Scriptures, Angels, the After-life, Divine Law and so on, and for this they were indebted to their Jewish neighbours. It was from these same Jewish neighbours that they had heard that another Prophet was about to appear, and that his followers would prevail over the rest of the world. It was partly because of this background that when the people of Madina heard about the Prophet, they readily turned towards him and embraced Islam in large numbers. They naturally expected that those who already followed Prophets and Divine Scriptures, and who, by introducing them to these ideas had contributed to their embracing the true faith, would not only join the ranks of the true believers, but would even be amongst their vanguard. As a result of these expectations the enthusiastic Muslim converts approached their Jewish friends and neighbours and invited them to embrace Islam. When the Jews flatly declined to do so, this negative reply was exploited by the hypocrites and other enemies of Islam as an argument for creating doubts about the truth of Islam. If Muhammad was the true Prophet, they argued, how was it conceivable that the Jewish scholars and divines would deliberately turn away from him since, if he was a true Prophet, such a behaviour would be tantamount to ruining their After-life? Here the simple-hearted Muslims learn of the historical record of the Jews, a record which is replete with perversion and corruption. This was designed to make them realize that they ought not to expect too much of a people with so dark a past, for if they were not realistic in their expectations about them they would be utterly disappointed when their call failed to penetrate their hardened and stony hearts. Their chronic decadence had a history of several centuries. For a long time they had treated those verses of the Scriptures which made sincere believers tremble in awe as objects of jest and play. They had tailored religion to suit their base desires and it was around such a perverted view of religion that all their hopes of salvation were centred. It was futile to hope that such people would flock to the call of Truth the moment it was proclaimed. 87. 'A party of them' refers to the scholars and religious doctors of the Jewish community. The'Word of God' here signifies the Torah, the Psalms (Zabur) and other Scriptures which the Jews had received through the Prophets. 'Distortion' denotes the attempt to twist a text in such a manner as to make it signify something different from its real meaning, and may also denote tampering with the text of the Scriptures. The Israelite scholars had subjected the Scriptures to distortions of both kinds.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :86 یہ خطاب مدینے کے ان نَو مسلموں سے ہے جو قریب کے زمانے ہی میں نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ۔ ان لوگوں کے کان میں پہلے سے نبوّت ، کتاب ، ملائکہ ، آخرت ، شریعت وغیرہ کی جو باتیں پڑی ہوئی تھیں ، وہ سب انہوں نے اپنے ہمسایہ یہودیوں ہی سے سُنی تھیں ۔ اور یہ بھی انہوں نے یہودیوں ہی سے سُنا تھا کہ دنیا میں ایک پیغمبر اور آنے والے ہیں ، اور یہ کہ جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے وہ ساری دنیا پر چھا جائیں گے ۔ یہی معلومات تھیں جن کی بنا پر اہل مدینہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا چرچا سُن کر آپ ؐ کی طرف خود متوجہ ہوئے اور جُوق در جُوق ایمان لائے ۔ اب وہ متوقع تھے کہ جو لوگ پہلے ہی سے انبیا اور کُتب آسمانی کے پیرو ہیں اور جن کی دی ہوئی خبروں کی بدولت ہی ہم کو نعمتِ ایمان میسّر ہوئی ہے ، وہ ضرور ہمارا ساتھ دیں گے ، بلکہ اس راہ میں پیش پیش ہوں گے ۔ چنانچہ یہی توقعات لے کر یہ پُر جوش نَو مسلم اپنے یہودی دوستوں اور ہمسایوں کے پاس جاتے تھے اور ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے ۔ پھر جب وہ اس دعوت کا جواب انکار سے دیتے تو منافقین اور مخالفینِ اسلام اس سے یہ استدلال کرتے تھے کہ معاملہ کچھ مشتبہ معلوم ہوتا ہے ، ورنہ اگر یہ واقعی نبی ہوتے تو آخر کیسے ممکن تھا کہ اہل کتاب کے علما اور مشائخ اور مقدس بزرگ جانتے بُوجھتے ایمان لانے سے منہ موڑتے اور خواہ مخواہ اپنی عاقبت خراب کر لیتے ۔ اس بنا پر بنی اسرائیل کی تاریخی سرگزشت بیان کرنے کے بعد اب ان سادہ دل مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی سابق روایات یہ کچھ رہی ہیں ان سے تم کچھ بہت زیادہ لمبی چوڑی توقعات نہ رکھو ، ورنہ جب ان کے پتھر دلوں سے تمہاری دعوت حق ٹکرا کر واپس آئے گی ، تو دل شکستہ ہو جاؤ گے ۔ یہ لوگ تو صدیوں کے بگڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ کی جن آیات کو سُن کر تم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے ، انہی سے کھیلتے اور تمسخر کرتے ان کی نسلیں بیت گئی ہیں ۔ دین حق کو مسخ کر کے یہ اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال چکے ہیں اور اسی مسخ شدہ دین سے یہ نجات کی اُمیدیں باندھے بیٹھے ہیں ۔ ان سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ حق کی آواز بلند ہوتے ہی یہ ہر طرف سے دَوڑے چلے آئیں گے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :87 ”ایک گروہ“ سے مراد ان کے علما اور حاملینِ شریعت ہیں ۔ ” کلام اللہ“ سے مراد تورات ، زَبور اور وہ دُوسری کتابیں ہیں جو ان لوگوں کو ان کے انبیا کے ذریعے سے پہنچیں ۔ ”تحریف “ کا مطلب یہ ہے کہ بات کو اصل معنی و مفہُوم سے پھیر کر اپنی خواہش کے مطابق کچھ دُوسرے معنی پہنا دینا ، جو قائل کے منشا کے خلاف ہوں ۔ نیز الفاظ میں تغیّر و تبدّل کرنے کو بھی تحریف کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ علماء بنی اسرائیل نے یہ دونوں طرح کی تحریفیں کلام الہٰی میں کی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(75 ۔ 77): اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کی اطراف میں جو یہود رہتے تھے ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کو یہ توقع ہوتی تھی کہ ملنے جلنے کا اثر شایدیہ ہو کہ رفتہ رفتہ حق بات ان کے دل میں گھر کر جاوے اور راہ راست پر آن کر یہ لوگ شرع محمدی کے تابع ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان یہود لوگوں سے شرع محمدی کے تابع ہوجانے کی توقع بالکل بےسود ہے۔ انہوں نے تو شریعت موسوی کا بھی پتہ کھویا ہے کہ تورات کی اکثر آیتیں بدل کر حرام کو حلال اور حرام کو حرام ٹھہرا رکھا ہے۔ اور ان میں کے بعض لوگ مسلمانوں سے میل جیل کے وقت شرع محمدی کے حق ہونے کا جو اقرار کرتے ہیں وہ منافق ہیں۔ ان کے اس اقرار زبانی کا اثر ان کے دل پر کچھ نہیں ہے۔ یہاں مسلمانوں کے روبرو تو یہ لوگ کچھ باتیں ایسی کرتے ہیں جس سے مسلمانوں کو ان کے راہ راست پر آجانے کا دھوکہ ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سب لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو وہاں ان کے علماء ان کے سردار ان کو یہ پٹی پڑھاتے ہیں کہ مسلمانوں سے میل جول کے وقت اپنے موسوی کے بھید کی کوئی ایسی بات مسلمانوں سے مت کہا کرو جس سے ان کو ہمیں قائل کرنے کا موقع ملے۔ اس پٹی پڑھانے کے بعد یہ لوگ اپنے زبانی اقرار پر پچھتاتے ہیں اتحدثونہم بما فتح اللہ علیکم کی تفسیر میں مجاہد نے کہا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن یہود بنی قریظہ کو سوروں اور بندروں کے بچھڑا پوجنے والوں کے بھائی کہا تھا ١۔ یہود کے علماء اور سرداروں نے اپنی قوم کے اذن لوگوں سے جو مدینہ میں آتے جاتے اور مسلمانوں سے ملتے رہتے تھے اس لئے یہ کہا تھا کہ اپنے دین کے بھید کی کوئی بات مسلمانوں سے مت کہا کرو۔ مسلمانوں کو یہ کیا معلوم تھا کہ یہود میں کے کچھ لوگ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر سابق کے زمانہ میں بندر اور سور ہوگئے ہیں۔ یا یہود میں کچھ لوگوں نے بچھڑے کی پوجا بھی کسی زمانے میں کی تھی۔ آخر تم ہی لوگوں کے منہ سے یہ بات کبھی نہ کبھی نکلی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہود کے علماء کو قائل کرنے کے لئے یہ فرمایا کہ یہ لوگ یہود کے علماء کہلاتے ہیں ان کو اتنا بھی شعور نہیں کہ ان کی اس ایک بات پر کیا منحصر ہے تورات کے بھید کے سینکڑوں باتیں مسلمانوں کو ان کے نبی کے ذریعہ سے اور نبی کو وحی الٰہی کے ذریعہ سے روزانہ معلوم ہوتی جاتی ہیں۔ یہ ایک بات یہود کا کوئی شخص مسلمانوں سے کہہ دیتا ہے تو اس کی یہ سینکڑوں باتیں کہاں سے بن جاتیں مگر یہ شعور ان لوگوں کو ہوتا تو کیوں کر ہوتا۔ بد بختی اصلی کے سبب سے ان کی عقل اذن کا شعور سب کچھ زائل ہوگیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:75) افتطمعون ، ہمزہ استفہامیہ ۔ فاء عاطفہ (ملاحظہ ہو۔ 2:44) تطمعون مضارع جمع مذکر حاضر طمع مصدر (باب فتح) تم توقع رکھتے ہو۔ تم طمع رکھتے ہو۔ ان یؤمنوا۔ اس سے قبل حرف جر محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے فی ان یؤمنوا ۔ ان مصدر یہ ہے ۔ یؤمنوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر حاضر، تقدیر کلام افتطمعون فی ایمانھم ۔ جملہ ان یؤمنوا ۔۔ وھم یعلمون ۔ اپنی تمام تراکیب نحوی کے ساتھ مفعول ہے تطمعون کا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اگلا صفحہ) آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور بیان یہودیوں کا ہے۔ کلام اللہ ای التوراۃ۔ یحرفونہ ۔ یحرفون مضارع جمع مذکر غائب۔ تحریف (تفعیل) مصدر سے۔ بگاڑ دیتے ہیں، بدل دیتے ہیں۔ یہ تحریف معنوی بھی ہوسکتی ہے اور لفظی بھی۔ یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ ۔ ای یسمعون التوراۃ ویؤلونھا تاویلا فاسدا حسب اغراضھم توراۃ کو سنتے پھر اپنی اغراض کے مطابق اس کی مختلف فاسد تاویلیں کرتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یہ خطاب مسلما نوں سے ہے کہ یہود سے ایمان کی تو قع بےسود ہے ان کے اسلاف یہ ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ کلام اللہ یعنی تورات میں تحریف کر ڈالتے تھے۔ اس جگہ لفظ تحریف لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریف کی شامل ہے انہوں نے تورات کے الفاظ بھی بدل ڈالے تھے مگر زیادہ ترغلط تاویلوں سے معانی تبدیل کرنے کی کوشش کرتے تھے موجود یہود کے علماء نے ان آیات تورات کو بد ڈلا تھا جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف مذکور اور اپنے دل سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرا دیا ہے۔ ملخص ابن کثیر وقرطبی) آجکل کے باطل پرست علماء بھی اپنے مز عومہ مسائل کی صحت ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے حوالہ جات قرآن حدیث سے تراش رہے ہیں اور شریعت میں تحریف کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ (ترجمان)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 افتطمعون (کیا پھر تم توقع رکھتے ہو۔ (1، کیا، ف، پھر تطمعون، تم توقع رکھتے ! ) ۔ ان یؤمنوا (یہ کہ وہ ایمان لائیں گے) ۔ فریق (ایک جماعت) ۔ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ۔ یحرفون (وہ بدل ڈالتے ہیں) ۔ عقلوہ (جس کو انہوں نے سمجھ لیا) ۔ اتحدثون (کیا تم ان کو بتا دیتے ہو۔ (ا، کیا، تحدثون، تم بتاتے ہو، ھم، ان کو) ۔ فتح اللہ (اللہ نے کھول دیا) ۔ لیحاجوکم (تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔ (ل، تا کہ یحاجون، وہ جھگڑیں، کم ، تم سے) ۔ یسرون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تعلنون (وہ اعلان کرتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں) ۔ امیون (جاہل ، ان پڑھ، (امی، ان پڑھ) ۔ امانی (تمنائیں (امنیۃ کی جمع ہے) ۔ یظنون (وہ گمان کرتے ہیں ) ۔ ویل (بربادی، تباہی) ۔ یکتبون (وہ لکھتے ہیں) ۔ یقولون (وہ کہتے ہیں ) ۔ لیشتروا (تا کہ وہ خرید لیں، حاصل کرلیں) ۔ کسبت (کمایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 75 تا 79 ان آیتوں میں یہودی منافقین کے دو گروہوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ، ان میں ایک گروہ تو وہ ہے جس کا کام اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی مخالفت اور دین اسلام کے خلاف سازشیں کرنا ہے، دوسرا وہ گروہ ہے جو ان پڑھ اور جاہل ہے۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ توریت کا تو کوئی علم رکھتے ہی نہیں، بعض رسموں کو ادا کر کے من گھڑت خیالات، آرزوؤں اور تمناؤں کے کھلونوں سے کھیلتے رہتے ہیں، اسی میں اپنی نجات سمجھتے ہیں۔ ان جاہل اور خوش عقیدہ لوگوں کے سامنے وہ اپنے ہاتھوں سے توریت میں تبدیلی کر کے طرح طرح کی بےسراپا باتیں بتاتے ہیں تا کہ ان سے مالی فائدے حاصل کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے جھوٹی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور لوگوں کی کم علمی اور جہالت سے فائدہ اٹھا کر ان کی دولت بٹورتے ہیں ان کی یہ سازشیں اور کمائی ان کے لئے آخرت کا بدترین عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جن کے دلوں پر مہر قساوت لگ چکی ہو ان سے ایمان لانے کی توقع کرنا عبث ہے۔ اے امت محمدیہ کے لوگو ! کیا تم اب بھی بہانہ باز، پتھر دل اور کلام اللہ کی تحریف کرنے والے لوگوں سے ایمان لانے کی امید باندھے ہوئے ہو ؟ حالانکہ ان کے جرائم اور عادات کا تفصیلی ریکارڈ تمہارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایمان اور خیر کی توقع رکھنا فضول ہے جو جان بوجھ کر قرآن مجید کا مفہوم ہی نہیں بدلتے بلکہ انہوں نے تورات و انجیل کے الفاظ تک بدل ڈالے ہیں۔ جس سے تورات و انجیل کے نزول کا مقصد فوت ہوگیا۔ یہودیوں نے تورات میں قطع و بریدکر کے بیت اللہ کے ساتھ اس کے بانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق منقطع کیا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جگہ جناب اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ ثابت کرنے کے لیے تاریخ کا ریکارڈ بدل ڈالا پھر اس سے بڑھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے یہودی اور عیسائی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے۔ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) تورات اور انجیل کے نزول سے سینکڑوں سال پہلے رحلت فرما چکے تھے۔ ایسا وہ کسی غفلت یا لاعلمی کی بنا پر نہیں کرتے بلکہ جان بوجھ کر کرتے ہیں۔ مسائل ١۔ کلام اللہ کی تحریف کرنے والے سے خیر کی توقع رکھنا فضول ہے۔ ٢۔ پتھر دل، بہانہ ساز انسان کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن کلام اللہ میں اہل کتاب کی تحریف کے مختلف طریقے : ١۔ آیات کو ان کے محل سے آگے پیچھے کردینا۔ (النساء : ٤٦) ٢۔ اپنی طرف سے کچھ باتیں گھڑ کر شامل کرنا۔ (البقرۃ : ٧٩) ٣۔ زبان مروڑ کر مفہوم بدل ڈالنا۔ (آل عمران : ٧٨) ٤۔ بنیادی باتیں چھوڑ کر مشتبہات کے پیچھے لگنا۔ (آل عمران : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

گزشتہ درس کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے قلوب کی حالت کا جو نقشہ کھینچا تھا۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ وہ نہایت سنگدل ، خشک اور ناقابل تغیر دل و دماغ کے مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایسے پتھروں سے تشبیہ دی تھی جو نہایت ہی ٹھوس تھے اور جن میں پانی کا کوئی قطرہ برآمد نہ ہوتا تھا ۔ اس قدر کھردرے تھے کہ انسان ان پر سہولت سے ہاتھ نہیں پھیر سکتا تھا ۔ ان کے اندر کسی چیز کا اگنا یا ان کے اندر زندگی کے آثار پیدا ہونا تو یہ سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس جامد دماغ ایسی پست فطرت اور ایسی بےلچک متعصبانہ ذہنیت کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں رہے کہ راہ ہدایت پر آجائیں ۔ چناچہ اس تصویرکشی اور ان کی طرف سے مایوس ہوجانے کے بعد اس اشارے کے بعد کلام کا رخ بعض ایسے مسلمانوں کی طرف پھرجاتا ہے جو اب بھی یہ خیال کرتے تھے کہ شاید بنی اسرائیل راہ ہدایت پر آجائیں ۔ ایسے لوگ کوشش کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے دلوں میں ایمان انڈیل دیں ، کسی طرح انہیں ایمان کی روشنی کی طرف لے آئیں ۔ قرآن کریم اس طرز پر سوچنے والے مومنین کو سوالیہ انداز میں مایوس کردیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اس سلسلے میں ان کے دلوں میں امید کی جو آخری کرن ہے اسے بھی دل سے نکال دیں۔ أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اے مسلمانو ! اب کیا تم ان لوگوں سے یہ توقع رکھتے ہو کہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی ۔ “ خبردار ! ایسے لوگوں کے ایمان لانے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ ایمان لانے والوں کا مزاج ہی دوسرا ہوتا ہے ان میں کچھ دوسری ہی صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ ایمان لانے والی طبیعت نرم ، سادہ اور سہل ہوتی ہے ، اس کے دل و دماغ کے دریچے ہر قسم کی روشنی کے لئے کھلے ہوتے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ازلی وابدی سرچشمہ ہدایت سے جڑنے اور سیراب ہونے کے لئے ہر وقت وہ تیار ہوتی ہے۔ اس کے اندر احساس ، احتیاط اور خدا خوفی ہوتی ہے اور یہ خدا خوفی اس بات سے روکتی ہے کہ خدا کے کلام کو سن کر ، اسے سمجھ کر پھر اس میں تحریف کرے۔ محض ذاتی خواہش کے لئے اور محض تعصب کی خاطر کلام الٰہی میں تحریف کرے کیوں کہ ایمان لانے والی طبیعت ، بالکل سیدھی سادھی ہوتی ہے اور وہ اس قسم کی کجروی اور بات کو توڑ موڑ کر پیش کرنے سے محترز رہتی ہے۔ پھر یہاں جس طبقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ (یہود) سب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ اور اس سچائی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کی کتاب میں اتاری ۔ جیسے علمائے یہود کا طبقہ ، جو ان کے نبی پر اتری ہوئی کتاب تورات کو سنتے تھے ، سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود اسے بدل ڈالتے تھے اور اس میں ایسی تاویلات کرتے تھے کہ بات کچھ کی کچھ بن جاتی تھی اور یہ بات وہ اس لئے نہ کرتے تھے کہ انہیں کلام کا صحیح محل معلوم نہ تھا بلکہ وہ یہ حرکت سوچ سمجھ کر بالارادہ کیا کرتے تھے اور یہ جانتے ہوئے کرتے تھے کہ وہ تحریف کررہے ہیں ۔ خواہشات نفس اور مصلحت کے ہاتھ میں ان کے فکر وعمل کی لگام تھی اور ذلیل اغراض کے نغموں کے پیچھے مست ہوکر دوڑ رہے تھے ۔ جب وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے ، جس پر ان کا ایمان بھی تھا تو قرآن کریم جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا ، اس کے ساتھ تو انہیں اس سے بھی بدتر سلوک کرنا ہی تھا کیونکہ وہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سرے سے ایمان ہی نہ لائے تھے ۔ لہٰذا اپنی اس خراب ذہنیت اور باطل رویے پر وہ جان بوجھ کر اصرار کرتے تھے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی ذہنیت خراب ہے اور یہ کہ وہ سوچ سمجھ کر باطل پر اصرار کررہے ہیں یا پھر ان کی جانب سے دعوت اسلامی کی یہ مخالفت اور تحریک اسلامی کے خلاف سازشیں اور بہتان تراشیاں کوئی خلاف توقع امر نہیں رہتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں میں عناد ہے ان سے ایمان قبول کرنے کی امید نہ رکھی جائے اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کی یہ امید اور آرزو ختم فرمادی کہ یہودی ایمان لائیں گے اور فرمایا کہ ان کے اسلاف کا یہ حال تھا کہ اللہ کا کلام سنتے تھے۔ پر جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے اس میں تحریف کردیتے تھے اور یہ لوگ ان پر اب تک کوئی نکیر نہیں کرتے اور طریقہ کار کو غلط نہیں بتاتے بلکہ ان سے محبت اور تعلق میں بہت آگے ہیں۔ اور جس طرح ان لوگوں نے اپنے اپنے زمانہ میں آیات بینات کا کھلا مشاہدہ کیا پھر بھی اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور اللہ کے کلام کی تکذیب کی اسی طرح یہ لوگ بھی معجزات اور دلائل اور شواہد دیکھتے ہیں لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے اور حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لاتے۔ اس آیت شریفہ میں جو اللہ تعالیٰ کا کلام سن کر اس میں تحریف کرنے کا ذکر ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس میں اس واقعہ کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ستر آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ وہاں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لیا تھا۔ لیکن جب قوم کے پاس واپس آئے تو انہوں نے اس کے خلاف بیان دیاجو وہاں سن کر آئے تھے۔ دوسرے حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے توریت شریف کی تحریف کرنا مراد ہے۔ علماء یہود رشوت لیکر حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردیتے تھے اگر کوئی شخص رشوت لے آیاتو اس کے مطابق مسئلہ بتادیا۔ اور جو شخص کچھ بھی نہ لایا اس کو صحیح اور حق بات بتادی۔ یہ لوگ جو ایسی حرکت کرتے تھے جانتے بوجھتے ہوئے کرتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ ہم گناہ کر رہے ہیں۔ پھر بھی اس کو کرتے چلے جاتے تھے۔ اسی تحریف میں یہ بات بھی تھی کہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات اور علامات جو توریت شریف میں بیان کی گئی تھیں، ان کو بدل دیا۔ اس میں وہ لوگ بھی مبتلا تھے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھے جو لوگ خود مبتلائے تحریف ہوں اور دوسروں کو ایمان لانے سے روک رہے ہوں وہ خود کیا ایمان لائیں گے ؟

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

149 ۔ یہاں ہمزہ استفہام انکار وتوبیخ کے لیے اور خطاب حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو ہے مطلب یہ کہ آپ ان یہود سے یہ توقع نہ رکھیں کہ یہ ایمان لے آئیں گے کیونکہ ان کے اس وقت یہ پانچ گروہ ہیں اور ان سب کی خباثت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان سے ایمان کی توقع بیکار ہے۔ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ ۔ اس فریق سے یہود کے وہ علمائ مراد ہیں جوحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں موجود تھے۔ المراد بالفریق من کان فی زمن محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) (کبیر ص 575 ج 1) قال مجاھد الذین یحرفونہ والذین یکتمونہ ھم العلمائ منھم (ابن کثیر ص 115 ج 1) اور کلام اللہ سے مراد توراۃ ہے ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ ۔ یہود کے علمائ اچھی طرح جانتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے آخری رسول ہیں اور توراۃ میں جس آخری پیغمبر کا ذکر ہے وہ آپ ہی ہیں مگر جان بوجھ کر وہ ان آیتوں میں تحریف کرتے جن میں آپ کے اوصاف مذکور ہوتے تھے۔ ان کی یہ تحریف کسی غلط فہمی پر مبنی نہ تھی بلکہ دیدہ و دانستہ تھی عمدوا الی ما انزلہ اللہ فی کتابہم من نعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فحرفوہ عن مواضعہ (ابن کثیر ص 115 ج 1) یہاں تحریف عام ہے لفظی اور معنوی دونوں کو شامل ہے۔ علمائ یہود دونوں طرح کی تحریف کیا کرتے تھے۔ کبھی توراۃ کی آیتوں کے الفاظ ہی تبدیل کردیتے اور کبھی ان کے مضمون کو اس طرح مسخ کر کے بیان کرتے کہ اصل مطلب سے انہیں کوئی تعلق ہی باقی نہ رہ جاتا۔ قرآن مجید کے الفاظ میں تو تحریف ناممکن ہے۔ البتہ قرآن کی معنوی تحریف کرنے والے یہودیوں کے جانشین مولویوں اور پیروں کی آج امت محمدیہ میں بھی کمی نہیں۔ قرآن مجید کی معنوی تحریف کی ایک دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔ پنجاب کے ایک پیر قرآن مجید کی ایک آیت اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُم کی تفسیر یوں کیا کرتے تھے کہ یہاں اَنَا کی خبر محذوف ہے اصل میں یہ آیت یوں تھی انما انا بشر مثلکم یعنی میں تو میں ہوں اور بشر تمہاری طرح ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ بڑے بڑے مولویوں اور پیروں کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ قرآن میں جہاں کہیں من دون اللہ یعنی غیر خدا کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے وہاں عبادت سے مراد بندگی ہے۔ غائبانہ دعائ و پکار مراد نہیں۔ اسی طرح من دون اللہ سے مراد بت ہیں نہ کہ اللہ کے نیک بندے حالانکہ عبادت کے معنی صحیح حدیث میں پکار اور دعائ کے آئے ہیں۔ نیز من دون اللہ سے خود قرآنی تصریحات کے مطابق کہیں انبیائ اور کہیں فرشتے مراد ہیں۔ کہیں اولیائ اللہ اور کہیں جن مراد ہیں اور کہیں بت بھی مراد ہیں۔ مگر مولوی اور پیر اصل حقیقت کو جانتے پہچانتے ہوئے محض حقیر دنیا کی خاطر عوام کو اصل بات نہیں بتاتے۔ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi