Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 80

سورة البقرة

وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً ؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ عَہۡدًا فَلَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ عَہۡدَہٗۤ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾

And they say, "Never will the Fire touch us, except for a few days." Say, "Have you taken a covenant with Allah ? For Allah will never break His covenant. Or do you say about Allah that which you do not know?"

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو چند روز جہنم میں رہیں گے ان سے کہو کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا کوئی پروانہ ہے ؟اگر ہے تو یقیناً اللہ تعالٰی اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرے گا ( ہر گز نہیں ) بلکہ تم تو اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جنہیں تم نہیں جانتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Jews hope They will only remain in the Fire for a Few Days Allah says; وَقَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ أَيَّاماً مَّعْدُودَةً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللّهِ عَهْدًا فَلَن يُخْلِفَ اللّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ And they (Jews) say, "The Fire shall not touch us but for a few numbered days." Say (O Muhammad to them): "Have you taken a covenant from Allah, so that Allah will not break His covenant! Or is it that you say of Allah what you know not!" Allah mentioned the claim of the Jews, that the Fire will only touch them for a few days, and then they will be saved from it. Allah refuted this claim by saying, قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللّهِ عَهْدًا (Say (O Muhammad to them): "Have you taken a covenant from Allah'). Hence, the Ayah proclaims, `if you had a promise from Allah for that, then Allah will never break His promise. However, such promise never existed. Rather, what you say, about Allah, you have no knowledge of and you thus utter a lie about Him.' Al-Awfi said that Ibn Abbas said about the Ayah, وَقَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ أَيَّاماً مَّعْدُودَةً (And they (Jews) say, "The Fire shall not touch us but for a few numbered days"). "The Jews said, `The Fire will only touch us for forty days."' Others added that this was the period during which the Jews worshipped the calf. Also, Al-Hafiz Abu Bakr bin Marduwyah reported Abu Hurayrah saying, When Khyber was conquered, a roasted poisoned sheep was presented to the Prophet as a gift (by the Jews). The Messenger of Allah ordered, `Assemble before me all the Jews who were here.' The Jews were summoned and the Prophet said (to them), مَنْ أَبُوكُم `Who is your father?' They replied, `So-and-so.' كَذَبْتُمْ بَلْ أَبُوكُمْ فُلَن He said, `You have lied; your father is so-and-so.' They said, `You have uttered the truth.' هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْه He said, `Will you now tell me the truth, if I ask you about something?' They replied, `Yes, O Abul-Qasim; and if we should tell a lie, you will know our lie as you have about our fathers.' On that he asked, مَنْ أَهْلُ النَّارِ `Who are the people of the (Hell) Fire?' They said, `We shall remain in the (Hell) Fire for a short period, and after that you will replace us in it.' اخْسَيُوا وَاللهِ لاَ نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا The Prophet said, `May you be cursed and humiliated in it! By Allah, we shall never replace you in it.' Then he asked, هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ `Will you tell me the truth if I ask you a question?' They said, `Yes, O Abul-Qasim.' He asked, هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هذِهِ الشَّاةِ سُمًّا `Have you poisoned this sheep?' They said, `Yes.' He asked, فَمَا حَمَلَكُم عَلى ذلِك `What made you do so?' They said, `We wanted to know if you were a liar, in which case we would get rid of you, and if you were a Prophet then the poison would not harm you.' Imam Ahmad, Al-Bukhari and An-Nasa'i recorded similarly.

چالیس دن کا جہنم حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہودی لوگ کہا کرتے تھے کہ دنیا کل مدت سات ہزار سال ہے ۔ ہر سال کے بدلے ایک دن ہمیں عذاب ہو گا تو صرف سات دن ہمیں جہنم میں رہنا پڑے گا اس قول کی تردید میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ، بعض کہتے ہیں یہ لوگ چالیس دن تک آگ میں رہنا مانتے تھے کیونکہ ان کے بڑوں نے چالیس دن تک بچھڑے کی پوجا کی تھی بعض کا قول ہے کہ یہ دھوکہ انہیں اس سے لگا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ توراۃ میں ہے کہ جہنم کے دونوں طرف زقوم کے درخت تک چالیس سال کا راستہ ہے تو وہ کہتے تھے کہ اس مدت کے بعد عذاب اٹھ جائیں گے ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کہا کہ چالیس دن تک تو ہم جہنم میں رہیں گے پھر دوسرے لوگ ہماری جگہ آ جائیں گے یعنی آپ کی امت آپ نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا نہیں بلکہ تم ہی تم ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں پڑے رہو گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں فتح خیبر کے بعد حضور کے خدمت میں بطور ہدیہ بکری کا پکا ہوا زہر آلود گوشت آیا آپ نے فرمایا ۔ یہاں کے یہودیوں کو جمع کر لو پھر ان سے پوچھا تمہارا باپ کون ہے انہوں نے کہا فلاں آپ نے فرمایا جھوٹے ہو بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے انہوں نے کہا بجا ارشاد ہوا وہی ہمارا باپ ہے آپ نے فرمایا دیکھو اب میں کچھ اور پوچھتا ہوں سچ سچ بتانا انہوں نے کہا اسے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم اگر جھوٹ کہیں گے تو آپ کے سامنے نہ چل سکے گا ہم تو آزما چکے آپ نے فرمایا بتاؤ جہنمی کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کچھ دن تو ہم ہیں پھر آپ کی امت آپ نے فرمایا غلو ہرگز نہیں پھر فرمایا اچھا بتلاؤ اس گوشت میں تم نے زہر ملایا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اگر آپ سچے ہیں تو یہ زہر آپ کو ہرگز ضرر نہ دے گا اور اگر جھوٹے ہیں تو ہم آپ سے نجات حاصل کرلیں گے ۔ ( مسند احمد بخاری نسائی )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

80۔ 1 یہود کہتے تھے کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے اور ہزار سال کے بدلے ایک دن جہنم میں رہیں گے اس حساب سے صرف سات دن جہنم میں رہیں گے۔ کچھ کہتے تھے کہ ہم نے چالیس دن بچھڑے کی عبادت کی تھی، چالیس دن جہنم میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے اللہ سے عہد لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس طرح کا کوئی عہد نہیں ہے۔ 80۔ 2 یعنی تمہارا یہ دعویٰ ہے ہم اگر جہنم گئے بھی تو صرف چند دن ہی کے لئے جائیں گے، تمہاری اپنی طرف سے ہے اور اس طرح تم اللہ کے ذمے ایسی باتیں لگاتے ہو، جن کا تمہیں خود بھی علم نہیں ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنا وہ اصول بیان فرما رہا ہے۔ جس کی رو سے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ نیک و بد کو ان کی نیکی اور بدی کی جزا دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٤] یہود کی عذاب اخروی کے متعلق غلط فہمی اور اس کا جواب :۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد اور اللہ کے محبوب ہیں لہذا ماسوائے چند دن کے انہیں دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ان کے اس باطل عقیدہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے دیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ اس عقیدہ کی اصل کیا ہے ؟ کیا اللہ نے تم سے کوئی ایسا وعدہ لے رکھا ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو دکھاؤ تو سہی۔ یا بس تم اللہ پر ایسی ہی جھوٹی باتیں جڑ دیتے ہو ؟ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اے یہود ! اگر تم فی الواقع اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے چہیتے ہو اور ماسوائے چند دن کے تمہیں دوزخ کی آگ چھو بھی نہیں سکے گی تو پھر تم مرنے کی آرزو کیوں نہیں کرتے یا بالفاظ دیگر ان دنیا کے جھنجٹوں سے نکل کر جنت میں جانے کی آرزو کیوں نہیں کرتے ؟ اور چونکہ یہود مرنے کے لیے مطلقاً آمادہ نہیں بلکہ طویل مدت تک دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہود اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں اور تیسرا جواب انہیں یہ دیا گیا کہ اللہ کا قانون جزاء و سزا سب کے لیے یکساں ہے۔ یہاں نسبی رشتے کچھ کام نہیں آئیں گے جس شخص کو اس کی بداعمالیوں نے گھیر لیا وہ یقینا دوزخ میں ہی جائے گا۔ پھر ہمیشہ اس میں رہے گا اور اس قانون میں اے یہود ! تمہارے لیے کوئی تخصیص نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس آیت میں یہود کی ہمہ گیر گمراہی کا بیان ہے، جس میں عوام اور علماء سبھی مبتلا تھے، یعنی ہم اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں، ہم چاہے کتنے بھی گناہ کریں جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو چند دن وہاں رکھ کر نکال لیے جائیں گے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے یہودیوں سے کئی سوال کیے، ان میں سے ایک یہ تھا : ( مَنْ أَہْلُ النَّارِ ؟ ) ” آگ میں جانے والے کون لوگ ہیں ؟ “ انھوں نے کہا : ” ہم اس میں تھوڑی دیر رہیں گے، پھر اس میں تم ہماری جگہ لے لو گے۔ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِخْسَءُوْا فِیْہَا، لاَ نَخْلُفُکُمْ فِیْہَا أَبَدًا )” تمھی اس میں دفع دوررہو ہم اس میں کبھی تمہاری جگہ نہیں لیں گے۔ “ [ بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب إذا غدر المشرکون ۔۔ : ٣١٦٩ ] ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے تو یہودی کہا کرتے تھے کہ دنیا کی مدت صرف سات ہزار سال ہے اور لوگوں کو دنیا کے ایک ہزار سال کے بدلے میں آخرت کے صرف ایک دن کا عذاب ہوگا، تو یہ صرف سات دن ہیں، پھر عذاب ختم ہوجائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ) [ ابن أبی حاتم بسند حسن : ١؍٢١٠ ] کچھ یہ کہتے تھے کہ جتنے دن ہم نے بچھڑے کی عبادت کی بس اتنے دن جہنم میں رہیں گے۔ [ مصنف عبد الرزاق عن قتادہ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The claim of the Jews that they would not be sent to Hell for their sins, or, if at all, only for a few days, has been interpreted by the Commentators in different ways. One of them is as follows:- The principle is common to all the Shari&ahs that if a believer commits sins, he will receive a punishment in Hell for some time and in accordance with the degree and nature of his sins, but as he possesses &Iman ایمان (faith), he will not be assigned to Hell for ever, and will be released after having served his term. Now, the argument on which the assertion of the Jews was based was that since the Shari ah of Sayyidna Musa (Moses علیہ السلام) had not, in their view, been abrogated, they were true believers (Mumins مؤمنین ), and had not turned into infidels (Kafirs) by denying the prophethood of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus ( and of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; hence - so the argument ran - if they were sent to Hell in punishment of some sin, they would again& be taken out after a few days. This false assertion is, thus based on another false assertion. The Torah never declares that the Shari` ah of Sayyidna Musa (علیہ السلام) is meant to last forever. To claim perpetuity for it is an unfounded and false assertion, and hence the Jews who made such a claim and denied the prophethood of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، must on account of this denial be held to be infidels and disbelievers (Kafirs کفار ). And no Book of Allah holds out to the infidels the promise that they would be released from Hell after a while. The present verse refers to such a promise as the |"pledge|" of Allah. Since Allah has never made such a promise, it goes to show that the Jews were making a baseless claim.

خلاصہ تفسیر : اور یہودیوں نے (یہ بھی) کہا کہ ہرگز ہم کو آتش (دوزخ) چھوئے گی (بھی تو) نہیں (ہاں) مگر (بہت) تھوڑے روز جو (انگلیوں پر) شمار کرلئے جاسکیں (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے یوں فرما دیجئے کیا تم لوگوں نے حق تعالیٰ سے (اس کے متعلق) کوئی معاہدہ لے لیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے معاہدہ کے خلاف نہ کریں گے یا (معاہدہ نہیں لیا) بلکہ ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگا رہے ہو جس کی کوئی علمی سند اپنے پاس نہیں رکھتے، فائدہ : یہود کے اس قول کی مفسرین نے مختلف تقریریں کی ہیں منجملہ اس کے یہ کہ یہ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گو بقدر گناہ دوزخ کے عذاب میں داخل ہو لیکن ایمان کی وجہ سے دائمی عذاب جہنم نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجائے گی، پس یہود کے دعوے کا حاصل یہ تھا کہ چونکہ ان بزعم دین موسوی منسوخ نہیں ہے لہذا وہ مومن ہیں انکار نبوت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وجناب حضور مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کافر نہیں ہوئے پس اگر کسی عصیان کے سبب دوزخ میں چلے بھی گئے پھر نکال لئے جائیں گے اور چونکہ یہ دعویٰ بناء الفاسد علی الفاسد ہے کیونکہ دین موسوی کی ابدیت کا دعویٰ خود غلط ہے لہذا انکار نبوت مسیحیہ ومحمدیہ کے سبب وہ لوگ کافر ہوں گے اور کفار کے لئے بعد چندے دوزخ سے نجات پاجانا کسی بھی آسمانی کتاب میں نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے عہد سے تعبیر فرمایا پس ثابت ہوا کہ دعویٰ بلادلیل بلکہ خلاف دلیل ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّـنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَۃً۝ ٠ ۭ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللہِ عَہْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللہُ عَہْدَہٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝ ٨٠ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ عد العَدَدُ : آحاد مركّبة، وقیل : تركيب الآحاد، وهما واحد . قال تعالی: عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقوله تعالی: فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ، فَذِكْرُهُ للعَدَدِ تنبيه علی کثرتها . والعَدُّ ضمُّ الأَعْدَادِ بعضها إلى بعض . قال تعالی: لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا[ مریم/ 94] ، فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] ، أي : أصحاب العَدَدِ والحساب . وقال تعالی: كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] ، وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] ، ( ع د د ) العدد ( گنتی ) آحا د مرکبہ کو کہتے ہیں اور بعض نے اس کے معنی ترکیب آحاد یعنی آجا د کو ترکیب دینا بھی کئے ہیں مگر ان دونوں معنی کا مرجع ایک ہی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ہم نے غار میں کئی سال تک ان کانوں پر ( نیند کا ) بردہ ڈالے ( یعنی ان کو سلائے ) رکھا ۔ کے لفظ سے کثرت تعداد کی طرف اشارہ ہے ۔ العد کے معنی گنتی اور شمار کرنے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا[ مریم/ 94] اس نے ان سب کا اپنے علم سے احاطہ اور ایک ایک کو شمار کر رکھا ہے ۔ اور آیت ۔ فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] کے معنی یہ ہیں کہ حساب دانوں سے پوچھ دیکھو ۔ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] زمین میں کتنے برس رہے ۔ وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کی رو سے ہزار برس کے برابر ہے : أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ خُلف ( عهد شكني) والخُلْفُ : المخالفة في الوعد . يقال : وعدني فأخلفني، أي : خالف في المیعاد بما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] ( خ ل ف ) خُلف الخلف کے معنی وعدہ شکنی کے میں محاورہ ہے : اس نے مجھ سے وعدہ کیا مگر اسے پورا نہ کیا ۔ قرآن میں ہے ۔ بِما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا ۔ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ (وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں الآیہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے) معدودۃ کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ تھوڑے ہوں گے جس طرح یہ قول باری ہے : وشروہ بثمن بحسن درا ھم معدودۃ (آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا) (قتادہ نے : ایا ما معدودۃ کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ چالیس دن ہوں گے یعنی اتنے دن جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ حسن بصری اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ سات دن ہوں گے۔ قول باری ہے : (کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ایاماً معدودات) (اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے جس طرح تم سے پہلے ابنیاء کے پیروئوں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ۔ چند مقرر دنوں کے روزے ہیں) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایام صوم اور رمضان کے پورے مہینے کے دنوں کو معدودات کا نام دیا۔ یعنی گنتی کے چند دن۔ ہمارے شیوخ نے حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت یعنی تین دن اور دس دن کے لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : مستحاضہ اپنے اقراء کے ایام کی تعداد نماز کی ادائیگی چھوڑ دے گی۔ “ بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : تم اپنے حیض کے ایام کی تعداد کے مطابق نماز چھوڑ دو ۔ “ ہمارے حضرات نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حیض کی مدت کو ایام کا نام دیا گیا ہے اور ایام کی کم سے کم مقدار تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے اس لئے کہ تین دنوں سے کم مقدار کو ایک یا دو دن کہا جاتا ہے اور دس دن سے زیادہ مقدار کو گیارہ دن کہا جاتا ہے ۔ اس لئے ایام کا اسم تین سے لے کر دس دنوں کی مدت کو شامل ہوگا اور اس سے حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت پر دلالت حاصل ہوجائے گی۔ بعض لوگ اس استدلال پر قول باری : ایاماً معدودات کے ذریعے یہ کہہ کر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رمضان کے پورے مہینے کے ایام ہیں نیز وہ قول باری : الا ایا ماً معدودۃ کے ذریعے بھی یہ کہہ کر اعتراض کرتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق یہ ایام چالیس دن ہیں۔ لیکن یہ بات مذکورہ استدلال کے لئے قادح نہیں ہے کیونکہ یہ جائز ہے کہ اللہ سبحانہ نے : معدودات کے لفظ سے قلیل ایام مراد لئے ہوں جس طرح یہ قول باری ہے : دراھم معدودۃ یعنی تھوڑے سے دراہم اور اس سے عدد کی تحدید اور اس کی مقدار کی توقیت مراد نہ لی ہو، بلکہ اس سے مراد یہ ہو کہ اللہ نے مسلمانوں پر اتنے روزے فرض نہیں کئے جو ان کے لئے مشکل اور سخت ہوجائیں۔ یہاں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے ایک مبہم وقت مراد لیا گیا ہو جس طرح عربوں کا قول ہے۔” ایام بنی امیۃ یا ایام الحجاج “ (بنی امیہ یا حجاج کا عہد اور زمانہ) اس قول سے ایام کی تحدید مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے بنی امیہ کی حکومت کا زمانہ مراد ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد :” تم اپنے اقراء کے ایام میں نماز چھوڑ دو ۔ “ سے لا محالہ تحدید ایام مراد ہے، کیونکہ حیض کا ایک معین اور مخصوص وقت ہوتا ہے جس سے حیض نہ تو تجاوز کرتا ہے اور نہ ہی اس سے کم ہوتا ہے۔ اس لئے جب ایام کی اضافت ایک مخصوص عدد کی طرف ہوگی تو وہ تین سے لے کر دس دنوں کے ایام کو شامل ہوں گے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٠) یہودی یہ بھی کہتے تھے کہ چالیس دن کے برابر ہمیں جہنم کی آگ چھوئے گی جن چالیس دنوں میں اے ہمارے آباؤ اجداد نے بچھڑے کی عبادت کی ہے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجیے کہ کیا تم نے اپنے دعوے پر اللہ تعالیٰ سے وعدہ لے لیا ہے اگر اللہ تعالیٰ سے وعدہ لے لیا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا اپنی کتاب میں سے خود ویسے ہی بیان کرتے ہو۔ شان نزول : (آیت ) ” لن تمسسنا النار “۔ (الخ) اس آیت کے بارے میں طبرانی (رح) نے کبیر میں اور ابن جریر (رح) اور ابن اور ابن ابی حاتم (رح) نے ابن اسحاق (رح) ، محمد بن ابی بکر (رح) عکرمہ، سعید بن جبیر (رض) کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ میں تشریف لائے۔ اور یہودی یہ کہتے تھے کہ دنیا کی مدت سات ہزار سال کی ہے اور لوگوں کو پورے زمانہ تک عذاب دیا جائے گا اور دنیا کا ایک ہزار سال آخرت میں دوزخ کے دنوں میں سے ایک دن ہے تو یہ سات دن ہوگئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آخر تک یہ آیت کریمہ اتاری اور ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہود کہتے تھے کہ ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے مگر قسم کے حلال ہونے کے لیے صرف ان دنوں میں جن میں ہم نے بچھڑے کی پوجا کی ہے اور وہ چالیس راتیں ہیں جس وقت وہ ختم ہوجائیں گی تو ہم سے عذاب ہٹا جائے گا ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ (وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّار الاَّ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃ ً ط) ” ۔ “ گویاصرف دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہمیں چند دن کی سزا دے دی جائے گی کہ کوئی اعتراض نہ کردے کہ ” اے اللہ ! ہمیں آگ میں پھینکا جا رہا ہے اور انہیں نہیں پھینکا جا رہا ‘ جبکہ یہ کردار میں ہم سے بھی بدتر تھے “۔ چناچہ ان کا منہ بند کرنے کے لیے شاید ہمیں چند دن کے لیے آگ میں ڈال دیا جائے ‘ پھر فوراً نکال لیا جائے گا۔ (قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَہْدًا) ‘ کیا تمہارا اللہ سے کوئی قول وقرار ہوگیا ہے ؟ (فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَہْدَہٗ ) (اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ ) “ حقیقت یہی ہے کہ تم اللہ کی طرف اس بات کی نسبت کر رہے ہو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کی فرد قرارداد جرم کے دوران گاہ بگاہ جو اہم ترین ابدی حقائق بیان ہو رہے ہیں ‘ ان میں سے ایک عظیم حقیقت اگلی آیت میں آرہی ہے۔ فرمایا :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

91. This is a misconception entertained by all Jews, laymen as well as rabbis. They felt sure that no matter what they did, they would remain immune from hell-fire just by virtue of being Jews! The worst they could conceive of was the possibility of a transient punishment before they were transported to heaven.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :91 یہ یہودیوں کی عام غلط فہمی کا بیان ہے ، جس میں ان کے عامی اور عالم سب مُبتلا تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کچھ کریں ، بہرحال چونکہ ہم یہُودی ہیں ، لہٰذا جہنّم کی آگ ہم پر حرام ہے اور بالفرض اگر ہم کو سزا دی بھی گئی ، تو بس چند روز کے لیے وہاں بھیجے جائیں گے اور پھر سیدھے جنّت کی طرف پلٹا دیے جائیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

علماء یہود میں دو باتیں زیادہ مشہور تھیں ایک تو یہ کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس کی ہے۔ اگر ہم کو عذاب ہوا بھی تو ہزار ایک دن کا ہوگا۔ اور آٹھویں دن ہم سب جنت میں چلے جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سات دن سے بڑھ کر ہم کو عذاب ہوا تو چالیس دن سے بڑھ کر کسی طرح نہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ وہ مدت ہے جس میں ہماری بڑوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ کم شہرت کی تیسری یہ بات بھی یہود کی زبان پر تھی کہ دوزخ کے منہ کی چوڑائی چالیس برس کے راستہ کی ہے۔ زیادہ عذاب ہم کو ہوا تو اسی مدت تک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ تم ان یہود کے جھوٹے علماء سے دریافت کرو کہ ان کے پاس ان جھوٹی باتوں کی کیا سند ہے اور سند نہ بتلائیں گے تو اللہ کے دین میں ایسی جھوٹی باتیں بنانے کا وبال ایک دن ان پر آنے والا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

لن تمسنا النار۔ لن تمس۔ فعل مضارع نفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب کا صیغہ۔ مس (باب نصر ضرب) سے ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ وہ ہم کو ہرگز نہ چھوئے گی۔ ایاما معدودۃ۔ موصوف وصفت ایام ۔ یوم کی جمع ہے۔ اصل میں ایوام تھا۔ واؤ کو یا بنایا اور یا کو یاء میں مدغم کیا۔ ایام ہوگیا۔ ایاما بوجہ ظرف منصوب ہے اور معدودۃ اپنے موصوف کی نسبت سے منصوب ہے۔ معدودۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث ہے۔ اور اس کی جمع معدودات ہے۔ ایاما معدودۃ گنتی کے چند دن۔ عد (باب نصر) مصدر بمعنی شمار کرنا ۔ عدد۔ گنتی ۔ شمار۔ اتخذتم۔ اصل میں اَ اِتخذتم تھا۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے اور ہمزہ وصل محذوف ہے۔ اتخذتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اتخاذ مصدر (افتعال) سے ۔ کیا تم نے اختیار کیا ہے یا لے رکھا ہے عھدا مفعول عند اللہ اللہ کے حضور، اللہ کے پاس ۔ یعنی اللہ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے۔ فلن یخلف اللہ عھدہ۔ یہ جملہ جواب شرط میں ہے اس سے قبل شرط مقدر ہے ای ان اتخذتم عند اللہ عھدا فلن یخلف اللہ عھدہ۔ اگر تم نے اللہ سے کوئی عہد لے رکھا ہے تو وہ اپنے وعدہ کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ فاء جواب شرط مقدرہ کے لئے ہے۔ لن یخلف۔ مضارع نفی تاکید بلن منصوب بوجہ عمل بلن۔ واحد مذکر غائب کا صیغہ اخلان (افعال) مصدر۔ ام تقولون۔ میں ام متصلہ اور منقطہ دونوں ہوسکتے ہیں۔ پہلی صورت میں اسے ام معادلۃ کہیں گے اور یہ ہمزہ استفہامیہ کے معنی دے گا۔ تقدیر کلام یوں ہوگی اتقولون علی اللہ مالا تعلمون ۔ ام تقولون علیہ مالا تعلمون۔ دوسری صورت میں (یعنی بصورت منقطہ) بمعنی بل ہوگا۔ ای بل اتقولون علی اللہ مالا تعلمون۔ یا کیا تم اللہ پر وہ باتیں بناتے ہو جن کو تم خود بھی نہیں جانتے۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں ام متصلہ یا اس کو منقطہ کہا جاوے بمعنی بل ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 18:9) مالا تعلمون ۔ اس میں ما موصولہ ہے اور لاتعلمون جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر صلہ ہے۔ جسے تم خود نہیں جانتے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اس آیت میں یہود کی قوم گیر گمراہی کا بیان ہے جس میں عوام اور علماے بھی مبتلا تھے یعنی ہم اللہ کے محبوب اور بیارے ہیں ہم چاہے کتنے گناہ کریں جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ یہود خیبر نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم تھوڑے دن جہنم میں رہیں گے اور پھر ہماری جگہ تم لے لوگے اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اخساو لا نخللفکم فیھا ابدا۔ (نسائی) یعنی تم جھوٹے ہو ہم تمہاری جگہ کبھی نہیں لے گے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کے یہودی کہا کرتے دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اس لیے ہم ہر ہزار سال کے بدلے صرف ایک دن جہنم میں رہیں گے کبھی کہتے کہ ہم نے صرف جالیس سن بچھڑے کی پوجا کی ہے اس لیے چالیس روز جہنم میں رہیں گے ان کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر) اتخذ تم عند اللہ عھدا میں ہمزہ انکار لے لیے ہے یعنی کیا تم نے اللہ سے اس پر کوئی عہد لے لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے خلاف نہیں کرے گا ؟ نہیں بلکہ تم محض جھوٹی اور باطل باتیں کرتے ہو۔ (فتح القدیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 82 لن تمسنا (ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی) ۔ ایام معدودۃ (چند دن (یہودیوں کا خیال تھا کہ وہ گنے چند دن جہنم میں رہیں گے) ۔ اتخذتم (تم نے بنا لیا ہے ) ۔ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا) ۔ ام تقولون (یا تم کہتے ہو ؟ ) ۔ بلیٰ (کیوں نہیں، جی ہاں) ۔ سیئۃ (گناہ، برائی) ۔ احاطت (اس نے گھیر لیا) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ خلدون (ہمیشہ رہنے والے) ۔ اصحب الجنۃ (جنت والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 80 تا 82 حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہود کا یہ خیال تھا کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے ۔ ہر ہزار سال کے بدلے ہم لوگ ایک دون دوزخ میں رہیں گے اور سات دن سے زیادہ ہمیں عذاب نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم نے چالیس دن تک بچھڑے کی پرستش کی تھی، اس لئے چالیس دن تک ہم آگ میں رہیں گے اس کے بعد جنت کی تمام راحتیں ہمارے لئے ہوں گی۔ ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ فتح خیبر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں کو جمع کر کے فرمایا دوزخی کون لوگ ہیں ؟ یہودیوں نے جواب دیا کہ تھوڑے دن تو ہم جہنم میں رہیں گے اس کے بعد تم ہماری جگہ پر بھیج دئیے جاؤ گے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم جھوٹے ہو، ہم تمہاری جگہ نہ جائیں گے بلکہ تم ہی ہمیشہ ہمیشہ اس دوزخ میں جلتے رہوگے۔ اسی طرح کی بہت سی روایات ہیں جو احادیث میں آتی ہیں۔ بہرحال یہودیوں نے اسی طرح کی بےسروپا باتیں اپنے لوگوں کو سکھا رکھی تھیں، جس کے سہارے وہ بہت سی خوش فہمیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنت کسی کی میراث نہیں ہے یہ تو درحقیقت ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ حاصل ہوگی اللہ نے کسی کو جنت کا ٹھیکہ نہیں دیا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائیں گے اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے وہ اس جنت کے وارث ہوں گے لیکن جن لوگوں نے ایمان اور عمل صالح کی روش کو چھوڑ دیا ہے ۔ یقیناً ایسے لوگ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گومعاصی سے دوزخ میں معذب ہو۔ لیکن ایمان کی وجہ سے خلود نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجاوے گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اہل کتاب خود ساختہ عقائد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے تھے اور آج ان کا دعوٰی ہے کہ ہم گنتی کے چند دن جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اس کے بعد جنت ہماری اور ہم جنت کے وارث ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ‘ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار اور بھاری جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود یہودیوں کی خوش فہمیوں کی انتہا یہ تھی اور ہے کہ وہ بڑی بےباکی کے ساتھ تورات کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کے ناطے سے ہم جہنم میں نہیں جاسکتے۔ سوائے ان چند دنوں کے جن دنوں میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑا پوجنے کی غلطی کی تھی۔ اس دعویٰ کی قلعی کھولنے کے لیے ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ جس کی خلاف ورزی کی اللہ تعالیٰ سے توقع نہیں کی جاسکتی ؟ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تمہیں کوئی ثبوت پیش کرنا چاہیے۔ درحقیقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بےبنیاد اور جہالت کی بات کرتے ہیں۔ فرقہ پرستی کے مضمرات میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ ہمارے بعض علماء اور مشائخ نے اس سے دو قدم آگے بڑھ کر اپنے عقیدت مندوں اور مریدوں میں یہ تاثر پیدا کر رکھا ہے کہ جنت میں جانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کسی پیر کا مرید یا کسی امام کا مقلد ہوجائے۔ حالانکہ اس نظریہ کی دلیل قرآن وسنت میں نہیں پائی جاتی۔ مسائل ١۔ یہودیوں کا عقیدہ شرعی حقائق کے منافی اور عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ٢۔ من گھڑت دینی مسائل اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کا معاملہ : ١۔ ہر ایک کو اس کے اپنے اعمال کام آئیں گے۔ (البقرۃ : ١٣٤) ٢۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : ١٦٤) ٣۔ کوئی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ (فاطر : ٤٣) ٤۔ کسی کے گناہ کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھا جائے گا۔ ( الرحمن : ٣٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک ایسی دلیل اور حجت کی تلقین کرتے ہیں جو باطل کا سر کچل دیتی ہیں۔” کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ “ اگر کوئی ایسا عہد تم نے لے رکھا ہے تو بتاؤ وہ کہاں ہے ؟” یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہوتا۔ “ یہ سوالیہ انداز بات کو اور مضبوط بنانے کے لئے اختیار کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے پاس اللہ کا کوئی عہد نہیں ہے ۔ سوالیہ انداز میں ناپسندیدگی اور زجر وتوبیخ کے معانی بھی مضمر ہوتے ہیں ۔ یہاں اب اس سلسلے میں ، انہیں ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے کہ ان کے اس دعوے کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ بات جزاء وسزا کے متعلق اسلام کے عالمگیر تصور ہی سے ماخوذ ہے اور بطور قاعدہ کلیہ بتادیا جاتا ہے کہ جزا عمل کے مطابق ہوگی ۔ جیسا کروگے ویسا بھروگے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہود کی جھوٹی خوش گمانی کہ دوزخ میں صرف چند دن کے لیے جائیں گے اس آیت شریفہ میں یہودیوں کا ایک اور دعوی اور اس کی تردید مذکور ہے۔ یہودیوں کا یہ جھوٹا دعوی تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ نہیں ہوگی اور اپنے بارے میں سمجھتے تھے کہ ہم اسی شریعت پر قائم رہیں گے لہٰذا ہمیں عذاب کیوں ہونے لگا۔ اور عذاب ہوگا تو صرف چالیس دن عذاب ہوگا یعنی جتنے دن ہمارے آبا و اجداد نے بچھڑے کی عبادت کی ہے اتنے ہی دن عذاب میں گرفتار ہوں گے اس کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے۔ اور حضرت ابن عباس سے یوں منقول ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور ہر ہزار سال کے بدلہ ہم کو ایک دن دوزخ میں عذاب بھگتنا ہوگا۔ اور گنے چنے سات دن ہوں گے جو زیادہ نہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ہم کچھ دن دوزخ میں رہیں گے پھر ہم دوزخ سے نکل آئیں گے اور ہماری جگہ مسلمان دوزخ میں چلے جائیں گے۔ غزوہ خیبر کے موقعہ پر جب ایک یہودی عورت نے زہر ملابکری کا گوشت حضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کردیا تھا اس وقت آپ نے ان سے جو سوال و جواب کئے تھے ان میں یہ بھی تھا کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ دوزخی کون ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم دوزخ میں تھوڑا سا وقت گزاریں گے پھر آپ لوگ اس میں ہمارے بعد داخل ہوجائیں گے۔ آپ نے فرمایا دور ہوجاؤ اللہ کی قسم ایسا کبھی نہ ہوگا کہ تم اس میں سے نکل جاؤ اور تمہارے بعد ہم اس میں چلے جائیں۔ مفسر ابن کثیر نے یہ روایات لکھی ہیں اور آخری بات جس میں خیبر کی گفتگو مذکور ہے اس کو بحوالہ مسند احمد و صحیح بخاری نقل کیا ہے۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ص ٨٦٠ ج ٢ پر مذکور ہے۔ پہلی آیت میں یہودیوں کی آرزوؤں اور خوش گمانیوں کا جو ذکر تھا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دوزخ میں چند دن ہی جائیں گے۔ وہ یہ جانتے ہوئے کہ حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں آپ پر ایمان نہ لائے اور یہ جانتے ہوئے کہ کسی نبی کو نہ ماننا کفر ہے اور کفر کی سزا دائمی جہنم ہے طرح طرح کے جھوٹے دعوے کرتے تھے اور ان کے دعوے اور آرزوئیں سب خود ساختہ تھے جن کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔ بےسند باتیں کرتے تھے اور انہی باتوں میں مست تھے۔ اسی لیے اللہ جل شانہ، نے ارشاد فرمایا : (قُلْ اَتَّخَذْ تُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَھْدًا) (الایۃ) کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرما دیں کہ یہ جو کچھ تمہارا دعوی ہے کہ ہم صرف چند دن دوزخ میں رہیں گے اس کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کیا اللہ تعالیٰ سے تم نے کوئی عہد لیا ہے جس کی بنیاد پر تم ایسی باتیں کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے عہد کے خلاف نہیں فرماتا لیکن تم سے اس کا کوئی عہد نہیں ہے خود اپنے پاس سے اللہ کی طرف ان باتوں کی نسبت کرتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں۔ اپنی طرف سے اپنے بارے میں کوئی بھی شخص کوئی بھی خیال اور گمان کرکے بیٹھ جائے اور اسی پر بھروسہ کرلے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی کوئی سند اور دلیل نہ ہو تو اس کا گمان اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کفر کی سزا بہر حال ملے گی خواہ کیسی ہی خوش فہمی میں مبتلا ہو۔ یہودیوں کی حماقت تو دیکھو کہ خود اپنے اقرار سے دوزخ میں جانے کو تیار نہیں جبکہ یہ جانتے ہیں کہ دوزخ میں ایک سیکنڈ کا عذاب بھی بہت بڑا ہوگا جس کی برداشت کسی کو نہیں ہوسکتی۔ دنیا کی آگ کی ایک چنگاری تھوڑی سی دیر کے لیے ہاتھ میں لینے کو کوئی بھی شخص تیار نہیں اور دوزخ میں جانے کو بڑی اہمیت اور حوصلے کے ساتھ تیار ہیں۔ جبکہ دوزخ کی آگ کی گرمی دنیا کی آگ سے انہتر درجے زیادہ گرم ہے۔ (کما فی روایۃ الصحیحین) جس طرح یہود جھوٹی آرزوؤں اور خود تراشیدہ اوہام و خیالات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اسی طرح آج کل بہت سے فرقے ایسے ہیں جو اسلام کے دعویدار ہیں۔ لیکن کفریہ عقائد کے حامل ہیں مثلاً قرآن کی تحریف کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے العیاذ باللہ ہمارے امام کے اندر حلول کیا ہے اور بہت سے لوگ جھوٹے نبی کی امت بنے ہوئے ہیں اور ان سب کو اپنی نجات کی خوش گمانی ہے حالانکہ یہ لوگ قرآنی تصریحات کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ بہت سے پیر فقیر جو بالکل بےعمل بلکہ بدعمل ہیں وہ صرف اس بنیاد پر اپنی نجات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ کسی بزرگ کی اولاد میں ہیں اپنی خوش گمانی اور جھوٹی آرزو سے کچھ نہیں ہوتا نجات کے لیے عقیدہ اور عمل صحیح ہونا ضروری ہے جو قرآن و حدیث کے مطابق ہو، بےسند آرزو اور بےخوش گمانی آخرت کی بربادی کا ذریعہ ہے۔ کسی کی نسل میں ہونے سے نجات نہ ہوگی۔ بنی اسرائیل بھی تو انبیاء کی اولاد ہیں پھر بھی دوزخی ہیں خوب سمجھ لیا جائے۔ دور حاضر کے کافروں کی خوش گمانی : جس طرح یہودی اپنے بارے میں خیالی دنیا اور خوش گمانی میں مبتلا ہیں اسی طرح دور حاضر کے مذاہب والے جو یہودیوں کے علاوہ ہیں وہ بھی اپنے بارے میں خوش گمانیوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے خود ساختہ عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس کوئی سند نہیں کہ وہ جس دین پر ہیں وہ ذریعہ نجات بنے گا۔ مشرکین اور بت پرست اپنی مکتی اور نجات کا عقیدہ لیے پھر تے ہیں اور الٹا موحدین مسلمین کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کی نجات نہ ہوگی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

155 یہ پانچواں گروہ صاحب زادگان کا ہے۔ جنہوں نے مکروفریب سے عوام کو یقین دلا رکھا تھا کہ وہ چونکہ اللہ کے پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ان کی نسل پاک پشتوں سے نکلی ہوئی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ان پر کوئی مواخذہ نہیں کرے گا اور بڑے بڑوں کی طفیل انہیں معاف کردے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ دعوی نقل فرمایا ہے۔ نَحْنُ اَبْنَائُ اللہِ وَاَحِبَّائُہ (مائدہ ع 3) اور اگر ہمیں سزا دی بھی گئی تو وہ محض معمولی سی اور چند دنوں کیلئے ہوگی۔ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا۔ یہ یہودیوں کے مذکورہ دعویٰ کی تردید ہے۔ یعنی جہنم سے محفوظ رہنے کیلئے تم نے اللہ سے کوئی عہد لیا ہوا ہے جس کی بنا پر وہ تمہیں اس سے محفوظ رکھے گا یعنی اگر اس نے ایسا عہد کیا ہوا ہے تو پھر تو وہ یقیناً اسے پورا کرے گا مگر یہ ظاہر ہے کہ اللہ نے تم سے ایسا کوئی عہد نہیں کیا۔ یا عہد سے مراد عہد توحید ہے اور مطلب یہ ہے کہ کیا تم نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار کر کے اللہ سے توحید کا عہد کرلیا ہے کیونکہ جس نے اللہ سے توحید کا عہد کیا ہوا ہے اللہ نے بھی اسے جہنم سے بچانے کا عہد کیا ہوا ہے۔ قال ابن مسعود عہدا بالتوحید یدل علیہ قولہ تعالیٰ الا من اتخذ عند الرحمن عھدا یعنی قولہ لا الہ الا اللہ (معالم ص 66 ج 1) وروی عن ابن عباس (رض) ان معنی الایۃ ھل قلتم لا الہ الا اللہ وامنتم واطعتم (روح ص 304 ج 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi