Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 129

سورة طه

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی ﴿۱۲۹﴾ؕ

And if not for a word that preceded from your Lord, punishment would have been an obligation [due immediately], and [if not for] a specified term [decreed].

اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شدہ اور وقت معین کردہ نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And had it not been for a Word that went forth before from your Lord, and a term determined (their punishment), must necessarily have come (in this world). This means that if it were not for the Word that had already preceded from Allah -- that He would not punish anyone until the proof had been established against him and the punishment would take place at an appointed time that He has already determined for these rejecters -- then the punishment would certainly seize them immediately. The Command to be patient and perform the Five daily Prayers Allah comforts His Prophet by saying to him,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

129۔ 1 یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انھیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا ! انھیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہوچکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود اگر ان پر اب تک عذاب نہیں آیا تو یہ سمجھیں کہ آئندہ بھی نہیں آئے گا بلکہ ابھی ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے، جیسا کہ وہ ہر قوم کو دیتا ہے۔ مہلت عمل ختم ہوجانے کے بعد ان کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٣ـ۔ ا ] جس طرح اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج و امہال کا قانون کام کرتا ہے۔ ان پر عذاب الٰہی کے نزول میں بھی وہی قانون کارفرما ہے۔ اور اس قاعدہ میں بہت سی مصلحتیں مضمر ہوتی ہیں۔ یعنی جس طرح جو کام کے سرانجام پانے کے لئے ایک مقررہ مدت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح عذاب الٰہی کا بھی وقت مقرر ہے۔ جس کی چند شرائط ہیں۔ اور اگر یہ قانون جاری وساری نہ ہوتا تو ان کے اعمال واقعی اس قابل ہیں کہ انھیں فوری طور پر تباہ و برباد کردیا جاتا۔ اس قانونی تدریج و امہال میں کیا مصلحتیں ہیں اور اگر اس قانون کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس میں کیا نقصانات ہیں، ان کا ذکر پہلے حواشی میں کیا جاچکا ہے۔ لہذا اب تکرار کی ضرورت نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ ۔۔ : اصل میں ” وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ وَأَجَلٌ مُّسَمًّی لَکَانَ (الْعَذَابُ ) لِزَامًا “ ہے، فواصل (آیات کے آخری حروف) کی مطابقت کے لیے ” وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى“ کو مؤخر کردیا گیا۔ ” 3 لِزَامًا “ بروزن ” قِتَالٌ“ باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں برائے مبالغہ ہے، لازم ہونے والا۔ ” لَکَانَ “ میں ضمیر ” ھُوَ “ اس کا اسم ہے جو پچھلی آیات کے مضمون ” الْعَذَابُ “ (وہی عذاب) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ 3 جب پہلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ان جھٹلانے والوں کو کیوں ہلاک نہیں کیا جا رہا ؟ فرمایا کہ اس کے دو سبب ہیں، ایک تو وہ بات جو رب تعالیٰ کی طرف سے پہلے طے ہوچکی اور دوسرا وہ وقت جو مقرر ہوچکا۔ پہلے طے شدہ بات سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونا ہے، جیسا کہ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِيْ کِتَابِہٖ وَ ھُوَ یَکْتُبُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَھُوَ وَضْعٌ عِنْدَہٗ عَلَی الْعَرْشِ اِنَّ رَحْمَتِيْ تَغْلِبُ غَضَبِيْ ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ : ( ویحذرکم اللہ نفسہ ) : ٧٤٠٤ ] ” جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے آپ پر یہ بات لکھ دی، اور وہ خود ہی اپنے آپ پر لکھتا ہے، اور اسے اپنے پاس عرش پر رکھ لیا کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ “ اور اس نے اپنی رحمت سے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ پیغام پہنچانے اور حجت پوری کرنے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (١٥) اور نساء (١٦٥) اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کفار کی نسل سے بیشمار مسلمان پیدا ہوں گے، اس لیے اس نے فوراً عذاب نازل کرنے کے بجائے کفار کو مہلت دے رکھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر ایک کا وقت مقرر شدہ ہے، جس سے پہلے کوئی قوم یا شخص جتنی بھی نافرمانی کرے، اسے مہلت دی جاتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے وقت نہیں ملا، جیسا کہ فرمایا : (لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ ) [ الأعراف : ٣٤ ] ” اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔ “ اگر یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو وہی پہلی قوموں والا عذاب لازم ہوجاتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْلَا كَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى۝ ١ ٢٩ۭ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ لزم لُزُومُ الشیء : طول مكثه، ومنه يقال : لَزِمَهُيَلْزَمُهُ لُزُوماً ، والْإِلْزَامُ ضربان : إلزام بالتّسخیر من اللہ تعالی، أو من الإنسان، وإلزام بالحکم والأمر . نحو قوله : أَنُلْزِمُكُمُوها وَأَنْتُمْ لَها كارِهُونَ [هود/ 28] ( ل ز م ) لزمہ یلزمہ لزوما کے معنی کسی چیز کا عرصہ دراز تک ایک جگہ پر ٹھہرے رہنا کے ہیں ۔ اور الزام ( افعال ) دوقسم پر ہے ایک تو الزام بالتسخیر ہے اسکی نسبت اللہ تعالیٰ اور انسان دونوں کی طرف ہوسکتی ہے اور دوسرے الزام بالحکم والامر یعنی کسی چیز کو حکما واجب کردینا جیسے فرمایا : أَنُلْزِمُكُمُوها وَأَنْتُمْ لَها كارِهُونَ [هود/ 28] تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ۔ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہورہے ہو ۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٩) اور اگر تاخیر عذاب کے بارے میں آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے فرمائی نہ ہوتی اور اس امت کے لیے نزول عذاب کے بارے میں ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ان کی ہلاکت کے لیے ان پر عذاب ضرور نازل ہوتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٩ (وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّی ) ” اگر اللہ تعالیٰ نے ان کی مہلت کی مدت پہلے سے طے نہ فرما دی ہوتی تو ان پر کب کا عذاب آچکا ہوتا۔ ترتیب عبارت اصل میں یوں ہے : ” وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ وَّاَجَلٌ مُّسَمًّی لَکَانَ لِزَامًا “ لیکن یہاں پر عبارت کے مخصوص آہنگ (rhythm) کے پیش نظر الفاظ میں تقدیم و تاخیر کی گئی ہے۔ اگلی آیات کی سورة الحجر کی آخری پندرہ آیات کے ساتھ گہری مشابہت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

55: یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ان کافروں کو عذاب دینے کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، اور یہ طے کر رکھا ہے کہ اس سے پہلے ان کو مہلت دی جائے گی۔ اس لیے ان کی نافرمانیوں کے باوجود ان پر عذاب نازل نہیں ہو رہا ہے۔ اگر یہ بات پہلے سے طے نہ ہوتی تو ان کے کرتوت ایسے تھے کہ ان کو فوری طور پر عذاب آ چمٹتا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:129) ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل تسمی۔ ای ولو لا سبقت من ربک کلمۃ (ولولا) اجل مسی لکان لزاما۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا اور اگر (تیرے رب کی طرف سے) ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر (عذاب) ابھی آگیا ہوتا۔ سبقت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس کا مرجع کلمۃ ہے کلمۃ کا معنی تاخیر عذاب کا وعدہ (یعنی یہ کہ اس امت کو اس دنیا میں عذاب نہ ہوگا اور دوسری اقوام کی طرح اپنے اعمال بد کے نتیجہ میں اس زندگی میں ان پر ہلاکت نہ آئے گی بلکہ نبی کریم رحمۃ اللعالمین کی وجہ سے ان کے اعمال کی سزا قیامت کے روز کے لئے اٹھا رکھی جائے گی۔ اجل مسمی۔ صفت موصوف۔ ایک مقرر شدہ وقت۔ یعنی روز قیامت۔ اجل مسمی کا عطف کلمۃ پر ہے لکان لزاما ای لکان عذاب جنایاتہم لازما لھؤلاء الکفرۃ تو ان کے بد اعمال کا عذاب لازمی طور پر ان کفار پر آگیا ہوتا (جس طرح امم سابقہ کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ لزاما یا تو مصدر ہے اور بصیغہ صفت مبالغہ کے لئے استعمال ہوا ہے یا اسم آلہ ہے رکاب کی طرح اور مبالغہ کے لئے بصیغہ صفت استعمال ہوا ہے۔ لزاما ہمیشہ ساتھ رہنے والا۔ چمٹ جانے والا۔ انصاف کرنے والا حاکم۔ لازم اسم فاعل چمٹا رہنے والا۔ واجب ۔ الزام باب افعال۔ چمٹا دینا۔ جیسے انلزمکموھا کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں۔ (11:28) اور فقد کذبتم فسوف یکون لزاما (25:77) تم نے اس کو جھٹلایا اور عنقریب یہ تکذیب تم کو چمٹ جائے گی۔ الگ نہ ہوگی ، وبال جان بن جائے گی اس کی (سزا) تمہارے لئے لازم ہوجائے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 میعاد معین سے مراد قیامت کا دن ہے یا دنیا ہی کی سزا کوئی دن جیسے بدر کا دن اور بات اسے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ہر قوم یا گروہ کو گرفت کرنے سے پہلے مہلت دی جائے گی تاکہ ایک طرف اس پر حجت تمام ہو اور دوسری طرف اگر وہ سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٨) اسرارومعارف اور یہ لوگ بھی یقینا تباہ ہوچکے ہوتے مگر اللہ جل جلالہ کا وعدہ کہ اس نے موت اور حساب کتاب کا وقت مقرر فرما دیا ان کی مہلت کا سبب ہے ، اگر یہ وعدہ نہ ہوتا تو کافر ارتکاب کفر پر ہی فورا عذاب میں پکڑا جاتا لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ایک وقت تک انہیں مہلت دی گئی ہے اور تب تک یہ چونکہ پوری طرح صرف دنیا حاصل کرنے پر لگے ہیں اور بھی ایسے لوگوں کو دنیا کی دولت بہت دے دیتے ہیں جو مزید امتحان کا باعث بنتی ہے لہذا آپ ان کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کے مقابل اپنا وقت اللہ جل جلالہ کی یاد اور اس کی عبادت میں صرف کیجیے بیشتر مفسرین نے یہاں تسبیح سے صلوۃ مراد لیا ہے کہ آگے صلوۃ ہی کے اوقات کا ذکر بھی ہے چناچہ ارشاد ہے کہ سورج طلوع ہونے سے قبل دن کی ابتدا اللہ جل جلالہ کی عبادت سے کیجیے اور غروب آفتاب سے پہلے بھی دن میں بھی اور رات کے اوقات میں بھی غرض مسلسل اللہ جل جلالہ کی عبادت کیا کیجیے کہ دشمن کی ایذا سے بچنے کا سب سے محفوظ قلعہ اللہ جل جلالہ کی یاد ہے اور اس کی عبادت ہی صبر کی توفیق اور برداشت کی قوت عطا کرتی ہے ذکر الہی قرب الہی اور توفیق عبادت کے ساتھ دنیا کے کاموں میں بھی معیت باری کا سبب ہے لہذا مومن کبھی تنہا نہیں رہتا اور ہر حال میں اللہ جل جلالہ اس کے ساتھ اس کی مدد کے لیے موجود ہوتا ہے نیز کفار کی دولت مندی کا خیال نہ کیا جائے کہ یہ دولت ہی انہیں اللہ جل جلالہ سے دور رکھنے کا باعث بن گئی ہوئی ہے اور سب سے بہترین رزق وہ ہے جو اللہ جل جلالہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے یعنی مومن اسلام کے حکم کے مطابق کام کرتا ہے تو اس کی مزدوری اور کام بھی عبادت شمار ہوتا ہے اور اسے کسب حلال پر جو بھی مل جائے اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہے اور بہترین رزق ہے کہ نہ صرف دنیا میں اپنے ساتھ دل کا سکون بھی لاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اللہ جل جلالہ کی عنایات کا باعث ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہیں اگر کافر دولت دنیا کے جمع کرنے میں عمرعزیز ضائع کر رہا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہت بڑی مصیبت ہے اور مومن کو کسب حلال کے ساتھ اللہ کی عبادت میں اپنا وقت لگانے کی سعادت نصیب ہوتی ہے لہذا آپ اپنے گھر والوں کو بھی اللہ جل جلالہ کی عبادت کا حکم دیجئے اور خود بھی اس پر مضبوطی سے قائم رہیے یعنی ہر ایماندار کو چاہیے کہ خود بھی عبادت پر قائم رہے اور عبادت کا ایک ماحول بنائے اور اہل خانہ کو عبادت کا پابند کرے نہ یہ کہ خود بھی ان سے متاثر ہو کر کوتاہی کرنے لگے اس لیے کہ اللہ کریم بندے سے روزی پیدا کرنے کا نہیں کہتا بلکہ بندوں کو روزی دینا اس کا کام ہے کوئی بندہ رزق پیدا کرکے اسے نہیں دیتا وہ بندوں کو عطا کرتا ہے اور رزق دینا صرف جسم کی حیات کو قائم رکھنے کے لیے ہے جبکہ اصل دولت آخرت کی امارت و دولتمندی ہے جو تقوی یعنی اللہ جل جلالہ کی عبادت اس کی یاد اور اس کی اطاعت سے نصیب ہوتی ہے ۔ یہ تو ابھی تک کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی دلیل اور مضبوط نشانی نہیں ملی کہ ایمان لائیں کیا جو خبر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے بارے تمام پہلی کتابوں میں بھی موجود تھی جب وہ پوری ہوگئی اور عین ان نشانیوں کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اور قرآن بھی نازل ہوا یہ کم نشانی ہے ؟ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے انہیں تباہ کردیا جاتا تو یہ ضرور کہتے کہ اللہ کریم ہمیں ہلاک کرنے سے پہلے آپ نے اپنا کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم اس کی اطاعت کرتے اور تیرے احکام کی پیروی کرکے اس ذلالت وتباہی سے بچ جاتے اور اب جب یہ دونوں نعمتیں موجود ہیں تو ان کا رویہ دیکھیں آپ فرما دیجیے کہ ہر کوئی جو کچھ بھی کرتا ہے اس کے نتیجے کا منتظر رہتا ہے لہذا تم بھی انتظار کرو ایک وقت آرہا ہے جو واضح کر دے گا کہ کون ہدایت کے راستے پر تھا اور کامیابی کس کو نصیب تھی یعنی اگر ایمان نہیں لاتے تو موت اور قیامت کا انتظار کریں فیصلہ سامنے آجائے گا یہی سب سے بڑی محرومی ہے جو غور فکر نہ کرنے اور ایمان نہ لانے کے باعث انہیں نصیب ہوئی کہ روز حشر حق و باطل کی خبر تو ضرور ہوجائے گی مگر حق قبول کرنے کا وقت گذر چکا ہوگا اور اس وقت کی سمجھ سوائے حسرت کے کچھ نہ دے گی اور کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گی ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 129 تا 132 سبقت گزر گئی، طے کردی گئی۔ لزام عذاب۔ اجل مسمی مدت مقرر، متعین۔ اناء برتن، لمحہ، وقت۔ اطراف کنارے۔ ترضی تو خوش ہوگا۔ لاتمدن تو ہرگز نہ پھیلے گا۔ متعنا ہم نے برتنے کا سامان دیا۔ زھرۃ آرائش و زیبائش۔ نفتن ہم آزماتے ۔ اصطبر تو قائم رہ۔ تشریح : آیت 129 تا 132 ان آیات میں کفار و مشرکین کے اس طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اختیار کر رکھا تا۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں، ضدوں اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑتا اور ان کو گزشتہ قوموں کی طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا چونکہ اللہ کی ہر صفت پر اس کی صفت رحم و کرم اور صفت حلم و تحمل چھائی ہوئی ہے اس لئے گناہگاروں کو فوراً ہی سزا نہیں دی جاتی بلکہ ان کو ایک خاص اور مقرر مدت تک مہلت اور ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ اس فرصت سے فائدہ اٹھا کر اپنے اعمال و افعال کی اصلاح کرلیں۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنی روش زندگی اور طرز فکر کو تبدیل نہیں کرتے تب اللہ کا وہ فیصلہ آجاتا ہے جس کے سامنے کسی کا ٹھہرنا اور نجات پانا ناممکن بن جاتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ کفار کی نافرمانیوں اور ضد کی پرواہ نہ کریں اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے کسی طرح کے انتقام کے جذبے کو پروان نہ چڑھائیں۔ اپنے فریضہ تبلیغ اور اشاعت دین کی جدوجہد کو تیز کردیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کفار کے پیچھے نہ پڑیں اپنے اعمال کی فکر کرتے ہوئے اللہ کی عبادت و بندگی اور حمد وثناء میں دل و جان سے لگ جائیں اس سے نہ صرف سکون قلب کی دولت مل جائے گی بلکہ استحکام و ترقی بھی عطا کی جائے گی۔ سکون قلب کا سب سے بہتر ذریعہ اور عبادت کا بہترین انداز اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے نماز پڑھنا ہے۔ فرمایا کہ (1) سورج نکلنے سے پہلے (2) سورج غروب ہونے سے پہلے (3) رات کے لمحات میں (4) دن کے دونوں حصوں کے ملنے کے وقت اللہ کی حمد وثناء کیجیے اور اس ذات کی خوبیاں بیان کیجیے جس کا سب سے بڑا فائدہ ہر طرف سے خوشی ہی خوشی ہے۔ یہ وہ آیت ہے جس میں پانچ وقت فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کے اوقات بیان کئے گئے ہیں اور پانچ وقت کی نمازوں کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اس دنیا میں اصل چیز ایمان لانے کے بعد انسان کے بہترین اعمال اور ان کے بہترین نتائج ہیں۔ کیونکہ انسان کے نیک اور بہتر اعمال اس کو آخرت کی عظمت و بلندی کی طرف لے جانے والے ہیں جب کہ دنیا کی چمک دمک، مال و دولت، زیب وزینت اور دنیاوی خوبصورتیاں اکثر انسان کو اچھے اعمال اور مقصد حیات سے بہت دور لے جاتی ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ! یہ دنیا کی ظاہری چمک دمک، رشک ، رغبت اور شوق سے دیکھنے کی چیزیں نہیں ہیں کیونکہ یہ تو انسان کی ایک آزمائش ہیں۔ اکثر لوگ دنیا کے حرص و لالچ میں پڑ کر آخرت تک کو بھول جاتے ہیں۔ دنیا محض استعمال کرنے کے لئے بنائی گئی ہے دل لگانے کے لئے نہیں کیونکہ جو چیز اللہ کے اس سے وہی زیادہ بہترین اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ دنیا اور اس کی رونقیں عارضی ہیں جو ایک وقت پر ختم ہوجائیں گی۔ تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ خود بھی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے نماز قائم کیجیے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس پر جمانے کی کوشش کیجیے۔ رزق کی پروا نہ کیجیے ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ آپ دنیا کا ساز و سامان جمع کریں کیونکہ زندگی گذارنے کا پورا انتظام ہم نے کر رکھا ہے ہم وہ آقا نہیں جو اپنے غلاموں سے محنت کراتے اور گھر بیٹھ کر آرام سے کھاتے ہیں بلکہ ہم آپ کے رزق کے ذمہ دار ہیں۔ ہم ہی آپ کو رزق دیں گے۔ بہترین انجام تو صرف تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرنے والوں کا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ خلاصہ یہ کہ کفر تو مقتضی عذاب کا ہے، لیکن ایک مانع سے توقف ہورہا ہے پس ان کا وہ شبہ اور تمسک عدم وقوع عذاب سے غلط ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی (٠٢ : ٩٢١) ” اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بطے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدت مقرر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور ان کا بھی فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ “ اگرچہ یہ لوگ ایک وقت مقررہ تک مہلت پا چکے ہیں لیکن ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کو جو شان و شوکت اور جو زیب وزینت دی گئی ہے آپ اس کے ذمہ دار نہیں۔ یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے اور یہ ان کے لئے بہت بڑا فتنہ ہے۔ اللہ نے جو کچھ تجھے بطور انعام دیا ہے۔ وہ ان کے اس فتنے کے طور پر دیئے ہونے سے بہتر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

87:۔ ” اَجَلٌ مُّسَمًّی “ ،” کَلِمَةً “ پر معطوف ہے ” اَفَلَمْ یَھْدِ لَھُمْ “ کی تہدید کے بعد ان مکذبین پر فوراً عذاب نازل نہ کرنے کی حکمت بیان فرمائی کہ چونکہ اللہ تعالیٰ تاخیر عذاب کا فیصلہ کرچکا ہے۔ اور اس امت کے مکذبین پر عذاب استیصال نازل نہیں کیا جائے گا۔ جس سے وہ بیک وقت سارے کے سارے ہلاک ہوجائیں اور ان مکذبین کی عمریں بھی مقرر فرما چکا ہے اور موت اپنے وقت مقررہ سے پہلے نہیں آسکتی اس لیے ان کو فوری عذاب سے ہلاک نہیں کیا گیا۔ اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوتیں تو وہ لازمی طور پر عذاب سے ہلاک کردئیے جاتے۔ ای لولا العدۃ بتاخیر عذابھم والاجل المسمی لاعمارھم لما تاخر عذابھم اصلا (روح ج 16 ص 280) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

129 اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی اور ایک وقت کا تقرر اور تعین نہ ہوچکا ہوتاتو ان پر یقینی طور پر عذاب لازم ہوجاتا ۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ ان کی گرفت کے متعلق اگر ایک بات پہلے طے نہ کرچکا ہوتا اور ان کے عذاب کا وقت مقرر نہ فرماتا تو ان پر عذاب لازم ہوجاتا اور ان کا بھینٹا ہوچکا ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں آخر وعدے پر بھینٹا ہوا کافروں اور مسلمانوں میں۔ 12