Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 135

سورة طه

قُلۡ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اہۡتَدٰی ﴿۱۳۵﴾٪  17

Say, "Each [of us] is waiting; so wait. For you will know who are the companions of the sound path and who is guided."

کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو ۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راہ راست والے کون ہیں اور کون راہ یافتہ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ ... Say: "Say, O Muhammad, to those who deny you, oppose you and continue in their disbelief and obstinance." ... كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ ... Each one is waiting, among you and us; ... فَتَرَبَّصُوا ... so wait you too; This is a command to await (anticipate). ... فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ ... and you shall know who are they that are on As-Sirat As-Sawi. This means the straight road. ... وَمَنِ اهْتَدَى And who are they that have let themselves be guided. meaning guidance to the truth and the path of right guidance. This is similar to Allah's statement, وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلً And they will know, when they see the torment, who it is that is most astray from the path! (25:42) And Allah said, سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ Tomorrow they will come to know who is liar, the insolent one! (54:26) This is the end of the Tafsir of Surah Ta Ha, and all praise and gratitude is due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

135۔ 1 یعنی مسلمان اور کافر دونوں اس انتظار میں ہیں کہ دیکھو کفر غالب رہتا ہے یا اسلام غالب آتا ہے۔ 135۔ 2 اس کا علم تمہیں اس سے ہوجائے گا کہ اللہ کی مدد سے کامیاب اور سرخرو کون ہوتا ہے ؟ چناچہ یہ کامیابی مسلمانوں کے حصے میں آئی، جس سے واضح ہوگیا کہ اسلام ہی سیدھا راستہ اور اس کے حاملین ہی ہدایت یافتہ ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] یعنی اب تم بھی اور ہم بھی بلکہ سارے کا سارا عرب اس انتظام میں ہے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لہذا انتظار کرو۔ عنقریب سب کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون سا فریق سیدھی راہ پر گامزن ہے ؟ زمانہ کی گردش کس پر پڑتی ہے اور تباہ کون ہوتا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا ۔۔ : ” كُلٌّ“ کی تنوین اس کے محذوف مضاف الیہ کی جگہ آئی ہے، یعنی ” کُلُّ وَاحِدٍ “ ہر ایک، مطلب یہ ہے کہ اگر پہلی کتابوں میں موجود واضح دلائل تمہارے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کے لیے کافی نہیں اور تمہیں اپنی مرضی کی نشانی دیکھنے پر اصرار ہے تو تم ایمان لانے کے لیے نشانی کا انتظار کرتے رہو، ہم تمہارے لیے دنیا میں اللہ کی گرفت اور آخرت میں اس کے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں۔ جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور وہ کون ہے جس نے ہدایت پالی ہے ؟ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنے راہ حق پر ہونے کے یقین کا اظہار ہوتا ہے، کیونکہ اتنے دعوے سے یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جسے اپنے حق پر ہونے کا مکمل یقین ہو۔ فَتَرَبَّصُوْا : امر کے ساتھ اگر قرینہ بھی ہو تو وہ دوام کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ یہ ہے کہ انتظار اس وقت تک جاری رہنا ہے جب تک وہ چیز وجود میں نہ آئے جس کا انتظار ہے۔ انتظار کا یہ حکم وعید اور خبردار کرنے کے لیے ہے۔ اسے متارکہ کہتے ہیں، یعنی ہم نے تمہیں تمہاری انتظار کی حالت پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ ہمیں تمہارے برے انجام کا یقین ہے۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة سجدہ (٣٠) اور سورة توبہ (٥٢) تاریخ شاہد ہے کہ بہت جلد کفار کو مسلمانوں کا راہ راست پر ہونا معلوم ہوگیا۔ بدر کے دن ان کو جو اسلام نہیں لائے، مثلاً ابوجہل اور کفر و شرک کے دوسرے ہلاک ہونے والے سردار اور ان کو بھی جو مسلمان ہوگئے، مثلاً ابوسفیان اور خالد بن ولید (رض) اور ان سب کو جنھوں نے جزیرۂ عرب، شام، عراق، ایران، مصر اور پھر زمین کے مشرق و مغرب پر اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔ ” جلد ہی جان لو گے “ میں یہ بھی شامل ہے کہ بہت جلد قیامت کے دن تمہیں اس بات کا علم الیقین اور عین الیقین حاصل ہوجائے گا۔ کیونکہ ” کُلُّ آتٍ قَرِیْبٌ“ کہ آنے والی ہر چیز قریب ہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَ‌اطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَىٰ (Then you will know who are people of the straight path and who has guidance - 20:135.) It means that though everybody is free to claim merit for his own ways and his own actions, these claims are of no value, because the correct way is that only which finds favour with Allah, and on the Day of Resurrection everybody will be made aware as to who followed the path of error and who took the road to salvation. اللہُمَّ اھدنا لما اختلف فیہ الی الحَقَ باذنکَ ولاحَول ولا قُوَأۃَ الَّابِک ولا ملجأ مِنکَ الَّا اِلَیک Alhamdulillah The Commentary on Surah Ta-Ha Ends here.

فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاط السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدٰى، یعنی آج تو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو زبان دی ہوئی ہے ہر ایک اپنے طریقے اور اپنے عمل کے بہتر اور صحیح ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے لیکن یہ دعویٰ کچھ کام دینے والا نہیں۔ بہتر اور صحیح طریقہ تو وہی ہوسکتا ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول و صحیح ہو، اور اس کا پتہ قیامت کے روز سب کو لگ جائے گا کہ کون غلطی اور گمراہی پر تھا کون صحیح اور سیدھے راستہ پر، اللھم اھدنا لما اختلف فیھا الی الحق باذنک ولاحول ولاقوة الا بک ولا ملجا ولا منجا منک الا الیک۔ الحمد للہ الذی و فقنی لتکمیل سورة طہ ضحی یوم الخمیس، لاربعة عشر خلت من ذی الحجة الحرام 1390 ھ واللہ سبحانہ وتعالی اسال لتکمیل باقی القرآن واللہ المستعان وعلیہ التکلان

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا۝ ٠ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اہْتَدٰى۝ ١٣٥ۧ ربص التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] ، قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ، قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] ، وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوائِرَ [ التوبة/ 98] . ( ر ب ص ) التربص کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ خواہ وہ انتظار سامان تجارت کی گرانی یا ارزانی کا ہو یا کسی امر وا قع ہونے یا زائل ہونیکا انتظار ہو ۔ کسی چیز کا انتظار کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] عورتوں کو چاہئے کہ انتظار کریں ۔ قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ان سے کہو کہ ( بہت اچھا ) تم ( بھی ) انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] اے پیغمبر ان لوگوں سے کہو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ( خواہ نخواہ ) ایک نہ ایک کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمہارے حق میں انتظار کرتے ہیں ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٥) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرمادیجیے ہم میں سے اور تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی ہلاکت کا انتظار کر رہا ہے تو تھوڑا سا مزید انتظار کرلو۔ قیامت کے نزول عذاب کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ راہ راست پر کون ہیں اور ہم میں سے اور تم میں سے وہ کون ہے جسے دولت ایمان نصیب ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

117. That is, ever since the message of Islam is being presented in your city (Makkah), it is not only every person of this city who is waiting for its ultimate result but also every one outside it, who has heard of it.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :117 یعنی جب سے یہ دعوت تمہارے شہر میں اٹھی ہے ، نہ صرف اس شہر کا بلکہ گرد و پیش کے علاقے کا بھی ہر شخص انتظار کر رہا ہے کہ اس کا انجام آخر کار کیا ہوتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

59: یعنی دلیلیں اور حجتیں تو ساری تمام ہوچکیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا تم بھی انتظار کرو، اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب ہر شخص کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو کر واضح ہوجائے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣٥:۔ اسلام سے پہلے عرب میں شاعر بہت ہوتے تھے اور عرب کا یہ بھی ایک دستور تھا کہ ہجو کے ڈر سے شاعروں کے منہ پر ان کو برا نہیں کہتے تھے ‘ بلکہ جن شاعروں کو اپنا مخالف سمجھتے تھے ‘ ان پر گردش زمانہ سے کسی آفت کے آجانے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ قریش بھی اللہ کے رسول کو شاعر اور بتوں کی مذمت کی آیتوں کو شاعرانہ ہجو خیال کر کے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے حق میں کسی آفت کے آجانے کا انتظار کیا کرتے تھے ‘ اس لیے فرمایا اے اللہ کے رسول ان مشرکوں سے کہہ دیا جائے کہ ہم تمہارے انجام کا انتظار کرتے ہیں اور تم ہمارے انجام کے انتظار میں لگے رہو ‘ کچھ عرصہ کے بعد تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں راہ راست پر کون تھا اور ٹیڑھے رستہ پر کون ‘ اور دونوں جہان میں راہ راست پر قائم رہنے والوں کا انجام کیا ہوا اور جو راہ راست سے ہٹے ہوئے تھے ان کا انجام کیا ہوا ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ پہلا ظہور تو بدر کی لڑائی کے وقت ہوا جس کا قصہ انس بن مالک کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے کہ اہل مکہ میں کے بڑے بڑے بتوں کے حامی اور اسلام کے بد خواہ دنیا میں بڑی ذلت سے اس لڑائی میں مارے گئے اور مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ دوسرا ظہور اس وعدہ کا فتح مکہ کے وقت ہوا ‘ جس کا قصہ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی روایتوں سے کئی جگہ گزر چکا ہے ٢ ؎ کہ مشرکین مکہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر اللہ کے رسول کو شاعر اور بتوں کی مذمت کی آیتوں کو شاعرانہ ہجو کہا کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ سے ان بتوں کو یہ ذلت دلوائی کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر ان بتوں کو زمین پر ڈال دیا اور بتوں کی مذمت سے چڑنے والے مشرکوں میں سے کوئی بھی اتنا نہ رہا کہ ان بتوں کو اس ذلت سے بچاتا۔ ١ ؎ جس کا حوالہ ابھی صفحہ ١٨٣ پر گزرا۔ ٢ ؎ ملاخطہ ہو ص ٦٠ جلد ہذا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:135) متربص۔ اسم فاعل واحد مذکر تربص (تفعل) مصدر منتظر۔ راہ دیکھنے والا۔ مراد نتائج اعمال کا انتظار کرنے والا۔ فتربصوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم انتظار کرو۔ فستعلمون۔ س مستقبل قریب کے لئے تعلمون جمع مذکر حاضر۔ پس تم عنقریب ہی جان لو گے یعنی موت کے وقت یا حشر میں۔ الصراط السوی۔ موصوف وصفت۔ راہ مستقیم۔ السوی اسے کہتے ہیں کہ جو کیفیت اور مقدار دونوں کے لحاظ سے افراط و تفریط سے محفوظ ہو۔ اصحاب الصراط السوی۔ اصحاب مضاف الصراط السوی موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ سیدھے راستہ پر چلنے والے لوگ۔ اھتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے ہدایت اختیار کی۔ اھتداء (افتعال) سے مصدر ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 کہ کس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یوں اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس فقرے سے ہوا تھا کہ اے نبی آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ کسی مصیبت میں گھر جائیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ چناچہ سورة کا یہ خاتمہ بھی آغاز سے ہم آہنگ ہے کہ یہ ادنی تذکرہ ہے۔ اس شخص کے لئے جسے کوئی تذکرہ فائدہ دیتا ہو۔ جب یہ تذکرہ تم تک پہنچ گیا تو اب انتظار نتیجہ کے سوا کیا بات رہ جاتی ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

93:۔ یعنی آپ ان متمردین اور معاندین سے کہہ دیں کہ ہم اور تم سب ایک دوسرے انجام کے منتظر ہیں۔ تم انتظار تو کرو بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ پر کون ہے اور گمراہ کون ہے۔ سورة طہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ممن خلق الارض۔ تا۔ لہ الاسماء الحسنی۔ متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ 2 ۔ اننی انا اللہ۔ تا۔ اقم الصلوۃ لذکری۔ نفی شرک فی التصرف۔ 3 ۔ فالقہا فاذاھی حیۃ تسعی۔ تا۔ سنعیدھا سیرتھا الاولی۔ نفی علم غیب از موسیٰ (علیہ السلام) 4 ۔ قال ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ۔ تا۔ و منہا نخرجکم تارۃ اخری (رکوع 3) نفی شرک فی التصرف۔ 5 ۔ فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی۔ قلنا لا تخف (رکوع 3) ۔ نفی تصرف از موسیٰ علیہ السلام۔ 6 ۔ افلا یرون الا یرجع الیہم قولا ولا یملک لھم ضرا ولا نفعا (رکوع 4) نفی شرک فی التصرف۔ 7 ۔ انما الہکم اللہ۔ تا۔ وسع کل شیء علما (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 8 ۔ فتعالی اللہ الملک الحق (رکوع 6) معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے جو عظیم الشان شہنشاہ ہے۔ 9 ۔ دعوت توحید سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ہے اس لیے اس کی تبلیغ میں اگر کوئی تکلیف آجائے تو کوئی بڑی بات نہیں۔ 10 ۔ آخرت میں شفاعت صرف مومنوں کے حق میں ہوگی، مشرکوں کے حق میں شفاعت کرنے کی اجازت ہی نہیں ہوگی۔ 11 ۔ دعوت توحید کی تبلیغ و اشاعت میں ثابت قدم رہنا چاہیے اور عزم و استقلال میں ضعف نہ آنا چاہیے۔ 12 ۔ دولت دنیا کافروں کے حق میں فنتہ ہے۔ سورة طہ ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

135 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم اور ہم سب کے سب منتظر ہیں سو تم اور انتظار کرو اب عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور راہ یافتہ کون ہے۔ یعنی تم ہمارے انجام کے منتظر ہو اور ہم تہارے انجام کے منتظر ہیں لہٰذا چندے اور ٹھیر جائو اور انتظار کرلو مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور وہ کون ہے جو راہ یافتہ اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے یعنی مرنے کے بعد ہی یہ سب معلوم ہوجائے گا اور قیامت میں تو سب کچھ آشکارا ہی ہوگا۔