Surat Tahaa
Surah: 20
Verse: 20
سورة طه
فَاَلۡقٰہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسۡعٰی ﴿۲۰﴾
So he threw it down, and thereupon it was a snake, moving swiftly.
ڈالتے ہی وہ سانپ بن کر دوڑنے لگی ۔
فَاَلۡقٰہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسۡعٰی ﴿۲۰﴾
So he threw it down, and thereupon it was a snake, moving swiftly.
ڈالتے ہی وہ سانپ بن کر دوڑنے لگی ۔
He cast it down, and behold! It was a snake, moving quickly. This means that the stick changed into a huge snake, like a long python, and it moved with rapid movements. It moved as if it were the fastest type of small snake. Yet, it was in the form of the largest snake, while still having the fastest of movements. تَسْعَى (moving quickly), moving restlessly. Then Allah said,
فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَىٰ (And suddenly it was a snake running - 20:20): When Sayyidna Musa علیہ السلام in obedience to the command of Allah Ta` ala, cast down his staff it turned into a serpent. The Qur&an has described this serpent at one place as كَأَنَّهَا جَانٌّ (28:31). The word جَانٌّ means a small and slim snake. At another place it has been referred to as فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ (26:32). The word ثُعْبَانٌ means a long and thick snake. The word حَيَّةٌ occurring in this verse is a generic name used for snakes of all sizes and thickness. These different words can be reconciled by the fact that this serpent was slim and small in the beginning and grew later on in size and thickness. Or that this serpent was originally long and thick and has been called جَانٌّ - by reason of its fast speed because as a general rule big and thick snakes are slow moving. The word كَأَنَّهَا used in this verse, which means |"as if& also points to the fact that it has been compared to جَانٌّ on account of its swift movements. (Mazhari)
فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعٰي، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں جو عصا تھی بحکم ربانی اس کو ڈال دیا تو وہ سانپ بن گئی، اس سانپ کے بارے میں قرآن کریم کی آیات میں ایک جگہ تو یہ آیا ہے كَاَنَّهَا جَاۗنٌّ، جان عربی لغت میں چھوٹے اور پتلے سانپ کو کہتے ہیں۔ اور دوسری جگہ آیا ہے فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ، ثعبان کے معنے اژدھا اور بڑے موٹے سانپ کے ہیں، اور اس آیت میں جو لفظ حیة آیا ہے یہ عام ہے ہر چھوٹے بڑے اور پتلے موٹے سانپ کو حیہ کہا جاتا ہے۔ تطبیق ان آیات کی اس طرح ہو سکتی ہے کہ یہ سانپ شروع میں پتلا اور چھوٹا ہو پھر موٹا اور بڑا ہوگیا، یا یہ کہ سانپ تو بڑا اور اژدہا سرعت سیر کے اعتبار سے چھوٹے سانپ کی طرح تھا یعنی عام عادت کے خلاف کہ بڑے اژد ہے تیز نہیں چل سکتے یہ بڑی تیزی سے چلتا تھا اور آیت میں لفظ کانھا سے جو تشبیہ کے معنی میں ہے اس طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ جان سے اس کو تشبیہ ایک خاص وصف سرعت سیر میں دی گئی ہے۔ (مظہری)
فَاَلْقٰىہَا فَاِذَا ہِىَ حَيَّۃٌ تَسْعٰي ٢٠ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأكثر ما يستعمل السَّعْيُ في الأفعال المحمودة، قال الشاعر : 234- إن أجز علقمة بن سعد سعيه ... لا أجزه ببلاء يوم واحد «3» وقال تعالی: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] ، أي : أدرک ما سعی في طلبه، وخصّ المشي فيما بين الصّفا والمروة بالسعي، وخصّت السّعاية بالنمیمة، وبأخذ الصّدقة، وبکسب المکاتب لعتق رقبته، والمساعاة بالفجور، والمسعاة بطلب المکرمة، قال تعالی: وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] ، أي : اجتهدوا في أن يظهروا لنا عجزا فيما أنزلناه من الآیات . ( س ع ی ) السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ عدو ( سرپٹ دوڑ ) سے کم درجہ ( کی رفتار ) ہے ( مجازا ) کسی اچھے یا برے کام کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ۔ نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8]( بلکہ ) ان کا نور ( ایمان ) ان کے آگے ۔۔۔۔۔۔ چل رہا ہوگا ۔ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] اور ملک میں فساد کرنے کو ڈوڑتے بھریں ۔ وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں ( فتنہ انگریزی کرنے کے لئے ) دوڑتا پھرتا ہے ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی ۔ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے ۔ وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] تو اس کی کوشش رائگاں نی جائے گی لیکن اکثر طور پر سعی کا لفظ افعال محمود میں استعمال ہوتا ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) 228 ) ان جز علقمہ بن سیف سعیہ لا اجزہ ببلاء یوم واحد اگر میں علقمہ بن سیف کو اس کی مساعی کا بدلہ دوں تو ایک دن کے حسن کردار کا بدلہ نہیں دے سکتا اور قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] جب ان کے ساتھ دوڑ نے کی عمر کو پہنچا ۔ یعنی اس عمر کو پہنچ گیا کہ کام کاج میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے اور مناسب حج میں سعی کا لفظ صفا اور مردہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہوچکا ہے اور سعاد یۃ کے معنی خاص کر چغلی کھانے اور صد قہ وصول کرنے کے آتے ہیں اور مکاتب غلام کے اپنے آپ کو آزاد کردانے کے لئے مال کمائے پر بھی سعایۃ کا لفظ بولا جاتا ہے مسا عا ۃ کا لفظ فسق و محور اور مسعادۃ کا لفظ اچھے کاموں کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں اپنے زعم باطل میں ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی میں سعی کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے ہماری نازل کر آیات میں ہمارے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے پوری طاقت صرف کر دالی ۔
(20:20) حیۃ سانپ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے اس کی جمع حیات ہے۔ تسعی۔ سعی سے مضارع واحد مؤنث غائب وہ دوڑتی ہے۔ وہ کوشش کرتی ہے۔ فاذاھی حیۃ تسعی۔ پس اچانک وہ سانپ بن کر دوڑنے لگا۔