Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 30

سورة طه

ہٰرُوۡنَ اَخِی ﴿ۙ۳۰﴾

Aaron, my brother.

یعنی میرےبھائی ہارون ( علیہ السلام ) کو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And appoint for me a helper from my family, Harun, my brother. This was also a request from Musa concerning something not pertaining to himself. That was his request for the assistance of his brother, Harun. Ath-Thawri reported from Abu Sa`id, from Ikrimah, who said that Ibn Abbas said, "Harun was made a Prophet at the same moment that Musa was made a Prophet." Ibn Abi Hatim recorded that; A'ishah went out intending to perform Umrah and stopped to camp among some Bedouins. While she was among them she heard a man say, "Which brother in this life was the most beneficial to his brother!" The people said, "We do not know." The man said, "By Allah, I know." A'ishah said, "I said to myself about his swearing, that he should not swear such an oath, singling himself out as knowing what person was of most benefit to his brother." The man said, "It is Musa, when he asked for Prophethood to be bestowed upon his brother." Then A'ishah said, "By Allah, he has spoken truthfully." This is why Allah commended Musa by saying, وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهاً And he was honorable before Allah. (33:69) Concerning Musa's statement, اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sayyidna Harun (علیہ السلام) was three or four years senior to Sayyidna Musa علیہ السلام and died three years before the latter. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) petitioned to Allah Ta` ala for his appointment as Wazir he was in Egypt, and there he received, through an angel, information about his elevation to the status of a prophet and his appointment as an assistant to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . He was also instructed to receive Sayyidna Musa (علیہ السلام) outside Egypt when he arrived there in pursuance of his mission to persuade the Pharaoh to accept the true faith. This he did.

حضرت ہارون (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تین یا چار سال بڑے تھے، اور تین سال پہلے ہی وفات ہائی۔ جس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی وہ مصر میں تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا پر ان کو بھی نبی بنادیا تو بذریعہ فرشتہ ان کو بھی مصر ہی میں اس کی اطلاع مل گئی جب موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر میں فرعون کی تبلیغ کے لئے روانہ کیا گیا تو ان کو یہ ہدایت کردی گئی کہ وہ مصر سے باہر ان کا استقبال کریں اور ایسا ہی واقع ہوا۔ (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہٰرُوْنَ اَخِي۝ ٣٠ۙ هرن هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب . أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ (ہٰرُوْنَ اَخِی ) ” آپ ( علیہ السلام) نے اس وزارت کے لیے اپنے بھائی کا نام بھی خودہی تجویز کردیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16. Prophet Aaron was three years older than Prophet Moses (peace be upon them). (Exodus7:7).

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :16 بائیبل کی روایت کے مطابق حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے تین برس بڑے تھے ( خروج 7:7 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 مفسرین کی عام روایات کے مطابق حضرت ہارون عمر میں حضرت موسیٰ سے بڑے تھے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ معاون دے دیں تاکہ ان کی قوت اور فعالیت میں اضافہ ہو ‘ وہ ان کے لئے قوت کا باعث ہوں ‘ مشیر ہوں کیونکہ یہ مہم بہت ہی عظیم ہے۔ یہ مہم جسکے لئے وہ بھیجے جا رہے ہیں وہ ذکر کثیر اور تسبیح و ثنا کثیر کی محتاج ہے ‘ اس میں اللہ کے ساتھ مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ اس لئے انہوں نے شرح صدرنیسیر امر ‘ زبان کی گرہ کھولنے ‘ معاون اور بھائی کو وزیر مقرر کرنے کے مطالبے کیے۔ یہ سب درخواستیں ایسی نہ تھیں کہ وہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھائیں۔ بلکہ یہ چیزیں اس مہم کی تیاری کے مرحلے کے لئے ضروری تھیں۔ یہ چیزیں انہیں اور ان کے بھائی کو اس کام کے لئے تیار کر رہی تھیں۔ تسبیح کثیر ‘ ذکر کثیر ‘ علم کثیر ‘ اور زبان کی صفائی اور اللہ سے علوم کا اخذ ‘ یہ سب تیاری کے مراحل ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 وہ مددگار ہارون کو بنا دے جو میرا بھائی ہے۔