Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 4

سورة طه

تَنۡزِیۡلًا مِّمَّنۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ وَ السَّمٰوٰتِ الۡعُلٰی ؕ﴿۴﴾

A revelation from He who created the earth and highest heavens,

اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Revelation from Him (Allah) Who has created the earth and high heavens. means, `This Qur'an, which has come to you, O Muhammad, is a revelation from your Lord. He is the Lord of everything and its King. He is Most Able to do whatever He wills. He created the earth with its low depths and dense regions. He created the lofty heavens with their high altitudes and subtleties.' It has been reported in a Hadith, which At-Tirmidhi and others graded as authentic, that; the density of each sky of the heavens is the distance of five hundred years travel and the distance between it and the next heaven is also five hundred years. Concerning Allah's statement, الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

” َنْزِيْلًا “ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے جو ” مَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ “ سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی ” نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْآنُ تَنْزِیْلاً ۔ “ تنزیل کا معنی تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا ہے، اس کی حکمت کے لیے دیکھیے سورة فرقان کی آیت (٣٢) ” الْعُلٰى“ ” عُلْیَا “ کی جمع ہے جو ” أَعْلٰی “ کی مؤنث ہے، جیسے ” کُبْرٰی “ کی جمع ” کُبَرٌ“ ہے، یعنی یہ قرآن کسی جادوگر، کاہن، شاعر، شیطان، جن، انسان، فرشتے یا کسی بھی مخلوق کا کلام نہیں، بلکہ اس خالق کا نازل کردہ ہے جو صرف تمہارا ہی خالق نہیں بلکہ اس عظیم الشان زمین کا، جس کے اوپر اور ان بیحد بلند و بالا آسمانوں کا، جن کے نیچے تم رہتے ہو، سب کا خالق وہی ہے۔ دیکھیے سورة نازعات (٢٧ تا ٣٣) اس سے اس قرآن کی عظمت سمجھ لو کہ کیا یہ اپنے لانے والے یا اپنے ماننے والوں کے لیے کسی طرح بھی باعث شقاوت ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ یہ ان کے لیے سراسر سعادت ہی سعادت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ وَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہٗ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَۃِ ) ” بیشک یہ دین آسان ہے اور کوئی بھی شخص دین میں جب بھی بےجا سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آجائے گا۔ تو تم سیدھے چلو اور قریب رہو اور (اللہ سے ملنے والے اجر پر) خوش ہوجاؤ اور صبح و شام اور رات کے کچھ حصے (میں عبادت) کے ساتھ مددحاصل کرو۔ “ [ بخاري، الإیمان، باب الدین یسر : ٣٩، عن أبي ہریرہ (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

تَنْزِيْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰى۝ ٤ۭ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ علي العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعَليُّ : هو الرّفيع القدر من : عَلِيَ ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به في قوله : أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] ، إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] ، فمعناه : يعلو أن يحيط به وصف الواصفین بل علم العارفین . وعلی ذلك يقال : تَعَالَى، نحو : تَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ النمل/ 63] ( ع ل و ) العلو العلی کے معنی بلند اور بر تر کے ہیں یہ علی ( مکسر اللام سے مشتق ہے جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو جیسے : ۔ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] تو اس کے معنی ہوتے ہیں وہ ذات اس سے بلند وبالا تر ہے کوئی شخص اس کا وصف بیان کرسکے بلکہ عارفین کا علم بھی وہاں تک نہیں پہچ سکتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤) یہ اس ذات کا نازل کردہ اور اس کا کلام ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا اس طرح ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:4) تنزیلا۔ نزل ینزل کا بروزن تفعیل مصدر ہے بمعنی اتارنا۔ نازل کرنا یا بہ فعل مقدر نزل کا مفعول مطلق ہے ای نزل تنزیلا۔ العلی۔ کبری کے وزن پر العلیا (الاعلی کی تانیث ) کی جمع ہے۔ بلند، اونچا ، بلند و بالا۔ یہ سموت کی صفت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات کبریا نے یہ قرآن نازل کیا ہے اس کا تعارف۔ قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الرحمن عرش پر مستوی ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملکیت ہے۔ لہٰذا آپ اونچی آواز سے بات کریں یا آہستہ انداز میں دل ہی دل میں کہیں وہ خفیہ اور آہستہ سے آہستہ آواز کو سنتا ہی نہیں بلکہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور احساسات کو جانتا ہے۔ یہاں پہلے یہ بات سمجھائی ہے کہ اے پیغمبر آپ کفار کے ظلم اور تسلّط کے بارے میں یہ نہ سوچیں کہ یہ ہمیشہ رہے گا۔ ہرگز نہیں کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یہاں تک کہ جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب کا سب اسی مالک کی ملک اور اس کے تابع فرمان ہیں اسی نے یہ قرآن نازل کیا ہے۔ لہٰذا نہ آپ کے مخالفین کی کوئی بات اور ظلم اس سے پوشیدہ ہے اور نہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کی آہ زاریاں تمہارے رب سے اوجھل ہیں۔ عنقریب وقت آنے والا ہے۔ جب کفار کی گردنیں نیچی ہونگی اور ظلم کی چکی میں پسنے والے مظلوم سربلند ہوں گے۔ یہاں ذات کبریا نے اپنا نام الرحمن لاکر آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ اپنا کام کرتے جائیں آپ کا رب الرحمن ہے۔ وہ ضرور آپ پر رحم و کرم فرمائے گا۔ آپ کی دعائیں مستجاب اور آپ کی محنتیں ثمر آور ہوں گی۔ وہ عرش پر جلوہ گر ہے۔ جس طرح اس کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر جلوہ نما ہونے کے بارے میں بحث کرنا کہ رب ذوالجلال کس حالت اور کس انداز میں جلوہ نما ہے ہمارا کام نہیں۔ ایسی سوچ پیدا ہونے پر لاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃً اِلَّا باللّٰہِ پڑھنا چاہیے۔ آسمانوں کی بلندی کا ذکر فرما کر اشارہ دیا کہ عنقریب سرفرازی اور بلندی آپ اور آپ کے ساتھیوں کو نصیب ہوگی اور کفار کے لیے پستی ہوگی۔ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ہُرَیْرَۃَ قَالَ اِنِّیْ کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذْجَاءَ ہٗ قَوْمٌ مِّنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ فَقَالَ اقْبَلُوْاالْبُشْرٰی یَا بَنِیْ تَمِیْمٍ قَالُوْا بَشَّرْتَنَا فَاَعْطِنَا فَدَخَلَ نَاسٌ مِّنْ اَھْلِ الْیََمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوْا الْبُشْرٰی یَا اَھْلَ الْیَمَنِ اِذْ لَمْ یَقْبَلْھَا بَنُوْ تَمِیْمٍ قَالُوْا قَبِلْنَاجِءْنَاکَ لِنَتَفَقَّہَ فِیْ الدِّیْنِ وَلِنَسْاَلَکَ عَنْ اَوَّلِ ھٰذَا الْاَمْرِ مَا کَانَ قَالَ کَان اللّٰہُ وَلَمْ یَکُنْ شَیْءٌ قَبْلَہٗ وَکَانْ عَرْشُہٗ عَلْی الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَکَتَبَ فِیْ الذِّکْرِ کُلَّ شَیْءٍ ثُمَّ اَتَانِیْ رَجُلٌ فَقَالَ یَاعِمْرَانُ اَدْرِکْ نَاقَََتَکََ فَقَدْ ذَھَبَتْ فَانْطَلَقْتُ اَطْلُبُھَا وَاَیْمُ اللّٰہِ لَوَدِدْتُّ اَنَّھَا قَدْ ذَھَبَتْ وَلَمْ اَقُمْ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ )] ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا جب آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا ‘ اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو انہوں نے کہا آپ نے ہمیں خوشخبری تو دے دی ‘ ہمیں کچھ عطا بھی کریں۔ ان کے بعد اہل یمن کے کچھ لوگ آئے آپ نے فرمایا کہ اے اہل یمن ! خوشخبری قبول کرو ‘ آپ سے پہلے بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہم قبول کرتے ہیں آپ کی خدمت میں ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ ہم دین کی سمجھ حاصل کریں اور ہم آپ سے کائنات کی ابتداء کے بارے میں پوچھنا چاہیں گے کہ سب سے پہلے کیا چیز تھی ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تھا ‘ اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اس کا عرش پانی پر تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا۔ پھر لوح محفوظ میں تمام امور لکھے۔ عمران (رض) کہتے ہیں اتنے میں ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا، اے عمران ! اپنی اونٹنی کا پتا کرو وہ بھاگ گئی ہے میں اسے ڈھونڈنے لگا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے یہ پسند تھا کہ اونٹنی بیشک چلی جاتی ‘ لیکن میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھتا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ عرش پر جلوہ نما ہے جس طرح اس کی شان ہے۔ ٢۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کی ملکیت ہے۔ ٣۔ انسان کوئی بات دل میں کہے یا اس کا اظہار کرے اللہ تعالیٰ ہر بات سے باخبر رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ ہر بات اور چیز کو جانتا ہے : ١۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : ٧٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ظاہر اور پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔ (الانعام : ٣) ٣۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ سرگوشیوں کو بھی جانتا ہے۔ (التوبۃ : ٧٨) ٤۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : ١٩) ٥۔ اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور آہستہ کہی ہوئی بات جانتا ہے۔ (طٰہٰ : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰی) (یہ قرآن اس ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا) (اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) (رحمن عرش پر مستوی ہوا) استوی علی العرش کے بارے میں سورة اعراف کی آیت (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ) (ع ٨) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ (انوار البیان ص ٤٤٠ ج ٣) آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو ماتحت الثریٰ ہے اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے (لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰی) (اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو تحت الثری ہے) اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کا خالق اور مالک ہے علوی اور سفلی جہت میں جو کچھ ہے وہ اسی کی مخلوق اور مملوک ہے اور ساتویں زمین کے نیچے جو کچھ ہے وہ بھی اسی کا ہے۔ ثری نمناک یعنی تر مٹی کو کہتے ہیں صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کا مطلب بتاتے ہوئے فرمایا ما تحت الارض السابعۃ یعنی ساتویں زمین کے نیچے جو کچھ ہے وہ اسے بھی جانتا ہے۔ زمینوں کے سات ہونے کی تصریح احادیث میں وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا فرمانا اسی کے مطابق ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایک بالشت کے برابر بھی ظلم کر کے زمین کا کچھ حصہ لیا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں ساتوں زمینوں کا طوق ڈال دیا جائے گا۔ بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جس نے ناحق زمین کا کچھ حصہ لے لیا تو قیامت کے دن اسے ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔ مسند احمد میں یوں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی شخص نے ظلم کر کے بالشت بھر زمین کا کوئی حصہ لے لیا اللہ تعالیٰ اسے مجبور کرے گا کہ وہ کھودے یہاں تک کہ ساتویں زمین کے آخر تک کھودتا جائے۔ پھر اسے قیامت کا دن ختم ہونے تک اس کے گلے میں طوق ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلے ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٥٦)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ یہ پہلی آیت توحید ہے۔ یہاں دو دعوے مذکور ہیں۔ پہلا یہ کہ ساری کائنات میں متصرف و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسرا یہ کہ عالم الغیب بھی صرف وہی ہے۔ لہذا غائبانہ حاجات میں اسی کو پکارو۔ ” تَنْزِیلًا “ نُزِّلَ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ” اَلرَّحْمٰنُ عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰي “ زمین و آسمان کو اسی نے پیدا کیا اور تخت شاہی پر بھی وہ خود ہی متمکن ہے۔ تمام کائنات عالم اسی کے تصرف وا ختیار میں ہے اور اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا۔ استواء علی العرش حکومت و سلطنت سے کنایہ ہے۔ جعلوہ کنایۃ عن الملک وقالوا استوی فلان علی العرش ای ملک (مدارک ج 3 ص 38) استواء علی العرش کی مفصل تحقیق سورة اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ ملاحظہ حاشیہ نمبر 63 ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4 یہ قرآن کریم اس ذات اقدس کی جانب سے اتارا گیا ہے جس نے زمین کو اور اونچے اونچے اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ یعنی جو زمین اور بلند آسمانوں کا خلاق ومالک ہے اسی کی جانب سے یہ کلام نازل کیا گیا ہے اور یہ اسی کا کلام ہے۔