Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 40

سورة طه

اِذۡ تَمۡشِیۡۤ اُخۡتُکَ فَتَقُوۡلُ ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی مَنۡ یَّکۡفُلُہٗ ؕ فَرَجَعۡنٰکَ اِلٰۤی اُمِّکَ کَیۡ تَقَرَّ عَیۡنُہَا وَ لَا تَحۡزَنَ ۬ ؕ وَ قَتَلۡتَ نَفۡسًا فَنَجَّیۡنٰکَ مِنَ الۡغَمِّ وَ فَتَنّٰکَ فُتُوۡنًا ۬ ۟ فَلَبِثۡتَ سِنِیۡنَ فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ ۬ ۙ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوۡسٰی ﴿۴۰﴾

[And We favored you] when your sister went and said, 'Shall I direct you to someone who will be responsible for him?' So We restored you to your mother that she might be content and not grieve. And you killed someone, but We saved you from retaliation and tried you with a [severe] trial. And you remained [some] years among the people of Madyan. Then you came [here] at the decreed time, O Moses.

۔ ( یاد کر ) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں بتادوں جو اس کی نگہبانی کرے اس تدبیر سے ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو ، اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا اس پر بھی ہم نے تجھےغم سے بچا لیا ، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا ۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے موسٰی! تو آیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Concerning Allah's statement, إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَن يَكْفُلُهُ فَرَجَعْنَاكَ إِلَى أُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا ... When your sister went and said: `Shall I show you one who will nurse him!' So We restored you to your mother, that she might cool her eyes. When he was accepted into the house of Fir`awn, women were brought in attempts to find someone who might be able to nurse him. But he refused to breast feed from any of them. Allah, the Exalted, says, وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ And We had already forbidden (other) foster suckling mothers for him. (28:12) Then, his sister came and said, هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَـصِحُونَ Shall I direct you to a household who will rear him for you, and look after him in a good manner. (28:12) She meant, "Shall I guide you to someone who can nurse him for you for a fee." So she took him and they went with her to his real mother. When her breast was presented to him, he took it and they (Fir`awn's family) were extremely happy for this. Thus, they hired her to nurse him and she achieved great happiness and comfort because of him, in this life and even more so in the Hereafter. Allah, the Exalted, says here, ... فَرَجَعْنَاكَ إِلَى أُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلاَ تَحْزَنَ ... So We restored you to your mother, that she might cool her eyes and she should not grieve. This means that she should not grieve over you. ... وَقَتَلْتَ نَفْسًا ... Then you killed man, This means that he killed a Coptic person (the people of Egypt, Fir`awn's people). ... فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ ... but We saved you from great distress, This is what he was feeling due to Fir`awn's family intending to kill him. So he fled from them until he came to the water of the people of Madyan. This is when the righteous man said to him, لااَ تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّـلِمِينَ Fear you not. You have escaped from the people who are wrongdoers. (28:25) Choosing Musa to go to Fir`awn and to be Soft and Gentle in His Invitation Then Allah says, ... وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِي أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِيْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى ... Then you stayed a number of years with the people of Madyan. Then you came here according to the fixed term which I ordained (for you), O Musa! Allah, the Exalted, says in His address to Musa that he had lived among the people of Madyan, avoiding Fir`awn and his chiefs. He worked as a shepherd for his father-in-law until the appointed time for his work ended. Then he met the decree of Allah and His predetermined will, without him having any set appointment. This entire situation was under the control of Allah, Blessed be He, the Most High. He compels His servants and His creatures to whatever end He wills. This is why Allah says, ثُمَّ جِيْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى (Then You came here according to the fixed term which I ordained (for you), O Musa!), Mujahid said, "For a set appointment." Abdur-Razzaq recorded that Ma`mar reported from Qatadah that he said, ثُمَّ جِيْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى (Then You came here according to the fixed term which I ordained (for you), O Musa!), "For the decree of Messengership and Prophethood."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 یہ اس وقت ہوا، جب ماں نے تابوت دریا میں پھینک دیا تو بیٹی سے کہا، ذرا دیکھتی رہو، یہ کہاں کنارے لگتا ہے اور اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے ؟ جب اللہ کی مشیت سے موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے محل میں پہنچ گئے، شیرخوارگی کا عالم تھا، چناچہ دودھ پلانے والی عورتوں اور آیاؤں کو بلایا گیا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کسی کا دودھ نہ پیتے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن خاموشی سے سارا منظر دیکھ رہی تھی، بالآخر اس نے کہا میں تمہیں ایسی عورت بتاتی ہوں جو تمہاری یہ مشکل دور کر دے گی، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، چناچہ وہ اپنی ماں کو، جو موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی ماں تھی، بلا لائی، جب ماں نے بیٹے کو چھاتی سے لگایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی تدبیر و مشیت سے غٹا غٹ دودھ پینا شروع کردیا۔ 40۔ 2 یہ ایک دوسرے احسان کا ذکر ہے، جب موسیٰ (علیہ السلام) سے غیر ارادی طور پر ایک فرعونی کو صرف گھونسہ مارنے سے مرگیا، جس کا ذکر سورة قصص میں آئے گا 40۔ 3 فتون دخول اور خروج کی طرح مصدر ہے یعنی ابتلیناک ابتلاء یعنی ہم نے تجھے خوب آزمایا۔ یا یہ جمع ہے فتنہ کی جیسے حجرۃ کی حجور اور بدرۃ کی بدور کی جمع ہے یعنی ہم نے تجھے کئی مرتبہ یا بار بار آزمایا یا آزمائشوں سے نکالا مثلا جو سال بچوں کے قتل کا تھا تجھے پیدا کیا تیری ماں نے تجھے سمندر کی موجوں کے سپرد کردیا تمام دایاؤں کا دودھ تجھ پر حرام کردیا تو نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی تھی جس پر اس نے تیرے قتل کا ارادہ کرلیا تھا تیرے ہاتھوں قبطی کا قتل ہوگیا وغیرہ ان تمام مواقع آزمائش میں ہم ہی تیری مدد اور چارہ سازی کرتے رہے۔ 40۔ 4 یعنی فرعونی کے غیر ارادی قتل کے بعد تو یہاں سے نکل کر مدین چلا گیا اور وہاں کئی سال رہا۔ 40۔ 5 یعنی ایسے وقت میں تو آیا جو وقت میں نے اپنے فیصلے اور تقدیر میں تجھ سے ہم کلامی اور نبوت کے لئے لکھا ہوا تھا یا قَدَرٍ سے مراد، عمر ہے یعنی عمر کے اس مرحلے میں آیا جو نبوت کے لئے موزوں ہے۔ یعنی چالیس سال کی عمر میں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] تابوت کا فرعون کے سامنے پیش کیا جائے :۔ تابوت کو دریا کی موجوں کے حوالے کرنے تک کا کام تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے سرانجام دیا۔ اس سے بعد کے سب کام اللہ تعالیٰ کے اپنے کارنامے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر احسانات ہیں۔ دریا کی موجوں نے تابوت کو دریائے نیل کی اس شاخ کے رخ دھکیل دیا۔ جس پر فرعون کا محل واقع تھا۔ اس مقام پر ایک لہر اٹھی۔ جس نے اس تابوت کو ساحل پر فرعون کے محل کے پاس پھینک دیا۔ پھر اتفاق کی بات کہ یہ تابوت فرعون کے سامنے پیش کیا گیا جو اے موسیٰ ! میرا بھی دشمن تھا اور تمہاری بھی دشمن تھا۔ تو میرا اس لحاظ سے کہ وہ میرا نافرمان تھا اور میرے مقابلہ پر اپنی خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا اور تمہارا اس لئے کہ وہ تمہیں جان سے ہی ختم کردینا چاہتا تھا۔ پھر میں نے تمہاری ایسی پیاری صورت بنادی تھی کہ جو بھی تمہیں دیکھتا تمہیں پیار کرنے لگتا تھا اور اس کا دل تمہاری محبت سے بھر جاتا تھا۔ یہی بات تمہاری زندگی کا ذریعہ بن گئی اور یہ سب کچھ میری نگرانی میں اور میرے ارادہ سے ہو رہا تھا۔ [٢٤] فرعون کے ہاں موسیٰ کی تربیت :۔ پھر تمہاری تربیت کا یہ سامان کیا۔ کہ جب تمہاری والدہ نے تابوت کو دریا کے حوالے کیا تو اس نے اپنی بیٹی یعنی تمہاری بہن کو یہ تاکید کردی تھی کہ دریا کے بہاؤ کے ساتھ چلتی جائے۔ اور اس تابوت کی نگرانی کرتی رہے کہ اس تابوت کا کیا انجام ہوتا ہے۔ تاآنکہ اسے پتہ چل گیا کہ تم فرعون کے گھر میں پہنچ گئے ہو۔ ایسا پیارا بچہ دیکھ کر فرعون کی بیوی آسیہ نے اپنے خاوند سے کہا کہ ہمارے ہاں اولاد نہیں، کیوں نہ ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنالیں۔ بالأخر اس نے اپنے خاوند فرعون کو اس بات کا قائل کرلیا۔ اب سوال یہ تھا کہ کون سی اناپریا دائی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلائے۔ جو بھی انا لائی جاتی سیدنا موسیٰ اس کا دودھ پینے سے ایا کراہتے تھے۔ بڑا ٹیڑھا مسئلہ بن گیا تھا۔ جب یہ بات عام ہوئی تو سیدنا موسیٰ کی بہن نے وہاں حاضر ہو کر کہا۔ میں تمہیں ایک ایا کی نشاندہی کرتی ہوں مجھے امید ہے کہ یہ بچہ اس کا دودھ ضرور پی لے گا۔ چناچہ موسیٰ کی بہن نے اپنی ماں کا اتا پتا بتلایا۔ اسے بتلایا گیا۔ تو بچہ فی الواقع اس کا دودہ پینے لگا۔ پھر فرعون اور اس کی بیوی نے یہ بچھ سیدنا موسیٰ کی ماں کے ہی حوالہ کردیا اور اس کی سرکاری خزانہ سے تنخواہ بھی مقرر کردی گئی۔ اور اسے بچہ سمیت واپس اپنے گھر بھیج دیا گیا۔ اس طرح اے موسیٰ ! ہم نے حیرت انگیز طریقے سے تمہاری پرورش کا بندوبست کردیا۔ تم خود بھی اپنی ماں کے پاس پہنچ گئے۔ تربیت بھی ہونے لگی اور تمہاری ماں کی آنکھیں بھی ٹھنڈی رہیں۔ اس طرح ہم نے تمہیں موت کے منہ سے بچایا اور بچپن میں تمہاری تربیت کا انتظام اسی فرعون کے ہاتھوں کروایا جو تمہاری ہی جان کے درپے تھا۔ [٢٥] سیدنا موسیٰ کے ہاتھوں ایک قبطی کا مرجانا :۔ اس واقعہ کی تفصیل تو سورة قصص میں آئے گی۔ اجمال یہ ہے کہ سیدنا موسیٰ کے ہاتھوں ایک قبطی (فرعونی) نادانستہ طور پر مارا گیا تھا۔ آپ نے اسے صرف مکہ مارا تھا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ تو ہم نے تمہیں مدین کی راہ دکھائی اور اس کے نتیجہ میں جو تمہیں سزا کے طور پر اپی موت کا خطرہ تھا اس سے نجات دی۔ اس کے بعد بھی تم پر کئی آزمائشوں کے دوار آئے۔ جن میں ہم تمہاری مدد کرتے رہے۔ [٢٦] تقدیر کے مطابق اسباب ضرور بنتے چلے جاتے ہیں :۔ تم مدین پہنچے تو بالکل ایک اجنبی مسافر تھے۔ پھر ہم نے تمہارے لئے ایسے سامان مہیا کردیئے کہ تم مدین میں شعیب (علیہ السلام) کے پاس باعزت طور پر رہنے لگے۔ سالہا سال ان کی بکریاں چرائیں۔ اس سے بھی تمہاری تربیت مقصود تھی۔ پھر شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی سے تمہارا نکاح ہوا تو تمہاری یہ ضرورت بھی پوری ہوگئی۔ پھر مدین میں معینہ مدت گزارنے کے بعد تمہیں اپنے وطن واپس جانے کا خیال آیا۔ سردیوں کیطویل اور اندھیری رات میں تم بال بچوں سمیت سفر کر رہے تھے تو راستہ بھول گئے۔ اور اب تم آگ دیکھ کر ادھر آگئے ہو تو راستہ کا اتا پتا معلوم کرو۔ اور اپنے گھروالوں کے لئے کچھ آگ کے انگارے لے جاؤ تو یہ سب کچھ اتفاقا ً ہی نہیں ہوگیا۔ بلکہ تم ٹھیک ہماری مشیت اور اندازہ کے مطابق یہاں پہنچے ہو۔ ہمیں تم کو یہاں اسوقت اور اس حال میں لانا مقصود تھا تو تمہارے لئے حالات ہی ایسے پیدا کردیئے کہ تم از خود یہاں پہنچ گئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

” اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ “ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (١١ تا ١٣) اور ” وَقَتَلْتَ نَفْسًا “ سے آخر آیت تک کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (١٤ تا ٢٨) ۔ وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا : ” فُتُوْنًا “ ” فَتَنَ یَفْتِنُ “ کا مصدر ہے، جیسا کہ ” قُعُوْدٌ“ اور ” خُرُوْجٌ“ وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ” اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔ “ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بےسروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت کا سامان تھا۔ حافظ ابن کثیر نے ایک لمبی حدیث ” حدیث فتون “ مکمل ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے۔ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰي قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى : یعنی تمہارا راہ بھول کر وادی طویٰ میں آنا اور میرے ساتھ کلام اور نبوت و رسالت سے سرفراز ہونا، کسی طے شدہ منصوبے کے بغیر اور اچانک نہیں تھا، بلکہ عین میرے مقرر کردہ وقت اور فیصلے کے مطابق تھا۔ اگرچہ ہر کام ہی اللہ کی تقدیر سے ہے، مگر اس ” قَدَرٍ “ سے مراد خاص طور پر طے کرنا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا : (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ ) ” صَنَعَ یَصْنَعُ “ کا معنی بنانا ہے، ” اِصْطَنَعَ “ باب افتعال سے ہے، صاد کی مناسبت سے تاء کو طاء سے بدل دیا اور حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے کام یعنی رسالت و نبوت کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ تمام احسانات کا خلاصہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ (When your sister was going - 20:40). The story of the sister of Sayyidna Musa (علیہ السلام) following the box along the river and the subsequent events are alluded to in this verse, which ends with the words وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا (We tested you with a great ordeal - 20:40). According to Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) these words mean |"We tried you repeatedly|", while Dahhak (رح) has translated them as |"We subjected you to severe trials|". Full details of this story have been given in a long Hadith reported by Imam an-Nisa&i (رح) in his book on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہما . This story is as follows: Detailed Story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) In Kitab-ut-Tafsir of his Sunan, Imam Nisa&i رحمۃ اللہ علیہ has reported a long Hadith known as (حدیث الفتون) (Hadith-ul-Futun) on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) . Ibn Kathir has also reproduced the whole of it in his commentary and then has added that Sayyidna Ibn &Abbas (رض) thought that it was مَرفُوع (Marfu& ), in other words, it was a statement of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Ibn Kathfr has confirmed this view with the words: وَ صَدَقَ ذٰلِکَ ؟ عِندِی (I too believe that this Hadith is مَرفُوع ), and also gave reason in support of his opinion. However, he has admitted that the version of this story given by Ibn Jabir and Ibn Abi Haim رحمۃ اللہ علیہم is the statement of Ibn ` Abbas (رض) ، and not of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while it contains some parts which were stated by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It appears that Ibn ` Abbas (رض) has learnt this story from Ka&b al-Ahbar as has happened in many other cases. Be that as it may, the critics like Imam Nasai and Ibn Kathir رحمۃ اللہ علیہما hold it to be marfu& (statement of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) and even those who do not accept it as such have never challenged its contents, while a major part of this story is also mentioned in the Holy Qur&an itself. Therefore, we would like to give full translation of this Hadith which has many beneficial points having academic and practical value. Imam Nisa&i (رح) has related this story which he learnt from Sa&id bin Jubair (رض) that he (Sa&id Ibn Jubair ) asked Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas (رض) to explain to him the meaning of the expression وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا ، specially the word فُتُونًا which occurs in the verse relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Ibn ` Abbas (رض) said it was a long story which he would tell him (Said Ibn Jubair) if he comes to him early the next morning. This he did and Ibn ` Abbas& (رض) told him the story which runs as follows: One day the Pharaoh and his companions were talking about Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and the promise which Allah Ta’ ala had made to him to raise prophets and Kings from his progeny. Some of those present said that the Bani Isra&il were indeed expecting the birth of a prophet in their community and were in no doubt that Allah Ta’ ala&s promise would be fulfilled. In the beginning they thought that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was the prophet promised by Allah Ta’ ala but when he died they said he was not the prophet promised to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and that there must surely come another prophet whose arrival would fulfill Allah Ta` ala&s promise. This information upset the Pharaoh who feared that if ever a prophet was born in the Isra&ili community, whom he held in bondage, he (the prophet) would try to liberate them from their servitude. He, therefore, asked his friends to advise him how such a catastrophe could be avoided. After much deliberation they came to the unanimous conclusion that the only way to meet this contingency was to put to death every male child born in an Isra&ili family. In pursuance of this decision, armed soldiers were sent out with orders to search every Isra&ili house and kill all male children. This bloodshed continued for some time but then the Egyptians realized that all their work was done and arduous duties performed by the Bani Isra&il and if the process of killing their male children continued then a time would come when, their old men having died a natural death, no young men would be left to serve them, and they themselves would have to perform all the hard and toilsome work. In order to overcome this problem they came up with another proposal according to which all male children born in one year should be put to death while all those born in the following year should be spared. Such a device would ensure the availability of a continuous supply of labour force of young Isra&ilis who could replace the older men, yet at the same time their number would not be large enough to pose a threat to the Pharaoh&s authority. Everybody approved of this proposal and a law was passed for its implementation. (And now the wisdom and power of Allah Ta` ala demonstrated itself in the following way). Sayyidna Musa&s mother gave birth to Sayyidna Harun (علیہ السلام) in the year when, according to the law of the Pharaoh, male Isra&ili children were spared and there was no danger to his life. But when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was conceived, his birth was expected in the year when the Pharaoh&s decree required that all male Isra&ili children be put to death. His mother was, therefore, greatly distressed at the thought of losing her son after its birth. Here Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) عنہما paused in his story and said, |"0 Ibn Jubair! This was the first test (فتُون) to which Sayyidna Musa (علیہ السلام) was put in that his life was at risk even before he was born.|" Then Allah Ta` ala, by means of وَحی الھام (Divine inspiration) told the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) to set her mind at rest. لَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَ‌ادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ Do not fear and do not grieve, surely We are going to bring him back to you and appoint him one of (Our) messengers - 28:7. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) was born Allah Ta` ala commanded his mother to put him in a box and float him down the river Nile, which she did. After she had completed this task the Shaitan tried to perplex her with the suggestion that she had made a mistake by floating her son down the river because even if he had been put to death by the order of the Pharaoh she would at least have had the satisfaction of burying him with her own hands. Now there is no hope for him and he would probably be eaten up by the river animals. While the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was greatly worried at what the Shaitan had told her, the waves cast the box upon a rock where the Pharaoh&s slave girls used to come for bathing and washing. When they saw the box they wanted to open it, but one of them said that if the box contained some valuable articles and they opened it, then the Pharaoh&s wife would suspect that they had kept back some of these for themselves and nothing that they could say would satisfy her. Accordingly, they brought the box unopened to the Pharaoh&s wife. When the Pharaoh&s wife opened the box she found a boy and she instinctively felt a sudden surge of love for him - something which she had never experienced before. This was just as Allah Ta` ala had told him (وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي : And I have cast love on you from Myself). On the other hand, the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) in a state of puzzle caused by the Shaitan forgot the promise made to her by Allah Ta` ala and was so overwhelmed by grief that all happiness forsook her heart leaving it an empty shell. وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَارِ‌غًا (And the heart of the mother of Musa became restless - 28:10). At the same time the Pharaoh&s soldiers learnt about the presence of an Isra&ili boy in the palace and they rushed with knives in their hands, and asked the Pharaoh&s wife to surrender the boy so that they could put him to death. Here Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) paused again and said, |"0 Ibn Jubair! This was the second test (فُتُون) to which Sayyidna Musa (علیہ السلام) was exposed.|" The Pharaoh&s wife remonstrated with the soldiers. |"What?|" She said, |"Do you think this small and frail baby, if allowed to live, can ever increase the strength of Bani Isra&il? You wait here and I will go to the Pharaoh and plead for his life. I hope the Pharaoh will spare his life. If not, then I will not stand in your way and you can take him.|" Saying so, she went to the Pharaoh and said to him, |"This child is the joy of my heart and yours also.|" The Pharaoh replied, |"Yes, I know that he is the joy of your heart, but as for me, I do not need him.|" At this point of the story Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) quoted the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying, I swear by Allah that if on that occasion the Pharaoh had also admitted to Sayyidna Musa (علیہ السلام) being the joy of his heart, as his wife did, Allah Ta’ ala would have guided him along the path of the True Faith as He guided his wife.|" (However, on account of his wife&s urgent pleas the Pharaoh spared the life of the child). Now she needed a woman to nurse him. Many women offered their services but he would not suck from any of them وَحَرَّ‌مْنَا عَلَيْهِ الْمَرَ‌اضِعَ مِن قَبْلُ (And We had already barred him (Musa) from (accepting) any suckling woman - 28:12). The Pharaoh&s wife was in a real predicament. How will the child live if he was not nursed? She sent him with her servants to the market place to find any woman whose milk he would draw. While these events were taking place in the Pharaoh&s palace, the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was concerned by anguish at the fate of her son. She asked her daughter to go out and make inquiries about the box and the child that whether he was still alive or was he eaten up by the river animals. The promise which Allah had made to her when she was pregnant that he would protect her child and return him to her after a brief separation had completely escaped her memory. And then a miracle happened. As soon as the sister of Sayyidna Musa (علیہ السلام) came to the market place she met the Pharaoh&s female servants who held Sayyidna Musa (علیہ السلام) in their arms and were looking for a woman who could nurse him. She also noticed that the child would not accept milk from any woman which caused them great anxiety and distress. So she said to them, |"I can take you to a family where there is a woman whose milk, I hope, the child will accept and who will bring him up with great love and affection.|" Thereupon the servants held her on the suspicion that she was, perhaps, the mother or a close relation of the child and for that reason spoke with such a confidence that the proposed family is well-wisher of and sympathetic to this child. Here Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) stopped and told Ibn Jubair (رض) that this was the third test (فُتُون) (for the sister of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was naturally frightened at being held like that but she kept her pose and told the servants that when she said that the family would love the child and serve him with devotion what she meant was that they would do so in the hope of getting access to the Pharaoh&s court and thus obtaining some material benefit for themselves. This explanation satisfied the servants and they released her. She hurried back home and informed her mother of what had happened. Then both of them went to the market place where the servants stood with the baby. The mother took him in her arms and put him to her breast, and he sucked greedily until he was satiated. The Pharaoh&s wife was overjoyed when she was informed that at last a woman had been found whose milk the child would take and ordered her to be brought to her. On arrival the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) sensed that the Pharaoh&s wife needed her and her services badly. At the same time she remembered Allah&s promise to her that her son would be re-united to her after a brief separation. So she decided that she would offer her services on her own terms. The Pharaoh&s wife told her that she was extremely fond of the child and could not bear parting from him for a moment. Therefore she should come and live in the palace and nurse the child. But Sayyidna Musa&s (علیہ السلام) mother declined to do so. She said she had a child of her own who too had to be nursed and fed and therefore it was not possible for her to leave her home. However, if the child was entrusted to her care she would keep him with her and nurse him. She assured the Pharaoh&s wife that if she agreed to her proposal no effort shall be wanting on her part to give him the best care and attention. There was no choice for the Pharaoh&s wife and she accepted this arrangement. Thus the child was, re-united to his mother and Allah&s promise to her was fulfilled. After some time when Sayyidna Musa (علیہ السلام) grew comparatively stronger, the Pharaoh&s wife asked the mother of Musa (علیہ السلام) to bring the child to her so that she may see him (as she was longing for him). She also told all the courtiers that the child was coming to their home and they must show him due respect and offer him gifts. She warned them that she would watch what they would do with the child. So when Musa (علیہ السلام) came out with his mother from her home, he was showered with gifts and presents right from that moment. The Pharaoh&s wife was delighted to see him and gave him many expensive presents on her own and delivered all these presents to the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) . She then took him to the Pharaoh hoping that he too would give him presents. The Pharaoh took the child in his arms who suddenly clutched at his beard and pulled it causing his head to bow down. The courtiers were horrified and said to the Pharaoh: |"We warned you about the promise of Allah to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) that a prophet will be born in the tribe of Bani Isra&il who will inherit your Kingdom and your wealth and will defeat and overthrow you. You have seen with your own eyes the first signs of the fulfillment of Allah&s promise|". The Pharaoh took the warning and ordered his soldiers to put the child to death. Here Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) stopped again in his narration and said, |"0 Ibn Jubair (رض) ! This is the fourth test (فُتُون) for Sayyidna Musa (علیہ السلام) where death seemed so near|". The Pharaoh&s wife at once came to the child&s rescue and addressed her husband thus, |"You have given this child to me. He is all mine. So what is all this fuss about?|" The Pharaoh said, |"Can&t you see that by his action this child is warning me that one day he would overthrow me and deprive me of my Kingdom?|" His wife replied, |"I know a sure means of ascertaining whether his action was the action of an uninformed and innocent child or he deliberately intended to defy and challenge your authority. You order a servant to bring two trays. Put two live coals in one and two shining pearls in the other and place both the trays in front of the child. If he picks up the coal, that would be proof enough that he is totally unaware of the consequences of his action because nobody with any sense would put his hand in fire.|" The Pharaoh agreed to this test and when the two trays were placed before Sayyidna Musa (علیہ السلام) he picked up the coal. (However there is another tradition that he wanted to reach for the pearls but Jibra&il (علیہ السلام) guided his hand and placed it on the coal). When the Pharaoh saw this he snatched away the coal from the child&s hand to save him from harm. Thus the Pharaoh&s wife was proved right. She turned to him and said, |"0 King! Now you know the truth.|" Thus Allah once again saved his life because He had chosen him for a very special mission. (And so Sayyidna Musa (علیہ السلام) continued to enjoy the favours of the Pharaoh and the great love of his mother until he grew to full manhood). Knowing in what esteem the royal family held him, the people of the Pharaoh did not dare to insult and torment Bani Isra&il as they used to do previously. One day he was out for a stroll in the city when he came across two persons who were quarrelling over some matter. One of them was a man of the Pharaoh and the other was an Isra&ili. The latter called out to Sayyidna Musa (علیہ السلام) to help him. Musa (علیہ السلام) got very angry at the Pharaoh&s man. How dare he bully an Isra&ili in his presence knowing that he held a place of honour in the royal court, and also that he was full of sympathy for the Isra&ilies (on account of the harsh treatment to which they were constantly subjected by the Egyptians). People in general thought that his sympathy for the Isra&ilis was due to his being nursed and brought up by an Isra&ili woman. It is also possible that Allah Ta` ala may have informed him through his mother or by some other means that he himself was an Isra&ili and that the woman who had nursed him was in fact his own mother. Anyway, being in extreme anger, Sayyidna Musa (علیہ السلام) hit the Egyptian with such force that he died on the spot. There were no witnesses to this incident except the Isra&i1i, and Sayyidna Musa (علیہ السلام) was certain that he (the Isra&ili) would not inform against him. The Egyptian&s death filled Sayyidna Musa علیہ السلام with remorse and he said, هَـٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ (This is some of Shaitan&s act, He is indeed a clear enemy who misleads - 28:15). Then he prayed to Allah. رَ‌بِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ‌ لِي فَغَفَرَ‌ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ‌ الرَّ‌حِيمُ 0 my Lord! I have wronged myself, so forgive me. So He forgave him. Indeed He is the Most-Forgiving, Very-Merciful - 28:16. After this incident Sayyidna Musa (علیہ السلام) made secret inquiries about the reaction of the Egyptian about the murder and whether the matter was reported to the Pharaoh. He learned that the report that was made to the Pharaoh merely said that an Isra&i1i had killed an Egyptian for which their tribe should make full retribution, and that no mercy should be shown to them. The Pharaoh asked them to apprehend the murderer and produce him with full proof of his guilt because although he was their own king he did not think it was right to punish someone without sufficient evidence. He assured them that if they produced the offender with sufficient proof of his guilt he would not be spared. Thereupon people went out in search of the murderer but found no clue which could lead them to him. The next day as Sayyidna Musa (علیہ السلام) carne out of his house he saw the same Isra&ili again fighting with an Egyptian. On seeing Sayyidna Musa (علیہ السلام) he again called to him for help. But Sayyidna Musa (علیہ السلام) who was full of remorse at what had happened the day before was very angry and blamed the Isra&ilie for picking up fights. However, he wanted to stop the man of Pharaoh from attacking the Isra&ili, and at the same time reproached the Isra&ili for being so quarrelsome. The Isra&ili, seeing Musa (علیہ السلام) in anger was frightened and feared that he would kill him too. So he called out, |"0 Musa! Will you kill me too as you killed a man yesterday|"? And so they parted, but the Egyptian hastened to inform the people who were on the lookout for the murderer that the Isra&ili himself had accused Sayyidna Musa (علیہ السلام) of having murdered a man the day before. The Pharaoh who was informed of this latest development at once sent his soldiers to apprehend Sayyidna Musa (علیہ السلام) and to execute him. The soldiers were confident that there was no way for Sayyidna Musa (علیہ السلام) to escape and therefore they took the main road of the city searching for him. Somehow a follower of Sayyidna Musa (علیہ السلام) who lived in a far flung area of the city got wind of the Pharaoh&s order to kill him and managed to reach Musa علیہ السلام through smaller streets to warn him of the impending danger. At this point in his narration, Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) paused again and said, |"0 Ibn Jubair! This was the fifth test (فُتُون) for Sayyidna Musa (علیہ السلام) when death had overcome him but Allah Ta` ala saved his life|". Sayyidna Musa (علیہ السلام) at once left the city and headed for Madyan. All his life was spent in comfort and luxury and he had never undertaken a task involving physical exertion. He was also unfamiliar with the surrounding areas and the roads connecting them. But he had full faith in Allah عَسَىٰ رَ‌بِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ (I hope my Lord will guide me to the straight path - 28:22). As he approached Madyan, he stopped at a well where people had gathered and were drawing water for their animals. There he saw two girls standing away from the crowd with their goats. He asked them why they stood apart to which they replied that being unable to contend with men for water they were waiting until they had finished watering their animals and then, if any water was left, they would give it to their goats, Sayyidna Musa (علیہ السلام) was moved to pity for the girls and being physically a strong man he pushed forward and in no time he watered their goats. The girls went home with their herd and he sat under the shade of a tree and prayed: رَ‌بِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ‌ فَقِيرٌ‌ (0 my Lord, I am in need of whatever good you may send down to me - 28:24). By this payer he sought Allah&s help in providing him something to eat and a place to stay. Now when the girls returned home with their herd earlier than usual their father was surprised, but the girls told him how a kind man had helped them and watered their goats. The father asked one of the girls to bring the man home which she did, and when he heard the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، he said: (|"Do not fear, you have escaped from the wrongdoing people.|" - 28:25). One of the girls suggested to her father to engage Sayyidna Musa (علیہ السلام) on wages and said يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْ‌هُ إِنَّ خَيْرَ‌ مَنِ اسْتَأْجَرْ‌تَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ (Dear father, hire him; the best man you hire, is the one who is strong, trustworthy - 28:26). the father was disconcerted at her words and asked her how she knew, that he was strong and trust-worthy. The girl replied that she witnessed his strength when he pushed aside all the other shepherds and drew water for her goats. And she knew him to be trustworthy because when she went to bring him home he cast his eyes down and did not raise them until she had conveyed to him his invitation. Then he told her to follow him and to guide him to this place from behind. Only a person who is totally trustworthy would conduct himself in such a manner. The father (He was Sayyidna Shua&ib (علیہ السلام) ، a prophet of Allah), having being fully satisfied on this score, proposed to Sayyidna Musa (علیہ السلام) that if he would agree to work for him for eight years he would give the latter one of his daughters in marriage. He also said that he would like it if Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، of his own free choice, worked for him for a further period of two years, but this would not be a condition for his marriage with his daughter. Sayyidna Musa علیہ السلام accepted these terms and ultimately, by Allah&s command, rendered full ten years service to Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) . Sayyidna Said Ibn Jubair (رض) says, |"Once a Christian scholar met me and asked me whether I knew how long Sayyidna Musa (علیہ السلام) worked for Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) . This was before Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) had narrated to me this Hadith. So I told him that I did not know the answer to his question. Afterwards when I met Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) and put the same question to him he informed me that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was bound to do service for the contractual period of eight years which could not be reduced in any circumstances. Also, it was Allah&s will that he should also serve the additional optional two years. Therefore, he did actually serve Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) for full ten years. Later, when I met the Christian scholar and gave him the information, he asked me whether the person from whom I learnt this was more knowledgeable than I was. I replied him in affirmative and told him that indeed he was a very learned person and the best among us|". Having completed ten years of service with Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) Sayyidna Musa (علیہ السلام) departed from Madyan with his wife. He had chosen an unfrequented and unfamiliar route, and on a cold, dark night when he saw fire on the mount of Tur he went there to bring some for his wife. There he saw strange sights, was granted the miracles of the staff (عصا) and the bright hand (یدِ بَیضاء) and was also entrusted with the Mission of Prophethood. This story has been related by the Holy Qur&an in the preceding pages. At the mount of Tur he was also commanded by Allah to proceed to Egypt and place his message before the Pharaoh. He was anxious how he would discharge this duty when he has been declared by the royal court as an absconding offender and was under the sentence of death. Moreover, he recalled his stammer. So he prayed to Allah to remove these impediments. In response to his prayer Allah appointed his brother Haran (علیہ السلام) to share his prophethood and through a revelation commanded the latter to receive him before he entered Egypt. The two brothers met and as commanded by Allah both of them went to the Pharaoh&s court to invite him to accept the True Faith. After a while they were admitted to his presence after passing through several stages. They said to him: إِنَّا رَ‌سُولَا رَ‌بِّكَ |"We are the messengers of your Lord|". The Pharaoh asked them فَمَن رَّ‌بُّكُمَا (Who then is the Lord of you two? - 20:49). Their reply to this question has been reported in the Qur&an itself. (جاری ہے)

اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ ، موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا اس تابوت کے تعاقب میں جانا اور اس کے بعد کا قصہ جس کا اجمال اس آیت میں آیا ہے جس کے آخر میں فرمایا ہے وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا یعنی ہم نے آپ کی آزمائش کی بار بار (قالہ ابن عباس) یا آپ کو مبتلائے آزمائش کیا بار بار (قالہ الضحاک) اس کی پوری تفصیل سنن نسائی کی ایک طویل حدیث میں بروایت ابن عباس آئی ہے وہ یہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مفصل قصہ : حدیث الفتون کے نام سے طویل حدیث سنن نسائی کتاب التفسیر میں بروایت ابن عباس نقل کی ہے اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی اس کو پورا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس روایت کو مرفوع یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان قرار دیا ہے اور ابن کثیر نے بھی حدیث کے مرفوع ہونے کی توثیق کے لئے فرمایا ہے کہ :۔ وصدق ذٰلک عندی، یعنی اس حدیث کا مرفوع ہونا میرے نزدیک درست ہے پھر اس کے لئے ایک دلیل بھی بیان فرمائی لیکن اس کے بعد یہ بھی نقل فرمایا ہے کہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں یہ روایت نقل کی ہے مگر وہ موقوف یعنی ابن عباس کا اپنا کلام ہے، مرفوع حدیث کے جملے اس میں کہیں کہیں آئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس نے یہ روایت کعب احبار سے لی ہے جیسا کہ بہت سے مواقع میں ایسا ہوا ہے مگر ابن کثیر جیسے ناقد حدیث اور نسائی جیسے امام حدیث اس کو مرفوع مانتے ہیں اور جنہوں نے مرفوع تسلیم نہیں کیا وہ بھی اس کے مضمون پر کوئی نکیر نہیں کرتے اور اکثر حصہ اس کا تو خود قرآن کریم کی آیات میں آیا ہوا ہے اس لئے پوری حدیث کا ترجمہ لکھا جاتا ہے جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی قصے کے ضمن میں بہت سے علمی اور عملی فوائد بھی ہیں۔ حدیث الفتون بسند امام نسائی قاسم بن ابی ایوب فرماتے ہیں کہ مجھے سعید بن حبیر نے خبر دی کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آئی ہے یعنی وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا میں نے دریافت کیا کہ اس میں فتون سے کیا مراد ہے ؟ ابن عباس نے فرمایا کہ اس کا واقعہ بڑا طویل ہے صبح کو سویرے آجاؤ تو بتلا دیں گے، جب اگلے دن صبح ہوئی تو میں سویرے ہی ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوگیا تاکہ کل جو وعدہ فرمایا تھا اس کو پورا کراؤں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ سنو (ایک روز) فرعون اور اس کے ہم نشینوں میں اس بات کا ذکر آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کی ذریت میں انبیاء اور بادشاہ پیدا فرماویں گے۔ بعض شرکاء مجلس نے کہا کہ ہاں بنی اسرائیل تو اس کے منتظر ہیں جس میں ان کو ذرا شک نہیں کہ ان کے اندر کوئی نبی و رسول پیدا ہوگا اور پہلے ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہ نبی یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) ہیں جب ان کی وفات ہوگئی تو کہنے لگے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا گیا تھا یہ اس کے مصداق نہیں (کوئی اور نبی و رسول پیدا ہوگا اور جو اس وعدہ کو پورا کرے گا) ۔ فرعون نے یہ سنا تو (اس کو فکر لاحق ہوگئی کہ اگر بنی اسرائیل میں جن کو اس نے غلام بنا رکھا تھا کوئی نبی و رسول پیدا ہوگیا تو وہ ان کو مجھ سے آزاد کرائے گا) اس لئے حاضرین مجلس سے دریافت کیا کہ اس آفت سے بچنے کا کیا راستہ ہے یہ لوگ آپس میں مشورے کرتے رہے اور انجام کار سب کی رائے اس پر متفق ہوگئی کہ (بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس کو ذبح کردیا جائے اس کے لئے) ایسے سپاہی مقرر کردیئے گئے جن کے ہاتھوں میں چھریاں تھیں اور وہ بنی اسرائیل کے ایک ایک گھر میں جاکر دیکھتے تھے جہاں کوئی لڑکا نظر آیا اس کو ذبح کردیا۔ کچھ عرصہ یہ سلسلہ جاری رہنے کے بعد ان کو یہ ہوش آیا کہ ہماری سب خدمتیں اور محبت مشقت کے کام تو بنی اسرائیل ہی انجام دیتے ہیں اگر یہ سلسلہ قتل کا جاری رہا تو ان کے بوڑھے تو اپنی موت مر جائیں گے اور بچے ذبح ہوتے رہے تو آئندہ بنی اسرائیل میں کوئی مرد نہ رہے گا جو ہماری خدمتیں انجام دے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ سارے مشقت کے کام ہمیں خود ہی کرنا پڑیں گے اس لئے اب یہ رائے ہوئی کہ ایک سال میں پیدا ہونے والے لڑکوں کو چھوڑ دیا جائے، دوسرے سال میں پیدا ہونے والوں کو ذبح کردیا جائے۔ اس طرح بنی اسرائیل میں کچھ جوان بھی رہیں گے جو اپنے بوڑھوں کی جگہ لے سکیں اور ان کی تعداد اتنی زیادہ بھی نہ ہوگی جس سے فرعونی حکومت کو خطرہ ہوسکے۔ یہ بات سب کو پسند آئی اور یہی قانون نافذ کردیا گیا (اب حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا ظہور اس طرح ہوا کہ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو ایک حمل اس وقت ہوا جبکہ بچوں کو زندہ چھوڑ دینے کا سال تھا، اس میں حضرت ہارون (علیہ السلام) پیدا ہوئے فرعونی قانون کی رو سے ان کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھا اگلے سال جو لڑکوں کے قتل کا سال تھا اس میں حضرت موسیٰ حمل میں آئے تو ان کی والدہ پر رنج و غم طاری تھا کہ اب یہ بچہ پیدا ہوگا تو قتل کردیا جائے گا۔ ابن عباس نے قصہ کو یہاں تک پہنچا کر فرمایا کہ اے ابن جبیر فتون یعنی آزمائش کا یہ پہلا موقع ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ابھی دنیا میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے قتل کا منصوبہ تیار تھا۔ اس وقت حق تعالیٰ نے ان کی والدہ کو بذریعہ وحی الہام یہ تسلی دے دی کہ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ، یعنی تم کوئی خوف و غم نہ کرو (ہم اس کی حفاظت کریں گے اور کچھ دن جدا رہنے کے بعد) ہم ان کو تمہارے پاس واپس کردیں گے پھر ان کو اپنے رسولوں میں داخل کرلیں گے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے تو ان کی والدہ کو حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کو ایک تابوت میں رکھ کر دریا (نیل) میں ڈال دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اس حکم کی تعمیل کردی۔ جب وہ تابوت کو دریا کے حوالے کر چکیں تو شیطان نے ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ یہ تو نے کیا کام کیا اگر تیرا بچہ تیرے پاس رہ کر ذبح بھی کردیا جاتا تو اپنے ہاتھوں سے کفن دفن کر کے کچھ تو تسلی ہوتی اب تو اس کو دریا کے جانور کھائیں گے (موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اسی رنج و غم میں مبتلا تھیں کہ) دریا کی موجوں نے تابوت کو ایک ایسی چٹان پر ڈال دیا جہاں فرعون کی باندیاں لونڈیاں نہانے دھونے کے لئے جایا کرتی تھیں، انہوں نے یہ تابوت دیکھا تو اٹھا لیا اور کھولنے کا رادہ کیا تو ان میں سے کسی نے کہا کہ اگر اس میں کچھ مال ہوا اور ہم نے کھول لیا تو فرعون کی بیوی کو یہ گمان ہوگا کہ ہم نے اس میں سے کچھ الگ رکھ لیا ہے ہم کچھ بھی کہیں اس کو یقین نہیں آئے گا اس لئے سب کی رائے یہ ہوگئی کہ اس تابوت کو اسی طرح بند اٹھا کر فرعون کی بیوی کے سامنے پیش کردیا جائے۔ فرعون کی بیوی نے تابوت کھولا تو اس میں ایک ایسا لڑکا دیکھا جس کو دیکھتے ہی اس کے دل میں اس سے اتنی محبت ہوگئی جو اس سے پہلے کسی بچے سے نہیں ہوئی تھی (جو درحقیقت حق تعالیٰ کے اس ارشاد کا ظہور تھا (وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ ) دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ بوسوسہ شیطانی اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کو بھول گئیں اور حالت یہ ہوگئی وَاَصْبَحَ فُؤ َادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل ہر خوشی اور ہر خیال سے خالی ہوگیا (صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فکر غالب آگئی) ادھر جب لڑکوں کے قتل پر مامور پولیس والوں کو فرعون کے گھر میں ایک لڑکا آجانے کی خبر ملی تو وہ چھریاں لے کر فرعون کی بیوی کے پاس پہنچ گئے کہ یہ لڑکا ہمیں دو تاکہ ذبح کردیں۔ ابن عباس نے یہاں پہنچ کر پھر ابن جبیر کو مخاطب کیا کہ اے ابن جبیر فتون یعنی آزمائش کا (دوسرا) واقعہ یہ ہے۔ فرعون کی بیوی نے ان لشکری لوگوں کو جواب دیا کہ ابھی ٹہرو کہ صرف اس ایک لڑکے سے تو بنی اسرائیل کی قوت نہیں بڑھ جائے گی میں فرعون کے پاس جاتی ہوں اور اس بچے کی جاں نشینی کراتی ہوں، اگر فرعون نے اس کو بخش دیا تو یہ بہتر ہوگا ورنہ تمہارے معاملے میں دخل نہ دوں گی یہ بچہ تمہارے حوالے ہوگا۔ یہ کہہ کر وہ فرعون کے پاس گئی اور کہا کہ یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے فرعون نے کہا کہ ہاں تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہونا تو معلوم ہے مگر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد ابن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاسکتی ہے اگر فرعون اس وقت بیوی کی طرح اپنے لئے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی قرة العین آنکھوں کی ٹھنڈک ہونے کا اقرار کرلیتا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ہدایت کردیتا جیسا اس کی بیوی کو ہدایت ایمان عطا فرمائی۔ (بہرحال بیوی کے کہنے سے فرعون نے اس لڑکے کو قتل سے آزاد کردیا) اب فرعون کی بیوی اس کو دودھ پلانے کے لیے اپنے آس پاس کی عورتوں کو بلایا۔ سب نے چاہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلانے کی خدمت سرانجام دیں مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی کی چھاتی نہ لگتی (وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ ) اب فرعون کی بیوی کو فکر ہوگئی کہ جب کسی کا دودھ نہیں لیتے تو زندہ یہ کیسے رہیں گے اس لئے اپنی کنیزوں کے سپرد کیا کہ اس کو بازار اور لوگوں کے مجمع میں لے جائیں شاید کسی عورت کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ اس طرف موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے بےچین ہو کر اپنی بیٹی کو کہا کہ ذرا باہر جا کر تلاش کرو اور لوگوں سے دریافت کرو کہ اس تابوت اور بچہ کا کیا انجام ہوا، وہ زندہ ہے یا دریائی جانوروں کی خوراک بن چکا ہے اس وقت تک ان کو اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ یاد نہیں آیا تھا جو حالت حمل میں ان سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت اور چند روزہ مفارقت کے بعد واپسی کا کیا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ کی بہن باہر نکلیں تو (قدرت حق کا یہ کرشمہ دیکھا کہ) فرعون کی کنیزیں اس بچے کو لئے ہوئے دودھ پلانے والی عورت کی تلاش میں ہیں، جب انہوں نے یہ ماجرا دیکھا کہ یہ بچہ کسی عورت کا دودھ نہیں لیتا اور یہ کنیزیں پریشان ہیں تو ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک ایسے گھرانے کا پتہ دیتی ہوں جہاں مجھے امید ہے کہ یہ ان کا دودھ بھی لیں گے اور وہ اس کو خیر خواہی و محبت کے ساتھ پالیں گے۔ یہ سن کر ان کنیزوں نے ان کو اس شبہ میں پکڑ لیا کہ یہ عورت شاید اس بچے کی ماں یا کوئی عزیز خاص ہے جو وثوق کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ وہ گھر والے اس کے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں (اس وقت یہ بہن بھی پریشان ہوگئی) ۔ ابن عباس نے اس جگہ پہنچ کر پھر ابن جبیر کو خطاب کیا کہ یہ (تیسرا) واقعہ فتون یعنی آزمائش کا ہے اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے بات بنائی اور کہا کہ میری مراد اس گھر والوں کے ہمدرد خیر خواہ ہونے سے یہی تھی کہ فرعونی دربار تک ان کی رسائی ہوگی اس سے ان کو منافع پہنچنے کی امید ہوگی اس لئے وہ اس بچے کی محبت و ہمدردی میں کسر نہ کریں گے۔ یہ سن کر کنیزوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ یہ واپس اپنے گھر پہنچی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو واقعہ کی خبر دی وہ ان کے ساتھ اس جگہ پہنچیں جہاں یہ کنیزیں جمع تھیں، کنیزوں کے کہنے سے انہوں نے بھی بچے کو گود میں لے لیا، موسیٰ (علیہ السلام) فوراً ان کی چھاتیوں سے لگ کر دودھ پینے لگے یہاں تک کہ پیٹ بھر گیا۔ یہ خوشخبتی فرعون کی بیوی کو پہنچی کہ اس بچے کے لیے دودھ پلانے والی مل گئی۔ فرعون کی بیوی نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلوایا۔ انہوں نے آکر حالات دیکھے اور یہ محسوس کیا کہ فرعون کی بیوی میری حاجت و ضرورت محسوس کر رہی ہے تو ذرا خود داری سے کام لیا۔ اہلیہ فرعون نے کہا کہ آپ یہاں رہ کر اس بچے کو دودھ پلائیں کیونکہ مجھے اس بچے سے اتنی محبت ہے کہ میں اس کو اپنی نظروں سے غائب نہیں رکھ سکتی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا کہ میں تو اپنے گھر کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی کیونکہ میری گود میں خود ایک بچہ ہے جس کو دودھ پلاتی ہوں، میں اس کو کیسے چھوڑوں۔ ہاں اگر آپ اس پر راضی ہوں کے بچہ میرے سپرد کریں میں اپنے گھر رکھ کر اس کو دودھ پلاؤں اور یہ وعدہ کرتی ہوں کہ اس بچے کی خبر گیری اور حفاظت میں ذرا کوتاہی نہ کروں گی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو اس وقت اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بھی یاد آگیا جس میں فرمایا کہ چند روز کی جدائی کے بعد ہم ان کو تمہارے پاس واپس دے دیں گے اس لئے وہ اور اپنی بات پر جم گئیں۔ اہلیہ فرعون نے مجبور ہو کر ان کی بات مان لی اور یہ اسی روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنے گھر آئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا نشو و نما خاص طریقے پر فرمایا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) ذرا قوی ہوگئے تو اہلیہ فرعون نے ان کی والدہ سے کہا کہ یہ بچہ مجھے لا کر دکھلا جاؤ (کہ میں اس کے دیکھنے کے لئے بےچین ہوں) اور اہلیہ فرعون نے اپنے سب درباریوں کو حکم دیا کہ یہ بچہ آج ہمارے گھر آرہا ہے تم میں سے کوئی ایسا نہ رہے جو اس کا اکرام نہ کرے اور کوئی ہدیہ اس کو پیش نہ کرے اور میں خود اس کی نگرانی کروں گی کہ تم لوگ اس معاملہ میں کیا کرتے ہو۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ جس وقت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ کے ساتھ گھر سے نکلے اسی وقت سے ان پر تحفوں اور ہدایا کی بارش ہونے لگی یہاں تک کہ اہلیہ فرعون کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے پاس سے خاص تحفے اور ہدیے الگ پیش کیے۔ اس کے بعد اہلیہ فرعون ان کو دیکھ کر بیحد مسرور ہوئی اور یہ سب تحفے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو دے دئیے۔ اس کے بعد اہلیہ فرعون نے کہا کہ اب میں ان کو فرعون کے پاس لے جاتی ہوں وہ ان کو انعامات اور تحفے دیں گے جب ان کو لے کر فرعون کے پاس پہنچی تو فرعون نے ان کو اپنی گود میں لے لیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی داڑھی پکڑ کر زمین کی طرف جھکا دیا۔ اس وقت دربار کے لوگوں نے فرعون سے کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ابراہیم (علیہ السلام) سے جو وعدہ کیا تھا بنی اسرائیل میں ایک نبی پیدا ہوگا جو آپ کے ملک و مال کا وارث ہوگا، آپ پر غالب آئے گا اور آپ کو پچھاڑے گا، یہ وعدہ کس طرح پورا ہو رہا ہے۔ فرعون متنبہ ہوا اور اسی وقت لڑکوں کو قتل کرنے والے سپاہیوں کو بلا لیا تاکہ اس کو ذبح کردیں ابن عباس نے یہاں پہنچ کر پھر ابن جبیر کو خطاب کیا کہ یہ (چوتھا) واقعہ فتون یعنی آزمائش کا ہے کہ پھر موت سر پر منڈلانے لگی۔ اہلیہ فرعون نے یہ دیکھا تو کہا کہ آپ تو یہ بچہ مجھے دے چکے ہیں پھر اب یہ کیا معاملہ ہو رہا ہے، فرعون نے کہا تم یہ نہیں دیکھتیں کہ یہ لڑکا اپنے عمل سے گویا یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ مجھ کو زمین پر پچھاڑ کر مجھ پر غالب آجائے گا۔ اہلیہ فرعون نے کہا کہ آپ ایک بات کو اپنے اور میرے معاملہ کے فیصلہ کے لئے مان لیں جس سے حق بات ظاہر ہوجاوے گی (کہ بچے نے یہ معاملہ بچپن کی بیخبر ی میں کیا ہے یا دیدہ دانستہ کسی شوخی سے) آپ دو انگارے آگ کے اور دو موتی منگوا لیجئے اور دونوں کو ان کے سامنے کر دیجئے اگر یہ موتیوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں اور آگ کے انگاروں سے بچیں تو آپ سمجھ لیں کہ اس کے افعال عقل و شعور سے دیدہ و دانستہ ہیں اور اگر اس نے موتیوں کی بجائے انگارے ہاتھ میں اٹھائے تو یہ یقین ہوجائے گا کہ یہ کام کسی عقل و شعور سے نہیں کیا گیا کیونکہ کوئی عقل والا انسان آگ کو ہاتھ میں نہیں اٹھا سکتا (فرعون نے اس آزمائش کو مان لیا) دو انگارے اور دو موتی موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انگارے اٹھا لئے (بعض دوسری روایات میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) موتیوں کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتے تھے کہ جبرئیل امین نے ان کا ہاتھ انگاروں کی طرف پھیر دیا) فرعون نے یہ ماجرا دیکھا تو فوراً ان کے ہاتھ سے انگارے چھین لئے کہ ان کا ہاتھ نہ جل جائے (اب تو اہلیہ فرعون کی بات بن گئی) اس نے کہا کہ آپ نے واقعہ کی حقیقت کو دیکھ لیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے پھر یہ موت موسیٰ (علیہ السلام) سے ٹلا دی کیونکہ قدرت خداوندی کو ان سے آگے کام لینا تھا۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اسی طرح فرعون کے شاہانہ اعزازو اکرام اور شاہانہ خرچ پر اپنی والدہ کی نگرانی میں پرورش پاتے رہے یہاں تک یہ جوان ہوگئے) ۔ ان کے شاہی اکرام و اعزاز کو دیکھ کر فرعون کے لوگوں کو بنی اسرائیل پر وہ ظلم و جور اور تذلیل و توہین کرنے کی ہمت نہ رہی جو اس سے پہلے آل فرعون کی طرف سے ہمیشہ بنی اسرائیل پر ہوتا رہتا تھا۔ ایک روز موسیٰ (علیہ السلام) شہر کے کسی گوشہ میں چل رہے تھے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں جن میں سے ایک فرعونی ہے اور دوسرا اسرائیلی۔ اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر امداد کے لئے پکارا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعونی آدمی کی جسارت پر بہت غصہ آگیا کہ اس نے شاہی دربار میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اعزازو اکرام کو جانتے ہوئے اسرائیلی کو ان کے سامنے پکڑ رکھا ہے جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اسرائیلیوں کی حفاظت کرتے ہیں اور لوگوں کو تو صرف یہی معلوم تھا کہ ان کا تعلق اسرائیلی لوگوں سے صرف رضاعت اور دودھ پینے کی وجہ سے ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ یا کسی اور ذریعہ سے یہ معلوم کردیا ہو کہ یہ اپنی دودھ پلانے والی عورت ہی کے بطن سے پیدا ہوئے اور اسرائیلی ہیں۔ غرض موسیٰ (علیہ السلام) نے غصہ میں آکر اس فرعونی کے ایک مکا رسید کیا جس کو وہ برداشت نہ کرسکا اور وہیں مر گیا مگر اتفاق سے وہاں کوئی اور آدمی موسیٰ (علیہ السلام) اور ان دونوں لڑنے والوں کے سوا موجود نہیں تھا، فرعونی تو قتل ہوگیا اسرائیلی اپنا آدمی تھا اس سے اس کا اندیشہ نہ تھا کہ یہ مخبری کردے گا۔ جب یہ فرعونی موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے مارا گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ، یعنی یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا ہے وہ کھلا دشمن گمراہ کرنے والا ہے (پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی) رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ، یعنی اے میرے پروردگار میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا (کہ یہ خطا قتل فرعونی کی مجھ سے سرزد ہوگئی) مجھے معاف فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا کیونکہ وہ ہی بہت معاف کرنے والا اور بہت رحمت کرنے والا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس واقعہ کے بعد خوف و ہراس کے عالم میں یہ خبریں دریافت کرتے رہے (کہ اس کے قتل پر آل فرعون کا ردعمل کیا ہوا اور دربار فرعون تک یہ معاملہ پہنچا یا نہیں) معلوم ہوا کہ معاملہ فرعون تک اس عنوان سے پہنچا کہ کسی اسرائیلی نے آل فرعون کے ایک آدمی کو قتل کردیا ہے اس لئے اسرائیلیوں سے اس کا انتقام لیا جائے۔ اس معاملے میں ان کے ساتھ کوئی ڈھیل کا معاملہ نہ کیا جائے۔ فرعون نے جواب دیا کہ اس کے قاتل کو متعین کرکے مع شہادت کے پیش کرو۔ کیونکہ بادشاہ اگرچہ تمہارا ہی ہے مگر اس کے لئے یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ بغیر شہادت و ثبوت کے کسی سے قصاص لے لے۔ تم اس کے قاتل کو تلاش کرو اور ثبوت مہیا کرو میں ضرور تمہارا انتقام بصورت قصاص اس سے لوں گا۔ فرعون کے لوگ یہ سن کر گلی کوچوں اور بازاروں میں گھومنے لگے کہ کہیں اس کے قتل کرنے والے کا سراغ مل جائے مگر ان کو کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ اچانک یہ واقعہ پیش آیا کہ اگلے روز موسیٰ (علیہ السلام) گھر سے نکلے تو اسی اسرائیلی کو دیکھا کہ کسی دوسرے فرعونی شخص سے مقاتلہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پھر اس اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدد کے لئے پکارا مگر موسیٰ (علیہ السلام) کل کے واقعہ پر ہی نادم ہو رہے تھے اور اس وقت اسی اسرائیلی کو پھر لڑتے ہوئے دیکھ کر اس پر ناراض ہوئے (کہ خطا اسی کی معلوم ہوتی ہے یہ جھگڑالو آدمی ہے اور لڑتا ہی رہتا ہے) مگر اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ فرعونی شخص کو اس پر حملہ کرنے سے روکیں لیکن اسرائیلی کو بھی بطور تنبیہ کہنے لگے تو نے کل بھی جھگڑا کیا تھا آج پھر لڑ رہا ہے، تو ہی ظالم ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ آج بھی اسی طرح غصے میں ہیں جیسے کل تھے تو اس کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ان الفاظ سے یہ شبہ ہوگیا کہ یہ آج مجھے ہی قتل کردیں گے تو فوراً بول اٹھا کہ اے موسیٰ کیا تم چاہتے ہو کہ مجھے قتل کر ڈالو جیسے کل تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔ یہ باتیں ہونے کے بعد یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے مگر فرعونی شخص نے آل فرعون کے ان لوگوں کو جو کل کے قاتل کی تلاش میں تھے جا کر یہ خبر پہنچا دی کہ خود اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا ہے کہ تم نے کل ایک آدمی قتل کردیا ہے۔ یہ خبر دربار فرعون تک فوراً پہنچائی گئی۔ فرعون نے اپنے سپاہی موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لئے بھیج دئیے۔ یہ سپاہی جانتے تھے کہ وہ ہم سے بچ کر کہاں جائیں گے۔ اطمینان کے ساتھ شہر کی بڑی سڑک سے موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے۔ اس طرف ایک شخص کو موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے جو شہر کے کسی بعید حصہ میں رہتا تھا اس کی خبر لگ گئی کہ فرعونی سپاہی موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں بغرض قتل نکل چکے ہیں اس نے کسی گلی کوچے کے چھوٹے راستہ سے آگے پہنچ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی۔ یہاں پہنچ کر پھر ابن عباس نے ابن جبیر کو خطاب کیا کہ اے ابن جبیر یہ (پانچواں) واقعہ فتون یعنی آزمائش کا ہے کہ موت سر پر آچکی تھی اللہ نے اس سے نجات کا سامان کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ خبر سن کر فوراً شہر سے نکل گئے اور مدین کی طرف رخ پھر گیا۔ یہ آج تک شاہی ناز و نعمت میں پلے تھے کبھی محنت و مشقت کا نام نہ آیا تھا مصر سے نکل کھڑے ہوئے مگر راستہ بھی کہیں کا نہ جانتے تھے مگر اپنے رب پر بھروسہ تھا کہ عَسٰى رَبِّيْٓ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ ، یعنی امید ہے کہ میرا رب مجھے راستہ دکھاوے گا۔ جب شہر مدین کے قریب پہنچے تو شہر سے باہر ایک کنویں پر لوگوں کا اجتماع دیکھجا جو اس پر اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ اور دیکھا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو سمیٹے ہوئے الگ کھڑی ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے ان عورتوں سے پوچھا کہ تم الگ کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ان سب لوگوں سے مزاحمت اور مقابلہ کریں اس لیے ہم اس انتظار میں ہیں کہ جب یہ سب لوگ فارغ ہوجائیں تو جو کچھ بچا ہوا پانی مل جائے گا اس سے ہم اپنا کام نکالیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی شرافت دیکھ کر خود ان کے لئے کنویں سے پانی نکالنا شروع کردیا اللہ تعالیٰ نے قوت و طاقت بخشی تھی بڑی جلدی ان کی بکریوں کو سیراب کردیا۔ یہ عورتیں اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر گئیں اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک درخت کے سایہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ، یعنی اے میرے پروردگار میں محتاج ہوں اس نعمت کا جو آپ میری طرف بھیجیں (مطلب یہ تھا کہ کھانے کا اور ٹھکانہ کا کوئی انتظام ہوجائے) یہ لڑکیاں جب روزانہ کے وقت سے پہلے بکریوں کو سیراب کر کے گھر پہنچیں تو ان کے والد کو تعجب ہوا اور فرمایا آج تو کوئی نئی بات ہے، لڑکیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پانی کھینچنے اور پلانے کا قصہ والد کو سنا دیا۔ والد نے ان میں سے ایک کو حکم دیا کہ جس شخص نے یہ احسان کیا ہے اس کو یہیں بلا لاؤ، وہ بلا لائی، والد نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کے حالات دریافت کئے اور فرمایا لَا تَخَفْ ڣ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ، یعنی اب آپ خوف و ہراس اپنے دل سے نکال دیجئے، آپ ظالموں کے ہاتھ سے نجات پاچکے ہیں ہم نہ فرعون کی سلطنت میں ہیں نہ اس کا ہم پر کچھ حکم چل سکتا ہے۔ اب ان دو لڑکیوں میں سے ایک نے اپنے والد سے کہا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ۡ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ ، یعنی ابا جان، ان کو آپ ملازم رکھ لیجئے کیونکہ ملازمت کے لئے بہترین آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو اور امانت دار بھی۔ والد کو اپنی لڑکی سے یہ بات سن کر غیرت سی آئی کہ میری لڑکی کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ قوی بھی ہیں اور امین بھی۔ اس لئے اس سے سوال کیا کہ تمہیں ان کی قوت کا اندازہ کیسے ہوا اور ان کی امانت داری کس بات سے معلوم کی۔ لڑکی نے عرض کیا کہ ان کی قوت کا مشاہدہ تو ان کے کنویں سے پانی کھینچنے کے وقت ہوا کہ سب چرواہوں سے پہلے انہوں نے اپنا کام کرلیا، دوسرا کوئی ان کے برابر نہیں آسکا اور امانت کا حال اس طرح معلوم ہوا کہ جب میں ان کو بلانے کے لئے گئی اور اول نظر میں جب انہوں نے دیکھا کہ میں ایک عورت ہوں تو فوراً اپنا سر نیچا کرلیا اور اس وقت تک سر نہیں اٹھایا جب تک کہ میں نے ان کو آپ کا پیغام نہیں پہنچا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے پیچھے چلو مگر مجھے اپنے گھر کا راستہ پیچھے سے بتلاتی رہو اور یہ بات صرف وہی مرد کرسکتا ہے جو امانت دار ہو۔ والد کو لڑکی کی اس دانشمندانہ بات سے مسرت ہوئی اور اس کی تصدیق فرمائی اور خود بھی ان کے بارے میں قوت و امانت کا یقین ہوگیا۔ اس وقت لڑکیوں کے والد نے (جو اللہ کے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے) موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ کو یہ منظور ہے کہ میں ان دونوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردوں جس کی شرط یہ ہوگی کہ آپ آٹھ سال تک ہمارے یہاں مزدوری کریں، اور اگر آپ دس سال پورے کردیں تو اپنے اختیار سے کردیں بہتر ہوگا مگر ہم یہ پابندی آپ پر عائد نہیں کرتے تاکہ آپ پر زیادہ مشقت نہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو منظور فرما لیا جس کی رو سے موسیٰ (علیہ السلام) پر صرف آٹھ سال کی خدمت بطور معاہدہ کے لازم ہوگئی باقی دو سال کا وعدہ اختیاری رہا، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) سے وہ وعدہ بھی پورا کرا کر دس سال پورے کرا دئیے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک نصرانی عالم مجھے ملا، اس نے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں میعادوں میں سے کون سی میعاد پوری فرمائی ؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کیونکہ اس وقت تک ابن عباس کی یہ حدیث مجھے معلوم نہ تھی۔ اس کے بعد میں ابن عباس سے ملا ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ آٹھ سال کی میعاد پورا کرنا تو موسیٰ (علیہ السلام) پر واجب تھا اس میں کچھ کمی کرنے کا تو احتمال ہی نہیں اور یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول کا اختیاری وعدہ بھی پورا ہی کرنا منظور تھا اس لئے دس سال کی میعاد پوری کی۔ اس کے بعد میں اس نصرانی عالم سے ملا اور اس کو یہ خبر دی تو اس نے کہا کہ تم نے جس شخص سے یہ بات دریافت کی ہے کیا وہ تم سے زیادہ علم والے ہیں، میں نے کہا کہ بیشک وہ بہت بڑے عالم اور ہم سب سے افضل ہیں۔ (دس سال کی میعاد خدمت پوری کرنے کے بعد جب) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ محترمہ کو ساتھ لے کر شعیب (علیہ السلام) کے وطن مدین سے رخصت ہوئے، راستہ میں سخت سردی اندھیری رات، راستہ نامعلوم، بےکسی اور بےبسی کے عالم میں اچانک کوہ طور پر آگ دیکھنے پھر وہاں جانے اور حیرت انگیز مناظر کے بعد معجزہ عصا و ید بیضاء اور اس کے ساتھ منصب نبوت و رسالت عطا ہونے کے بعد (جس کا پورا قصہ قرآن میں اوپر گزر چکا ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ فکر ہوئی کہ میں فرعونی دربار کا ایک مفرور ملزم قرار دیا گیا ہوں مجھ سے قبطی کا قصاص لینے کا حکم وہاں سے ہوچکا ہے اب اس کے پاس دعوت رسالت لے کر جانے کا حکم ہوا ہے، نیز اپنی زبان میں لکنت کا عذر بھی سامنے آیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض معروض پیش کی حق تعالیٰ نے ان کی فرمائش کے مطابق ان کے بھائی حضرت ہارون کو شریک رسالت بنا کر ان کے پاس وحی بھیج دی اور یہ حکم دیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شہر مصر سے باہر استقبال کریں۔ اس کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے۔ ہارون (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی دونوں بھائی (حسب الحکم) فرعون کو دعوت دینے کے لئے اس کے دربار میں پہنچے کچھ وقت تک تو ان کو دربار میں حاضری کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ دونوں دروازے پر ٹہرے رہے پھر بہت سے پردوں میں گزر کر حاضری کی اجازت ملی اور دونوں نے فرعون سے کہا اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ ، یعنی ہم دونوں تیرے رب کی طرف سے قاصد اور پیغامبر ہیں۔ فرعون نے پوچھا فَمَنْ رَّبُّكُمَا (تو بتلاؤ تمہارا رب کون ہے) موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) نے وہ بات کہی جس کا قرآن نے خود ذکر کردیا (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى، اس پر فرعون نے پوچھا کہ پھر تم دونوں کیا چاہتے ہو اور ساتھ ہی قبطی مقتول کا واقعہ ذکر کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مجرم ٹہرایا (اور اپنے گھر میں ان کی پرورش پانے کا احسان جتلایا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں باتوں کا وہ جواب دیا جو قرآن میں مذکور ہے (یعنی مقتول کے معاملہ میں تو اپنی خطا اور غلطی کا اعتراف کر کے ناواقفیت کا عذر ظاہر کیا اور گھر میں پرورش پر احسان جتلانے کا جواب یہ دیا کہ تم نے سارے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا ہے ان پر طرح طرح کے ظلم کر رہے ہو اسی کے نتیجہ میں بہ نیرنگ تقدیر میں تمہارے گھر میں پہنچا دیا گیا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا وہ ہوگیا اس میں تمہارا کوئی احسان نہیں۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو خطاب کر کے پوچھا کہ کیا تم اس پر راضی ہو کہ اللہ پر ایمان لے آؤ اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کردو۔ فرعون نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اگر تمہارے پاس رسول رب ہونے کی کوئی علامت ہے تو دکھلاؤ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی عصا زمین پر ڈال دی تو وہ عظیم الشان اژدہا کی شکل میں منہ کھولے ہوئے فرعون کی طرف لپکی۔ فرعون خوفزدہ ہو کر اپنے تخت کے نیچے چھپ گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پناہ مانگی کہ اس کو روک لیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا۔ پھر اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چمکنے لگا یہ دوسرا معجزہ فرعون کے سامنے آیا پھر دوبارہ گریبان میں ہاتھ ڈالا تو وہ اپنی اصلی حالت پر آگیا۔ فرعون نے ہیبت زدہ ہو کر اپنے درباریوں سے مشورہ کیا (کہ تم دیکھ رہے ہو یہ کیا ماجرا ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے) درباریوں نے متفقہ طور پر کہا کہ (کچھ فکر کی بات نہیں) یہ دونوں جادوگر ہیں اپنے جادو کے ذریعہ تم کو تمہارے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں اور تمہارے بہترین دین و مذہب کو (جو ان کی نظر میں فرعون کی پرستش کرنا تھا) یہ مٹانا چاہتے ہیں۔ آپ ان کی کوئی بات نہ مانیں (اور کوئی فکر نہ کریں) کیونکہ آپ کے ملک میں بڑے بڑے جادوگر ہیں، آپ ان کو بلا لیجئے وہ اپنے جادو سے ان کے جادو پر غالب آجائیں گے۔ فرعون نے اپنی مملکت کے سب شہروں میں حکم دے دیا کہ جتنے آدمی جادوگری میں ماہر ہوں وہ سب دربار میں حاضر کردیئے جاویں، ملک بھر کے جادوگر جمع ہوگئے تو انہوں نے فرعون سے پوچھا کہ جس جادوگر سے آپ ہمارا مقابلہ کرانا چاہتے ہیں وہ کیا عمل کرتا ہے، اس نے بتلایا کہ وہ اپنی لاٹھی کو سانپ بنا دیتا ہے، جادوگروں نے بڑی بےفکری سے کہا کہ یہ تو کوئی چیز نہیں، لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپ بنا دینے کے جادو کا تو جو کمال ہمیں حاصل ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، مگر یہ طے کردیجئے کہ اگر ہم اس پر غالب آگئے تو ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے کہا کہ تم غالب آگئے تو تم میرے خاندان کا جز اور مقربین خاص میں داخل ہوجاؤ گے اور تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم چاہو گے۔ اب جادوگروں نے مقابلہ کا وقت اور جگہ موسیٰ (علیہ السلام) سے طے کر کے اپنی عید کے دن چاشت کا وقت مقرر کردیا۔ ابن جبیر فرماتے ہیں کہ ابن عباس نے مجھ سے بیان فرمایا کہ ان کا یوم الزینہ (یعنی عید کا دن) جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے جادوگروں پر فتح عطا فرمائی وہ عاشوراء یعنی محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ جب سب لوگ ایک وسیع میدان میں مقابلہ دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے تو فرعون کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو کہنے لگے لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ ، یعنی ہمیں یہاں ضرور رہنا چاہئے تاکہ یہ ساحر یعنی موسیٰ و ہارون اگر غالب آجائیں تو ہم بھی ان پر ایمان لے آئیں، ان کی یہ گفتگو ان حضرات کے ساتھ استہزاء و مذاق کے طور پر تھی (ان کا یقین تھا کہ یہ ہمارے جادوگروں پر غالب نہیں آسکیں گے) ۔ میدان مقابلہ مکمل آراستہ ہوگیا تو جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب کیا کہ پہلے آپ کچھ ڈالیں (یعنی اپنا سحر دکھلائیں) یا ہم پہلے ڈال کر ابتداء کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم ہی پہل کرو، اپنا جادو دکھلاؤ۔ ان لوگوں نے اپنی لاٹھیاں اور کچھ رسیاں زمین پر یہ کہتے ہوئے ڈال دیں بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ ، یعنی بطفیل فرعون ہم ہی غالب آئیں گے (یہ لاٹھیاں اور رسیاں دیکھنے میں سانپ بن کر چلنے لگیں) یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک خوف طاری ہوا (فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى) یہ خوف طبعی ہوسکتا ہے جو مقتضائے بشریت ہے، انبیاء بھی اس سے مستشنیٰ نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خوف اس بات کا ہو کہ اب اسلام کی دعوت جس کو میں لے کر آیا ہوں اس میں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ اپنی عصا ڈال دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی عصا ڈالی تو وہ ایک بڑا اژدہا بن گیا جس کا منہ کھلا ہوا تھا اس اژدہا نے ان تمام سانپوں کو نگل لیا جو جادوگروں نے لاٹھیوں اور رسیوں کے بنائے تھے۔ فرعونی جادوگر جادو کے فن کے ماہر تھے یہ ماجرا دیکھ کر ان کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی عصا کا یہ اژدہا جادو سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اس لئے جادوگروں نے اسی وقت اعلان کردیا کہ ہم اللہ پر اور موسیٰ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے پچھلے خیالات و عقائد سے توبہ کرتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کی کمر توڑ دی اور انہوں نے جو جال پھیلایا تھا وہ سب باطل ہوگیا (فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ) فرعون اور اس کے ساتھی مغلوب ہوگئے اور ذلت و رسوائی کیساتھ اس میدان سے پسپا ہوئے۔ جس وقت یہ مقابلہ ہورہا تھا فرعون کی بیوی آسیہ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر اللہ تعالیٰ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کے لئے دعا مانگ رہی تھی اور آل فرعون کے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ یہ فرعون کی وجہ سے پریشان حال ہیں اس کے لئے دعا مانگ رہی ہیں حالانکہ ان کا غم و فکر سارا موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے تھا (اور انہیں کے غالب آنے کی دعا مانگ رہی تھیں) اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کوئی معجزہ دکھاتے اور اللہ کی طرف سے اس پر حجت تمام ہوجاتی تو اسی وقت وعدہ کرلیتا تھا کہ اب میں بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دوں گا مگر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے وہ عذاب کا خطرہ ٹل جاتا تو اپنے وعدہ سے پھرجاتا تھا) اور یہ کہہ دیتا تھا کہ کیا آپ کا رب کوئی اور بھی نشانی دکھا سکتا ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا بالآخر اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون پر طوفان اور ٹڈی دل اور کپڑوں میں جوئیں اور برتنوں اور کھانے میں مینڈکوں اور خون وغیرہ کے عذاب میں مسلط کردئیے، جن کو قرآن میں آیات مفصلات کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ اور فرعون کا حال یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی عذاب آتا اور اس سے عاجز ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کرتا کہ کسی طرح یہ عذاب ہٹا دیجئے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے پھر جب عذاب ٹل جاتا تو پھر بدعہدی کرتا۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دے دیا کہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل جائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سب کو لے کر رات کے وقت شہر سے نکل گئے فرعون نے جب صبح دیکھا کہ یہ سب لوگ چلے گئے تو اپنی فوج تمام اطراف سے جمع کر کے ان کے تعاقب میں چھوڑ دی۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے اس دریا جو موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے راستہ میں تھا یہ حکم دے دیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) تجھ پر لاٹھی ماریں تو دریا میں بارہ راستے بن جانے چاہئیں۔ جن سے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل الگ الگ گزر سکیں۔ اور جب یہ گزر جائیں تو ان کے تعاقب میں آنے والوں پر یہ دریا کے بارہ حصے پھر مل جائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب دریا کے قریب پہنچے تو یہ یاد نہ رہا کہ لاٹھی مارنے سے دریا میں راستے پیدا ہوں گے اور ان کی قوم نے ان سے فریاد کی اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ یعنی ہم تو پکڑ لئے گئے (کیونکہ پیچھے فرعونی فوجوں کو آتا دیکھ رہے تھے اور آگے دریا حائل تھا) اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ یاد آیا کہ دریا پر لاٹھی مارنے سے اس میں رستے پیدا ہوجاویں گے اور فوراً دریا پر اپنی لاٹھی ماری۔ یہ وہ وقت تھا کہ بنی اسرائیل کے پچھلے حصوں سے فرعونی افواج کے اگلے حصے تقریباً مل چکے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے سے دریا کے الگ الگ ٹکڑے ہو کر وعدہ ربانی کے مطابق بارہ راستے بن گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) اور تمام بنی اسرائیل ان راستوں سے گزر گئے۔ فرعونی افواج جو ان کے تعاقب میں تھی انہوں نے دریا میں راستے دیکھ کر ان کے تعاقب میں اپنے گھوڑے اور پیادے ڈال دئیے تو دریا کے یہ مختلف ٹکڑے بامر ربانی پھر آپس میں مل گئے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل دوسرے کنارے پر پہنچ گئے تو ان کے اصحاب نے کہا کہ ہمیں یہ خطرہ ہے کہ فرعون ان کے ساتھ غرق نہ ہوا ہو اور اس نے اپنے آپ کو بچا لیا ہو تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا فرمائی کہ فرعون کی ہلاکت ہم پر ظاہر کردے قدرت حق نے فرعون کی مردہ لاش کو دریا سے باہر پھینک دیا اور سب نے اس کی ہلاکت کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا۔ اس کے بعد یہ بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آگے چلے تو راستہ میں ان کا گزر ایک قوم پر ہوا جو اپنے بنائے ہوئے بتوں کی عبادت اور پرستش کر رہے تھے۔ تو یہ بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے (يٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ ۭقَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ، اِنَّ هٰٓؤ ُ لَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ ) یعنی اے موسیٰ ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجئے جیسے انہوں نے بہت سے معبود بنا رکھے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم عجیب قوم ہو کہ ایسی جہالت کی باتیں کرتے ہو، یہ لوگ جو بتوں کی عبادت میں مشغول ہیں ان کی عبادت برباد ہونے والی ہے (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا) کہ تم اپنے پروردگار کے اتنے معجزات اور اپنے اوپر انعامات دیکھ چکے ہو پھر بھی تمہارے یہ جاہلانہ خیالات نہیں بدلے۔ یہ کہہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنے ان ساتھیوں کے یہاں سے آگے بڑھے اور ایک مقام پر جا کر ان کو ٹہرا دیا اور فرمایا تم سب یہاں ٹہرو، میں اپنے رب کے پاس جاتا ہوں، تیس دن کے بعد واپس آجاؤں گا اور میرے پیچھے ہارون (علیہ السلام) میرے نائب و خلیفہ رہیں گے ہر کام میں ان کی اطاعت کرنا۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے رخصت ہو کر کوہ طور پر تشریف لے گئے اور (اشارہ ربانی سے) تیس دن رات کا مسلسل روزہ رکھا تاکہ اس کے بعد کلام ربانی سے مستفید ہو سکیں گے مگر تیس دن رات کے مسلسل روزہ سے جو ایک قسم کی بو روزہ دار کے منہ میں ہوجاتی ہے یہ فکر ہوئی کہ اس بو کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی نامناسب ہے، تو پہاڑی گھاس کے ذریعہ مسواک کر کے منہ صاف کرلیا۔ جب بارگاہ حق میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ تم نے افطار کیوں کرلیا (اور اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کچھ کھایا پیا نہیں بلکہ منہ صاف کرلینے کو پیغمبرانہ امتیاز کی بنا پر افطار کرنے سے تعبیر فرمایا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اس حقیقت کو سمجھ کر عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھے یہ خیال ہوا کہ آپ سے ہم کلام ہونے کے لئے منہ کی بو دور کر کے صاف کرلوں۔ حکم ہوا کہ موسیٰ کیا تمہیں خبر نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو ہمارے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ محبوب ہے، اب آپ لوٹ جائیے اور دس دن مزید روزے رکھئے پھر ہمارے پاس آئیے موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی۔ اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ معارف القرآن جلد میں دیکھیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي مَنْ يَّكْفُلُہٗ۝ ٠ۭ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُہَا وَلَا تَحْزَنَ۝ ٠ۥۭ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا۝ ٠ۥۣ فَلَبِثْتَ سِنِيْنَ فِيْٓ اَہْلِ مَدْيَنَ۝ ٠ۥۙ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰي قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى۝ ٤٠ مشی المشي : الانتقال من مکان إلى مکان بإرادة . قال اللہ تعالی: كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، وقال : فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ، إلى آخر الآية . يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] ، ويكنّى بالمشي عن النّميمة . قال تعالی: هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] ، ويكنّى به عن شرب المسهل، فقیل : شربت مِشْياً ومَشْواً ، والماشية : الأغنام، وقیل : امرأة ماشية : كثر أولادها . ( م ش ی ) المشی ( ج ) کے معنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف قصد اور ارادہ کے ساتھ منتقل ہونے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی چمکتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔ فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] تو اس کی راہوں میں چلو پھرو ۔ اور کنایۃ میس کا لفظ چغلی کھانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا ۔ اور کنایۃ کے طور پر مشئی کے معنی مسہل پینا بھی آتے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ شربت مشیا ومشو ا میں نے مسہل دواپی الما شیۃ مویشی یعنی بھیڑ بکری کے ریوڑ کو کہتے ہیں اور امراۃ ماشیۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے بچے بہت ہوں ۔ دلَ الدّلالة : ما يتوصّل به إلى معرفة الشیء، کدلالة الألفاظ علی المعنی، ودلالة الإشارات، والرموز، والکتابة، والعقود في الحساب، وسواء کان ذلک بقصد ممن يجعله دلالة، أو لم يكن بقصد، كمن يرى حركة إنسان فيعلم أنه حيّ ، قال تعالی: ما دَلَّهُمْ عَلى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ [ سبأ/ 14] . أصل الدّلالة مصدر کالکتابة والإمارة، والدّالّ : من حصل منه ذلك، والدلیل في المبالغة کعالم، وعلیم، و قادر، وقدیر، ثم يسمّى الدّالّ والدلیل دلالة، کتسمية الشیء بمصدره . ( د ل ل ) الدلا لۃ ۔ جس کے ذریعہ کسی چی کی معرفت حاصل ہو جیسے الفاظ کا معانی پر دلالت کرن اور اشارات در ہو ز اور کتابت کا اپنے مفہوم پر دلالت کرنا اور حساب میں عقود کا عدد مخصوص پر دلالت کرنا وغیرہ اور پھر دلالت عام ہے کہ جاہل یعنی واضح کی وضع سے ہوا یا بغیر وضع اور قصد کے ہو مثلا ایک شخص کسی انسان میں حرکت دیکھ کر جھٹ جان لیتا ہے کہ وہ زندہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ما دَلَّهُمْ عَلى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ [ سبأ/ 14] تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑز سے ۔ اصل میں دلالۃ کا لفظ کنایہ وامارۃ کی طرح مصدر ہے اور اسی سے دال صیغہ صفت فاعل ہے یعنی وہ جس سے دلالت حاصل ہو اور دلیل صیغہ مبالغہ ہے جیسے ہے کبھی دال و دلیل بمعنی دلالۃ ( مصدر آجاتے ہیں اور یہ تسمیہ الشئ بمصدر کے قبیل سے ہے ۔ كفل الْكَفَالَةُ : الضّمان، تقول : تَكَفَّلَتْ بکذا، وكَفَّلْتُهُ فلانا، وقرئ : وَكَفَّلَها زَكَرِيَّا [ آل عمران/ 37] «3» أي : كفّلها اللہ تعالی، ومن خفّف «4» جعل الفعل لزکريّا، المعنی: تضمّنها . قال تعالی: وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا[ النحل/ 91] ، والْكَفِيلُ : الحظّ الذي فيه الکفاية، كأنّه تَكَفَّلَ بأمره . نحو قوله تعالی: فَقالَ أَكْفِلْنِيها[ ص/ 23] أي : اجعلني کفلا لها، والکِفْلُ : الكفيل، قال : يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ [ الحدید/ 28] أي : كفيلين من نعمته في الدّنيا والآخرة، وهما المرغوب إلى اللہ تعالیٰ فيهما بقوله : رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً [ البقرة/ 201] ( ک ف ل ) الکفالۃ ضمانت کو کہتے ہیں اور تکفلت بکذا کے معنی کسی چیز کا ضامن بننے کے ہیں ۔ اور کفلتہ فلانا کے معنی ہیں میں نے اسے فلاں کی کفالت میں دے دیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَّلَها زَكَرِيَّا[ آل عمران/ 37] اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا ۔ بعض نے کفل تخفیف فاء کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا فاعل زکریا (علیہ السلام) ہوں گے یعنی حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان کو پانی کفالت میں لے لیا ۔ اکفلھا زیدا اسے زید کی کفالت میں دیدیا ) قرآن میں ہے : ۔ أَكْفِلْنِيها[ ص/ 23] یہ بھی میری کفالت مٰن دے دو میرے سپرد کر دو الکفیل اصل میں بقدر ضرورت حصہ کو کہتے ہیں ۔ گویا وہ انسان کی ضرورت کا ضامن ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا[ النحل/ 91] اور تم خدا کو اپنا کفیل بنا چکے ہو ۔ اور الکفل کے معنی بھی الکفیل یعنی حصہ کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ [ الحدید/ 28] وہ تمہیں اپنی رحمت سے اجر کے دو حصے عطا فرمائیگا ۔ یعنی دنیا اور عقبیی دونون جہانوں میں تمہیں اپنے انعامات سے نوزے گا ۔ اور یہی دوقسم کی نعمیتں ہیں جن کے لئے آیت رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً [ البقرة/ 201 رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے قرر ( آنکھ ٹهنڈي کرنا) صببت فيها ماء قَارّاً ، أي : باردا، واسم ذلک الماء الْقَرَارَةُ والْقَرِرَةُ. واقْتَرَّ فلان اقْتِرَاراً نحو : تبرّد، وقَرَّتْ عينه تَقَرُّ : سُرّت، قال : كَيْ تَقَرَّ عَيْنُها [ طه/ 40] ، وقیل لمن يسرّ به : قُرَّةُ عين، قال : قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ [ القصص/ 9] ، وقوله : هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] ، قيل : أصله من القُرِّ ، أي : البرد، فَقَرَّتْ عينه، قيل : معناه بردت فصحّت، وقیل : بل لأنّ للسّرور دمعة باردة قَارَّةً ، وللحزن دمعة حارّة، ولذلک يقال فيمن يدعی عليه : أسخن اللہ عينه، وقیل : هو من الْقَرَارِ. والمعنی: أعطاه اللہ ما تسکن به عينه فلا يطمح إلى غيره، وأَقَرَّ بالحقّ : اعترف به وأثبته علی نفسه . وتَقَرَّرَ الأمرُ علی كذا أي : حصل، والقارُورَةُ معروفة، وجمعها : قَوَارِيرُ قال : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] ، وقال : رْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ، أي : من زجاج . قرت لیلتنا تقر رات کا ٹھنڈا ہونا ۔ یوم قر ٹھنڈا دن ) لیلۃ فرۃ ( ٹھنڈی رات ) قر فلان فلاں کو سردی لگ گئی اور مقرور کے معنی ٹھنڈا زدہ آدمی کے ہیں ۔ مثل مشہور ہے ۔ حرۃ تحت قرۃ یہ اس شخص کے حق میں بولتے ہیں جو اپنے ضمیر کے خلاف بات کرے ۔ قررت القدر اقرھا میں نے ہانڈی میں ٹھنڈا پانی ڈالا ۔ اور اس پانی کو قرارۃ قررہ کہا جاتا ہے ۔ اقتر فلان اقترار یہ تبرد کی طرح ہے جس کے معنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کے ہیں ۔ قرت عینہ ت قرآن کھ کا ٹھنڈا ہونا ۔ مراد خوشی حاصل ہونا ہے قرآن پاک میں ہے : كَيْ تَقَرَّ عَيْنُها [ طه/ 40] تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ اور جسے دیکھ کر انسان کو خوشی حاصل ہو اسے قرۃ عین کہاجاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ [ القصص/ 9] یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہمیں بیویوں کی طرف سے دل کا چین اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قر بمعنی سردی سے ہے لہذا قرت عینہ کے معنی آنکھ کے ٹھنڈا ہو کر خوش ہوجانے کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ قرت عینہ کے معنی خوش ہونا اس لئے آتے ہیں کہ خوشی کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں اور غم کے آنسو چونکہ گرم ہونے ہیں اس لئے بددعا کے وقت اسخن اللہ عینہ کہاجاتا ہاے ۔ بعض نے کہا ہے کہ قرار س مشتق ہے مراد معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیزبخشے جس سے اس کی آنکھ کی سکون حاصل ہو یعنی اسے دوسری چیز کی حرص نہ رہے ۔ اقر بالحق حق کا اعتراف کرنا ۔ تقر الامر علی ٰ کذا کسی امر کا حاصل ہوجانا ۔ القارودۃ شیشہ جمع قواریر قرآن میں ہے : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] اور شیشے بھی چاندی کے ۔ صبح ممرد من قواریر یہ ایسا محل ہے جس میں ( نیچے ) شیشے جڑے ہوئے ہیں یعنی شیشے کا بنا ہوا ہے ۔ عين العَيْنُ الجارحة . قال تعالی: وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45] ( ع ی ن ) العین کے معنی آنکھ کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45] آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ لَطَمَسْنا عَلى أَعْيُنِهِمْ [يس/ 66] ان کی آنکھوں کو مٹا ( کر اندھا ) کردیں ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ غم الغَمُّ : ستر الشیء، ومنه : الغَمَامُ لکونه ساترا لضوء الشمس . قال تعالی: يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] . والغَمَّى مثله، ومنه : غُمَّ الهلالُ ، ويوم غَمٌّ ، ولیلة غَمَّةٌ وغُمَّى، قال : ليلة غمّى طامس هلالها وغُمَّةُ الأمر . قال : ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] ، أي : كربة . يقال : غَمٌ وغُمَّةٌ. أي : كرب وکربة، والغَمَامَةُ : خرقة تشدّ علی أنف النّاقة وعینها، وناصية غَمَّاءُ : تستر الوجه . ( غ م م ) الغم ( ن ) کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کی ہیں اسی سے الغمیٰ ہے جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں ۔ نیز الغمیٰ جنگ کی شدت الغمام کہتے ہیں کیونکہ وہ سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] کہ خدا کا عذاب بادلوں کے سائبانوں میں آنازل ہوا ۔ اسی سے غم الھلال ( چاند ابر کے نیچے آگیا اور دیکھا نہ جاسکا ۔ ویوم غم ( سخت گرم دن ولیلۃ غمۃ وغمی ٰ ( تاریک اور سخت گرم رات ) وغیرہ ہا محاورات ہیں کسی شاعر نے کہا ہے ( جز ) ( 329) لیلۃ غمی ٰ طامس ھلالھا تاریک رات جس کا چاند بےنور ہو ۔ اور غمۃ الامر کے معنی کسی معاملہ کا پیچدہ اور مشتبہ ہونا ہیں ، قرآن پاک میں ہے : ۔ ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے ۔ یعنی پھر وہ معاملہ تمہارے لئے قلق و اضطراب کا موجب نہ ہو اور غم وغمۃ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی حزن وکرب جیسے کرب وکربۃ اور غمامۃ اس چیتھڑے کو کہتے ہیں جو اونٹنی کی ناک اور آنکھوں پر باندھ دیا جاتا ہے تاکہ کسی چیز کو دیکھ یاسونگھ نہ سکے ) اور ناصیۃ غماء پیشانی کے لمبے بال جو چہرے کو چھالیں ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ لبث لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ، ( ل ب ث ) لبث بالمکان کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ قَدَرُ وقت الشیء المقدّر له، والمکان المقدّر له، قال : إِلى قَدَرٍ مَعْلُومٍ [ المرسلات/ 22] ، وقال : فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها [ الرعد/ 17] ، أي : بقدر المکان المقدّر لأن يسعها، وقرئ :( بِقَدْرِهَا) «2» أي : تقدیرها . وقوله : وَغَدَوْا عَلى حَرْدٍ قادِرِينَ [ القلم/ 25] ، قاصدین، أي : معيّنين لوقت قَدَّرُوهُ ، وکذلک قوله فَالْتَقَى الْماءُ عَلى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ [ القمر/ 12] ، وقَدَرْتُ عليه الشیء : ضيّقته، كأنما جعلته بقدر بخلاف ما وصف بغیر حساب . قال تعالی: وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] ، أي : ضيّق عليه، وقال : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] ، وقال : فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] ، أي : لن نضيّق عليه، وقرئ : ( لن نُقَدِّرَ عليه) «3» ، ومن هذا قدر کے معنی اس معین وقت یا مقام کے بھی ہوتے ہیں جو کسی کام کے لئے مقرر ہوچکا ہو چناچہ فرمایا : إِلى قَدَرٍ مَعْلُومٍ [ المرسلات/ 22] ایک معین وقت تک ۔ نیز فرمایا : فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها [ الرعد/ 17] پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے ۔ یعنی نالے اپنے ( ظرف کے مطابق بہ نکلتے ہیں ایک قرات میں بقدر ھا ہے جو بمعنی تقدیر یعنی اندازہ ۔۔۔ کے ہے اور آیت کریمہ : وَغَدَوْا عَلى حَرْدٍ قادِرِينَ [ القلم/ 25]( اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جاپہنچے ( گویا کھیتی پر ) قادر ہیں ۔ میں قادرین کے معنی قاصدین کے ہیں یعنی جو وقت انہوں نے مقرر کر رکھا تھا ۔ اندازہ کرتے ہوئے اس وقت پر وہاں جا پہنچے اور یہی معنی آیت کریمہ : فَالْتَقَى الْماءُ عَلى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ [ القمر/ 12] تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا میں مراد ہیں ۔ اور قدرت علیہ الشئی کے معنی کسی پر تنگی کردینے کے ہیں گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی ہے اس کے بالمقابل بغیر حساب ( یعنی بےاندازہ ) آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] اور جس کے رزق میں تنگی ہو ۔ یعنی جس پر اس کی روزی تنگ کردی گئی ہو ۔ نیز فرمایا : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] خدا جس پر جاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ۔ فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] اور خیال کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے اور ایک قرآت میں لن نقدر علیہ ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

موسیٰ پر آزمائشیں قول باری ہے (وفتناک فتونا اور ہم نے تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا) سعید بن جبیر کا قول ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا۔” ابن جبیر ! دن کے وقت میں اس پر نئے سرے سے غور کر کے تمہیں بتائوں گا۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا مفہوم یہ بتایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پے در پے آزمائشوں میں مبتلا کئے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان تمام آزمائشوں سے خلاصی عطا فرمائی۔ پہلے تو آپ کا استقرار حمل ان سالوں میں ہوا جن میں فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کروا دیا کرتا تھا۔ پھر آپ کو سمندر میں ڈالا گیا۔ پھر ماں کی چھاتی کے سوا کسی اور عورت کا دودھ پینے سے روک دیا گیا۔ پھر آپ نے فرعون کی داڑھی کھینچ لی جس سے وہ بھڑک اٹھا تھا اور آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ پھر آپ نے موتی کو اٹھانے کی بجائے انگارے کو اٹھا لیا تھا جسکی بنا پر فرعون کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گئے تھے (یہ واقعہ فرعون کے محل میں پیش آیا تھا جہاں آپ ایک شیر خوار بچے کی حیثیت سے پرورش پا رہے تھے) پھر آپ کے ہمدردوں میں سے ایک شخص نے آ کر آپ کو خبردار کیا تھا کہ فرعون ک کے درباری آپ کو قتل دینے کے مشورے کر رہے ہیں جس کی بنا پر آپ وہاں سے نکل آئے تھے۔ مجاہد نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مفہوم ہے ” ہم نے تمہیں پوری طرح چھٹکارا دلا دیا۔ “

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠۔ ٤١) یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ تمہاری بہن تمہاری تلاش میں فرعون کے گھر تک آئیں اور اجنبی بن کر کہنے لگیں کیا آپ کو ایسی آیا چاہیے جو اس کی اچھی طرح پرورش کرے چناچہ اس طریقے سے ہم نے تمہیں تمہاری ماں پاس پھر پہنچا دیا تاکہ ان کا دل خوش ہوجائے اور اپنے بیٹے کی ہلاکت کا خوف نکل جائے۔ اور تم نے غلطی سے ایک قبطی کو مار ڈالا تھا اور پھر قوم کے انتقام کے خوف سے بھی ہم نے تمہیں نجات دی اور بار بار ہم نے تمہیں آزمائشوں میں ڈالا پھر اس کے بعد مدین والوں میں دس سال تک رہے پھر ایک خاص وقت پر جو میرے علم میں تمہاری رسالت اور ہم کلامی کے لیے مقرر تھا تم یہاں آئے اور اے موسیٰ (علیہ السلام) یہاں آنے پر میں نے تمہیں کو اپنا رسول بنانے کے لیے منتخب کیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ (اِذْ تَمْشِیْٓ اُخْتُکَ ) ” اور وہ چلتے چلتے فرعون کے محل تک پہنچ گئی جہاں بچے کو فوری طور پر دودھ پلانے کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی بھی عورت کا دودھ پینے سے منع کردیا تھا۔ جب بہت سی عورتیں بلائی گئیں اور وہ سب کی سب آپ ( علیہ السلام) کو دودھ پلانے میں ناکام رہیں تو آپ ( علیہ السلام) کی بہن جو یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی بول پڑی : (فَتَقُوْلُ ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہٗ ط) ” آپ ( علیہ السلام) کی بہن نے اپنی ہی والدہ کے بارے میں ان لوگوں کو مشورہ دیا۔ چناچہ جب آپ ( علیہ السلام) کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ ( علیہ السلام) نے ان کا دودھ فوراً پی لیا۔ (فَرَجَعْنٰکَ الآی اُمِّکَ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُہَا وَلَا تَحْزَنَ ط) ” چنانچہ مامتا کی تسلی و تسکین کے لیے بچے کو واپس والدہ کی گود میں پہنچا دیا گیا۔ مقام غور ہے ! اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے جذبات و احساسات کا کس حد تک پاس ہے۔ (وَقَتَلْتَ نَفْسًا) ” پھر جب آپ ( علیہ السلام) جوان ہوئے اور مصر میں آپ ( علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا : (فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَہْلِ مَدْیَنَ ) ” آپ ( علیہ السلام) کے مدین پہنچنے اور وہاں ٹھہرنے کے بارے میں تفصیل سورة القصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (ثُمَّ جِءْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوْسٰی ) ” یعنی اس وقت آپ ( علیہ السلام) کا یہاں پہنچنا کسی حسن اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ پروگرام کا حصہ ہے۔ میں نے آپ ( علیہ السلام) کے سب معاملات کے متعلق باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نے اس سے پہلے جو کچھ کیا ‘ آپ ( علیہ السلام) جہاں جہاں رہے ‘ یہ سب اس منصوبہ بندی کا حصہ تھا اور اب اسی منصوبہ بندی اور ایک طے شدہ فیصلے کے مطابق آپ ( علیہ السلام) اس جگہ پہنچ گئے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو اُن کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ اُدھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بے چین تھیں۔ اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کو دیکھنے کے لئے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا؟ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اُسی جگہ پہنچ گئیں جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ اُن کو موقع مل گیا، اور اُنہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پیش کی، اور اُنہیں وہاں لے بھی آئیں، جب اُنہوں نے بچے کو دودھ پلانا چاہا تو بچے نے آرام سے دودھ پی لیا، اور پھر اﷲ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق بچہ دوبارہ اُن کے پاس آگیا۔ 17: یہ سارے واقعات تفصیل سے سورہ قصص میں آنے والے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے مظلوم اسرائیلی کو ایک ظالم سے بچانے کے لئے اُسے ایک مکا مارا تھا، اُن کا مقصد اسے ظلم سے باز رکھنا تھا، قتل کرنا مقصود نہیں تھا، لیکن وہ مکے ہی سے مر گیا۔ 18: اِن آزمائشوں کی تفصیل حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ایک طویل روایت میں بتائی ہے جو تفسیر ابن کثیرؒ میں مروی ہے، اور اس کا مکمل ترجمہ ’’معارف القرآن‘‘ جلد 6 ص 84 تا 103 میں موجود ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:40) اذ تمشی۔ یہ اذ اوحینا کا بدل ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا (موقعہ پر) چلے جانا بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک احسان تھا کہ اس کے نتیجے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رضاعت ان کی والدہ کے سپرد ہوئی۔ اذ تمشی۔ جب وہ چلتی چلتی آگئیں۔ فتقول۔ پھر کہا۔ پھر کہتے لگی۔ یعنی جب اہل خانہ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلانے کے لئے کسی دائی کی تلاش میں تھے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی کا دودھ پینے کے لئے تیار نہ تھے تو ان کی بہن نے جو وہاں آگئی تھی کہا ھل ادلکم الخ۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہوا ہے وحرمنا علیہ المراضع من قبل فقالت ہل ادلکم الخ (28:12) اور ہم نے حرام کردیں اس پر ساری دودھ پلانے والیاں اس سے پہلے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا کہ کیا میں تمہیں پتہ دوں۔۔ الخ۔ ادلکم علی۔ میں تمہاری (کسی ایسے شخص کی طرف) رہنمائی کروں۔ پتہ دوں۔ یکفلہ۔ اس کی کفالت کرے۔ اس کی پرورش کرے۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ تقر۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ یا یہ قرۃ وقرور سے باب سمع ہے جس کے معنی خوشی کے مارے آنکھیں روشن ہوجانے اور ٹھنڈی رہنے کے ہیں۔ یا قرار سے ہے جس کے معنی قرار پکڑنے اور سکون پانے کے ہیں۔ مضارع منصوب بوجہ عمل کے کے ہے۔ ترجمہ : (تاکہ اس کی آنکھ) ٹھنڈی رہے۔ لا تحزن۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ حزف سے (باب سمع) سے کی کی وجہ سے مضارع منصوب (تاکہ ) وہ (عورت) غمگین نہ ہو وے۔ فنجینک۔ پس ہم نے تجھے نجات دی۔ نجینا ماضی جمع متکلم۔ تنجیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ فتنک۔ فتنا۔ ماضی جمع متکلم (باب ضرب) ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ فتونا۔ مصدر۔ تاکید کے لئے لایا گیا۔ ہم نے تجھے خوب آزمائشوں میں ڈالا۔ علی قدر۔ وقت مقررہ۔ عین وقت پر۔ وقت مقدر (عمر و تربیت کے لحاط سے موزوں وقت۔ یا عمر وہ وقت جو نبوت کے لئے علم الٰہی میں مقرر تھا) ۔ جریر نے عمر بن عبدالعزیز کی مدح میں کہا ہے ؎ نال الخلافقۃ اوکانت لہ قدرا کما اتی ربہ موسٰی علی قدر

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ہوا یہ کہ فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ کو اٹھا لیا لیکن جب اسے دودھ پلانے کے لئے دایائوں کا انتظام کیا گیا تو وہ کسی بھی دایہ کا دودھ پلانے کے لئے دایائوں کا انتظام کیا گیا تو وہ کسی بھی دایہ کا دودھ پینے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ جیسے فرمایا :” وحرمنا علیہ المراضع من قبل اس سے پہلے ہم نے ان پر تمام دو جھ پلانے والیوں کو حرام کردیا تھا۔ (قصص :12) اس موقع پر ان کی بہن وہاں پہنچی اور یہ منظر دیکھ کر فرعون اور اس کی بیوی حضرت آسیہ سے کہنے لگی۔5 بیچ کی تفصیل چھوڑدی گی ہے کہ فرعون کے گھر والوں نے رضامندی ظاہر کردی اور حضرت موسیٰ کی بہن گھر آئی اور اپنی والدہ کو ساتھ لے کر فرعون کے ہاں پہنچ گئی انہوں نے جونہی حضرت موسیٰ کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی حضرت موسیٰ نے دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ اپنی والدہ کے پاس پہنچ گئے۔ نظم قرآن پر غور کرنے سے یہ تفصیل خودبخود ذہن میں آجاتی ہے۔ ممکن ہے اس کے بعد حضرت موسیٰ کو اپنے گھر لے آئی ہوں تاکہ فرعون کی طرف سے بطور دایہ مامور ہو کر شاہانہ اعتزاز و اکرام کے ساتھ بچہ کی تربیت کرتی رہیں۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)6 یہ پورا قصہ سورة قصص (رکوع 5، 6) میں بیان ہوا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جوان ہونے کے بعد ایک روز حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اللہ تعالیٰ نے معاف بھی فرما دیا۔ مگر ڈرتے رہے کہ فرعون کے سپاہیوں کے ہاتھوں پکڑے نہ جائیں اللہ تعالیٰ نے اس غم و فکر سے انہیں نجات دی اور مصر سے نکال کر بدین میں پہنچا دیا جہاں ایک بزرگ کی لڑکی سے ان کا نکاح ہوا۔ پھر وہاں وہ دس سال رہے پھر اپنے بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔7 یعنی خوب اچھی طرح سے پرکھا تاکہ تمہارا خلاص نکھر کر سامنے آجائے۔ حافظ ابن کثیر نے حدیث الفتون کو بطلولہ بتایا ہے جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے (ابن کثیر)8 یعنی اب اس عمر کو پہنچ کر تم اس وقت آئے ہو جس کے متعلق میرا فیصلہ تھا کہ اس میں تمہیں اپنی ہم کلامی اور نبوت سے سرفراز کروں گا۔ ہوسکتا ہے اس حد سے مراد چالیس سال عمر ہو۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اور مار کر غم ہوا خوف عقاب سے بھی اور خوف انتقام سے بھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اذ تمشی اختک۔۔۔۔۔۔ عینھا ولا تحزن (٠٢ : ٠٤) ” یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جا کر کہتی ہے ” میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے۔ اس طرح ہم نے تجھے پھر اپنی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو “۔ اس سلسلے میں اللہ کی تدبیریوں تھی کہ بچہ کسی دودھ پلانے والی کا پستان منہ میں نہ لیتا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ کسی ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو اس بچے کی پرورش کرے ‘ جس کو دریا نے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ماں کی طرف سے اشارہ پا کر کہتی ہے کہ میں تمہیں بتائوں جو اس کی پرورش اچھی طرح کرے۔ یوں اس کی ماں وہاں پہنچ جاتی ہے اور وہ اس کے پستان کو منہ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اللہ کی تدبیر اپنے انجام تک پہنچتی ہے کہ ماں جس نے الہامی اشارہ پاکر بچے کو صندوق میں بند کرکے سمندر کے اندر بہا دیا تھا اور سمندر کی لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا ‘ بچہ پھر اس ماں کی جھولی میں ہے۔ اللہ اس کے بچے کو دشمن سے لے کر ماں کے حوالے کردیتا ہے۔ یوں اس کی پرورش کا محفوظ انتظام کردیا جاتا ہے۔ اور اسے فرعون کے خطرے سے بھی بچا لیا جاتا ہے ‘ جو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ دشمن خود اسے بچا رہا تھا۔ ایک دوسرا احسان وقتل نفسا۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (٠٢ : ٠٤۔ ١٤) ” اور تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ‘ ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے نکالا اور تو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا۔ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے ‘ اے موسیٰ ۔ میں نے تجھے اپنے کام کا بنا لیا ہے “۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قصر فرعون میں موسیٰ جو ان ہوگئے۔ ایک دن وہ شہر میں تھے کہ ایک مصری اور ایک اسرائیلی کی باہم تکرار ہوگئی۔ اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اور حضرت موسیٰ نے جلدی میں مصری کو ایک مکہ رسید کردیا۔ آپ قتل کرنا نہیں چاہتے تھے ‘ صرف اسے دور کرنا چاہتے تھے۔ اس فعل پر آپ بہت رنجیدہ ہوگئے کیونکہ وہ اللہ کی تربیت میں چل رہے تھے ‘ ان کے ضمیر نے ان کو ملامت کی کہ تم نے گناہ کردیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ کو استغفار سکھایا ہو اور ان کے دل سے یہ کدورت دور ہوگئی ہو ‘ لیکن اس کے باوجود اللہ نے موسیٰ کو بغیر آزمائش اور ابتلا کے نہیں چھوڑا کیونکہ اللہ نے حضرت موسیٰ سے اونچا کام لینا تھا۔ اس لیے خوف ‘ اور ملک چھوڑنے اور قصاص سے بچنے کی مشقت میں ڈالا۔ مسافری ‘ اہل و عیال سے دوری ‘ وطن سے دوری کی مشقتوں میں ڈالا۔ پھر ملازمت اور بھڑیں چرانے کا مشکل کام لیا۔ اور یہ اس شخص سے لیا گیا جو فرعون کے شاہی محل میں پلا ہے ‘ جو اپنے دور کا شہنشاہ اعظم تھا۔ اور اس کے دربار میں بہت بڑے عیش اور اس کے گھر میں تمام سہولیات تھیں جن کا تصور بھی عام لوگ نہ کرسکتے تھے۔ پھر ایک مقررہ وقت پر ‘ جب ان کی تربیت ہوگئی ‘ وہ پختہ ہوگئے۔ ان ابتلائوں میں انہوں نے صبر سیکھ لیا۔ امتحان میں پاس ہوگئے ‘ مصر میں حالات ان کے لئے سازگار ہوگئے۔ بنی اسرائیل پر مظالم انتہا کو پہنچ گئے۔ اس مقررہ وقتپر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپس بلایا حالانکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ خود آ رہے ہیں۔ فلبثت سنین فی۔۔۔۔۔ قدر یموسی (٠٢ : ٠٤) ” تو مدین کے لوگوں کئی سال ٹھہرا رہا ‘ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے اس موسیٰ (علیہ السلام) “۔ یعنی ایسے وقت میں جو میں نے تیرے لیے مقرر کیا تھا۔ تجھے اپنی نگرانی میں پالا تھا۔ خالص اپنے لئے ‘ اپنے مشن کے لئے اور دعوت کے لئے۔ اس لئے تیری زندگی میں کوئی چیز نہ اس دنیا سے ہے اور نہ اس دینا کے لئے ہے۔ تیرا سب کچھ میری طرف سے ہے اور اب تو میرے مشن کے لئے ہے۔ تیری تربیت اور اب تیرا مشن بھی میر مشن ہے ۔ اس لئے تیرے نفس میں نہ تیرا حصہ ہے ‘ نہ کسی اور کا کوئی حصہ ہے ‘ نہ تیرے اہل و عیال اور رشتہ داروں کا کوئی حصہ ہے۔ لہٰذا جس چیز کے لئے میں نے تمہیں تربیت دی ہے ‘ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں تیار کیا ہے ‘ آپ اس کے لئے اب چل پڑیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

22:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا انعام ہے۔ جب بچے کو دودھ پلانے کے لیے بہت سی عورتیں بلائی گئیں تو انہوں نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ یہاں تک کہ آپ کی ہمشیرہ نے یہ صورت حال دیکھ کر کہا کہ میں بھی تمہیں ایک عورت بتاتی ہوں اسے لاؤ۔ شاید یہ بچہ اس کا دودھ پی لے۔ چناچہ ان کی والدہ کو بلایا گیا تو انہوں نے فورًا اس کا دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی والدہ کی گود میں واپس کرنے کا سامان مہیا فرما دیا۔ 23:۔ یہ اللہ کا تیسرا انعام ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک دن باہر تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی۔ تو انہوں نے آگے بڑھ کر قبطی پر ایسا ہاتھ چھوڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع حکام کو پہنچی۔ تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قطبی کے بدلے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب ان کو اس بات کا علم ہوا تو وہ راتوں ہی رات مدین کو روانہ ہوگئے۔ اس طرح اللہ نے ان کو قتل سے محفوظ فرمایا۔ 24:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا چوتھا انعام ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین پہنچے تو وہاں ان کا کوئی واقف اور شناسا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسباب مہیا فرمائے تو ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے شناسائی اور پھر ان کی دامادی کا شرف حاصل ہوگیا۔ اور ایک عرسہ تک وہاں رہنے کے بعد واپس مصر آئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

40 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب تیری بہن اجنبی بنی ہوئی فرعون کے گھر چلتی ہوئی آئی اور فرعون والوں سے کہنے لگی تم کہو تو میں تم کو ایک ایسی شخصیت باتئوں اور کسی ایسی شخصیت کا پتہ بتادوں جو اس کی پرورش اور کفالت کرسکے پس اس تدبیر سے ہم نے تجھ کو تیری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم نہ کھائے اور اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تو نے ایک شخص یعنی قبطی کو مار ڈالا تھا پھر ہم نے تجھ کو اس کی پریشانی اور غم سے نجات دی اور بچا لیا اور ہم نے تجھ کو کئی کئی طرح امتحان میں مبتلا کیا پھر تو مدین والوں میں کئی سال قیام پذیر رہا اور آخر کار ایک وقت خاص پر جو مقدر تھا تو یہاں آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے لے کر پہاڑ پر آنیتک کے تمام واقعات بطور احسانات یاد دلائے مزید تفصیل انشاء اللہ سورة قصص میں آجائے گی۔ بچپنے میں فرعن کے ہاتھوں انہی کی ماں کی گود میں پرورش کرائی اور جوانی میں بھی ان کی غلطی سے جو قبطی مارا گیا تھا فرعون کے شر سے محفوظ رکھا اور مدین کے راستے میں جو تکالیف برداشت کیں ان کو فرمایا۔ وفتنک فتوناً ایک وقت خاص جو مقرر تھا یعنی راستہ بھولے اور تقدیر یہاں لے آئی جس کا تم کو گمان بھی نہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ سارا قصہ سورة قصص میں ہے۔ 12